بہت ہی عجیب سا دل ہو رہا ہے میرا ،یہ بلاگ لکھنے تو بیٹھی ہوں مگر میری سمجھ نہیں آ رہا کے میں کچھ لکھ بھی پاؤنگی یا نہیں مگر بس یہ سوچ کر بیٹھ گئی ہوں کے میں یہ اپنا فرض سمجھتی ہوں کے اپنی یہ سوچ آپ سب سے شیئر کروں
یہاں میں کوئی طالبان القائدہ کی وجہ سے پاکستان کے موجودہ حالات پر کچھ نہیں لکھنے بیٹھی بلکہ میں تو کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ پر کچھ لکھنے کی کوشش کرنے بیٹھی ہوں۔اور شاید یہ واقع نا ہوتا تو میں یہ بھی نا لکھتی مگر اس ٹارگٹ کلنگ میں ایک ایسا لڑکا بے موت مارا گیا جس کو میں جانتی بھی تھی کئی دفعہ مل بھی چکی تھی اور کافی متاثر بھی تھی۔
اس لڑکے کا نام ناصر تھا۔مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہ جملہ لکھنا پڑھ رہا ہے ‘‘ تھا ‘‘ کیونکہ اسکے مرنے کی خبر آنے سے قریب کوئی 7 یا 8 گھنٹے پہلے ہی میری اپنے شوہر سے کافی دیر ناصر پر بات ہوئی تھی ۔مجھے کیا پتا تھا کے جس پر ہم لوگ ابھی بات کر رہے ہیں کچھ ہی گھنٹوں میں اسکی موت کی خبر آ جائے گی۔
خیر اس لڑکے کا نام ناصر تھا اور اسکی عمر قریب کوئی 25 سال تھی اسکی ایک ٹانگ چھوٹی بڑی تھی تھوڑا سا لنگڑا کر چلتا تھا بہت خوبصورت لڑکا اور اسکے چہرے پر ایک عجیب قسم کی ایسی چمک کے اسکو اگر ایک فعہ دیکھ لیں تو ہی وہ چہرہ آنکھوں میں بس جاتا تھا۔
شادی کے بعد میں جب سے پاکستان جا رہی ہوں فیملی کے بعد ایک وہی لڑکا تھا جس نے مجھے سب سے پہلے بھابھی کہا۔وہ علی کے پاس ہی کام کرتا تھا اور اکثر جب بھی کوئی کام ہوتا تھا تو علی اسکو ہی گھر بھیجتے تھے ۔ اتنا پر خلوص معصوم اور رشتوں کی اہمیت کو سمجھنے والا لڑکا تھا کے میری اس سے تقریبا 20 یا 25 ملاقاتیں ہوئی ہیں مگر اس میں یہ بات میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کے مشکل سے ہی اس نے 5 دفعہ نظر اٹھا کے بات کی ہوگی ورنہ ہمیشہ نظر نیچے کیے جی بھابھی جی بھابھی ہی کرتا رہتا تھا ۔
اسکی 3 بہنیں ہیں جن میں سے ایک کی شادی اگلے ماہ کی 20 کو طے ہوئی تھی اور ایک بڑا بھائی جو کے الگ رہتا ہے اور ایک ماں۔والد کا انتقال ہو چکا تھا ۔ بس یہ اسکا کل خاندان تھا اکیلا کمانے والا وہ لڑکا بس ہمیشہ کسی نا کسی کام میں مصروف رہتا تھا کے کسی طرح وہ اپنی بہن کی شادی کے لئیے اتنا پیسہ جمع کر لے کے اسکی بہن کی شادی اچھے طریقے سے ہو جائے ۔
وہ لڑکا کل رات اپنے کام سے فارغ ہو کر ایک مجلس میں گیا اور وہاں سے وہ اور اسکا ایک دوست جس کی عمر 22 سال کے قریب تھی واپس اپنے گھر جا رہے تھے کے کچھ لوگوں نے انکو روکا اور دونوں کے پورے جسم یہاں تک کے سر تک میں گولیاں مار کر فرار ہو گئے ۔
یہ خبر مجھے پاکستانی رات 3 بجے اور یہاں کے 12 بجے ملی تو مجھے یقین نہیں آیا کے یہ کیسے ہو گیا؟کچھ گھنٹے پہلے تو میں اور علی اسکی بہن کی شادی پر بات کر رہے تھے اور کچھ ہی گھنٹوں بعد علی ہی مجھے بتا رہے ہیں کے ناصر کو اسکے دوست کے ساتھ کسی نے گولیاں مار کر جان سے مار دیا۔
جب میں نے مذید تفصیل پتا کی تو بس یہی پتہ چلا کے کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کی لپیٹ میں یہ دونوں دوست آ گئے ۔رات میں کچھ پٹھان مارے گئے تھے ایم کیو ایم کے ہاتھوں تو اسکے بدلے میں پٹھانوں نے روڈ پر ان دونوں کو اکیلا دیکھا اور اپنی دشمنی ان سے نکال لی ۔
اسکی کیا دشمنی تھی کسی سے ؟اس بے چارے نے کسی کا کیا بگاڑا تھا ؟ اگر اس جیسے انسان کی یہ منحوس سیاسی تنظیمیں مدد نہیں کر سکتیں تو یہ لوگ ان پر بھینٹ کیوں چڑھاے جاتے ہیں؟
آخر کب ختم ہوگی یہ خون کی ہولی جو دجال وقت الطاف اسکی دہشتگرد ایم کیوں ایم اور اے این پی والے آئے دن کھیلتے رہتے ہیں؟
ابھی بھی اسکا چہرہ میری آنکھوں میں گھوم رہا ہے اور میرا دل یہ بات تسلیم نہیں کر رہا کےاب وہ اس دنیا میں نہیں رہا۔ کیا اسی کو اس طرح بے موت مارا جانا تھا؟
کوئی ان ملعونوں کو کیوں نہیں مارتا جو معصوم لوگوں کی موت پر سیاست کرتے ہیں ؟
کہتے ہیں خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔اس بات پر ہر مسلمان کا یقین بھی ہے
مگر یہ سب جو ہو رہا ہے اسکے ذمہ دار اور کتنے انسانوں کا خون اپنے سروں پر لئیے عیاشی کی ذندگیاں گزاریں گے اور اس ناصر جیسے اور کتنے لوگ اسی طرح بے موت مارے جاتے رہیں گے اور یہ خدا کی دیر کب ختم ہوگی ؟
آخر میں ہر پڑھنے والے سے میں یہی گزارش کرونگی کے پلیز ناصر اور اس جیسے دوسرے مظلوموں کے لئیے جو بے چارے بے موت مارے جاتے ہیں انکے لئیے ایک سورہ فاتحہ ضرور پڑھ دیں پلیز
محتاج دعا
ماریہ علی
34 thoughts on “یہ کس کا خوں بہایا جا رہا ہے ؟”
Comments are closed.

ماریہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کہوں اور کیا لکھوں ۔۔ بس دکھ سے گنگ ہو گئی ہوں ۔۔۔ یا اللہ ۔۔ مہربانی کر ہم گنہگاروں پہ اور ایسی آزمائیشوں سے ہمیں بچا لے ۔۔ یا اللہ ۔۔
اللہ پاک حوصلہ دے ناصر کے گھر والوں اور دوستوں کو اور ناصر کو تا قیامت اپنی رحمتوں میں رکھے ۔۔ آمین
ماریہ علی ۔ سلامت رھو۔ اللہ تم کو اور مرحوم نو جوان ناصر کے اھل خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنےکی ھمت عطا کرے۔ اور مرحوم ناصر کی مغفرت کرے۔ مجھے تمھارے غم اور دکھہ کا اندازہ ھے کیونکہ میرے چچا زاد بھائ افسر عباس رضوی کی بھی یہہی عمر رھی ھوگی جب وہ کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب واقع مسجد میں نماز پڑھتے ھوۓ بم دھماکے میں شہید ھوا تھا۔۔۔ پہلی صف کا شہید ۔۔مجھہ میں تو اتنی ھمت ھی نیہں کہ آگے کی تفصیل بیان کر سکوں ۔۔۔ اللہ پاک ھمارے پیارے وطن پاکستان کو شرپسندوں دھشت گردوں سے محفوظ رکھے اور بے گناہ پاکستانیوں کو آفات ناگہانی ۔ بم دھماکوں ، ٹارگٹ کلنگ ۔ سے محفوظ رکھے آمین ۔۔۔ ھم سب تو اس کے لیے سورہ الفاتحہ اور دعاۓ مغفرت کرینگے ، اللہ صبر عطا فرماۓ بس جب بھی تم کو ناصر کا خیال آۓ سورہ الفاتحہ پڑھ کر دعا کرنا۔۔ تم مت گھبراو اللہ تعالی غیب سے اس کی بہنوں کی شادی کا بندوبست کر دیگا ، بس یہی دعا کہ اللہ پاک ناصر کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرماۓ ۔۔اور ناصر کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماۓ آمین
آ عند لیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار ، میں چلاوں ہائے دِل
۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدہ ماریہ علی صاحبہ ناصر شہید کی شہادت کا سانحہ لکھکر جس طرح شاہین رضوی صاحبہ کو انکےاپنے چچا زاد بھائی آفسر عباس رضوی شہید کی یاد دلادی ، اسی طرح مجھے بھی اپنے سگے بھتیجے نظام قاضی شہید کی یاد دلادی جسے ملعونوں نے 15 نومبر 2008 کو گولی کا نشانہ بنا کر اسکی جوان بیوہ اور اسکے تین چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو اس دنیا میں بے کس چھوڑ دیا ۔ ( اس پر ایک بلاگ بھی میں اس تاریخ کو عالمی اخبار میں “ ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق “ کے عنوان سے لکھا چکا ہوں) ۔
یہ تینوں شہادتیں کراچی ہی میں ہوئیں ۔ وہ کراچی جس میں میں اور میرے ماں باپ اور بھائی بہنوں نے ہندوستان سے ہجرت کرکے جیکب لائین کی جھگیوں میں پناہ لی تھی صرف یہ سمجھ کر کہ یہ ایک خداداد پناہ گاہ ہے ۔ مگر افسوس کہ اس جنت کو ظالموں نے دوزخ بنا دیا۔
میں ان تینوں شہیدوں کی مغفرت کے لیے سورہ فاتحہ پڑھ رہا ہوں ۔
اور میں بھی سیدہ ماریہ علی صاحبہ اور سیدہ شاہین رضوی صاحبہ کے غموں میں برا بر کا شریک ہوں۔
یہ ٹارگیٹیڈ کلینگ یعنی جان بوجھ کر کسی کو نشانہ اور ہدف بنانے کا نتیجہ نہیں تھیں ۔ یہ میرے خیال میں بے گناہوں کو صرف کسی کی دشمنی کسی معصوم سے نکالنے کا نتیجہ تھیں جس طرح سیدہ ماریہ علی صاحبہ نے ناصر مرحوم کی موت پر لکھا کہ :
‘۔رات میں کچھ پٹھان مارے گئے تھے ایم کیو ایم کے ہاتھوں تو اسکے بدلے میں پٹھانوں نے روڈ پر ان دونوں کو اکیلا دیکھا اور اپنی دشمنی ان سے نکال لی ۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم نےپٹھانوں کو کیوں مارا تھا ؟
اگر ایم کیو ایم والوں سے پوچھا جائے کہ کیوں انہوں نے پٹھانوں کو شہید کیاتھا تو وہ کہینگے کہ پٹھانوں ( طالبان ) نے پہل کی تھی اور ایک ایم کیو ایم کے لوگوں کو شہید کیا تھا اس کا بدلہ چکانےکے لیے انہوں نے پٹھانوں کو شہید کیاتھا۔
یہ بدلہ چکانے کا سلسلہ کیوں ختم نہیں ہوتا ؟
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کراچی شیطانوں اور ملعونوں کا اڈ ا بن گیا ہے جس میں خون کی ہولی کھیلنا ایک معمول سا بن گیا ہے۔
اللہ پاکستان پر اور پاکستا نیوں پر رحم کرے اور سب کو نیک توفیق دے ۔ آمین
فقط:
ایک غمزدہ مبصر
منظور قاضی
جرمنی سے
اس ملک پاکستان میں کتنے ہی گھر ہیں جہاں کوئی نہ کوئی ”ناصر” ان بد بخت لوگوں کا نشانہ بنا ہے۔ ہمارے ہاں بے حسی کی حد ہو چکی ہے کہ کسی کا ناصر ہمیں اپنا ناصر نہیں لگتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فلاں کا ناصر مارا گیا۔ جس دن ہم کسی دوسرے شہر،محلے اور خاندان کے ناصر کو اپنا ناصر سمجھ لیں گے تو انہی ”ناصروں” کے خوب آلود کرتوں کے پرچم بنا لیں گے اور ننگے پاؤں اور شہر کا رخ کریں گے جہاں سیاست،کرسی اور اقتدار کے نام پر روشن گھروں کو تاریک کیا جا رہا ہے،جہاں صرف ذاتی اقتدار کے لیئے ملک کے عوام کو گولیوں اور بارود کا رزق بنایا جا رہا ہے،جہاں ملک وملت اور عزت و آبرو کے سستے سودے ہوتے ہیں۔
بس ضرورت اسوقت یہی ہے کہ ہم ماریہ کے ناصر کو اپنا ناصر سمجھیں اور محسوس کریں کہ ہمارے گھر کا ناصر گھر سے پھر واپس نہ آنے کے لیئے چلا گیا۔
’’ جس دن ہم کسی دوسرے شہر،محلے اور خاندان کے ناصر کو اپنا ناصر سمجھ لیں گے تو انہی ”ناصروں” کے خون آلود کرتوں کے پرچم بنا لیں گے اور ننگے پاؤں شہر کا رخ کریں گے جہاں سیاست،کرسی اور اقتدار کے نام پر روشن گھروں کو تاریک کیا جا رہا ہے،جہاں صرف ذاتی اقتدار کے لیئے ملک کے عوام کو گولیوں اور بارود کا رزق بنایا جا رہا ہے،جہاں ملک وملت اور عزت و آبرو کے سستے سودے ہوتے ہیں۔‘‘
بالکل بجا فرمایا ہمدانی صاحب۔
کاش وہ دن کل کی بجائے آج ہی آجائے جواس ملک میں تمام ناصر چین کی نیند سو سکین۔
مرحومین کے لئے سورۃ فاتحہ کے بعد جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام جبکہ ان کے لواحقین کے لئے صبرکی دعا ہے، آمین، ثمہ آمین۔
how can i post my blog in aalmiakhbar please help me e-mail – teletalk7@gmail
کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی
ہمی قتل کررہے ہیں ہمی قتل ہورہے ہیں
ایک دن میں
دو درجن سے زائد بے
گناہ افراد کا قتل
اف خدایا الامان والحفیظ
کتاچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا آغاز بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب شاہ فیصل کالونی سے شروع ہوا جہاں ٹارگٹ کلنگ کے ایک واقعہ میں چالیس سالہ محمد حنیف ولد صلاح الدین ہلاک اور ارسلان زخمی ہوئے جس کے بعد شاہ فیصل کالونی کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ مختلف علاقوں میں پھیلتی چلی گئی فائرنگ کے واقعات میں یو پی کراچی کے علاقے میں تیس سالہ عبدالحکیم ولد محمد نبی بلاک ہوگیا جو گولا گنڈے فروخت کرتا تھا۔
جبکہ موسیٰ کالونی کے علاقے میں ہوٹل پر فائرنگ سے ہوٹل کا مالک محمد موسیٰ ہلاک ہوگیا ماڈل کالونی ملیر میں عزیز اللہ کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا جبکہ اسی علاقے میں تندور پر کام کرنے والے محمد نبی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔عوامی کالونی کورنگی میں فضل محمد کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔الفلاح ملیر کے علاقے میں حیدر علی ولد اسحاق علی اور اس کا چار سالہ بیٹا حمزہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔حیدر علی ایم کیو ایم حقیقی کا کارکن بتایا جاتا ہے اسی علاقے میں اندرون سندھ کا رہائشی ندیم علی ولد مراد علی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ۔رسالہ کے علاقے میں نیاز محمد’ سائٹ کے علاقے میں شاہد بنگش’شاہراہ نور جہاں نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں شیر علی اور عجب خان کو فائرنگ کرکے ہلاک اور دو افراد نواز اور کریم کو زخمی کردیاگیا۔
بنارس کے علاقے میں ایک پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ۔ لانڈھی مجید کالونی میں امین محسود ‘ اورنگی میں گل بادشاہ’ نارتھ کراچی میں نسیم اور حفیظ کو جبکہ صدر کے علاقے میں عبدالرحمن کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت تک 29 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
جبکہ جامعہ کراچی اور انٹربورڈ کے تحت ہونے والا امتحانات ایک روز کے لئے ملتوی کردیئے گئے ہیں حکومت سندھ نے جمعرات کو کراچی بھر کے تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ٹارگٹ کلنگ کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر جئے سندھ نے اندرون سندھ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
آج جبکہ خیبر پختونخواہ کا نام وجود میں آچکا ہے اور اس کے بعد ہزارہ کے عوام مائیں ‘ بہنیں’ بچے’ بزرگ اور ہزارہ کے عوام کی بھاری اکثریت ہزارہ صوبہ کے قیام کا مطالبہ کررہی ہے جو ان کا آئینی’ قانونی اور جمہوری حق ہے اور اس پر کسی بھی فریق کو چراغ پاء ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک دوسرے کے مسائل اور مطالبات کو انتہائی سنجیدگی’ تحمل’ غور و فکر اور جمہوری سوچ و فکر کیساتھ سمجا جائے۔
کراچی پر جتنا حق دیگر قومیتوں اور اے این پی کا ہے اتنا ہی حق ہزارے وال کا بھی ہے اور کراچًی کا امن پورے شہر کے عوام کے مفاد میں ہے۔ لہٰذا ہم اے این پی اور ہزارہ صوبہ تحریک چلانے والوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کے بینر اور پوسٹر جلانے کی بجائے ایک دوسرے کو برداشت کیا جائے۔
ہماری دعا ہے رب کریم تمام مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگی عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
( آمین بحرمۃ سید المرسلین)
ہم نے قسم کھائی ہے کہ اس ملک میں کسی ناصر(مدد یا نصرت کرنے والا) کو زندہ نہیں رہنےدینا تاکہ وہ کسی کی نصرت نہ کر سکے بلکہ ہم نے الطاف(لطف لینے والے) ، زرداری (زر اکٹھا کرنے والے)،نواز(نوازنے والے اپنوں کو) تاکہ وہ اس ملک کو لوٹ سکیں عوام کو بے وقوف بنا سکیں اور لطف لے سکیں.
عوام کا بھی علاج ہے انہی کو ووٹ دو تاکہ یہ تمھیں ہی لوٹ سکیں،انہیں عزت دو تاکہ تمھاری عزتیں تار تار کر سکیں، انہیں مال دو تاکہ تمھارا مال لوٹ سکیں. ان مردہ گھوڑوں میں جان ڈالو تاکہ تمھاری جان لے سکیں؟
اگر پھر بھی سمجھ نہیں آتی تو بھگتو؟ کہ ہاتھوں سے لگائی گانٹھیں اکثر دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں؟ لاشیں بو کر پھول اگنے کی توقع رکھنے والے نرم ترین الفاظ میں بے وقوف اور احمق ہی کہلا سکتے ہیں سو کہلائیے ؟اوراگلے الیکشن میں پھر انہی کو ووٹ دی جیئے گا،
جہمور جائے بھاڑ میں جہموریت زندہ باد؟
ماریہ صاحبہ
میں آپکے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ میرے بھی چار بھتیجے اور بھانجے جو ڈاکٹر تھے اپنے اپنے آفس میں سپاہِ صحابہ اور پاکستانی طالبان کے ہاتھوں شہید ہوگئے ۔ ان میں سے ایک کا قاتل پیش امام تھا جس کاذکر مشرف نے اپنی ٹیلی ویژن پر تقریر میں کیا تھا۔ یہ پیش امام جب پکڑا گیا تو اس نے فخر سے اعتراف کیا کہ اسنے یہ قتل مغرب کی جماعت پڑھانے کے بعد کیا اور قتل کرنے کے بعد اُس نے مسجد جاکر عشاء کی جماعت پڑھائ جس کے بعد اُس نے شکرانے کے دو نفل ادا کئے۔
یہ بہت اچھا ہوا کہ محمداحمدترازی صاحب نے تفصیل کے ساتھ کراچی کی پرسوں کی روداد بیان کردی اور اس بات کی وضاحت کردی کہ یہ جھگڑا اے این پی اور ہزارہ صؤبہ کی مہم چلانے والوں کا ہے جس میں 28 افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں یقیناً ماریہ صاحبہ کا عزیز ناصر اور کئ بے گناہ شامل ہیں۔
کراچی میں فرقہ واریت کو کسی حد تک ختم کروانے بھر پور کوشش صرف ایم کیو ایم نے کی ہے ۔ اس کے علاوہ کسی اور جماعت کا کوئ کردار نظر نہیں آتا ۔ نواز لیگ نے فرقہ واریت کو ہوا دینے میں کوئ کثر باقی نہیں چھوڑی۔ پنجاب میں نواز لیگ کی طرف سے وزیرِ قانون وہ بدنامِ زمانہ رعناء ثنا اُللہ ہے جو کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے جلسوں میں ایک فرقہ کے خلاف نعرے لگاتا رہا ہے۔ خود شہباز شریف نے پاکستانی طالبان سے یہ اپیل کی ہے کہ ٰٰٰٰٰ ہم آپکے ہمدرد ہیں، آپ پنجاب میں حملے نہ کریںٰٰٰٰ یعنی دوسرے صوبوں میں آپ یہ کام شوق سے کریں۔ ناصر کا، میرے بھانجوں بھتیجوں کا اور ایسے ہی بے گناہوں کے قتل کے ذمہ دار نواز لیگ جیسی جماعتیں اور رعنا ثناء اُللہ جیسےدرندے ہیں۔ رعنا ثناء اُللہ اشتہاری ملزم ہے جسے نواز و شہباز شریف نے پنجاب میں پناہ دے رکھی ہے۔ اگر یہ باہر گیا تو گرفتار ہوجائے گا۔
ہر مسلمان کی آرزو ہوتی کہ وہ مرے تو اُسکی تدفین مدینہء منورہ میں ہو۔ جب نازوشہباز شریف کے والد کا مدینہ میں انتقال ہوا تو اُنکی میت رائے ونڈ لائ گئ جہاں اُسکی تدفین ہوئ۔ یہ تنگ نظری کی انتہا ہے۔ آدمی جتنا تنگ نظر ہوتا ہے اُتنا ہی متعصب ہوتا ہے۔ ہمدانی صاحب کی بات میں بہت وزن ہے۔
’’ جس دن ہم کسی دوسرے شہر،محلے اور خاندان کے ناصر کو اپنا ناصر سمجھ لیں گے تو انہی ”ناصروں” کے خون آلود کرتوں کے پرچم بنا لیں گے اور ننگے پاؤں شہر کا رخ کریں گے جہاں سیاست،کرسی اور اقتدار کے نام پر روشن گھروں کو تاریک کیا جا رہا ہے،جہاں صرف ذاتی اقتدار کے لیئے ملک کے عوام کو گولیوں اور بارود کا رزق بنایا جا رہا ہے،جہاں ملک وملت اور عزت و آبرو کے سستے سودے ہوتے ہیں۔‘‘
ذینو پلیز آپ مجھے اس سلسلے میں ای میل کریں ۔۔۔۔ آپ کو بلاگ کی محفل میں خوش آمدید ۔۔
dr.nighat.nasim@gmail.com
السلام علیکم
جیسا کے محمداحمدترازی صاحب نے کراچی کے بارے میں بہت تفصیلی بلاگ لکھا اس میں انہوں نے کراچی کی کچھ اہم ہلاکتوں کا تو زکر کیا مگر بے حد معزرت آخر میں وہ یہ تاثر دے گئے جیسے کے یہ سب صرف اور صرف اے این پی اور ہزارہ صوبے کی ڈیمانڈ کرنے والوں کے کرتوت ہوں ۔اور اس بات کی تصدیق جعفری صاحب نے بھی کی ۔
میں ان دونوں سے بے حد معزرت کے ساتھ یہاں کچھ اگر کہوں تو برائے کرم برا مت منائیے گا ۔کیونکہ ہو سکتا ہے کے آپ لوگوں کی ہمدردیاں صرف اور صرف ایم کیو ایم کے ساتھ ہوں مگر کراچی کے امن کی تباہی کو ایک عام انسان کی نظر سے دیکھیں جس کا کسی جماعت سے تعلق نا ہو تو حقیقت بلکل سامنے آ جائے گی
جعفری صاحب بے حد معزرت کے ساتھ ۔
آپ نے کہا کے کراچی میں فرقہ واریت کو ختم کروانے میں ایم کیو ایم کا بہت بڑا ہاتھ ہے تو اس سے تو میں بھی متفق ہوں مگر جب سے ایم کیو ایم میں دو دھڑے بنے اور حقیقی بنی اس وقت کی قتل و غارت گری میں جو لوگ مارے گیئے انکا خون کس کے سر ہے ؟چاہے وہ ایم کیو ایم کے بلیٹ فارم سے یا حقیقی کے یا پھر ایک عام آدمی ؟
اسی ایم کیو ایم کے وجود میں آنے کے بعد سے اس پر کتنے آپریشنز ہوئے اور اس میں جو جوان لڑکے مارے گیئے ضروری نہیں کے وہ سب دہشت گرد تھے اس وقت بھی کچھ بے موت مارے گئے انکا خون ؟
پھر بارہ مئی اور اس جیسے دیگر واقعات میں جو بھی جوان ہوں بچے ہوں یا بوڑھے وہ سب اندھی گولیوں کی نظر ہوئے کس وجہ سے ؟
بے حد معزرت کراچی میں ابھی جو ٹارگٹ کلنگ ہوئی ہے اس پر میں بھی مستقل اخبارات بھی پڑھ رہی ہوں ٹی وی پر پروگرامز بھی دیکھ رہی ہوں ۔کیا آپکو اس میں یہ نظر نہیں آتا کے ہزارہ والوں اور اے این پی کے جھگڑے کا بھرپور فائدہ ایم کیو ایم نے اٹھایا ہے اور اے این پی کے خلاف اپنا کام کیا اور اے این پی نے بھی اپنا کام کیا ؟ بعد میں کچھ نا ملا تو سی ایم ہاوس کی میٹنگ سے ایم کیو ایم والے یہ کہہ کر اٹھ گئے کے اس میں ہزارہ والوں کو بھی شامل کیا جائے ؟
مطلب اپنا بغض نکال کر ہزارہ والوں کی ہمداردیاں سمیٹنے کی ناکام کوشش کی مگر ہزارہ اور اے این پی نے انگلی انہی کی طرف اٹھائی کیونکہ کراچی میں اتنی بڑی ہلاکتیں ہزارہ والوں کے بس کی بات نہیں وہ بھی ایم کیو ایم کی موجودگی میں؟
مجھے علم ہے میں آپ لوگوں سے ذیادہ کراچی کو نہیں جانتی۔مگر اب دنیا بہت چھوٹی ہو گیئ ہے۔لمحہ بلمحہ ہر انسان با خبر رہ سکتا ہے۔اب وہ دور نہیں کے کہیں کسی کے خلاف کاروائی ہو اور اسکی خبر کسی کو نا ہو۔
آپ تھوڑا سا غور سے اگر انکے ٹالک شوز کو دیکھیں تو ایم کیو ایم والوں کے بات کرتے ہوئے جھجکنا باتوں سے کترانا اور مسلسل ہزارہ والوں کے ساتھ ہمدردیاں جتانا صاف ظاہر کرتا ہے کے اسل حقیقت کیا ہے ؟ میرا اپنا نظریہ یہی ہے کے یہ صرف اور صرف اے این پی اور ایم کیو ایم کا کلیش ہے جو ایک عرصہ سے چلا آ رہا ہے دونوں جماعتیں اپنی اکثریت ثابت کرنے میں لگی ہیں اور مارا عام آدمی جا رہا ہے
جہاں تک شہباز شریف نواز شریف اور انکی جماعت کی بات ہے تو وہ تو پنجاب تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں کراچی میں انکا تووجود ہی نہیں تو انکو کس بات کا الزام دیں؟
وہ وہاں اقتدار کی عیاشیوں میں لگے ہیں ۔انکو تو خد یہی ڈر ہے کے کہیں پنجاب کے دو ٹکڑے ہو گئے تو ہمارا کیا ہوگا؟
میری کوئی بات بری لگی ہو تو معزرت آپکے بلاگ پڑھکر کچھ عجیب لگا سو اپنی سوچ لکھ دی مگر ضروری نہیں کے میری سوچ درست ہو
محترمہ ماریہ علی صاحبہ
میری تحریر سے یہ تاثر ابھرنا تو نہیں چاہیے تھا کیونکہ تحریر کی ابتدا میں درج کئے گئے شعر کو سمجھا جائے تو میرا مطب صاف اور بالکل واضح ہے
کبھی کبھی شعر اور استعارے بھی وہی مطلب دیتے جو لمبی چوڑی تحریر دیتی ہے لہذا میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد کسی وضاحت کی ضرورت نہیں رہتی۔
محترمہ
ہم دور جدید کے روشن کراچی میں نہیں بلکہ ایسے تاریک جنگل میں رہتے ہیں جس میں خونخوار بھیڑیوں اور آدم خور درندوں کی حکمرانی ہے،جہاں انسانی خون سے پیاس بجائی جاتی ہے اور خونخوار درندے بے گناہ لوگوں کا شکار کرتے ہیں
ایسے میں زندہ رہنے والے کیسے زندہ رہتے ہیں اس کا اندازہ اس شعر سے لگایا جاسکتا ہے
لوگوں کو دشمنی میں گرفتار دیکھنا
دو آنگنوں کے بیچ میں دیوار دیکھنا
اس شہر میں بھروسہ نہیں حادثات کا
میری خبر نہ آئے تو اخبار دیکھنا
ماریہ صاحبہ
جیسا میں نے کہا میں اس غم میں آپکا برابر کا شریک ہوں۔ میرے بھی عزیز واقارب مارے گئے ہیں۔ اگر یہ کام ایم کیو ایم کا ہوتا تو میںانہی کو الزام دیتا۔ ایم کیو ایم کو جتنے قریب سے میں نے دیکھا ہے شاید آپ نے نہ دیکھا ہو۔ میرے تین عزیز اسوقت ایم کیو ایم کے MNA ہیں۔ اُن میں سے ایک حیدر عباس رضوی ہیں اور ایک کشور زہرہ ہیں جنکی ماں آلِ فاطمہ الطاف حسین کی منہ بولی ماں تھیں ۔ میرے عزیزوں میں سردار جعفری، سید محمد جعفری، رئیس امروہوی، جون ایلیا، صاقین ڈاکٹر جعفر نقوی اور ڈاکٹر ادیب احسن رضوی وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب کا شمار شرفاء میں ہوتا ہے۔ کیونکہ ایم کیوایم کراچی میں ایک ناقابلِ شکست جماعت کے طور پر اُبھری ہے اسلئے جلے ہوئے پتھر مار رہے ہیں، کھسیانی بلیاں کھمبے نوچ رہی ہیں اور ہارے ہوئے الزام تراشی کررہے ہیں۔ کراچی کے عوام با شعور ہیں اور اچھے بُرے میں فرق کرنا جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ کسے اپنا نمائندہ منتخب کریں۔ فرقہ واریت کو کراچی میں ختم کروانا اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ جسکی مثال پاکستان میں کہیں اور نہیں ملتی۔ جس طرح مصطفےٰٰٰ کمال نے کراچی میں کام کیا ہے ا سکی مثال بھی پاکستان میں کہیں اور نہیں ملتی۔
جیسا میں نے کہا میں اس غم میں آپکا میں شریک ہوں۔ میرے بھی عزیز واقارب مارے گئے ہیں۔ اگر یہ کام ایم کیو ایم کا ہوتا تو میںانہی کو الزام دیتا۔ ایم کیو ایم پر الزام تراشیوں کی مخالفت کرنا میرا اخلاقی فرض ہے تاکہ غلط فہمیاں دور ہوسکیں۔ ہم صرف کوشش ہی کرسکتے کیونکہ تعصب اور بغض کا علاج لقمان کے پاس بھی نہیں۔
السلام علیکم
بہت معزرت ترازی صاحب میں اپنے کہے پر معزرت خواہ ہوں امید ہے آپ مجھے معاف فرمائیں گے؟
جعفری صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ کے آپ میرے غم میں برابر کے شریک ہیں مجھے بھی بہت افسوس ہوا آپکے عزیز و اقارب ان حالات کی بھینٹ چڑہے ہیں
میں آپکی بے انتہا عزت کرتی ہوں آپ میرے بزرگ ہیں میری رہنمائی فرماتے ہیں ہر مقام پر مگر میں آپ کی بات سے اب اور بھی اس لئیے متفق نہیں ہو سکتی کیونکہ آپکے اندر ایم کیو ایم کے لئیے نرم گوشہ کی وجہ آپ نے خود بیان کر دی ہے ۔
آپ ایک ہی بات کو کیوں پکڑ کر بیٹھ گیئے ہیں فرقہ وارانہ فسادات کی بار بار ایک ہی بات نا کریں ۔اب وہ زمانہ گزر گیا ۔اسکے بعد بھی بہت بم بلاسٹ ہوئے بہت شعیہ شہید ہوئے یہ ایک الگ بحث ہے ۔اگر ایم کیو ایم نے فرقہ وارانہ فسادات ختم کروائے تو اسکے بدلے میں اس وقت میں اسکو بہت بڑا ووٹ بنک بھی ملا اس بحث میں نا جائیں پلیز
جیسا کے آپ نے کہا کے آپ نے ایم کیو ایم کو بہت قریب سے دیکھا ہے تو پھر تو آپ بلکل ہی اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ ماشااللہ جس فخر کے ساتھ آپ ایم کیو ایم کے تین MNA کے عزیز ہیں تو پھر تو آپ کے بھی منشور میں یہی شامل ہوگا کے چاہے کچھ ہو جائے ڈھول شرافت کا ہی پیٹو ۔جیسا کے ایم کیو ایم آج تک اتنی جوان لاشوں کی سیاست پر پیٹتی آئی ہے ۔بے حد معزرت جعفری صاحب یہاں ذاتیات پر نہیں لیجئے گا آپ ۔
جیسا کے آپ نے کہا کے کراچی کی عوام با شعور ہے تو بے شک کراچی کی عوام حقیقت میں با شعور کے ساتھ عزت دار بھی ہے اور جیسا کے یہ بات سب جانتے ہیں کے عزت دار سب سے ذیادہ ڈرپوک بھی ہوتا ہے اسی لئیے آج تک ایم کیو ایم کراچی سے کامیاب ہے کیونکہ وہاں کی عوام کو یہ ڈر لگتا ہے کے اگر انکو انکار کیا ووٹ ڈالنے سے تو یہ کیا کچھ کر سکتے ہیں ہم سب جانتے ہیں
اپنی ہی بات کاٹ کر میں یہاں اپنا تھوڑا سا تعارف دے دوں کے میرا پاکستان میں کسی جماعت سے تعلق نہیں ہے ۔میری پیدائش یہاں ڈنمارک کی ہی ہے اور میری شادی 24 سال کی عمرر میں ہوئی ہے شادی سے پہلے میں مشکل سے 9 دفعہ پاکستان گئی ہوں ۔اور اب شادی کے بعد کیونکہ میرا سسرال کراچی گلشن اقبال میں واقع ہے تو میں ہر 2 یا 3 ماہ بعد کراچی جاتی رہتی ہوں
اور آپ جن صاحب حیدر عباس رضوی صاحب کو اپنا رشتہ دار بتا رہے ہیں انہی کے الیکشن کے حلقہ میں میرا سسرال تھا اور الیکشن کے دوران غلطی سے میں وہاں موجود تھی ۔ان کے مقابلے میں فیصل رضا عابدی صاحب تھے جنکا تعلق پی پی پی سے ہے ۔
میں نے وہ پورا الیکشن کا ٹائم بھی دیکھا ہے ‘‘اپنی آنکھوں سے‘‘ کسی کی سنی سنائی بات نہیں لکھ رہی میں۔
آپکی ہی ایم کیو ایم کے کارکنان کس طرح ایک رات پہلے سے بھر پور اسلحہ لئیے ان ایریاز میں دندناتے پھر رہے تھے۔کس طرح لوگوں کے گھروں پر گاڑیاں کھڑی کی جاتی تھیں کے چلو ووڈ ڈالنے ۔ کس طرح ووٹنگ ہوئی کس طرح ووٹوں کی گنتی کے وقت جان بوجھ کر لائٹ بند کر دی گئی وہ سب میرے سامنے کی بات ہے لہزا پلیز آپ مجھے ایم کیو ایم کی شرافت ایمانداری اور مخلصی کا پاٹ نا پڑہائیں ۔(امید ہے میری ان باتوں کو آپ نے ذاتی نہیں لیا ہوگا؟)
اچھا ایک چھوٹا سا سوال کرتی ہوں آپ سے اگر برا نا منائیں ؟
ایم کیو ایم جب تک اقتدار میں نہیں تھی اسکے خلاف آپریشن جاری تھا ،الطاف حسین صاحب جو کے قائد تحریک مانے جاتے ہیں
انہوں نے ایک اپنی عوام کے لئیے تحریک چلائی کے ہم کو ہمارے حقوق کی جنگ لڑنی ہے اور وہ جنگ لڑتے بھی رہے پوری کی پوری جوان نسلیں قربان ہو گئیں صرف انکے ایک حکم پر ؟ آخر کار ایک وقت آیا کے آپکی جماعت کو اقتدار بھی مل گیا اور اب تو ایم کیو ایم کو اقتدار کے مزے لوٹتے ہوئے اتنا وقت ہو گیا ہے کے وہ خود بھول گئے ہونگے ۔ اپنی تحریک کا مقصد حاصل کر لیا آپ نے ؟جس کی خاطر اتنی قربانیاں دیں ۔اپنی اور اپنی جماعت کی ایک شناخت بنائے عرصہ بیت گیا ہے نا ؟ اب تو ایم کیو ایم یا الطاف صاحب یہ نہیں کہہ سکتے کے ہمارا وجود تسلیم نہیں کیا جا رہا ہماری عوام کے مثائل کے لئیے ہمکو پابند کیا جاتا ہے ؟اب تو کوئی شکایت نہیں ہے نا ؟
اب تو وفاق آپ سے بلیک میل ہوتا ہے اب تو پورے پاکستان کی جماعتیں ایک طرف ایم کیو ایم کی پاور ایک طرف کیونکہ وہ کراچی کے بے تاج بادشاہ ہیں ایسا ہی ہے نا ؟
تو اب تک اس جماعت نے اپنے کارکنوں کے لیئے کیا کیا ؟ اپنے ان شہیدوں کے لئیے کیا کیا جو بے موت مارے گئے؟
کراچی میں کتنے بے روزگاروں کو نوکری ملی ؟ کتنے کارکن اپنے گھروں میں مدد کر رہے ہیں ؟ کون سے وسائل کی کمی ہے آپکے پاس ؟جو آج بھی آپکا کارکن سڑکوں پر فضول بیٹھا دکھتا ہے ؟
کبھی ان بے روزگار اور آوارا کارکنوں کے گھروں پر جا کر انکے والدین سے پوچھا ہے آپ نے کے وہ لوگ خوش ہیں انکے اس جماعت میں ہونے سے ؟
جہاں تک آپ کی پوری جماعت ایک مصطفی کمال کے کارناموں کا ڈھول پیٹتی دکھائی دیتی ہے تو میرے بزرگ اس میں کوئی شک نہیں کے وہ ایک بے انتہا قابل آدمی ہے اور اسی شخص نے آپکی جماعت کو اپنے ان کارناموں سے نئی ذندگی دی ہے ورنہ سب جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔
اور اس میں برابر کا احسان اس جنرل کا بھی ہے جس نے اتنے فنڈز دئیے۔ کھلے ہاتھ سے پیسہ ملا تو کام بھی ویسا ہی ہوا۔ورنہ کون سا پیسہ آپکے قائد تحریک نے اپنی جیب سے کراچی پر لگا دیا ؟ بے شک ذہن مصطفی کمال کا بہترین ہے اسی لئیے اتنے اچھے منصوبے بنائے اور مکمل بھی ہوئے مگر وہ پیسہ کہاں سے اور کیسے آیا یہ بھی یاد رکھنا چاہیے ۔کھانا پکانے والے کا بے شک کمال ہوتا ہے مگر سامان مہیا کرنے والے کو بھی نا بھولا جائے ؟
بلاگ بہت بڑا ہو گیا ہے ورنہ لکھنے کو تو بہت کچھ ہے
آخر میں آپکے ہی لکھے کو پیسٹ کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؛؛ایم کیو ایم کو جتنے قریب سے میں نے دیکھا ہے شاید آپ نے نہ دیکھا ہو۔ میرے تین عزیز اسوقت ایم کیو ایم کے MNA ہیں۔ اُن میں سے ایک حیدر عباس رضوی ہیں اور ایک کشور زہرہ ہیں جنکی ماں آلِ فاطمہ الطاف حسین کی منہ بولی ماں تھیں ۔اسکے بعد آپ نے یہ لکھا؟۔۔۔۔ میرے عزیزوں میں سردار جعفری، سید محمد جعفری، رئیس امروہوی، جون ایلیا، صاقین ڈاکٹر جعفر نقوی اور ڈاکٹر ادیب احسن رضوی وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب کا شمار شرفاء میں ہوتا ہے۔ ““ بے شک آپکی آخری بات سے میں سو فیصد متفق ہوں یہ لوگ حقیقت میں بے انتہا شریف اور قابل احترام ہیں انکی مثال نہیں ہے ۔
آخر میں بہت شرمندہ ہوں اگر میری کسی بات سے آپکو تکلیف ہوئی ہو؟ جس طرح آپ نے اپنا نقطہ نظر بیان کیا ویسے ہی میں نے اپنا نظریہ بیان کیااس میں ذاتیات پر لینے کی نا مجھے ضرورت ہے نا ہی آپکو
امید ہے آپ تحمل سے پڑھکر سمجھ کر ہی جواب دیں گے۔
آپکی بیٹی جیسی
ماریہ علی
ایک اور بات جعفری صاحب ۔ مجھے ہر انسان کی موت کا بہت دکھ ہوتا ہے جو بے چارہ بے موت مارا جاتا ہے ۔ناصر میرا کوئی بہت قریبی نہیں تھا وہ ایک بہت معصوم بے ضرر سا لڑکا تھا جس پر اپنے گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی تھا اور وہ خود بے چارہ ہینڈی کیپ بھی تھا۔
وہ اپنے حالات سے کس طرح جنگ لڑ رہا تھا یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔مگر وہ بے چارہ بے موت مارا گیا ۔
میری تمام طر دعائیں اس مرحوم اور اس جیسے دوسرے مرحومین کے ساتھ ہیں جو کے ان بے غیرت بے ضمیر دجال سیاست دانوں کی نظر ہو گئیے جو کے کراچی کو اپنے باپ کی جاگیر مانے بیٹھے ہیں۔ خیر میری دل سے یہی دعا ہے کے پروردگار کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں تو اب وہ دیر ختم ہو جائے اور آدم خور سیاست دانوں کا انجام اس منحوس جانور کی موت جیسا ہو کے جس کو دیکھ کر صرف گھن ہی آئے ترس بلکل نا آئے ۔الہی آمین
ترازی صاحب نے اچھے اشعار کا انتخاب کیا ہے۔ ایک غزل پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
دل سے کیوں دل کی نہ دیوار ملادی جائے
یہ جو ہے بیچ میں دیوار گرادی جائے
کیوں نہ پیغام محبت کا وہاں پہنچادیں
اس سے پہلے کہ یہ آواز دبا دی جائے
کیا ضروری ہے کہ رنگ اس میں عداوت کابھریں
اس سے پہلے کہ فسانہ کو ہوا دی جائے
کیا قیامت ہے ظفر اپنے بھرے اس گھر میں
سنّے والے ہی نہیں کس کو صدا دی جائے
بہن ماریہ علی ۔آپ کو میں کیا لکھوں؟ کہ میرا دل ان ہلاکتوں پر کتنا دکھتا ہے۔ میں نے تو پاکستان چھوڑا ہی اسی لیئے کہ میں جوکہ ہمیشہ سے اتحاد بین المسلمین کا حامی ہوں ۔جب میں نے دیکھا کہ مردِ حق ضیاالحق نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت قوم کو گروپوں میں بانٹ دیا اور لا تعداد گروپ بنا دیئے تو میرا دم گھٹنے لگااور میں نے ملک چھوڑ دیا کیونکہ بلا امتیاز وطن و مذہب اور ملت میرے بہت سے دوست تھے جو بھا ئیوں جیسے تھے۔ان میں تو نہیں مگر ان کے بچوں میں اس کےبعد فرق آچکا تھا۔ چونکہ میں نوشتہ دیوار پڑھ رہا تھا لہذا ہجرت ہی مناسب سمجھی اور یہاں آکر اپنا مشن جاری رکھا۔ وہاں، جہاں کہ لوگ محض تفریح کے لیئے لوگ کسی کی جان لےلیتے ہیں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قاتل کون ہے؟ ممکن ہے وہ نہ ہوں جو آپ نے لکھا ہے۔ اور ہو سکتا ہے وہی ہوں ۔کون جانے ۔ اس دفعہ کے کالم میں میں نے پاکستان کی پوری صورت ِحال کے بارے میں ایک نقشہ کھینچا ہے ۔ اگر موقعہ ملے تو پڑھ لیجئے گا شاید بات سمجھ میںآجائے۔میں آپ کے اور منظور قاضی صاحب کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔ اللہ مرحومین کی مغفرت فرمائے آمین
السلام علیکم جیلانی صاحب سب سے پہلے تو میرے لئیے بہت اعزاز کی بات یہی ہے کے آپ اس بلاگ میں تشریف لائے ۔ اس کے بعد آپ نے اپنی رائے سے نوازا ۔میں آپکا تبصرہ پڑھکر خود کو بہت خوش نصیب تصور کر رہی ہوں کے آپ نے میرے لکھے کو اس قابل سمجھا اس کے لئیے جتنا بھی شکریہ ادا کروں کم ہے )
اور آپ نے اپنے کالم کی طرف اشارہ کر کے تو کمال ہی کر دیا ۔میری کم علمی کی وجہ سے میں جن الفاظ کی محتاج تھی ۔ذہن میں بہت کچھ تھا مگر الفاظ کی محتاجگی کی وجہ سے لکھ نہیں پائی یا لکھ نہیں پاتی وہ بات آپ نے اپنے کالم میں کمال انداز سے کہہ دی صبحان اللہ میں نے سوچا کے یہاں آپکے تبصرے کی کچھ سطور پیسٹ کروں مگر پورا کا پورا کالم ہی اتنا کمال کا ہے اس میں سے کیسے کچھ مخصوص سطور نکالو سمجھ نہیں آ رہا؟پھر بھی بہت کوشش کر کے کچھ سطور نکالی ہیں جو یہاں پیسٹ کر رہی ہوں۔ ۔ ۔ آپ لکھتے ہیں کے۔۔۔
یہ وہ وجہ ہے کہ ووٹ انہیں کو پڑتے ہیں جیتتے بھی وہی ہیں جن میں سب گُن ہوں۔ کیونکہ ووٹ دینے والے یہ جانتے ہیں کہ اول تو بھلا آدمی نایاب ہے اگر کوئی ہے بھی تو بھلا آدمی الیکشن میں آئے گا کیوں؟ کیونکہ یہ تو کاروبار ہے جو کہ جال کی طرح ہے ایک لگا ؤلاکھوں کما ؤ۔ ایماندار کے پاس تو خون پیسنے کی کما ئی ہوتی ہے ، جب اسے کمانا ہی نہیں ہے تو وہ پیسہ کیوں لگا ئے گا؟ اور جب نیک آدمی ہیں ہی نہیں تو پھر وہ کمزور کو ووٹ کیوں دیں ، جس کے ہار نے کے امکانات زیادہ ہیں اور جو لوٹا بھی نہیں ہے کہ ہر حکومت میں لیا جا ئے اور سب کی چاندی ہو؟
واہ ۔ آپکی ایک ایک لائن کمال کے معنی رکھتی ہے ۔ اب تو جاگیرداروں کی بھی ترقی ہو گئی ہے ۔جو پہلے غریب تھے وہ اسی سیاست سے نوجوانوں کے خون کی حولی کھیل کر انکی لاشوں پر سیاست کر کے بیرون ملک اتنے بڑے جاگیردار بن گئے کے انکی مثال نہیں ملتی ۔ اور انکو اس سیاست کا نچہ ایسا چڑھا کے وہ موڈرن وڈیرے جاگیردار بن گئے ۔طریقہ واردات وہی مگر انداز نرالا ۔غنڈے بھی پالے ملا بھی پالے ۔وڈیروں کو برا بھلا بھی کہا اور خود انہی کے طریقہ پر سیاست کرتے رہے اور عوام میں وڈیروں کو برا بھلا بھی کہا اور اپنے مقرر کردہ نمائندوں پر بھرپور انوسٹمنٹ کر کے اپنے مفادات کے لئیے بلی کا بکرا بنا کر استعمال بھی کیا ۔ اور شور یہ مچایا کے ہم مڈل کلاس کو نمایندگی دیتے ہیں ۔
اور لوٹے اور والی بات تو بہت ہی کمال کی ہے۔یہاں تو آمر ہو تو جڑے ہیں صرف اقتدار کے لئیے۔اور جمہوریت سے ڈر ہو تو غیر مشروط حمایت کر کے گود میں بیٹھ جاؤ مگر حکومت نا چھوڑو کیونکہ یہ نشہ ہی نرالہ ہے۔
جیلانی صاحب آپکے ایک کالم نے تو جیسے الفاظ کا ذخیرہ دے دیا ہے مجھے ۔سبحان اللہ کمال کا کالم لکھا ہے آپ نے بہت ذبردست
اپنی دعاؤں میں شامل رکھیئے گا ہمیشہ
آپکی بیٹی جیسی
ماریہ علی
میں سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ اور جناب ظفر جعفری صاحب کے تبصرے پڑھکر شش و پنج میں مبتلا ہوگیا ہوں ۔ اس لیے کہ میں سید ہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی معصومیت پر یقین بھی رکھتا ہوں مگر انکے تجزیہ سے متفق نہیں ہوں ۔ دوسری طرف میں اکثر جناب ظفر جعفری صاحب کی قابلِ تنقید باتوں سے بر سرِ عام اختلاف کرتے ہوئے اپنے تبصروں میں اپنی اختلافی رائے کے وجوہات بھی لکھدیتا ہوں۔ مگر اس بلاگ کےموضوع پر اب تک جنا ب ظفر جعفری صاحب نے جو کچھ بھی لکھا ہے میں اس سے بالکل متفق ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ سے یہی کہنا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کراچی میں بلا تفریقِ مسلک و مذہب کراچی کے بے یار و مددگار شہریوں کے حقوق کے لیے جد و جہد نہ کرتی تو نہ صرف اس شہر میں بلکہ پورے پاکستان میں کمزور عوام کی حمایت کرنے والا کوئی بھی نہیں ہوتا ۔
جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے ۔ مار دھاڑ میں پہل ایم کیو ایم نے کبھی نہیں کی ۔ اس نے ہمیشہ سےاپنی دفاعی جنگ لڑی ہے۔
اگر طالبان اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے دہشت گرد عناصر کراچی میں دہشت نہ پھیلاتے تو ایم کیو ایم کے کارکن اپنی مدافعت میں لڑنے پر مجبور نہ ہوتے۔ انہی دہشت گرد عناصر کی وجہ سے ایم کیو ایم کے ارکان پتھیار خریدنے اور ان سے اپنی دفاع کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔۔ نتیجہ کے طور پر انسان کے خون کا بدلہ دوسرے انسان کے خون سے لیا جارہا ہے ۔جو ایک افسوسناک بات ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ سے یہی التجا ہے کہ کراچی کی بجائے وہ پاکستان کے دوسرے صوبوں کا بھی دورہ کریں تاکہ انکو معلوم ہوجائے کہ باسٹھ سال کے بعد بھی پاکستان میں ہندوستان سے آ کر بسنے والوں کو کس طرح دیکھا جاتا ہے اور انکے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔ وہ سب ابھی تک پناہ گیر اور پناہ گزیں کہلاتے ہیں ۔ انکی قربانیوں کو بھو ل کر انکے وجود کو پاکستان پر بوجچھ سمجھا جاتا ہے۔ اگر وہ کراچی میں اپنے حقوق کی حفاظت کی جنگ لڑ رہے ہیں تو انہیں ملامت اور نفرت کا ہدف بنا یا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کے غریب اور بے بس عوام اب ایم کیو ایم کی اہمیت سے واقف ہوکر اس میں شامل ہورہے ہیں۔اس لیے کہ یہ وڈیروں اور جاگیردارون اور ظالم سرمایہ داروں کے مظالم کے خلاف عوام کو متحد کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفصیل میں جانا اس بلاگ کو بلا وجہ مزید طویل کرنے کے مترادف ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنے اس تبصرےکو یہیں پر ختم کرتا ہوں اس لیے کہ میں کسی اور کے کمپیوٹر سے یہ کچھ لکھ رہاہوں ۔ ( فی الوقت یہی غنیمت ہے کہ میں دوسروں کے کمپیوٹر کے ذریعہ ،بلاگوں میں حصہ لینےکےقابل ہوں)
فقط
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
السلام علیکم
بے شک قاضی صاحب آپ نے جس جگہ یہ بات کی وہ بلکل درست ہے مگر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کے حقوق کی جنگ لڑنے کے بعد جیتی بھی جا چکی ہے اور اب اسکے نتیجے کا وقت ہے اس کے اثرات کیا ہیں ؟
ایم کیو ایم نے غریب مسکین لا وارث قوم کو پہچان تو دے دی مگر اس پہچان کے بدلے میں اس عوام کو اپنا کیا کچھ قربان کرنا پڑا ؟
آج پورے پاکستان کا تعلیمی معیار دیکھیں اور کراچی کا تعلیمی معیار کیا ہے ؟
پنجاب سے انٹر کیا ہوا اور کراچی سے انٹر کیئے ہوئے کو سامنے بٹھائیں تو فرق صاف ظاہر ہوگا۔
کراچی میں اسی پہچان کے بدلے میں کتنے ہی گھرانوں کو کتنی بھاری قیمت چکانا پڑی اور اسکے بعد وہ لاورث بن گئے کیوں؟
طالبان ٹائپ پٹھان کی بات تو سمجھ آتی ہے مگر اپنے ہی اپنوں کے ہاتھوں جو مارے جاتے ہیں اسکا کیا ؟وہ کس کے خلاف جنگ ہے ؟
اے این پی ایم کیو ایم تو ٹارگٹ کلنگ آج شروع ہوی ہے نا ؟ اس سے پہلے کے آپریشن میں کتنی جوان لاشیں اٹھیں ؟ حقیقی اور ایم کیو ایم میں کتنی ٹارگٹ کلنگ ہوئی جو آج تک ہوتی آ رہی ہے ؟ ان سے کس چیز کی جنگ تھی ؟
اسلحہ کی نمائش دشمن کے خلاف تو سمجھ آتی ہے مگر اسی اسلحہ سے اپنوں کو یرغمال بنانا کون سی بہادری ہے ؟
ایم کیو ایم کا وجود جب تک اپنی مظلوم عوام کے حقوق کے لئیے تھا تو مخلص لوگوں نے اپنے پورے گھر قربان کر دئیے مگر اس کے بعد جب یہ ایک تحریک سے سیاسی جماعت مفاد پرستی کا ٹولہ بن گئی تو کیا لوگ کی ہمدردیاں اس کے ساتھ رہنی چاہیئں؟؟
اسی جماعت نے جب اپنے مقاصد حاصل کر لئیے تو اپنی عوام کو کیا فائدہ پہنچایا ؟
اپنی جماعت کے شہیدوں کے کتنے گھرانوں کو روزگار دیا ؟
کتنے لڑکوں کو روزگار ملا ؟کتنے گھرانے خوشحال ہوئے ؟
کیا اس جماعت کے پاس پاور نہیں؟کیا انکے پاس وسائل کی کمی ہے کے یہ اپنوں کے لئیے کچھ روزی روزگار کا بندوبست کر سکے؟۔
آج وہی پی پی پی جس کے دور میں اسی جماعت کے سیکڑوں کارکن صرف ایک اشارے پر قربان ہو گئے اسی کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی پر حکومت کی جا رہی ہے کیا انکے خون کا کوئی صلہ نہیں ؟کیا وہ کارکنان حقیقت میں کتے کی موت ہی مارے گئے انکے خون کا حساب کہاں گیا؟
آج جسکی گود میں بیٹھے ہیں کل تک وہی جماعت انکے خلاف آپریشن میں سیکڑوں کرکنوں کو نگل گئی کیا ان کارکنان کے گھر والے یہ قبول کریں گے ؟
قاضی صاحب ایسے بہت سے سوالات ہیں ۔
صرف یہ کہہ دینا کے کراچی میں بلا تفریقِ مسلک و مذہب کراچی کے بے یار و مددگار شہریوں کے حقوق کے لیے جد و جہد نہ کرتی تو نہ صرف اس شہر میں بلکہ پورے پاکستان میں کمزور عوام کی حمایت کرنے والا کوئی بھی نہیں ہوتا کافی نہیں ہے ۔اگر ایم کیو ایم نے یہ کیا تو اسکے بدلے میں پوری نسلیں قربان بھی ہوئیں اسی ایم کیو ایم پر
مگر نتیجہ کیا نکلا ؟
آج وہی جماعت دوسرے صوبوں کے غریب عوام کے حقوق کی بات تو کر رہی ہے مگر اپنی عوام کو کیا دے کر جا رہے ہیں آگے ؟
یہی ٹارگٹ کلنگ ؟کل تک پولیس ایجنسیز والے مارتے تھے اب اے این پی والے مار رہے ہیں۔کل پی پی پی سے اختلاف ہوگا تو وہ ٹارگٹ کلنگ کریں گے ۔مطلب بھینٹ بس عوام ہی چڑہے اور بدلے میں اسکو کیا ملے ؟ مفت کے بھاشن ۔
کبھی قاضی صاحب اسی جماعت کے ان نوجوان کارکنوں کے والدین سے پوچھیں جن کے بیٹے سر عام اسلحہ کی نمائش کرتے پھرتے ہیں ۔جن کا خود اپنا وزن 55 کلو ہو اور اسلحہ کا وزن 70 کلو کس فخر سے لئیے دندناتے پھرتے ہیں کبھی ان کے والدین سے پوچھیں کے جب یہ پیدا ہوئے تھے تو کیا آپ نے یہی خواب دیکھے تھے ان کے لئیے کے یہ اس طرح بدمعاشی کرتے دکھائی دیں گے اور آپ فخر سے سر اٹھا کر جیئیں گے کے میں فلاں دادا کی ماں یا باپ ہوں ؟اور جب انکو کسی مقابلے میں کتے کی موت مار دیا جائے گا تو آپکو کتنا فخر ہوگا؟ پھر وہ آپ کو جو بھی جواب دیں مجھے ضرور بتائیئےگا پلیز۔؟
یہ ٹی وی پر شوز میں آ کر اپنی شرافت کے ڈھول پیٹنے سے حقیقت نہیں چھپ سکتی ۔
میرا کہنے کا مطلب یہ نہیں کے میری کوئی دشمنی چل رہی ہے اس جماعت سے مگر یہ جماعت بجائے اس کے کے وہ اپنی عوام کو ایک روشن مستقبل دے اس میں تو ابھی تک بدمعاشی کی سیاست چلی آ رہی ہے ۔اسکا زندہ ثبوت آئے دن کی ٹارگٹ کلنگ ہے ۔جہاں کچھ حالات خراب ہوئے تو عام سڑکوں پر دیکھیں 55 ۔۔60 کلو کا لڑکا کس بہادری سے کھلے عام اسلحہ لئیے دکھائی دیتا ہے یہ نظارے آپ نے نہیں میں نے دیکھے ہیں کراچی میں
اگر اسکو آپ بہادری دلیری اور حقوق کی جنگ کہتے ہیں تو آپ پر میرا سو دفعہ سلام ہے
اسکا نتیجہ پتا ہے کیا ہوگا ؟آج جو گھرانے اپنی جوان اولاد کے ساتھ ہیں کل خدا نا کرے کوئی آپریشن ہوا تو یہ سب ٹی وی پر آ کر بڑی بڑی باتیں کرنے والے دم دبا کر بھاگ کر اپنے آقا کی گود میں بیٹھ جائیں گے اور مارا کون جائے گا ؟ وہی جوان نسل
پھر سے تارخ دہرائی جائے گی پھر سے سیکڑوں جنازے اٹھیں گے اور پھر سے ان جنازوں پر بھرپور سیاست ہوگی بعد میں مک مکا ہوگا مگر جن کی جوان اولادیں جائیں گی انکو کیا ملے گا ؟ صرف ایک لقب شہید کے گھر والے ہیں ۔ کچھ دن خوب چرچا ہوگا بعد میں اسی شہید کے گھر میں فاقہ ہوگا مگریہ سیاست دان ان کے خون پر عیاشیاں کریں گے
کمال ہے نا غریب مسکین کے لئیے اپنے حقوق کی جنگ ؟
میرا یہ بلاگ صرف اور صرف قاضی صاحب کے بلاگ کے بدلے میں ہے ۔جعفری صاحب سے جو گفتگو کی ہے وہ بلکل اپنی جگہ قائم ہے ۔مجھے امید ہے وہ میرے بلاگ کا بہت تحمل سے مدلّل جواب ضرور دیں گے نا کے ادھر ادھر کی باتیں کر کے مطلب کی بات کو دفن کر دیں گے؟
سیدہ مایہ علی کاظمی صاحبہ کو اللہ دو چاند سے بیٹے اور دو چاند سی بیٹیاں عطا کرے اور انہیں تمام آفات و بلاوں سے محفو ظ رکھکر اپنے شوہرِ نامدار کےساتھ ہنسی خوشی سےرہنے کےلیے طویل اور صحت مند عمر عطا کرے آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔
میرے تبصرےکے جواب میںانکا تبصرہ انکے دل و دماغ کی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔
پورا تبصرہ پڑھکر سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہیں!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ “ حقیقی “ اور “ ایم کیو ایم “ کی لڑائی کی باتیں تو ضرور لکھتی ہیں مگر یہ آپس میں لڑاو اور تماشہ دیکھو کے نتیجہ میں منظرِ عام پر آنے والی جماعت ( حقیقی ) سے کن عناصر کو فائدہ ہوا ؟ یہ نہیں بتاتیں !!
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ضرور کراچی بار بار جاتی ہیں اور ضرور وہاں کے تمام واقعات کا جائزہ بھی لیتی ہیں مگر اس کے باوجود وہ ایم کیو ایم ہی کو تمام برائیوں کی جڑ بتاتی ہیں ۔ جس کا سخت افسوس ہے !!!
ایم کیو ایم کو ہتھیار اٹھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟
ایم کیو ایم کو اپنے جوان جوان بیٹوں کو اپنے حقوق کے لیے جد و جہد کرنے کے لیے اور ان حقوق کی تحصیل کے لیے لڑنےاور مرنے کی نوبت کیوں پیش آئی ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ صحیح ہے کہ اس تحریک کا قائد لندن میں بیٹھ کر ریموٹ کنڑول سے اس جماعت کی قیادت کررہا ہے تو اسکی قیا دت کے نقائص کو گنانے کے ساتھ ساتھ اس کی قیادت کے نتیجہ کو دیکھو کہ اس نے ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں میں حق و انصاف کے ساتھ زندہ رہنے کا جذبہ پیدا کردیا ۔
۔۔۔۔۔۔
سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ سے یہی عرض ہے کہ وہ ایم کیو ایم کی برائیاں گنانے کی بجائے پاکستان کے موجودہ مسائل کا حل بھی پیش کریں۔
۔۔۔۔۔
اگر تجزیہ کرنا ہی ہے تو ایم کیو ایم کے علاوہ ایے ان پی اور پی پی پی اور پھر مسلم لیگ ن کے رہنماوں کے طرز عمل کا بھی جائزہ لیں اور یہ لکھیں کہ ان تمام پارٹیوں نے پاکستان کو کس طرح فائدہ اور نقصان پہنچایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی لکھیں کہ اگر ایم کیوایم دنیا سے غائب ہوجائے تو اس کا فائدہ پاکستان کو کیا ہوگا ؟
کیا کراچی کے عوام ایم کیو ایم کے ہمیشہ کے لیےچلے جانے کے بعد شیر و شکر بن کر رہینگے اور ایک ہی گھاٹ سے شیر اور بکری پانی پیا کرینگے ؟
کیا کراچی سے ڈرگ اور کلاشنیکوف کلچر ختم ہوجائے گا؟
کیا قبضہ گروپ اور لینڈ مافیا کراچی سے غائب ہوجائنگے ؟
کیا کراچی سے دادا گری ختم ہوجائے گی ؟
کیا کراچی سےٹارگیٹیڈ کلینگ ختم ہوجائے گی ؟
کیا غریب عوام کی بیٹیاں اپنے عصمت اور عزت محفوظ رکھ سکینگی ؟
کیا کراچی جنت بن جائے گی ؟
۔۔۔۔۔۔
سنجیدگی سے غور وفکر کا مقام ہے ۔!!!
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
ماریہ علی! ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ جب بھی کہیں الجھ جا و تو اللہ اور رسول ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )کی طرف رجوع کرو؟اگر کوءی رجوع کرے تو؟ پھر قرآن کہہ رہا کہ “ تم شہادتیں مت چھپاو اور سچی گواہی دو چاہے سامنے اپنے ہی کیوں نہ ہوں “ ( یعنی اس میں رشتوں، برادری اور وطنیت کا خیال مت کرو) ، پھر کہتا ہے کہ “ دیکھو! کسی قوم کی دشمنی تمہیں عدل سے نہ روک دے “ مگر آج ہم کیا ہیں یہ کہ جو اپنا آدمی ہے وہی درست ہے؟ جبکہ اوپر واضح ہدایت ہے کہ مسلمانوں کو کیا کرنا چا ہیءے اور کیا نہیں کرنا چا ہیءے۔ اور پھر ایک دوسری آیت میں ہے کہ افواہیں بلا تصدیق پھیلانے سے گریز کر و۔اور ہمارا عمل کیا ہے اسے بلا بتصرہ چھوڑتا ہوں؟
ماریہ صاحبہ
جمہوریت کی یہ خوبصورتی ہے کہ عوام کی عدالت آخری عدالت ہوتی ہے ۔ ہارنے والے ہمیشہ اُدھم مچاتے ہیں اور عوام کو جاہل اور بزدل کہتے ہیں اور جیتنے والے خوش ہوتے ہیں۔ حیدر عباس رضوی ایک مہذب فیملی سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ کیمیکل انجینیر ہیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم امریکہ سے حاصل کی ہے۔ پاکستان کے میڈیکل اور انجینیرنگ کالجوں میں صرف چوٹی کے ایک فیصد طالبِ علموں کو داخلہ ملتا ہے اور یہ طالبِ علم سنجیدہ ہوتے ہیں۔
میں اس بحث کو یہ کہکر ختم کرنا چاہونگا کہ کسی بھی چیز کے ایک حمائتی اور ایک مخالف کی بحث کا کوئ اختتام نہیں ہوتا۔ یہ بحثِ لاحاصل ہے۔
السلام علیکم
قاضی صاحب آپکے تبصرے سے یہ صاف یہی تاثرملتا ہے کے آپ کراچی میں جاری اقتدار کی حوس میں کھیلے جانے والی خون کی حولی کو ایک ایسی جدوجہد کہنا چاہتے ہیں جو کے بلکل درست ہے ۔وہاں جو خون خرابا ہوتا ہے وہ بھی جائز ہے۔ وہاں کی کئی جوان نسلیں اسی کی بھینٹ چڑھ گئیں وہ بھی درست ہے ۔
مختصر یہ کے کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے بلکل درست ہے اور وہاں کی عوام فلسطینی مجاہدین کی طرح اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور انکے مد مقابل کفار ہیں اور سامنے والے جو مارے جا رہے ہیں وہ کافر اور اس تنظیم کے مارے جانے والے شہید)
اور آپ پورے پاکستان کی بات جو کرتے ہیں تو یہ بلاگ کراچی کے حالات پر تھا اس لئیے یہاں عنوان صرف کراچی ہی رہا اسی لئیے بات کسی اور طرف نہیں گئی۔
چلیں میں جیلانی صاحب کا حکم مانتے ہوئے اپنی ہار مانتی ہوں کیونکہ آپ لوگ مجھ سے ذیادہ وہاں کے حالات ۔ان کے درپردہ حقائق بہت خوب جانتے ہیں ۔
آپکا پاکستان ہے آپکے شہر ہیں آپ لوگوں کی مصلح جدوجہد ہے میں اپنی غلطی مانتے ہوئے آپ سے معافی مانتی ہوں مگر پھر بھی یہ ضرور کہونگی کے جو غلط ہوگا اسکو غلط ہی کہونگی
آپکی دعاوں کی محتاج
ماریہ علی
السلام علیکم
بہت شکریہ جعفری صاحب آپ نے یہاں حیدر عباس رضوی صاحب کا تعارف لکھا ۔ مگر یہاں میرے خیال میں انکے تعارف سے ذیادہ میرے سوالات کے جواب لکھنے کی ذیادہ ضرورت تھی ؟
اب آپ یا قاضی صاحب سوال پر ہی سوال کئیے جائیں گے اور جواب نہیں دیں گے تو بحث برائے بحث ہی ہوگی۔
میں تو بس اتنا کہہ رہی ہوں کے مجھے قائل کر دیں ؟
میرے ان سوالات کے جوابات دے دیں نا کے یہ کے فلاں مہزب فیملی سے ہیں سنجیدہ ہیں فلاں کو الطاف حسین نے ماں کا درجہ دیا ۔مجھے اس سب سے کیا ؟
الطاف حسین الطاف حسین ہی ہیں کوئی کعبے کے پیش امام نہیں کے انکا یا انکی پارٹی کا ہر عمل کوئی بہت بصیرت افروز ہو؟
بجائے اس کے آپ مجھ سے سوال پر سوال کریں اور عوام کی عدالت کی بات کریں تو معاف کیجئے گا یہی وہ عوام کی عدالت ہے جس نے ضیاء الحق کو بھی قبول کیا ۔پرویز مشرف کو بھی قبول کیا ؟ پاکستان میں کون سی عوام کی چلتی ہے جو آپ عوام کی بات کر رہے ہیں؟
اقتدار میں کیسے آیا جاتا ہے یہ کس سے چھپا ہے ؟
بہر حال اگر آپ لوگ مجھ پر اپنی ہی بات مسلط کرنا چاہتے ہیں تو احتراماً چپ ہو جاتی ہوں مگر میرے سوال جوں کے توں ہیں کیونکہ ان میں سے کسی ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا بلکہ الٹا سوال پر سوال ہی آئے ہیں خیر
بہت معزرت میری کسی بھی بات کو ذاتی لینے کی اس لئیے بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بات کراچی اور وہاں موجود ایک پارٹی پر ہو رہی ہے ۔ اس میں بس ایک فارمولا ہے ‘‘ یا تو قائل کر دیں یا ھر قائل ہو جائیں‘‘
آگے میں آپ کے سامنے اب چپ ہوں
آپکی دعاؤن کی طالب
ماریہ علی
ماریہ صاحبہ
میرے گھر سے تو جنازے اُٹھے ہیں۔ مجھ سے زیادہ وہاں کے مسائل کوئ کیا سمجھے گا۔ آپ نے فرمایاٰٰٰ ٰٰٰ جو غلط ہوگا اسکو غلط ہی کہونگیٰٰ ٰٰ۔ لیکن آپ غلط کو صحیح کہ رہی ہیں اور صحیح کو غلط۔ بغض سے بھری سنی سنائ باتوں کو آپ صحیفہء آسمانی کی طرح پیش کررہی ہیں ۔ مثلاً ناصر کے قتل کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے۔ اس الزام کا نہ کوئ سر ہے نہ پیر۔ کیونکہ ایم کیو ایم کے کسی مخالف نے آپ سے یہ کہدیا ۔ اسلئے اپنے اس خبر کو صحیفہء آسمانی بناکر پیش کردیا۔ ایم کیو ایم واحد جماعت ہے جسکا ووٹ بنک مستقل بڑھ رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی ہر سیاسی جماعت میں Pro MQM groups موجود ہیں جو ایم کیو ایم کی اہمیت کا دم بھرتے ہیں۔ کسی بھی جمہوریت کے علمبردار کو قائل کرنے کیلئے یہ بات کافی ہے۔ ہار کر کہنا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئ ہے یا وہاں کے عوام جاہل ہیں یہ صرف کھسیانا پن ہے اور اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ آپکے ا لزامات صرف سنی سنائ باتوں پر مبنی ہیں۔ نہ آپ کے پاس حقائق ہیں نہ دلائل۔ اگر ہیں تو آپ Facts and Figures پیش کریں۔ میرے گھر سے تو جنازے اُٹھے ہیں۔ مجھ سے زیادہ وہاں کے مسائل کوئ کیا سمجھے گا۔
محترمہ سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ ،
سچ کہتے ہیں دانا جو بات کہہ دے پتھر پہ لکیر ہوتی ہے۔ منظور قاضی صاحب نے آپ کے بارے میں جو کچھ لکھا، جسطرح ایک پورا بلاگ آپ کے نام کیا اور ترلوں واسطوں سے آپ کو عالمی اخبار کی شان بلند کرنے پہ آمادہ کیا ، آپ کے موجودہ ، کیونکہ جب میں نے عالمی اخبار کواپنا دستِ بیعت دیا آپ ’چُٹھی ‘ پہ تھیں لہذا اس سے پہلے آپ یعنی آپ کی سوچوں سے آگاہی نہ تھی، تبصرے پڑھ کر یقین ہوگیا کہ آپ واقعی اُن خیالی توقعات سے بھی بڑھ کر ہیں۔اللہ کریم ہمیں ایسے بیباک لوگ ان گنت عطا فرمائے جو لوگوں کے سوئے ضمیر بیدار کریں۔
موجودہ بحث بہت زیادہ سیاسی ہوتی جا رہی ہے ۔ سیاسی اور مذہبی بحث میں کوئی مطمئن ہوجائے یا دوسرے کو کر دے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آپ نے تو شروع میں ہی کہہ دیا کہ آپ کی کسی بھی پارٹی سے کوئی سیاسی وابستگی نہیں اور آپ کی بحث اور دلائل بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ جبکہ محترم قاضی صاحب اور محترم جعفری صاحب کی وابستگی اور وفاداری کی بنا پر ان کی جوابی بحث پارٹی کے دفاع سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتی۔
میں بھی آپ ہی کی طرح مکمل غیر سیاسی ہوں اور اس بات پہ مکمل یقین رکھتا ہوں کہ ملک کی سب پارٹیوں کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں تاکہ بہتر سے بہترین قیادت سامنے آئے جو عوام کو ایک ماڈل حکومت دے سکے۔ایم کیو ایم بدقسمتی سے ملکی سطع پر اپنا تشخص ابھارنے میں ناکام ہی ہوئی ہے۔ کسی پہ الزام تراشی محض حقیقت سے آنکھیں چرانا ہی ہوگا۔
یہ پارٹی، بلکہ پریشر گروپ کہنا زیادہ مناسب ہوگا، مہاجر قومی موومنٹ کی حیثیت سے ابھری۔ جب ملکی سطع پہ پذیرائی نہ ملی، الٹا تنقید کی زد میں آئی، تو متحدہ بن گئی۔ نام بدلنے سے بھی کام نہ بنا کیونکہ ایجنڈا یا منشور وہی پرانا ہی رہا یعنی دہشت پھیلائو اور حکومت کرو۔
کراچی کے امن و سکون کو غارت کرنے میں پہلا پتھر مارے والی خود یہی پارٹی ہے۔ بھتہ سسٹم، اغوا برائے تاوان، عقوبت خانوں، شہر میں مورچہ بندیوں، سندھیوں، پٹھانوں اور پنجابیوں سے باری باری پنجہ آزمائی، بوری بند لاشوں کے تحفے، معصوم لوگوں کو زندہ جلانے جیسے گھنائونے جرائم، اور رنگ و زبان کے نام پہ قتل عام سب اس کے سیاہ کارنامے ہیں جو زباں زدِ عام ہیں جن کا کسی صورت کوئی جواز نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔
اپوزیشن میں بیٹھنا بھی انہیں گوارا نہیں اور حکومت میں رہ کے بھی گذارہ نہیں۔ آمریت ہو یا جمہوریت، مسلم لیگ ہو یا پیپلز پارٹی۔ یہ حکومت کی گود میں بھی ہوگی اور اپوزیشن کی صفوں میں بھی ۔ دن کو ٹائی باندھ کر حکومت میں،سورج ڈوبتے ہی نقاب پوش دہشت گرد اور سحر ہوتے ہی واویلا بھی کہ لُٹ گئے، مارے گئے، بچائو، چھڑائو۔ یہ ہے ان کی سیاست اور عوام میں امیج۔
قادیانی جماعت کے بعد یہ واحد پارٹی ہے جو برطانوی سامراج کی شہہ اور اس کی ایجینسیوں کی نگرانی میں ایک طے شدہ پالیسی پہ عمل پیرا ہے۔ لندن سے گھنٹوں ٹیلیفونک خطاب عوام کے درد میں نہیں بلکہ اپنے گھمنڈ اور طاقت کو ظاہر کرنے کے لئے ہوتے ہیں تاکہ اپنے آقائوں کو خفیہ پیغام دیا جا سکے کہ کراچی اور حیدر آباد کے اصل وارث ہم ہی ہیں۔
کراچی سے خیبر تک اگر کہیں کسی نل سے پانی آنا بند ہوجائے تو پیر سائیں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ جب تک اخباری بیان نہ جاری کریں چین نہیں ملتا لیکن ملکی دفاع و سلامتی پہ ہزاروں سازشیں ہوں، لاکھوں خطرات منڈلائیں، اِین جناب ٹس سے مس نہیں ہوتے۔امریکہ اور برطانیہ کی خوشنودی میں طالبان کا واویلا ہر وقت لیکن بھارت کا کبھی بھولے سے بھی نام نہیں !
بحث میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ مہاجروں کو حقوق دلوانے کی خاطر بنائی گئی۔ تو جناب پہلی بات تو یہ کہ پاکستان میں کوئی مہاجر نہیں۔ اردو سپیکنگ لوگ اگر خود ہی یہ رٹ نہ چھوڑیں تو اور بات ہے ورنہ تمام لوگوں کو یکساں حقوق اور مواقع حاصل ہیں بلکہ اردو سپیکنگ کمیونیٹی سب سے آگے ہے۔ انہی میں سے چار تو آرمی چیف بنے جن میں سے دو نے ملک کو آمریت کا سیاہ دھبہ لگایا اور دس سے گیارہ سال قبضے میں رکھ کر اپنے ادوار میں حتی الوسع ایم کیو ایم کو تقویت بخشی ، نہ صرف سیاسی بلکہ سرکاری اسلحہ دے کر عسکری بھی۔
ایم کیو ایم اگر تو کراچی اور حیدر آباد تک محدود رہ کر صرف اردو سپیکنگ طبقے کی ہی نمائیندگی کرنا چاہتی ہے تو اور بات ہے ورنہ اسے تعصب کے بت توڑ کر پورے ملک کے استحصال زدہ طبقے کی خاطر کام کرنا چاہیے اور اپنے تشخص پہ لگے دہشتگردی کے داغ دھونے چاہیں جس کے لئے نئی اور مقامی قیادت کی ضرورت ہے نہ کہ برطانیہ کے طفیلی پناہ گزیں برٹش مہروں کی۔
میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ میرے علاوہ پاکستانی اکثریت کی سوچ ہے ۔ اس میں اگر کسی کی بھی دل آزاری ہوئی تو معافی کا درخواست گذار ہوں۔ میں اپنی رائے کے علاوہ مزید کسی بحث میں نہیں پڑھنا چاہتا۔
جاوید اقبال کیانی صاحب کے اس بلاگ کے موضوع پر سیر حاصل تبصرے سے بہت ساری یک طرفہ معلومات حاصل ہوگئیں۔
وہ “ کسی کے بھی دل آزاری ہوئی ہو“ تو معافی بھی مانگتے ہیں مگر ایسی بات بھی لکھد یتے ہیں جس سے کسی کی دل ازاری ہوجائے ۔
ان کا یہ کہنا کہ :
“جبکہ محترم قاضی صاحب اور محترم جعفری صاحب کی وابستگی اور وفاداری کی بنا پر ان کی جوابی بحث پارٹی کے دفاع سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتی۔“
افسو س صد افسوس کہ مجھے ریٹآیرڈ میجر جاوید اقبال کیانی صاحب جیسے سلجھے ہوئے اور حق گو و بے باک مبصر اور بلاگ نگار سے اس قسم کی یک طرفہ بات کی امید نہیں تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں شروع ہی سے کہ چکا ہوں کہ میرا پاکستان کی کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیںہے اور نہ میں کسی پارٹی کی دفاع کررہا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنے تبصروں میں اپنی کراچی کی زندگی کے حالات لکھ چکا ہوں اور یہ بھی لکھ چکا ہوں کہ میرا بھتیجہ نظام قاضی کسی شیطان کی گولی کا نشانہ صرف اس لیے بنا دیا گیا کہ وہ معصوم تھا اور وہ بھی کسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔
۔۔۔
میں پاکستان سے اس وقت باہر نکلا ہوں جب کہ الطاف حسین پیدا بھی نہیں ہوا تھا اور مہاجر قومی مومنٹ اور متحدہ قومی مومنٹ جیسی اصطلاحات ایجاد ہی نہیں ہوئے تھیں ۔۔
میں کراچی کو روشنی کے شہر نام سے جانتا تھا ۔ اب وہ کراچی دوزخ بن گئی ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں اور ایم کیو ایم کیوں وجود میں آئی اور اس نے کراچی کے لیے کیا اچھا اور برا کیا اس کے متعلق کوئی غیر جانبدار مورخ ہی بہتر لکھ سکتا ہے۔ ( جاوید اقبا ل کیانی صاحب نے اپنے تبصرے سے یہ ظاہر کردیا کہ وہ غیر جانبدار مورخ نہیں ہیں ۔ اگر وہ غیر جانبدار ہوتے تو تصویر کے دونوں رخ پیش کردیتے )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے تو چند سوالات سب کے سامنے اور خاص طور پر سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کے سامنے پیش کئے تھے جن کےجوابات کی مجھے تمنا تھی ۔ اور ابھی تک ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاوید اقبال کیانی صاحب کے تبصرے کا جواب تو ایم کیو ایم پارٹی کا کوئی معتبر رکن ہی دے سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظفر جعفری صاحب کے کہنے کے مطابق انکے رشتہ دار اس ایم کیو ایم پارٹی کے سرگرم اور انتہائی معتبر رکن ہیں ، اگر وہ اس بلاگ کو پڑھ رہے ہیں تو انہیں اپنی دفاع میں ضرور جاوید اقبال کیانی صاحب کے لگائے ہوئےتمام الزامات کا جواب دینا پڑے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلتے چلتے ایک اور سوال ذہن میں آرہا ہے کہ :
کیا کراچی کی پولس ایم کیو ایم جماعت کے ماتحت ہے ( تھی ) ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہر حا ل : نہ جاوید اقبال کیانی صاحب اپنے اس یک طرفہ اور جانبدار تبصرہ پر بحث کرنا چاہتے ہیں اور نہ مجھے کمپیوٹر کی سہولت ملی ہے۔ اس لیے میں بھی اپنے اس تبصرے کو یہیں ختم کرتا ہوں۔
فقط
اللہ کی رضا پر راضی
منظور قاضی
جرمنی سے
جناب جاوید اقبال کیانی صاحب کا یہ دعویٰ کہ :
“میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ میرے علاوہ پاکستانی اکثریت کی سوچ ہے“
جناب جاوید اقبال کیانی صاحب کی خوش فہمی کا آئینہ دار ہے۔
پاکستان سے باہر بیٹھ کر ایسی باتیں کرنا خوشی فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔
السلام علیکم
سب سے پہلے تو جعفری صاحب مجھے بے حد افسوس ہے کے آپ کے گھر سے جنازے اٹھے وہ بھی اس تنظیم کی خاطر اٹھے اس پر تو شاید آپکو فخر ہو مگر مجھے دل سے بہت دکھ ہے ۔
جیسا کے جعفری صاحب آپ نے کہا کے میں غلط کو سہی اور سہی کو غلط کہ رہی ہوں تو اگر میں ایسا کر رہی ہوں تو پلیز ثابت کردیں یہ بلاگ ہے یہاں سب اپنی رائے دے رہے ہیں آپ بھی میرے ہی سوالوں کا جواب میرے منہ پر دے ماریں کے ماریہ صاحبہ آپ جو بکواس کر رہی ہیں وہ غلط ہے اصل حقیقت یہ ہے تو میں سر عام اپنی غلطی بھی تسلیم کروں گی اور کھلے عام مافی بھی مانگوں گی۔
آپ بس ثابت تو کریں یہ کون سا طریقہ ہے کے آپ گھما پھرا کر بات کر رہے ہیں اور مجھے ہی کہہ رہے ہیں کے اپنی فضول کی باتوں کو آسمانی صحیفہ کی طرح پیش کر رہی ہوں؟
آپ ثابت کریں نا کے کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ میں ایم کیو ایم ملوث نہیں ؟
آپ یہ ثابت کریں نا کے ایم کیو ایم کا کارکن کھلے عام اسلحہ کی نمائش نہیں کرتا؟
آپ یہ ثابت کریں نا کے کراچی کی عوام کو ایم کیو ایم سے ہمدردی سے ذیادہ خوف نہیں ہے ؟
آپ یہ ثابت کریں نا کے ایم کیو ایم کراچی میں صرف اپنی دادا گیری نہیں چاہتی بلکہ ہر ایک کو اسکا حق حاصل ہے ؟
آپ یہ ثابت کریں نا کے ایم کیو ایم جب سے اقتدار میں آئی ہے تو جو لڑکے اس جنگ میں مارے گئے انکے گھر والے اب خوشحال ہیں اور اقتدار میں آتے ہیں وہ لڑکے جو اس جماعت کے لئیے مسلح جدوجہد (بدمعاشی) کر رہے تھے آج وہ سب بر سر روزگار ہیں اور انکے گھرانے خوشحال ہیں؟
آپ یہ ثابت کریں نا کے ایم کیو ایم نے نوجوان نسل کے ہاتھ سے اسلحہ لے کر کتابیں اور روزگار کی طرف راغب کیا ہے ؟
معاف کئیجئے گا جعفری صاحب یہ تو کچھ بھی نہیں ایسے سیکڑوں سوالات ہیں آپ بس انہی کا جواب دے دیں تو میں قسط وار اور بھی پوچھونگی ۔
میں مانتی ہوں آپ کے عزیز اس جماعت میں ہیں اس لئیے آپ کو بھرپور سپورٹ بھی ملتی ہوگی اسی جماعت سے اور ظاہر ہے جس کی کھاو اسی کی گاؤ یہ تو نظام ہے ذمانے کا
مگر گانے کے ساتھ ساتھ دلائل بھی کسی چڑیا کا نام ہے ؟
آپ کی اس بات سے میں سو فیصد متفق ہوں کے ۔۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی ہر سیاسی جماعت میں Pro MQM groups موجود ہیں جو ایم کیو ایم کی اہمیت کا دم بھرتے ہیں۔ کسی بھی جمہوریت کے علمبردار کو قائل کرنے کیلئے یہ بات کافی ہے
مگر اس کی وجہ بھی جان لیں یا پھر اگر آپ جانتے ہیں اور جان بوجھ کر یہاں نہیں لکھ رہے تو میں بتا دیتی ہوں کے اس کی وجہ صرف یہی ہے ہر پاکستان کی۔لفظ پاکستان اس لیے لکھا کے پاکستان کی جمہوری پارٹیوں کو اور وہاں پر آنے والی جمہوریت کو سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ہر سیاسی جماعت ایم کیو ایم کا یہ طرز اس لئیے اپنا رہی ہے کیونکہ سب کو یہ فارمولا پتہ چل گیا ہے کے اگر حکومت کرنی ہے تو ایم کیو ایم کی طرز پر اپنی پارٹی چلاؤ ڈراو ۔دھمکاؤ اور اپنے انڈر میں رکھو مختصر یہ کے مڈل کلاس کی ماڈرن وڈیرہ شاہی۔
اس کی مختصر مثال آپکے کراچی میں قائم یونٹ سیکٹر اور نائن زیرہ ہیں ۔ اب آپ ان جگہوں کو کعبے کے برابر رتبہ مت دے دیجئے گا کیونکہ سب جانتے ہیں وہاں کیا ہوتا ہے۔ کس طرح کوئی غریب انکے ہاتھ چڑھ جائے تو ڈرا دھمکا کر اپنے منہ چڑہے بندوں کے کام نکالے جاتے ہیں۔
بہت باتیں ہیں جعفری صاحب آپ جواب تو دینا شروع کریں۔ قائل تو کریں یہ نا کریں کے میری باتوں کو درگزر اور سنی سنائی چھوٹی سچی جیسے القابات دے کر بات تبدیل کر دیں
مطلب کی بات کریں جو سوالات ہیں انکے جواب دیں مجھے یہ سوچ کر قائل کریں کے جیسے آپ کے اوپر واجب ہے مجھے قائل کرنا
اور میں بھی یہاں خدا کو حآظر جان کر یہ حلف لیتی ہوںکے اگر آپ نے مجھے میرے سوالوں کے جواب دے کر قائل کر لیا تو اسی عالمی اخبار پر میں معزرت کا بلاگ لگاونگی اور وہ معافی آپ سے نہیں ایم کیو ایم سے مانگونگی مگر شرط یہ ہے کے سوالوں کے سہی اور سچے جواب دے کر قائل کریں
دعا گو۔
آپکی بیٹی جیسی
ماریہ علی
السلام علیکم قاضی صاحب
معاف کئیجئے گا قاضی صاحب یہاں کسی بھی بات کو ہم میں سے کسی کو بھی اپنی ذات پر لے جانے کی ضرورت نہیں۔یہ ایک بحث ایسی ہے جو میرے خیال میں جس میں کچھ سخت الفاظ بھی استعمال ہو سکتے ہیں اس لئیے ہر ایک کی عزت اپنی جگہ مگر یہاں کی بحث کی اہمیت اپنی جگہ
آپ مجھ سے جواب کی امید تو جب رکھیں جب آپ میرے سوالات کے جواب دے دیں؟:)
ابھی تو میرے ہی سوالات کے جوابات نہیں ملے تو میں آپکو آپکے سوالات کے کیا جواب دوں؟
۔۔۔۔۔۔
ساتھ ہی ساتھ کیانی ساحب میں آپکی بات سے سو فیصد اس لئیے متفق ہوں کیونکہ میرے بھی یہی سوالات ہیں اور یہاں ان سوالات کو دفن کر کے باتوں کو کہیں سے کہیں لے جایا جا رہا ہے۔
مگر میں اپنی بات پر اس لئیے قائم ہوں کیونکہ میں کوئی بد تمیزی نہیں کر رہی بلکہ میرے زہن میں جو سوالات ہیں وہ لکھے ہیں اور انکے جواب مانگ رہی ہوں۔۔ ہو سکتا ہے کے میں سو فیصد غلط ہوں ؟
مگر مجھے غلط ثابت کرنے کے لئیے بھی جواب تو چاہئے نا ؟نا کے ادھر ادھر کی باتیں کر کے الٹا مجھ سے ہی سوالات کر کے بات کا رخ تبدیل کر دیا جائے ؟
میں مانتی ہوں میں بد تمیز ہوں مجھ سے اکثر لوگ یہاں ناراض رہتے ہیں ۔ مگر اظہار رائے کا حق تو سب کو ہے نا ؟ اور اگر میں کسی انسان یا کسی جماعت کے لئیے کچھ غلط لکھ رہی ہوں اور سہی جاننے والے یہاں موجود ہیں تو انکا فرض ہے مجھے روکیں مجھے ٹوکیں اور یہ سمجھائیں کے سچ وہ نہیں جو آپ کہہ رہی ہو بلکہ سچ یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔
مگر یہاں تو انکا سچ سامنے ہی نہیں آ رہا بلکہ الٹا مجھے ہی سنی سنائی باتیں صحیفہ آسمانی وغیرہ وغیرہ جیسی باتیں کر کے بات ہی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
میری حیرت کے لئے یہی کافی ہے کہ ہم یہاں بھی اک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، حالانکہ یہ کوئی پختون و ہزاہ وال اور ایم کیو ایم کی جنگ نہیں ہے۔جہاں تک ناصر کی شہادت کا تعلق ہے تو یہ فرقہ وارانہ قتل تھا، جس کے پیچھے لشکر جھنگوی ملوث ہے۔ ناصر کے جنازہ پر موجود لوگوں نے یہی تاثر دیا تھا، اور یہ قرین عقل بھی ہے۔ وہ اسی لئے کہ باقی مانندہ ملک بھر یں یہی تنظیم اور طالبان مل جل کر جگہ جگہ خون کی ندیاں بہا رہے ہیں، لیکن کراچی میں ان کو کسی مسجد یا منبر تک مؤثر رسائی نصیب نہیں ہو سکی تو ان لوگوں نے یہ راستہ اپنا لیا۔
یہ سراسر غیر ملکی اور ملکی ایجنسیوں کا شاخسانہ ہے، اور ان کاروائیوں کی سربراہی وزیر داخلہ رحمان ملک صاحب خود فرمایا کرتے ہیں۔ کراچی میں عاشورا کے جلوس اور پھر اربعین کے موقع پر جو دہشت گردی ہوئی، اس کے ضمن میں اب تک جتنی قابل یقین معلومات ہیں، میں انکے توسط سے یہی کہ سکتا ہوں کہ خود وفاقی حکومت اس سازش میں شریک تھی۔ اس ضمن میں علامہ حسن ظفر نقوی کی پریس تقریر حقائق سے بھر پور انکشافات کرتی ہے جو انہوں نے شام غریباں کو چھلنی جگر کے ساتھ پیش کی۔ یہ تقریر یو ٹیوب پر موجود تھی۔
ہمیں ہر بات کو خود بخود لسانی و قومی تقسیم کا شکار کر لینے کی بجائے شواہد کی طرف رجوع کرنا چاہیئے۔ ہمیں اس عمومی طریقہء کار کار کو رد کرنا ہوگا جس کا فائدہ ایجنسیاں اٹھا کر ہمیں لڑاتی آئی ہیں۔ ایک قتل ہوا اور اسکی ذمہ داری بیگناہوں پر ڈال کر انکا بھی ایک فرد قتل کردیا جاتا ہے اور یوں یہ آگ در سے در کو لگتی چلی جاتی ہے۔ اس سے جہاں تفریق میں اضافہ ہوتا ہے، وہیں آئندہ کے لیئے چنگارایاں بھی مل جاتی ہیں۔ ہمیں کم از کم اہل قلم کو یہ ذمہ داری نبھانی ہوگی کہ قوم کو بیداری کی طرف لے جائیں اور ایکا کر کے اپنے حقیقی دشمن کا تلاش کریں۔ ہر برائی کی جڑ نہ الطاف حسین ہے نہ صدر زرداری۔ ان میں برائیاں بہت ہونگیں، لیکن ہر معاملہ براہ راست ان لوگوں سے جوڑنے کی بجائے اس کے اصل شاخسانوں کی طرف جانا چاہیئے۔
چونکہ یہ بلاگ مزید بحث کا متحمل نہیں ہے، اس لئے انتظامیہ اس کو یہیں بند کر رہی ہے۔ جو اصحاب قوم کے درد اور مسائل کی نشاندہی کے لئے مزید کچھ کہنا چاہیں تو وہ محترمہ نگہت بہن کے بلاگ موسوم میرے خدا میرا خط ضرور پڑھنا یا عاطف توقیر صاحب کی نظم موت کے ضمن میں تعمیری گفتگو فرما سکتے ہیں اور اگر خواہر عزیز محترمہ ماریہ علی صاحبہ چاہیں تو اصلی موضوع کے اعتبار سے نیا بلاگ شروع کر سکتی ہیں۔۔
اگر کسی کی دل شکنی ہوئی ہو تو ادارہ پیشگی معذرت خواہ ہے۔
والسلام
مصباح جیلانی
ترجمان اخبار