کراچی میں ہونے والی حالیہ ٹارگٹ کلنگ پر ایک تازہ نظم آپ سب کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہی ہوں .. .. اس نظم کو محسوس کیجئے ..
“ٹارگٹ کلنگ ”
میرے خدا ۔۔ میرا خط ضرور پڑھنا ۔۔
گو برسوں پہلے کی بات ہے پر آج شروع سے بتانی ہے
میں پاکستان کے ایک متوسط طبقے کی معمولی سی لڑکی ہوں
نین نقش بھی عام سے اور دو بہنوں سے چھوٹی ہوں
اماں پورے دن سوائے دعا کے کچھ نہیں کرتی
تم پر بہت بھروسہ اور یقین ہے رکھتی
ہر وقت ۔۔ ہم سب سے ہے کہتی ۔۔۔
ہم سب کو بغیر شرطوں کے تم سے محبت ہے کرنی
یوں ہر حال میں تجھ کو ہی اپنا سب کچھ ہے مانتی
بابا ہر روز اپنی معمولی سی نوکری پر جاتے ہیں
پیسے کم امیدیں زیادہ کماتے ہیں
بڑی آپا کو بڑے ہو کر ڈاکٹر بننا ہے ۔۔
ہاں اگر اچھا لڑکا ملا توجلد بیاہ دینا ہے
چھوٹی آپا کو ٹیچر بننا ہے ۔۔
سو اس کوگھر میں ٹیوشن سینٹر کھول کر دینا ہے
پر ۔۔ میری آنکھوں کے خواب الگ تھے
مجھے بھائی چایئے ۔۔ میرے خدا ۔۔ مجھے دے دے نا ایک بھائی
مجھے صرف اس سے کھیلنا ہے ۔۔ بس کچھ اور نہیں کرنا
پھر میری دعا توں نے سن لی اور ہمارے آنگن میں چاند اتر آیا
اماں کی آنکھوں کی چمک آنسوؤں جیسی تھی
بابا کے کندھے پھیلے اور تشکر سے جھک گئے
ہم بہنوں کے ہاتھ تو جیسے جیتا جاگتا کھلونا آ گیا
اور..
بھائی اپنے بچپن میں ہی ہم تینوں سے بڑا ہو گیا
اس کے ننھے ہاتھوں کو تھامتے ہی ڈر دنیا کےجانے لگے
اس کے گھر ہونے سے سارے غم ،خوشیوں میں بدلنے لگے
دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہمارے آنگن کا گھنا سایہ بن گیا
اماں اس کے بغیر کھانا ناں کھاتی تھی
بابا اسے دیکھے بغیر ناں سوتے تھے
بڑی آپا کے کالج کی تفصیل بغیر اس کے ادھوری
چھوٹی آپا کو بازار لے کرجانا بھی بہت ضروری
اور
رہ گئی میں تو میرے خدا ۔۔ توں تو جانتا ہے
میری صبح و شام اس کے دم سے تھی آباد
جس کا تبسم ہی رکھتا تھا میری روح کوشاد
بہنوں کے سرپہ آنچل ،اماں ، بابا کا نورا لعین
ہر خواب مہکتا اسے دیکھ کرمل جاتا دل کو چین
تجھے یا دہے ناں ..
میں نے اس رات ہر پل اس کی حیات مانگی تھی
رو رو کر کئی بار کہا تھا میرے خدا ۔۔
میرا بھائی آج جو گیا تو لوٹ کر گھر نہیں آیا
اماں نے تیری حفاظت میں دیا ہے میرے خدا
اماں کے مان کی لاج رکھنا ۔۔ میرے خدا ۔۔
رات گہری ہو رہی ہے ۔۔ اسے اکیلا نہ چھوڑنا میرے خدا
دیکھودروازہ بجا ہے ۔۔ کون ہے ۔۔ اماں کے پیچھے بابا بھی دوڑے تھے
اماں ۔۔بابا کے پیچھے ہم سب ہی دروازے پہ کھڑے تھے
پولیس والوں میں سے کوئی درشت لہجے میں کہہ رہا تھا
تیرا بیٹا ٹارگٹ کلنگ میں گولیوں سے چھلنی ہو گیا ہے
کہی اس کا تعلق کسی گینگ سے تو نہیں تھا۔۔؟؟
ہائے ۔۔ میرا بھائی صرف میرا بھائی تھا — گینگسٹر نہیں
سیدھا ۔۔سادا۔۔سچا ۔۔معصوم ۔۔ روشن آنکھوں والا بھائی
ہائے میرا بھائی ۔۔۔ ہائے میری دعا ۔۔ ہائے اب کیا کروں
یہ مجھ جیسی ہر بہن کی ہےتجھ سے فریاد ۔۔
میرے خدا ۔۔ تیری دنیا میں اب حیلوں، بہانوں کی شان
بغض وعناد کی اونچی دیواریں..گروہوں میں بٹا انسان
پولیس، تفتیش ، تھانہ ، کچہری ….میرے بابا کا امتحان
یہ کیسا اندھیر ہے..؟ کہ کہی نہ رہی اب سویر ہے
میرے خدا ۔۔ یہ گلہ نہیں .. میرے دل کی باتیں ہیں …
بس ایک بار میرا خط ضرور پڑھنا ۔۔
مجھےتسلی بھرا جواب ضرور دینا ۔۔

باجو۔۔۔۔ میری انگلیاں کانپ رہی ہیں اور لفظ دھندلے ہو گئے ہیں۔ یہ نظم نہیں ہمارے شہر بلکہ پورے ملک کا المیہ ہے۔ مجھے اس نظم میں اپناآپ دکھائی دے رہا ہے۔ اس میں میرا بچپن بھی ہے، زمانہ طالب علمی بھی اور ایک نوجوان شاعر کی حیثیت سے شہر کی گلیوں میں گھومنا پھرنا بھی۔ باجو ہمارے شہر میں ایک ایسا ٹولا آباد ہے، جسے خون پینے کی لت نے آن گھیرا ہے اسے ہے کچھ عرصے بعد خون درکار ہوتا ہے۔ اسی شہر میں حکیم محمد سعید کو مارا گیا، اسی شہر میں صلاح الدین کو قتل کیا گیا۔ اسی شہر میں رئیس امروہوی ہلاک ہوئے، کتنے نام گنواؤں۔۔ میری آنکھیں خشک ہوگئی ہیں مگر انگلیاں ابھی تک کانپ رہی ہیں۔ میں کیا کہوں کہ میرے شہر کے لوگوں کی سوچ مسخ ہو چکی ہے اور میں بھی ہار ماننے والا ہوں۔ میں کیا کہوں کہ میں دھیرے دھیرے ان لوگوں میں خود کو اجنبی محسوس کرنے لگا تھا، شاید اسی اجنبیت مجھے اپنی شناسا گلیوں سے دور لے آئی۔۔ آپ کی نظم بہت اچھی ہے۔ صرف یہ کہنا ہے کہ اگے ہو سکے تو اس لڑکی کو سمجھا دیجے گا کہ اس کے اس خط کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے شاید خدا کے پاس بھی نہیں۔ خوش رہیں ہمیشہ۔۔ عاطف
بہت اعلی!
بہت خوبصورت مکرمی ڈاکٹر نگہت صاحبہ
نظم پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ کوئی غم کی ماری اپنی آپ بیتی سنا رہی ہو جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ صاحب نظم ایک حساس اور دردمند دل رکھنے والی ہیں.
بے شک یہ نوحہ ہے آج ہر بیٹی اپنے بھائی کے لئے، ہر ماں کا اپنے بیٹے کے لئے، ہر باپ کا اپنے بڑھانے کے سہارے کے لئے اور ہر بیگم کا اپنے سہاگ کے لئے جو اس طرح ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو کر بے گناہی کے جرم کی پاداش میں مارا جاتا ہے .
اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ جب اس کو دہشت گردی کے کسی گروہ سے متعلق کر دیا جائے.
اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے .. آمین
جزاک اللہ خیر محترمہ ڈاکٹر نگہت صاحبہ
و السلام
راجہ اکرام
اسلام آباد
نگہت بہن ! . . . زبردست
ٹارگیٹ کلنگ کو ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ کراچی کی پولس مقامی ہو۔ غیر مقامی پولس کراچی کیلئے اپنی جان پر نہیں کھیل سکتی نہ وہ ڈرگ اور لینڈ مافیا کو ختم کرسکتی ہے۔ ڈرگ اور لینڈ مافیا پہلے پولس کی جیب بھرتا ہے پھر اپنا کام کرتا ہے۔ سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ ماشل لاء لگ جائے۔ لعنت ہے ایسی جمہوریت پر جس میں نوبت خانہ جنگی کی آجائے۔ عوام کی عزت اور جان ومال محفوظ نہ ہوں۔
آپا ۔۔بس سمجھ نہیں آ رہا کیا کہوں سب کچھ تو کہہ دیا ہے آپ نے ۔
کاش کوئی ان گھرانوں کا بھی پرسان حال ہو ۔
بجائے اس کے اپنی سیاسی جماعتوں اور اس قتل و غارت گری کو درست ثابت کریں کبھی تو وہ لوگ جا کر ایسے گھرانوں کا بھی احوال لیں۔۔۔ کبھی تو کسی کے بیٹے اور اس سے جڑے ارمانوں کو دفن ہوتا محسوس کریں۔
خود تو بیرون ملک بھاگ جاتے ہیں اور انکے پالتو کتے اپنے لئیے اتنی سیکیورٹی لیکر چلتے ہیں کے پرندہ بھی پاس آ کر پھڑپھڑاتا ہے تو خوف سے کانپ جاتے ہیں ۔
اور ہماری مظلوم عوام جانے انجانے ان بزدل آدم خور سیاست دانوں کی بھیٹ چڑہتی ہی رہتی ہے ۔کاش یہ سلسلہ کبھی بند ہو۔۔آمین
بہت اچھی نگہت جی
مجھے یہ ایک نظم تو لگی ہی نہیں .مجھے لگا میں ہی چیخ چیخ کر سب کو کہہ رہی ہوں .یہ ایک بہن کی نہیں سب بہنوں کی پکار ہے .ہمارے ملک کا نظام بنانے والے تو بہرے ہیں .وہ صرف حکم دہتے ہیں .اس چیخوں و پکار سےانہیں کیا لینا دینا.ہر روزٹارگٹ گلنگ میں اضافہ ہی ہوا ہے .انہیں کبھی اندازہ ہوا کہ ٹارگٹ کیلنگ کا شکار ہونے والے گناہ گار نہیں تھے؟ .کاش اُن گھروں کی درو دیواروں کے قریب سے کبھی گزر کر دیکھیں .انہیں اندر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی .اُن سب کی سسکیاں انہیں باہر بھی سنائی دیں گی.مگر وہ اتنی تکلیف کہاں کریں گے .
اس نظم کی لڑکی کو شاید معلوم نہیں کہ وہ پہلے سوالوں کا جواب ہی نہیں دے پائے .جن کو اسی طرح سَرے عام قتل کیا گیا .قاتلوں کے نام سب جانتے ہیں مگر زبان سے ہونٹوں تک نہیں لا پائے .تو اس بچاری لڑکی کے چند لفظوں کا جواب کس کے پاس ہو گا …..اس معصوم کو ذ را سمجھا د و …..ہم گونگے اور بہرے ملک کے باسی ہیں……
نگہت جی اتنا خوب صورت اظہار جس کہ لفظوں نے ہلا د یا …اپنا خیال رکھئے گا .
باجی السلام علیکم
نظم بہت خوبصورت اور حقیقت حال کی مکمل عکاسی کرتی ہے
یہ دراصل نوحہ ہے
ہمارے شہر ملک اور امت کے ان افراد کا
جن کے پیارے
دہشت گرد درندوں کے ہاتھوں بچھڑ گئے
یہ وہ المیہ کہانی ہے
جس کے
کردار ایک محبت کرنے والی بہن
ایک پیار کرنے والا بھائی
ایک ممتا کی ماری دکھیاری ماں
اور
ایک شفیق باپ کی ہے
جنہوں نے اپنے
لزرتے ہوئے ہاتھوں
سے اپنے
جگر کے ٹکڑے کو
لحد کے سپرد کیا ہے
آج اس کہانی کے کردار
ہمارے اردگرد بھکرے
ہم سے اپنے پیاروں کا خوں بہاطلب کرتے ہیں
اپنے غموں اور دکھوں کا مداوا چاہتے
کوئی ہے جو
ان کے دکھوں کو کم کرے
کوئی ہے جو
ایک بہن کے سپر پر ہاتھ رکھے !
ایک بھائی کو بھائی کا احساس دے !
ایک ماں کو اس کا پیارا لوٹادے !
ایک باپ کو اس کا سہارا واپس کردے؟
اے میرے خدا
توہی کچھ کر
کیوں تو ہی اس بات پر قادر ہے
انصاف کر انصاف کر
اور ایسا انصاف کر
جو تیری شان کریمی کے لائق ہے
پیاری نگہت ،نظم میں پروے ہوئے تمہارے خیالات ایک درد بھرا نوحہ ہیں۔
یہ اب کسی اکیلے فرد کا نوحہ نہیں رہا بلکہ یہ کورس کی شکل اختیار کر چکا ہے بلکہ ہمارا قومی نوحہ بن چکا ہے۔
خدا کے نام خط لکھنا یا تو بے بسی کی انتہا ہوتی ہے یا توکل کی
توقیر میرے اچھے بھائی .. میں جانتی ہوں تم نےکن حالات میں پاکستان کو چھوڑا تھا .. اللہ پاک تمہیں امن و سکون عطا کرے اور ہر مشکل سے دور رکھے … آمین
راجہ بھائی یہ نوحہ ہم سب کا ہے اور جس سے فریاد ہے وہ بھی ہم سب کا ہے .. .. کوئی راہ ضرور نکلے گی .. یہ میرا دل کہتا ہے .. انشاللہ ..
مناف بھائی .. بہت شکریہ … دعاؤں میں یاد رکھئے گا ..
ظفر بھائی کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ مسلمان کسی غیر مسلموں کے پیچھے نہیں ہے اور نہ ہی انہیں جان سے مارتے ہیں بلکہ مسلمان تو مسلمان کو مار رہا ہے .. ایسے میں مقامی اور غیر مقامی پولیس کا ہونا نہ ہونا سب ایک برابر ہے .. جب کسی کے پاس جان و مال کی حفاظت کا بنیادی نظریہ ہی نہیں ہے وہ جانور کیا کریں گے … وردیوں میں دہشت گردی کریں یا کرسیوں پر حکومت … مسلہ تو بنیاد کا ہے …
فرخندہ سب سے پہلے تو بلاگ پر آنے کا شکریہ … پھر خوش آمدید .. جی آیاں نوں …. یہ بات سچ کہی کہ ہم گونگے بہروں کی دنیا کے باسی ہیں .. لیکن اتنی خاموشی اچھی نہیں … کہ یہ کل ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے … بس اسے ہی روکنا ہے .. جیسے بھی .. قلم سے ..زبان سے .. کیسے بھی ..
احمد بھائی .. آپ نے میرے دل کی بات کی ہے ..
اے میرے خدا
توہی کچھ کر
کیوں تو ہی اس بات پر قادر ہے
انصاف کر انصاف کر
اور ایسا انصاف کر
جو تیری شان کریمی کے لائق ہے
آمین
عرشی آپا …. میری خوش نصیبی کہ آپ کے چند لفظ مجھے عطا ہوئے .. تہہ دل سے ممنون ہوں ..
آپ نے بہت پیاری بات لکھی … خدا کے نام خط لکھنا یا تو بے بسی کی انتہا ہوتی ہے یا توکل کی .. سچ پوچھیں تو آپا یہ خط دونوں کیفیتوں سے گندھا ہوا ہے ..
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے ایک بہن کا نوحہ بہت ہی دردناک طریقہ سے قلم بند کرکے مجھے اپنے بھتیجے نظام قاضی شہید کی یاد دلادی ۔ جس کی بیوہ اپنے تین بچوں کے ساتھ رو رو کر اللہ سے یہی کہتی ہے کہ “ مرےخدا : میرا خط ضرور پڑھنا “ ۔۔
اس نظم نے مجھے سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کے بلاگ کے ناصر شہید کی یاد دلادی ۔
اور شاہین رضوی صاحبہ کے چچا زاد بھائی افسر عباس رضوی شہید کی یاد دلادی ۔
یہ اور ان جیسے شہیدوں کو اللہ بخشے جوصرف اس لیے شہید کردیے گئے کہ انکی خطا کوئی نہیں تھی۔ وہ تو کسی کے لینے میں تھے نہ دینے میں ۔ وہ سب معصوم خاموشی سے اپنے خاندان کی ذمہ داریا ں پوری کررہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکیم سعید اور رئیس امروہوی نے کسی کو کیا نقصان پہنچایا تھا؟ انہیں کیوں شہید کردیا گیا ؟
افسوس صد افسوس کہ کراچی کا شہر دوزخ بن گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نظم پر اب تک جتنے تبصرے ہوئے ہیں میں ان سب سے متفق ہوں۔ خاص طور پر عاطف توقیر صاحب کے تبصرے سے جس میں انہوں نے میرے حالات اور جذبات کی ترجمانی بھی بڑے موثر انداز میں کردی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ انتہائی حساس دل رکھتی ہیں انہوں نے اپنی نظم میں ان تمام معصوم بہن بھائیوں، اور والدین کے جذبا ت کی عکاسی بہت ہی دکھ بھرے لہجے میں کردی ہے جن پر یہ قیامت ٹوٹی ہے۔
۔۔۔
فقط:
منظور قاضی
میونخ جرمنی سے
منظور بھائی میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے وقت نکال کر اس مشترکہ غم میں شرکت کی .. اور سب کے لئے حوصلے کا باعث ہوئے .. سلامت رہیں بھائی ..
ماریہ یہ نظم تمہارے لکھے ہوئے بلاگ کے بغیر ممکن ہی تھی .. اس کی تحریک تمہارا بلاگ ” یہ کس کا خوں بہایا جا رہا ہے ؟ ” ہی ہے .. سو اس غمگساری کے لئے تمہاری ممنون ہوں .. اللہ پاک ہم سب کو ہر غم سے دور رکھے … ہم اس کی آزمایئشوں کو نہیں سہار سکتے .. ہم بہت کمزور دل اور ایمان والے ہیں .. اے دونوں جہاں کے مالک .. پاک رب ہماری مغفرت فرما … ہماری مدد فرما .. آمین
تجھے یا دہے ناں ..
میں نے اس رات ہر پل اس کی حیات مانگی تھی
رو رو کر کئی بار کہا تھا میرے خدا ۔۔
میرا بھائی آج جو گیا تو لوٹ کر گھر نہیں آیا
اماں نے تیری حفاظت میں دیا ہے میرے خدا
اماں کے مان کی لاج رکھنا ۔۔ میرے خدا ۔۔
رات گہری ہو رہی ہے ۔۔ اسے اکیلا نہ چھوڑنا میرے خدا
یہ نوحہ کہیں سچ بج کر گھروں سے بین بن کر اٹھ رہا ہے تو کہیں اسکا خوف خون سکھائے جاتا ہے۔ خدا اس مملکت کو دشمنوں کی نظروں سے بچائے۔ میری نظر میں یہ کوئی ٹارگٹ کلنگ وغیرہ نہیں، بلکہ کراچی جیسی جگہ میں دہشت گردوں کی ناکامی کے سبب بیرونی و اندرونی ایجنسیوں کا متبادل رستہ ہے۔
مصباح بھائی آپ نے تو میرے دل کے خدشات کا زکر کر دیا .. .. مجھے بھی ہشت گردوں کی ناکامی کے سبب بیرونی و اندرونی ایجنسیوں کا کوئی متبادل رستہ ہی لگتا ہے .. بھلا یوں بھی کوئی مسلمان ، مسلمان کو مار سکتا ہے .. یا اللہ …
محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ،
اے اللہ میاں اس خط کا جواب عطا فرما، ملکِ پاکستان پہ مزید مہربانیوں، عنائیتوں اور اس ملک میں امن و سکون کی صورت میں اور اس ملک کو ایسے حکمران عطا کر جو ہر ہم وطن کی خود اپنی اولاد کی طرح حفاطت کریں :
کیوں آنکھ ہوئی ہے بند اپنی، کیوں ہو گئے کان سے بہرے بھی
یہ دوش میں آخر دوں کس کو، جو اٹھ گئے سارے پہرے بھی
وہ جن پہ ہمیں تھا ناز اتنا، کیوں آج وہ خاموش ہوئے
چھائی خطرے کی گھٹا اب یوں ایسے ، ہوگئے سائےجو گہرے بھی
یہ وقت نہیں خاموشی کا ، تم ’ارجنٹ‘ سے کچھ بولو
اے ملک کے حکمرانو، تم ’ٹین پرسنٹ‘ تو بولو
جاوید بھائی ..آپ کی ہر ہر دعا پر آمین …
ویسے تو میں اسوقت نیو جرسی میں ہوں لیکن موجود کہیں اور ہوں. روح اور جسم کا مسلہ یہی ہے. اس خط کو پڑھ تو اسی وقت لیا تھا جب شائع ہوا تھا اور میری اطلاعات کے مطابق یہ خط اللہ میاں کو موسول بھی ہو گیا ہے. وہاں تو بے رنگ چٹھی بھی ڈالو تو پہچ جاتی ہے. اس خط کا جواب کیا اللہ میاں دیں گے یا دے پائیں گے. میں شاید آپ میں سے بہت کے نزدیک غلط ہوں لیکن بس جیسا ہوں قبول کیجئے . ہم مسلمانوں کو صدیوں سے ایسے بے عمل فقروں کے حصار میں مقید کر دیا گیا ہے جن سے عمل جامد ہو گیا اور تفکر تنزل کے باب میں آگیا. اللہ میاں تو علیم و بصیر ہے.وہ تو کسی شے کے ہون جانے سے پہلے سے بھی اسے جانتا ہے. اسے جب سب معلوم ہے تو یہ خط لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی. بتایا تو اسے جاتا ہے جسے معلوم نہ ہو. اطلاع اسے دی جاتی ہے جو بے خبر ہو.وہ تو علیم وخبیر بھی ہے.
میں اس امریکہ بہادر کے جس شہر میں آیا ہوں یہاں کے گھروں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ کراچی میں لالو کھیت اور بمبئی میں جھونپڑیوں میں رہنے والوں کی پچھلی ستر پشتوں نے کونسا ایسا قصور کیا تھا جسکی سزا انکی بے گناہ نسلوں کو مل رہی ہے اور ملتی رہے گی.
میں مانتا ہوں کہ ڈاکٹر نگہت صاحبہ کی یہ نظم کوئی ادبی شاہکار نہیں اور نہ ہی انہوں نے لٹریچر ماسٹر پیس کے طور پر لکھی ہے.انہوں نے اپنی فکر کی ترسیل کے لیئے اس ہیئت کو مناسب سمجھا ہے. یہ نوحہ ہے یا مرثیہ، بس اسی میں الجھا ہوا ہوں. دو دن سے یہی سوچ رہا ہوں کہ اسمیں کیا اضافہ کرؤں،اس پر کیا تبصرہ کرؤں
یہ تو خود ایک تبصرہ ہے تو تبصرے پر کیا تبصرہ کیا جائے.
مولائے متقیان علی ابن ابی طالب کا قول ہے کہ جاننے کا دکھ نہ جاننے کے دکھ سے بہت شدید ہے.
ڈاکٹر نگہت نسیم اسی جاننے کے دکھ میں مبتلا ہیں.
،،،،،،،،،،،،،،
اے خدائے علیم و بصیر
اے رحم مادر میں ایک بدبودار سیل سے انسان کی تخلیق کرنے والے
اے دلوں کے بھید سے آشنا
اے ہواؤں کو چلنے کی قوت اور سمندروں کو روانی کا سلیقہ سکھانے والے
مجھ سے میری سماعت واپس لے لے اگر تو غفور و رحیم ہے
میں اپنے ارد گرد جھوٹ سن سن کر اس قوت سماعت سے بیزار ہو گیا ہوں
بس تیرے رحیم ہونے کے لیئے یہ ہی کافی ہے کہ مجھے بے بہرہ نہیں لیکن ہاں بہرہ بنا دے
اے علیم و بصیر پروردگار
مجھ سے میری بینائی واپس لے لے
میں یہ کریہہ مناظر دیکھ دیکھ تھک گیا ہوں
دین فروش، انسان کش، جابر اور ظالم سکون میں ہیں
اور تیرے حضور سجدہ شکر ادا کرنے والا مسجد میں بھی نہیں جا سکتا.
اے اللہ لگتا ہے کہ ان ظالموں جابروں ھے تجھے بھی تیرے گھر سے بے گھر کر دیا ہے
اسی لیئے شاید عبادت گاہیں غیر محفوظ ہو گئی ہیں
اے رحیم و کریم
تجھ سے رحم اور کرم کی بھیک چاہتا ہوں
رحم کر اے کہ تو سب سے زیادہ رحیم ہے
بس اتنا رحم
کہ
آنے والی نسلوں کو اس جہان میں آنے سے پہلے رحم مادر میں ہی ختم کر دے
تا کہ یہ حالات کا رزق بننے سے بچ جا ئیں ..
بابا مجھے خوشی ہے کہ آپ نے میری نظم پر تبصرہ بھی نظم کی صورت میں کیا .. مجھے دکھ ہے کہ آپ کی دعا پر آمین نہیں کہہ سکونگی کہ میں ابھی مایوس نہیں ہوئی ہوں .. مجھے یقین ہے کہ جہاں کچھ لوگ توڑنے والے ہوتے ہیں وہاں کچھ لوگ جوڑنے والے بھی ہوتے ہیں … میرا دل کہتا ہے کہ وہ وقت قریب تر ہے … رات کا آخری پہر ہے .. بس گزرا ہی جاتا ہے ..
بھائی اپنے بچپن میں ہی ہم تینوں سے بڑا ہو گیا
اس کے ننھے ہاتھوں کو تھامتے ہی ڈر دنیا کےجانے لگے
اس کے گھر ہونے سے سارے غم ،خوشیوں میں بدلنے لگے
دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہمارے آنگن کا گھنا سایہ بن گیا
اماں اس کے بغیر کھانا ناں کھاتی تھی
ماشااللہ پیاری نگھت نسیم صا حبہ اپ کی نظم بہت اعلی ہے لیکن یہاں تو میں اپنے جزبات پر قابو نہ رکھ سکی
بہت پیاری بہن اور عزيز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم ۔۔سلامت رھو ۔۔ اور ھمارے دکھوں کو لفظوں کےقالب میں ڈھالتی رھو۔میرے خدا۔۔۔ بھلا کب کوئ ماں چاھے گی کہ اتنے ارمانوں سے محنت و محبت سے پالا ھوا اس کے دل کا چین باپ کی پیری کاسہارا بہن کا مان کوئ جواں سال لڑکا گھر سے ماں کی دعا لیکر نکلے اور ابلیس کے چیلے اس کو موت کی گہری نیند سلادیں ، آہ اس شہر ميں جگہ جگہ موت رقصاں ھے ، کتنے گھروں کے چراغ بجھہ گئے ھیں اور وہ راج دلارے مان باپ کی انکھوں کے تارے۔ کہاں گئے ؟ وہ جن کو دیکھہ کر جوانی ناز کرتی تھی ۔ وہ جوان گھروں کو ویران کرکے کہاں گئے ،، اس شہر کی کوئ ماں اب چین سے نیہں سوتی اب دل دکھہ رھا ھے اور انکھیں ۔۔یہ نوحہ پڑھ کر کونسی آنکھہ نم نیہں ھوگی ۔
۔۔ اماں کے مان کی لاج رکھنا ۔۔ میرے خدا ۔۔
رات گہری ہو رہی ہے ۔۔ اسے اکیلا نہ چھوڑنا میرے خدا
دیکھودروازہ بجا ہے ۔۔ کون ہے ۔۔ اماں کے پیچھے بابا بھی دوڑے تھے
اماں ۔۔بابا کے پیچھے ہم سب ہی دروازے پہ کھڑے تھے
پولیس والوں میں سے کوئی درشت لہجے میں کہہ رہا تھا
تیرا بیٹا ٹارگٹ کلنگ میں گولیوں سے چھلنی ہو گیا ہے
کہی اس کا تعلق کسی گینگ سے تو نہیں تھا۔۔؟؟
ہائے ۔۔ میرا بھائی صرف میرا بھائی تھا — گینگسٹر نہیں
سیدھا ۔۔سادا۔۔سچا ۔۔معصوم ۔۔ روشن آنکھوں والا بھائی
ہائے میرا بھائی ۔۔۔ ہائے میری دعا ۔۔ ہائے اب کیا کروں
یہ مجھ جیسی ہر بہن کی ہےتجھ سے فریاد ۔۔
میرے خدا ۔۔ تیری دنیا میں اب حیلوں، بہانوں کی شان
بغض وعناد کی اونچی دیواریں..گروہوں میں بٹا انسان
پولیس، تفتیش ، تھانہ ، کچہری ….میرے بابا کا امتحان
یہ کیسا اندھیر ہے..؟ کہ کہی نہ رہی اب سویر ہے
میرے خدا ۔۔ یہ گلہ نہیں .. میرے دل کی باتیں ہیں …
بس ایک بار میرا خط ضرور پڑھنا ۔۔
مجھےتسلی بھرا جواب ضرور دینا ۔۔