شائیستہ خان۔بریڈ فورڈ۔برطانیہ
جناب باراک حیسن اوبامہ صاحب
ہیلو اور السلام علیکم
آج آپ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے چوالسیویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں۔ ہم سبکی کی طرف سے آپکو،آپکی بیگم اور دونوں بیٹیوں کو مبارک ہو۔
وائٹ ہاؤس میں ایک سیاہ فام کا مقیم ہونا ہی بہت بڑا اعزاز ہے۔ کیا مجھ جیسے نوجوان آپ کے زمانہ صدارت میں یہ امید کر سکتے ہیں کہ یہ دنیا امن کی طرف واپس لوٹ جائے۔
ویسے تو آپ نے بھی اسرائیل کی حمایت کا کھلم کھلا اعلان کیا ہے جو آپکی جانبداری کی دلیل ہے لیکن اسکے باوجود ہمارے ہاں اسلام میں ناامیدی کفر ہے۔ ہم بیچارے مسلمان صرف اس چھوٹی سی بات پر خوش ہیں کہ آپکے نام میں ‘‘حسین‘‘ کا لفظ آتا ہے حالانکہ آپکو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ہم چاہے محرم میں امام حسین کی شہادت کے دنوں میں بھی آپس میں لڑتے رہیں لیکن آپکے ساتھ یہ ‘‘حسین‘‘ کا نام کچھ اور ہی لطف دیتا ہے۔
باراک حسین اوبامہ صاحب اگر کچھ وقت ملے تو ذرا عراق،افغانستان، ایران، پاکستان اور ایسے ہی غریب ملکوں کے بارے میں سوچیں جنکی حکومتوں کو آپ کے پیش رو اپنا زر خرید بنایا ہے اور ان ملکوں کے عوام کو غریب بنا رکھا ہے۔
آپ خود اپنے ملک کے ٹیکس دہندگان کا پیسہ کس مقصد کے لیئے استعمال کر رہے ہیں۔
اس خوشی کے موقع پر میں آپکو اداس نہیں کرنا چاہتی لیکن بس ایک یاد دہانی سی کروائی ہے۔ شاید کبھی کوئی ایسی ہوا چلے کہ یہ امید کا بیج کسی دل میں پروان چڑھے۔
صدارت تو آزمائش ہے بس یہ یاد رکھیں
آپکی کامیابی کے لیئے دعا گو
شائیستہ خان۔بریڈ فورڈ۔برطانیہ

اسلامہ علاکہم KHAN ji ap to baree ho BHOLE hein kese kese umedein laga rakhe hein ap nein baha hall DIL ke behlanein kon GHALAB ye keyal acha hee ALLHA klarein ap ke Dil ke Awaz baraq sahib sun lein AMEENTahir Malik Germany
یہودی اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور قابل ترین قوم ہیں اور اس قابلیت کی تلوار سے وہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کے ذہنوں پر حکومت کر رہے ہیں ۔ ابھی تک نو مسلمانوں کو اور ایک سو اکتر یہودیوں کو نوبل پرائز مل چکا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان علم کے میدان میں یہودیوں کا مقابلہ کریں۔ اور کوئ شورٹ کٹ نہیں ہے۔ آٹھ سو سال قبل ہمارے پاس سب سے زیادہ علم تھا اور ہم کائنات کا تصرف کر رہے تھے۔ رومنز کے آخری دور میں عیسائیوں کا عروج تھا پھر وہ زوال پذیر ہوئے۔ پھر محنت کرکے عروج کی طرف آئے۔ چینی ایک زمانے میں عروج پر تھے۔ پھر وہ زوال پذیر ہوئے اور دوبارہ محنت کرکے اُوپر آرہے ہیں۔ مسلمان بھی انشاء اللہ پھر علم و ہنر حاصل کرکے دوبارہ اوپر آئنگے۔
بقول حضرت علی کفر کی حکومت دیرپا ہوسکتی ہے لیکن ظلم کی نہیں۔ اسرائیل کی روش مجھے یہ بتاتی ہے کہ اسکا مستقبل تاریک ہے اور یہ ملک تیس سےپچاس سال تک کا مہمان ہے۔
جعفری بھائی سچ مزہ آ گیا آپ کا تبصرہ پڑھ کر ۔۔ اور میں ابھی تک حضرت علی کے قول میں گم ھوں کہ کفر کی حکومت دیرپا ہوسکتی ہے لیکن ظلم کی نہیں۔ تاریخ اٹھا دیکھیئے یہی ھوا ھے جہاں جہاں ظلم ھوا مٹ گیا ۔اور کافر بدستور ھیں ۔ چلیئے ھم نہ سہی ھماری نسلیں تو آزادی کا وہ سورج دیکھیں گی جس کی تمنا میں ھم جائینگے ۔انشاللہ
ظفر بھائی بہت جامع تبصرہ کیا ہے!
ڈاکٹر صاحبہ جی چاہتا ہے کہ ظفر جعفری بھائی سے کہوں کہ کبھی کبھی مولائے متقیان کے مختصر اقوال یہاں لکھتے رہا کریں۔ سچ پوچھیں تو ان قابل رحم مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت کو مولا علی کی چند تحریروں کے مجموعوں ”نہج البلاغہ” اور نہج الاسرار’ کا علم ہی نہیں اور جنکو کچھ علم ہے وہ اسے مسلک کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔ ہم مسلمان کسی دوسرے دین کی کتاب کیا پڑھیں ہم تو اپنے دین کے مختلف مسالک سے نا آشنا ہیں اور کسی دوسرے مسلک کی کتاب پڑھنے کو حرام سمجھتے ہین۔اللہ کے آخری نبی کی حدیث ہے کہ گھروں میں بند کتابیں اپنے مکینوں کے لیئے بددعا کرتی ہیں۔یہ فرمودہ رسول تو ان گھروں کے لیئے ہے جہاں کتابیں ہیں تو مگر بند۔ذرا غور کریں وہ گھر جہاں کتابوں کا نام نشان نہیں۔ اور پھر یہ ارشاد گرامی عام کتب کے بارے میں ہے ذرا اسی بات کو کلام پاک پر منطبق کر کے دیکھیں تو آج جو ہماری حالت ہے وہ کہیں اسی کتاب اللہ کی بددعا تو نہیں؟ آپ نے دیکھا کہ آپ نے کربلا اور بنت علی مرتضیٰ جناب زینب سلام اللہ کے بارے میں لکھا تو لوگوں نے پوچھنا شروع کر دیا کہ آپ کہیں شیعہ تو نہیں۔ہم نے سب سے بڑا جرم محبتِ محمد و آل محمد کو محدود کرنے کا کیا ہے اور اسکی سزا مل بھی رہی ہے اور ملتی رہے گی۔کبھی سوچیں مسلمانوں کے 57 ملکوں نے پچھلے 500 سال میں بدعنوانی،اقربا پروری،عوام کشی اور دھوکہ دہی کے علاوہ کوئی چیز ایجاد کی ہے؟ہم تو طفیلی جرثومے اور مرا ہوا شکار کھانے والے ہیں۔ اس عہد کے کسی عالمی سطح کے فلسفی یا سائیس دان کا نام تو بتائیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ صفدر صاحب یہ آپ جیسے چند سر پھرے یہ چند بلاگ لکھ کر کیا انقلاب لے آئیں گے تو میں عرض کرتا ہوں کہ انقلاب نہ لا سکے تو مزید ظلم کا راستہ تو ضرور روک لیں گے۔لوگوں کو شعور دیکر،ادراک کی دولت دیکر،بات کہنے کا ہنر دیکر،سوچنے کی دولت دیکر۔ہمارے لکھنے والوں کی بہت بڑی اکثریت کنویں کے مینڈکوں سے بھی بدتر ہیں۔ہمارے لکھاری بہت حقیر سی منفعت کے لیے اپنے ہی بھائی کا گوشت کھاتے ہیں۔اپنے محسنوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ایک دوسرے کا مال کھا جاتے ہیں۔دوست کہہ کر دشمن سے بدتر نظر آتے ہیں۔ذکر بلھے شاہ اور بابا فرید کا لیکن اعمال اور کردار ابن زیاد اور یزید کا۔ استغفراللہ
بابا آپ نے بلکل درست فرمایا ھے کہ ھم نے کتابیں تو کیا اپنے نبی رسول بھی مسلکوں میں بانٹ لیئے ھیں ۔ مجھے تو اب کبھی کبھی یوں بھی لگتا ھے کی اگر ھمارے قول و فعل کا یہی حال رھا تو مالک سزا کے طور پر ھم سے یہ چند سر پھرے بھی واپس لے جائے گا ۔
اسلامُ علیکم، چند لفظ لکھنے کی جسارت کروں گا کے نہیں لکھوں گا تو اندر ہی اندر گھٹ کر مر جاوں گا، کتنا بڑا سچ ہے کے ھم نے کتابیں تو کیا اپنے نبی رسول بھی مسلکوں میں بانٹ لیئے ھیں ،حسین تو ہم سب کا ہے، حسین کا پیغام عالمگیر ہے،ظلم کے خلاف جنگ حسین کی سنت ہے،مولائے متقیان کے اقوال آج بھی موتیوں کے طرح جگمگا رہے ہیں،ایک ایک لفظ میں حکمت و دانائی کی دنیا آباد ہے، صد حیف کے ھم مسلمانوں نے اَن موتیوں سے اپنے سینوں کو سجانے کے بجاے مسلک کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے،ھمدانی صاحب آپ نے سچ کہا کے ہم مرا ہوا شکار کھانے والوں میں سے ہیں، اقبال کا شاہین گدھ بن کر اپنے ہی بھایئوں کی لاشوں پر ضیافت اُڑا رہا ہے، آپ جیسے لوگ اِس صدی میں خدا کا عطیہ ہیں، جہاد با القلم جاری ہے، آپ کا قلم سچ لکھتا ہے سوے ہوے زہنوں اور مردہ ضمیروں کو جنجھوڑنے کے لئے قلم ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے، خدا آپ اور آپ جیسے سر پھروں کا دَم سلامت رکھے اور ہم سب کو ہدایت دے آمین۔
اعجاز آذر آپ بھی تو اسی قبیلے کے فرد ہیں۔ بس شانے سے شانہ ملا کر چلتے ہیں اسوقت تک جب تک سانس میں سانس ہے۔ میں جانات ہوں یہ تکھا دینے والا سفر ہے اور میرے جیسے تو اس کے عادی ہو گئے ہیں۔سامنے دشمن نہ ہو تو جینے کا مزا نہیں آتا اور ہماراسب سے بڑا دشمن ”جہل” ہے۔ کچھ لوگ فوری نفع کے عادی ہیں وہ ایسے مشن میں زیادہ دیر ساتھ نہیں چل پاتے اور یوں بھی برگد کے سائے تلے پروان چڑھنے والے درخت نہ جانے کیوں خود کو کم تر سمجھتے ہیں۔ میں نے تو برادرم آذر ساری زندگی بس ایک ہی چیز کمائی ہے کہ خود بھی سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ اور اسکا بھی کبھی غم نہیں کیا ہمیں سے سیکھنے والے پھر ایک دن ہمیں کو لکھنے کی تربیت دے رہا ہو اور وقتی فائدے اور مصلحت کے لیئے لمبے سفر کوچھوڑ جائے۔ ہم سب کو پوری نییک نیتی سے جہالت کے خلاف جہاد جاری رکھنا ہے کہ یہ جہالت ہی ”ام المسائل” ہے۔
مسلک پر غور کریں تو میں کسی بلاگ میں لکھ چکا ہوں کہ امام جعفر صادق کے شاگرد امام ابوحنیفہ اور امام مالک تھے۔ امام مالک کے شاگرد امام شافعئ اور امام شافعئ کے شاگرد امام حنبل۔ ان میں سارے شاگردوں نے سارے استادوں کی کھل کر مدح سرائ بھی کی ہے۔ دیکھا جائے تو امام جعفر سے امام حنبل تک ایک ہی اسکول ہے۔عامر لیاقت حسین کے عالم آن لائن پروگرام نے بھی اسکی شہادت دی ہے۔ ہم سب ایک ہیں۔
بتاؤں کہ ہیں کیا شیعانِ علی
وہ ہیں اہلِ سنّت وہی ہے ظفر
اپنی دوکان چمکانے کے لئے تفرقہ ملاؤں نے پھیلایا ہے۔ معاشرہ میں جتنا علم کا فقدان ہوتا ہے اُتنا ہی وہاں ملا کا ذور ہوتا ہے۔ دنیا کے سارے مذاہب کا جائز ہ لیں تو کلرجی کا کردار ایک ہی نظر آتا ہے۔
اسلامہ علعکہمBABA ji ap nein baja frmeya ye sab saza ketab se dore ke hee lekim Sach bat pe melta hee sada Zehr ka peyaha jena hee to per jurate Izar na mangoo agar ap jese aur chand dewanei na hoon to keya hoo ? Sukreya