وہ رب ہے دوجہانوں کا جبھی قدرت دکھاتا ہے
کسی کو بےد خل کرکے کسی کو لا بٹھاتا ہے
چڑھا کر کچھ بلندی پر کبھی جوتے کھلاتا ہے
وہی گوروں کے مسکن میں کبھی کالے بساتا ہے
وہ رب ہے دوجہانوں کا جبھی قدرت دکھاتا ہے
کسی کو بےد خل کرکے کسی کو لا بٹھاتا ہے
چڑھا کر کچھ بلندی پر کبھی جوتے کھلاتا ہے
وہی گوروں کے مسکن میں کبھی کالے بساتا ہے
چڑھا کر کچھ بلندی پر کبھی جوتے کھلاتا ہے– — واہ واہ شمس صاحب بھت خوب 🙂 !!
اسلام کی بنیاد ہی قانون مکافات عمل پر ہے یعنی اجھے کام کا اجھا نتیجہ اور برے کام کا برا نتیجہ۔
اس بات کو علامہ اقبال نے نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
شکریہ ثنا ء بہن ۔اس کے ساتھ میرا کالم صدر ابامہ کے نام دوسرا خط پڑھئے وہاں اور بھی بہت کچھ ملے گا
واہ جی واہ ۔۔ کیا خوب سچ کہا بھائی آپ نے ۔۔
یہ گوروں کی اعلیٰ ظرفی اور اونچا پن ہے مجبوری نہیں کہ انہوں نے ایک کالے کو اپنا صدر منتخب کیا۔ کیاہم اتنے وسیع القلب ہیں۔