میں اس وقت امریکہ کے شہر نیو جرسی سے کینڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہوں جہاں مجھے یہ نظم موصول ہوئی ہے.
کوثر ثمرین میرے ریڈیو کے معدودے چند عزیز شاگردوں میں سے ایک ہے جس نے ہر حال میں مجھ سے رابطہ بحال رکھا ہے.کوثر بہت اچھی انسان، دوست،ساتھی اور شاعرہ ہے. بہت عرصےسے میں اسے عالمی اخبار میں شامل ہونے کو کہہ رہا تھا لیکن شاید اس نے یہی وقت مناسب چُنا ہے. کوثر ثمرین شکریہ عالمی اخبار میں آنے کا اور بلاگ میں یہ نظم اس لیئے لگائی کہ اگر کہیں اور لگاتا تو اس پر تبصرے نہ ہو سکتے. مجھے یقین ہے کہ اب تم وقت ملنے پر بلاگ میں آتی رہو گی.
لیجئے کوثر کی نظم پڑھیئے
…


پیاری کوثر ثمرین … آپ کا نام میرے لئے کوئی نیا نہیں ہے .. وہ اس لئے کہ بابا آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں اور ہر وقت کرتے ہیں .. آپ کے حسن سلوک اور انسان دوستی کی مثالیں دیا کرتے ہیں .. اور ابھی حال ہی میں عالمی اخبار میں آپ کی شاعری پر ایک مضمون پڑھ کر جان پہنچان مزید بڑھ گئی ہے .. آپ کو عالمی اخبار کی فیملی میں شامل دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے .. خوش آمدید .. جی آیاں نوں .. آپ کا آنا ہمارے لئے باعث عزت اور خوشی ہے ….
سبحان اللہ … آپ کی نظم بہت برمحل اور دل سوز ہے .. حالت مسلماں اور اس کے تذبذب کی بہت ہی ایماندارانہ تصویر کشی ہے … اللہ پاک آپ کی اس کوشش کو قبول فرمائے … آمین ..
ایک بار پھر آپ کو خوش آمدید …
سبحان اللہ۔ نہایت ہی خوبصورت جذبوں کی ترجماں نعت ہے۔
کوثر ثمرین صاحبہ ہم آپ کو عالمی اخبار میں خوش آمدید کہتے ہیں، جہاں آپ باباجانی سے مزید بہت کچھ سیکھیں گی تو ہمیں سکھلائیں گی بھی، انشاء اللہ العزیز۔
عالمی اخبار میں آمد مبارک
بہت خوبصورت نعت
اسی طرح
مدحت خیر الانعام کیجئے
بلند اپنا مقام کیجئے
اسلام و علیکم
سب سے پہلے تو آپ کو دل کی تمام تر گہرائی سے خوش آمدید خُدا آپ کا آنا آپ کے لیے اور ہم سب کے لیے مُبارک کرے( الہی آمین)
اب جہاں تک بات ہے آپ کے جذبات کی ترجُمانی کرتی اس پاک نظم کی ( پاک یس لیے کے جہاں نامِ مُحمد(ص) آ جائے پاکی خُود با خُود آ جاتی ہے ) تو بہیت ہی اچھے سے آپ نے ہر انسان کو جو دعوا رکھتا ہے کہ اُس کو اپنے رسول(ص) سے بے حد و حساب مُحبت ہے آینہ دیکھا دیا ہے ہم لوگ بس دعوے دار ہی ہیں کہ عاشقِِ رسول(ص) ہیں ورنہ سچائی اس کے بر عکس ہی ہے –
ہم عام زندگی میں جب کسی کو بہت چاہتے ہیں تو وہ صاف نظر آتا ہے کیوں کہ خود با خود ہمارا ہر عمل ہر بات اُس ایک انسان سے شروع ہوتی ہے اور اُس پر ہی ختم اس کا ذکر جب چلے تو جی چاہتا ہے کہ اور کُچھ بھی نہ ہو اور اُس کی پسند نا پسند ہم اُس انسان کے بِنا بولے ہی اپنا لیتے ہیں یہ تو ہے ایک عام انسان کی دوسرے عام انسان سے مُحبت سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم جو نبی(ص) سے مُحبت نہیں عشق کے دعوے دار ہیں تو کتنی راتیں کتنے دن کتنے گھنٹے کتنے لمحے کتنے پل اُن کی یاد میں رہتے ہیں ہمارے کتنے عمل اُن کی پسند کے مُطابق ہوتے ہیں ہم اُن کے لیے کتنی شدت سے ہر ایک کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں سوال ذرا مُشکل ہے پر حقیقت پر مبنی ہے اور جواب اس کا ہم سب ہی جانتے ہیں –
ہم بس خالی خولی شور مچا سکتے ہیں پر عمل مُشکل لگتا ہے اس میں سب سے پہلے میں خود کو شامل کر رہی ہوں کوثر صاحبہ آپ کو خدا اس کی جزا ِ کثیر عطا کرے(آمین)
اور ہم سب کو حقیقت میں عشقِ رسول(ص) میں قربان ہونا نصیب ہو (الہی آمین)
الله حافظ و ناصر
اللہ سے دعا ہے کہ کوثر ثمرین صاحبہ کی عالمی اخبار میں شرکت کو ہم سب کے علم کی وسعت کا ذریعہ بنائے۔
اور انہیں اسی قسم کی بے باکانہ نظمیں عالمی اخبار میں شایع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
انکی نعت ( صلعم ) کا آخری حصہ حقیقت پر مبنی ہے۔
ماشا اللہ ، سبحان اللہ ، مرحبا ، جزاک اللہ
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
از جرمنی
اگر کوئی نعت کہے اور
وہ کہنے والا یا والی شاگرد ہو قبلہ صفدر ہمدانی صاحب کا یا کی
تو اسے کہیں گے سونے پہ سہاگہ اور پھر
ایسے ہی خوبصورت کلام وجود میں آئیں گے
ماشاء اللہ
سبحان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوثر ثمرین جی
آداب
ایسا نہیں کہ لفظوں کی تعریف کہ لیے لکھنے والے کو جاننا ضروری ہوتا ہے .قلم سے رابطہ رکھنے والے تو خود بخود ہی تسبی کے دانوں کی طرح ایک دھاگے میں بندھتے ہی جاتے ہیں ..خوبصورت جزبوں کی ترجمانی کرتی اس نعت میں اتنی ہی خوبصورتی ہے کہ لفظ دل کو جنھجوڑتے ہی چلے جاتے ہیں .سبحان اللہ
کاش ہم بھی ہمدانی بھائی کے شاگردوں کی فہرست میں ہوتے..خدا تعالی آپ کی اس کوشش کو ضرور پورا کرے گا .انسان کو بس اُس ایک آیئنے کی ضرورت ہے جس میں خود کو پہچان سکے .کیونکہ وہ جانتا ہے کیا اچھا کرتا اور کیا غلط کرتا ہے .بس خود سے نظریں ملانے کی دیر ہوتی ہے ….اپنے اس خوبصورت قلمی مشن کو جاری رکھئے گا …محبت اور دعا کے ساتھ
عزیزی کوثر ثمرین سلامت رھو۔ خوش آمدید ۔۔ اتنی پیاری سوغات لائ ھو جس سے مودت ۔محبت محبوب رب العالمین کی خوشبو روح کو سرشار کر رھی ھے ۔ اھلاوسہلا۔
ماشا اللہ بہت ہی اچھی نعت ہے۔۔۔۔جزاک اللہ