عرشی آپا کی اثرانگیز نظم۔۔”” لینڈ کروزر تمھیں مبا رک ““مرکزی خیال ماخوذ

میری گریجویشن میں بس گنتی کے دن باقی تھے

میری سوچوں میں اک لینڈ کروزر کب سے بسی ھوئ تھی

آتے جاتے ڈیلر کے شوروم پہ رک کر اس کو دیکھا کرتا تھا

باپ سے اپنی خواھش کا اظہار بھی کرتا رھتا تھا

اور یہ بھی معلوم تھا مجھکو، باپ میرا اک ارب پتی ھے

دن اور لمحے گنتے گنتے، گریجویشن کا دن آیا

باپ نے مجھکو فون کیا اوراپنے کمرے میں بلوایا

میرے ماتھے کو چوما اور اپنے سینے سے لپٹایا

نیلے کاغذ میں لپٹا ، اک ڈبہ میری سمت بڑھایا

دیکھہ کہ یہ چھوٹا سا ڈبہ میں چکرایا

میری امیدوں کا سورج دیکھہ کے یہ تحفہ گہنایا
————————————
بجھتے دل ،مردہ ھاتھوں سےمیں نے اس ڈبے کو کھولا

اس میں ایک قرآن رکھا تھا

جس پر چمکیلے حرفوں میں میرا اپنا نام لکھا تھا

غصے کی اک لہر نے میری سدھ بدھ کھوئ
میں بے حد چییخا چلایا ،خوب بکا جو منہ میں آیا

آگ کا ایک بگولا بن کر گھر سے نکلا
باپ کے تحفے کو ٹھکرایا
————————–
بیت گئے پھر ماہ و سال ۔ خوب کمایا میں نے مال

بیوی ،بچوں اور بزنس میں گھر کر سب کچھہ بھول گیا میں

سوچا جب فرصت پاونگا ،والد سے ملنے جاونگا

بزنس کے دھندوں میں گھر کر پل بھر کی فرصت نہ پائ

با پ کی موت کی جب تک مجھہ بزنس میگنٹ کو خبر نہ آئ

والد نے اپنی سب دولت مجھہ سرکش کے نام لکھی تھی

میں نادم سا کھویا کھویا اپنے والد کے گھر پہنچا

والد کے کمرے میں میز پہ وھی نیا قراں رکھا تھا

جس پر چمکیلے حرفوں میں میرا اپنا نام لکھا تھا

جس کو میں ٹھکرا کر گھر سے بھاگ گیا تھا
——————————–
بھیگی آنکھوں ،جلتے دل سے میں نے وہ قرآن آٹھایا
اس کو کھولا، ورقے پلٹے

ٹن کر کے ایک کارکی چابی ،میز کے شیشے سے ٹکرائ

چابی پر ایک ٹیگ لگا تھا

جس پر میری گریجویشن کی تاریخ ، اور سال لکھا تھا

اور لکھا تھا ۔۔۔۔۔

پیارے بیٹے لینڈ کروزر تمہیں مبارک

16 thoughts on “عرشی آپا کی اثرانگیز نظم۔۔”” لینڈ کروزر تمھیں مبا رک ““مرکزی خیال ماخوذ”

  1. بہت پیاری بہن اور عزیز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم سلامت رھو۔ تمھارا شکریہ میری مسیحا۔۔ اور عرشی آپا کا شکریہ کہ مجھے اتنی محبت سے اپنی شاعری ارسال کرتی ھیں ،،، اور مجھے جو خوشی ان کے اس کام کو کرکے ھوتی ھے اس کا لطف لفظوں میں بیان نیہں کیا جاسکتا ھے۔۔ میں ابھی کان پکڑ کر عرشی آپا سے تاخیر سے لکھنے پر معافی بھی مانگونگی ۔۔۔

  2. نیو جرسی امریکہ میں بیٹھ کر پڑھنے کا لطف ہی الگ ہے شاہین جی۔ عرشی صاحبہ تو مستند شاعرہ اور فکری خاتون ہیں اور ڈاکٹر نگہت صاحبہ مستند فوری تبصرہ نگار۔ لیکن میں تو ایک عام سا قاری ہوں جو آپ لوگوں کے لکھے سے بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ اللہ آپ سب پر اپنی رحمت کا سایہ رکھے۔آمین

  3. محترمہ شاہین رضوی صاحبہ،
    بہت خوب، آپ واقعی شاہین ہیں جو اس نیک کام میں بازی لے گئیں۔ یہی نظم میں بھی ان پیج سے یُونی کوڈ میں منتقل کر کے پیش کرنے کی سوچ ہی رہا تھا لیکن شاہین ، شاہین ہی ہوتا ہے ( ہوتی کبھی سنا نہیں، لہذا معذرت ) ۔
    دنیا کو ایک ’گلوبل ولج‘ بنانے میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا بڑا رول ہے۔روٹین اور ’جنک میل‘ کے علاوہ کبھی کبھی ایسی ’میل‘ بھی وصول ہوتی ہے جسے پڑھ کر انسان عش عش کر اٹھتا ہے۔ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی اعلیٰ ظرفی جنھوں نے مجھے بھی اپنے ’میلنگ ایڈریس‘ میں شامل کیا اور چند دن پہلے ایک ایسی میل بھیجی جو پڑھنے کے بعد میں ان سے یہ فرمائش کئے بغیر نہ رہ سکا کہ کیا ہی خوب ہو جو آپ اس مفربی خیال کو اپنی مشرقی شاعری کا روپ دیں۔ انہوں نے کمال مہربانی سے میرے اس خیال کو پذیرائی بخشی اور ایک لاثانی نظم تخلیق کرکے مجھے ای میل کر دی (جو سستی، کاہلی اور وہی پرانا روگ وقت کی کمی کا رونا کہ ابھی تک آپ کی خدمت میں پیش کرنے کو پوری نظم کو یُونی کوڈ میں ہی منقل نہ کر سکا )۔ وہ نظم ماں اور بیٹے کے رشتے سے متعلق ایک مغربی خیال ہے جسے نہایت احسن طریقے سے مشرقی شاعری میں ڈھالا گیا۔
    نظم ملنے کے بعد میں محترمہ عرشی صاحبہ سے یہ فرمائش کئے بغیر نہ رہ سکا کہ کاش آپ وہ ’باپ اور بیٹے ‘ والی بھیجی ہوئی اپنی ای میل (جو انہوں نے کوئی ایک یا دو ہفتے پہلے بھیجی تھی) کو بھی اپنی خوبصورت شاعری میں ڈھالیں۔ کام پہ جانے سے پہلے جب میں نے ای میل چیک کی تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ ای میل بھی موجودہ نظم کی صورت میں موجود تھی۔
    اتنی سرعت اورتندہی پہ میں محترمہ کو کومنٹ کرتے ہوئے یہ لکھے بغیر نہ سکا کہ محترمہ اتنی دیر میں تو میری بیگم سے چپاتی نہیں بنتی جتنی میں آپ نےمیری فرمائش پہ یہ دو شاہکار نظمیں پیش کر دیں۔ وہ تو شکر ہے میری بیگم صاحبہ لکھنے پڑھنے سے سخت پرہیز کرتی ہیں ورنہ فورا ً فرمان جاری کر دیتیں، اچھا ! میری چپاتی دیر سے بننے کا طعنہ ہے تو اب یہ نیک کام خود ہی کر لو اور حالت وہی ہوتی جو ’ بریکر اینڈ بیگم ‘ میں پیش کر چکا ہوں، یعنی
    میں آٹا مشینِ گھُن داں گی
    سوہنے ہتھیں پھُلکے پاویں بیبا
    خیر یہ سب محض تو اس نظم کا ’بیک گرائونڈ ‘ تھا۔
    یہ دراصل ایک مغربی خیال ہی ہے جسے کسی نے ’ قرآن ‘ میں بدل کر مشرقی رنگ دیا اور محترمہ عرشی صاحبہ نے شاعری میں ڈھال کر اسے لاثانی کر دیا۔ میں شاہین رضوی صاحبہ سے درخواست گذار ہوں کہ کسی وقت قارئین کی دلچسپی کے لئے وہ اصل ای میل بھی بلاگ میں شامل کر دیں اور اگر آپ کے پاس نہیں تو میں شامل کر دوں گا۔

  4. بہن عرشی ملک صاحبہ ! کیا بات ہے آپ کا دیگر تمام کلام کی طرح اس تحریر کی بھی، واہ واہ واہ
    بہن شاہین رضوی صاحبہ ! آپ کا بہت بہت شکریہ اس بلاگ کو شروع کرنے کا، ماشاء اللہ

    بس میری ایک دُعا ہے اور آپ سب قارئین سے اس پر آمین کہنے کی التماس ہے، اور وہ دعا یہ ہے کہ . . .
    اللہ تعالٰی مجھ کو بھی ہمدانی صاحب قبلہ کی طرح
    “ایک عام سا قاری”
    بنا دے جو
    “آپ لوگوں کے لکھے سے بہت کچھ سیکھتا ہو”
    آمین، ثم آمین

  5. بھائی جاوید اقبال کیانی صاحب ! آپ کا لکھا پس منظر پڑھ کر میرا جی چاہ رہا ہے کہ میں بھی بہن عرشی صاحبہ سے چند ” پراٹھوں ” کی فرمائش کر ہی ڈالوں-

  6. میں نے نظم کے بارے میں سب دوستوں کے تبصرے پڑھے۔

    میں سب کی محبتوں کی بہت شکر گزار ہوں۔اور ہاں ان میسجز کو نظم کرنے میں میرا کوئی کمال نہیں یہ محض میرے پیارے رب کا عنایت اور مہربانی ہے کہ وہ مجھ ناچیز کے لئے اس کام کو آسان کر دیتا ہے۔اور آپ دوستوں کی مہربانی ہے جو اس کو یونی کوڈ میں منتقل کر کے قارئین تک پہنچا دیتے ہیں۔

    اللہ سب کا اپنی امان میں رکھے آمین

  7. کاش کہ میں کچھ بول پاتی الفاظ گم ہو گئے ہیں

  8. جناب اقبال کیانی صاحب۔ اسلام علیکم ۔ سلامتی خیر ھو ” علم “ ” صحت “ اور ” زرق “میں برکت کی دعايئں ۔ میں تو شاھین ھوں دستاویز میں بھی اور حقیقت میں بھی ۔۔ ایک بار میں نےعلامہ اقبال کو خواب میں بھی دیکھا تھا ۔اورمیری شخصیت پر اس نام کا گہرا اثر ھے۔۔ میں خواب دیکھنے والا پرندہ ھوں ۔ اور خواب مجھے بےتحاشہ توانائ دیتے ھیں ۔میں اکثر 4ھزار فٹ کی بلندی پر جاکے خدا سے دعامانگنتی ھوں کہ دور دنیا میں میرے دم سے اندھیرا ھوجاۓ ۔۔ ھر جگہ میرے چمکنے سے آجالا ھوجاۓ ھمیشہ فکری پرواز میں میرا عزم سفر اور شاھیں کا پر میرے کام آتا ھے ، ھر چند چرب زبان ھیں مانند شمع ھم۔۔ پر یہ کہاں مجال جوکچھہ گفتگو کریں

    بہت خوبصورت دل و دماغ کی مالکہ ، بلند افکار شاعرہ اور ایک بہت اچھی انسان عرشی آپا کی منظومیات کمال کی ھوتی ھیں

    میرے پاس اکثر ایسی ایمیل عربی میں آتی ھیں ۔۔ آپ ضرور انگریزی کی وہ ایمیل اس بلاگ میں شامل کریں۔

    تاخیر سے جواب دینے کی معذرت ۔ کیونکہ میں بھی ان لاعلاج امراض کا شکار ھوں
    سستی، کاہلی اور وہی پرانا روگ وقت کی کمی

    محتاج دعا

    شاھین رضوی

  9. ’’ دور دنیا میں میرے دم سے اندھیرا ھوجاۓ ۔۔ ھر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ھوجاۓ ‘‘

    محترمہ شاہین رضوی صاحبہ، آپ نے تو مجھے مخمصے میں ڈال دیا کہ میں اب آپ کو اقبال کا جگنو کہوں یا شاہین یا پھر سارے کا سارا اقبال ! صد بار آمین آپ کی خواہش اور دعا پہ۔

    اور آپ کے فکر و تخیل میں بھلا کمی بھی کون سی ہے۔ یہ ہماری نیک بختی نہیں تو اور کیا ہے کہ ’عرشی کلام‘ ، ’عالمی‘ پلیٹ فارم اور پیامبر بھی ’ شاہین ‘۔ قابل رشک ہیں ایسے خوش نصیب قارئین ۔

    سلامتی ، خیر ، علم ، صحت ، رزق میں برکت کی دعائوں کا بے حد شکریہ، لیکن ساتھ ایک درخواست بھی کہ میرے لئے بھی دعائیں 4 ھزار فٹ کی بلندی پہ ہی جا کے مانگیں تو انتہائی مشکور ہوں گا۔

    آپ کی خواہش اور اجازت سے وہ ای میل یا ایس ایم ایس علحٰدہ سے شامل کر رہا ہوں، والسلام۔

  10. محترمہ شاہین رضوی صاحبہ،
    تعمیل ارشاد، بحسبِ حکم اوریجنل ای میل (ایس ایم ایس) بھی قائین کی دلچسپی کی خاطر پیسٹ کر رہا ہوں :-

    The Package
    A young man was getting ready to
    Graduate from college.
    For many months he had admired a
    Beautiful sports car in a
    Dealer’s showroom, and knowing his
    Father could well afford it,
    He told him that was all he wanted.
    As Graduation Day approached,
    The young man awaited signs
    That his father had purchased the car.
    Finally, on the morning of his graduation,
    His father called him into his private study.
    His father told him how proud he was
    To have such a fine son,
    And
    Told him how much he loved him.
    He handed his son a beautifully wrapped gift box.
    Curious, but somewhat disappointed,
    The young man opened the box
    And
    Found a lovely, leather-bound Koran,
    With the young man’s name
    Embossed in gold.
    Angrily, he raised his voice to his father and said,
    ‘With all your money, you give me a Koran?’
    And
    Stormed out of the house,
    Leaving the Koran.
    Many years passed
    And
    The young man was very successful in business.
    He had a beautiful home
    And
    Wonderful family,
    But realized his father was very old
    And
    Thought perhaps he should go to him.
    He had not seen him since that graduation day.
    Before he could make arrangements,
    He received a telegram telling him his father had passed away,
    And
    Willed all of his possessions to his son.
    He needed to come home immediately and
    Take care of things.
    When he arrived at his father’s house,
    Sudden sadness and regret filled his heart.
    He began to search through his father’s important papers
    And
    Saw the still new Koran,
    Just as he had left it years ago.
    With tears,
    He opened the Koran
    And
    Began to turn the pages.
    His father had carefully underlined a verse:
    ‘And if ye, being evil know how to give good gifts to your children,
    How much more shall Allah, Who is in heaven,
    Give to those who ask Him?’
    As he read those words,
    A car key dropped from the back of the Koran.
    It had a tag with the dealer’s name,
    The same dealer who had the sports car he had desired.
    On the tag was the date of his graduation,
    And
    The words… PAID IN FULL.
    How many times do we miss Allah’s blessings
    Because they are not packaged as we expected?
    I trust you enjoyed this.
    Pass it on to others.
    Do not spoil what you have
    By desiring what you have not;
    But remember that what you now have
    Was once among the things you only hoped for…
    IF YOUR GIFT IS NOT PACKED THE WAY YOU WANT IT,
    IT’S BECAUSE IT IS BETTER PACKED THAT WAY!
    ALWAYS APPRECIATE
    LITTLE THINGS;
    LET THIS GREAT LESSON
    FLOW AROUND.

  11. جناب جاوید اقبال کیانی صاحب ۔ اللہ پاک آپ کو ھمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے دارین کی ھر نعقت سے آپ کا دامن بھر دے۔ آمین ثم آمین ۔۔۔ آ پ مجھے اقبال کا جگنو کہہ لیں ۔۔۔ اور میرے لیے دعا کریں کہ کبھی مایوسی کی تیرگی ھمارے قریب نہ آۓ ، دعا کریں کہ میری پاکستان میں اسپیل بچوں کا اسکول کھولنے کی خواھش ھے وہ اللہ تعالی پوری کردے۔۔ اور میں اپنی زندگی کے آخری لمحات تک لوگوں کی خدمت کرسکوں اور اللہ پاک ھم سب کو کسی کا محتاج نہ نباۓ ۔
    اللہ پاک ھمارے رزق میں بہت برکت دے تاکہ ھم اپنے گھر والوں کو ۔ اپنے عزیز و اقارب کو آس پاس کے لوگوں کو اپنے رزق میں شامل کر کے اور برکت حاصل کر سکیں آیئۓ دعا کریں کہ
    اللہ پاک ھمارے وطن سے غریت ، بیماری ۔جھوٹ ،جاھلت ، فتنہ وفساد کا خاتمہ کردے

    مجھے یقین ھے کہ اگر کسی بھی جگہ سے خلوص دل سے اللہ کو پکارا جاۓ تو وہ مقام کبھی کوہ طور اور کبھی جبل رحمت بن جکتا ھے

    4ھزار فٹ پر جانے کا ارادہ، پروگرام اور خواھش اگر باذن اللہ 16جون کو پوری ھو جاتی ھے تو وعدہ کہ 9 گھنٹے کے سفر میں آپ کے بہت ساری دعايئں ،،، اور پھر میرے بھائ ۔۔ ھم ایک دوسر ے کو کلمہ خیر اور دعا کے سوا کیا دے سکتے ھیں ۔۔ ؟ اللہ پاک اّ پ کو ھمیشہ خوش رکھے ۔۔ اللہ تعالی آپ کے میں رزق میں بہت برکت عطا فرماۓ ۔ صحت وتندرستی ۔ ، علم میں برکت عطا فرماۓ اور عمرخضر عطا فرماۓ اور یہی دعا آپ کے اھل خانہ کے لیے اور عالمی اخبار کے خوبصورت کنبے کےلیے بھی

    The Package کے لیے بھی بہت شکریہ ۔ آپ کی مذیذ سبق آموز ایمیل کا انتظار رھے گا

  12. محترمہ شاہین رضوی صاحبہ،
    آپ کا تخیل اور پرواز شاہین جیسی جبکہ سوچ اور کام جگنو والا ہے۔ ڈھیر ساری دعائو ں کا بے حد شکریہ۔ اللہ آپ کو نیک ارادوں میں کامیابی دے۔ جب بھی سپیشل بچوں کے لئے سکول کا پراجیکٹ شروع کیا مجھے ضرور بتائیے گا۔ انشاء اللہ جو بن پڑی خود بھی اور دوستوں سے بھی مدد کی اپیل کروں گا – یہ تو صدقہء جاریہ ہوگا ۔ اللہ رب العزت آپ کی پوری پوری راہنمائی اور مدد فرمائے، آمین ثمہ آمین ۔

  13. جناب جاوید اقبال کیانی صاحب ۔ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے۔ یہ تو آپکی بلند فکری اور بلند نظری اور بلند پروازی ھے ۔ انشا اللہ اگلے سال اگر زندگی رھی تو اس پر کام شروع کرنا کا پختہ ارادہ ھے۔۔ ۔ دعا وں کےلیے بہت ممنون ھوں ۔اور بی بی کی وصیت کا کیا ھوا ھم سب انتظار میں ھیں ۔۔۔۔۔۔

    بھلی ھے ھم نفسو ! اس چمن میں خاموشی

    کہ خوشنواوں کو پابند دام کرتے ھیں

  14. بھلی ھے ھم نفسو ! اس چمن میں خاموشی
    کہ خوشنواوں کو پابند دام کرتے ھیں
    واہ ! بہت خوب۔ کتنا میٹھا شکوہ، کیسا خوبصورت طنز ، ’ کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے ! ‘

    محترمہ شاہین رضوی صاحبہ، دراصل بات یہ ہے :
    اتنی لمبی خاموشی، مصلحت درپیش ہے
    زندگی عزیز ہے، موت پیش پیش ہے

    سچ پوچھیں تو ڈر لگتا ہے۔ اب دیکھیں ناں قاتلوں کو جانتے ہوتے بھی زرداری صاحب کی زبان سے ان کا نام نہیں نکلتا، آخر کسی کا خوف ہی ہوا ناں ؟ اور اگر صدر پاکستان بھی خوف زدہ ہے تو میں کس باغ کی مُولی؟
    دراصل زرداری کی ( اتفاقیہ یا حادثاتی) وصیت پہ جو پذیرائی ملی، میں مزید کچھ عرصہ اسی کیف اور عارضی بلندی پہ رہنا چاہتا ہوں ۔ بی بی کی وصیت لکھ کر اس کی presentation کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پا رہا جس کہ وجہ سے نوبت یہاں تک آچکی ہے۔ میری مصروفیت کچھ اسطرح ہے کہ ’نائٹ ورکر‘ ہونے کی وجہ سے باقی ٹائم ٹیبل بری طرح متاثر ہو رہا ہے ، لیکن مجبوری ہے جس کو زمانے نے شکریے کا نام دے رکھا ہے۔
    امید ہے آپ کو مزید reminders کی ضرورت پیش نہیں آئیگی۔ والسلام۔

  15. جناب اقبال کیانی صاحب ۔ سلامت رھیں تاقیامت رھیں اور اپنے پر آثر قلم سے یو نہی مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مذمت کرتے رھیں ۔ جو اللہ سے ڈرتا ھے وہ کسی اورنیہں ڈرتا ۔۔ ۔۔ اور صدر پاکستان کو ڈرنا ھی چاھیے ۔ عوام سے ۔ اللہ سے ۔ اور اس برے وقت سے جب اللہ کی دی ھوئ مہلت ختم ھوجايئگی ۔ اللہ پاک آپ کے رزق میں علم ۔میں برکت عطا فرماۓ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *