سستی، کاہلی اور وہی پرانا روگ وقت کی کمی

میری بہت ہی پیاری اور عزیز دوست شاہین رضوی (افسانہ نگار ، شاعرہ ، عالمی اخبار کے بلاگ فیملی کی ہر دل عزیز شخصیت ) نے کویت سے ایک بلاگ میں تبصرہ کے طور پر لکھا تھا جس نے مجھے نہ صرف اپنی طرف متوجہ کیا بلکہ مجھے یہ تحریک بھی دی کہ آپ سب کی توجہ بھی اس طرف مبذول کرواؤں ۔۔

شاہین لکھتی ہیں

“ تاخیر سے جواب دینے کی معذرت ۔
کیونکہ میں بھی ان لاعلاج امراض کا شکار ھوں
سستی، کاہلی اور وہی پرانا روگ وقت کی کمی “

دوستو میں جب سے سوچ رہی ہوں کہ کیا واقعی سستی، کاہلی اور وقت کی کمی ایسے روگ ہیں جو لا علاج ہو چکے ہیں ۔۔۔ ؟

36 thoughts on “سستی، کاہلی اور وہی پرانا روگ وقت کی کمی”

  1. اگر شاہین رضوی صاحبہ (میری طرح ) کمپوٹر کے نہ ہونے یا کمپیوٹر کی خرابی کو اپنے جواب دینےمیں تاخیر کا سبب بنا تیں تو بات بنتی مگر مجھے یقین ہے کہ نہ وہ سست ہیں اور نہ کاہل ہیں اور نہ وہ وقت کی کمی کے امراض کا شکار ہین ۔
    انکی باتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بے حد مصروف زندگی گذارتی ہیں۔
    اس کے باوجود اگر وہ عالمی اخبار میں آتی جاتی رہیں تو یہی غنیمت ہے۔

    یہ بات ضرور ہے کہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ بھی کافی مصروف زندگی گذارتی ہیں ۔ انکی لغت میں فرصت کا لفظ ہے ہی نہیں۔۔
    اللہ سب کو اسی طرح مصروف رکھے ۔

  2. منظور بھائی میں نے شاہین کے لئے نہیں کہا کہ وہ سست یا کاہل ہیں بلکہ میں نے عمومی خیال اور احساس کی بات کی تھی کہ کیا واقعی ایسا ہے … شاہین تو ماشاللہ بہت ہی فعال ہیں اور بیک وقت کئی زمہ داریاں نبھاہ رہی ہیں .. اللہ پاک انہیں مزید ہمت اور صلاحیت عطا کرے .. آمین .. میری لئے تو ان کی شخصیت ایک حوصلہ ہے …

    میں تو پوچھ رہی ہوں کہ ہم ان رویوں پر کیسے قابو پائیں .. کیسے اپنے وقتوں میں برکت ڈالیں .. کس طرح سے ان موزی امراض سے جان چھڑائیں ..

  3. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ خود ماہر نفسیات اور انتہائی نظم و ضبط سے زندگی گذارنے والی شخصیت ہی بہتر طور پر سستی ، کاہلی اور وقت کی کمی جیسے امراض کا علاج بھی تجویز کر سکتی ہے ۔

    انکی زندگی خود ایک رو ل ماڈل ( مثالی نمونہ ) ہے جس کی تقلید کرکے ہر سست اور کاہل انسان چست و چالاک بن سکتا ہے ۔

    ویسے : قائد اعظم : اتحاد ، یقین اور تنظیم کی ہدایت پاکستان کی قوم کو دے چکے ہیں ۔

    اقبا ل کا فرمان بھی یہی ہے کہ :
    یقیں محکم ، عمل پیہم ، محبت فاتح عالم
    جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں ( اور عورتوں کی بھی ) شمشیریں
    ۔
    ان سب سے بڑھکر اسلام کے بتائے ہوئے نظم و ضبط پر چلنا بھی ان امراض کے علاج کے لیے کافی ہے۔

    اس کے علاوہ اپنی ذمہ داریوںکو نبھانے کا احساس اور نظم و ضبط بھی ان امراض کا علاج کر سکتا ہے ۔

    سستی ، کاہلی پر تو قابو پالینا ہر انسان کے بس میں ہے ۔ صرف وقت کی کمی کو دور کرنے کے لیے اپنے وقت کا صحیح استعمال چاہیے :
    ۔
    ورنہ بقول غالب یہ بھی علاج ہوسکتا ہے کہ :
    جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے چار دن
    بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے

  4. اگر میں اپنی ذات کی بات کروں تو نکہت بہن کے سوال کا جواب اثبات میں ہے۔

    قاضی صاحب قبلہ کی اس بات ” اسلام کے بتائے ہوئے نظم و ضبط پر چلنا بھی ان امراض کے علاج کے لیے کافی ہے” کے جواب میں عرض ہے کہ :

    میں جو سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
    ترا دل تو ہے ۔ ۔ ۔ الخ

  5. میراخیال ہے جن کے پاس زیادہ وقت ہوتا ہے وہی زیادہ سست اور کاہل ہوتے ہیں،جن کے پاس کام یا مصروفیت ہو انہیں تو سست اور کاہل ہونے کا وقت ہی نہیں ملتا؟
    مردہ مثالیں دیکھنی ہیں تو قبرستان بھرے پڑے ہیں اور زندہ مثال درکار ہو تو مجھے دیکھ لیں؟

  6. عامر بھائی میں کب آپ کو دیکھنے آ سکتی ہوں … مجھے زندہ مثالوں کو دیکھنے میں ہمیشہ ہی سے دلچسپی رہی ہے … مجھے آپ کا خود پر اتنا یقین اور بھروسہ بہت اچھا لگا … اللہ تعالی آپ کو اس سے بھی زیادہ مصروف رکھے ..آمین

  7. مناف بھائی ..یہ بلاگ دراصل اس لئے بھی ہے کہ ہم ایک نظر اپنی مصروفیات پر ڈال سکیں ..کیونکہ کبھی کبھی ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے کچھ نہیں کر رہے لیکن ہم اپنی عادت سمجھ کر اتناکچھ کر رہے ہوتے ہیں کہ اس کا ا دراک نہیں ہو پاتا … اب یہی دیکھئے منگل کو میری بات کینیڈا میں روبینہ فیصل سے ہو رہی تھی جو چار بچوں کی ماں ہے ، مقبول کالم نگار ، افسانہ نگار اور اس کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی پروفیشنل امیگریشن آفسیر بھی ہے… اس کے بعد بھی اگر وہ مجھ سے یہ کہے کہ وہ کاہل سست اور کچھ نہیں کرتی کہ وقت نہیں ملتا … تو سرا سر اس کی خود سے ہی زیادتی ہے … ہے کہ نہیں ..

    مجھے یوں لگتا ہے بھائی جیسے ہم وقت کو کبھی کبھی صحیح خانوں میں بانٹ نہیں پاتے …

    مثلا جیسے جو کام ہمیں صبح کرنا چاھئے اسے شام پر ڈال دیتے ہیں … اور اس لئے وہ کام کبھی کبھی گول بھی ہو جاتا ہے … ٹائم مینجمینٹ ایک آرٹ ہے .. جو مجھ سے بھی کبھی نہیں ہوئی .. .. میں تو بہانوں کی لمبی فہرست ساتھ لے کر چلتی ہوں … منظور بھائی جانے کس نگہت نسیم کی بات کرتے رہتے ہیں …

  8. منظور بھائی آپ نے درست فرمایا کہ “نظم و ضبط ” ہی وقت کی صحیح تقسیم کر سکتا ہے … پر یہ نظم و ضبط کبھی کبھی مشینی سا ہونے لگتا ہے .. ہے نا دوستو .. ..

  9. کہتے ہیں کہ شہر بھر کی سبک رفتاری اور مشینی زندگی سے تنگ آ کر چند آرام پسند لوگوں نےانجمن سستیء و کاہلی بنا ڈالی اور فیصلہ کیا کہ کم از کم ہم لوگ ہر کام نہایت تحمل اور آرام سے یعنی سستی سے کیا کریں گے۔ شہر کے سست ترین بزرگ کو صدر چنا گیا۔
    ایک دن ایک رکن نے دیکھا کہ صاحب صدر نہایت تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے جا رہے ہیں۔ اس آئینی خلاف ورزی پر انہیں شدید غصہ آیا اور انہوں نے فوری اقدامات کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر شکایتی درخواست سیکریٹری کو بھجوا دی۔ چونکہ معاملہ حساس نوعیت کا تھا، اسی لئے سیکریٹری نے بھی ایمرجنسی اقدامات کا فیصلہ کیا اور تین مہینے بعد ایک ایمرجنسی میٹنگ بلا ڈالی۔ (ویسے یہ او آئی سی کی بات ہر گز نہیں ہے)۔
    جب یار لوگ بیٹھے تو صدر صاحب نے اپنی بیگناہی کی وضاحت دی کہ سپیڈ بریکر کےپر بوجہ سستی انہوں نے بریک استعمال نہ کی تو جھٹکے سے انکا پاؤں غلطی سے دب گیا، جسے انہوں نے فوری اٹھانا مناسب نہ سمجھا، اس لئے وہ تیز رفتاری کرتے ہوئے دیکھے گئے تھے، ورنہ انکا مقصد تیز رفتاری از خود کبھی نہ تھا۔۔۔۔۔
    اگلی صدارت کے امید وار ہم ہیں۔ صرف آپ سب کا ساتھ درکار ہے۔

  10. مصباح بھائی پارٹی کے منشور کی تفصیل جانےبغیر ہی میرا ووٹ آپ کا ہوا …

  11. لا علاج مرض کو سنا ہے کینسر کہتے ہیں۔
    سستی و کاہلی کا کینسر تو ہمیں بھی ہے مگر وقت کی کمی دراصل خود وقت ہے ہا ں کئی بار سستی و کاہلی معاملات کو اُس نہج پر لے جاتی ہے کہ وقت کی کمی محسوس ہوتی ہے مگر درحقیقت وقت کی کمی نہیں ہوتی!!!
    مصباح بھائی میرا ووٹ آپ کے لئے اگر اگلے الیکشن میں آپ میرے ھق میں دستبردار ہونے کا وعدہ کریں تو۔۔۔۔ 🙂

  12. آپی اپنا تو یک نکاتی منشور ہے، اور وہ ہے سستی۔
    شعیب بھائی، تسلی رکھیں، اگر سستی آڑے نہ گئی تو دستبردرای کا علان بر وقت ہو جائے گا۔۔۔

  13. میری بہت پیاری نہن اور بہت عزیز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم سلامت رھو خوش رھو۔ اللہ پاک تم کو ھمیشہ شاد و آباد رکھے آمین

    میری عزیز بہن کل جب میں آفس سے آدھے دن کی چھٹی لیکر گھر گی تو میری ایک بہت عزيز دوست نے کہا کہ کیوں گھر چلی گیئں میں نے کہا میں بہت تھکن سی محسوس کررھی تھی ۔۔ کہنے لگیئں۔ اگر میں تمھاری مینجر ھوتی تو بجاۓ تم کو چھٹی دینے کے تمھاری آواز کی تازگی اور تمھاری شکل دیکھہ کر تم سے دوگھنٹے کی اضافی مشقت لیتی ۔۔ مجھے بہت ھنسی آئ ۔۔۔

    میری مسیحا ۔۔ اللہ تم کو نظر بد سے محفوظ رکھے ۔ھماری مصروف زندگی” میں سستی“، “کاہلی “ حیسی اسائشوں کی کوئ گنجائش نیہں ھے

    میں اپنے رب کی بہت بہت بہت شکر گذار ھوں کہ اس نے مجھے مایوسی ڈپریشن سے محفوظ رکھا ۔میں اپنے آپ کو بہت مصروف رکھتی ھوں ۔۔ ھمہ وقت اپنے رب کا شکر ادا کرتی ھوں ۔۔ کہ ھم جیسے لکھنے پڑھنے والے لوگ ۔۔ھمہ وقت ھی ذھنی طور پر مصروف رھتے ھیں کبھی کبھی میں سوچتی ھوں کہ مصروف رھنا بھی کتنی بڑی نعمت ھے۔۔۔ میرے لیے تو سب سے اچھا وقت وھی ھوتاھے جب میں سب کچھہ بھول کر تھوڑی دیر کے لیے عالمی اخبار کے ھرے بھرے پرسکون ادبی اور علمی ماحول آتی ھوں اور علم اور معلمومات کے سمندر سے بیش قیمت موتیوں سے اپنا دامن بھر لیتی ھوں

    جناب منظور قاضی صاحب آپ کا بہت شکریہ ۔۔ واقعی کبھی کمپیوٹر کی وجہ سے مشکل ھوجاتی ھے۔۔ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے

  14. لو جی کر لو بات ۔۔ میری بہن شاہین بھی نہیں سمجھی کہ میں نے کیا پوچھا ہے ۔۔۔ یا اللہ لڑکی اتنی مصروفیت بھی کیا ۔۔ چلو شاباش دوبارہ سے پڑھو کہ میں نے کیا اپوچھا ہے اور مجھے جواب ضرور لکھنا ۔۔

    سنو یہ ہماری عرشی آپا کا خانساماں لگتا ہے دوبارہ چھتی پر چلا گیا ہے اور آپا خود کھانا بنا رہی ہیں ۔۔ آپا جلدی سے آیئے اور بتائیں کہ کیا پکایا ہے تاکہ میں اور شاہین آ سکیں ۔۔ جلدی سے آئیں اور بتائیں کہ انجمن سستی اور کاہلی کا نیا صدر کون ہو گا ۔۔۔ ابھی تک دو امیدوار سامنے آئے ہیں ۔۔ بھائی مصباح اور شعیب صفدر ۔۔۔ مناف بھائی ابھی سوچ رہے ہیں ۔۔۔ بابا اس فہرست میں نہیں آتے کہ وہ زیادہ تر ملک سے باہر ہی رہتے ہیں ۔۔ یعنی مصروف ترین ۔۔ سو ان کی عرضی تو بغیر پڑھے ہی ایک طرف رکھ دی جائے گی ۔۔۔

  15. میری بہت پیاری دوست اور عزیز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم سلامت رھو،، دوستو میں بھی جب سے سوچ رہی ہوں کہ کیا واقعی سستی، کاہلی اور وقت کی کمی ایسے روگ ہیں جو لا علاج ہو چکے ہیں ۔۔۔

    ایک منظم انسان کے پاس تو خداوند متعال کی دی ھوئ بے تحاشہ نعمتوں پر اظہار شکر ھی سستی کاھلی جیسی لاعلاج بیماری کا مجرب ترین علاج ھے ۔ صدق دل سے الحمد للہ رب العالمین کہنا ۔ نماز بندے کو بلند ترین درجات تک پہجچاتی ھےاور اس روحانی سفر کی بیش بہا نعمتوں کا اندازہ تو صرف پابند صوم و صلاۃ کو ھی ھوتاھے

    مجھے بھی سستی اور کاھلی انجمن کا کوئ عہدہ ضرور دیں ۔۔ او ر ایک آدھ سستی کاھلی لا پر واھی کی جعلی ڈگری بھی ۔۔ پاکستان میں وزیروں کے پاس بھی تو جعلی ڈگریاں ھیں ۔۔۔ ھاھاھاھاھاھاھاا

    میری عز‏يز دوست کھانے کا ذکر کیوں کردیا۔۔ ھمارے صرف دو ھی شوق تو ھیں کھانا اور کھانا۔۔۔ مجھے بتا دینا عرشی آپا سے انکی غزلیں نظمیں کے ساتھہ کچن میں ان کے ھاتھہ کا بنا ھوا کھانا ،، آفس میں بیٹھے ھیں اور ھر طرف شامی کباب اور مٹر پلاو کی خوشبو ۔۔۔ ۔۔ اور براۓ مہربانی ابھی ھم کو اس خواب کے مزے لینے دو ۔۔ یہ تو طے ھے عرشی آپا کے ھاتھہ کا بنا ھوا کھانا لاجواب ھوگا۔ اور پھر تمھارے ساتھہ تو چٹنی روٹی بھی من وسلوی لگے گی

  16. یعنی شعیب صاحب اور میں بھی تھوڑی جلدی دکھا گئے ہیں، ۔۔۔۔۔پہلی شرط تو سُستی تھی، پر ہم سَستی شہرت کے مارے، مار کھا گئے۔۔۔ہاہاہا۔۔ہاہا
    شاہین بہن، آپ کو ڈگریاں تو مل سکتی ہیں، لیکن اس کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کرنا ہوگا، سنا ہے آجل ان کے پاس پروندوں کے پروندے جمع ہیں۔
    آپ کی مصروفیات کے پیش نظر، آپ شاید اس انجمن میں اہلیت نہ پا سکیں۔۔۔۔۔ہاہاہاہا

  17. محترم سید مصباح حسین صاحب۔ آپ لوگ تو ھمار ے لیے روشنی ھیں ایک ایسے چراغ ھیں جو ملیوں دور سے تقویت دیتاھے۔۔ اللہ آپ سب کو سلامت رکھے۔ آمین ثم آمین

    انجمن کے منتخب اراکین کو میری دلی مبارک باد ۔۔۔

    وفاقی وزیر کی جعلی ڈگری کا واقعہ تو چھٹی کے دن بنے والےتہہ دار گرماگرم پراٹھوں کی خوشبو کہ طرح ابھی میڈیا میںگردش کر رھا ھے ھمارے ایک سابق وزیرمملکت بھی جعلی ڈگری ھولڈر تھے پاکستان کے درجن بھر سیاست دانوں کے پاس جعلی ڈگریاں ۔۔۔ اب تو ایسے واقعات پر ھنسی تو کیا رونا بھی نیہں آتا ھے،، یہ سیاست کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھنے والے بے ضمیر جعلی ڈگری ھولڈر سیاسی مداری ۔۔۔ حالیہ پارٹی کی رکنیت ختم ھونے کے بعد کل کسی اور پارٹی میں شامل ھوجایئنگے ۔۔ ان کے پاس بے ایمانی سے جمع کی ھوئ دولت ھے جس سے وہ سب کچھہ خرید سکتے ھیں

  18. کیا شاہین رضوی صاحبہ ( اپنی فرصت میں ) مٹر پلاو اور انکےپسندیدہ کھانوں کی ترکیبیں اس بلاگ میں لکھ سکتی ہیں ؟

    یہ ہی درخواست میں عرشی صاحبہ اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ سے اور نادیہ بتول بخاری صاحبہ اور تمام خواتین اور حضرات سے کر نا چاہتا ہوں ۔

    فقط:
    پاکستانی اور ہندوستانی کھانوں کا دلدادہ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  19. شاہین بہن، من آنم کہ من دانم، ذرہ نوازی کا شکریہ۔۔۔
    گوجرانولہ سے حاجی غلام دستگیر صاحب پہلی بار ہاؤسنگ کے وزیر بنے تو انہوں نے اپنے سیکرٹری سے پوچھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کیا دیکھنا ہے، کیا نہیں، آپ ذرا مجھے کام میں راہنمائی بھی کرتے رہیں۔ سیکرٹری نے کہا کہ سر آپ صرف فائل پر سین لکھ دیا کریں، باقی میں سنبھال لوں گا۔ اگلے دن دفتر سے فائلوں کا اک دستہ نکلا جن پر جلی حروف میں لکھا تھا س، س، س، س، س۔۔۔۔۔۔۔جب تک وزیر تعلیم کا انگوٹھا لگتا تھا، تب تک جعلی اسناد نہیں ملتی تھیں، لیکن اب جب سے مہریں اور دیگر ادارے بنے ہیں، وزیر تعلیم ہر سند پر خود انگوٹھا نہیں لگاتے تو ان کا اس تعلیمی جعل سازی پر انضباط بھی مکمل نہیں رہا۔۔۔۔۔
    قاضی صاحب قبلہ خیال تو اچھا ہے کہ کھانوں کی ترکیبات یہاں ملتی رہیں، اور بہتر ہے اگر ایک الگ پلاؤلی و کبابینہ قسم کا بلاگ بھی کھل جائے تو۔بلکہ اک ورکشاپ ہونی چاہیئے جہاں ہم آپ اپنے نیم پکے و مکمل جلے کھانوں (خانوں یعنی پٹھانوں نہیں) کی اصلاح بھی لے سکیں۔ سچی بات ہے پردیس میں سبھی دیسی کھانے اچھے لگتے ہیں، لیکن صرف اگر خود نہ پکانے پڑیں تو۔ ۔۔۔۔ورنہ ہم تو خیالی پلاؤ کو ہی جوگالی پلاؤ بنا کر گزارے کرتے ہیں۔ ۔۔۔

  20. لکھنے کو تو میں بھی بہت کچھ لکھ سکتا ہوں لیکن . . .

    . . . کون سوچے اور کون لکھے

  21. نیم پکے و مکمل جلے کھانے ۔۔ ہاہا مصباح بھائی کیا اچھاعنوان تراشا ہے ۔۔ اور یقین جانئے میرے کھانے ایسے ہی ہوتے ہیں ۔۔ اس لئے مجھ سے اچھی ترکیب کون جان سکتا ہے ۔۔ لیکن “جوگالی پلاؤ“ مجھ سے اچھا نہیں بنتا ۔۔ پلیز میرے اچھے بھائی “جوگالی پلاؤ “ کی ترکیب عنایت کر دیجئے ۔۔ ہم خواتین کا بھلا ہو گا سو ھو گا ۔۔ گھر والوں کو نیم پکے و مکمل جلے کھانوں سے نجات بھی مل جائے گی ۔۔ رشوت کے طور پر آپ کو جھولیاں بھر بھر کر دعائیں پیشگی بھیج رہی ہوں ۔۔

  22. شاہین جعلی ڈگریوں میں میر احصہ بھی رکھنا ۔۔

  23. منظور بھائی میں “مینو “ اچھا بنا لیتی ہوں ۔۔ کھانا ۔۔ مت پوچھیں ۔۔۔ چلیں آپ بھی ہمارے ساتھ عرشی آپا کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھاتے ہیں ۔۔ سنا ہے ان کا خاندانی خانساماں اپنے خاندان والوں سے ملنے گیا ہوا ہے اور آج کل آپا اپنے خاندان کے لئے کھانا خود ہی بنا رہی ہیں ۔۔ اور عالمی اخبار کی بلاگ فیملی عرشی آپا کا خاندان بن چکی ہے ۔۔۔ سو ان کی مجبوری ہے ہمیں کھانا کھلانا اور ترکیبیں بھی بتانا ۔۔۔

  24. مناف بھائی ۔۔ مزہ آ گیا پڑھ کر ۔۔ کیوں ؟ اب اتنا کون لکھے ۔۔۔ ہا ہا ہا

  25. خیالی پلاو کھاکر اتنا مزہ آرہا ہے تو ہماری اس بزم کی خواتین کےہاتھ کا پلاو کیسا ہوگا؟

    حیدرآباد ( دکن ) کی کچے گوشت کی بریانی ، خوبانی کا میٹھا اور بگھارے بیگن کھائے زمانہ گذر گیا ۔ ۔
    یہ مرغن غذائیں صرف حیدر آبادی گھرانوں کی شادیوں کے دوران ملتی رہتی ہیں۔
    جرمنی میں “ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا “ کا معاملہ ہے۔

  26. اس بلاگ پر کوئی 25 تبصرے ہو چکے ہیں اور میں اب آیا ہوں. پہلے تو دست بستہ معذرت اور وجہ یہ امریکہ اور کینڈا کا جاری سفر ہے جس کے دوران وقت نکالنا ہوتا ہے.
    اللہ گواہ ہے کہ میں سست آدمی نہیں. یقین کریں کہ سوتے میں بھی کام کرتا ہوں.کیسے؟ یہ بھی آپکو کسی دن بتاؤں گا.
    سست کو تو انسان ہی نہیں کہتے. سست تو کھچوا ہوتا ہے، سنیل ہوتا ہے، مالدار ہوتا ہے اور بڑا ادیب شاعر ہوتا ہے،بے عمل ملاں ہوتا ہے. اللہ کا شکر کہ ہم کامل نہ سہی کسی حد تک فعال ہیں اور فعال احباب کے ساتھ موجود ہیں اور اسی فعالیت اور تحرک کا نام زندگی ہے

  27. جناب صفدر ھمدانی صاحب سے یہی عرض ہے کہ
    بہ سفر رفتنی مبارکباد
    بہ سلامت روی و باز آئی

    اللہ آپ کو آپ کا سفر مبارک کرے اور آپ کو تمام آفات و بلاوں سے محفوظ رکھکر واپس اپنی بیوی اور بچوں کے پاس لائے ۔

    ویسے آپ جیسے جہاں نوردوں کےلیے ہی شایدِ جگر نے یہ کہا ہے کہ :
    کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پر
    میں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصلِ بہار پر

    آپ دنیا میں جہاں بھی رہیں آپ کا عالمی اخبار اپ کی موجودگی کا مظیر بھی ہے اور شاہد بھی ۔

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    میونخ کے ایک قریبی گاوں سے

  28. عزّت مآب تبصرہ نگار بھائیو اور بہنو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ معاف کیجیئے گا ۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے جسم وجان اور محنت کے جزبہ میں اگر سستی، کاہلی یا پھر وقت کی کمی ہوتی تو تبصروں میں حیدرآباد ( دکن ) کی کچے گوشت کی بریانی ، خوبانی کا میٹھا اور بگھارے بیگن ، مرغن غذائیں ، جوگالی پلاؤ ، تہہ دار گرماگرم پراٹھے ، شامی کباب اور مٹر پلاؤ کے خوشبودار و ذائقے دار کھانے بنانے والے محنت کے کام کیسے ہوتے،
    اور اگر ہم سست ، کاہل، کام چور ہوتے توان کھانوں کو ہضم کرنے کیلئے جعلی ڈ گریوں کے چورن بھی بھی نہ بنتے اور ہم وزیر کی بجائے مزدور اور دفتر کے دروازے کے چپڑاسی ہوتے ۔
    اور اگر ہم سست ، کاہل، کام چور ہوتے تو جعلی ڈگری کے الزام کے بعد پانچ برس کا انتظار کرتے یا خودکشی کر لیتے ، اور ایک ماہ کے اندر اندر دوبارہ وزیر بننے کا لباس پہن کر اسپتال کے ڈاکٹروں اور نرسوں کی پٹائی کرنے کے قابل بھی نہ ہوتے ، یہی تو ہماری چستی اور پھرتی کا منہ بولتا ثبوت اور فن کا کمال ہے ۔
    اگر ہم سست اور کاہل ہوتے تو تمام پیسے جیب میں ہی رکھے ہوتے ، دیکھو آج ہم نے بے شمار ملکوں کے بنکوں کو ہاؤس فل کر دیا ہے،
    اگر آپ سب کے خیال میں اب بھی ہم سست اور کاہل ہیں تو پھر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  29. ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نگہت جی ، دیکھا میں کتنی سست ہوں ۔۔۔۔+پ کو میرے نام پیغام لکھے زمانہ بیت گیا اور اس کا جواب دینے کا ۃوش مجھے +ج +یا ۔سستی کی نہیں جاتی سستی ہوجاتی ہے ۔۔۔اور یاد رکھئے جس سستی کا میں نے ذکر کیا تھا وہ ایسی سستی تھی جو بہت سے کاموں میں اس لئے ہوجاتی ہے کہ باقی کے بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں ۔
    بہرحال میرے بس میں ہو تو ہفتے میں ایک دن مکمل بیڈ کی نذر کر دوں ،نہ کوئی بات کہوں ، نہ سنوں ، نہ ہلو نہ جلوں ،نہ پڑھوں نہ لکھوں ۔۔مگر بچوں کے ساتھ گھن چکر ۔یہ شوق میں شادی سے پہلے پورا کرتی تھی ۔۔۔کبھی کبھی یوں ہوتا ۔ سر پر تیل لگا کر بستر میں گھس جاتی اوردو کتابیں ساتھ رکھ لیتی ،،ایک کورس کی اور ایک کوئی ناول یا افسانے کی ۔۔امی کے +نے پر کورس کی اور ان کے باہر جانے پر وہی غیر اخلاقی کتابیں ۔۔ہا ہا ۔۔۔۔جتنے بھی سست ہوجاو ،،کتاب سے جان نہیں چھٹ سکتی ۔۔تو سست تنظیم کی سربراہ مجھے بان دیا جائے تو میں بالکل مائنڈ نہیں کروں گی ۔

  30. انجمن سستی و کاہلی کا تا حیات چیئر پرسن مجھ سے بہتر کوئی اور نہیں ہو سکتا جو تبصروں میں 29ویں نمبر یا شاید سب سے آخر میں شامل ہو رہا ہوں کیونکہ ’ سستی، کاہلی اور وہی پرانا روگ وقت کی کمی ‘

    اگر سست ، کاہل اور وقت برباد کرنے والے وزیروں کے ہوتے ایک ملک چل سکتا ہے تو پھر یہ مرض کسی طرح لاعلاج تو نہ ہوا۔

    مصباح صاحب نے اپنے دانشمند وزاراء کے لطیفے بیان کئے تو مجھے بھی ایک صاحب یاد آگئے۔ بھٹو مرحوم کے دورِ حکومت میں ہر چیز کے جال بچھانے کا بڑا رواج تھا۔ وزیر تعلیم سکولوں کالجوں کے جال بچھانے، وزیر صنعت صنعتوں کے جال بچھانے جبکہ وزیر صحت ہسپتالوں ڈسپینسریوں کے جال بچھانے میں مصروف تھے کہ ملک حاکمین خان نے اپنے ایک جلسے میں جوشِ خطابت میں اعلان کر ڈالا کہ ہم ملک میں جیلوں کے جال بچھا دیں گے، کیونکہ وہ بچارے وزیرِ جیل خانہ جات تھے۔

  31. اتنے امید وار سامنے آئے ہیں اور سب ایک سے بڑھ کر ایک قابل۔۔۔ چلیں، میں تو دستبردارہی ہو جاتا ہوں۔۔۔۔کیوں۔۔۔شاید اتنی فرصت نہیں کہ سستی کر سکوں۔
    بقول ظفر اقبال
    نہ کوئی بات کہنی ہے نہ کوئی کام کرنا ہے
    اور اسکے بعد کافی دیر تک آرام کرنا ہے ۔۔۔۔۔
    بھئی بات یہ ہے کہ میں تو اگلوا رہا تھا کہ کون کون سستی کا اقرار کرتا ہے۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔چلیں یہ بلاگ اس حوالہ سے اک شاہکار ہے کہ ابھی تک صرف ہنسنے ہنسانے کی باتیں ہی ہو رہی ہیں۔ سارا ثواب نگہت آپی کو جاتا ہے۔
    ——————
    کیانی صاحب کہیں انہی وزیر موصوف نے تو نہیں کہا تھا کہ ہم اپنی فٹ بال ٹیم کے سبھی کھلاڑیوں کو اپنا پنا گیند لے دیں گے، تا کہ ایک گیند پر چھینا جھپٹی نہ ہو۔ ۔۔۔۔شورکوٹ میں ایک شیخ صاحب سیاسی راہنما تھے۔ صدر ضیاء کا طیارہ فضا میں ان سمیت پھٹ گیا تو مختلف راہنماؤں نے مختلف بیانات دئیے۔ ان شیخ صاحب نے فرمایا کہ یہ سب امریکا کی سازش تھی کہ عین محرم میں انکا حادثہ کروادیا تا کہ قوم منقسم ہو جائے اور قانون شکن عنصر من مرضی کر لیں۔۔۔انہوں نے مزید فرمایا کہ کیا ہوتا اگر امریکا صبر کر لیتا اور یہ حادثہ محرم کے بعد کرا لیا جاتا۔۔۔۔۔
    میاں نواز شریف صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ تقریر میں لکھا تھا

    Pakisatn’s aid has been stopped by US

    تو موصوف نے پڑھا تھا کہ پاکستانز ایڈ ہیز بیین سٹوپڈ بائی اس۔
    مجھے یاد ہے تب ہم بارہویں جماعت میں تھے جب ایک محفل میں پروفیسر مشکور حسین یاد صاحب کی گفتگو سننے کا موقع ملا۔ آپ کہ رہے تھے کہ نواز شریف کلاس میں سب سے نا لائق، لیکن سب سے زیادہ تابعدار شاگرد ہوا کرتا تھا۔
    مرحوم و محروم وزیر اعظم محمد خان جونیجو فرمایا کرتے تھے کہ میں نے امریکی صدُر کو بتایا کہ ہم نے جمہورت بھال کیا ہے تو وہ خوش ہوا، اور میسز تھیچُر نے کہا کہ شاباش۔۔۔۔۔۔بہر کیف تب سندیں کم از کم اصلی ہی ہوا کرتی تھیں۔

  32. ’ کہاں تک سنائیں۔۔۔۔۔! ‘ ۔ تاریخ بھری پڑی ہے ایسے شاہپاروں سے۔ ویسے قیام پاکستان سے آج تک کے حکمرانوں کے لطائف پہ مبنی ایک علحٰدہ بلاگ بھی شروع کیا جاسکتا ہے جو عالمی اخبار کے قارئین کے بھرپور تعاون سے ایک مثالی دستاویز بن سکتی ہے۔

  33. جناب منظور قا‍ ضی صاحب ھم سےمٹر پلاو کے بجاۓ اکثر احباب۔ خیالی پلاو ، خیالی قورمہ کی آزمودہ ترکیبں پوچھتے ھیں ۔۔ جو ھم پوری سچائ کے ساتھہ بتا دیتے ھیں اللہ جانے اب شیخ چلی کس حال میں اور کس ریاست میں ھیں ھم ان کی یہ خاص تراکیب ان سے چھپ کر ھی عام کر رھے ھیں۔۔۔۔ محترم جاوید اقبال کیانی صاحب سلامت رھیں ۔۔واہ کیا زبردست خیال ھے کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک کے حکمرانوں کے لطائف پہ مبنی ایک علحٰدہ بلاگ بھی شروع کیا جاۓ جو عالمی اخبار کے قارئین کے بھرپور تعاون سے ایک مثالی دستاویز بن جاۓ گا۔۔۔

    سوکھے ھوۓ دریا سے ایک پاکستانی محنت کش زندہ مچھلی پکڑ کر لایا
    بیوی سے کہا کہ اس تازہ مچھلی کا مرغ پلاو بناو۔

    بیوی بولی ھمارے مللک میں سچی قیادت کے ساتھہ تعلیم ۔ بھائ چارگی ۔ آٹا، بجلی ۔ پانی گیس گھی کا سخت بحران ھے بھلا مچھلی کیسے پکے گی ۔۔

    غریب آدمی نے ايک گہرا اور غم زدہ سانس لیا اور واپس مچھلی کو خشک دریا میں ڈال دیا۔۔ تھوڑی دیر بعد مچھلی اپنی 8|10 ھم جولیوں کے ھمراہ سطح آب سے آبھری اور روزسے نعرہ لگایا

    : زرداری زندہ باد

  34. چلیں آپ سب احباب کے خاموش اصرار پر، آپکی خدمت میں پلاؤ بنانے کی ترکیب حاضر ہے۔
    ایک کپ چاول لیں اور کچھ گوشت لے لیں۔ چاولوں کو اچھی طرح صاف کر لیں اور تھوڑی دیر ہلکے گرم پانی میں رکھ دیں۔ اب ایک پیاز لیں، چھلکے اتار کر باریک کاٹ لیں۔ ایک چمچ نمک اور آدھ چمچ مرچ، آدھ چمچ گرم مصالحہ اور آدھ پیالی تیل لے لیں۔ جب یہ سب تیار ہو جائے تو چولھا چلا کر ان سب کو پکا لیں۔۔۔۔ لو جی گرما گرم پلاؤ تیار ہے۔ خود مت کھائیں کیونکہ بیمار ہونے کا خطرہ ہے۔ گھر کے پچھواڑے میں کبوتروں اور پرندوں کو ڈال دیں۔ بہت ثواب ہوگا۔۔۔۔
    چالیس دن تک یہی عمل کرنے سے پرندوں کی بولی سمجھ آنے لگے گی، یا کم از کم پرندوں کوآ پ کی بولی سمجھ آ جائے گی۔ آزمائیش شرط نہیں ہے۔

  35. توبہ مصباح بھائی میں تو چلی تھی پکانے یہ پلاؤ اپنے مہمانوں کے لئے جو کینیڈا سے پانچ دنوں کے لئے میرے غریب خانے پر تشریف رکھتے ہیں ۔۔ وہ بھلا ہو آپ کا جو بتا دیا کہ پرندوں کے واسطے ہے ۔۔ اور ان سے باتیں سمجھنے کا آزمودہ نسخہ ہے ۔۔ بھائی جی سنتے ہیں انسانی دل تک رسائی کے بھی یہی نسخے ہیں ۔۔۔۔ ۔۔

  36. بالکل درست کہا آپ نے آپی۔۔۔۔۔اللہ کے بندوں کا دل جیت لیں تو رب بھی خوش ہوتا ہے۔۔۔پر یہ آپ کا حسن ظن ہے کہ ایک محض مزاحیہ بات کا انجام بھی اتنا خوبصورت کر دیا۔ جیتی رہیئے سدا خوشیوں کے ساتھ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *