یہ خبر کچھ پرانی ہے مگر ہے بہت مزیدار کم از کم میرے لئیے تو بہت ہی مزیدار ہے۔ سوچا اس پر بلاگ بنا کے دیکھتی ہوں کے یہ خبر صرف مجھے ہی مزے کی لگی ہے یا پھر سب کو مزہ آ جائے گا؟
خبر کچھ یوں ہے کے ۔۔۔
لاھور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چوہدری صاحب نے بیرون ملک بنکوں میں پاکستانی سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے واپس لانے کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب کو ہدایت کی ہے کے وذارت داخلہ سے رابطہ کر کے بتائیں کے کیا پولی گرافک مشین (جھوٹ پکڑنے کی مشین) پاکستان لانے کے انتظامات کئیے جا رہے ہیں؟ کیا حساس اداروں میں اس مشین کی تنصیب کی جا سکتی ہے ؟اور اس پر کیا لاگت آئے گی؟
درخواست گزار نے اپنی درخواست میں بہت سی باتیں کی ہیں مگر سب سے اہم بات یہ کی کے جج صاحب فیڈرل بورڈ آف ریونیو اوراینٹی کرپشن حکام کو یہ حکم بھی صادر فرمائیں کے وہ جھوٹ پکڑنے والی مشینیں لگائیں اور اسکا انتظام عدالتوں میں بھی کیا جائے۔۔
لہزا ابھی تو جسٹس صاحب نے ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب سے صرف رپورٹ ہی طلب کی ہے فیصلہ تو جب ہوگا جب وزارت داخلہ جواب دیتی ہے
اب وزارت داخلہ کیا جواب دے گی اس پر؟
کیا یہ مشینیں پاکستان میں جمہوری حکومتوں میں لگائی جا سکتی ہیں ؟
اگر یہ مشینیں پاکستان آ گئیں اور لگ بھی گئیں تو کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
میرے بس یہی سوال ہیں جن کے جواب میرے پاس تو نہیں آپ میں سے کسی کے پاس ہیں تو پلیز مجھے بھی بتائیں اور سب سے شئیر بھی کریں ۔۔۔؟

فکر نہ کریں، جج یہ مشین پاکستان نہیں آنے دیں گے، کیونکہ اس سے توہین عدالت سر زد ہوجانے کا شدید خطرہ ہے۔۔۔
محترمہ ماریہ صاحبہ،
ہمیں جھوٹ پکڑنے والی نہیں بلکہ سچ پکڑنے والی مشینوں کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کرنے میں آسانی ہو کہ مجرم کہیں سچ تو نہیں بول رہا !
محترم جناب جاوید اقبال کیانی صاحب ۔۔۔۔۔ السّلام و علیکم
بہت خوب ،،،، آپ نے عدالتوں میں سچ پکڑنے والی مشینوں کی ضرورت کا ذ کر فرما کر انصاف کی جلد رسائی کی راہ ہموار کرنے کیلئے بہت اچھی تجویز دی ہے، کیوں کہ ہماری بے ہڈی کی زبان پر جھوٹ کی فراوانی نے سچ کو اقلیت میں تبد یل کر دیا ہے ۔ اور آجکل سچ خال خال ہی کہیں مقدر سے ملتا ہے، تبھی تو دادا جی کی فریاد کا فیصلہ پوتے پڑپوتے سن رہے ہیں،
لیکن ،،،،،،،،،،
اللہ خالق کائنات نے اپنے کلام پاک میں جھوٹ اور سچ کو علیحدہ کرنے کی ٹیکنالوجی کے بندوبست کا ذکر بھی فرما دیا ہے کہ ( الیوم نختم علٰی افواھھم ، و تکلمنا اید یھم ، و تشھد و ارجلھم ) اور اس روز “ حساب کتاب والے دن “ مونہوں پر مہر لگا دی جائینگی اور ہاتھ بولیں گے اور پاؤں گواہی دینگے۔ ( اگر آیت یا ترجمہ میں غلطی ہو تو میری اصلاح فرما کر مشکور فرمائیں ) ۔
کاش ہم اس روز کی رسوائی سے بچنے کیلیئے اپنے بنک اکاؤنٹ، محل، شوگر ملز، ٹیکسٹائل ملز، اسٹیل ملز، فاؤنڈریز ، ہزاروں ایکڑ اراضی ، قتل، ظلم ، جعلی ڈگریوں، اقربا پروری اور نا انصافیوں کے سچ کا اظہار سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کی بجائے اپنے سے قریب ترین عد الت میں کر کے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس محترم افتخار چودھری اور محترم اعجاز چودھری کو بھی کچھ آرام کرنے کا موقع دے دیں ۔
جناب محمّد علی خان صاحب،
حضور آپ کی تائید کا بہت شکریہ۔
نہ صرف یہ بلکہ میں تو یہ بھی تجویز پیش کرنے کی جسارت کروں گا کہ عدالتوں میں مجرموں اور گواہوں (جھوٹے) سے لیے جانے والے حلف کی عبارت کو بھی کچھ اس طرح تبدیل کیا جائے ’ کہ میں مسمی دروغ گو ولد کاذب خان ، قوم جھوٹ مُوٹ، ساکن جھوٹ نگر یہ حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ میں سچ کے علاوہ سب کچھ بولوں گا ‘۔ اس کے بعد سچ پکڑنے والی مشین لگا دی جائے کہ مجرم کہیں سچ تو نہیں بول رہا ۔
آپ نے ، خالق کائنات کے اپنے کلام پاک میں جھوٹ اور سچ کو علیحدہ کرنے کی ٹیکنالوجی کا بالکل برمحل ذکر فرمایا ہے کہ ( الیوم نختم علٰی افواھھم ، و تکلمنا اید یھم ، و تشھد و ارجلھم ) اور اس روز “ حساب کتاب والے دن “ مونہوں پر مہر لگا دی جائینگی اور ہاتھ بولیں گے اور پاؤں گواہی دینگے۔
لیکن جن کے دلوں اور سینوں پہ مہریں لگا دی گئیں ایسےعقل کے اندھوں کی بھی تو ساتھ ہی نشاندھی کر دی گئی (صُم، بُکم، عُم فھم یا یرجِعُون۔۔۔۔کی بورڈ میں موزوں اعراب کی غیر دستیابی کی بنا پر اعراب کی غلطیوں کو اللہ معاف فرمائے) کہ جو سب کچھ دیکھتے اور سنتے ، اندھے اور بہرے ہیں۔
آپ نے کیا خوب فرمایا ’ کاش ہم اس روز کی رسوائی سے بچنے کیلیئے اپنے بنک اکاؤنٹ، محل، شوگر ملز، ٹیکسٹائل ملز، اسٹیل ملز، فاؤنڈریز ، ہزاروں ایکڑ اراضی ، قتل، ظلم ، جعلی ڈگریوں، اقربا پروری اور نا انصافیوں کے سچ کا اظہار سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کی بجائے اپنے سے قریب ترین عد الت میں کر کے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں‘
قبلہ ، اسی کا نام تو تقویٰ ہے کہ جب انسان کے دل میں خوف خدا یوں بیٹھ جائے ’ کہ جہاں کوئی بھی نہیں دیکھ رہا وہاں خدا کی ذات دیکھ رہی ہے ‘ تو بہت سی برائیاں جنم لینے سے پہلے ہی مر جائیں۔ والسلام۔