عالمی اخبار کے لیئے معروف شاعر اشفاق حسین کی خصوصی شاعری
8 thoughts on “عالمی اخبار کے لیئے معروف شاعر اشفاق حسین کی خصوصی شاعری”
تیرے پہلومیں، ترے دل کے قریں رہنا ہے
میری دنیا ہے یہی، مجھ کو یہیں رہنا ہے۔
اشفاق صاحب کا ذکر خیر و توصیف برادر بزرگ جناب سبطین حسنی سے سن رکھےتھے۔۔۔۔ جیسا سنا تھا ، آپ نے ویسا ہی ملوا دیا۔ واہ بھی واہ۔ اتنے اعلیٰ پائے کے شاعر کو مجھ سے انسان کا داد دینا گو کہ کوئی معنی نہیں رکھتا، لیکن وہ کیا ہے کہ بخل سے بھی تو کام نہیں چلے گا ناں۔ نظم اور غزل دونوں ہی لا جواب ہیں۔ لیکن اب ھل من مزید والی بات ہے۔
بھئی واہ کیا کہنے ..سبحان اللہ .. مصباح بھائی آپ کو یاد ہے اشفاق بھائی نے یہی غزل اور نظم یہاں سڈنی کے مشاعرے میں بھی سنائی تھی .. میں تو وہی نہیں بھولی تھی ابھی تک .. اشفاق بھائی کے اشعار کہنے کا طریقہ شعر کا منظر کشید کر دیتا ہے .. ایسے لگتا جیسے لفظ باتیں کرتے ہیں .. اپنے دل کی بات اتنی آسانی سے کہنا ہر شاعر کی بس بات نہیں .. لیکن اشفاق بھائی کے ہاں ہر قسم کی آسائیش موجود ہے .. مجھے اشفاق بھائی کا ریڈیو انٹرویو کرنے کا شرف بھی حاصل ہو چکا ہے … میرے یادگار انٹرویو میں سے ایک یادگار انٹرویو تھا .. میری بڑی خواہش ہے کہ اپنے یادگار انٹرویوز کو لکھ کر محفوظ کر لوں …
مصباح بھائی واقعی آپ نے سچ کہا ک ہم جیسے انسانوں کی داد سے بھلا کیا معنی رکھتا ہے ..جب اشفاق بھائی کو داد دینے والوں میں حسنی بھائی جیسے قادرالکلام شاعر ہوں …
میں اپنے بلاگ فیملی کو بتانا چاہتی ہوں کہ بھائی نجم سبطین حسنی .. مصباح بھائی کے بڑے بھائی ہیں .. اور میرے پسندیدہ ترین شاعروں کی فہرست میں سر فہرست ہیں … مجھے ابھی بھی کئی ایسے مشاعرے یاد ہیں جن میں ، میں نے صرف حسنی بھائی کی وجہ سے شرکت کی تھی .. اور وہ بھی یاد ہیں جن میں نہیں گئی تھی کہ حسنی بھائی نہیں تھے .. اور یہ بھی بتاتی چلوں کہ میں نے سڈنی میں ابھی تک کسی مشاعرے میں نہیں پڑھا .. لیکن ہر اس مشاعرے میں شرکت کی ہے جس میں حسنی بھائی پڑھتے ہیں .. اس لئے کہ میں سماعتوں کی خوبصورتی پر سب سے زیادہ یقین رکھتی ہوں .. کاش میں آپ سب کو بتا سکتی کہ حسنی بھائی کس طرح سے اشعار میں انسانی جذبوں کی تصویر کھینچ دیتے ہیں اور پھر قیامت کا ترنم .. لب ولہجہ … میں بابا سے التجا کرونگی کہ کینڈا سے واپس آکر میرے گھر ہونے والے مشاعرے کا وہ حصہ وڈیو میں لگائیں جس میں حسنی بھائی نے ایک کیفیت باندھ دی تھی .. جس کی خوشبو سے آج بھی میرے گھر کے درو دیوار مہکتے ہیں …
دیکھئے بات کہاں سے کہاں نکل گئی .. سو جب اشفاق بھائی کو حسنی بھائی ، عرشی آپا اور بابا جیسے سخن شناس داد دیتے ہوں .. وہاں پر مجھ کم علم کا کیا کام .. ہم تو سماعتوں پر ناز کرنے والے لوگ ہیں ..
اسلام و علیکم
ماشاالله بہیت خوب بہترین اندازِ بیان اور خوب صورت الفاظ مُجھے یوں تو کویی علم نہیں نہ میری کوئی فکری سوچ رکھتی ہوں نہ مُجھے اس سب کا ادراک ہے مگر پھر بھی ہر خوبصورت جیز دل کو خُود بہ خُود چھو جاتی ہے اس لیے یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہو گا کے بے حد حسین کلام ہے –
میں تمام عالمی اخبار کی طرف سے بے حد مشکور ہوں کہ جناب اشفاق حسین صاحب کی کے جنہوں نے ہم سب کو اپنا اتنا قیمتی وقت دیا اور اتنا خوبصورت کلام ہماری سماعتوں کی نظر کیا اس طرح سے کہ اس وقت یہ کلام سننے کے بعد خدا کی مشکور ہوں کہ اُس نے سمعت دے رکھی ہے کہ یہ کلام میں سُن سکی –
اُمید ہے کہ خدا نے چاہا تو ہم آگے چل کر اور بھی بہیت سے ایسے ہی حسین کلام سنتے رہیں گے ۔انشاالله
الله حافظ و ناصر-
اشفاق صاحب ! بہت خوب ، کہا ہے————-دل کی جاگیر میرا بھی کوئی حصہ رکھ ..میں بھی تیرا ہوں مجھے بھی تو کہیں رہنا ہے. …….. اتنے سادہ الفاظ کا استمال، سن کر بہت محظوظ ہوئی،
لگتا ہے سُستی والے بلاگ کا اثر یہاں نکل رہا ہے۔۔۔۔ انجمنِ کاہلان و سُستگان عالمیہ میں قیادت کے لئے اپنی اپنی کرسی پکی کرنے کو کہیں سبھی دبکے تو نہیں بیٹھے۔۔۔قبلہ قاضی صاحب تو میونخ کے قریبی گاؤں میں عصر حاضر کی سہولیات کی عدم موجودگی کے سبب زیادہ کچھ نہیں لکھ پارہے ہونگے، ورنہ ایسے ادبی موضوعات پر ان کے یہاں سستی کا کوئی وجود نہیں ہے۔۔۔ولیکن یہ باقی لوگ تو ابھی شہروں میں ہی کہیں تھے؟ ۔۔۔ یا نہیں؟
( احباب اس گفتگو کے سستی سے متعلق مندرجات کو صرف از راہ تفنن لیجیئے گا۔۔۔)
سید مصباح حسین جیلانی صاحب سے عرض ہے کہ انہوں نے بالکل صحیح اندازہ لگا یا کہ میں
“میونخ کے قریبی گاؤں میں عصر حاضر کی سہولیات کی عدم موجودگی کے سبب زیادہ کچھ نہیں لکھ “ پارہا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔
اشفاق حسین صاحب کے ہر شعر کو سن کر بے اختیار: ماشااللہ ، سبحان اللہ، مرحبا ، جزاک اللہ ، بہت خوب ، بہت اچھے ، مکرر ارشا د کہنا پڑتا ہے: ( اس ویڈیو کی خوبی یہ ہے کہ میں اس کو بار بار اپنی اسی داد کے ساتھ سنتا رہتاہوں ):
غزل از اشفاق حسین صاحب ( شاید اشفاق تخلص رکھتے ہیں ) :
ترے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہے
میری دنیا ہے یہی مجھ کو یہیں رہنا ہے
کام جو عمرِ رواں کا ہے اُسے کرنے دے
،ہری آنکھو ں میں سد ا تجھ کو حسیں رہنا ہے
میں تری سلطنتِ حُسن کا باشندہ ہوں
مجھ کو اب اور کہیں جاکے نہیں رہنا ہے
دل کی جاگیر میں میرا بھی کوئی حصہ رکھ
میں بھی تیرا ہوں مجھے بھی تو کہیں رہنا ہے
آسماں سے کوئی اُترا نہ صحیفہ نہ سہی
تو مرا دیں ہے مجھے صاحبِ دیں رہنا ہے
جیسے سب دیکھ رہے ہیں مجھے اس طرح نہ دیکھ
مجھ کو آنکھوں میں نہیں دل میں کہیں رہنا ہے
چاند چمکے گا یونہی ، پھول یونہی مہکینگے
تیرےرہتے ہوئے منظر کو حسیں رہنا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی اچھی اور اتنی سادہ مگر اتنی گہری غزل کے ہر شعر پر بار بار داد دینا پڑتا ہے ِ
۔۔۔۔۔۔
اس ویڈیو میں اشفا ق حسین صاحب کی یہ نظم بھی ماشا اللہ بہت ہی خوب ہے:
عنوان : ذومینگ zooming
دیکھوں جو آسماں سے تو اتنی بڑی زمیں
اتنی بڑی زمین پہ چھوٹا سا اک شہر
چھوٹے سے اک شہر میں سڑکوں کا ایک جال
سڑکوں کے جال میں چھپی ویران سی گلی
ویراں گلی کے موڑ پہ تنہا سا ایک شجر
تنہا شجر کے سایہ میں چھوٹا سا اک مکاں
چھوٹے سے اک مکان میں کچی زمیں کا صحن
کچی زمیں کے صحن میں کِھلتا ہوا گلاب
کِھلتے ہوئے گلاب میں مہکا سا اک بد ن
مہکے ہوئے بدن میں سمندر سا ایک دل
اُس دل کی وسعتوں میں کہیں کھو گیا ہوں میں
یوں ہے کہ اِس زمیں سے بڑا ہوگیا ہوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر زوار قمر عابدی صاحب اس نظم کو پڑھ رہے ہیں تو وہ ضرور اس میں جو “ صنعت “ استعمال کی گئی ہے ( یعنی پہلے مصرعہ کے آخری الفاظ کو دوسرے مصرعہ کے آغاز کا حصہ بنانے کی صنعت ) کا انتہائی کامیاب اور موثر مظاہرہ دیکھرہے ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔
جیسا کہ جناب صفدر ھمدانی صاحب نے فرمایا ہے کہ اس نظم میں بھی غزلیت موجود ہے ۔
۔۔۔۔۔
میں خوش ہوں کہ میں نے بالآخر اس بلاگ پر توجہ دی اور اتنے اچھے کلام کو جو عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن میں منتقل ہونا چاہیے ( امید کہ زرقا مفتی صاحبہ اس یونی کوڈ میں لکھے ہوئے اشفاق حسین صاحب کے کلام کو شاعری کے سیکشن میں متقل کرسکینگیں )
فقط:
اشفاق حسین صاحب کے مزید اشعار پڑھنے کا خواہشمند
منظور قاضی
از جرمنی
جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ :
“لگتا ہے سُستی والے بلاگ کا اثر یہاں نکل رہا ہے۔۔۔۔ انجمنِ کاہلان و سُستگان عالمیہ میں قیادت کے لئے اپنی اپنی کرسی پکی کرنے کو کہیں سبھی دبکے تو نہیں بیٹھے۔۔۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس اہم بلاگ میں اب تک سیر حاصل تبصروں کی کمی کی وجہ ( میرے شعر کے مطابق ) یہ ہے کہ :
ہر ایک جذب ہے اپنی ہی ذات میں قاضی
بشر کو ڈھونڈتے کیوں ہو بتوں کی بستی میں؟
۔۔۔۔۔
تیرے پہلومیں، ترے دل کے قریں رہنا ہے
میری دنیا ہے یہی، مجھ کو یہیں رہنا ہے۔
اشفاق صاحب کا ذکر خیر و توصیف برادر بزرگ جناب سبطین حسنی سے سن رکھےتھے۔۔۔۔ جیسا سنا تھا ، آپ نے ویسا ہی ملوا دیا۔ واہ بھی واہ۔ اتنے اعلیٰ پائے کے شاعر کو مجھ سے انسان کا داد دینا گو کہ کوئی معنی نہیں رکھتا، لیکن وہ کیا ہے کہ بخل سے بھی تو کام نہیں چلے گا ناں۔ نظم اور غزل دونوں ہی لا جواب ہیں۔ لیکن اب ھل من مزید والی بات ہے۔
بھئی واہ کیا کہنے ..سبحان اللہ .. مصباح بھائی آپ کو یاد ہے اشفاق بھائی نے یہی غزل اور نظم یہاں سڈنی کے مشاعرے میں بھی سنائی تھی .. میں تو وہی نہیں بھولی تھی ابھی تک .. اشفاق بھائی کے اشعار کہنے کا طریقہ شعر کا منظر کشید کر دیتا ہے .. ایسے لگتا جیسے لفظ باتیں کرتے ہیں .. اپنے دل کی بات اتنی آسانی سے کہنا ہر شاعر کی بس بات نہیں .. لیکن اشفاق بھائی کے ہاں ہر قسم کی آسائیش موجود ہے .. مجھے اشفاق بھائی کا ریڈیو انٹرویو کرنے کا شرف بھی حاصل ہو چکا ہے … میرے یادگار انٹرویو میں سے ایک یادگار انٹرویو تھا .. میری بڑی خواہش ہے کہ اپنے یادگار انٹرویوز کو لکھ کر محفوظ کر لوں …
مصباح بھائی واقعی آپ نے سچ کہا ک ہم جیسے انسانوں کی داد سے بھلا کیا معنی رکھتا ہے ..جب اشفاق بھائی کو داد دینے والوں میں حسنی بھائی جیسے قادرالکلام شاعر ہوں …
میں اپنے بلاگ فیملی کو بتانا چاہتی ہوں کہ بھائی نجم سبطین حسنی .. مصباح بھائی کے بڑے بھائی ہیں .. اور میرے پسندیدہ ترین شاعروں کی فہرست میں سر فہرست ہیں … مجھے ابھی بھی کئی ایسے مشاعرے یاد ہیں جن میں ، میں نے صرف حسنی بھائی کی وجہ سے شرکت کی تھی .. اور وہ بھی یاد ہیں جن میں نہیں گئی تھی کہ حسنی بھائی نہیں تھے .. اور یہ بھی بتاتی چلوں کہ میں نے سڈنی میں ابھی تک کسی مشاعرے میں نہیں پڑھا .. لیکن ہر اس مشاعرے میں شرکت کی ہے جس میں حسنی بھائی پڑھتے ہیں .. اس لئے کہ میں سماعتوں کی خوبصورتی پر سب سے زیادہ یقین رکھتی ہوں .. کاش میں آپ سب کو بتا سکتی کہ حسنی بھائی کس طرح سے اشعار میں انسانی جذبوں کی تصویر کھینچ دیتے ہیں اور پھر قیامت کا ترنم .. لب ولہجہ … میں بابا سے التجا کرونگی کہ کینڈا سے واپس آکر میرے گھر ہونے والے مشاعرے کا وہ حصہ وڈیو میں لگائیں جس میں حسنی بھائی نے ایک کیفیت باندھ دی تھی .. جس کی خوشبو سے آج بھی میرے گھر کے درو دیوار مہکتے ہیں …
دیکھئے بات کہاں سے کہاں نکل گئی .. سو جب اشفاق بھائی کو حسنی بھائی ، عرشی آپا اور بابا جیسے سخن شناس داد دیتے ہوں .. وہاں پر مجھ کم علم کا کیا کام .. ہم تو سماعتوں پر ناز کرنے والے لوگ ہیں ..
اسلام و علیکم
ماشاالله بہیت خوب بہترین اندازِ بیان اور خوب صورت الفاظ مُجھے یوں تو کویی علم نہیں نہ میری کوئی فکری سوچ رکھتی ہوں نہ مُجھے اس سب کا ادراک ہے مگر پھر بھی ہر خوبصورت جیز دل کو خُود بہ خُود چھو جاتی ہے اس لیے یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہو گا کے بے حد حسین کلام ہے –
میں تمام عالمی اخبار کی طرف سے بے حد مشکور ہوں کہ جناب اشفاق حسین صاحب کی کے جنہوں نے ہم سب کو اپنا اتنا قیمتی وقت دیا اور اتنا خوبصورت کلام ہماری سماعتوں کی نظر کیا اس طرح سے کہ اس وقت یہ کلام سننے کے بعد خدا کی مشکور ہوں کہ اُس نے سمعت دے رکھی ہے کہ یہ کلام میں سُن سکی –
اُمید ہے کہ خدا نے چاہا تو ہم آگے چل کر اور بھی بہیت سے ایسے ہی حسین کلام سنتے رہیں گے ۔انشاالله
الله حافظ و ناصر-
اشفاق صاحب ! بہت خوب ، کہا ہے————-دل کی جاگیر میرا بھی کوئی حصہ رکھ ..میں بھی تیرا ہوں مجھے بھی تو کہیں رہنا ہے. …….. اتنے سادہ الفاظ کا استمال، سن کر بہت محظوظ ہوئی،
لگتا ہے سُستی والے بلاگ کا اثر یہاں نکل رہا ہے۔۔۔۔ انجمنِ کاہلان و سُستگان عالمیہ میں قیادت کے لئے اپنی اپنی کرسی پکی کرنے کو کہیں سبھی دبکے تو نہیں بیٹھے۔۔۔قبلہ قاضی صاحب تو میونخ کے قریبی گاؤں میں عصر حاضر کی سہولیات کی عدم موجودگی کے سبب زیادہ کچھ نہیں لکھ پارہے ہونگے، ورنہ ایسے ادبی موضوعات پر ان کے یہاں سستی کا کوئی وجود نہیں ہے۔۔۔ولیکن یہ باقی لوگ تو ابھی شہروں میں ہی کہیں تھے؟ ۔۔۔ یا نہیں؟
( احباب اس گفتگو کے سستی سے متعلق مندرجات کو صرف از راہ تفنن لیجیئے گا۔۔۔)
سید مصباح حسین جیلانی صاحب سے عرض ہے کہ انہوں نے بالکل صحیح اندازہ لگا یا کہ میں
“میونخ کے قریبی گاؤں میں عصر حاضر کی سہولیات کی عدم موجودگی کے سبب زیادہ کچھ نہیں لکھ “ پارہا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔
اشفاق حسین صاحب کے ہر شعر کو سن کر بے اختیار: ماشااللہ ، سبحان اللہ، مرحبا ، جزاک اللہ ، بہت خوب ، بہت اچھے ، مکرر ارشا د کہنا پڑتا ہے: ( اس ویڈیو کی خوبی یہ ہے کہ میں اس کو بار بار اپنی اسی داد کے ساتھ سنتا رہتاہوں ):
غزل از اشفاق حسین صاحب ( شاید اشفاق تخلص رکھتے ہیں ) :
ترے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہے
میری دنیا ہے یہی مجھ کو یہیں رہنا ہے
کام جو عمرِ رواں کا ہے اُسے کرنے دے
،ہری آنکھو ں میں سد ا تجھ کو حسیں رہنا ہے
میں تری سلطنتِ حُسن کا باشندہ ہوں
مجھ کو اب اور کہیں جاکے نہیں رہنا ہے
دل کی جاگیر میں میرا بھی کوئی حصہ رکھ
میں بھی تیرا ہوں مجھے بھی تو کہیں رہنا ہے
آسماں سے کوئی اُترا نہ صحیفہ نہ سہی
تو مرا دیں ہے مجھے صاحبِ دیں رہنا ہے
جیسے سب دیکھ رہے ہیں مجھے اس طرح نہ دیکھ
مجھ کو آنکھوں میں نہیں دل میں کہیں رہنا ہے
چاند چمکے گا یونہی ، پھول یونہی مہکینگے
تیرےرہتے ہوئے منظر کو حسیں رہنا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی اچھی اور اتنی سادہ مگر اتنی گہری غزل کے ہر شعر پر بار بار داد دینا پڑتا ہے ِ
۔۔۔۔۔۔
اس ویڈیو میں اشفا ق حسین صاحب کی یہ نظم بھی ماشا اللہ بہت ہی خوب ہے:
عنوان : ذومینگ zooming
دیکھوں جو آسماں سے تو اتنی بڑی زمیں
اتنی بڑی زمین پہ چھوٹا سا اک شہر
چھوٹے سے اک شہر میں سڑکوں کا ایک جال
سڑکوں کے جال میں چھپی ویران سی گلی
ویراں گلی کے موڑ پہ تنہا سا ایک شجر
تنہا شجر کے سایہ میں چھوٹا سا اک مکاں
چھوٹے سے اک مکان میں کچی زمیں کا صحن
کچی زمیں کے صحن میں کِھلتا ہوا گلاب
کِھلتے ہوئے گلاب میں مہکا سا اک بد ن
مہکے ہوئے بدن میں سمندر سا ایک دل
اُس دل کی وسعتوں میں کہیں کھو گیا ہوں میں
یوں ہے کہ اِس زمیں سے بڑا ہوگیا ہوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر زوار قمر عابدی صاحب اس نظم کو پڑھ رہے ہیں تو وہ ضرور اس میں جو “ صنعت “ استعمال کی گئی ہے ( یعنی پہلے مصرعہ کے آخری الفاظ کو دوسرے مصرعہ کے آغاز کا حصہ بنانے کی صنعت ) کا انتہائی کامیاب اور موثر مظاہرہ دیکھرہے ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔
جیسا کہ جناب صفدر ھمدانی صاحب نے فرمایا ہے کہ اس نظم میں بھی غزلیت موجود ہے ۔
۔۔۔۔۔
میں خوش ہوں کہ میں نے بالآخر اس بلاگ پر توجہ دی اور اتنے اچھے کلام کو جو عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن میں منتقل ہونا چاہیے ( امید کہ زرقا مفتی صاحبہ اس یونی کوڈ میں لکھے ہوئے اشفاق حسین صاحب کے کلام کو شاعری کے سیکشن میں متقل کرسکینگیں )
فقط:
اشفاق حسین صاحب کے مزید اشعار پڑھنے کا خواہشمند
منظور قاضی
از جرمنی
جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ :
“لگتا ہے سُستی والے بلاگ کا اثر یہاں نکل رہا ہے۔۔۔۔ انجمنِ کاہلان و سُستگان عالمیہ میں قیادت کے لئے اپنی اپنی کرسی پکی کرنے کو کہیں سبھی دبکے تو نہیں بیٹھے۔۔۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس اہم بلاگ میں اب تک سیر حاصل تبصروں کی کمی کی وجہ ( میرے شعر کے مطابق ) یہ ہے کہ :
ہر ایک جذب ہے اپنی ہی ذات میں قاضی
بشر کو ڈھونڈتے کیوں ہو بتوں کی بستی میں؟
۔۔۔۔۔
اشفاق حسین صاحب واقعی داد کے مستحق ہیں