سیاسی بحث سے میرا دماغ پک چکا ہے۔ یہ سوچ کر کہ ہم سب کا کچھ بھلا ہو اور میں آپ سب سے مستفیض ہو سکوں میں ایک نیا ساز چھیڑ رہا ہوں۔
تقریباً پانچ سال قبل ایک نجی محفل میں میرے ایک معروف شاعر دوست جناب کرامت گردیزی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک زبان کا تعلق ہے تو میر انیس کے بعد اردو میں زبان کی حد تک ارتقائ عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ سارے شاعر اور ادیب وہی الفاظ وہی استعارے وہی تشبیحات وہی تلمیحات وہی محاورے استعمال کررہے۔ بقول گردیزی صاحب ماسوائے جوش کسی نے کوئ قابل ذکر اضافہ نہیں کیا۔ یہ سوال میرے ذہن میں پانچ سال سے گردش کررہا ہے۔ سوچا اسے آپکے سامنے رکھدوں۔

مکرمی ظفر جعفری صاحب۔
آپ نے خاصا قابل بحث لیکن اہم موضوع منتخب کیا ہے، جس پر بغیر اثبات کے گفتگو کرنا ممکن نہیں ہے۔ میں کیا اور میری بساط کیا، خاص طور پر جب اہل علم و ادب کی ایک قابل قدر جماعت ہمارے مابین موجود ہے۔ تاہم چونکہ ابھی تک اسطرف کوئی وارد نہیں ہوا، اس لئے چند سطریں کشید کر کے آپکی خدمت میں پیش ہیں، تا کہ ایک مثبت گفتگو کا مقدمہ بن سکے۔
جہاں تک خدائے سخن میر انیس کے بعد اردو زبان میں ارتقاء کا تعلق ہے تو یقینا یہ رکا نہیں ہے۔ اب اردو ادب کے رجحانات الگ ہیں اور زبان کے اجتماعی ارتقائی مراحل الگ ہوتے ہیں۔ وہ یوں کہ جن تشبیہات، استعارات، تلمیحات، ترکیبات، ، صنائع وبدائع اور کنایوں کا واسطہ شاعری سے ہے انکا روز مرہ زندگی سے کم ہوتا ہے۔ جیسے کہ گنبد بے در، اور دیدہء اختر جیسی تراکیب عام روز مرہ زبان میں شاذ ہی استعمال ہوتی ہیں۔ دوسرے ادب میں خالصتا اردو زبان کو استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں کوشش یہی کی جاتی رہی ہے کہ فارسی و عربی کے لفظ تو مجبورا آتے ہیں تو آجائیں، لیکن انگریزی وغیرہ کے نہ آئیں۔ انگریزی وغیرہ کے کیوں نہیں آئے، یہ ایسے ہی ہے جیسے انگریزی میں عربی، فارسی کے تو نہیں، لیکن لاطینی و فرانسیسی زبان کے الفاظ قابل قبول ہیں۔ یعنی ہر زبان میں اس کی ہم نسل و ہم جد زبان کے الفاظ تو داخل ہو پاتے ہیں، لیکن دیگر بیرونی زبانوں کے لئے یہ مشکل ہوتا ہے۔
اس لئے اردو ادب کو اگر آپ اس زاوئیے سے دیکھیں گے تو شاید ہی آپ کو کوئی نئے الفاظ ملیں، تاہم تراکیب بیسیوں ایجاد ہوئیں اور ہوتی رہیں گی۔ لیکن آزادی کے بعد اردو کی روزمرہ زبان میں انگریزی، ہندی اور پنجابی کے بیشمار الفاظ شامل ہوئے ہیں، جسکے کئی اسباب ہیں۔ ان نئے الفاظ میں جگ، گلاس، پلیٹ، ربن، اور کولڈ ڈرنک سمیت بیسیوں ایسے الفاظ ہیں جو آج اردو میں بہ تواتر مستعمل ہیں اور اردو میں انکے حقیقی تراجم دھونڈنا زیادہ مشکل جانا جاتا ہے۔
جہاں تک ادب کا تعلق ہے تو ہم میر انیس کو صرف شاعری کے حوالہ سے دیکھ سکتے ہیں۔ صرف شاعری میں غزل، نظم، آزاد نظم، ہائیکو، رباعی، قطعہ، نعت، سلام، قصیدہ اور ہجو وغیرہ میں لا تعداد نئے نئے تجربات کئے گئے ہیں۔ اسکے علاوہ افسانے اور ناول میں کئی اقسام دریافت یا وارد ہوئی ہیں۔ انشاء کے سینکڑوں رنگ ہیں، جن میں مضمون، تقریر، کالم، تجزیہ، انشائیہ، دستاویز ،مزاح، بلاگ، اور نجانے کیا کچھ شامل ہے۔ روایتی غزل، غزال کے بناء نا تمام تھی، جہاں واردات قلبی کا ذکر تغزل بنا کرتا تھا، جبکہ اب بقول فیض اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔ اقبال نے نظم کو اپنے پیغام کا ذریعہ بنایا تو فیض اور فراز نے غزل سے بھی کام لیا۔ اور لطف یہ کہ غزل نے نظم سے زیادہ اثر پذیری ظاہر کی ہے۔
میں ذاتی طور پر کرامت گردیزی کی رائے سے متفق نہیں ہوں۔ اگر یہی صورت حال ہوتی تو اردو زبان کب کی ختم ہو چکی ہوتی، یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ اردو دنیا کی 5 بڑی زبانوں میں سے ایک ہے۔ ہاں ایک ظلم اسکے ساتھ یہ ضرور ہوا کہ جس طرح اسلام مسلمانوں کے ہاتھ چڑھ گیا اس طرح اردو ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی جنکی اپنے اولادیں انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ جنکے گھروں میں غالب کی تصویر تو شاید ڈرائینگ روم میں ضرور لگی ہو لیکن غالب کے اشعار کسی کو یاد نہ ہوں ماسوائے ان اشعار کے جو گلوکاروں نے گائے ہیں۔
اردو زبان کی اپنی ایک تابندہ تاریخ ہے۔ زبان جب اپنی اوائل عمری میں ہوتی ہے تو ظاہر ہے وہ ساختیات کے عمل سے گزر رہی ہوتی ہے اور اسمیں نئے نئے تجربے ہو رہے ہوتے ہیں نئے نئے الفاظ آ رہے ہوتے ہیں۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اولیں مراحل میں ایسے عمل کی رفتار تیز بھی ہوتی ہے۔ لیکن آگے چل کر یہ عمل رکتا نہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ رفتار سست ہو جاتی ہو۔
یہ کہنا زیادتی ہے کہ اردو زبان میں انیس کے بعد کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ماسوائے جوش کے ہاں کچھ کام ہوا ہے۔
زبان دراصل فقط الفاظ کا نام نہیں ہے۔ کوئی بھی زبان اگر چہ حروف اور الفاظ کا مجموعہ ہوتی ہے لیکن زبان ایک ہمہ جہت چیز ہے اور پھر ادبی زبان عوامی،نشریاتی اور اشاعتی زبان سے قطعی مختلف ہوتی ہے۔
انیس و دبیر اور دیگر اساتزہ کے عہد میں نشریات کا کوئی وجود نہیں تھا ،سو اس حوالے سے اب اردو زبان میں ایک مکمل باب نشریاتی زبان کا وجود پا چکا ہے۔ اسی طرح شاعری اور نثر میں جو تجربات ہوئے ہیں اور جو نئے نئے استعارے،تراکیب اور تشبیحات وجود میں آئی ہیں ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
فارغ بخاری اور عدیم ہاشمی کے آزاد غزل کے تجربے کو ہم کس زمرے میں رکھیں گے؟
آزاد نظم کے بعد نثری نظم کو کیا پیش رفت نہیں کہیں گے۔
نثر کی مختلف ہیئتوں میں کتنے ہی نئے نئے تجربات ہوئے ہیں۔
میرے خیال میں ہمارے ہاں یہ رجحان بہت تیزی سے رواج پا چکا ہے کہ ہم ایک عمومی بیان دینے کے عادی ہو گئے ہیں،جیسے ”اس ملک میں سب چور ہیں” یا پھر” فلاں شعبے میں کوئی کام ہوا ہی نہیں” وغیرہ
آئیے اس موضوع کو ایک اور رخ سے دیکھتے ہیں
اردو قواعد کے عنوان سے اپنی کتاب میں ڈاکٹر مولوی عبدالحق نے لکھا ہے
ردو زبان دنیا کی جدید زبانوں میں سے ہے اورابھی ابھی اس نے اپنے بل بوتے پر کھڑا ہونا سیکھا ہے۔ زبان نہ کسی کی ایجاد ہوتی ہے اور نہ کوئی اُسے ایجاد کر سکتا ہے ۔ جس اصول پر بیج سے کونپل پھوٹتی، پتے نکلتے، شاخیں پھیلتی، پھل پھول لگتے ہیں اور ایک دن وہی ننھا سا پودا ایک تنا ور درخت ہوجاتا ہے ۔ اُسی اصول کے مطابق زبان پیدا ہوتی، بڑھتی اور پھیلتی پھولتی ہے۔ اردو اس زمانے کی یاد گارہے۔ جب مسلمان فاتح ہندوستان میں داخل ہوئے اور اہل ہند سے انکا میل جول روز بروز بڑھتا گیا۔ اُس وقت ملک کی زبان میں خفیف سا تغیر پیدا ہوتا چلا، جس نے آخر ایک نئی صورت اختیار کی۔ جس کا ان میںسے کسی کو سان گمان بھی نہ تھا۔ مسلمان فارسی بولتے آئے تھے اور ایک زمانے تک ان کی زبان فارسی ہی رہی۔ دربار و دفاتر میں بھی اُسی کا سکہ جاری تھا۔ ہندوؤں نے بھی اُسے شوق سے سیکھا۔ اُس زمانے میں فارسی لکھنا تہذیب میں داخل تھا۔ فارسی کے علاوہ عربی مسلمانوں کی مذہبی اور علمی زبان تھی۔ دستار فضیلت کا ملنا بغیر تحصیل زبان عربی نامکمل تھا۔ کیونکہ مسلمانوں کے علوم و فنون کا خزانہ اُسی زبان میں مدفون ہے۔ ادھر ملک میں جو زبان (قدیم ہندی یا پراکرت) رائج تھی اُسے بھی مسلمانوں نے سیکھا ۔
عوام وہی زبان بولتے تھے۔ چنانچہ اس مخلوط زبان میں بڑے بڑے شاعر ہوئے۔ مسلمان شاہی درباریوں اور علماء اور شعراء نے بھی یہ زبان سیکھی اور اس میں تالیف و تصنیف بھی (جو زیادہ تر نظم تھی) کی۔ غرض ہندوستانیوں کے اس میل جول اور خلاملا سے ایک نئی زبان نے جنم لیا جس کا نام بعد میں اردو رکھا گیا۔ اردو کے معنی لشکر کے ہیں اور لشکری زبان جیسی ہوتی ہے ظاہر ہے۔ یعنی آدھا تیتر آدھا بٹیر، اس لئے اول اول ثقہ لوگ اس کے استعمال سے بچتے رہے اور اس کے لکھنے پڑھنے کو عار سمجھتے رہے لیکن رفتہ رفتہ اس کے قدم جمتے گئے اور مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں شعراء نے اس بچے کو اپنے سایہء عاطفت میں لیا اور پال پوس بڑا کیا۔ بہت کچھ صفائی پیدا کی اور نئی تراش خراش سے آراستہ کیا۔ مغلیہ سلطنت کے زوال پر سمندر کے راستے ایک نئی قوم ہندوستان پر مسلط ہوئی جو ہندو مسلمانوں سے بالکل غیر تھی۔ اس قوم نے اس کی اُنگلی پکڑتے اُن کا پہنچا پکڑا اور دربار سرکار میں اس کی رسائی ہوگئی اور رفتہ رفتہ دفاتر سے فارسی کو نکال باہر کیا اور خود اُس کی کرسی پر جلوہ گر ہوئی ۔ آخر ہندوستان کی قدیم راج دھانی اس کا جنم بھوم اور دوآبہ اس کا وطن ہوا۔ اب دور دور پھیل چلی ہے اور ہندوستان کے اس سرے سے اُس سرے تک چلے جائیے۔ ہر جگہ بولی اور سمجھی جاتی ہے بلکہ ہندوستان کے باہر تک جاپہنچی ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ تین مختلف جلیل القدر قوموں کی یعنی ہندو ، مسلمانوں اور انگریزوں کی چہیتی ہے اور ان تینوں کی متفقہ کوششوںکی عظیم الشان یاد گار ہے۔ تینوں نے اسے سیکھا، پڑھا لکھا۔ تینوں نے اس کی ترقی میں مقدور بھر کوشش کی اور اب تینوں کی بدولت اس رُتبے کو پہنچی کہ دنیا کی جدید زبانوں میں شمار کئے جانے کے قابل ہوئی۔
اردو ہندی نژاد ہے اور قدیم یا پراکرت کی آخری اور سب سے شائستہ صورت ہے۔ ہندی بولی اور فارسی کے میل سے بنی ہے۔ اس میں جو سنسکرت اور پراکرت کے الفاظ ہیں وہ زمانہ دراز کے استعمال اور زبانوں پر چڑھ جانے سے ایسے ڈھل گئے ہیں کہ اصل الفاظ میں جو بھدا پن اور کرختگی اور تلفظ اور لہجے کی دقت تھی بالکل جاتی رہی۔ اور چھٹ چھٹا کر پاک صاف سیدھے سادے رہ گئے ہیں۔ جس سے زبان میں لوچ، گھلاوٹ اور صفائی پیدا ہوگئی ۔ اردو کے ہندی نژاد ہونے میں کچھ شبہ نہیں کیونکہ بیرونی زبانوںکا اثر صرف اسماء و صفات میں ہوا ہے۔ ورنہ زبان کی بنیاد یہیں کی زبان پر ہے۔ تمام حروف فاعلی، مفعولی، اضافت، نسبت، ربط وغیرہ ہندی ہیں۔ ضمیریں سب کی سب ہندی ہیں۔ افعال سب ہندی ہیں۔ لیکن عربی فارسی الفاظ کے اضافے نے مختلف صورتوں میں اس کی اصل خوبی میں اضافہ کردیا ہے۔ ہندی الفاظ میں دل نشینی کا خاص اثر ہے اور عربی فارسی الفاظ میں شان و شوکت اور زبان کے لئے ان دونوں عنصروں کا ہونا ضروری ہے۔ عربی فارسی الفاظ نے نہ صرف لغت اور نحو میں بلکہ خیالات میں بھی وسعت پیدا کر دی ہے۔ جس سے اس کا حسن دوبالا ہوگیا اوروہ زیادہ وسیع اور کارآمد بن گئی مگر اصل بنیاد جس پر وہ قائم ہے ہندی ہی ہے۔ محض غیر زبانوں کے اسماء و صفات کے اضافے سے اس کے ہندی ہونے میں مطلق فرق نہیں آسکتا۔ مثلا آج کل بہت سے انگریزی لفظ داخل ہوتے جاتے ہیں لیکن اس سے زبان کی اصلیت و ماہیت پر کچھ اثر نہیںپڑ سکتا۔ ایک دوسری بات اردو زبان میں یہ ہے کہ اس اصول پر قائم ہے کہ جو تمام جدید زبانوں میں اس وقت پایا جاتا ہے یعنی صورت ترکیبی سے حالت تفصیلی کی طرف اس کا رجحان ہے۔
قدیم زبانوں میں یہ بڑی دقت تھی کہ ایک ہی لفظ کو ذرا ذرا سے فرق اور پھیر سے مختلف صورتو ں میں لے آتے تھے۔ اب دوسرے الفاظ کی مدد سے مرکب صورتیں پیدا ہوگئی ہیں اور وہ دقتیں جاتی رہی ہیں۔ اردو کو بھی اس قید سے آزادی مل گئی ہے۔ غرض یہ زبان مختلف حیثیتوں سے ایسی قبول صورت ہوگئی ہے کہ اس کی ترقی میں شبہ نہیں ہوسکتا۔ اس کی صفائی، فصاحت اور صلاحیت اور ہندی ، فارسی، عربی اور انگریزی کے مختلف مفید اثرات اس امر کا یقین دلاتے ہیں کہ وہ دنیا کی ہونہار زبانوں میں سے ہے اور ایشیا میں ایک روز اس کا ستارہ چمکے گا۔
مجھے خوب یاد ہے کہ کئی سال کا عرصہ ہوا کہ میرے ایک دوست نے جلسے میںتذکرتاََ میری کتاب صرف و نحو اردو کے متعلق کہا کہ انجمن ترقی اردو (حیدرآباد، دکن) اسے چھپوا دے تو بہت اچھا ہو۔ اس پر ہمارے ایک عالم دوست نے فرمایا کہ صرف و نحو کی کتابیں بچوں کے لئے ہوتی ہیں۔ انجمن کی طرف سے ایسی کتابوں کا طبع ہونا ٹھیک نہیں ۔ مجھے اس میں کلام ہے کہ صرف و نحو کی کتابیں کے لئے مخصوص ہیں بلکہ میری رائے میںانہیں اپنی زبان کی صرف و نحو پڑھانا مضر ہے۔ البتہ یہ میں تسلیم کرتا ہوںکہ ایک زندہ اور جدید زبان کے لئے گریمر (صرف و نحو) کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی لیکن سوال یہ ہے کہ آخر گریمر کی ضرورت پڑی کیوں؟ جب ہم دنیا کی مختلف زبانوں پر نظر ڈالتے ہیں اور اُن کے ادب کی تاریخ بغور پڑھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں گریمر کی ضرورت اس وقت واقع ہوئی جبکہ ایک زبان والوں نے دوسری زبان کے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اول اول خود اہل زبان کو کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ مثل دوسرے علوم و فنون کے ضرورت نے اسے ایجاد کیا۔ اور زبان کے سب سے پہلے علمی نحوی وہ لوگ تھے جنہوں نے سب سے اول علمی طور پر زبانوں کی تعلیم دی۔ صرف و نحو کے قواعد کی تدوین انہیں معلمین السنہ کا کام تھا۔
زبانوں کا سیکھنا سکھا نا نسبتاََ جدید زمانے کی ایجاد ہے جو آج کل خاصا پیشہ ہوگیا ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ غیر زبانوں کے سیکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے۔ مثلاٍ کسی قدیم یونانی یا عرب کو کسی دوسری زبان کے سیکھنے کا کبھی خیال نہیں آتا تھا اور وہ کیوں سیکھتا؟ اس لئے کہ یونانی سوائے یونانیوں کے اور عرب سوائے عربوں کے سب کو وحشی خیال کرتا تھا۔ غیروں کی زبان سیکھنا، ان کے اداب و اطوار کا اختیار کرنا اس کے لئے عار اور موجب ذلت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یونانی غیر اقوام کو ایک لوسائی یعنی بے زبان عرب اور دوسروں کو عجم یعنی گونگے اور پول اپنے پڑوسی اہل جرمن کو نیمیا یعنی گونگے بہرے اور ہندو اپنے سوا دوسروں کو ملیکھ (ملیچھ) کہتے تھے ۔ ملیکھ یعنی ملیچھ کے اصل معنی ایسے شخص کے ہیں جسے صاف طور پر بولنا نہیں آتا۔
جب یونانیوں کو دوسری قوم سے سابقہ پڑا اور ان سے بات چیت کی ضرورت ہوئی تو بڑی دقت پیش آئی۔ اگر ہر شخص اپنی ہی زبان بولنے پر اصرار کرے تو دوسرے کی کیونکر سمجھے۔ اُن کے لئے غالباََ غیر زبانوں کے سیکھنے کی پہلی محرک تجارت ہوئی اور دوسری محرک اسکندر کی فتوحات۔ ایران اور ہندوستان کی فتوحات نے یونانیوں پر ثابت کر دیا کہ دوسری قومیں بھی زبان رکھتی ہیں لیکن طرہ یہ ہے کہ بہ نسبت یونانیوں کے دوسری اقوام میں جنہیں یونانی وحشی کہتے تھے زبانیں سیکھنے کی زیادہ صلاحیت تھی۔ اسکندر کی فتوحات نے باہمی میل جول کا راستہ کھول دیا تھا۔ اور اسکندریہ مختلف اقوام، مختلف زبانیں بولنے والوں اور مختلف مذاہب کے لوگوں کا سنگم ہوگیا۔ گو ابتدائی تعلق تجارتی تھا لیکن فرصت کے اوقات میں دوسرے معاملات اور مباحث بھی خود بخود زیر بحث آگئے
مزید بات کو دیگر احباب کی آراء کے بعد آگے بڑھائیں گے
آغا جان زندہ باد۔ لطف آ گیا۔ اس تحریر کو اگر مضمون کی شکل میں بھی محفوظ کر دیں تو ایک حوالے کے طور پر سدا محفوظ رہ سکتی ہے۔
مصباح بھائی بات تو آپ نے بھی زبردست کہی ہے .. بس مجھے انتظآر ہے کہ بابا اپنی بات مکمل کر لیں تو یہ تاریخی مقالہ زرقا کو بھیجوں .. واہ مزہ آگیا اردو کی تاریخ جان کر .. بابا جی زندہ باد
ارے عزیزو خوش رہو،سلامت رہو، مجھے طالب علم ہی رہنے دو پلیز. کہاں کا مقالہ اور کہاں کی تحقیق.بس پاگل پن پے اور دیوانگی ہے جو بیٹھنے نہیں دیتی. ابھی امریکہ اور کینڈا سے واپس آیا ہوں اور اب اتنے ملک اور شہر پھر کر میرا اندازہ سچ نکل رہا ہے کہ اردو کے نام پر کمانے والا ایک گروپ پے اور اردو کے نام پر راتوں کی نیندیں گنوابے والا دوسرا گروپ ہے. کبھی وقت مل جائے تو اردو ادب میں؛؛ مافیا گروپوں” کی بات لکھوں. جہاں جاتا ہوں یہ دیکھ کر روتا آتا ہوں کہ سب سے زیادہ جھوٹ اور سب سے زیادہ منافقت اسی ادبی قبیلے میں ہے.
کچھ روز پہلے ایک کتاب کی تقریب میں گیا تھا جو میں بہت ہی کم جاتا ہوں. وہاں ایک پرانے بزرگ گلے ملتے پوئے کہنے لگے کہ اتنی سطحی کتاب آج تک نہیں دیکھی…. ہائے اور میریا ربا….کچھ ہی دیر بعد وہی صاحب ماجیک پر کھڑے کتاب اور صاحب کتاب کی شان میں قصیدہ پڑھ رہے تھے اور میں عالمی اخبار کی پیشانی پر لکھی قرآن پاک کے سورہ الصحف کی یہ آیت یاد کر رہا تھا کہ ” اے ایمان والو تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں”.
اردو زبان کا ارتقا تو ایسا موضوع ہے کہ اسکو مکمل کرنے کے لیئے ایک اور عمر درکار ہے اور موضوع دراصل ہے ہی پی ایچ ڈی کا کہ اس ڈگری سے مجھے کبھی بھی محبت نہیں رہی. اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے رجسٹرار ڈاکٹر صدیق شبلی نے ایک زمانہ پہلے بہت مجبور کیا پی ایچ ڈی پر اور میرا جواب آج کی طرح اسوقت بھی یہی تھا کہ میں پی ایچ ڈی کرنے بجائے اس پر خوش ہوں گا کہ لوگ مجھ پر پی ایچ ڈی کریں. غالب، میر،انیس،درد،سودا،جوش، احمد ندیم قاسمی وغیرہ نے کہاں سے پی ایچ ڈی کی تھی؟
……………………….
اردو ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی لشکر یا فوج کے ہیں ۔ 1637ء کے بعد جو شاہی لشکر دہلی میں مقیم رہا وہ اردوۓ معلی کہلاتا تھا ۔ اس لۓ اس کو عام طور پر لشکری زبان بھی کہا جاتا تھا ۔ کیونکہ یہ ہندی،ترکی،عربی،فارسی اور سنسکرت زبانوں کا مرکب تھی ۔ لیکن بعض محققین کا یہ خیال ہے کہ یہ آریاؤں کی قدیم زبان کا لفظ ہے ۔ سر سید احمد خان اور سید احمد دہلوی کا دعوی ہے کہ اردو زبان کی ابتدا شاہجہانی لشکر سے ہوئی اس لۓ اس کا نام اردو پڑا ۔ بہرصورت اس وقت اس زبان کو ہندوی، ہندوستانی ، ریختہ، دکنی اور گجراتی کے ناموں سے یاد کیا جاتا تھا ۔
اردو زبان کو مختلف اوقات میں مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا رہا ۔ اس زبان نے ارتقا کی جتنی بھی منزلیں طے کیں اتنے ہی اس کے نام پڑتے چلے گۓ ۔ ناموں کی اس تبدیلی کے پس پردہ مختلف ادوار کی مخصوص تہذیبی و سیاسی روایات کی کارفرمائی نظر آتی ہے ۔
ماہرین لسانیات کے مطابق زبان کسی فرد کی تخلیق نہیں ہوتی بلکہ زبان کو معاشرتی ضرورت نے پیدا کیا اور اس کا ارتقاء زمانہ کی ضرورت اور حالات و افکار کے تابع رہا جس میں صدیوں کا عرصہ درکار ہوتا ہے ۔
بقول باباۓ اردو مولوی عبدالحق ۔
“” جس اصول پر بیج سے کونپل پھوٹتی ہے ۔ پتے نکلتے ،شاخیں پھیلتی ،پھل پھول لگتے ہیں اور ایک دن وہی ننھا سا پودا ایک تناور درخت ہو جاتا ہے اسی اصول کے مطابق زبان پیدا ہوتی ہے ۔ بڑھتی اور پھیلتی ہے ۔ “”
دور اول میں اردو زبان درج ذیل ناموں سے موسوم رہی ہے ۔ اور اس کا ارتقائی سفر جاری و ساری رہا ۔
1۔ حافظ محمود شیرانی اور بعض دیگر ماہرین لسانیات کے مطابق قدیم اردو کو ہندوستان کی نسبت سے ہندی یا ہندوی کہا جاتا رہا ہے ۔ قاضی خان بدر اور سراج الدین علی خان آرزو نے ہندوستان کی زبان کو ہندی یا ہندوی لکھا ہے ۔ مفتاح الفضلاء اور دستورالبیان میں بھی اس زبان کو ہندی ہی لکھا گیا ہے ۔
صوفیاۓ کرام نصیرالدین چراغ دہلوی ۔ شریف الدین یحیی منیری اور اشرف جہانگیرسمنانی نے بھی اس زبان کو ہندی یا ہندوی ہی کہا ہے ۔ مغل فرمانروا بابر نے اپنی کتاب تزک بابر میں ایک شعر کو ہندوی کے طور پر درج کیا ہے ۔ شاہ عبدالقادر نے بھی اس زبان کے لۓ ہندی کا لفظ استعمال کیا ہے ۔
2۔ رام بابو سکسینہ نے اپنی کتاب “” تاریخ ادب اردو “” میں لکھا ہے کہ قدیم انگریز مورخ جنہوں نے ہندوستان کے حالات لکھے تو اردو کو “” اندوستان “” سے تعبیر کرتے تھے ۔ ڈاکٹر جان گلکرسٹ نے 1877ء میں سب سے پہلے لفظ “” ہندوستانی “” اردو زبان کے واسطے استعمال کیا ۔ میرامن “” باغ و بہار “” میں ہندوستانی کا تذکرہ کرتے ہیں ۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اردو زبان کو ہندوستانی زبان کے نام سے بھی پکارا جاتا رہا ہے ۔
3۔ “”ریختہ”” کے لفظی معنی ہیں بنانا ،ایجاد کرنا، نۓ سانچے میں ڈھالنا ،موزوں کرنا ۔ لیکن ہندوستانی ادبیات میں اسے اردو زبان کے قدیم نام کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔
مولانا محمد حسین آزاد اردو کے اس نام ریختہ کے بارے میں لکھتے ہیں ۔
“” مختلف زبانوں نے اسے پختہ کیا جیسے دیوار کو اینٹ ، مٹی چونا اور سفیدی سے پختہ کرتے ہیں ۔ یا یہ کہ ریختہ کے معنی ہیں گری پڑی چیز ۔ پریشان چیز ۔ چونکہ اس میں الفاظ پریشان جمع ہیں اس لۓ اسے ریختہ کیا گیا ہے ۔
میر تقی میر نے اپنے تذکرہ “” نکات الشعراء “” میں ریختہ کی وضاحت اور تشریح کی ہے ۔ اس کے علاوہ بابا فرید گنج شکر اور شیخ بہاؤالدین کے ہاں بھی ریختہ کا تذکرہ ملتا ہے ۔ پہلے یہ زبان نثری تحریروں کا خاصا تھی لیکن بعد میں شاعری کے لۓ معروف اور مقبول ہو گئی ۔
اسداللہ غالب کے ہاں اردو دیوان میں کئی مقامات پر ریختہ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ انہوں نے اپنے ایک شعر میں کچھ یوں اس کا ذکر کیا ہے ۔
ریختہ کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
اردو ترکی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب لشکر یا فوج اور چھاؤنی ہے ۔ اس کے اور بھی کئی معانی ہیں ۔عام طور پر لشکر ،پڑاؤ، خیمہ،بازار ، حرم گاہ اور شاہی قلعہ اور محل کے لۓ استعمال ہوتا ہے ۔
اردو کا لفظ سب سے پہلے بابر نے تزک بابری میں استعمال کیا ہے ۔ عہد اکبری میں یہ لفظ عام طور پر معروف و مقبول ہو چکا تھا ۔ شہنشاہ شاہ جہاں نے نئی دہلی آباد کرکے شاہی قلعے کو “” قلعہ معلی “” کے نام سے موسوم کیا تو عربی ،فارسی ،ہندی وغیرہ سے ملی جلی زبان کو جس کا رواج شاہی لشکر میں ہو گیا تھا ۔ اردو معلی کا دیا ۔ آگے چل کر وہ زبان اپنے خاص محاوروں اور اصطلاحوں کے ساتھ قلعہ معلی میں بولی جاتی تھی ۔ اردوۓ معلی سے اردو قرار پانے کے عمل تک کے بارے میں ڈاکٹر غلام حسین ذولفقار کے بقول ۔
“” قدیم اردو کا نام اٹھارھویں صدی عیسوی تک ہندی یا ہندوی لیا جاتا رہا ۔ اس کے بعد زبان کا معیار شہری طبقے ( دہلی کے شرفاء ) کا روز مرہ قرار پایا تو اسے زبان اردوۓ معلی کہا جانے لگا ۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں معلی کی نسبت ترک کرکے زبان کا نام اردو لیا جانے لگا ۔””
خدا رکھے زباں ہم نے سنی ہی میر و مرزا کی
کہیں کس منہ سے اے مصحفی اردو ہماری ہے
وقت گزرنے کے ساتھ اس زبان کو ہر قسم کے خیالات کے اظہار کا وسیلہ بنایا جانے لگا اور یوں یہ بہتری کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرنے لگی اور آج یہ اکثر ممالک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔
بہرحال اس کی آب یاری اور ترویج و ترقی میں شمالی ہند کے تمام علاقوں نے حصہ لیا ۔ یہیں کے لوگ اسے دکن میں لے گۓ اور یہ وہاں دکنی اور گجراتی زبان کہلائی ۔ اس کے فروغ میں حیدرآباد دکن اور پنجاب کی خدمات اتنی ہی اہم ہیں جتنی دہلی اور یوپی کی ۔ خصوصا پنجاب نےاس کے علمی و ادبی خزانوں میں بیش بہا اضافہ کیا ۔ جس کی کوئی مثال نہیں پیش کی جا سکتی ۔
زیف سید نے اردو ادبی جریدہ سمت میں نہایت اہم تحقیق مضمون شائع کروایا تھا جو بے حد معلوماتی ہے
تیرہویں صدی عیسوی کے آغازمیں وسطی ایشیا کی چراگاہوں سے ایک ایسا طوفان اٹھا جس نے معلوم دنیا کی بنیادوں کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ چنگیز خان کی سفاک دانش کی رتھ پر سوار منگول موت اور تباہی کا پیغام ثابت ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے بعد شہر، علاقے کے بعد علاقہ اور ملک کے بعد ملک سرنگوں ہوتے چلے گئے۔ محض چند عشروں کے اندر اندر خون کی ہولی کھیلتے، کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کرتے،سنگین قلعوں اور عا لی شان محلوں کی راکھ اڑاتے منگول بیجنگ سے ماسکو تک پھیلی دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی متصل سلطنت کے مالک بن گئے۔
اس سے پہلے کہ آپ سوچیں کہ اس سب قصے کا اردو سے کیا تعلق ہے، میں جلدی سے اضافہ کردوں کہ یہی وہ اتھل پتھل تھی جس نے لفظ ‘اردو ‘کو معلوم دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلا دیا۔ اس سے پہلے کہ ہم اس بات کی تفصیل میں جائیں، پہلے کچھ لفظ’اردو‘کے اشتقاق کی بات ہو جائے۔
ہر کوئی یہ سمجھتاہے کہ اردو ترکی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب لشکرہے۔ اور اسے لشکر اس لیے کہا جاتا ہے کہ چوں کہ مغلوں کی افواج میں کئی زبانیں بولنے والے سپاہی تھے، ان کے اختلاط سے ایک نئی زبان وجود میں آگئی۔ اس بات پر بحث آگے آئے گی لیکن پہلے میں ایک قیاس پیش کرتا چلوں کہ ہو سکتا ہے اردو ترکی کا نہیں بل کہ اصل میں سنسکرت زبان کا لفظ ہواور وہ یوں کہ پرانی ترکی میں ایک لفظ پایا جاتا ہے، ‘اُرتا‘ ، جس کے معنی ہیں، مرکز۔ یہ لفظ بعدمیں تبدیل ہو کر ‘اوردُو‘ ہو گیا اور محل یا دارالحکومت کے معنی میں استعمال ہونے لگا )اس سے ملتا جلتا استعمال عربی لفظ ‘صدر‘ کے ضمن میں سامنے آتا ہے۔ صدر ویسے تو چھاتی کو کہتے ہیں لیکن دیکھئے کہ پاکستان کے کئی شہروں کے مرکزی علاقے کو صدر کہا جاتا ہے۔مزید یہ کہ ‘صدر مقام‘ دارالحکومت کو کہا جاتا ہے(۔ اب ملاحظہ ہو کہ سنسکرت کا لفظ ‘ہردے‘ (دل) نہ صرف صوتی بلکہ معنیاتی اعتبار سے بھی ترکی ‘اُرتا‘ اور ‘اوردو‘سے مشابہ ہے۔ چوں کہ سنسکرت ترکی سے زیادہ قدیم زبان ہے، اس لیے ممکن ہے التائی کی چراگاہوں کے خانہ بدوشوں نے یہ لفظ سنسکرت سے اخذ کیا ہو ۔ اگر قاری کے ذہن میں یہ سوال اٹھے کہ کہاں ہندوستان اور کہاں وسطی ایشیا کی چراگاہیں، توعرض ہے کہ ترکی زبان کی تمام قبل از اسلام مذہبی تحریریں بدھ مت سے متعلق ہیں(ارکان ترکمان، 1987ء)۔ اس پہ مستزاد، سنسکرت زبان کا ایک مادہ ‘اُر‘ بھی ہے جس کا مطب بھی دل ہے(برج موہن کیفی، 1966ء)۔
اب ہم لفظ اردو کی ترسیل کی طرف آتے ہیں۔ تحریری ترکی کی سب سے پرانی مثال منگولیا کی ایک لاٹھ پر کندہ ملتی ہے، جسے کُل تگین تحریر کہا جاتاہے۔ یہ یادگار 732ء میں اس نام کے ایک بادشاہ کی یاد میں اس کے بھائی نے تعمیرکرائی تھی۔ تحریر کا رسم الخط گوک ترک ہے اور اس میں کل چھیاسٹھ سطور ہیں۔
اس لاٹھ کی موضوعِ زیرِ بحث سے متعلق بات یہ ہے کہ اس میں الفاظ ‘اورتو ‘ اور ‘اوردو‘ کئی بارآئے ہیں۔ انٹر نیٹ پر اس لاٹھ کی زبان کی فرہنگ موجود ہے جس میں ان الفاظ کے معنی کچھ یوں دیے گئے ہیں:
اورتو: کاغان (مفرس شکل خاقان ،یعنی بادشاہ) کی رہائش گاہ، دارالحکومت
اوردو: درمیان، مرکز
زمانہ کے اوراق تیزی سے پلٹ کر ہم ساڑھے تین صدیوں بعد یوسف خاص حاجب کی سیاسی جوڑ توڑ پر مبنی کتاب ‘مقدس دانش‘ (1072ء) میں لفظ اردو کو دومختلف معانی میں استعمال ہوتا دیکھتے ہیں
‘ہر شہر ، ملک ، اور ‘اردو‘ میں اس کتاب کانام مختلف تھا (سلجوق یونیورسٹی، ترکی ، کے ڈاکٹر ارکان ترکمان نے لکھا ہے کہ یہاں ‘اردو‘ کا مطلب محل ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کا مطلب دارا لحکومت بھی ہو سکتا ہے)۔
(وہ) ایک الگ’اُردو‘ کے رہنے والے تھے (شہر)
دنیا قید خانہ ہے، اس کی محبت میں مت گرفتار ہونا۔ بلکہ ایک بڑے ‘اردو‘ اور ملک کی جستجو کرناتاکہ چین سے رہ سکو (محل، شہر، دارالحکومت)
موت نے بڑے بڑے ‘اُردو‘ اور ملک اجاڑ دیے (شہر)
شایدبہت سے لوگوں کے لیے’ مقدس دانش ‘میں اردو لفظ کاشہر کے معنی میں استعمال نیا ہولیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ ترکی میں ‘اوردو‘کے نام سے ایک صوبہ ہے اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ اس صوبے کے دارالحکومت کا نام بھی ‘اوردو‘ ہے۔ بحیرۂ روم کے ساحل پر سرسبز وشاداب جنگلوں سے گھراہوایہ چھوٹا سا شہرقا بلِ دید مقام ہے۔
لیکن یہ گمان نہ رہے کہ کسی شہر کے نام کی مندرجہ بالا مثال انوکھی ہے۔ اس نام کے کئی اور شہر بھی گزر چکے ہیں۔ پاکستان کی سرحد کے قریب واقع چینی شہر کاشغر کا منگول نام ‘اردو قند‘ تھا۔ اسی طرح ایک اور شہر ‘اردو بالیغ‘ کے نام سے تھا،جسے بعدمیں قراقرم کہاجانے لگا (حافظ محمودشیرانی، 1929ء)۔
سنہرا کیمپ
چوں کہ پہلے ہزاریے میں خانہ بہ دوش ترکوں اور منگولوں کے درمیان کافی ربط و اختلاط رہا ہے (جس کا اندازہ کل تگین لاٹھ کے منگولیا میں تعمیر کیے جانے سے لگایا جاسکتا ہے)، منگولوں نے لفظ اردو ترکی زبان سے مستعار لے لیا اور اسے محل کے معنوں میں برتنے لگے(خیال رہے کہ ترکی اور منگولیائی زبانوں کے التائی گروہ سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں آپسی رشتہ موجود ہے)۔ جدید منگولیائی لغات اب بھی اس لفظ کے معنی محل ہی بتاتی ہیں۔
منگولوں کا مقدس ترین مقام وہ جگہ ہے جہاں چنگیز خان کی باقیات محفوظ کی گئی تھیں۔ اسے ‘اردوس‘ کہا جاتا ہے (اویون بیلگ، 1997)۔
لیکن چوں کہ منگول خانہ بہ دوش تھے اور اپنی زندگیوں کا بیش تر حصہ خیموں میں گزارا کرتے تھے، لفظ اردو خیمہ یا کیمپ کے معنی میں استعمال کیاجانے لگا۔
1235ء میں چنگیز خان کے جانشین اوغدائی خان نے باتو خان کی قیادت میں ایک لشکر یورپ کی سمت روانہ کیا۔ چند سالوں کے اندر اندر اس لشکر نے روس، پولینڈ اور ہنگری کو روند کے رکھ دیا۔ اس تمام مہم کے دوران ایک منقش طلائی خیمہ باتو خان کے زیرِ استعمال رہا، جس کی وجہ سے تمام لشکری خیمہ گاہ کو ‘التون اوردو‘ یا سنہرا کیمپ کہا جانے لگا۔ باتوخان نے 1242ء میں مشرقی یورپ میں منگول سلطنت کی داغ بیل ڈالی جو پندرھویں صدی تک قائم رہی۔ اسی اثنا میں لفظ اردو بھی یورپ کی زبانوں میں داخل ہونے لگا۔ اطالوی اور پرانی یوکرینی میں یہ ‘اُردا‘ کے روپ میں ڈھلا، پولش اور ہسپانوی میں ‘ہوردا‘ بن گیا، سوئس میں ‘ہورد‘ کہلایا اور بالآخر مغرب کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے 1555ء میں انگریزی اور 1559 ء میں ‘ہورڈ‘بن کر فرانسیسی میں داخل ہو گیا۔ رچرڈ ایڈن کی کتاب ‘نئی دنیا کے عشرے‘ انگریزی زبان کی وہ کتاب ہے جس میں یہ لفظ پہلی بار استعمال ہوا ہے۔
اس قسم کے خیمے اب بھی منگولیا میں عام ہیں اور انہیں آج کل ‘گَر‘ کہا جاتا ہے۔نیشنل جیوگرافک رسالے سے اقتباس:
کہیں نہ کہیں آپ کو ایک گول خیمہ نظر آجائے گاجسے منگول گَر کہتے ہیں۔ ہم ایسے ہی ایک خیمے کے باہر رکے اور چائے کے لیے گرم پانی مانگا۔ گنگا نامی ایک عورت نے کمال مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیتلی چولہے پر رکھ دی۔
میں نے اس سے پوچھا کہ آپ لوگ گھروں میں کیوں نہیں رہتے؟ “گھر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاسکتا۔” اس نے یوں جواب دیا جیسے اس سے بڑھ کر کسی اور بات کی اہمیت ہی نہ ہو۔ “آپ اسے یہاں سے وہاں، یا وہاں ، یا وہاں نہیں لے جا سکتے،”وہ ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ مجھے تو گنگا کا گھر اچھا خاصا پائدار معلوم ہوا۔ اس میں چارپائیاں تھیں، الماریاں تھیں، حتیٰ کہ دیواروں پر تصویریں تک ٹنگی ہوئی تھیں۔ لیکن اس نے بتایا کہ اس کا خاندان اپنے جانوروں کے لیے بہترچراگاہوں کی کھوج میں اس سال تین بار نقل مکانی کر چکاہے۔ ایک گر کو تہ کرنے میں صرف ایک گھنٹا لگتا ہے (مائیک ایڈورڈز، 1996)
جب منگول ایران میں آبسے تو لفظ اردو بھی ان کے ساتھ ہی چلاآیا۔ علاؤالدین عطا کی کتاب ‘جہاں کشا‘ فارسی کی قدیم ترین کتاب ہے جس میں اس لفظ کو برتا گیا ہے (شیرانی، 1929ء)
چلتا پھرتا شہر
ہر چند کہ ہندوستان میں لفظ اردو کے استعمال کی چند قبل از مغل دور مثالیں مل جاتی ہیں، لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ بعد میں اضافہ کیا گیا ہے (شیرانی 1928ء)۔ تاہم ظہیر الدین بابر کے وقت یقینا لفظ اردو کا استعمال عام ہو چکاتھا ، حتیٰ کہ خود بابر نے اسے اپنی تزک میں لکھا ہے۔ اکبر کے دور میں اس لفظ کے مرکبات عام استعمال کیے جاتے تھے، مثال کے طور پر ‘اردوے معلیٰ‘، ‘اردوئے علیا‘، ‘اردوے بزرگ‘، حتیٰ کہ’ اردوے لشکر‘۔تمام مرکبات میں اردو کا مطلب شاہی کیمپ ہے (شیرانی، 1929ء)۔ اکبر کے درباری وقیعہ نویس ابوالفضل نے اپنی مشہور کتاب ‘آئینِ اکبری‘ میں ایسی ہی ایک خیمہ گاہ ‘اردوئے ظفر قریں‘کا ذکر تفصیل سے کیا ہے:
شاہی خیمے اور حرم کے لیے ایک 1530 گزلمبا میدان منتخب کیا گیا۔ ان میں سب سے بڑا اور اہم خیمہ گلال باڑ ہے جو ایک قلعہ نما، تہ ہو جانے والاچوبی خیمہ ہے جس کی لمبائی اور چوڑائی سو سو گز ہے۔ اس کے جنوبی حصے میں دربارہے جس کے ۴۵ حصے ہیں، ہر حصہ ۴۱ ضرب ۴۲ گز ہے ۔ مرکز میں دو منزلہ چوبی شاہی محل ہے جہاں بادشاہ صبح عبادت کرتا ہے۔ بیگمات اس حصے میں بغیر اجازت داخل نہیں ہو سکتیں۔ اس سے ملحق 24 چوبی راوٹیاں (چوکور خیمے) ہیں ، ہر ایک 10 ضرب ۶ گز ہے جہاں بیگمات رہائش پذیر ہوتی ہیں۔ ۔۔ وسط میں بڑا چوبی دربار ہے ۔ ایک ہزار ملازم اسے نصب کرنے پر مامور ہیں۔ اس کے 72 دروازے ہیں اور اس میں دس ہزار لوگوں کی نشست کی گنجائش ہے۔ (شیرانی، 1929ء)
آپ نے دیکھا کہ خیمہ گاہ کیا ہے، چلتا پھرتا شہر ہے۔ جرمن مورخ فریڈرک آگسٹس نے بھی اپنی کتاب ‘شہنشاہ اکبر‘ میں ایک خیمہ گاہ کا ذکر کیا ہے:
ایسے ہر خیمے کی ترسیل کے لیے 1000 ہاتھی، ۵۰۰ اونٹ، ۴۰۰ بیل گاڑیاں اور ۱۰۰ قلی استعمال کیے جاتے تھے۔(آگسٹس 1885ء)
‘اردوے ظفر قریں‘ میں ایک سفری ٹکسال بھی تھی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے بھی اردوے ظفر قریں کہا جاتا تھا۔ یہ ٹکسال جہانگیر اور شاہجہاں کے وقت بھی زیرِ استعمال تھی اور بعد میں صرف اردوکہلانے لگی (شیرانی، 1929ء)۔ اس ٹکسال کے کئی سکے اب بھی پائے جاتے ہیں جن پر ‘ضربِ اردوے ظفر قریں‘ کندہ ہے۔ ان میں سے کچھ سکوں کی تصاویر انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہیں۔
دلّی جو ایک شہر تھا
بابر کے جانشین دہلی کے کچھ زیادہ دل دادہ نہیں تھے اور اس پر آگرے یا لاہور کو ترجیح دیتے تھے۔ اکبر نے تو خیر کبھی دہلی کی سرزمین پر قدم ہی نہیں رکھا ۔ تاہم فنِ تعمیر کے شوقین شاہجہان نے جب اپنے لیے ایک نیا شہر بسانا چاہا تو اس کے مہندسوں نے جو جگہ منتخب کی وہ دریاے جمنا کے کنارے دہلی شہر کے قریب واقع تھی۔ دس برس کی تعمیرات کے بعد 18 اپریل 1648ء کو ہندوستان کے نئے دارالسلطنت کا افتتاح ہوا اور اسے شاہجہان آباد کا نام دیا گیا۔ اس شہر کی چند اہم عمارات میں لال قلعہ، جامع مسجد ، باغِ حیات بخش ، امتیاز محل اور ایک دو منزلہ ڈھکا ہوابازار شامل تھے (شاہجہان نامہ، 1660ء)۔
نئے شہر کے بسنے کے کچھ ہی عرصے بعد پہلے لال قلعے اور پھر پورے شاہجہان آباد کو ‘اردوئے معلی ‘ اور بعض اوقات صرف ‘اردو‘ کہا جانے لگا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ مغل بادشاہ اکثرسفر میں رہتے تھے اور اس لیے ان کی قیام گاہ اردوے معلی یعنی شاہی کیمپ کہلانے لگی تھی۔ قدیم ترکی زبان کا ذکر پہلے ہی گزر چکا ہے جس میں لفظ اردو “خاقان کی رہائش گاہ” کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔( دلچسپ بات یہ ہے کہ بھوٹان کی قومی زبان کا نام زونگ کھا‘ ہے ،جس کا لفظی مطلب ‘قلعے کی زبان ‘ہے۔)
عہد ساز ماہرِ لسانیات، شاعر اور اور اردو شاعر ی میں استادی شاگردی کے ادارے کے بانی خانِ آرزواپنی لغت ‘نوادرِ الفاظ‘ (1747 تا 1752ء) میں لفظ ‘چھنیل‘ کے تحت لکھتے ہیں:
ہم جو ہند کے باسی ہیں اور ‘اردوے معلی ‘ میں رہتے ہیں، اس لفظ سے آشنا نہیں ہیں۔
خانِ آرزو اپنی ایک اور کتاب ‘مثمر‘ (1752ء) میں رقم طراز ہیں:
پس ثابت ہوا کہ ‘اردو‘ کی زبان ہی معیاری زبان ہے۔ یہیں کی فارسی مستند ہے۔ ہر ملک کے مختلف شہروں کے شاعر مستند زبان میں شاعری کرتے ہیں، جیسے شروان کا خاقانی، گنجہ کا نظامی، غزنی کا سنائی اور دہلی کا خسرو۔ اور یہ زبان اردو کی زبان کے سوا کچھ اور نہیں۔
اس اقتباس سے دو باتیں واضح ہوئیں: اول یہ کہ لفظ ‘اردو‘ زبان کے لیے نہیں بلکہ شاہجہان آباد شہر کے لیے استعمال ہو اہے۔دوم یہ کہ خانِ آرزو کہہ رہے ہیں کہ شاہجہان آباد (دہلی) کی زبان فارسی ہے۔ اور اس میں تعجب کی کوئی بات اس لیے نہیں کہ مغلوں کے دور میں فارسی ہندوستان کی سرکاری اور دفتری زبان تھی۔
ایک اور مثال دیکھئے جو انیسویں صدی کے آغاز سے لی گئی ہے۔ دریاے لطافت (1807ء) میں انشا اللہ خان انشا اور مرزا قتیل لکھتے ہیں:
مرشد آباد اور عظیم آباد کے باسی اپنے تئیں اہل ِ زبان سمجھتے ہیں اور اپنے شہر کو ‘اردو‘ گردانتے ہیں(فاروقی، 1999ء)
ظاہر ہے دریاے لطافت کے فاضل مصنفین اردو سے مراد شاہجہان آباد لے رہے ہیں نہ کہ زبان۔ زبان تو خیر ان دنوں ہندی کہلاتی تھی۔
آیا نہیں ہے لفظ یہ ہندی زباں کے بیچ
پہلے ذکر آچکا ہے کہ اٹھارہویں صدی میں اردو زبان کو ہندی کہا جاتا تھا۔ دراصل اس زبان کے لیے ہندی یا ہندوی نام صدیوں سے استعمال ہوتا چلا آیا تھا۔فارسی کے مشہور شاعر خواجہ مسعود سعد سلمان (1046ء تا 1121ء) جو لاہور کے باسی تھے ، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہندوی زبان میں ایک دیوان چھوڑا ہے۔ اگرچہ اس دیوان کا ایک شعر بھی وقت کی دست برد سے محفوظ نہیں رہ سکا، ایسے شواہد ضرور پائے جاتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دیوان کا واقعی وجود تھا۔ امیر خسرو (1253ء تا 1325ء) نے اپنی معرکہ آرا کتاب’ غرة الکمال ‘(1294ء)کے دیباچے میں لکھا ہے کہ مسعود نے تین زبانوں میں دواوین چھوڑے ہیں، فارسی،عربی اور ہندوی (جمیل جالبی، 1984ء)۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ ممکن ہے اس’ ہندوی‘ سے مراد پنچابی ہو، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ امیر خسرو اس دور کے ہندوستان میں بولے جانی والی زبانوں میں فرق روا رکھتے ہیں اور پنجابی کو ‘لاہوری‘لکھتے ہیں۔
غرة الکمال ہی میں خسرو اپنی زبان کے بارے میں یوں سخن طراز ہیں:
من ترکِ ہندوستانیم، من ہندوی گویم چوں آب
(میں ہندوستانی ترک ہوں، میں ہندوی پانی کی طرح بولتا ہوں)
اپنی مثنوی ‘نہ سپہر‘ میں خسرو نے دعویٰ کیا ہے کہ الفاظ کی شیرینی میں ہندوی فارسی اور ترکی دونوں سے بڑھ کر ہے۔ (سلیم اختر، 1995ء)
اس وقت سے لے کر انیسویں صدی تک اردو زبان کو ہندی ہی کہا جاتا تھا۔ مختلف ادوار سے چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں:
بہ کالاپانی فرود آمدم کہ بہ زبانِ ہندی مراد آبِ سیاہ است
جہانگیر، تزکِ جہانگیری، دورِ حکمرانی 1650ء تا 1672ء (جمیل جالبی، 1984ء)
میں ہندی زبان سوں لطافت اس چھنداں سوں نظم ہور نثر ملا کر گلہ نہیں بولیا
ملا وجہی، سب رس، 1653ء (سلیم اختر، 1995ء)
اگرچہ سبھی کوڑا و کرکٹ است
بہ ہندی و رندی زبان اٹ پٹ است
جعفر زٹلی، متوفی 1713ء (شوکت سبزواری، 1978ء)
تمام شد نکات الشعرا ے ہندی
میرتقی میر، نکات الشعرا، 1759ء
کیا جانوں لوگ کہتے ہیں کس کوسکونِ قلب
آیا نہیں ہے لفظ یہ ہندی زبان کے بیچ
میرتقی میر
وہ اردو کیاہے ، یہ ہندی زباں ہے
کہ جس کا قائل اب سارا جہاں ہے
مراد شاہ، نامۂ مراد، 1788ء (جمیل جالبی، 1984ء)
مصحفی فارسی کو طاق پہ رکھ
اب ہے اشعارِ ہندوی کا رواج
شیخ ہمدانی مصحفی
اول یہ کہ اس جگہ ترجمہ لفظ بہ لفظ ضروری نہیں کیوں کہ ہندی تراکیب عربی سے بہت بعید ہے۔
شاہ عبدالقادر، ترجمۂ قرآن، 1795ء
یہی نہیں بلکہ اردو کے لیے لفظ ہندی کا استعمال بیسیوں صد ی میں بھی موجود ہے۔ اور وہ علامہ اقبال کے ہاں، جو اپنی فارسی شاعری کے دفاع میں فرماتے ہیں:
گرچہ ہندی در عذوبت شکر است
طرزِ گفتارِ دری شیریں تر است
(اگرچہ’ ہندی‘ذائقے میں شکر ہے
فارسی کا طرزِ گفتار شیریں تر ہے)
علامہ اقبال، اسرارِ خودی، 1915ء(فاروقی، 1999ء)
مثالوں کی لمبی فہرست کے لیے معذرت، لیکن ان سے ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ زبان جسے ہم آج اردو کے نام سے جانتے ہیں، انیسویں صدی میں اور اس سے پہلے ہندی کے نام سے جانی جاتی رہی ہے۔ اوپر دیے گئے مراد شاہ کے شعر میں پہلی بار لفظ اردو کوزبان کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ سال ہے 1788ء ( واضح رہے کہ بعض محققین نے اس سے پیشتر کی بھی چند مثالیں ڈھونڈی ہیں، جیسے محمد مائل، 1776ء اور مصحفی، 1776ء لیکن ان دونوں مثالوں کی توقیت کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، فاروقی، 1999)
لیکن لاہور کے باسی مراد شاہ کے مندرجہ بالا شعر کے وقت بھی اردو کا عام مطلب زبان نہیں تھا۔ ہم اوپر دیکھ آئے ہیں کہ انشا و قتیل نے 1807ء میں اس اردو کو دہلی شہر کے معنی میں استعمال کیا ہے۔حتیٰ کہ1846ء میں شائع ہونے والی جان شیکسپیئر کی مرتبہ لغت ‘اے ڈکشنری آف ہندوستانی اینڈ انگلش‘ بھی لفظ اردو کے بطور زبان معنی سے واقف نہیں ہے ، جہاں اس لفظ کے تحت لکھا ہے:
اردو: فوج، کیمپ ، بازار
اردوئے معلی: شاہی کیمپ یا لشکر۔ عام طور پر اس سے دہلی شہر یا شاہجہان آباد مراد لی جاتی ہے۔
اس موقعے پر اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ کب اور کیسے ہندی زبان کا نام اردو پڑا۔
کلام الملوک
جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، اٹھارہویں صدی میں اردو یا اردوے معلی کا مطلب دہلی شہرتھا۔ خانِ آرزو کا بیان بھی ہم پڑھ چکے ہیں کہ اردو کی زبان فارسی ہے۔ لیکن خانِ آرزو کے بھانجے میر تقی میرکو اس سے اختلاف تھاچنا ں چہ وہ اپنے تذکرے نکات الشعرا میں لکھتے ہیں کہ ہندی دراصل زبانِ اردوے معلی ہے۔ (فاروقی، 1999ء)
یقیناً فارسی مغلوں کے دور میں ہندوستان بھر کی سرکاری زبان تھی۔ لیکن اورنگ زیب کے انتقال (1707ء) کے بعد مغل قلمروکا شیرازہ بکھرنا شروع ہو گیا تھا۔ اوراٹھارہویں صدی کے ختم ہوتے ہوتے باجبروت مغل سلطنت عملاً اردوے معلی تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ مغل بادشاہ شاہِ عالم ثانی کے بارے میں ایک شعر اس صورت حال کی عکاسی کرتا ہے:
سلطنتِ شاہِ عالم
از دلی تا پالم
نظامِ حکومت کے تاروپود بکھرنے اور انتظامی ڈھانچے میں دراڑیں پڑنے سے مغلوں کو تو خیر بڑا نقصان ہوا لیکن اردو زبان کو یہ فائدہ ہوا شاہی زبان فارسی کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی اور عوام کی زبان ، یعنی اردونے اپنی جڑیں مضبوط کرنی شروع کر دیں۔(فاروقی، 1999ء) چنا ں چہ رفتہ رفتہ فارسی کی بہ جائے اردو دارلحکومت اور دربار کی اہم ترین زبان کے روپ میں سامنے آنا شروع ہو گئی۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ کہ خود مغل شہنشاہ محمد شاہ رنگیلا (عرصۂ حکومت 1719ء تا1747ء) اور عالمگیر ثانی (عرصۂ حکومت1754ء تا 1759ء) اردو میں شاعری کرتے تھے۔ شاہ عالم ثانی (عرصۂ حکومت1759ء تا 1806ء) ہفت زبان تھااور اس نے نہ صرف ہندی ، پنجابی ، فارسی اور برج بھاشا میں شاعری کی ہے بل کہ اس کی داستان ‘عجائب القصص‘شمالی ہندوستان میں اردو نثر کی اولین کتابوں میں سے ایک ہے ۔ چنانچہ چند عشروں کے اندر اندر ‘زبانِ اردوئے معلی‘ بجائے فارسی کے اردو قرار پائی(جمیل جالبی، 1987ء؛ فاروقی، 1999ء )
اب سوال یہ ہے کہ آخر دارالحکومت کی زبان پر اتنا اصرار کیوں؟ ہم نے دیکھا کہ خانِ آرزو کے بہ قول صرف دارالحکومت کی زبان ہی فصیح کہلائی جا سکتی ہے۔ ایک عربی کہاوت ہے، ‘کلام الملوک، ملوک الکلام‘، مطلب یہ کہ بادشاہ کی زبان زبانوں کی بادشاہ ہوتی ہے۔ (کلام الملوک والی بات فقط مشرق تک محدود نہیں ہے بلکہ مغرب میں بھی یہی حال ہے۔ آج بھی انگریزی زبان کی سب سے مستند گرامر کی کتاب کا نام ‘دی کنگز انگلش‘ہے۔) اس کی وجہ یہ ہے کہ شاہی دربار محض انتظامی مرکز ہی نہیں بل کہ علوم و فنون کا گڑھ بھی ہوا کرتا تھا۔ شاہی سرپرستی کی آرزو میں نہ صرف ملک بھر بل کہ دوسرے ملکوں سے علما و فضلا کھنچے چلے آتے تھے۔ مغلوں کا سنہرا دور تو الگ رہا، ہم دیکھتے ہیں کہ محمد شاہ رنگیلا کے سے گئے گزرے زمانے میں بھی مشہور فارسی شاعر شیخ حزیں دہلی آ بسے تھے۔غالب نے ‘مہرِ نیم روز‘ میں رونا رویا ہے کہ شاہجہان کے درباری شاعر طالب آملی کو سونے میں تولا گیا تھا (حالی، 1894ء)۔ داراشکوہ کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے ایک شعرپرخوش ہو کرشاعر کو ایک لاکھ روپے انعام دیا تھا (جمیل جالبی، 1987ء)۔ ظاہر ہے وہ شہر جہاں ایسے صاحبانِ علم و فن بستے ہوں، وہاں کی زبان کا مستندمانا جانا عین قرینِ قیاس ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ رفتہ رفتہ اردو فارسی کو ہٹا کر دہلی کی فصیح اور مستند زبان کے تخت پر براجمان ہو گئی اور لوگ اسے ‘زبان ِ اردوئے معلی‘ کہنے لگے۔ ظاہر ہے کہ ترکیب لمبی تھی، اس لیے سکڑ کر ‘اردوے معلی‘ اور آخر کار صرف ‘اردو‘ بن گئی۔
اس طولِ کلام سے واضح ہوا کہ اردو زبان کے نام کا لشکر سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ زبان کا مغل فوج کی چھاؤنیوں میں جنم لینے والا قصہ تو گپ شپ کے قبیل میں آتاہے۔ اردو کے زبردست نقاداور محقق جناب شمس الرحمن فاروقی نے مجھے بتایا ہے فارسی زبان میں لفظ اردو کے بطورِ لشکر استعمال کی انیسویں صدی سے قبل ایک بھی مثال نہیں ملتی۔
اس موقعے پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ بحث کا خلاصہ پیش کر دیا جائے:
اردو زبان کا لشکر سے کوئی تعلق نہیں ہے
اس کا نام شاہجہان آباد (یعنی دہلی) سے نسبت کی وجہ سے پڑگیا
زبان کو اردو اٹھارہویں صدی کے آخری چوتھائی حصے میں کہا جانے لگا۔
اس سے قبل اور اس دوران بھی اردو کا سب سے زیادہ مستعمل نام ہندی تھا۔
اب ہم جائزہ لیں گے کہ اگر اردو کو ہندی کہتے تھے تو پھر یہ آکاش وانی پر بولی جانے والی زبان کیا شے ہے؟
دو نئے انداز
جب انگریز ہندوستان آئے تو انہیں یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہواکہ ہندواور مسلمان ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ ایک ایسی زبان جس کا ڈھانچہ اور صرف و نحو خالصتاً مقامی ہیں لیکن جس نے فارسی اور فارسی کے توسط سے عربی زبان سے اثر قبول کیا ہے اور جو عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ انگریزوں کی حیرت کی بنایہ تھی کہ مسلمان اور ہندو ان کے تئیں دو مختلف قومیں تھے چنا ں چہ ان کی زبانیں بھی مختلف ہونی چاہیے تھیں۔ فورٹ ولیم کالج کے بانیوں میں سے ایک ، جان گلکرسٹ کچھ یوں رقم طراز ہے:
‘(ہندوستان) کے باسی ہندو اور مسلمان ہیں۔ ہم ان کے لیے اور ان کی زبان کے لیے بڑے آرام سے عمومی اور جامع اصطلاح ہندوستانی استعمال کرسکتے ہیں۔ جس کو میں نے مندرجہ بالا اور مندرجہ ذیل اسباب کی بنا پر اختیار کیا ہے:
اگرچہ اس ملک اور اس کی مذکورہ زبان (ہندوستانی )کا یہ نام نیا ہے، لیکن مجھے اس زبان کے مطالعے اور اسے پروان چڑھانے کے لیے اس سے بہتر کوئی اور نام نہیں ملا۔ اس امر کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ مقامی لوگ اسے ہندوستان کے پرانے نام ہند کی نسبت سے ہندی کہتے ہیں،لیکن اس نام کے دوسرے ناموں ، ہندوی، ہندووی وغیرہ سے خلط ملط ہونے کے امکانات ہیں جو ہندو سے مشتق ہیں۔ اس لیے میں اپنے نظریے پر قائم ہوں کہ اس ملک کی مقبولِ عام زبان کے دوسرے تمام نام ، جن میں ُمور جیسا بے معنی نام بھی شامل ہے، ترک کرکے انہیں ہندوستانی سے بدل دینا چاہیے۔ چاہے مقامی اس کی پیروی کریں یا نہ کریں۔ وہ تو ویسے بھی سمجھانے کے باوجود ایسی باتوں کی مصلحت نہیں سمجھ سکتے۔ ‘
یہاں قابلِ دیدبات یہ ہے کہ مستشرقوں کے عام اندازِ فکر کے عین مطابق گلکرسٹ مقامیوں کی مادری زبان کے بارے میں ان کے نظریے کو قلم زد کرکے یک طرفہ ڈگری جاری کر دیتاہے۔ دوہی برس بعد گلکرسٹ ایک بار پھر بڑے پر تیقن لہجے میں لکھتاہے:
‘ہندو قدرتی طور پر ہندی کی طرف جھکیں گے جب کہ ظاہر ہے مسلمان عربی اور فارسی کی نسبت جانب دارہوں گے۔ یوں دو نئے انداز جاری ہو جائیں گے۔‘
اور دو نئے اندازوں کی نشو ونما کے لیے گلکرسٹ نے فورٹ ولیم کالج میں ملازمت اختیار کر لی۔ یہ کالج انگریزوں کو مقامی زبانیں سکھانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔چوں کہ نصابی ضروریات کے لیے درکار سلیس اردو نثر کی کتابیں دستیاب نہیں تھیں اس لیے کالج نے کئی مصنفین کو ملازم رکھا تاکہ وہ نئی کتابیں لکھیں (کہا جاتا ہے کہ میر تقی میر نے بھی ملازمت کے لیے عرضی دی تھی لیکن ان کی درخواست اس بنا پر نامنظور کر دی گئی کہ یہ ملازمت ان کے مرتبے سے بہت کم تھی(ڈاکٹر گوہر نوشاہی، ذاتی گفتگو)۔ یہ کالج 1853ء تک کام کرتا رہا اور اس عرصے میں اس کے توسط سے کل ۷۴۱کتابیں مرتب ہوئیں، جن میں سے 53شائع ہو ئیں(ڈاکٹر سمیع اللہ)۔
میر امن دہلوی نے اس کالج کے نصاب کے لیے 1802ء میں ‘باغ و بہار‘ لکھی جو آج اردو نثر کے شاہکاروں میں شمار کی جاتی ہے۔ اسی کالج سے اردو کے مشہور ادیب حیدر بخش حیدری (آرائشِ محفل) ، کاظم علی جوان (شکنتلا کا اردو ترجمہ) اور بابر علی حسینی وغیرہ وابستہ تھے۔
یہ تو ہوگئے اردو مصنیفین( واضح رہے کہ انگریز اس زمانے میں اردو کو ہندوستانی کہنے پر مصر تھے)، لیکن فورٹ ولیم کالج نے ساتھ ہی ساتھ کچھ دیوناگری کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کر لیں اور ان سے ‘جدید‘ہندی میں کتابیں لکھوانے لگے۔ للولال جی جس نے 1803ء میں ‘پریم ساگر‘ لکھ کر جدید ہندی ادب کی خشتِ اول رکھی، کے سامنے جدید ہندی کا کوئی نمونہ نہیں تھا۔ چنا ں چہ اس نے میر امن کی باغ و بہار سامنے رکھ کر عربی فارسی اسما کو سنسکرت اسما سے بدل دیا۔ رام چند رشکلا لکھتے ہیں:
اگر للو لال اردو کے ماہر نہ ہوتے تووہ پریم ساگر میں عربی و فارسی الفاظ سے گریز میں کامیاب نہ ہوپاتے۔ اس دور کی روزمرہ زبان میں یہ الفاظ اس حد تک سرایت کر گئے تھے کہ محض سنسکرت یا ہندی کے ماہر کے لیے ان کی شناخت مشکل تھی۔ (ہندی ساہتیہ کا اتہاس)
فورٹ ولیم ہی کا تنخواہ دار ایک اور ماہرِ دیوناگری سدل متر تھا۔ وہ اپنی کارگزاری کچھ یوں بیان کرتا ہے:
گلکرسٹ نے۔۔۔ ایک دن آگیا دی کہ ادھیا تم رامائن کو ایسی بولی میں کروجس میں فارسی ، عربی نہ آوے۔ تب سے میں اس کو کھڑی بولی میں کرنے لگا۔
یہاں د ل چسپ اور قابلِ غوربات لفظ’ کھڑی بولی‘ کا استعمال ہے۔ اس لفظ نے ماہرینِ لسانیات کو بڑے مغالطوں میں مبتلا کیا ہے۔ کسی نے کہا کہ چوں کہ اردویا ہندی میں افعال کا اختتام الف پر ہوتا ہے (آنا، جانا، کھانا، وغیرہ) اس لیے اس کو کھڑی بولی کہتے ہیں، جب کہ اس کے مقابلے میں دوسری زبانیں ‘پڑی بولی ‘ہیں۔ مثال کے طور پر برج بھاشا پڑی بولی ہے کیوں کہ اس میں آئیو، جائیو، کھائیوکہتے ہیں۔ معروف ماہرِ لسانیات ڈاکٹر سہیل بخاری تو بڑے دور کی کوڑی لائے اور انہوں نے مشرقی ہندوستان میں ریاست اڑیسہ کے قرب و جوار میں ایک علاقہ کھڑدیس کے نام سے بھی دریافت کرڈالا اور دعویٰ کیا کہ یہی کھڑی بولی، یعنی اردو کی مزربوم ہے۔
کھڑی بولی نام کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک جعلی اور مصنوعی نام ہے۔ اس کا سراغ 1798ء سے قبل نہیں ملتا۔اس سال گلکرسٹ ‘اورینٹل لنگوئسٹ ‘میں لکھتا ہے:
شکنتلا کا دوسرا ترجمہ کھڑی بولی یا ہندوستان کی خالص بولی (sterling tongue)میں ہے۔ ہندوستانی (یعنی اردو) سے مختلف یہ صرف اس بات میں ہے کہ عربی و فارسی کا لفظ چھانٹ لیا جاتا ہے۔
میرا اندازہ ہے کہ گلکرسٹ یہاں’ کھری بولی‘لکھنا چاہ رہا تھالیکن کتابت کی غلطی یا کسی اور بنا پر لفظ کھری کو کھڑی مان لیا گیا۔ بعد میں فورٹ ولیم کالج کے مصنفین نے ‘ہندوستان کی خالص بولی‘ کو کھڑی بولی کہنا شروع کر دیا اور یہ لفظ غلط العام و خواص ہو گیا۔
خیر ہندی اردو تنازعے کی طرف لوٹتے ہیں۔ ماہرِ لسانیات ایف ای کی اپنی کتاب’ تاریخِ ہندی ادب‘میں لکھتاہے:
ہندوؤں کے لیے ایک ایسی زبان حسبِ خواہ تھی جس سے وہ وابستگی محسوس کر سکیں۔ اور اس مقصد کے لیے اردوسے فارسی اور عربی کے الفاظ نکال کر ان کی جگہ سنسکرت کے الفاظ رکھ دیے گئے (ایف ای کی، 1920ء)۔
دوسرے ماہرینِ لسانیات بھی کی کے ہم نوا نظر آتے ہیں۔ عالمِ بشریات اورمشہور کتاب ‘شاخِ زریں ‘ کا مصنف ولیم فریزر ‘ہندوستان کی ادبی تاریخ ‘ میں لکھتا ہے:
اونچی ہندی ایک کتابی زبان تھی جو انگریزوں کے زیرِ اثر پروان چڑھی، جنہوں نے مقامی ادیبوں کو آمادہ کیا کہ وہ اردو سے فارسی اور عربی کے الفاظ نکال کر ان کی جگہ سنسکرت کے الفاظ رکھ دیں(ولیم فریزر، 1893ء)
ڈاکٹر تاراچند’ہندوستانی کا مسئلہ‘ میں رقم طراز ہیں:
فورٹ ولیم کالج انگریزوں نے برطانوی افسروں کو مقامی زبانیں سکھانے کے لیے قائم کیا تھا۔ ان میں دو زبانیں برج اور اردو تھیں۔ برج شاعرانہ زبان تھی اور نثری تحریر کے لیے مناسب نہیں تھی۔ اردو تمام ہندوستان کی مشترکہ زبان تھی۔ بدقسمتی سے زبان میں تخصیصات تلاش کرنے کی دھن میں کالج کے پروفیسروں نے ایک نئی اردو تخلیق کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا شروع کر دی جس میں عربی و فارسی الفاظ کو سنسکرت الفاظ سے بدل دیاگیا تھا۔ یہ کام بڑی ڈھٹائی سے ہوا تاکہ ہندوؤں کو ان کی اپنی زبان فراہم کی جاسکے۔ لیکن اس کے بڑے دور رس اثرات مرتب ہوئے اور ہندوستان آج تک زبانوں کی اس مصنوعی تقسیم کے اثرات سہ رہا ہے (تاراچند، 1944ء)
جارج گریرسن جس نے ہندوستانی لسانیات کی سب سے اہم کتاب ‘ہندوستان کا لسانی سروے‘ مرتب کی، 1896ء میں للو لال کی کتاب کے دیباچے میں لکھتا ہے:
ہندوستان میں ایسی کوئی زبان پہلے سے موجود نہیں تھی۔ چنا ں چہ جب للو لال نے پریم ساگر لکھی تو وہ دراصل ایک نئی زبان ایجاد کر رہا تھا۔
اور آخر میں سنیتی کمار چیٹرجی کی سن لیجیے، جنہیں ہندوستانی لسانیات کا باوا آدم مانا جاتا ہے:
تاریخی اورلسانی اعتبارسے اردو ہندی یا سنسکرت آمیز کھڑی بولی کی اسلامی شکل نہیں ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دراصل ہندوؤں نے فارسی آمیز ہندوستانی اختیار کر لی تھی جو دربار اور اس کے حلقوں میں استعمال ہونے لگی تھی۔ چوں کہ فارسی اور عربی الفاظ ان کے لیے بے کارتھے، اس لیے انہوں نے دیوناگری رسم الخط اختیار کرلیا اور فارسی اور عربی کے الفاظ خارج کر کے زبان کو سنسکرت آمیز بنادیا۔ (چیٹرجی، 1973ء)
اس موقعے پر سوال اٹھتا ہے کہ دونوں زبانوں کا ماخذ اردو سہی، لیکن کیا جدید اردو اور جدید ہندی دو مختلف زبانیں ہیں؟اور جواب ہے، نہیں۔ لسانیات کا مانا ہوا اصول ہے کہ زبانوں کی تقسیم و تفریق اور درجہ بندی ان کے افعال کی بنا پر ہوتی ہے ، نہ کہ اسما کی بنیادپر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندہ زبانوں کے اسما بہت لچکدار ہوتے ہیں اور بڑی تیزی سے زبان کے ذخیرے میں داخل ہوتے اور نکلتے رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں افعال نسبتاً مستقل رہتے ہیں اور ان میں آسانی سے تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ لسانیات میں افعال کو زبان کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اگر جدید ہندی اور جدید اردو کو افعال کے حوالے سے پرکھا جائے تو کیا شکل سامنے آتی ہے۔
ایک روسی ماہرِ لسانیات سٹینی سلاف مارٹنیک نے اسی تناظر میں جدید ہندی اور جدید اردو کے تقریباً ساڑھے چار لاکھ الفاظ لیے اور ان کی بسامد (فریکونسی) کا تجزیہ کیا۔ معلوم ہوا کہ دونوں زبانوں میں ایک سو سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ میں سے ستر مشترک ہیں۔ دونوں زبانوں میں بیس سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ درجِ ذیل ہیں:
اردو: کا، ہونا، میں ، کرنا، نے، اور، سے، کو، جانا، پر، کہ، دینا، یہ، کہنا، وہ، کے لیے ، نہیں، ایک، رہنا، جو،
ہندی: کا، ہونا، میں، نے، کرنا، کو، سے، جانا، کی ، یہ، اور، وے، پر، کہنا، دینا، بھی، رہنا، نہیں، ایک، کے لیے
( ‘ہندی اور اردو کی بحث کا شماریاتی جائزہ‘ ، ۲۰۰۲ء)
اور خیر، اب تو ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں اسماکے منبع کی بحث غیر متعلق ہوتی جارہی ہے۔ اور وہ یوں کہ سرحد کے دونوں اطراف اسما، چاہے وہ فارسی و عربی کے ہوں یا سنسکرت کے، بڑی تیزی سے انگریزی الفاظ سے تبدیل کیے جارہے ہیں۔
گیان وگماں کی سرحد
عام خیال یہی ہے کہ اردو فارسی اور مقامی زبان (یا زبانوں) کے میل جول سے وجود میں آئی ہے۔ یہ بات اس لیے بالکل غلط ہے کہ اردو زبان کا ڈھانچاخالصتاً ہندوستانی ہے اور اس کا فارسی کا دور دور سے بھی کوئی واسطہ نہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، زبانیں افعال اور صرف و نحو کی بنیا د پر جانچی جاتی ہیں، نہ کہ اسما کی بنا پر۔ چنا ں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ اردو صرف و نحو پر فارسی اثر انداز نہیں ہوئی۔ اس کی ایک د ل چسپ اور واضح مثال فارسی اضافت کی بحث ہے۔ بے شک ایک زمانہ گزرا ہے کہ بعض ادبا نے اردو اور فارسی الفاظ کے درمیان اضافت برتی ہے، مثال کے طور پر:
‘وعدۂ’ کل‘ مت کر اے ظالم کہ تجھ بن کل نہیں (شاہ حاتم)
یا پھر :
چاہو کہ پی کے پگ تلے اپنا وطن کرو
اول اپس کو عجز میں ‘نقشِ چرن‘ کرو (ولی دکنی)
جدید دور میں اردو لسانیات کے تین بڑوں نے اردو اور فارسی الفاظ کے درمیان اضافت کو رواجانا ہے، میری مراد ہے، شمس الرحمن فاروقی، رشید حسن خاں اور مرحوم شان الحق حقی سے۔ حقی صاحب نے تو اس ‘صنعت ‘میں کچھ غزلیں بھی کہی ہیں۔ چند اشعار دیکھیے:
سج گئی اشکِ فراواں سے مری کشتِ حیات
کثرتِ اوس سے ہے طرفِ چمن آئینہ بند
یہ ہے گیان وگماں کی سرحد، کدھر ہے تیرا جھکاؤ اے دل
گیان ہے فکرو نظر کا پھندا، گماں میں آزادیاں ہیں کیا کیا
لیکن بات پھر قبولِ عام کی آجاتی ہے۔ ان حلقوں کے اصرار کے باوجود اردواور فارسی و عربی الفاظ کے درمیان اضافت کو کسی دور میں بھی قبولِ عام نہیں مل سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے زبانیں دوسری زبانوں سے اسماتو بڑی سہولت سے قبول کر لیتی ہیں، دوسری زبانوں کی گرامر کے اصول اتنی آسانی سے ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل نہیں ہوتے۔ اضافت کے ذریعے دو الفاظ کومنسلک کر دینا فارسی گرامر کا اصول ہے اوراردو نحو کو یہ بات گوارانہیں کہ وہ دوسری زبان سے اصول برآمد کرے۔
ایک مثال سے بات واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں: انگریزی کا قاعدہ ہے کہ الفاظ کی جمع بنانے کے لیے آخر میں حرف ایس لگا دیا جاتا ہے، جیسے کار سے کارز، روڈسے روڈز، وغیرہ۔ اب ہم اردو بولتے وقت انگریزی الفاظ میں تو انگریزی جمع کا اصول بے تکلفی سے برت لیتے ہیں، جیسے اس فقرے میں، ‘ روڈز پر کارز کی بھرمار ہو گئی ہے۔‘ لیکن انگریزی جمع بنانے کا اصول کبھی بھی اردو الفاظ کی جمع بنانے کے لیے نہیں استعمال کرتے۔ایسے الفاظ کی شکل ہی مضحکہ خیز ہے، یعنی سڑکزاور گاڑیز ۔ وجہ وہی کہ اسما تو قبول ہو جاتے ہیں، گرامر ہضم نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ فارسی گرامر کا اصول اردو کو گوارا نہیں۔
گرامر کو ایک طرف رکھ بھی دیں، پچھلے ایک ہزار سال کے تسلط کے باوجود فا رسی اردو زبان کے بنیادی اسماکو متاثر نہیں کر سکی۔ جیسے بنیادی رشتے (ماں، باپ، بیٹا، بیٹی،بھائی، بہن، نانا، دادا،ماموں، چچا، حتیٰ کہ ساس، سسر)، بنیادی ہندسے (ایک ، دو، تین، چار، پانچ، دس، بیس، پچاس ،سو )،اہم اعضا (ہاتھ، پاؤں، ناک،ٹانگ، کان، آنکھ، منھ)، وغیرہ اب بھی اردو کے اپنے الفاظ ہیں۔
مزید برآں، مارٹنیک کی تحقیق، جس کا ذکر پہلے آچکاہے، کے مطابق تحریری اردو کے بیس سب سے عام استعمال ہونے والے الفاظ میں، جو اردو ذخیرۂ الفاظ کا اڑتیس فیصد بنتا ہے، ایک لفظ بھی فارسی یا عربی کا نہیں ہے۔
مذکورہ بالا دلائل اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو مسلمانوں کی ایجاد نہیں ہے ، بل کہ یہ دہلی اور اس کے قرب وجوانب میں قطب الدین ایبک کے ورود (1193ء) سے پہلے ہی بولی جاتی تھی۔ اس زبان کو اس وقت کیا کہا جاتا تھا، اس کا ادبی سرمایہ کیا تھا، کوئی نہیں جانتا۔ لیکن ماہرینِ لسانیات نے کچھ دھندلا سا نقشہ ضرور مرتب کیا ہے۔
پہلی زبانیں، بگڑی زبانیں
برِصغیر میں زبانوں کے ارتقا کا سادہ نقشہ کچھ یوں مرتب کیا جا سکتا ہے۔
منڈازبانیں: ۵۰۰۰ ہزار تا ۳۰۰۰ قبل مسیح
قدیم دراوڑی زبانیں: ۳۰۰۰ تا ۱۵۰۰ قبل مسیح
انڈو آرین: قبل از ۱۵۰۰ قبل مسیح
ویدک سنسکرت/قدیم انڈو آرین: ۱۵۰۰ قبل از مسیح تا ۱۰۰۰ قبل مسیح
کلاسیکی سنسکرت /وسطی انڈوآرین: ۱۰۰۰ ق م تا۵۰۰ ق م
پراکرتیں: ۱۵۰۰ ق م تا ۵۰ ق م
اپ بھرنشیں: ۵۰۰ ق م تا ۱۰۰۰ ق م
جدید زبانیں: ۱۰۰۰ تا حال
(ماخوذ از گیان چند جین، 1994ء؛ عین الحق فریدکوٹی، 1972ء)
پراکرتیں وہ زبانیں تھیں جو آریاؤں کی آمد سے قبل ہندوستان میں بولی جاتی تھیں (پرا: پہلے؛ کرت: بنائی ہوئی۔ اس کے مقابلے میں سنسکرت کا مطلب ہے، خالص زبان)۔ ہم جانتے ہیں کہ آریاؤں کی آمد سے قبل بھی برِ صغیر گنجان آباد خطہ اورمتنوع تہذیبوں کا گہوارہ تھا۔ امری نل تہذیب سات ہزار سال پرانی ہے جب کہ وادئ سندھ کی عظیم الشان تہذیب آج سے پانچ ہزار پہلے اپنے عروج پر تھی۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ سب قومیں مختلف زبانیں بولتی تھیں، جو صدیوں کے سفر میں اپنی شکلیں بدلتی چلی گئیں۔انہی زبانوں کو پراکرتیں کہا جاتا ہے۔ پالی ان میں سے ایک پراکرت ہے جسے گوتم بدھ نے اپنی تعلیمات کی تشہیر کے لیے منتخب کیا۔
اپ بھرنشیں (لفظی مطلب، بگڑی زبانیں)کچھ اور بل کہ پراکرتوں کی ارتقائی شکلیں ہیں۔ بگڑی ہوئی زبانیں انہیں برہمنوں نے کہا جو سنسکرت کو خالص زبان سمجھتے تھے اورجنہیں اس کے بے داغ دامن پر تغیر کی ہلکی سی دھول بھی گوارانہیں تھی۔ چناں چہ ہوا کیا کہ سنسکرت تو عجائب گھر میں رکھی ہوئی حنوط شدہ ممی بن گئی لیکن زندہ زبانوں کا سفر جاری و ساری رہا اور یہ دوسری زبانوں سے اثر قبول کرتی، اثرڈالتی، سکڑتی پھیلتی، چھلتی چھلاتی آگے بڑھتی رہیں۔ ماہرینِ لسانیات کا خیال ہے کہ موجودہ زبانیں یکایک وجود میں نہیں آئیں بلکہ قدیم زبانوں کی بدلی ہوئی شکلیں ہیں۔دراصل زبانیں زمانی اور مکانی دونوں اعتبار سے مسلسل عملِ تغیر سے دوچار ہوتی رہتی ہیں۔ جیسے ہر دس بارہ میل کے بعد ایک ہی زبان میں معمولی سافرق آجاتا ہے، بالکل ویسے ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھی زبانیں دھیرے دھیرے تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ جس طرح کسی علاقے میں زمین پر خط لگا کر نہیں کہا جاسکتا کہ یہاں سے فلاں لہجہ شروع ہوتا ہے، اتنا ہی مشکل زبان میں کسی تبدیلی کے صحیح سن کا تعین بھی ہے۔
ان نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے محققین نے بڑی دقت نظری سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ جدید پنجابی جس اپ بھرنش سے نکلی ہے اسے پشاچی اپ بھرنش کہا جاتا ہے جب کہ برج بھاشا شورسینی اپ بھرنش کی ارتقائی شکل ہے۔
بہت دلچسپ اور معلوماتی بحث ہورہی ہے اور یہی میری خواہش بھی ہے کہ مجھ جیسے کم فہم مصباح صاحب اور ہمدانی صاحب جیسے احباب سے استفادہ کریں۔
یو این او کے مطابق انگریزی اور چینی زبان کے بعد اردو/ہندی دنیا کی سب سے بڑی زبان ہے ۔ اسکو بولنے اور سمجھنے والے نوّے کڑوڑ سے زیادہ ہیں۔ لیکن چینی، انگریزی اور دیگر زبانوں کی نسبت اسکی عمر بہت کم ہے اس ہی لئے انگریزی جرمن عربی فارسی اور پنجابی سمجھنے والے اقبال نے کہا کہ ٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰ گیسوئے اُردو ابھی منت پذیرِِ شانہ ہےٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰ ۔ اب ہم اگر انگریزی کو دیکھیں جو یقیناً منت پذیرِ شانہ نہیں ہے اس زبان میں آج بھی نئے نئے پنڈت اور گرو جیسے الفاظ شامل ہورہے ہیں اور اس ہی طرح بہت سے پرانے الفاظ متروک ہورہے ہیں۔ اگر ہم اُردو زبان کی تاریح پر نظر ڈالیں تو میر، ذوق، انیس اور جوش کے علاوہ اور کوئ قابلِ ذکر مجدّد نظر نہیں آتا۔ میں سمجہھتا ہوں کہ اب اُردو پر پاکستان کی کافی حد تک اجارہ داری ہے۔ جس گرم جوشی کے ساتھ سارے پاکستان میں اُردو پر کام ہورہا ہے اُس کے پیشِ نظر مستقبل میں بڑے بڑے مجدّد پیدا ہونگے اور اردو میں پنجابی، سرائکی، پشتو، بلوچی، سندھی، گجراتی، کچھی، بروہی اور دیگر زبانوں کے الفاظ، استعارے، تشبیحات، تلمیحات کی آمیزش بڑھتی چلی جائیگی ۔ اردو میں اسطرح ارتقائ عمل تیز سے تیز تر ہوتا چلا جائے گا۔
السلام علیکم ۔ تمام پڑھا ۔لطف آیا۔مجھے اس شعر کا پہلا مصرع درکار ہے
چاہیے اہلِ سخن میر کو استاد کریں
نوید صدیقی صاحب. میں حیران ہو گیا آپکی تحریر دیکھ کر کہ آپ نے مئی 2010 کا بلاگ پڑھ ڈالا.واہ واہ واہ.اسی جستجو کو ہی تو طلب علم کہتے ہیں. خدا غارت کرے ان طالبان کو کہ انہوں نے اس لفظ طالبان کو بھی حقارت کا لفظ بنا دیا ہے. حضور آپ نے مکمل شعر مانگا ہے. خاکسار غزل حاضر کرتا ہے
………..
چاہتے ہیں یہ بُتاں ہم پہ کہ بیداد کریں
کس کے ہوں، کس سے کہیں، کس کنے فریاد کریں
ایک دم پر ہے بنا تیری، سو آیا کہ نہیں
وہ کچھ اس زندگی میں کر کہ تجھے یاد کریں
کعبہ ہوتا ہے دوانوں کا مری گور سے دشت
مجھ سے دو اور گڑیں یاں تو سب آباد کریں
ریختہ خوب ہی کہتا ہے جو انصاف کریں
چاہیے اہلِ سخن میر کو استاد کریں