یورپ میں اردو شاعری، زوال کا آنکھوں دیکھا حال

چند روز قبل میرے ایک برسوں پرانے عزیز دوست باقر زیدی جرمنی آئے اور ان سے حادثاتی طور پر ملاقات ہو گئی۔ ہوا کچھ یوں کہ ان سے کوئی 1999ء سے 2002ء تک بہت سی ادبی نشستوں اور مشاعروں میں ملاقات ہوا کرتی تھی، مگر پھر میری ہی کچھ عدیم الفرصتی کے باعث سلسلہ برقرار نہ رہ پایا۔ وہ اپنے ٹی ڈراموں کی ہدایت کاری میں مصروف ہو گئے اور میں پڑھائی کے لئے پہلے کراچی اور ملک چھوڑ کر آسٹریلیا اور پھرانگلینڈ چلا گیا، لوٹا بھی تو باقر سے ملاقات نہ ہو پائی۔ میں خود بھی بعد میں کم کم ہی مشاعروں میں جانے لگا اور شاید باقر بھی اپنی دنیا میں مست مشاعروں میں شریک ہونے سے کترانے لگا۔ ایک روز میں ڈوئچے ویلے ریڈیو کے دفتر میں اپنے کام میں مصروف تھا کہ مجھے اس کی آواز آئی۔ میں باقر کی آواز ہزاروں لوگوں میں بھی پہچان سکتا ہوں، کیونکہ مشاعروں میں وہ اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے ڈھیر ڈھیر داد سمیٹا کرتا تھا۔ خیر میں دوڑا دوڑا اس کمرے میں گیا اور مجھے ایک سوٹڈ بوٹڈ بندہ نظر آیا۔ وہ ایک خاص دفتری انداز میں میرے شعبے کے سربراہ سے ملاقات کے لئے ڈوئچے ویلے (وائس آف جرمنی) آیا تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ سب کچھ بھول کر مجھ سے لپٹ گیا۔ چند لمحموں کے لئے وہ اور میں تمام تر دفتری آداب اور رکھ رکھاؤ برطرف کر کے چپمٹے رہے۔ میں واپس اپنے کمرے میں لوٹ آیا اور جب وہ اپنی ملاقات سے فارغ ہوا تو وہ بھی میرے کمرے میں آگیا۔ اس کے ساتھ یہاں جرمنی کا ایک شاعر شہزاد ارمان اور ایک پاکستان سے اس کے ساتھ آنے والا کیمرہ مین تھا۔ معلوم چلا کہ وہ اپنے ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے سلسلے میں فرانس اور جرمنی آیا تھا اور کچھ دن میں لوٹ جائے گا۔ اس نے جرمنی میں ارمان کے ہاں ہی قیام کیا ہوا تھا۔ پھر اپنے پرانے ادوار یاد کرنے لگے۔ اس نے بتایا کہ یہاں ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں، جہاں حضرت اقبال نے بھی تعلیم حاصل کی تھی، امریکہ سے ڈاکٹر ستیا پال آنند جی کے اعزاز میں ایک شام منعقد ہو رہی ہے اور ایک مشاعرہ بھی ہے اور مجھے بھی اس میں شریک ہونا ہے۔ خیر میں اس روز وہاں پہنچ گیا۔ وہاں یہاں کے مقامی شاعر اور شاعرچے موجود تھے۔ مشاعرہ برپا ہوا۔ سبھی نے کلام سنایا اور اس کے بعد ایک چھوٹی سی نشست ہوئی، جس میں پروفیسر ستیہ پال آنند جی سے سوالات کا سلسلہ شروع ہوا۔ مجھے یہ دیکھ کر شدید ترین دکھ ہوا کہ اس نشست میں صرف علم عروض کے سوالات شروع ہو گئے۔ ستیہ جی سے سوالات کا مقصد بھی سیکھنے سے زیادہ انہیں تنگ کرنا تھا۔ میں خاموشی سے بیٹھا رہا، کیونکہ اس نشست میں ستیہ جی کے ساتھ ساتھ تقریبا سبھی لوگوں سے میری پہلی ملاقات تھی۔ وہ عروض اور بحروں کے ایسے سوالات پوچھ رہے تھے کہ جنہیں میں نے بھی صرف پڑھا ہی تھا اور شاید ہی میں انہیں کبھی استعمال کرنے کا سوچا بھی ہو یا اگر استعمال کیا بھی ہو گا تو مجھے یاد نہیں تھا۔ وہ ستیہ جی کو خوب تنگ کرتے رہے۔( میں ابھی شعراء کے یہاں نام تحریر نہیں کر رہا صرف یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ معاملہ کیا رہا)۔
خیر میں اس وقت چند لمحموں کے لئے کراچی کے مشاعروں اور نشستوں میں پہنچ گیا۔ جون بھائی، انور شعور، محسن بھوپالی، پروفیسر آفاق صدیقی، سرور جاوید، سہیل احمد، عزم بہزاد پتا نہیں کن کن لوگوں کے ساتھ گفت و شنید ہوتی تھی، کتنی بار لاہور یا اسلام آباد کے مشاعروں میں فراز صاحب، امجد اسلام امجد، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی سے نشستیں رہیں۔ ہمیشہ اچھے اشعار کا تٖذکرہ رہا کرتا تھا۔ نئے مضامین پر بات ہوتی تھی۔ اردو شاعری کو لاحق مسائل پر بحثیں ہوا کرتی تھیں۔ ہم ہوتے تھے اور اشعار ہوتے تھے۔ یہ گفتگو ہوتی تھی کہ پنجاب کے فلاں چھوٹے سے گاٗؤں میں فلاں شاعر نے کیا اچھا شعر کہا ہے۔ میں ان تمام یادوں سے واپس ہایئڈل برگ یونیورسٹی کی اسی میز پر لوٹا تو وہاں بحث وہیں تھی، بلکہ کچھ تلخی بھی آتی جا رہی تھی لفظوں میں۔
میں نے کہا جناب، عروض شاعروں کا مسئلہ نہیں ہوتا، یہ تو نقاد کا کام ہوتا ہے۔ شاعر تو شعر کہتا ہے۔ وہ بحریں اور میٹر طے کر کے شعر نہیں کہتا۔ پکاسو لاسٹ سپر یا ویپنگ چائلڈ برش کے سٹروکس طے کر کے نہیں بنا سکتا۔ مونا لیزا یہ طے کر کے نہیں بنائی جا سکتی کہ اس میں کلر استعمال نہیں کئے جائیں گے یا اس تصویر کے اوپر کی جانب بلیک شیڈ میں وائٹ کا ٹچ مصوری کے فلاں اصول کے مطابق دیا جائے گا۔ یہ تو بالکل یوں ہے کہ جیسے کسی گلوکار کے بارے میں کہا جائے کہ یہ بہت اچھے گلوکار ہیں اور سُر میں بھی گاتے ہیں۔ میں نے کہا جناب، جو شاعر ہو گا وہ بحر میں ہی لکھے گا، لیکن طے کر کے نہیں لکھا جا سکتا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میری کسی بھی اہم شاعر سے ملاقات ہوئی ہو اور ہم نے اس موضوع پر بات بھی کی ہو۔ خیر وہاں تو میری گفتگو کو ستیہ جی کے علاوہ تقریبا تمام ہی افراد نے یا تو یہ سمجھ کر کہ یہ لڑکا کیا بیچتا ہے صرف نظر کردی یا کچھ نے میری بھرپور مخالفت کرتے ہوئی شاعری کے لئے عروض کو عین شرعی قرار دیا یا چند افراد خاموشی سے بیٹھے رہے۔ چند روز قبل یہاں بون شہر میں مشاعرہ ہوا تو پھر وہی شاعر یہاں دیکھنے اور سننے کو ملے۔ اس بیچ میں ان میں سے کئی شعرا نے ستیہ پال آنند کے خلاف مضامین بھی لکھ مارے۔ کئی افراد نے ان کے علم عروض بلکہ شاعر ہونے پر ہی سوالات کھڑے کر دئے۔ یہاں بون کے مشاعرے میں ان شاعر نما لوگوں کے وہی خالص عروضی اشعار اور قافیہ پیما غزلیں سننے کو ملیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر شاعر خود کو شاعر اعظم بھی سمجھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ مجھ سے زیادہ اچھا قافیہ کوئی اور نہیں باندھ سکتا اور مجھ سے زیادہ مشکل بحر میں کوئی شعر نہیں کہہ سکتا۔ مجھے ہنسی بھی آ رہی تھی اور صدمہ بھی ہو رہا تھا۔ ان لوگوں کی داد بھی بڑی انوکھی ہے، یہ ایک دوسرے کو کہتے ہیں کیا اچھی بحر ہے جناب، واہ واہ کیا قافیہ استعمال کیا ہے۔ فلاں صاحب کیا اوزان استعمال کئے ہیں۔ فلاں صاحب غضب کے شاعر ہیں انہیں علم عروض پر عبور حاصل ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یورپ میں سب بہت بڑے شاعر ہیں اور ایک بھی بڑا شعر نہیں۔
آپس کے تلخ رویے اور سیاست میں یہاں مجھے اردو شاعری کا کوئی بڑا شاعر دکھائی نہیں دیتا۔ میں نے طے کیا کہ آئندہ کم کم ہی کسی مشاعرے میں شرکت کروں گا اور اس متعدی بیماری میں مبتلا ہونے سے بچوں گا۔

28 thoughts on “یورپ میں اردو شاعری، زوال کا آنکھوں دیکھا حال”

  1. عزیزی عاطف توقیر. میں چونکہ ان دنوں امریکہ اور کینڈا میں ادبی اور دینی تقریبات میں مصروف ہوں اس لیئے انٹر نیٹ پر اس طرح مصروفیت نہیں جیسی لندن میں ہوتی ہے لیکن پھر بھی جہاں بھی وقت ملتا ہے ضرور آ جاتا ہوں.
    سوچ رہا تھا کہ مجھ سے پہلے کوئی نہ کوئی اس اہم اور ہر زمانے میں زندہ موضوع پر ضرور لکھے گا لیکن ابھی شاید بہت سے احباب تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے انتظار میں ہیں.
    مجھ جیسے طالب علم کو اس شاعری کے پل صراط پہ چلتے ہوئے اب کوئی 45 برس ہونے کو آئے ہیں لیکن یہ عروضیوں کو میں نے تو کبھی اس بحث کے قابل بھی نہیں جانا کہ ان سے اس موضوع پر بات کی جائے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ ان میں غالب اکثریت ایسے نام نہاد شاعروں کی ہے جنکی اول تو غزلوں کی تعداد 100 سے زیادہ نہیں اور دوسرے انہوں نے شاعری نہیں کی بلکہ شعر کہے ہیں.
    میں اس سے پہلے بھی کئی بار اس موضوع پر لکھ چکا ہوں اور اسی عالمی بلاگ پر ایک بار تو اس موضوع پر ایسی بحث ہوئی کہ الامان. ہو سکتا ہے کہ منظور قاضی صاحب یا برادرم مصباح تلاش کر کے اس بحث والے بلاگ کو ایک بار پھر یہاں زندہ کر دیں.
    میں واپس لندن آ کر اس پر ایک بار پھر تفصیلی بات کرؤں گا اسوقت صرف اتنا عرض کرؤں کہ شاعری کسی عروض کی قطعی مرہون منت نہیں ہے. عروض ایک علم ہے جسے اگر کوئی دیگر علوم کی طرح جانتا ہے تو اچھا ہے اور اگر نہیں جانتا تو میرے خیال میں اور بھی اچھا ہے کیونکہ میں نے اس سے قبل بھی متعدد بار لکھا اور محافل میں کھل کر کہا ہے کہ عروض کی شاعری ”منجھی پیڑھی” ٹھونکنا ہے. غالب،میرسودا،انیس اور ایسے ہی نو نو گز کے استاد شاعروں نے عروض کی کسوٹی پر کس کے شعر نہیں کہے تھے.
    اور وہ عروض جس نے ایجاد کیا تھا ذرا یہ تو کوئی بتائے کہ وہ خود کتنا بڑا شاعر تھا اور اس نے کتنے شعر کہے تھے . اب تویہ عالم ہے کہ وہ چار دن کے شاعر جو اپنے شعر درست نہیں کہہ پاتے وہ عروض کی کلاسیں لیتے ہیں.
    بس یہ طے ہے کہ شاعری فقط عروض نہیں. کوئی عروض سے لکھنا چاہے لکھے ہمیں کوئی اعتراض نہیں.

  2. زندہ شاعری خود بخود ہی عروض و بحور کی بندشوں میں ہوتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ شاعر کو معلوم بھی ہو کہ کون سا شعر کس عروضی بندش میں ہے اور کس بحر میں رواں ہے۔ تاہم علم العروض ہم ایسے وارداتیوں کے لئے ایک ممد کے طور پر کام آ سکتا ہے جو فطری شاعر نہیں ہوتے اور ان کے اشعار کے اوزان ایسے خطا ہوتے ہیں کہ انہیں خود اسکی خبر نہیں رہتی، ایسے میں عروض کی مدد سے خود کو بحر کے اندر رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔بہر کیف جہاں اردو ادب سارے کا سارا روبہ زوال ہے، وہاں شاعری کی درگت بھی خوب بن رہی ہے۔
    ابھی اس بلاگ کے حوالہ سے کچھ خیال پریشان اور بھی ہیں ذہن میں، لیکن فی الحال اسی پر رکوں گا، کیونکہ یہ ادب و شاعری کا موضوع ہے اور میں شاعر نہیں ہوں، لہذا بہتر ہے اس موضوع پر اس بزم کے شعراء، یعنی جناب منظور قاضی صاحب، امین ترمذی صاحب، محترمہ عرشی ملک صاحبہ، ،محترمہ شاہین رضوی صاحبہ، محترمہ زرقاء مفتی صاحبہ اور نگہت آپی کے خیالات سے بہرہ مند ہوا جائے۔ ۔۔۔اور سب سے بڑھ کر اگر جناب اشفاق حسین صاحب ہماری ایسی محفلوں میں آ جائیں تو ہم سب کا بھلا ہو سکتا ہے۔
    سعودی عرب سے محترم زوار قمر عابدی صاحب ایسے ادبی موضوعات پر خوب لکھا کرتے ہیں، لیکن نجانے آج کل کہاں مصروف ہیں، انکی کمی شدید محسوس ہوتی ہے۔ خدا تعالی انکو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

  3. صفدر جی آپ کی بات میں ذرا برابر جھول نہیں۔ یہ بالکل سچ ہے کہ جب شعر کہا جائے گا وہ تو ہوتا ہی ہے بحر میں، جیسا کہ مصباح صاحب نے کہا۔ ٹھیک ہے اتنا علم آپ کو آنا چاہئے کہ آپ کہ مصرع برے نہ لگیں اور ان میں موسیقیت ہو۔ مگر پہلے سے بحر طے کرنا اور اپنے قبیلے کہ دوسرے شعراء پر یہ رعب جھاڑنا کہ اب کہہ کہ دکھاؤ اور مزے کی بات یہ ہے کہ شعر ایک نہ ہو غزل میں رگڑ رگڑ کہ شعر کہے جا رہے ہیں۔ صفدر جی جب میں بزم طلبہ ریڈیو پاکستان میں تھا۔ میں اس وقت غالبا کوئی 1996 کی بات کر رہا ہوں، اس وقت کوئی عمر ہو گی میری 16 سال۔ اس وقت ہم لڑکوں میں یہ بحث ہوا کرتی تھی۔ ہمیں عروض کا ککھ نہیں پتا تھا اور ہم ایک دوسرے کے مصرعوں کو غلط یا صحیح قرار دیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کو کہا کرتے تھے کہ یار تھوڑا بہت سیکھ لے بحریں۔ یہ کہیں اسی دور کے شاعر تو نہیں ہیں جو یہاں آباد ہو گئے ہیں۔
    یقینا عالمی اخبار کے شعراء اس موضوع کو سیر حاصل بنا پائیں گے مگر مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ فن کبھی کامل یا پرفیکٹ نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا ہے تو آپ کمپیوٹر میں ساری بحری اور کل لغت ڈال کر اس سے آڈر پر شاعری کروا سکتے ہیں بلکہ کامل فن پارے بنوا سکتے ہیں۔ کیوں نہ شاعری چھوڑ کر کمپیوٹر پروگرام ہی سیکھ لی جائے۔
    لیکن ظاہر ہے اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آپ نرا ایک خیال ہی لکھ کر لے آئیں اور کہیں کہ اسے شاعری سمجھا جائے۔ وہ حضرت انور مسعود کا شعر ہے : کیسی یہ غزل آپ نے بھیجی ہے کہ جس پر
    ہنس بھی نہیں سکتا ہوں تو میں رو نہیں سکتا
    یوں بحر سے خارج ہے کہ خشکی پہ پڑی ہے
    شعروں میں وہ سکتا ہے کہ کچھ ہو نہیں سکتا
    باقی دوست اگر اس موضوع پر بات کریں گے تو یقینا لطف آئے گا۔ صفدر جی آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے وقت نکالا اور بات آگے بڑھائی۔ مصباح صاحب کی تو خیر کیا بات ہے۔ مصباح بھائی اس پر فکر گفتگو کا شکریہ

  4. عاطف توقیر صا حب نے اپنا یہ بلاگ نیک نیتی سے شروع کیا اور ہایڈل برگ کی ایک ادبی محفل میں ڈاکٹر ستیہ پال آنند صاحب کی جو بے قدری یورپ کے چند نام نہاد شعرا کے ہاتھوں ہوئی اسکا تذکرہ بھی کیا جو نہایت ہی افسوسناک سانحہ تھا۔

    ڈاکٹر ستیہ پال آنند جیسا اردو کا سرپرست اور خدمت کرنےوالا انسان ہندو کمیونٹی میں بہت ہی مشکل سے ملتا ہے۔ ان جیسے انسانوں کی تو دل سے قدر کرنا چاہیےتھا۔

    افسوس کہ میں جرمنی میں رہتے ہوئے بھی جرمنی کے شعرا کی انجمن سے نا واقف ہوں ۔ کبھی کبھی مجھے اردو کی محفلوں اور مشاعروں کے انعقاد کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں مگر ان محفلوںمیں شریک ہونے کی نہ مجھ میں خواہش ہے اور نہ ہمت ہے اور نہ صحت ہی اس قابل ہےکہ ادھر ادھر بھٹکتا پھروں ۔ ( اسلیے : ہیچ آفت نہ رسد گوشہ ء تنہائ را کا معاملہ ہے )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    عاطف توقیر صاحب کی تحریر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ جرمنی کے ریڈیو ڈوچہ ویلا ( جرمنی کی آواز ) کے اردو اسٹاف کے ممبر ہیں۔
    عاطف توقیر صاحب نے شہزاد ارمان صاحب کا تذکرہ کیا ۔ میرے خیال میں یہ وہی شہزاد ارمان صاحب ہیں جو شفیق مراد صاحب اور ارم بتول صاحبہ کے تعاون سے ہر جمعرات کی شام سات سے تو بجے (اسپین کے وقت کے مطابق ) اردو کا مشاعرہ ریڈیو پاک سلونا ( بارسلونا اسپیں ) سے نشر کرتے ہیں ۔اور اس پروگرام کی نظامت حافظ احمد صاحب اور عابد خان صاحب بڑی ہی خوش اسلوبی سے کرتے ہیں ۔ انہی مشاعروں میں ہمارے عالمی اخبار کی ایک اردو نواز بلاگ نگار شاہین رضوی صاحبہ بھی حصہ لیا کرتی ہیں ۔ اگر کمپیوٹر نے ساتھ دیا تو میں ان مشاعروں کو سننے کی کوشش کرتا ہوں اور منتظمین کی ہمت اور اردو نوازی کی داد دیتا رہتا ہوں۔ ( افسو س کہ میں ان تمام سے ابھی تک نہیں ملا ہوں اور انکے علاوہ برلن اور فرینکفرٹ کے شعرا سے بھی ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا) ان مشاعروں میں یورپ اور ہندوستان اور پاکستان کے مشہور اور غیر معروف سخنور شریک ہوکر اپنا کلام بھی سناتے ہیں اور اردو کی ترقی کے لیے جو جو کام انہوں نے انجام دیے انکا تذکرہ بھی کرتےرہتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں یورپ میں رہنے والے تمام اردو کے شیدائیوں کی دل سے قدر کرتا ہوں اور خوش ہوتا رہتا ہوں کہ یورپ میں اردو کے اس طرح کے باصلاحیت نثر نگار اور نظم نگار سخنور اور سخن گو موجود ہیں ۔

    میں نے اپنے بلاگوں میں طاہر عدیم صاحب کی شاعری کی بھی تعریف کی اور اسکے علاوہ برلن میں رہنے والے چند ایک ابھرتے ہوئے شعرا پر بلاگ بھی لکھے ۔

    ۔۔۔۔۔
    عاطف توقیر صاحب نے یہ شکایت لکھی ہے کہ یورپ کےشعرا ( جو انکے معیار پر پورا نہیں اترتے ) عروض اور افاعیل اور شعر کی تقطیع پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور شاعری پر کم ، تو میرے خیال میں یہ ہمت شکن قسم کا اعتراض ہے ۔ انہیں تو اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ جرمنی کے شعرا اپنے کلام کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔
    ۔۔۔۔
    عالمی اخبار کے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ میں شعر کی تقطیع نہیں کرسکتا اور نہ میں عروض سے پوری طرح واقف ہوں مگر یہ بھی جانتا ہوں کہ غزل کے لئے بحر کی پابندی کی ضرورت ہے اور قافیہ اور ردیف کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے اور وزن کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے مگر سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خیال کی گہرائی اور وسعت بھی ضروری ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔
    چونکہ عاطف توقیر صاحب جرمنی کے ریڈیو کے اردو سیکشن کے اسٹاف کے رکن ہیں اس لیے ان سے یہ کہنا ہے کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے اور انکے رفقا نے جرمنی میں اردو شعر وشاعری اور اردو علم و ادب کی فروغ کے لیے کیا کیا؟ اور یہ بھی بتائیں کہ کیا انہوں نے جرمنی کے ریڈیو اسٹیشن سے کوئی اردو کا مشاعرہ بھی منعقد کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو کیا انہوں نے فراز کی زندگی میں اسکو اپنے مشاعروں میں شرکت کی دعوت دی ؟ یہ بھی بتائیں کہ مستقبل میں انکے اردو کے پروگراموں میں اردو شعر و شاعری اور نثر نگاری کے سلسلے میں کیا کچھ کرنے کا منصوبہ ہے؟ یہ بھی بتائیں کہ کیا انکے ادارے نے جرمنی کے اردو داں افراد کی کوئی فہرست بنائی ہےا ور کیا وہ انکے ای میل کے پتوں اور ٹیلیفون نمبروں کے جاننے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ تاکہ اردو کے خاص خاص پروگراموں کی تشہیر کے لیے ان پتوں اور نمبروں سے کام لیا جائے ؟
    ۔۔۔۔۔
    عاطف توقیر صاحب سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ‘ یورپ میں اردو شاعری کا زوال “ جیسے عنوانا ت سے گریز کریں اور اسکے برخلاف نئے نئے ابھرتے ہوئے شعرا کی ہمت افزائی کریں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عاطف توقیر صاحب سے یہ بھی پوچھنا ہے کہ یورپ میں اردو شاعری کا عروج کب ہوا تھا کہ اس کے زوال کا حال آپنے لکھنا شروع کردیا ؟

    عاطف توقیر صاحب کا یہ جملہ بھی توضیح طلب ہے کہ :
    “عجیب بات یہ ہے کہ یورپ میں سب بہت بڑے شاعر ہیں اور ایک بھی بڑا شعر نہیں۔“

    “ایک بھی بڑا شعر نہیں “ سے وہ کیا واضح کرنا چاہتے ہین؟

    آخر میں وہ انتہائی مایوسانہ انداز میں کہتے ہیں کہ :

    “ آپس کے تلخ رویے اور سیاست میں یہاں مجھے اردو شاعری کا کوئی بڑا شاعر دکھائی نہیں دیتا۔ میں نے طے کیا کہ آئندہ کم کم ہی کسی مشاعرے میں شرکت کروں گا اور اس متعدی بیماری میں مبتلا ہونے سے بچوں گا۔ “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اگر وہ ایسا رویہ اختیار کرینگے تو پھر یورپ میں ابھرتے ہوئے شعرا کی رہنمائی اور سرپرستی اور ہمت افزائی کون کرے گا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میری عاطف توقیر صاحب سے درخواست ہے کہ وہ ایسا منفی رویہ چھوڑدیں ۔ اور اردو کی خاطر ، یورپ کے ابھرتےہوئے سخنوروں کی رہنمائی اور سر پرستی کرتے رہیں

    جیسا کہ اقبال نے اپنی کشتِ ویراں کےمتعلق کہا ہے کہ :
    ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔

    ۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    اردو کا دلدادہ
    منظور قاضی
    جرمنی میںمیونخ کے ایک قریبی دیہات سے

  5. منظور صاحب آداب، شکریہ کہ آپ نے انتہائی اہم انداز میں گفتگو آگے بڑھائی۔ حضور میرا مسئلہ سیدھا سا ہے اور وہ یہ کہ میں اچھے شاعر سے زیادہ اچھے شعر کا بندہ ہوں۔ کوئی اچھا شاعر ہے کہ یہ وہ جانے اور اس کا کام۔ حضور عرض یہ کیا ہے کہ یورپ میں اب تک کے چند ایک شعراٗ کو ایک طرف رکھ دیجئے ۔ مجھے کوئی ایک شعر تو سنائیے جسے ہم اردو کے اچھے شعروں میں شامل کر سکیں۔ جناب میں شاعر ہوں اور ہوں ۔مجھے اس معاملے میں آپ کی رائے سے اختلاف کا حق ہوتا تو وہ بھی استعمال کرتا مگر ظاہر ہے۔ آپ جیسے شعراء جنہیں ہم اساتذہ کی فہرست میں شامل کرتے ہیں ان سے جھگڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر آپ سے شکوہ ضرور کیا جا سکتا ہے کہ آپ مجھے غلط سمجھے۔
    اب میں ایک ایک کر کے آپ کی تمام باتوں کے جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ امید ہے میں اپنی بات سمجھا پاؤں گا۔ یا کم اے کم کہہ پاؤں گا جو مجھے کہنا ہے۔
    یقنی طور پر شہزاد ارمان ، اس کی بہن بتول اور ان کے رفقاء نہایت اچھا کام کر رہے ہیں اور اس میں دو بحثیں ہر گز نہیں ہیں اور میرا خیال ہے ان کے حوالے سے میں نے ایسا کچھ نہیں لکھا۔ نہ میں ایسا لکھ سکتا ہوں۔ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور ان کی جس جس طرح سے میں مدد کر سکتا ہوں میں حاضر ہوں اور یہ وہ جانتے ہیں۔ دوسری بات طاہر عدیم کی۔ وہ ایک بہت اچھا شاعر ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہی کہ یہاں آنے کے بعد میں اب تک جن جن لوگوں سے ملا ہوں ان میں وہی ایک بندہ نظر آیا جسے واقعی شاعر کہا جا سکتا ہے۔ یعنی بناوٹ نہیں ہز اس کے مصروں میں کھڑے مصرعے کہتا ہے اور اس کی مصروں میں بہت اٹھان ہے۔ میں اس بات پر بھی آپ سے دو سو فیصد متفق ہوں۔ آپ کی یہ بات کہ مجھے اس بات پر خوش ہونا چاہئے کہ جرمنی کے شعرا اپنے کلام کو نظم و ضبط کا پابند بنا رہے ہیں۔ میرے لئے شاید کبھی بھی باعث فخر نہیں ہو پائے گی۔ اس لئے کہ نظم و ضبط کا پابند بنا کر وہ میزیں کرسیاں بنائیں تو شاید زیادپ فائدہ ہو گا انسانیت کا۔ آرٹ میں ٹھوکم ٹھاکی نہیں چلتی اور اگر چلتی ہے تو وہی تخلیق ہوتا ہے جو یہاں ہو رہا ہے۔
    اب بات ڈوئچے ویلے کی۔ تو جناب ڈوئچے ویلے سے مجھے وابستہ ہوئے کوئی ایک برس یا شاید ڈیڑھ برس ہوا ہے۔ ڈوئچے ویلے کسی طرح سے بھی کوئی ادبی پلیٹ فارم نہیں ہے نہ اس میں مجھے ذرا سی بھی کوئی جگہ مل پائی کہ مشاعرہ منعقد کیا جا سکے۔ گو کہ میں نے کئی مرتبہ کہا اور ظاہر ہیں میں ملازم ہوں مالک نہیں ۔ جو مجھے کمپنی کی طرف سے کہا گیا وہ میں بلا کسی تحریف کے آپ کو بتا دیتا ہوں۔ ’’ڈوئچے ویلے شاعرہ کی جگہ نہیں ہے۔ یہاں صافتی ذمہ داری ادا ہوتی ہے نہ کہ ادبی۔ ہمارا کام خبریں نشر کرنا ہے ادب نہیں۔‘‘ اب آپ بتایے آ پ یہاں ہوتے تو کتنے مشاعرے منعقد کروا چکے ہوتے۔ البتہ بون شہر میں چند روز پہلے جو مشاعرہ منعقد ہوا میں اس کے انعقاد میں اپنی ذاتی حیثیت سے جس حد تک کام کر سکتا تھا کیا اور کرتا رہوں گا۔ میرے بلاگ کا عنوان یورپ میں اردو شاعری کا زوال نہیں ہے حضور اس پر دوبارہ نگاہ کیجئے۔ بلاگ کا عنوان ہے ۔ یورپ میں اردو شاعری۔۔۔ زوال کا آنکھوں دیکھا حال‘‘
    تیسرا میں کسی شاعرچے کو شاعر کہہ کر اس کی حوصلہ افزائی کسی صورت نہیں کر سکتا۔ اس کے مقابلے میں دس ہزار گنا بہتر اور معتبر وہ شخص ہے جسے علم عروض نہ آتا ہو لیکن اس کا خیال نہایت اچھا ہو، یا اچھوتا ہو، یا اس نے کسی نئے زاویے سے کسی پرانی بات کو محسوس کیا اور لکھا ہو۔
    میں نے جون بھائی سے یہی سیکھا ہے اور میں نے زندگی بھر یہی پریکٹس کیا ہے۔ میں معضرت چاہتا ہوں میں نہیں بدل سکتا۔ لیکن آپ بڑے ہیں آپ کو ڈانٹنے کا بھی حق ہے اور مجھ جیسے نالائق بچوں کو تھپڑ رسید کر دینے کا بھی۔ آپ جیسے شفیق اور اردو شناس شخص سے تھپڑ بھی پڑھ گیا تو لگے گا تو سمجھوں گا کہ کچھ سیکھنے کو ہی ملا ہوگا۔
    میں مایوس نہیں ہوں۔ جناب کراچی میں نوجوان لڑکوں کی شاعری جا کر تو سنیں۔ آپ حیران ہو جائیں گے۔ پنجاب کے نئے شعرا کا کلام ذرا ملاحظہ تو فرمائیں آپ کو یقین نہیں ٓئے گا۔ پھر ٓپ یورپ کے ان شعرا کا کلام دیکھئے گا جنہیں پتا نہیں کیا کیا ہونے کا دعویٰ ہے۔ خیر اللہ کرے کبھی آپ سے آمنے سامنے کی گفتگو ہو۔ آپ سے روبرو ہو کر بات ہو پائے تو یقینا مزا آئے گا۔

    صرف ایک بات کہ مجھ جیسے لڑکے آپ کی بچوں جیسے ہیں، سو کہیں کوئی گستاخی ہو تو معاف ضرور کر دیجئے گا۔ ورنہ تمام حق تو آپ کے پاس ہیں ہی۔
    آداب

  6. “ حضور عرض یہ کیا ہے کہ یورپ میں اب تک کے چند ایک شعراٗ کو ایک طرف رکھ دیجئے ۔ مجھے کوئی ایک شعر تو سنائیے جسے ہم اردو کے اچھے شعروں میں شامل کر سکیں۔ “

    انکی اس فرمائش پر میں مندرجہ ذیل شعرا کی فہرست دیتا ہوں جن کا کلام عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن کا زینت بنا ہواہے ( یہ سیکشن محترمہ زرقا مفتی صاحبہ کی نگرانی میں عالمی اخبار کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے ) ؛ یہ تمام سخنور یورپ میں مقیم ہیں اور ا ن سب کے اشعار عاطف توقیر صاحب کی اس اکیلی نظم ( جو عالمی اخبار میں چھپی ہے ) سے بہت بہتر ہیں ۔ ان شعرا کا کلام عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن میں پڑھا جاسکتا ہے ۔
    انور ظہیر ( برلن )
    صفدر ھمدانی ( لندن)
    ماہ پارہ صفدر ( لندن )
    اسحاق ساجد ( جرمنی )
    سید اقبال حیدر ( جرمنی )
    طاپر عد یم ( جرمنی )
    شفیق مراد ( جرمنی )
    سا یر ہ بتول ( انگلینڈ )

    ان سب کے ناموں کے علاوہ اوربھی یورپ کے شعرا کی شاعری اس سیکشن میں موجود ہوگی ،گر طوالت کے خوف سے میں انہیں ناموں پر اکتفا کرتا ہوں
    ۔۔۔۔
    عاطف توقیر صاحب مزید فرماتے ہیں :
    “ جناب میں شاعر ہوں اور ہوں ۔مجھے اس معاملے میں آپ کی رائے سے اختلاف کا حق ہوتا تو وہ بھی استعمال کرتا مگر ظاہر ہے۔ آپ جیسے شعراء جنہیں ہم اساتذہ کی فہرست میں شامل کرتے ہیں ان سے جھگڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر آپ سے شکوہ ضرور کیا جا سکتا ہے کہ آپ مجھے غلط سمجھے۔“

    عاطف توقیر صاحب سے عرض ہے کہ میں انہیں غلط نہیں سمجھا ۔ میں ا نکی تحریر کو شایع کرکے ان کے جوابات دیا ہوں ۔
    اگر وہ شاعر ہیں تو پھر ان سے عرض ہے کہ اپنی کالج کی کہی ہوئی ایک نظم “ موت “ کے علاوہ بھی مزید کوئی شعر لکھدیں جو انہی کے معیار پر پورا اترتا ہوِ۔
    اپنی نظم “ موت : میں “ کبھی پلکوں پہ چڑھ کے ، آسماں سے کود جاتی ہے “ جیسا بے معنی محاورہ موجود ہو اس پر ناز کرنا زیب نہیں دیتا !! ( یہ میرا اپنا خیال ہے ۔ جس کا مجھے حق ہے )
    ۔۔۔
    اس کے علاوہ میں عاطف توقیر صاحب سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں شاعر ہوں ۔ ہاں میںیہ کہتا ہوں کہ میں “ تک بندی “ کی کوشش کرتا ہوں اور اگر میری تک بندی کو کوئی شاعری سمجھے تو اسکی مرضی ۔
    ہاں میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ مجھ میں شعر فہمی کی خداداد صلاحیت موجود ہے ۔ میں اچھے اور برے اشعار کے فرق کو جانتا ہوں۔
    میں کوئی استاد نہیں ہوں اور مجھے اساتذہ کی فہرست میں شامل کرنا کم فہمی کی دلیل ہے۔ ہا ں اگر میری کسی بات سے کسی کی شاعری سدھر جائے تو اس کا فائدہ مجھے نہیں اس شاعر کو ہی ہوگا جس کی شاعری میرے مشورہ کی وجہ سے بہتر سے بہترین ہوگئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جناب عاطف توقیر صاحب کا یہ کہنا تصحیح طلب ہے کہ :

    “ آپ کی یہ بات کہ مجھے اس بات پر خوش ہونا چاہئے کہ جرمنی کے شعرا اپنے کلام کو نظم و ضبط کا پابند بنا رہے ہیں۔ میرے لئے شاید کبھی بھی باعث فخر نہیں ہو پائے گی۔ اس لئے کہ نظم و ضبط کا پابند بنا کر وہ میزیں کرسیاں بنائیں تو شاید زیادپ فائدہ ہو گا انسانیت کا۔ آرٹ میں ٹھوکم ٹھاکی نہیں چلتی اور اگر چلتی ہے تو وہی تخلیق ہوتا ہے جو یہاں ہو رہا ہے۔“

    میں نے ان سے کہا تھا کہ “ خوش ہونا چاہیے “ ، میں نے ان سے کب کہا تھا کہ انہیں “ فخر کرنا چاہیے “ ۔
    میں ان سے پھر کہتا ہوں کہ ہم سب کو خوش ہونا چاہیے کہ اردو شاعری کی کوشش یورپ میں ہورہی ہے اور اس سلسلے میں یہ چند گنے چنے افراد اردو کی خدمت اپنے اپنے انداز میں کررہے ہیں۔
    انکا ہر جمعرات کی شام کو اردو کا عالمی مشاعرہ منعقد کرنا ایک انتہائی اہم اقدام ہے جس کو نہ سراہنا انگور کھٹے ہیں کی طرح ہے ۔
    انکی تخلیق کی بے قدری صرف وہی لوگ کرسکتےہیں جن کو اپنی اردو پر خواہ مخواہ کا گھمنڈ ہو اور جو مصرعوں کو“ مصروں “ لکھتے ہیں ( اور بار بار لکھتے ہیں )
    مثال کے طور پر :
    “ یعنی بناوٹ نہیں ہز اس کے مصروں میں کھڑے مصرعے کہتا ہے اور اس کی مصروں میں بہت اٹھان ہے۔ “

    ۔۔۔۔۔
    اب رہا ڈوچے ویلا ( جرمنی کی لہر ( موج ( یا جرمنی کی آواز ) کا سوال تو اس پر یہی کہتا ہوں کہ عاطف توقیر صاحب ہم سب کی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ صرف اور صرف اپنی اردو دانی کی قابلیت کی وجہ سے وہ اپنی روزی جرمنی میں کمارہے ورنہ بہت سارے پاکستانی یورپ اور امریکہ میں ( بی بی سی اور وائیس آف امریکہ کے اردو کے ادارے کے ارکان کو چھوڑ کر ) انگریزی دانی یا جرمنی یا کسی غیر اردو زبان پر عبور کی وجہ سے دنیا میں اپنی روزی کمارہے ہیں ۔

    اس سلسلہ میں اردو زبان ، عاطف توقیر پر جتنا ناز کرے وہ کم ہے ۔
    افسوس کہ یہ سب ادارے ( ڈویچ ویلا، بی بی سی اور وائس آف امریکہ ( آواز کی دنیا ) جیسے اداروں کا مقصد اردو کی ترقی او ترویج نہیں بلکہ اردو کو استعمال کرکے اپنی اپنی حکومتوں کی پالیسی کو اردو داں حلقوں تک پہنچا نا ہے ۔ اس پالیسی پر یہ تمام ادارے بڑی خوش اسلوبی اور چالاکی کے ساتھ عمل پیرا ہیں اور اپنے اردو داں اسٹاف کی صلاحیتوں کو اپنے مقاصد کے لیے بڑی خوبی سے استعمال کررہے ہیں۔
    ۔۔۔۔
    اس لیے میں باہر کے ممالک سے اردو کی ترقی اور ترویج کی نہ امید رکھتا ہوں اور نہ ان سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہوں ۔
    ۔۔۔۔۔
    اس لیے میں ہر اس ادارے کا دلدادہ ہوں جو اردو کی بے لوث خدمت کررہے ہیں ۔ ان اداروں میں عالمی اخبار کو اور پھر ریڈیو پاک سلونا ( بارسلونا اسپین ) کو قابل تعریف اور قابل تقلید ادارے سمجھتا ہوں ۔
    ۔۔۔۔۔۔

    عاطف توقیر صاحب کے اس بلاگ کے عنوان کے متعلق وہ کہتے ہین:
    “میرے بلاگ کا عنوان یورپ میں اردو شاعری کا زوال نہیں ہے حضور اس پر دوبارہ نگاہ کیجئے۔ بلاگ کا عنوان ہے ۔ یورپ میں اردو شاعری۔۔۔ زوال کا آنکھوں دیکھا حال‘‘

    ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عاطف توقیر صاحب ایک جادو گر کی طرح میری آنکھوں پر دھول ڈاالنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں:
    جب وہ “ زوال کا آنکھوں دیکھا حال “ لکھتے ہیں تو کیا انکا اشارہ “ یورپ کی شاعری “ کی طرف نہیں ؟ تو پھر کیا یورپ کی اردو تہذیب کے زوال کی طرف ہے ؟
    ؟ یا یورپ کی “ کسی حکومت ‘“ کے زوال کی طرف ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عاطف توقیر صاحب کی یہ ضد کہ :
    “ تیسرا میں کسی شاعرچے کو شاعر کہہ کر اس کی حوصلہ افزائی کسی صورت نہیں کر سکتا۔ اس کے مقابلے میں دس ہزار گنا بہتر اور معتبر وہ شخص ہے جسے علم عروض نہ آتا ہو لیکن اس کا خیال نہایت اچھا ہو، یا اچھوتا ہو، یا اس نے کسی نئے زاویے سے کسی پرانی بات کو محسوس کیا اور لکھا ہو۔“

    عاطف توقیر صاحب نے تحقیر کے لیے شاعر چے کا لفظ استعمال کیا ۔ یہ بھی ایک نئی اصطلاح ہے ورنہ بہت سارے نقاد تو متشاعر اور چور شاعر یا سرقہ کرنے والے شاعر کہکر شاعر چوں سے مخاطب ہوتے ہیں ۔
    ۔۔
    ،میں عاطف توقیر صاحب کے مندرجہ بالا قول کے آخری حصہ سے متفق ہوں مگر فراز جیسے شاعر نے بھی تک بندی سے اپنی شاعری شروع کی تھی ۔اس کی زندگی کا پہلا شعر ( خود اسکے قول کے مطابق ) شاید یہ تھا :
    دوسروں کے واسطے لائے وہ کپڑے سیل سے
    اور میرے واسطے لائے وہ کمبل جیل سے

    اگر عاطف توقیر صاحب جیسے اردو زبان کی وجہ سے اپنی روزی کمانےوالےافراد نئے نئے ابھرتے ہوئے شاعروں ( تک بندوں ) کی ہمت افزائی نہیں کرینگے تو پھر ایسے تک بند آئندہ جاکر اچھے شاعر کیسے بنینگے ؟
    ابھرتے ہوئے شعرا کی حوصلہ افزائی نہ کرنا اپنی جہالت اور اپنی جلن اور اپنے حسد کا اظہار کرنا ہے ۔
    (سنتے ہہیں کہ اس قسم کی ہمت شکن باتیں وحید قریشی بھی کیا کرتا ہے ۔ واللہ عالم بالصواب ۔)

    ۔۔۔۔۔
    آخر میں عاطف توقیر صاحب فرماتے ہیں :
    “ میں مایوس نہیں ہوں۔ جناب کراچی میں نوجوان لڑکوں کی شاعری جا کر تو سنیں۔ آپ حیران ہو جائیں گے۔ پنجاب کے نئے شعرا کا کلام ذرا ملاحظہ تو فرمائیں آپ کو یقین نہیں ٓئے گا۔ پھر ٓپ یورپ کے ان شعرا کا کلام دیکھئے گا جنہیں پتا نہیں کیا کیا ہونے کا دعویٰ ہے۔ خیر اللہ کرے کبھی آپ سے آمنے سامنے کی گفتگو ہو۔ آپ سے روبرو ہو کر بات ہو پائے تو یقینا مزا آئے گا۔“

    عاطف توقیر صاحب آم کا مقابلہ انگور سے یا سیب کا مقابلہ موسمبی سے کررہے ہیں ۔
    وہ یہ بخوبی جانتے ہیں کہ کراچی اور پنجاب کے شعرا کا اردو ،احول اور ہے اور یورپ کا غیر اردو ماحول اورہے ۔
    اس کے باوجود اگر یورپ کے شعرا ( شاعر چے یا تک بند ) اگر اردو زبان میں شعر کہتے ہیں تو وہ میری نظر میں تعریف اور تحسین اور ہمت افزائی کے مستحق ہیں ۔

    ۔۔۔۔۔۔
    آخر میں میں انکا یہ جملہ دہرانا چاہتا ہوں کہ :
    “ صرف ایک بات کہ مجھ جیسے لڑکے آپ کی بچوں جیسے ہیں، سو کہیں کوئی گستاخی ہو تو معاف ضرور کر دیجئے گا۔ ورنہ تمام حق تو آپ کے پاس ہیں ہی۔
    آداب“

    جناب عاطف توقیر صاحب اپنے آپ کو لڑکا مت سمجھیں اس لیے کہ “ بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال “ ۔ وہ عقل اور ہوش و حواس کے سلسلےمیں کافی قابل شخص ہیں ، میر ے دل میں انکی اردو کی قابلیت کی بے حد قدر ہے ۔ صرف انکے سمجھنے کے انداز سے اختلاف ہے ۔

    یہ انکا بلاگ ہے ۔ وہ اس بلاگ کے ناظم کی حیثییت سے میری تمام باتوں کو رد کرسکتے ہیں۔ یہ انکا حق ہے ِ
    امید کہ عالمی اخبار کی “ نظر ثانی “ کرنے والی ہستی میرے ا س تبصرے کو (جسے میں نے کمپیوٹر کی خرابی کے باوجود تحریر کیا ہے )، جوں کا توں شایع کردے گی۔
    فقط
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    میونخ جرمنی کے قریبی دیہات سے

  7. میں آپ کے اس جواب کا کوئی بات دئے بغیر اسے دیگر احباب پر چھوڑ دیتا ہوں۔ ان میں سے کچھ ایسے ضرور ہوں گے جنہیں میرے اشعار کے بارے میں بھی علم ہو گا اور میری اردو کے بارے میں بھی۔
    دوسری بات کہ مصروں یا مصرعوں تو حضور میں شاعر ہوں اور مجھے کھی دعویٰ نہیں رہا کہ میں اچھا ٹائپسٹ بھی ہوں اس لئے اس سہو کے لئے معذرت۔ باقی آپ نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالا اس کے لئے شکریہ

  8. عاطف تو قیر صاحب کی اردو زبان پر قدرت کا مظاہرہ تو ہو ہی چکا ۔۔
    اب انکے تازہ اشعار پڑھنےکا انتظار ہے۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  9. عاطف صاحب
    السلام علیکم
    آپ کا مراسلہ پڑھا۔
    کسی نئے چمن میں لگائی گئی پنیری کو بہار کا سماں پیدا کرنے میں وقت لگتا ہے
    اردو کی تازہ بستیوں میں شاعری کی پنیری کو بہار سا سماں پیدا کرنے میں وقت لگے گا۔
    اجنبی زمینوں سے اپنی ثقافت کی مہک آنے لگی ہے یہ بھی بڑی بات ہے
    دوسری بات یہ کہ یورپ میں بھی کئی اچھے شعراء موجود ہیں لیکن ان کی شاعری کو قبولِ عام نہیں ملا کیونکہ ان کے کلام کو وہ قدر دان میسر نہیں۔ ان کے کلام کو اُردوکے معیاری رسالوں تک رسائی نہیں ملتی۔ یہ اپنی کتابیں چھپوا کر تحفتاً اساتذہ کو ارسال کرتے ہیں جو شاید ردی میں فروخت ہو جاتی ہیں۔ کوئی انہیں پڑھے گا سنے گا دہرائے گا تو شعر چھوٹا یا بڑا کہلائے گا
    ہر تخلیق کار کو اپنی تخلیق پر فخر کرنے کا حق حاصل ہے۔ البتہ اسے زندہ جاوید دیکھنے یا پڑھنے والی آنکھ ہی بناسکتی ہے
    آپ ایک شاہکار تخلیق کرلیں اور اسے دیکھنے والی آنکھ ہی میسر نہ ہو تو اسے شاہکار کون تسلیم کرے گا۔
    تنقید اور اصلاح نے بہت سے شعراء کے کلام کو سنوارا ہے
    رہی بات عروض کی تو فطری شاعر کو عروض کی فکر نہیں ہوتی مگر ایک خوبصورت خیال اگر ترنم سے خالی ہو تو لطف نہیں دیتا۔
    امید ہے میرے خط سے آپ کی دل آزاری نہیں ہوئی ہو گی
    آپ کی نظم موت میں احساس کی شدت نے متاثر کیا
    آپ کی مزید شاعری کی منتظر رہوں گی
    والسلام
    زرقا

  10. شکریہ زرقا جی۔ آپ کی بات سے کسی کی دل آےاری کیسے ہو سکتی ہے ۔ اتنے نرم اور شگفتہ لہجے میں تو ویسے بھی بات کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ منظور قاضی صاحب کے جواب سے نہ صرف دل آزاری ہوئی بلکہ دکھ بھی پہنچا۔ مگر پھر یہ سمجھ کر کوئی جواب دینا مناسب نہیں سمجھا کہ ایک تو وہ ہمارے بزرگ ہیں دوسرا نہ انہوں نے مجھے ٗپڑھا ہے نہ وہ مجھے جانتے ہیں تو پھر ان سے کسی شکایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے میری نظم کا ایک مصرعہ لکھا جو انہیں شاید ٹھیک نہیں لگا۔ مجھے ان کے اس جملے سے اپنا ایک دوست یاد آگیا، جسے میں نے اپنے سامنے تڑپتے ہوئز دیکھا تھا۔ میرا مسئلہ یہی تو ہے۔ یہاں کے شعرا کلام کا جائرہ لیتے ہی ایک نئے انداز سے ہیں۔ اور مسئلہ یہ نہیں کہ ان کہ انداز غلط ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہیں احساس تک نہیں ہے۔ خیر میں خوش ہوں کہ کم از کم ہم اپنے حصہ کا کام کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
    ایک مرتبہ پھر آپ کی محبت اور وقت کا شکریہ

  11. عاطف میرے بھائی میرے یہاں آج کل چند مہمان کینیڈا سے آئے ہوئے ہیں اس لئے بر وقت تمہارے بارے میں لکھ نہیں سکی ۔۔ عاطف کو سب سے زیادہ میں نے سنا ہے ۔۔ سب سے زیادہ میں نے پڑھا ہے ۔۔۔ اور میں عاطف کو 2005 سے سن اور پڑھ رہی ہوں ۔۔۔

    مجھے عاطف کی شاعری میں ایک زندہ سچ ملتا ہے جواپنی حرارت سے پڑھنے والے کو متاثر کرتا ہے ۔۔ اب آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ سچ تو ہوتا ہی زندہ ہے ۔۔ جبکہ میرے خیال میں سچ وہی زندہ رہتے ہیں جس کی حرارت سے دل پگھل جائیں ۔۔۔ عاطف کی پہچان اس کا یہی سلیقہ ہے … عاطف کی پہنچان اس کا وعدہ ہے جو وہ اپنے لفظوں سے کرتا ہے کہ وہ ان کی حرمت کو کبھی پامال نہیں کرے گا .. انہیں آباد رکھنے میں ان کی مدد کر ے گا … عاطف کی پہچان اس کی زندہ احساسیت ہے جس سے وہ اپنی جان پہچان ، محبت اور عاشقی کو کئی خانوں میں بانٹ کر نہ صرف اسے نبھاہتا نظر آتا ہے بلکہ انہیں عزت دیتا ہوا بھی ملتا ہے .. ..

    عاطف کا فطری اور بے لوث ہونا اس کو ہر دلعزیز بناتا ہے ۔۔۔ میرے پاس عطاف کی غیر مبطوعہ کلام کے کچھ نمونے ہیں جو میں مہمانوں کی مصروفیت کی وجہ سے آج یہاں لکھ نہ سکونگی … میری خواہش ہے کہ عاطف خود ہی اپنے کلام ہمیں سنا دیں ….

    یقین کریں عاطف کو پڑھ کر کبھی کبھی یوں بھی لگتا ہے جیسے جون ایلیاء کا لہجہ پھر سے زندہ ہو گیا ہو ۔۔۔۔۔ عاطف کو شعر کہنے اور سنانے دونوں ہنر آتے ہیں ۔۔

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ میرے بھائی عاطف توقیر کو محبتیں اور قدردان نصیب کرے ۔۔ آمین ۔۔۔۔

    ویر اپنی باجو کی تاخیر سے لکھنے پر دل میلا نہ کرنا ۔۔۔۔ میرے مہمان منگل کو واپس جا رہے ہیں ۔۔۔ تم بھی ایسے ہی کبھی آجاؤ اپنی باجو سے ملنے ۔۔۔۔

  12. السلام علیکم
    [ نہ تومیں کوئی شاعرہ ہوں اورر نہ ہی کوئی لکھاری البتہ اچھی شاعری پڑ ھنے کا تھوڑا بہت شوق ضروررکھتی ہوں۔ ۔ اتفاقاً یہ بلاگ نظر سے گزرا جو کہ خالصتاً نیک نیتی سے شروع کیا گیا تھا لیکن بعد کے کچھ تبصروں سے ذاتی دشمنی اور ر قابت کی بوُ آرہی ہے۔ اس لئے اظہار رائے پر مجبورہوئی۔ قاضی صاحب جن شعراء حضرات کے نام آپ نے رقم کئے ہیں ان میں سے چند نے توخود عاطف توقیر کے خیال سے اتّفاق کیا ھے۔ ماں کے پیٹ سے سیکھ کر کوئی دنیا میں نہیں آتا لیکن کچھ صلاحیتیں عام انسان کوبھی خاص بنا دیتی ھیں اورشاعری کا فن بھی ان میں سے ایک ہے ۔ آم ھوں یا انگور،لطف تب ھی آتا ھے جب پھل ذائقہ دار ھو۔ جس حقارت آمیز لھجے میں آپ نے عاطف طوقیرکی عزّت افزائی کی اس سے مجھ جیسے کئی اچھی شاعری کے نوجوان پرستاروں کی دل شکنی ہوئی ہے ۔ میں نے عاطف توقیر کو بہت زیادہ تونہیں پڑھا لیکن آن لائن موجود ان کی چند غزلیات پڑھنے کا موقع ملا ۔ ان کے اچھوتے خیالات اورمنفردانداز بیاں ہی انہیں دیگر نوجوان شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ جن حسّاس مو ضو عات پر عاطف طوقیر نے قلم اٹھانے کی جرّاءت کی ھے وہ حوصلہ کم ھی شعراء میں نظر آتا ھے۔ گو کہ قاضی صاحب کا تجربہ میری عمر سے بھی دگنا ھے مگر پھر بھی میں یہاں جواباً عاطف طوقیر کے کچھ اشعار بانٹنا چاھوں گی تاکہ آپ اپنی رائے پر نظر ثانی کر سکیں۔

    تمہاراشہر کہیں عشق تو نہیں ہے میاں
    جو اپنے ساتھ مضافات تک کو کھا گیا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔
    عجیب وقت پڑا ہے کہ مقتلوں کے لئے
    ذبیحِ شہر کو تیّارکرنا پڑ تا ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    خانہ خرابیانِ دل،حاصل نہ شُد بجزکلک
    تیراملال تھافقط، تیراملال بھی گیا
    ۔۔۔۔۔۔
    شعورِ ہست میں چپ چاپ جل رہے ہیں بدن
    تجھے مکیںں کی طلب ہے مجھے مکاں کی تلاش

    بے نطق وبانگ رہی ہست و بود کی گردش
    کبھی جنوں کی تلاشی، کبی گماں کی تلاش
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس کے علاوہ نظمیں مثلا “ضرورت“، “میں منافق نہیں“، “خداسوگیا ہے“ اور دیگرچند عنوانات سے عاطف توقیرکی تخلیقات آن لائن موجود ہیں، جنہیں میں چاہوں گی کہ آپ وقت نکال کر پڑھیں ۔ اگر آپ اپن ای اکسی بھی نوجوان شاعر کا اسی پائے کا شعریہاں رقم کر دیں توسونے پہ سہاگہ والی بات ہوگی ، یہ کوشِش گو کہ مشکل ہے پر ناممکن تو نہیں 🙂

    میرا مقصد ہرگز کسی کی تحقیر نہیں ۔ جس طرح آپ اساتذہ یا بزرگ شعراء کو تنقید وتصحیح کی آزادی ہے اسی طرح نوجوان نسل کو بھی اظہارِرائے کا حق حاصل ہے اور اسی حق کا استعمال میں نے بھی آج کیا۔ پھربھی اگر میری کسی بات سے آپ کی دل آذاری ھوئی ھو توایک کم فہم بچے کی نادانی سمجھ کر معاف کر دیجئے گا ۔

    دعاؤں کی طلبگار
    جویریہ
    کینڈا

  13. باجو آپ کی محبت ہے۔ آپ نے اتنا مان دے دیا ورنہ سچ تو یہ ہے کہ اس لائق ہر گز نہیں ہوں نہ دعویٰ ہے۔ آپ مجھے صرف یہ بتائیے کہ میں نے اپنے بلاگ میں ایسا کیا لکھا جو محترم منظور قاضی صاحب کو اتنا برا لگا۔ میں تو صرف یہ کہہ رہا تھا کہ اگر کسی کو بڑے شاعر ہونے کا دعویٰ کرنا ہے تو دعویٰ نہ کرے بلکہ یہاں شعر تحریر کرے اور لوگوں کو رائے دینے دے۔ منظور قاضی صاحب نے اپنے آپ کو تک بندی کا شاعر کہہ کر ایک طرف کر لیا دوسری طرف انہوں نے مجھ سے ہی اشعار کی فرمائش کر ڈالی۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں بڑوں کی عزت کرتا ہوں سو سخت لہجہ کبھی کسی صورت استعمال نہیں کر سکتا۔ مگر منظور قاضی جی کی بات اور ان کا لہجہ یقینی طور پر میرے لئے نہ صرف تکلیف دہ تھا بلکہ نہایت غیر ضروری بھی تھا۔
    میں منظور قاضی صاحب کو کوئی جواب نہیں دینا چاہتا۔ آپ ہی ان سے کہیے گا کہ اپنا یہاں کوئی شعر یا غزل پوسٹ تو کریں ذرا، معلوم تو چلے سب کو کہ جرمنی کہ اتنے عظیم شاعر ایک کونے میں کیوں بیٹھے ہیں اور وہاں بیٹھ کر انہوں نے اردو کی اتنی خدمت کیسے کر لی ہے۔ ان کی کون کون سی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں اور کتنے لوگوں تک پہنچی ہیں۔
    باجو آپ ان کو بتائیے کہ مجھے کم از کم اپنی کتاب کسی کو گفٹ نہیں کرنی پڑی اور نہ وہ ردی والے کو بیچی جاتی ہے۔ ظاہر ہے، جن لوگوں کو کتاب چھاپ کر شاعر بننے کا شوق ہوتا ہے ان کی شاعری پڑھتے ہوئے دوسری غزل پر ہی کتاب ایک طرف رکھ کر سگریٹ سلگا لی جاتی ہے۔
    میں نے پہلے بھی یہ کیا اور اب پھر اپنی بات دوبارہ کہہ رہا ہوں یہاں جرمنی سمیت یورپ بھر میں چند ایک شعراء کو ایک طرف کر دیں، خدا کی قسم مجھے ایک شاعر نہیں مل پایا۔ شاعرچہ اس لئے کہا تھا کیوں کہ یہ کسی نہ کسی شاعر کے گرد چکر کاٹتے ہیں اور ان کی پوری شاعری چند قافیوں اور چند ردیفوں کی نذر ہوتی ہے۔ کوئی نئی بات نہیں۔ کوئی تازگی نہییں۔ گھسے پٹے خیالات، وہی پرانی باتیں۔ چلو یہاں تک بھی قابل برداشت ہے مگر مزید یہ کہ یہ اردو کے مولوی عبدالحق ہونے کے دعوے بھی کرنے لگتے ہیں۔ بھائی اچھا شعر نہیں لکھ پائے ہو تو کوئی بات نہیں۔ کم از کم تسلیم تو کر لو۔

    مگر شکوہ بھی کریں تو کس سے۔

    آداب

  14. اقبال نے شائد ان ہی حالات سے متاثر ہوکر کہا تھا کہ :

    اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بے گانے بھی ناخوش
    میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہ نہ سکا قند
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ان تمام مبصروں سے اور خاص طور پر محترم بلاگ نگار صاحب سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ بلاگ نگار صاحب کی تحریریں اور انکے ساتھ ساتھ میرے جوابات بار بار ( ایک نہیں ہزار بار ) پڑھیں تاکہ میرے جوابات میں جو توازن اور غیر جانبداری ہے اسکا اندازہ ہوجائے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں جس طرح بلاگ نگار صاحب کے منفی خیالات پر ا پنی تعمیری اور بے لوث تنقید لکھآ ہوں اسی کے ساتھ ساتھ انکی اردو دانی اور اردو پر قدرت اور اردو زبان کو اپنا کر اس سے اپنی روزی کمانے کے انداز پر اپنی بے انتہا خوشی کا اظہار بھی کیا۔ ہوں ۔ اور انکو اپنے دل سے مبارکباد بھی دیا ہوں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افسو س کہ میرے تبصروں میں ڈاکٹر جوہریہ خان صاحبہ کو : “ ذاتی دشمنی اور ر قابت کی بوُ آرہی ہے۔ “ ۔

    پتہ نہیں یہ کینیڈا میں رہنےوالی ڈاکڑ صاحبہ کی ناک کی حساسیت کا ثبوت ہے یا میرے ساتھ خواہ مخواہ بغض کی دلیل کا مظہر ہے ۔ ( میں نہ عاطف توقیر کو اور نہ ڈاکٹر جے خان کو ذاتی طور پر جانتا ہون تو میری ان سب سے کیا دشمنی اور رقابت ہوگی ؟ میں تو ان سب کرم فرماوں کو انکی حالیہ تحریروں سے جاننے لگا ہوں ۔)
    ۔۔
    مجھے اپنی کم علمی کا احساس ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ مییری اردو تحریر میں بھی نقائص ہیں ۔ مگر یہ بلاگ میرے لیے نہیں لکھا گیا ہے ۔ اس میں یورپ کے شعرا ( جن کو شاعر چے کہا گیا ہے ) کی ہمت افزائی کی بجائے ان کی ہمت شکنی کی کوشش کی گئی ہے صرف اس لیے کہ وہ اپنی شاعری کو نظم و ضبط کی پابند بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں پھر اس بات کا اعادہ کرونگا کہ میری “ نیک نیتی “ پر اعتراض کرنے والے میرے اس بلاگ کے تبصروں کو بار بار پڑھیں تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ میں عاطف توقیر صاحب کی اردو دانی سے کتنا متاثر ہوا ہوں۔ اور انکو جو مشورے دیا ہوں وہ انتہائ نیک نیتی پر مبنی ہیں۔ میری سچ پات سے انکی “ دل آزاری “ ہوئی ہے تو میں ان سے معافی چاہتا ہون ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    میں اچھی شاعری کا دلدادہ ہوں اسی لیے میں ڈاکٹر پنہاں اور عرشی صاحبہ اور زرقا مفتی صاحبہ کی شاعری کو اپنے دل کے قریب سمجھتا ہوں ۔ ان کے معیار کی شاعری پڑھنے میں آتی ہے تو جھوم جاتا ہوں ۔
    مجھے یقین ہے کہ عاطف توقیر صاحب کی شاعری میں بھی وہی بات ہوگی جو مندرجہ بالا شاعرات کی شاعری میں ہے ، جب ہی تو ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے اور ڈاکٹر جے خان صاحبہ نے ایسے تعریفی تاثرات کا اظہار کیا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    عاطف توقیر صاحب خوش رہیے ، اللہ آپ کو آپ کے تمام نیک مقاصد میں کامیا بی دے اور آپ کو اردو کے ابھرتے ہوئے شعرا اور شاعرات کی ہمت افزائی اور حوصلہ افزائی کی توفیق اور سعادت عطا فرماتا رہے ۔ آمین
    ۔۔۔۔

    آخر میں میں زرقا مفتی صاحبہ کے مندرجہ بالا تبصرے کی تائید کرتے ہوئے اس تبصرے کو ختم کرتا ہوں۔
    فقط :
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    میونخ جرمنی کے ایک قریبی گاوں سے

  15. بصد ادب و احترام اک سوال ہے کہ ۔۔۔۔یہ ذبیح شہر کیا چیز ہوتی ہے، اور کس ملک میں ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے عاطف صاحب کا بے حد احترام ہے، لیکن مجبورا کہنا پڑتا ہے کہ وقت پڑنا اور وقت آن پڑنا دو الگ چیزیں ہیں۔
    بقول مشتاق احمد یوسفی اپنی غلطی نکالنا یونہی ہے جیسے اپنا اپنڈکس کا آپریشن آپ ہی کرنا پڑ گیا ہو۔ باقی شعروں پر بات پھر سہی۔

  16. اتفاق کی بات ہے کہ جن جن ناموں کا تذکرہ جناب عاطف توقیر صاحب نے اب تک اپنے ارشادات میں کیا ان سے متعلق ابھی ابھی ایک ویڈیو پروگرام کا لنک وصول ہوا

    اس لنک پر کلک کرنے پر یہ تمام پروگرام آپ سب دیکھ سکتے ہیں :
    http://www.youtube.com/watch?v=OGT4F5Ga7X0

    فقط:
    اردو کا دلدادہ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  17. ایک ضروری بات کہنا چاہتا ہوں کہ اہل قلم ڈاٹ کام کے دیے ہوئے اوپر کے ویڈیو لنک میں اگر کوئی غیر متعلقہ ویڈیو نظر آئے تو اس کو دیکھنے یا نہ دیکھنے کی ذمہ داری دیکھنے والے پر ہے ۔ مجھ پر نہیں ۔

  18. امید کہ میرےاوہر لکھے ہوئے تبصرے ( حذف شدہ حصوں کے باوجود ) عالمی اخبار کی “ نظر ثانی کرنےوالی ہستی “ کی عنایت سے جلد شایع ہوجائنگے ۔

  19. السلام علیکم
    جویریہ صاحبہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ عاطف صاحب کی شاعری کے لنک بھی ارسال کر دیتیں
    عاطف صاحب سے دوبارہ یہی کہنا چاہوں گی کہ یورپ میں اردو کا زوال نہیں اس کی ترویج کی کوشش ہو رہی ہے. مگر اس کوشش نے اجتماعی رنگ اختیار نہیں کیا اسی لئے چھوٹی چھوٹی محفلوں میں بڑے بڑے شاعر دکھائی دیتے ہیں. اگر یہی چھوٹی چھوٹی محفلیں یکجا ہو جائیں تو دس بارہ کی جگہ ایک دو بڑے شاعر اُبھر کر سامنے آئیں گے.
    مزید یہ کہ نگہت پاکستان میں اپنی پہچان بنا چکیں تھیں ان کی کتاب کی مثال دینا غلط ہو گا

    والسلام
    زرقا

  20. نہیں جناب آپ کو غلط فہمی ہوئی نگہت نسیم کے حوالے سے یہاں کوئی بات نہیں ہوئی ۔ خیر مجھے اردو کی ترقی کے لئے انفرادی ہو یا اجتماعی ہر کوشش میں اس کا حصہ بننے کا جنون ہے۔ اس پر کوئی دو رائے نہیں نہ ہی یہاں گفتگو اس موضوع پر ہو رہی ہے۔ میں نے صرف عرض یہ کیا ہے کہ میں ان شعراء کی منعقد کی ہوئی کسی محفل میں شریک نہ ہونے کی کوشش کروں گا ۔ کیونکہ اردو کی بہتر خدمت مشاعروں میں شریک ہو کر نہیں جناب گھر بیٹھ کر زیادہ لکھنے پڑھنے سے وابستہ ہے۔
    ایسے شعراء کو نہ تو میں نے کبھی شاعر مانا ہے نہ مانا گا اور میں سمجھتا ہوں اس سے اردو زبان و ادب کا فائدہ ہے نہ کہ نقصان۔ خیر یہ میری ذاتی رائے ہے اور اچھی بات یہی ہے کہ ہم اپنی اپنی رائے کا اظہار کریں۔
    یہاں ہمارے سینیئر شاعروں کا ایک اور بھی مسئلہ ہے۔ ان سے آپ اپنی رائے کا اظہار کریں تو وہ براہ راست اختلاف سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ بھئی ہر شخص کا اپنا نکتہ نظر ہوتا ہے ۔ یہ چاہتے ہیں بلکہ ایمان رکھتے ہیں کہ جو انہوں نے لکھ دیا ہے وہ بہتر ہے اور جو یہ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے۔ یہ بول بہت کچھ سکتے ہیں سننے کی حس شاید ہے نہیں ان میں اور آپ کوئی بات کہہ دیں تو انہیں لگےہے گستاخی ہو گئی۔ نہ کہیں کوئی بات تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ درست تھے اسی لئے دوسرے شخص کو خاموش ہونا پڑا۔ ان کا درست ترین حل میں یہی سمجھتا ہوں کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اپنا لکھنے لکھانے کا کام کیا جائے۔ ایسے شعراء کی حوصلہ افزائی کر کر کے ہی اس وقت حالت یہ ہے کہ کسی بھی بڑے شاعر کے مرنے کے بعد یک خلا تو ہوتا ہے مگر کوئی اس خلاف کو پر کرنے والا نہیں رہتا۔
    دوسری بات جناب منظور قاضی صاحب سے بات کچھ کرو تو وہ سمجھتے کچھ ہیں۔ میں نے اسی لئے یہ سوچا کہ وہ جو کہہ رہے ہیں انہیں کہنے دیا جائے، اس طرح ان کے بے کراں علم سے مستفید ہونے کا زیادہ موقع مل پائے گا۔ اندازہ لگائیے کہ وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ مصرعوں کیسے لکھا جاتا ہے۔ میں صرف ہنس سکتا ہوں ۔ میں نے ان کی کوئی تحریر یا کلام نہیں پڑھا اس لئے ان کی شاعری کے حوالے سے کوئی رائے نہیں دے سکتا، کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اچھے یا برے شاعر کے بارے میں کوئی بات کرتے ہوئے اپنے چند اشعار ہی لکھ دیتے تو ہم بھی سر دھن لیتے۔
    مگر اچھی بات یہ ہے کہ یہ بحث نہایت بہتر سمت مین جارہی ہے اور اس میں ہر شخص کو اپنے اپنے نکتہ نظر کے ساتھ آنا چاہئے۔
    آداب

  21. |حالی کا ایک شعر تھوڑی تبدیلی کے ساتھ :
    سخنور سے بڑھکر ہے انسان بننا
    مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
    ………..
    بلاگ نگار عاطف توقیر صاحب نے میرا تبصرہ پڑھے بغیر اپنے کدد و رت اور حقارت بھرے خیالات کا اظہار اس طرح کیا :|”کہ :

    “میں نے پہلے بھی یہ کیا اور اب پھر اپنی بات دوبارہ کہہ رہا ہوں یہاں جرمنی سمیت یورپ بھر میں چند ایک شعراء کو ایک طرف کر دیں، خدا کی قسم مجھے ایک شاعر نہیں مل پایا۔ شاعرچہ اس لئے کہا تھا کیوں کہ یہ کسی نہ کسی شاعر کے گرد چکر کاٹتے ہیں اور ان کی پوری شاعری چند قافیوں اور چند ردیفوں کی نذر ہوتی ہے۔ کوئی نئی بات نہیں۔ کوئی تازگی نہییں۔ گھسے پٹے خیالات، وہی پرانی باتیں۔ چلو یہاں تک بھی قابل برداشت ہے مگر مزید یہ کہ یہ اردو کے مولوی عبدالحق ہونے کے دعوے بھی کرنے لگتے ہیں۔ بھائی اچھا شعر نہیں لکھ پائے ہو تو کوئی بات نہیں۔ کم از کم تسلیم تو کر لو”‘

    میں سب سے پہلے ان کو داغ کا یہ شعر سنانا چاہتا ہوں:
    خدا کے واسطے جھوٹی نہ کھائی قسمیں
    مجھے یقین ہوا ، مجھ کو اعتبار آیا
    …….

    کیا مولوی عبدالحق شاعری کرتے تھے ؟ اگر وہ شاعرتھے تو انکا کوئی شعر بھی یہاں لکھا جاسکتا ہے .

    میرا خیال ہے کہ یورپ کے شاعر چے ، جون ایلیا کے شاگرد چے سے ہزار درجہ بہتر شعر کہتے ہیں .

    تصدیق کےلیے عالمی اخبار کا شاعری سیکشن جس میں یورپ کے شعرا کا کلام موجود ہے، پڑھا جاسکتا ہے..

    اب میں ان کو زرقا مفتی صاحبہ کا آج کا تبصرہ پڑھ کر اس سے کچھ سبق سیکھنے کی دعوت دیتا ہوں .

    ویسے انکی مرضی ، جو چاہے کریں اور کہیں .

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  22. بلاگ نگار نے اس بلاگ کا عنوان رکھا ہے :

    “ یورپ میں اردو شاعری، زوال کا آنکھوں دیکھا حال “

    مگر اس بلاگ کا عنوان ہونا چاہیے تھا : بلاگ نگار کی بلاگ نگاری ، زوال کا آنکھوں دیکھا حال “

    ۔

  23. میں اس بلاگ کو اپنے حال پر چھوڑتا ہوں ۔
    یہ غنیمت ہے کہ بقول بلا گ نگار :
    “ اچھی بات یہ ہے کہ یہ بحث نہایت بہتر سمت مین جارہی ہے اور اس میں ہر شخص کو اپنے اپنے نکتہ نظر کے ساتھ آنا چاہئے۔“
    فقط :
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  24. عاطف بھائی سلام مسنون،
    آپکی باتوں سے ہم سب قدرے متفق بھی ہیں اور قدرے غیر متفق بھی۔ یہی زندگی کا رنگ ہے، کیونکہ سبھی کلیتا متفق تو ہو ہی نہیں سکتے۔ جہاں تک یورپ و دیگر بلاد غیر میں شاعری کے زوال و ترویج کا مسئلہ ہے تو یقینا اس میں ادبی دادگاہوں پر زیادہ تر وہی لوگ چھائے ہوئے ہیں جنکی اپنا ادبی قد ابھی انگلی پکڑ کر چلنے کا ہے۔ اس معاملہ میں آپکی بات صد فیصد درست ہے۔ یہاں سڈنی میں بھی کم و بیش یہی صورتحال تھی، لیکن میں گذشتہ سات برس سے یہ دیکھ رہا ہوں کہ جو لوگ مشاعروں میں آکر ہم قافیہ نثر سنایا کرتے تھے، اب وہ اصلاح اور مسلسل سماعت و مطالعے سے باقاعدہ روایتی شعر کہنے لگے ہیں۔ کبھی کبھی تو غزل میں باقاعدہ تخیل کی جدت بھی نظر آتی ہے، اور اگر نہ بھی ہو پھر بھی اس سمت سفر کا آغاز ہی غنیمت ہے۔پھر انہی لوگوں کی مساعی سے یہاں سال میں ایک یا دو بار اچھے مہمان شعراء کی آمد کا سلسلہ بھی ہو جاتا ہے، جن میں پاک و ہند سے جید و نامور حضرات تشریف لایا کرتے ہیں۔
    ہوتا یہ ہے کہ ان بلاد میں آکر ہمارے بچے اردو سے تقریبا کٹ جاتے ہیں۔ گھر کا ماحول جتنا بھی علمی و ادبی ہو، بچے کو اس معاشرے میں رہنا ہے اور وہ اسکی اقدار و چکا چوند کو زیادہ معتبر جانتا ہے۔ ایسے میں اس طرح کی محافل جن میں اردو وسیلہ ء گفتگو ہو، جہاں سماجی، سیاسی مذہبی اور ادبی امور پر مباحث و نشستیں ہوں، وہاں اگر بچے آتے جاتے رہیں تو انکا اردو زبان سے بھی قدرے ایک شغف قائم ہوجاتا ہے۔ یہاں ایک صاحب کومیں جانتا ہوں، جن کے بچے اردو لکھ تو نہیں سکتے لیکن انکے ایک صاحبزادے باقاعدہ فی البدیہہ منجھے ہوئے شعر کہ جاتے ہیں۔
    اردو کی ان تازہ بستیوں میں اگر ردیف قافئیے کی بندشیں اور سوچ کی جدت نظر نہ بھی آئے، تو بھی اسے دل شکنی سے بچانا ہوگا، کیونکہ یہ ہمارے بچوں کو ہم سے جوڑنے کا سبب ہیں۔ یہاں نت نئے تجربے ہونگے جو دہلی و لکھنؤ کے ادب میں نہیں ہوئے ہونگے، لیکن ہمیں ان کو برداشت اس لئے کرنا ہوگا کہ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ ہمیں حد ادب، خاموش کہ کر چپ کرانے کی روایت کو توڑنا ہوگا، کیونکہ ہم ہر شعبہء زندگی کے کمزور طلباء کو زبردستی طالبان نہ بنائیں تو یہی اس قوم کے حق میں بہتر ہے۔ شاعرچے کہنے سے ان نئے لکھاریوں کی ذاتی توہین تو ہو سکتی ہے، لیکن اصلاح نہیں۔ ہمیں اردو ادب کو ترویج دینا ہے اور اس کے لئے خاموش کرانے کی بجائے دوستی و محبت سے اصلاح کا راستہ اپنانا ہوگا۔
    ایک دلچسپ بات یہ عرض کردوں کہ میں بھی آج سے چند ماہ پہلے تک آپ کی سوچ کا قائل تھا اور خاص طور پر مجھے وہ احباب چبھتے تھے جو آج ہی وارد ہو کر، کسی کہنہ مشق پر انگلی اٹھانا شروع کر دیں۔ ممکن ہے ایسی صورت میں میں دوبارہ میرا رویہ یہی ہو، لیکن اس کے باوجود میں کسی کو لکھنے لکھانے سے روکنے کا قائل نہیں ہوں۔
    اصل روگ یہ ہے کہ جب مجھ ایسے نو وارد افراد، عقل کن بن کر خود کو بابائے اردو ثابت کرنے لگتے ہیں، اور آپ نے بالکل درست المیئے کی طرف نشاندہی کی ہے۔ لیکن اسکا علاج کیا ہے، ہمیں وہ دریافت کرنا ہے۔
    آپ خود ابھی نوجوان ہیں اور مجھے آپ کے جو چند اشعار دیکھے ان میں خوبی یہی نظر آئی کہ آپ کے یہاں بحر و اوازان خطا نہیں ہوتے اور خیال بھی موجود ہے۔ لیکن ابھی آپ کے سامنے بھی طویل سفر باقی ہے۔ یہ صرف آپ کے ساتھ ہی نہیں، ہر معتبر شاعر کے ساتھ ہوا ہے کہ جوانی کی غزلیں اور نظمیں، عہد پختگی سے بہت پیچھے کھڑی نظر آتی ہیں۔ حتی کہ مرزا غالب نے تو ایسا مواد خود ہی نذر آتش کردیا جو انکے معیار پر نہ تھا۔
    میرے عزیز بھائی، میں آپ سے گزارش یہی کروں گا کہ ہم اور آپ سب کو بجائے بحث برائے بحث میں الجھنے کے، اصل موضوع کی طرف متوجہ رہنا چاہیئے، اور اگر بات ذاتیات کے اندر اٹک رہی ہو تو سلیقے سے اپنی بات کی طرف پلٹ جانا چاہئے۔ مجھے یہ بھی اعتراف ہے کہ میں نے جو کہا ہے، ممکن ہی یہ سب سے زیادہ مشکل میرے لئے ہی ہو، اسی لئے کل بھی میں نے مشتاق احمد یوسفی صاحب کو نقل کیا کہ میں نے کہ تو دیا لیکن اپنی اصلاح کیسے کروں؟
    آپ کی جو بات مجھے سب سے زیادہ پسند آئی ہے، وہ ادب کے قرینے اور دوران بحث جو بات سمجھ آ جائے اس پر اتفاق کرنا ہے۔ یقین جانیں آپ کی صرف یہی عادت آپ کو بہت عزت دلائے گی، انشاء اللہ۔ آپ کے یہاں جوخود کو حرف آخر نہ ماننے کا جذبہ موجود ہے، یہی جذبہ انسان کو مدارج علمی طے کرنے میں مدد دیتا ہے، ورنہ سوچ اور فکر کے دروازے مقفل ہو کر رہ جاتے ہیں۔
    ایک اضاٍفی بات کہتا چلوں کہ عزت مآب قبلہ منظور قاضی صاحب کو خدارا غلط مت لیجیئے گا، وہ خود بھی کہتے ہیں اور میرا مشاہدہ بھی یہی کہتا ہے کہ وہ کہتے صرف بھلے کی ہیں، لیکن انکا انداز یہی ہے۔
    بقول درد
    کہتے تو ہیں بھلے کی وہ، لیکن بری طرح۔
    انکا احترام مجھے ہمہ دم ملحوظ خاطر رہتا ہے اور رہنا چاہیئے کہ ان سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان کے بغیر ہماری محفلیں سونی سونی ہوتی ہیں، اور یہ کسی فرد کے لئے اعزاز ہے کہ زمانہ اسکی زندگی میں اس کی کمی محسوس کرے۔ خدا ان کو سلامت و پائیندہ رکھے، اور یقینا آپ ان سے بہت کچھ سیکھیں گے۔ میرا ذاتی مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ اک استاد کی طرح وہ نو وارد لوگوں کی خوب خبر لیا کرتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ طفلان مکتب بھاگ جانے والے نہیں ہیں،تو بہت کچھ سکھایا کرتے ہیں۔ آپ صرف ان سے اصول تنقید ہی سیکھ لیں تو آپ کو مزا آ جائے گا۔ جس طرح کسی بھی تحریر کا الم نشرح وہ کرتے ہیں، وہ شاذ ہی لوگوں میں ملے گا۔ آپ تو ہیں ہی جبلا با ادب، سو خدا آپ کو بامراد رکھے۔۔۔اس لئے یہی کہوں گا کہ ان جیسے اکابرین کے تبصروں کو طنز مت جانیئے، بلکہ غنیمت سمجھ کر ان سے سیکھنے کی سعی کریں۔
    کچھ نا مناسب لگا ہو تو پیشگی معافی کا طلبگار ہوں۔
    نا چیز و مخلص

  25. جناب مصباح جی آداب۔ میں آپ کی کسی بات سے ذرا بھر غیر متفق نہیں ہوں۔ نہ مجھے کسی شاعر سے کوئی عناد ہے نہ کسی کی قافیہ پیمائی سے مجھے کو پرخاش ہے، میں سمجھتا ہوں کہ جو کہہ رہا ہے ٹھیک کہہ رہا ہے۔ میرا اس بلاگ کے آغاز سے اب تک کہنا صرف یہ رہا ہے کہ میری ذاتی رائے میں خیال آفرینی زیادہ ضروری ہے اور عروض کو سر پر سوار کرا کے آپ کسی اچھے شاعر کی شاعری بھی خراب کرا سکتے ہیں۔ مجھے یاد آتا ہے۔ یہ غالبا 1999ء کی بات ہے میرا ایک دوست علی عمران حضرت محسن بھوپالی سے ملا تھا، انہیں کہا کہ یہ میری شاعری کا مسودہ ہے دیکھ لیجئے پھر اس پر کچھ تحریر کیجئے گا۔ انہوں نے رکھ لیا تو علی نے ان سے کہا کہ براہ مہربانی اس میں اگر کوئی غلطی دیکھیں تو شعر کو کاٹ دیجئے گا، اصلاح نہ کیجئے گا۔ تو کہنے لگے کہ میرا ایک شاگرد بہت اچھے اشعار کہا کرتا تھا۔ کبھی کبھی تو اس کے اشعار سے میں بھی چونک جاتا تھا۔ ہر بار کوئی نیا ہی خیال اس کے اشعار میں نظر آتا تھا، مگر وہ عروض کی کہیں کہیں غلطی کر جاتا تھا میں اس سے اکثر کہتا تھا کہ عروض پر توجہ دو۔ بعد میں اس کی علم عروض پر تین کتب شائع ہوئیں مگر شاعر وہ بکواس ہو گیا۔
    میں عرض یہ کر رہا تھا کہ کسی شاعر کو اچھا شاعر بننے کے لئے اساتذہ کے اشعار یاد کرنے چاہیئں۔ مصباح بھائی میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کوئی بھی بندہ اساتذہ کے 1000 اشعار یاد کر لے اسے کسی اصلاح کی ضرورت نہیں۔
    خیر اس بلاگ کی یہاں تحریر کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے آس پاس جو لڑکے اشعار کہتے ہیں یا ان میں یہ حس موجود ہے انہیں ایسے شعراء کے شر سے محفوظ رکھا جائے اور جس قدر ممکن ہو بچایا جائے۔ دوسری بات ان شعراء سے میرا اختلاف یا انہیں شاعرچے کہنے کی وجہ ہے۔ بات یہ مصباح بھائی۔ میں شعر کہتا ہوں مگر یہ میرا کام نہیں کہ میں خود کو غالب یا میر سے بڑھ کر ہی کچھ ظاہر کرنے لگوں ۔ میرا کام یہ نہیں ہے کہ میں دوسرے شاعروں کو برا بلا کہوں یا انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کروں۔ آپ خود سوچئے ستیہ پال آنند جی سے مجھ جیسے لوگ تو کبھی گستاخی نہیں کر سکتے۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں مجھے تو صرف یہ پتا چل جائے کہ کوئی شعر کہتا ہے تو میں اس کی تعظیم شروع کر دیتا ہوں۔ میرے اساتذہ نے مجھے یہی سکھایا ہے۔ میں نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ کہ عروض میں کتنا ماہر ہے کوئی یا کون کتنا اچھا شاعر ہے۔ جو اچھا شعر کہتا ہے بلکہ اگر کوئی صرف شعر بھی کہتا ہے تو میں اس کی عزت کرتا ہوں مگر جو کوئی دوسرے شعراء کی تذلیل کر رہا ہو اور صرف اس لئے کہ وہ خود کو سب سے بڑا شاعر قرار دے سکے تو میں اس یقینی طور پر شاعرچہ کہتا ہوں۔ مجھے حضرت دلاور فگار کی ایک نظم یاد آ تی ہے۔ میں یہاں تمام ہی افراد کے ساتھ وہ نظم بانٹنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کو سچ بتاؤں کہ وہ نظم یہاں یورپ کے شعراٗ پر 100 فیصد صادق آتی ہے۔ اس نظم کا نام ہے شاعر اعظم ۔ مصباح جی میں یقین سے کہتا ہوں کہ آپ قہقہے لگا کر ہنسیں گے ۔

    شاعر اعظم (دلاور فگار)

    کل اک ادیب و شاعر و ناقد ملے ہمیں
    کہنے لگے کہ آؤ ذرا بحث ہی کریں
    کرنے لگے یہ بحث کہ اب ہند و پاک میں
    وہ کون ہیں کہ شاعرِ اعظم کہیں جسے
    میں نے کہا ‘جگر’ تو کہا ڈیڈ ہو چکے
    میں نے کہا کہ ‘جوش’ کہا قدر کھو چکے
    میں نے کہا کہ ‘ساحر’ و ‘مجروح’ و ‘جاں نثار’
    بولے کہ شاعروں میں نہ کیجیے انہیں شمار
    میں نے کہا ادب پہ ہے احساں ‘نشور’ کا
    بولے کہ ان سے میرا بھی رشتہ ہے دور کا
    میں نے کہا ‘شکیل’ تو بولے ادب فروش
    میں نے کہا ‘قتیل’ تو بولے کہ بس خموش
    میں نے کہا کچھ اور! تو بولے کہ چپ رہو
    میں چپ رہا تو کہنے لگے اور کچھ کہو
    میں نے کہا ‘فراق’ کی عظمت پہ تبصرہ
    بولے فراق شاعرِ اعظم ارا اورہ
    میں نے کہا کلامِ ‘روش’ لاجواب ہے
    کہنے لگے کہ ان کا ترنم خراب ہے
    میں نے کہا ترنمِ ‘انور’ پسند ہے
    کہنے لگے کہ ان کا وطن دیو بند ہے
    میں نے کہا ‘خمار’ کا بھی معتقد ہوں میں
    داڑھی پہ ہاتھ پھیر کے کہنے لگے کہ “ایں”
    میں نے کہا ‘سحر’ بھی ہیں خوش فکر و خوش مزاج
    بولے کہ یوں مزاح کا مت کیجیے امتزاج
    میں نے کہا کہ ‘ساغر’ و ‘ آزاد’ بولے نو
    پوچھا کہ ‘عرش’ بولے کوئی اور نام لو
    میں نے کہا کہ ‘فیض’ کہا فن میں کچا ہے
    میں نے کہا کہ ‘شاد’ تو بولے کہ بچہ ہے
    میں نے کہا ‘فنا’ بھی بہت خوش کلام ہے
    بولے کہ واہ نظم میں کچھ سست گام ہے
    میں نے کہا کہ نظم میں ‘وامق’ بلند ہیں
    کہنے لگے کہ وہ تو ترقی پسند ہیں
    میں نے کہا کہ ‘شاد’ تو بولے کہ کون شاد
    میں نے کہا کہ ‘یاد’ تو بولے کہ کس کی یاد
    میں نے کہا ‘قمر’ کا تغزل ہے دل نشیں
    کہنے لگے کہ ان میں تو کچھ جان ہی نہیں
    میں نے کہا ‘عدم’ کے یہاں اک تلاش ہے
    بولے کہ شاعری اسے وجۂ معاش ہے
    میں نے کہا ‘حفیظ’ تو بولے کہ خود پسند
    میں نے کہا ‘رئیس’ تو بولے قطعی بند
    میں نے کہا ‘نیاز ‘ تو بولے عجیب ہیں
    میں نے کہا ‘سرور’ تو بولے کہ نکتہ چیں
    میں نے کہا ‘اثر’ تو کہا آؤٹ آف ڈیٹ
    میں نے کہا کہ ‘نوح’ تو بولے کہ تھرڈ ریٹ
    میں نے کہا کہ یہ جو ہیں ‘محشر عنایتی’
    کہنے لگے کہ آپ ہیں ان کے حمایتی
    میں نے کہا کہ یہ جو ہیں ‘گلزار دہلوی’
    بولے برہمن کو بھی ہے شوق شاعری
    میں نے کہا کہ ‘انور’ و ‘دائم’ بھی خوب ہیں
    بولے مری نظر میں تو سب کے عیوب ہیں
    میں نے کہا کہ ‘روحی’ و ‘مخفی’ ، ‘نگاہ’ و ‘ناز’
    بولے کہ میرے گھر میں بھی ہے اک ادب نواز
    میں نے کہا کہ یہ جو ‘دلاور فگار’ ہیں
    بولے کہ وہ تو طنز و ظرافت نگار ہیں
    میں نے کہا کہ طنز میں اک بات بھی تو ہے
    بولے کہ اس کے ساتھ خرافات بھی تو ہے
    میں نے کہا کہ آپ کے دعوے ہیں بے دلیل
    کہنے لگے کہ آپ سخنور ہیں یا وکیل
    میں نے کہا کہ ‘فرقت’ و ‘شہباز’ کا کلام
    کہنے لگے کہ یہ بھی کوئی لازمی نہیں
    میں نے کہا تو کس کو میں شاعر بڑا کہوں
    کہنے لگے کہ میں بھی اسی کشمکش میں ہوں
    پایانِ کار ختم ہوا جب یہ تجزیہ
    میں نے کہا ‘حضور’ تو بولے کہ شکریہ*

    آداب

  26. السلام علیکم
    عاطف صاحب کے اس جملے سے میں سمجھی کہ اُن کا اشارہ نگہت کی جانب ہے

    “باجو آپ ان کو بتائیے کہ مجھے کم از کم اپنی کتاب کسی کو گفٹ نہیں کرنی پڑی اور نہ وہ ردی والے کو بیچی جاتی ہے۔ ظاہر ہے، جن لوگوں کو کتاب چھاپ کر شاعر بننے کا شوق ہوتا ہے ان کی شاعری پڑھتے ہوئے دوسری غزل پر ہی کتاب ایک طرف رکھ کر سگریٹ سلگا لی جاتی ہے۔”

    اگر ایسا نہیں تو میں معذرت چاہتی ہوں.

    والسلام
    زرقا

  27. اس جملے سے مراد میں ہوں جناب نگہت باجو نہیں۔ میں ان سے مخاطب ہو کر کہ رہا تھا۔ معذرت آپ کو غلط فہمی ہوئی۔ آداب

Comments are closed.