بابا .. اتنی خوبصورت ریکارڈنگ .. آپ کو تو ڈاریکٹر ہونا چاھئے تھا .. ویسے ہونا کیا چاھئے تھا آپ ہیں … آپ ہمارے عالمی اخبار کے ڈاریکٹر ہیں .. بس لفظ نہیں مل رہے جسے باندھ کر میں آپ کی اور اشفاق بھائی کی تعریف کر سکوں …اس رکارڈنگ کے ایک ایک پل میں ہزار محبتیں دیکھائی دیتی ہیں … اتنی دلکش کاوش پر بس خوس ہوں .. اور بار بار بارش اوربجلی کے آہنگ کے ساتھ رنگ بدلتے منظروں میں کھوئی ہوئی ہوں … کیا لکھوں اور کیا کہوں … بہت ہی خوبصورت اور حسین منظروں سے سجی اور آواز اشفاق بھائی کی .. بس بابا سماں سا باندھ دیا آپ نے …
میری اور فاطمہ کی ریکارڈنگ کہاں گئی ، جس کے بیک گرائونڈ میں احمد کی آوازیں جھنکار کی طرح ہیں ۔۔۔
اشفاق حسین صاحب کے یہ اشعار بھی خوب ہیں اور ان کا پس منظر بھی خوب ہے ۔
صفدر ھمدانی صاحب نے ہم سب کے لیے ایک قیمتی تحفہ اس بلا گ میں عطا کیا ہے:
بارش ہے ، رات ہے ، کوئی در بھی کھلا نہیں
اور میں کہ اپنے گھر کا پتہ جانتا نہیں
بازو ہوائے شب کے ہوئے جارہے ہیں شل
مٹی کا اک دیا ہے کہ دم توڑتا نہیں
اشفاق اس سمئے کوئی تازہ غزل لکھو
دن ڈھل چکا ہے رات کا منکا ڈھلا نہیں
۔۔۔۔۔
ماشااللہ ، سبحان اللہ ، مرحبا : اشفاق صاحب کیا کہنےہیں!!!
اسی طرح عالمی اخبار کی بزم میں آتے رہیے اور اپنے اشعار ہم سب کو عطا کرتے رہیے۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
روبینہ فیصل کا قول فیصل پڑھ لیا جی۔ سرکار جلد ہی زینت اخبار ہو گی یہ تاریخی اور منفرد ریکارڈنگ۔ فکر تو کرنا ہی نہیں نا
بازو ہوائے شب کے ہوئے جارہے ہیں شل
مٹی کا اک دیا ہے کہ دم توڑتا نہیں
واہ واہ “مٹی کا دیا “ کیا خوبصورت استعارہ ہے ۔۔ واللہ جواب نہیں ۔۔
بابا .. اتنی خوبصورت ریکارڈنگ .. آپ کو تو ڈاریکٹر ہونا چاھئے تھا .. ویسے ہونا کیا چاھئے تھا آپ ہیں … آپ ہمارے عالمی اخبار کے ڈاریکٹر ہیں .. بس لفظ نہیں مل رہے جسے باندھ کر میں آپ کی اور اشفاق بھائی کی تعریف کر سکوں …اس رکارڈنگ کے ایک ایک پل میں ہزار محبتیں دیکھائی دیتی ہیں … اتنی دلکش کاوش پر بس خوس ہوں .. اور بار بار بارش اوربجلی کے آہنگ کے ساتھ رنگ بدلتے منظروں میں کھوئی ہوئی ہوں … کیا لکھوں اور کیا کہوں … بہت ہی خوبصورت اور حسین منظروں سے سجی اور آواز اشفاق بھائی کی .. بس بابا سماں سا باندھ دیا آپ نے …
میری اور فاطمہ کی ریکارڈنگ کہاں گئی ، جس کے بیک گرائونڈ میں احمد کی آوازیں جھنکار کی طرح ہیں ۔۔۔
اشفاق حسین صاحب کے یہ اشعار بھی خوب ہیں اور ان کا پس منظر بھی خوب ہے ۔
صفدر ھمدانی صاحب نے ہم سب کے لیے ایک قیمتی تحفہ اس بلا گ میں عطا کیا ہے:
بارش ہے ، رات ہے ، کوئی در بھی کھلا نہیں
اور میں کہ اپنے گھر کا پتہ جانتا نہیں
بازو ہوائے شب کے ہوئے جارہے ہیں شل
مٹی کا اک دیا ہے کہ دم توڑتا نہیں
اشفاق اس سمئے کوئی تازہ غزل لکھو
دن ڈھل چکا ہے رات کا منکا ڈھلا نہیں
۔۔۔۔۔
ماشااللہ ، سبحان اللہ ، مرحبا : اشفاق صاحب کیا کہنےہیں!!!
اسی طرح عالمی اخبار کی بزم میں آتے رہیے اور اپنے اشعار ہم سب کو عطا کرتے رہیے۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
روبینہ فیصل کا قول فیصل پڑھ لیا جی۔ سرکار جلد ہی زینت اخبار ہو گی یہ تاریخی اور منفرد ریکارڈنگ۔ فکر تو کرنا ہی نہیں نا
بازو ہوائے شب کے ہوئے جارہے ہیں شل
مٹی کا اک دیا ہے کہ دم توڑتا نہیں
واہ واہ “مٹی کا دیا “ کیا خوبصورت استعارہ ہے ۔۔ واللہ جواب نہیں ۔۔