ایک غزل کے چند اشعار

تمہارا خواب میری رات تک کو کھا گیا ہے
خیال شب کی مدارات تک کو کھا گیا ہے

ہوائے شوخیء صبح نمود شوق و جنوں
تمہارا قرب میری ذات تک کو کھا گیا ہے

سکوت شب تو تیرے لمس کی عنایت تھی
پر تیرا لمس عنایات تک کو کھا گیا ہے

تمہارا شہر کہیں عشق تو نہیں ہے میاں
جو اپنے ساتھ مضافات تک کو کھا گیا ہے

25 thoughts on “ایک غزل کے چند اشعار”

  1. واہ عاطف میاں.بہت خوب.اسی کو تو تازگی کہتے ہیں. خیال اگر چہ پرانا لیکن خیال کا طرز اظہار نیا،جہت بھی نئی،لہجہ بھی نیا،بہت سے لفظ بھی نئے اور انداز بھی نیا.
    اللہ پاک نے اس فقیرِ شہرِ نجف کو بے انتہا خوبیاں دی ہیں لیکن اسکی حکمت کہ حافظے سے محروم رکھا ہے اور مجھے اپنے شعر یاد نہیں رہتے. لیکن عاطف میاں تمہاری اس خوبصورت اور بہترین غزل سے اپنی 1974 کی ایک کم تر غزل کی شعر یاد آ گئے ہیں

    تمہارا ساتھ مری ذات کو نہ کھا جائے
    سلگتی شام مری رات کو نہ کھا جائے
    ……
    دعا کو اٹھے ہوئے ہاتھ ہی نہ رہ جائیں
    یہ کربِ روح مناجات کو نہ کھا جائے
    …..
    تمہاری دید مری زندگی بجا لیکن
    یہ دید اشکوں کی برسات کو نہ کھا جائے
    …..
    میں اس کے عشق کی دیوانگی سے ڈرتا ہوں
    نگل لے چاند کو ذرات کو نہ کھا جائے
    …..
    پوری غزل پھر کسی وقت سہی
    عاطف میاں مجھے جیسے بے خبر کو اتنے پرانے شعر یاد دلوانے کا شکریہ

  2. بابا جانی کیا بات ہے۔ میں اس پر زیادہ خوش ہوں کہ ان چند اشعار کو ارسال کر کے مجھے اتنے اچھے اشعار پڑھنے کو مل گئے۔ اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے اور آپ اسی طرح تازہ اور زندہ ادب تخلیق کرتے رہیں۔ آمین۔
    ٓداب

  3. ارے نہیں عاطف میاں. تمہاری غزل زیادہ تازہ اور زیادہ مضبوط ہے. میں تو سچ کہنے سے کبھی گھبرایا ہی نہیں اور جھوٹی تعریف تو کسی کی کیا اپنی بھی نہیں کرتا. وہ میرا شعر ہے نا

    مری ناکامیوں کا مجھ کو یہ باعث نظر آیا
    کسی کی بے وجہ تعریف کی عادت نہیں مجھ میں

    آپ جیسے نوجوان تو ہمارا مستقبل ہیں اور بلاشبہ ہمارا مستقبل روشن ہے. اپنے آپ کو لاتوں والے شاعروں یعنی فاعلات والوں سے بچا کر رکھو میاں، آپ جس ملک میں مقیم ہیں وہاں تو جو شعر نہیں لکھ سکے انہوں نے فاعلات کی کلاسز لینی شروع کر رکھی ہیں. شاعری اگر لاتوں سے آتی تو سارے نکمے شاعر ہی ہوتے. یہ اور بات کہ اکثر شاعر نکمے ہوتے ہیں.

  4. ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔ یہ نکمے والے بات نہایت درست ہے۔۔ مجھے بہت ہنسی آ رہی ہے۔
    لیکن آپ کی غزل بہت خوبصورت ہے بابا جانی۔ آپ خود اپنے اس شعر کو دیکھیں ذرا۔ کتنا جدید اور تازہ شعر ہے۔ ماشاللہ۔ واہ واہ واہ
    میں اس کے عشق کی دیوانگی سے ڈرتا ہوں
    نگل لے چاند کو ذرات کو نہ کھا جائے

    میں لات وات کا شاعر تو ہوں ہی نہیں بابا جانی۔ مجھے بس اتنا پتا ہے کہ شعر خود بخود ایک فلو میں ہوتے ہیں اور میرے خیال میں اس فلو کی موجودگی میں کسی مصنوعی مشق کی ضرورت نہیں ہوتی۔
    آداب

  5. صفدر ھمدانی صاحب کے کیا کہنے ہیں : ماشا اللہ ہر لحاظ سے اتنی عمدہ غزل ( فطری طور پر) عروض ہی میں لکھتے بھی ہیں اور عروض سیکھنے والوں کی تضحیک بھی کرتے ہیں !!!!۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    محترم صفدر ھمدانی صاحب جیسےعالم و فاضل شاعر کا کسی مبتدی شاعر کو یہ مشورہ اسکو “ چنے کے چھاڑ “ پر بٹھانےکے مترادف ہے:

    “ اپنے آپ کو لاتوں والے شاعروں یعنی فاعلات والوں سے بچا کر رکھو میاں، آپ جس ملک میں مقیم ہیں وہاں تو جو شعر نہیں لکھ سکے انہوں نے فاعلات کی کلاسز لینی شروع کر رکھی ہیں. شاعری اگر لاتوں سے آتی تو سارے نکمے شاعر ہی ہوتے. یہ اور بات کہ اکثر شاعر نکمے ہوتے ہیں.“
    ۔۔۔۔۔۔۔

    جناب صفدر ھمدانی صاحب نے حقیقت بیانی سے کام لےکر یہ فیصلہ سنادیا کہ “ یہ اور بات کہ اکثر شاعر نکمے ہوتے ہیں.“
    ۔۔۔۔۔۔۔

    جیسا کہ دنیا بھر کو علم ہے ، میں نہ شاعر ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں اور نہ مجھے عروض کا علم ہے مگر میں ہر اس ابھرتے ہوئے شاعر کی ہمت افزائی کرتا ہوں جو اپنی غزل اور پابند نظم کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لیے عروض کی تعلیم حاصل کرتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔

    میں داغ دہلوی کا یہ پند نامہ ( جو تیس اشعار پر مشتمل ہے) گذشتہ کسی بلاگ میں لکھ چکا ہوں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے چبد اشعار کو پھر سےلکھنے کی ضرورت ہے:

    داغ اپنے شاگردوں ( جن میں علامہ اقبال بھی شامل تھے ) سے یہ کہتا ہے:

    اپنے شاگردوں کی مجھ کو ہے ہدایت منظور
    کہ سمجھ لیں وہ تہِ دل سے بجا و بے جا

    شعر گوئی میں رکھیں پیشِ نظر یہ باتیں
    کہ بغیر ان کے فصاحت نہیں ہوتی پیدا

    شعر میں ہوتی ہے شاعر کو ضرورت اسکی
    پڑھ لیا جس نےعروض اسکو کہیں گے دانا

    پند نامہ جو لکھا داغ نے بے کار نہیں
    کام کا قطعہ ہے یہ وقت پہ کام آئےگا

    ۔۔۔۔۔
    جناب صفدر ھمدانی صاحب مدیر عالمی اخبار سےدلی معذرت کےساتھ ۔
    فقط:
    علم کا خواہاں
    منظور قاضی
    از جرمنی

  6. محترم جناب صفدر ھمٰدانی صاحب اور محترم جناب عاطف توقیر صاحب کی بلاگ فیملی کی اس برقی مجلس میں اردو شعر و شاعری یا نظم و غزل پڑھ کر یوں تو بے شمار نئے شعراء کرام اپنی اصلاح آپ کر رہے ہونگے لیکن مجھ جیسے طفل مکتب کے لئے تو اس قسم کے ادبی بلاگ مفت تعلیمی و تربیتی مرکز ( ٹیوشن سنٹر ) بن گئے ہیں ۔ دعا ہے اللہ رب العزت عالمی اخبار میں علم و ادب کی اس محفل کو ہمیشہ سلامت رکھے ۔ اور اس علمی مجلس میں باقائدگی سے شامل ہونے کیلئے ملک پاکستان کے غریب عوام کو مسز بجلی صاحبہ کے شر سے محفوظ فرمائے ، آمین ۔

  7. قاضی صاحب قبلہ.آپکا کہا سر آنکھوں پر.آپ ہی تو اس بے سرو ساماں قافلے کے سرخیل ہیں. بس ذرا لفظ ”تضحیک” کچھ زیادہ بھاری لکھ دیا آپ نے. میں عروض کا مخالف نہیں اور ہمیشہ ہر مقام پر اپنا موقف دل کھول کر بیان کیا ہے کہ ”عروض” ایک علم ہے اور اسے علم کے طور پر سیکھنے میں کوئی برائی اور عذر نہیں. ہاں میں اس کا مخالف بھی بہت کھل کر ہوں کہ فقط عروض کے سہارے شاعری نہیں ہو سکتی. ہاں قافیہ پیمائی تو ہو سکتی ہے شاعری نہیں. یہ بات بھی بارہا کہہ چکا کہ شاعر ہونا اور شعر کہنا دو الگ الگ باتیں ہیں. شاعر ہونا تو ایک صفت ہے اور شعر کہنا ایک صلاحیت. بس اتنا عرض کر دوں کہ میں نے عروضیوں کی تضحیک کبھی نہیں کی اور تضحیک تو اسکی بھی نہیں کی کہ جس نے مسلسل ہماری کی. اور قاضی صاحب اس بات کو آپ سے بہتر کون جانتا ہو گا.

  8. صفدر ہمدانی صاحب کی بات یقنی طور پر بجا ہے قاضی صاحب۔ جناب عروض اور ایک پیدائشی شاعر کے درمیان جو ربط ہوتا ہے وہ میں عرض کر دیتا ہوں۔ تاکہ جو بات غالبا اب تک واضح نہین ہو پائی وہ قدرے واضح ہو سکے۔
    ایک شعر ہے ، اور یہ شعر صد فی صد درست شعر ہے۔
    بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
    یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔
    عرض یہ کرنی ہے منظور قاضی صاحب۔ آپ کسی بھی بندے کو عروض سکھا سکتے ہیں مگر آپ ہر شخص کو شاعر نہیں بنا سکتے۔ عروض کا مطلب ہے کرافٹنگ۔ آرٹ میں جتنی کرافٹنگ کم ہو گی، آرٹ اتنا ہی مضبوط ہو گا۔ پچھلے ایک بلاگ مین بھی آپ سے اسی موضوع پر گفتگو ہوئی تھی مگر شاید بات واضح ہی نہ ہو پائی۔ صرف عرض یہ کرنا تھا کہ صفدر صاحب نہیں بلکہ ہر اچھا شاعر یہی مشورہ دیتا ہے کہ شعر کہو اور عروض کے چکر میں گن چکر نہ ہو جاؤ۔ ظاہر ہے عروض تو میں نے بھی سیکھا ہے مگر اتنا ہی سیکھا ہے جتنا ضروری تھا۔
    مائیکل اینجلو نے کہا تھا’’مجسمے میں نہیں بناتا، یہ تو پہلے سے ہی پتھر میں موجود ہوتے ہیں۔ میں تو صرف ان کے ٓس پاس کی مٹی کو کھرچ دیتا ہوں۔‘‘
    سو اگر کوئی شاعر ہے تو یہ عروض صرف اسے پالش کر دیتے ہیں۔ مگر اگر یہ پالش اس قدر زیادہ ہو جائز کہ ہاتھ پیر میلے نظر آنے لگے تو اس کا نقصان ہوتا ہے ۔ فائدہ کچھ نہین ہو گا بلکہ نقصان ہو گا۔
    آرٹ ہے میز بنانا۔ میخیں اور ہتھوڑی کرافٹ ہے۔ ظاہر ہے یہ دونوں چیزیں نہایت ضروری ہیں۔ مگر اچھا فن وہ ہے کہ۔ جتنی کم میخیں اور ہتھوڑی استعمال ہو اور جتنا خوبصورت خوبصورت میز تیار ہو۔ آپ کے میز میں میخیں نظر آئیں اور جگہ جگہ ہتھوڑی کی چوٹیں دکھائی دیں تو وہ صرف کرافٹنگ ہو گی اور اسے کسی صورت آرٹ قرار نہیں دیا جائے گا۔ اب بھی اگر آپ کو اگر اختلاف ہے تو ٓپ اپنے آس پاس شعرا ء کو پوری لگن سے عروض سیکھنے پر مائل کرتے رہئے۔ ہماری دعا اور محبت آپ اور ان فنکاروں کے ساتھ رہے گی۔
    آداب

  9. ہائے ہائے ہائے
    عاطف میاں کیا کہنا
    اسی لیئے تو میں ایک زمانے سے اسی عروضی شاعری کو ”منجھی پیڑھی ٹھونکنا” کہتا اور لکھتا چلا آ رہا ہوں

  10. بھائی لوگو سنو ہمارے منظور بھائی کو کوئی غصہ نہ دلائیں ۔۔ ان کی بات بھی سنیں ناں وہ بھی صحیح کہہ رہے ہیں اور آپ بھی ۔۔۔ جیسے عالمی اخبار آپ سب کے بغیر ادھورا ہے اسی طرح سے غزل بھی عروض اور حسن خیال کے بغیر ادھوری ہے ۔۔ ہاں عاطف مجھے تمہاری بات سے مکمل اتفاق ہے کہ “آرٹ ہے میز بنانا۔ میخیں اور ہتھوڑی کرافٹ ہے۔ ظاہر ہے یہ دونوں چیزیں نہایت ضروری ہیں۔ مگر اچھا فن وہ ہے کہ۔ جتنی کم میخیں اور ہتھوڑی استعمال ہو اور جتنا خوبصورت خوبصورت میز تیار ہو۔ آپ کے میز میں میخیں نظر آئیں اور جگہ جگہ ہتھوڑی کی چوٹیں دکھائی دیں تو وہ صرف کرافٹنگ ہو گی اور اسے کسی صورت آرٹ قرار نہیں دیا جائے گا۔ “

    لیکن یہ بھی تو سچ ہے نا ویر کہ بغیر میخوں کے میز بنے گی بھی تو نہیں ناں ۔۔ سو جتنے کیل چاھیئے وہ تو ٹھوکنے ہی پڑیں گے ۔۔۔۔

    ویسے غزل تمہاری بہت عمدہ ہے اور سونے پر سہاگہ بابا جی کی غزل ۔۔ سبحان اللہ

  11. ڈاکٹر نگہت صاحبہ. یہ تو بس سیاسی بیان ہے جی.باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی
    آپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے سرکار. اور اللہ مجھے آتش جہنم سے محفوظ رکھے کہ سب کو خوش رکھنے کا کام تو اللہ اور اسکے حبیب بھی نہیں کر سکے. خیر زندگی تو اسی کو کہتے ہیں کہ اختلاف کے ساتھ زندہ رہا جائے. آپ بھی حاملِ فکر ہیں سو آپکا بھی اپنا نکتہ نظر ہیں اور اسکا احترام ہم پر واجب. بالکل ایسے جیسے قاضی صاحب کے نکتہ نظر پر جان و دل فدا.

  12. باجو. منظور قاضی صاحب ہمارے انتہائی سینیئر شاعر ہیں اور ان سے اس بحث کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ انہیں تھوڑا سا غصہ دلا کر ان سے بہت کچھ سیکھ لیا جائے. ہم جیسے نوجوان طالب علموں کی یہ ایک گھنی سازش ہوتی ہے، جو آپ نے کہا تو ظاہر کر رہا ہوں. بابا جانی سے سیکھنا ہو تو انہیں کوئی شعر سنا کر یا کوئی سوال پوچھ کر سیکھا جا سکتا ہے. مصباح جی سے بحث کر کے اور منظور قاضی جی کو تھوڑا سا غصہ دلا کر.
    میں آپ کو سچ بتاؤں منظور قاضی جی کو شاید خود بھی معلوم نہ ہو کہ ان کی باتوں سے کتنے پہلو نکلتے ہیں اور کس کس طرح سے رہنمائی ہوتی چلی جاتی ہے. سو ان سے بحث کبھی نہیں رکے گی کیونکہ ورنہ وہ ہمیں بتانا ہی چھوڑ دیں گے. سو اب خود بتائیے کہ اگر انہیں تھوڑا سا غصہ دلا کر ان سے اتنا کچھ سیکھا جا سکتا ہے تو برا کیا ہے.
    لیکن یہ بات آپ سوچیئے گا بھی نہیں کہ ان کا احترام کسی صورت بھی کم ہو سکتا ہے ہماری نگاہ میں. سو ہماری چالاکیاں اس وقت تک جاری رہیں گی، جب تک منظور قاضی صاحب خود ہی ہمیں چیزیں سمجھانا شروع نہیں کر دیتے- بابا جانی کیا خیال ہے. اگر یہ منظور قاضی صاحب سے بحث نہ ہو تو اصلاح کا پہلو کیسے نکلے گا.
    منظور قاضی صاحب ہم آپ کے بچوں جیسے ہیں. ہماری کوئی بات بری لگے تو معاف کر دیجئے گا. مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم آپ کو غصہ نہ دلائیں. دوسری صورت صرف یہ ہے کہ آپ خود ہی ہمیں اپنے علم سے مستفید فرمایا کریں. اب آپ خود منتخب کر لیں. ہماری دعا ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے کہ آپ اس بزم کو چار چاند لگاتے رہیں.امین
    آداب

  13. صفدربابا ۔۔نگہت جی بالکل ٹھیک کہتی ہیں ۔۔یہ سیاسی نہیں بلکہ باشعور بیان ہے ۔ شاعری میں دونوں چیزیں ضرورہ ہیں ۔شاعر کا فطری پن بھی اور عروض کا علم بھی ۔بڑا شاعر تب ہی جا کر بنتا ہے ۔لڑائی صرف اس بات کی ہے کہ عاطف بے ساخھتگی کو ذیادہ یمہت دے رہے ہیں اور محترم قاضی صاحب علم عروض کو ۔یہ اسی طرح کی بحث ہے کہ کوئی پیار کو اہم سمجھتا ہے یا دولت کو ،ہر انسان کی چیزوں ، نظریوں کے بارے میں اپنی اپنی اہمیتی لائن ہوتی ہے ۔ اس لائن میں ان کا فیصلہ ہوتا ہے کہ کون سی چیز نمبر ون پر ہے اور کون سی دوم پر ۔priority warہے اور کچھ بھی نہیں ۔

  14. ارے ہاں جس بات کے لئے لکھنا شروع کیا تھا ۔ عاطف کے اشعار کمال کے ہیں ۔بہت اچھے لگے ۔ ہاں لکھنے والے کا یہ کمال ہوتا ہے کہ اگر وہ ریڈر کو پکڑ لے تو بس اس کی غزل ، اس کی نظم ، اس کا افسانہ اور اس کا کالم ہٹ پوجاتا ہے ۔ پھر چاہے اسے ادبی پیمانے سے ناپیں اور وہ اس پر پورا نہ اترے تو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کامیاب ہے ۔

  15. میں جناب صفدر ھمدانی صاحب اور محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا مشکورہوں کہ انہوں نے مجھ کم علم کو اپنی محفل سے دھتکار کر نکال نہیں دیا۔ یہ سب ان سب کی اعلیٰ ظرفی اور وسیع القلبی کا ثبوت ہے ۔
    ویسے بقول سعدی
    من کہ اک خاکم کہ ہستم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں اپنےکئی تبصروں میں عروض کے مقابلےمیں شعرا کی غزل اور“ پابند “ نظم میں “ خیال کی گہرائی اور وسعت اور بلندی “ کو شعر کی روح سمجھتا رہا ہوں اور اسی لیے اچھے اچھے شعرا اور شاعرات کے کلام کی مثالیں بھی دیتا رہا ہوں ۔ صرف اس لیے کہ انکی شاعری میں یہی خوبیاں موجود تھیں ( اور ہیں ) ۔ ( اس سلسلہ میں میںجناب صفدر ھمدانی کے موقف سےبالکل متفق ہوں )۔

    میرے تمام بلاگ اور میرے تمام تبصرے اس بات کے شاہد ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جہاں تک عروض کا تعلق ہے میں داغ کے یہ دو اشعار پھر سے دہرانا مناسب سمجھتا ہوں کہ:

    شعر گوئی میں رکھیں پیشِ نظر یہ باتیں
    کہ بغیر ان کے فصاحت نہیں ہوتی پیدا

    شعر میں ہوتی ہے شاعر کو ضرورت اسکی
    پڑھ لیا جس نےعروض اسکو کہیں گے دانا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اگر داغ نے عروض کی اہمیت کو تسلیم کیا اور اس کے متعلق مندرجہ بالا اشعار لکھے تو پھر اس سلسلے میں کسی بحث و تکرار کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مشکل یہ ہے کہ عاطف توقیر صاحب نے عالمی اخبار میں آتے ہی عروض کے بارے میں اپنے منفی خیالات کا نہ صرف اظہار کیا بلکہ عروض کی تعلیم حاصل کرنےوالوں کو“ شاعر چے“ وغیرہ جیسے خطابات سے یاد کیا ۔ صرف اس لیے کہ جرمنی کی کسی ادبی تقریب میں (جس میں عاطف توقیر صاحب اور ڈاکٹر ستیہ پال آنند شریک ہوئے تھے ) ( بقول عاطف توقیر صاحب ) چند ایک افراد نے شاعری میں عرو ض کی اہمیت کو سراہا تھا ۔ ( عاطف توقیر صاحب کا ایک سابقہ بلاگ جس کا موضوع کچھ یوں تھا : یورپ میں اردو شاعری ۔۔۔زوال کا آنکھو ں دیکھا حال ( صحیح عنوان کے لیے وہ بلاگ ملاحظہ کیجئے ) انکی عروض کی اہمیت ظاہر کرنے والوں سے نفرت اور حقارت کا مظہر ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    افسو س صد افسوس کے عاطف توقیر صاحب نے ان تمام افراد کے نام بتائے بغیر ان کو “ شاعر چے “ کہا اور اپنی نفرت کا نشانہ بنا یا ۔ اور جب میں نے ان سے اس معاملہ میں کچھ پوچھ گچھ کی تو انہوں نے مجھے بھی اپنی : “ منفی فہرست “ میں شامل کرلیا ۔ جس کا بے حد افسو س ہے۔

    میں ان تما م “ شاعر چوں “ کا کوئی وکیل نہیں ہوں مگر میں ان کا نام لیے بغیر ان کے کسی موقف کےخلاف کہنے سے گریز کرتا ہوں صرف اس لیے کہ یہ “حق گوئی و بےباکی “ کے اصول کے خلاف ہے ۔

    اب بھی موقع ہےکہ عاطف توقیر صاحب “ ان تمام شاعر چوں“ کے نام بھی اس بلاگ میں لکھدیں تاکہ وہ “شاعر چے “ اپنے دفاع میں کچھ لکھ سکیں ۔
    ِ۔۔۔۔۔
    میں جناب صفدر ھمدانی صاحب کی اردو نوازی کا شروع ہی سے معترف رہا ہوں اور انکی وسیع القلبی کا قائل ہوں ۔
    انکا شکریہ کہ وہ اپنے عالمی اخبار میں مجھے اپنے خیالات اور احساسات کا کھل کر اظہار کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

    میں نےعالمی اخبار کی تاریخ میں ان سے کسی بات پر بحث کرنے کی جرائت نہیں کی ۔ اسی لیے انتہائی معذ رت کے ساتھ میں نے اس بلا گ میں اپنا مندرجہ بالا تبصرہ لکھا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں عاطف توقیر صاحب کی فراخدلی کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میری نیک نیتی کو محسوس کیا ۔ میں انکے اشعار میںانکے خیالات کی ندرت اور اردو تراکیب کی جدت کو سراہتا ہوں ۔ بس ان سے یہی استدعا ہے کہ اردو کے ابھرتے ہوئے شعرا کو اپنے سے کمتر نہ سمچھا کریں ۔ انکی دل کھول کر ہمت افزائی کریں اور کسی کو بھی “ شاعر چے “ کہنے سے گریز کریں خواہ وہ عروض کا پابند ہی کیوں نہ ہو۔ ( اور اگر کسی کو برا کہنا ہی ہو تو اسکا نام لے کر کہیں تاکہ وہ فرد اپنا دفاع کرسکے) ۔

    فقط :
    اچھی شاعری کا دلدادہ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

    ً

  16. میرے خیال میں عاطف کے 4 خوبصورت شعر جنکے محاسن پر ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی پس منظر میں جا رہے ہیں اور ہم عروض کی بحث میں الجھ رہے ہیں. میرا خیال ہے کہ عروض کے حوالے سے ہم سب ایک دوسرے کے موقف سے بخوبی آگاہ ہیں.ایسے میں میرا خیال ہے کہ اس موضوع پر بحث وقت کا زیاں ہو گا.
    ہاں اگر ہم چاہیں تو عروض پر ایک الگ بلاگ شروع کر لیتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ پہلے اس موضوع پر بلاگ ہو چکا ہے.
    بات دراصل یہ ہے کہ ہم میں سے جو شعر کی شعریت کی بجائے عروض پر زور دیتا ہے وہ اپنی جگہ درست ہے کہ یہ اسکا موقف ہے اورجو حُسنِ شعر اور ماہیت شعر کا قائل ہے وہ بھی کسی طرح غلط نہیں. ایسے میں انڈے مرغی والا مسلہ ہے. تو ایسے کرتے ہیں کہ اس بحث کو یہیں ختم کرتے ہیں اور عاطف کے چار شعروں پر بات کرتے ہیں.
    عروض پر بھی صرف ایک مثلث بات کر رہی ہے . میں خود ،عاطف اور محترم قاضی صاحب
    ہو سکتا ہے کہ باقی احباب اسی لیئے اس میدان میں نہیں آ رہے کہ انکے لیئے یہ ”فاعلات” کا موضوع بے معنی اور بور ہو.

  17. حضور میں نے کبھی کسی کو خود سے کمتر نہیں سمجھا نہ ایسا سمجھ سکتا ہوں۔ میں ہمیشہ سے اپنے آپ کو طالب علم کہتا اور سمجھتا رہا ہوں اور ایسا میری آخری سانس اور آخری ہچکی تک جاری رہے گا۔ میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کو میرے الفاظ سے تکلیف پہنچی۔

    میں خود شاعرچہ ہوں اس لئے مجھے اردو ادب سیکھنے اور علم عروض کے متلاشی شعراء سیارچے لگتے ہیں۔ میں راجپوت ہوں۔ باپ دادا تلواریں اور بندوقیں چلاتے رہے سو میں زیادہ سے زیادہ لٹح مار ہو سکتا ہوں۔ اس امید کے ساتھ شعر کہتا ہوں کہ کسی روز کوئی اچھا شعر بھی لکھ ہی لوں گا اور جس روز ایسا ہو جائے گا پھر مزید نہیں لکھوں گا۔ کسی ایک اچھی غزل یا نظم یا شعر کے لئے اب تک شعر کہتا رہا ہوں۔ میں نے ہائیڈل برگ کی اس تقریب میں سب سے کمتر شاعرچے کا نام تحریر کر دیا ہے اور شاعرچہ بھی ایسا جسے اپنے دفاع میں بھی کچھ نہیں کہنا۔

    میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس
    خود کو تباہ کر لیا، اور ملال بھی نہیں

    آداب

  18. اس بلاگ کے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ جس مسئلہ کو خواہ مخواہ چھیڑا گیا اس کا ذمہ دار کون تھا۔ ( تصدیق کے لیے اوپر کے تبصرے حاضر ہیں )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محترمہ روبینہ فیصل صاحب کا یہ کہنا انکی غلط فہمی کی وجہ سے ہے کہ :
    “۔لڑائی صرف اس بات کی ہے کہ عاطف بے ساخھتگی کو ذیادہ یمہت دے رہے ہیں اور محترم قاضی صاحب علم عروض کو “
    ۔۔۔۔۔۔
    اس لیے کہ میں شاعری میں بے ساختگی ہی کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں ۔
    یہ بھی تسلیم شدہ بات ہے کہ اگر مصرعہ وزن اور بحر میں نہ ہوتو بے ساختگی کے باوجود وہ مصرعہ وزن سے گرجاے گا ۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

    ۔۔۔

  19. عاطف میاں۔ شاعر سے بڑا صابر تو بس اولوالعزم نبی ہی ہوتا ہے۔ بس صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔میں تو خود عاطف میاں تمہارا نام اس سوا ستیہ پال آنند والی محفل میں دیکھ کر حیران تھا۔ میں جرمنی کی ادبی فضا سے کئی عشروں سے واقف ہوں، ایسا ایسا کمال کا شاعر ہے اس ملک میں کہ غالب دست بستہ کھڑا ملے انکے سامنے۔ کچھ لوگ تو پیدا ہی انٹر نیٹ میں ہوئے اور وفات بھی اسی میں پائیں گے۔ بس عاطف آپکو اپنی انفرادیت برقرار رکھنی ہے۔ مشاعروں میں جانے سے کوئی شاعر نہیں بن جاتا۔ میں بھی لندن میں 20 سال میں صرف تین چار مشاعروں میں گیا ہوں۔اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہٹلر کی سرزمین میں جینوئن شاعر نہیں ہیں۔۔۔ہیں لیکن بہت عنقا۔ عزت بچا کر گھروں میں بیٹھے ہوئے۔

  20. قاضی صاحب قبلہ کسی کی کوئی لڑائی نہیں۔ یہ نکتہ نظر کا اختلاف ہے جو بہت صحت مند چیز ہے۔ آپ سے بھی میری مودبانہ درخواست ہے کہ اب اس قصے کو چھوڑیں اور نفس مضمون پر بات کریں۔ عروض کی حمایت سے کونسا تمغہ بسالت مل جائے گا جو عروض کی مخالفت سے کسی کی پنشن بند ہو جائے گی۔ آئیے شعروں میں ندرت تلاش کریں، نئے استعارے دیکھیں، نئی بندشوں پر واہ کہیں، نئے زاویے تلاش کریں، تکنیک کی ہمہ رنگی کو دیکھیں۔ بس کریں اس لات اور فاعلات کو۔ مجھے اگر کوئی اس لیئے شاعر نہیں مانتا کہ میں فرقہ عروضیہ سے نہیں تو کوئی بات نہیں۔ اس شاعری سے میرے گھرکا خرچ نہیں چل رہا جو بند ہو جائے گا۔ میں طالب علم اور عاطف میاں آپ کے علمی مرتبے کے قائل ہیں اور آپ کے مدح خوان بھی ہیں۔

  21. باباجانی میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ رہا۔ میں نے جو لکھا وہ انتہائی پیار سے لکھا اور مکمل سچے انداز سے لکھا ہے۔ میں منظور قاضی صاحب کا معترف ہوں کہ وہ مجھ جیسے لوگوں کی اصلاح کرنا چاہتے ہے اور ظاہر ہے میرے لئے وہ انہتائی اہم ہیں۔ منظور قاضی صاحب کا یہ نقطہ کہ عروض اہم ہیں۔ میرے خیال میں کسی شخص کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے، کہ ظاہر ہے یہ ایک مزدور کے وہ آوزار ہیں، جس سے کوئی چیز بنائی جا سکتی ہے۔
    میں شاعری کیوں کرتا ہوں اس کی وجہ مجھے خود بھی آج تک معلوم نہیں ہو سکی۔ میرے خاندان میں آج تک کوئی شاعر نہیں گزرا اور گزرا ہے تو میں واقف نہیں۔ میں نے پہلی نظم تب لکھی تھی، جب میں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ مزے کی بات ہے کہ میں نے آٹھویں جماعت میں جو غزل کہی تھی۔وہ میری پہلی کتاب میں شائع ہوئی تھی۔ میرا پہلا مجموعہ تب آیا تھا، جب میں 19 برس کا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ وہ ابتدائی غزلیں بھی بحر میں تھیں۔ شاید کوئی ایک آدھ مصرع چوکتا ہو۔ وہ غزل تھی۔ اس غزل کا مطلع اور مقطع مجھے یاد ہے۔ میں بابا جانی آپ کی نذر کرتا ہوں۔

    تصور وہ کہاں جس میں تیری مورت نہیں ہوتی
    تیری یادوں سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی
    محبت معنی و جٖذبات تو رکھتی ہے اے عاطف
    مگر جذب محبت کی کوئی صورت نہیں ہوتی

    میرے ابا شاعر تو نہیں تھے مگر انہیں فارسی کلام بہت پسند تھا۔ میں ان کی الماری سے کتابین نکال کر سطروں اور مصرعوں پر انگلیاں پھیرا کرتا تھا، اور ماں کبھی کبھی میں وہ پڑھ کر سنا دیا کرتی تھی، کہ اس سطر میں یہ لکھا ہوا ہے۔ میں جب 4 برس کی عمر میں سکول جانے لگا تو مجھے اقبال اور غالب کا کم از کم آدھا آدھا کلام ازبر تھا۔ میرے کئی ٹیچر بچپن میں میرا مذاق بھی آڑایا کرتے تھے۔ ظاہر ہے پنجاب کا ایک دور افتادہ گاؤں اور وہاں کوئی فارسی اور اردو کے اشعار سنا رہا ہو، چھوٹی سی عمر میں تو عجیب ہی لگتا ہو گا۔ میں اب سمجھ سکتا ہوں کہ وہ لوگ کیوں ہنسا کرتے تھے۔
    عرض صرف یہ کر رہا تھا، کہ میں نے پہلی مرتبہ اپنا کلام پروفیسر آفاق صدیقی کو دکھایا تھا۔ یہ بات ہے غالبا 1995ء کی۔ انہوں نے میری بیاض دیکھی تو کہا کہ کیا تم نے کسی سے اصلاح لی ہے۔ میں نے کہا حضور میں آج تک کسی شاعر سے نہیں ملا۔ آپ زندگی میں واحد شاعر ہیں، جن سے بلمشافہ ملاقات ہو رہی ہے۔ کہنے لگے عروض کی کتابیں پڑھتے ہو۔ میں نے کہا حضور یہ کیا ہوتا ہے، میں تو اس لفظ سے واقف تک نہیں ہوں۔ تو کہنے لگے کہ پھر تمہاری بحریں درست کیوں ہیں۔ میں نے کہا مجھے معلوم نہیں آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے وہیں، کراچی کے ایک کالج میں مجھے عروض کی تعریف سمجھائی اور کہنے لگے دیکھو ہر مصرع کی ایک موسیقیت ہوتی ہے، جیسے
    مارو مکا مارو گھونسا مارو لات
    فاعلاتن فاعلاتن فاعلات 🙂
    پھر کہنے لگے تم کیسے لکھتے ہو۔ میں نے کہا کہ میں تو گا کر لکھتا ہوں۔ وہ کہنے لگے، جبھی تو بحر میں کہتے ہو۔

    بابا جانی غالب سمیت اردو کا شاید ہی کوئی شاعر ایسا ہو، جس سے شاعری میں کوئی چوک نہ ہوئی ہو۔ مگر اردو میں جس شاعر کا شاید ہی کوئی مصرعہ چوکا ہو، وہ ہیں نظیر اکبر آبادی۔ مزے کی بات ہے کہ انہوں نے علم عروض نہیں سیکھا تھا۔ وہ اپنی کلائی پر تین کڑے پہن کر بازو کے جھٹکوں کی مدد سے مصرعوں کو گرہ لگایا کرتے تھے۔

    دنیا میں جو بڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
    جو مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

    یا اس مخمس کا یک بند دیکھئے

    دنیا کی جو الفت کا ہوا دل کو سہارا
    اور اس نے خوشی کو میری خاطر میں اتارا
    دیکھی جو یہ الفت تو میرا دل یہ پکارا
    آیا تھا کسی شہر سے اک ہنس بیچارا
    اک پیڑ پے جنگل کے ہوا اس کا گزارا

    ناسخ، شیفتہ اور مصحفی، عروض کے اعتبار سے غالب سے ہزار ہا گنا بہتر تھے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان شعرا کے ہاں بہت سے شاگرد بھی ہوا کرتے تھے۔ غالب کے شاگرد بہت ہی کم لوگ ہوئے۔ خیر درست عمل میرے خیال سے یہی ہے کہ اب ہم شاعری پر گفتگو کریں اور اگر کسی شعر میں کوئی نئی ترکیب یا مضمون ہو تو اس پر غور کریں تاکہ مزید نئے عنوانات کے راستے ہموار ہوں۔
    صد نالہ ء شب گیرے، صد صبح بلا خیزے
    صد آہ شرر ریزے، یک شعر دلآویزے

    اب میں یہاں جون ایلیا کی ایک بات تحریر کرتا ہوں۔ وہ کہتے تھے۔ ‘‘اگر میں اپنی محبوبہ کے بارے میں یہ سوچوں کہ اس کے اندر بھی، گردوں پھیپھڑوں، معدے اور انتوں جیسی کثیف چیزیں ہوں گی، تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا۔‘‘ یہ بات اپنی جگہ کہ ان تمام چیزوں کے بغیر وہ زندہ نہیں ہوگی مگر میرے خیال سے، میں بہت دیر سے اپنی محبوبہ کی انہیں کثیف چیزوں کی بات کر رہا ہوں اور اس بحث میں اس کی لطافت متاثر ہو رہی ہے۔ مجھے کہنے دیجئے۔

    تو نے پلکیں اٹھا کہ دیکھا تھا؟
    تیری آواز آگئی مجھ کو
    اب میرے سر میں کوئی سجدہ نہیں
    تیری دہلیز کھا گئی مجھ کو

    🙂

    آداب

  22. جناب صفدر ھمدانی صاحب اور جناب عاطف توقیر صاحب سے عرض ہے کہ آپ دونوں کی تحاریر میرے ہی موقف کی ترجمانی انتہائی مخلصانہ انداز میں کررہی ہیں۔ : شکریہ

    جپاں تک شاعری کا تعلق ہے :

    ایں سعادت بزورِ بازو نیست
    تانہ بخشد خدائے بخشندہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آپ سب کا اور عالمی اخبار کی انتظامیہ کا مشکور ہوں کہ مجھے عالمی اخبار میں اپنے موقف کو پیش کرنے کا موقعہ دیا۔

    پھر سعدی کا شعر دہراتا ہوں کہ :
    جمالِ ہم نشیں در من اثر کرد
    وگرنہ من کہ اک خاکم کہ ہستم

    فقط:
    علم کا خواہاں
    منظور قاضی
    از جرمنی

  23. حضور یہی تو عرض کر رہا ہوں۔ ہم سب آپ ہی کے موقف کی ترجمانی کر رہے ہیں لہٖذا آئیے شاعری پر گفتگو کرتے ہیں۔ اس کے خیال اور استعاروں پر بات کرتے ہیں۔ نئے مضامین کی بات کرتے ہیں۔
    ٓداب

  24. اپنا وجود ڈھونڈتا ہوں اسکے عکس میں
    گم ہو گیا تھا رات میں جس بُت کے رقص میں
    ۔۔۔۔۔
    بے اعتنائی، ظلم و ستم، بے وفائیاں
    سب خوبیاں جمع ہوئیں اس ایک شخص میں
    ۔۔۔۔۔
    شیشے میں جیسے چاند کو قیدی بنا لیا
    لپٹا تھا اسکا جسم یوں شیشے کے بکس میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنی برہنگی کا نہیں مطلقاََ خیال
    عالم ہے سارا محو یوں ننگوں کے رقص میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    صفدر مری نظر سے نقائص پہ غور کر
    پہلو ضرور خوبی کا ہوتا ہے نقص میں

    1974 فروری

  25. انتہائی محترم جناب منظور قاضی صاحب اور جناب صفدر ہمدانی صاحب آج اتفاق سے گوگل پر سرچ کرتے ہیں یہاں آپ کے بلاگ میں آ نکلا ہوں۔ انتہائی علمی گفتگو پڑھنے کو ملی دل خوش ہوا وگرنہ انٹر نیٹ پر جہاں جہاں ادب پر بحث ہو رہی ہے وہ ذرا سی دیر میں ایک جنگ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ میں بہت خوش ہوں یہاں آکر۔ محترم قاضی صاحب عاطف کے بارے میں ایک بات میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ شخص اپنے سینئرز کی بہت عزت کرتا ہے اور نئے شعرا کی بہت حوصلہ افزائی۔ جہاں تک سینئرز کی عزت کی بات ہے اس کی مثال یہاں آپ سے گفتگو اور اس کے دل میں آپ کا احترام ہے۔ جونیرز کیلئے اس ناچیز کی مثال موجود ہے۔ عاطف نے میرے شعری سفر میں ہمیشہ میری اور دیگر شعرا کی حوصلہ افزائی کی ہے اور ابھی بھی کرتا ہے۔ اور عاطف تمھارے شعر پڑھ کر ہمیشہ ایک سرور سا چھا جاتا ہے ۔خدا آپ سب کو سلامت رکھے خاص طور پر صفدر ہمدانی صاحب کو جن کی ادب کے حوالے سے بے حد خدمات ہیں ۔

    دعا گو
    سید کاشف حیدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *