عالمی اخبار کے لیئے نیویارک کے ڈاکٹر مقصود جعفری کی دو غزلیں

نیویارک میں مقیم ڈاکٹر پروفیسر مقصود جعفری میرے پرانے کرم فرما اور محسن ہیں جن سے کوئی 25 برس بعد ملاقات نیوجرسی اور ٹورنٹو میں ہوئی۔ اس 25 سال کے عرصے میں وہ طویل ادبی اور فکری ارتقائی سفر کر چکے ہیں۔ وہ انگریزی کے استاد ہیں اور اردو کے عاشق جبکہ کشمیری انکی مادری زبان اور فارسی انکے دہن کی شیرینی کے لیئے ہے۔ وہ متعدد زبانوں میں شعر کہتے ہیں اور خوب کہتے ہیں۔
عالمی اخبار کے لیئے انہوں نے ٹورنٹو میں معروف شاعر اور ادیب اشفاق حسین کی قیام گاہ پر دو غزلیں ریکارڈ کروائی ہیں

21 thoughts on “عالمی اخبار کے لیئے نیویارک کے ڈاکٹر مقصود جعفری کی دو غزلیں”

  1. صفدر بھائی جعفری صاحب کو عالمی اخبار میں لا کرآپ نے بہت اچھا کیا ۔کیونکہ یہ خود کہیں آنا نہیں چاہتے ؟ ایک ملنگ صفت آدمی ہیں جن میں انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ حالانکہ وہ تیس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں جن کی اکثریت انگریزی میں ہے اور فعال سیاسی ورکر بھی رہ چکے ہیں اس پر مزید یہ کہ حکومت ِ پاکستان کے امور کشمیر کے مشیر رہ چکے ہیں ۔ اور ہاں ان کا میرے اوپر ایک احسان بھی ہے جس کو اتارنے کا شاید مجھے موقعہ مل جا ئے کیونکہ انہوں آج سے پانچ چھ سال پہلے میرے اوپر ایک مضمون اخبارات میں شائع کرایا تھا جس کا عنوان تھا “ شمس جیلانی حالیِ ثانی “ میں اپنے اس پرانے دوست کو عالمی اخبار میں خوش آمدید کہتا ہوں۔

  2. ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب کی یہ دونوں غزلیں ماشا اللہ ایک سے بڑھکر ایک ہیں ۔ انکا شکریہ کہ انہوں نے جناب صفدر ھمدانی صاحب کے ذریعہ اپنا کلام عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کو عطا کیا:

    ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب کی پہلی غزل یونی کوڈ میں حاضر ہے:

    مجھے دے کے جلوہ ء دل رُبا وہ تو چُھپ گئے ہیں نقاب میں
    مرا حالِ دل بھی تو پوچھتے میں اجڑگیا ہوں شباب میں

    ترے غم سے پہلےخوشی نہ تھی ترے غم کے بعد خوشی نہیں
    مری جاں تھی جب بھی عذاب میں مری جاں ہے اب بھی عذاب میں

    مجھے مئے کشی سے غرض نہیں مری مے کشی تری دید ہے
    تری آنکھ میں جو سرور ہے وہ نشہ کہاں ہے شراب میں

    نہیں بوالہوس کہ میں ہر چگہ ترے عشق کا کروں تذکرہ
    ترا عشق دل میں نہاں ہے یوں کہ ہو برق جیسے سحاب میں

    مجھے بزمِ ناز میں جعفری جو ملے جگہ تو کہاں ملے
    میں غریب سادہ مزاج ہوں نہ حساب میں نہ کتا ب میں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب کی دوسری غزل کے اشعار: ( اگر میری کمپوزنگ میں کوئی غلطی ہو جائے تو شاعرصاحب سے درخواست ہے کہ وہ تصحیح کردیں )۔:

    نہ خیالِ سود و زیاں ہے اب نہ یہ غم کہ ( ہاتھ ) سے کیا دیا
    جو کسی کی یاد کا نقش تھا وہی لوحِ دل سے مٹا دیا

    وہ جنونِ عشق کی وحشتیں وہ فراقِ دوست کی لذتیں
    کبھی نقشِ پا پہ رکھی جبیں کبھی نقشِ پا کو مٹادیا

    مجھے خاک میں جو ملا دیا تو عذابِ فکرِ زیاں نہ لے
    میں وُہی ہوں گوہرِ بے بہا جسے تو نے یوں ہی گنوا دیا

    یہ غرور اور یہ تمکنت یہ مزاجِ حسن کی برہمی
    جو شہیدِ ناز کی قبر پر جو دیا تھا وہ بھی بجھادیا

    مجھے اتنا ہوش ہے جعفری ہُوا ان سے آمنا سامنا
    مجھے اور کوئی خبر نہیں مجھے کیا کسی نے (گلہ ) دیا

    ۔۔۔۔۔
    قوسین میں لکھے ہوئے الفاظ شاید تصحیح طلب ہیں اور جعفری صاحب کی توجہ کے محتاج ہیں ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔
    امید کہ ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب یونی کوڈ میں اپنا مزید کلام عالمی اخبار میں عطا کرینگے ۔
    ۔۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  3. مقصود جعفری کا تعلق ایک ہمہ صفت موصوف گھرانے سے ہے، انکے والد مرحوم جناب تحسین جعفری میرے کرمفرما تھے. ریدیو تراڑکھل اور اسلام آباد میں ملازمت کے دوران وہ جب بھی تقریر یا شاعری کی ریکارڈنگ کے لیئے تشریف لاتے تو عمر میں بزرگ ہونے کے باوجود خاص کرم فرمایا کرتے تھے.مقصود جعفری کو یہ ادبی ورثہ انہی سے ملا ہے.

  4. محترم مقصود جعفری صاحب جیسے مہربانوں کا کلام عالمی اخبار کو مزید بھی معطر کر دیتا ہے۔ ۔۔۔ ان کو یہاں لانے کابابا شکریہ۔۔۔۔کاش ان جیسے جید و مستند ادباء یہاں خود بھی آتے جاتے رہیں تو ہم ایسوں کے کاسہء فکر میں کچھ علم وا دب کے گہر پڑ جائیں گے۔ آغا جی بار دیگر شکریہ۔

  5. جناب مقصود جعفری کے کہے ہوئےسلام کے چند اشعار پیش خدمت ہیں
    غم ِحسین کا موسم ہے کیوں زباں ٹھہرے
    میرے لبوں پہ نہ کیسے میری فغاں ٹھہرے
    رہ ِ خدا میں لٹا یا حسین نے کنبہ
    حسین ہی تو سخاوت کا آسماں ٹھہرے
    جو امتحاں رسولوں کو بھی ہو ئے نہ نصیب
    فقط حسین کی خاطر وہ امتحان ٹھہرے
    حسین تیرے لہو نے بچا لیا اسلام
    نشاں پہ تیرے توحید کا نشان ٹھہرے
    حسین تیری عزا کے دیئے جالا ئے ہیں
    جہان جہان بھی گئے ہیں، جہاں ٹھہرے

  6. یہ دونوں غزلیں بہت خوبصورت ہیں۔ ماشاللہ بہت ہی اعلیٰ پائے کی غزلیں ہیں۔ کیا کہنے۔

    ترے غم سے پہلےخوشی نہ تھی ترے غم کے بعد خوشی نہیں
    مری جاں تھی جب بھی عذاب میں مری جاں ہے اب بھی عذاب میں

    اور یہ کیا اچھا شعر ہے۔ یہ شعر صرف اردو زبان ہی میں کہا جا سکتا ہے۔ اس شعر کی خاص بات کی صاف اردو ہے۔ میں جانے کتنی دیر سے یہ شعر گنگنا رہا ہوں۔ جیتے رہیں جعفری صاحب

  7. مقصود جعفری کا ایک تازہ ترین شعر سنیئے قصیدے کا جو انہوں نے نیوجرسی اور ٹورنٹو میں پڑھ کر محفل لوٹ لی

    ترے حسین نے منسوخ کر دیا ہے اُسے
    ہوا تھا حُکم جو جاری مری سزا کے لیئے

  8. کیا کہنے .. واہ واہ ..سبحان اللہ کیا زندہ شعر کہا ہے مقصود بھائی نے .. واہ واہ .. کیا کہنے ..

    ترے حسین نے منسوخ کر دیا ہے اُسے
    ہوا تھا حُکم جو جاری مری سزا کے لیئے

    مرحبا .. مرحبا .. سبحان اللہ .. “منسوخ ” کو کس قدر خوبصورتی سے استعمال کیا ہے .. واللہ مزہ آ گیا … سلامت رہیں بھائی …

  9. کیا کہنے۔ باجو واقعی یہاں اس ایک لفظ سے تمام شعر کا تاثر ہی تبدیل ہو کر انتہائی غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔ مقصود بھائی جیتے رہئے۔ ماشاللہ اچھا شعر ہے۔ بابا جانی بڑی عنایت کہ یہ اتنا خوبصورت شعر یہاں ارسال کر دیا آپ نے۔ یہ شعر تازہ ہے یہ اہم نہیں اہم یہ ہے کہ شعر تازہ رہے گا۔
    آداب

  10. آج 5 جون 2010 کے جنگ اخبار میں غضنفر ہاشمی کا کالم پڑھنے میں آیا جس میں ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب اور جناب اشفاق حسین صاحب سے متعلق یہ بات بھی شامل ہے کہ ان دونوں دانشوروں نے اطہر رضوی کی کتاب “نفیس یادیں ، مہربان لوگ“ کی رونمائی کی تقریب ( جو ٹورینٹو ، کینیڈ ا میں منائی گئی ) میں شرکت کی اور تمام اہل محفل نے متفقہ رائے سے یہ کہا کہ “اردو ہی وہ زبان ہے جو پاکستان کے تمام صوبوں اور زبانوں کے درمیان یک جہتی کا ذریعہ بن سکتی ہے ۔“
    ۔۔۔۔۔
    شائد جناب صفدر ھمدانی صاحب نے بھی ( اپنے حالیہ دورے میں ) اس تقریب میں شرکت کی ہوگی ۔ اگر کی تھی تو وہی اس تقریب اور ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب اور اشفاق حسین صاحب کے ارشادات کے بارے میں بہت کچھ بتاسکتے ہین۔

    اگر صفدر ھمدانی صاحب نے اس تقریب میں شرکت کی تھی تو پتہ نہیں کیوں غضنفر ہاشمی نے انکا تذکرہ اور خاص طور پر عالمی اخبار کا تذکرہ اپنے اس کالم میں کیوں نہیں کیا؟ کیا اس کو عالمی اخبار کی کارناموں ( جو اس نے اردو کی ترقی اور ترویج کے لیے کئے ) کا پتہ نہیں ہے ؟
    فقط:
    منظور قاضی
    از جرمنی

  11. قاضی صاحب. ہر کالم نگار کا اپنا نکتہ نظر ہوتا ہے اور وہ اسی پرکار سے اپنا دائرہ بناتا ہے. دراصل غضنفر ہاشمی صاحب بہت بڑے لکھنے والے ہیں اور مجھے انکے مقام تک پہنچنے کے لیئے کم از کم اگلی ایک صدی درکار ہے.وہ یہاں اس محفل میں اسٹیج پر بالکل میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں لیکن ممکن ہے کہ میں انہیں نظر ہی نہ آیا ہوں.
    اطہر رضوی،صفدر ھمدانی،غضنفر ہاشمی
    ویسے میں نے اپنی تمام حیات ذرائع ابلاغ میں گزاری ہے اور ذرائع ابلاغ میں ہی موجود نہیں رہا. 35 برس سے زیادہ عرصہ ہواانیس و دبیر کی مرثیہ گوئی کی روایت کو نبھاتے ہوئے لیکن مرثیے کے نام نہاد تاریخ نویسوں نے کسی تذکرے میں اس فقیر کا نام بھی نہیں لکھا حتیٰ کہ فیض اور فراز کو مرثیہ نگاروں میں شامل کر لیا.
    میں ان چیزوں کو کبھی سوہان روح نہیں بنایا. کسی کے تزکرہ کرنے سے آپ زندہ نہیں رہتے بلکہ اپنے کام سے زندہ رہتے ہیں. یوں بھی اخباری کالم کی زندگی ایک دن کی ہوتی ہے اگلے روز وہ ٹائلٹ پیپر ہی تو بن جاتا ہے. ہاں انٹر نیٹ کے کالم کی زندگی زرا طویل ہوتی ہے کہ وہ عرصے تک محفوظ رہتا ہے.
    برادر خورد غضنفر ہاشمی بے پناہ خوبیوں کے مالک ہیں اور انہیں الفاظ کی مالا پرونے کا فن آتا ہے اور میں اس فن سے نا بلد ہوں.
    آپ کوئی فکر نہ کریں قاضی صاحب.یہ تو مفادات کی دنیا ہے اور اسی محفل میں جس کا تزکرہ غضنفر ہاشمی نے اپنے کالم میں کیا ہے میں ببانگ دہل بھری محفل میں یہ کہہ چکا ہوں کہ ہمارے ہاں ادبی دنیا اب ایک مافیا بن چکی ہے جس میں ہم جیسے بے دھڑے کے ”حزب اللہ” کے لوگ فٹ نہیں ہوتے.
    قاضی صاحب آپ نے محبت بھی مجھ جیسے خالی ہاتھ فقیر سے کی ہےجسکا شعر ہے

    فقیہِ شہر کا صفدر لحاظ کیا کرتا
    میں بے لحاظ خود اپنا لحاظ کرتا نہیں

  12. آغا جی خدا کا شکر کریں کہ کم از کم آپ کا نام درباری سرکاری اور مکاری ادباء کی فہرست میں نہیں آتا جنکا آخری قافیہ خواری ہی خواری رہ جاتا ہے۔ یہ مقام شکر نہیں تو کیا ہے؟
    آپ جیسے بے لوث اور بلا طمع لوگوں سے جب اہل زر کو ملے گا کچھ نہیں سوائے علم و ادب کی باتوں کے تو پھروہ آپ کو دیکھ کہاں پائیں گے، اور اگر دیکھ لیں گے تو نظریں تو چرانا پڑیں گی ناں۔۔۔۔
    جہاں تک شمع روشن کرنے کا کام ہے، تو وہ آپ کر چکے۔۔۔خدا اردو ادب کو مکار و عیار ادباء، فضلاء اور صحافیوں سے محفوظ و مامون رکھے۔ آمین ثم آمین۔

  13. افسوس کہ غضفر ہاشمی صاحب کی تحریر نے یہ ثابت کردیا کہ وہ انکھیں رکھتے ہوئے بھی بے بصارت اور بے بصیرت ہیں ۔

    میں اس سلسلہ میں جناب صفدر ھمدانی صاحب کی حق گوئی اور بے باکی کی قدر کرتا ہوں۔

    فقط:
    عالمی اخبار کی عظمت کا قائل
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  14. صفدر بھائی دل چھو ٹا نہ کریں جب لوگ کسی کو گروپ بندی کی ترازو میں تولتے ہیںتو انہیں اپنے گروپ کےسوا کچھ بھاری نظرنہیں آتا؟ اور وہاں توگروپ بندی عروج پر ہے۔جوکہ اللہ کے لیئے کام کر رہا ہواسے صلے کی پرواہ نہیں ہوتی اور خدا شکر ادا کریں کہ آپ ان میں سے ہیں۔کہ
    سکوں حاصل ہے اور رحمت خدا کی ضرورت ہے نہیں کچھ واہ وا کی
    ( شمس جیلانی)

  15. سکوں حاصل ہے اور رحمت خدا کی ضرورت ہے نہیں کچھ واہ وا کی
    ( شمس جیلانی)

    بھئی واہ واہ یہ ایسا صرف بھائی شمس ہی کہہ سکتے تھے ۔۔ دیکھا بابا آپ نے ہم سب آپ کے ساتھ ہیں اور آپ جیسا ہی بننا چاھتے ہیں یعنی بقول مصباح بھائی کہ درباری سرکاری اور مکاری ادباء کی فہرست میں نہیں ورنہ اگلا سفر خواری ہی خواری ۔۔ مصباح بھائی کہاں سے لاتے ہیں ایسے جملے ۔۔۔ بس ہو جائے اس مافیا پر اسی انداز میں ایک زندہ کالم ۔۔۔ پلیز بھائی پلیز۔۔۔۔ لکھ دیجئے ناں جلدی سے ۔۔۔ بھلا آپ کے لئے کیا مشکل ہے ۔۔۔ انتظار شروع جی ۔۔

  16. سلامت رہیں شمس بھائی. عالی جناب قطعی دک چھوٹا نہیں. ہم تو ساری عمر مشتہر ہونے سے دور رہے. جن نفوس مطہرہ کا نام لکھتے ہیں بس وہی بہت بڑی ضمانت ہے مغفرت کی.
    زر نہیں مانگتامدولت نہ حکومت درکار
    میرے مولا مجھے لفظوں کا خزانہ دیدے

  17. ٓآمیں ثمہ آمین اس دعا کے ساتھ
    جو پڑھے آپ کو شاعرزمانہ کہدے

  18. نگہت بہن تعمیل حکم ہوگی، لیکن تھوڑا سا وقت درکار ہے۔۔۔آج کل ایک اور سنجیدہ موضوع پر لگا ہوا ہوں۔ اسکی تکمیل پر اس طرف لوٹ سکوں گا۔

  19. ڈاکٹر مقصود جعفری کی نیویارک سے ارسال کردہ ای میل
    آپ پریشا ن نہ ہویئے گا انگریزی دیکھ کر.ایک تو وہ انگریزی کے استاد ہیں اور دوسرے انشااللہ جلد ہی اردو لکھیں گے بلاگ میں
    …………….

    My dear Safdar Hamadani Sahib,
    I hope all is well with you. I am obliged to you for posting my comments on the web site of International Urdu News. It is very kind of you. I regularly go through your paper and find it informative and educative. The friends who have commented on my poetry and column I am grateful to them for their generous views about my writings in Urdu and English. Please convey my heartiest feelings of gratitude to them.
    Besides, I received your e-mail and opened the site and enjoyed the poetry of Mr. Ashfaq Hussain. The rainy scene was fascinating. I just called him and recited those verses which you sent me. he was very happy and praised your efficiency and sincerity.
    With warm wishes,
    Dr.Maqsood Jafri
    New York

  20. قارئین کی اطلاع کے لیےعرض ہے کہ اگر آپ ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب کو سننا چاہتے ہیں تو 17 جون ( جمعرات ) کی شام
    اسپین کے وقت کے مطابق شام کے سات اور نو کے درمیان انٹرنیٹ پر ریڈیو پاک سلونا http://www.pakcelona.comکے عالمی مشاعرہ میں سن سکتے ہیں۔

    مندرجہ بالااعلان کے ذمہ دار http://www.ahleqalam.com کے اربابِ اختیار ہیں۔
    مزید معلومات انہی کی دی ہوئی ویب سائٹ سے مل سکتی ہیں ۔

    فقط:
    علم کا خواہاں
    منظور قاضی
    جرمنی سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *