تیرہ رجب ، مولائے کائینات حضرت علی علیہ السلام کا یوم ظہور مبارک

حضرت علی علیہ السّلام (599 – 661) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوۓ ۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب علیہ السّلام اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد السلام اللہ علیہا ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔[1] حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا ۔ آپ کی عمر اس وقت تقریبا دس یا گیارہ سال تھی ۔

آپ کی شادی مبارک حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شہزادی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے ہوئی اور آپ کی گھریلو زندگی طمانیت اورراحت کا ایک بے مثال نمونہ تھی ۔

حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے آپ کو تین فرزند ہوئے۔ حضرت محسن علیہ السّلام، امام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام، جبکہ ایک صاحبزادی حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا بھی حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے تھیں۔

غزوہ بدر ،غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں حضرت علی علیہ السلام نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے . تقریباًان تمام لڑائیوں میں حضرت علی علیہ السلام کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا ۔حضرت علی علیہ السلام مسلمانوں کے پہلے امام اور چوتھے خلیفہ تھے ۔

جتنے اقوال مبارک حضرت علی علیہ السّلام کے بارے میں احادیث نبوی میں موجود ہیں، کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں ۔۔ سبحان اللہ .. چند احادیث مبارک کی روشنی میں مولائے کائینات و متقیان حضرت علی علیہ السلام کی شان مبارک دیکھئے …
1.علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں
2. میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے
3.تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے
4. علی کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی
5.علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے۔
6.علی خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں
7. مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا.
8.عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے لئے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کے لئے دروازہ کھلا رکھا گیا.
9.جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی علیہ السلام کو پیغمبر نے اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیا
10.غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔

حضرت علی علیہ السّلام کو 19 رمضان 40ھ کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک حضرت علی علیہ السلام بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی وفات ہوئی۔ حضرت حسن علیہ السلام و حضرت حسین علیہ السلام نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔

اقوال مولا علی علیہ السلام ۔۔۔ فرماتے ہیں ۔۔

1. جب عقل بڑھتی ہے ,تو باتیں کم ہو جاتی ہیں ….

2. گناہ تک رسائی کا نہ ہوتا بھی ایک صورت پاکدامنی کی ہے۔

3. جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے توآغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے ….. .

4. ہرشخص کی قیمت وہ ہنر ہے ,جو اس شخص میں ہے …..

5. تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے. …..-
اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنگاؤ, تو وہ اسی قابل ہوں گی .
— تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے
— اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خو ف نہ کھائے .
— اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے و ہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا
– اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں
— صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے.اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے ,یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں .

6. عفت فقر کا زیور ہے اور شکر دولت مندی کی زینت ہے .

7. تھوڑا دینے سے شرماؤ نہیں کیونکہ خالی ہاتھ پھیرنا تو اس سے بھی گری ہوئی بات ہے .

8. کسی کو اس کے حق سے زیادہ سراہنا چاپلوسی ہے اور حق میں کمی کرنا کوتاہ بیانی ہے یا حسد.

9. ہر شخص کے مال میں دو حصہ دار ہوتے ہیں۔ ایک وارث اور دوسرے حوادث.

10. جو عمل نہیں کرتا اور دعا مانگتا ہے وہ ایسا ہے جیسے بغیر حلیہ کمان کے تیر چلانے والا.

330 thoughts on “تیرہ رجب ، مولائے کائینات حضرت علی علیہ السلام کا یوم ظہور مبارک”

  1. مناف بھائ

    آپ کمال کے مصور اور خطاط ہیں۔ ماشا اللہ۔

  2. بیشک ظفر بھائی … مناف بھائی کمال کے مصور اور خطاط ہیں .. مجھے تو بس یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں انہیں میری ہی نظر نہ لگ جائے .. یہ ہم سب کی خوش قسمتی ہے کہ مناف بھائی ہم سب کے درمیاں ہیں …. مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ مناف بھائی جیسے مصور اور خطاط روز روز پیدا نہیں ہوتے .. مناف بھائی کو جہاں اللہ کریم نے صدقہ علی میں رنگ اور برش عطا کئے ہیں وہیں انہیں خوبصورت اور دلنواز شخصیت بھی عطا کی ہے …. اتنے مہرباں ، اور ہر ایک کی عزت کرنے والے مناف بھائی جب مجھے بہن کہہ کر بلاتے ہیں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے جنت سے صدا آئی ہو …. اتنی ٹھنڈی اور میٹھی آواز یہاں کی نہیں لگتی ظفر بھائی ….مناف بھائی میں اتنی عاجزی اور انکساری ہے کہ اللہ اللہ ..

    بابا جی مناف بھائی کے لئے کہا کرتے ہیں کہ ” مناف کی انگلیاں نور سے بنی ہیں اور ان سے صرف نور نکلتا دکھائی دیتا ہے ” … سوچتی ہوں جو بلا معاوضہ … بے لوث ہو کر .. صرف عشق علی میں دین و دنیا کی ساری محبتیں نبھاہتے ہوں ان کے دل بھی نور… تو آنکھیں بھی نور… اور ہاتھ بھی نور کے ہی ہوتے ہوں گے …..

    مناف بھائی ہم سب آپ سے بہت محبت اور بہت عقیدت رکھتے ہیں … اللہ تعالی آپ کو عشق علی کی جزا ، دنیا و دین کی کامیابی عطا کرے.. آمین

  3. بتاؤں کہ ہیں کیا شیعانِ علی
    وہ ہیں سب اہلِ سنّت وہی ہے ظفر

    تصحیح

    بتاؤں کہ ہیں کیا شیعانِ علی
    وہ ہیں اہلِ سنّت وہی ہے ظفر

  4. قطرے کو یوں علی نے سمندر بنا دیا
    بے زر بھی آگیا تو ابو ‍زر بنا دیا

    کعبے کے آس پاس سبھی پستہ قد لگے
    حیرر کو یوں خدا نے قد آور بنا دیا

    تاریخ کی نگاہ سے اوجھل نہ ھو غدیر
    اس راہ گذر کو اتنا منور بنا دیا

    مولا کے التفات کی زندہ مثال ھے
    مجھہ جیسے بے ھنر کو سخنور بنا دیا

    اچھا ملا ظفر کو صلہ مدح آل کا
    مولا نے ایک گھر لب کوثر بنادیا

    ظفر عباس رضوی

  5. جشن ولادتِ امام علی علیہ السلام محمدی ویلفئیر سینٹر سڈنی میں ایک جھلک۔
    جناب علی شناور فرزندِ جناب ندیم سرور ایک منقبت پیش کرتے ہوئے۔

  6. برادرم مصباح آپ نے سڈنی کے اپنے عزا خانے کی یہ وڈیو لگا کر بہت اچھا کیا اور ایسے نوخیز مداح خوان محمد اور آل محمد بلاشبہ ہمارا روشن مستقبل ہے بشرطیکہ کہ اول وآخر مطمع نظر حصول ثواب اور حصول سایہ رحمت آل محمد ہو ناکہ حصول زر …

  7. میرے عزیز بھائ عبدالمناف ۔ اللہ آپ سب کو سلامت رکھے۔ ماشا اللہ آپ بہت منفرد خطاط ھیں اور آپ کو محترم صفدررضا ھمدانی صاحب سے سند مل چکی ھے ۔ اور اللہ تعالی دست حیدر کے تصدق میں آ پکی پرنور انگلیون اور ھاتھوں کو نظر بد سے محفوظ رکھے۔ جناب شمس جیلانی صاحب جناب سید مصباح حسین۔ جناب ظفر جفعری ۔ جناب عبدالمناف صاحب، جناب منظور قاضی صاحب، جناب عارف نقوی صاحب۔ آصف بھٹی۔ جاوید اقبال کیانی صاحب۔ اور پیاری سائرہ بتول ۔ ماریہ علی ۔ ثمرین ۔ اور بہت پیاری اورعزیز بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ اور
    عالمی اخبار کے قافلہ سالار محترم ومکرم جناب صفدررضا ھمدانی صاحب کو ساری امت مسلمہ کو جشن مولود کعبہ ابوالحسن ،خطیب منبر سلونی ۔وارث رسول، باب مدینہ العلم ۔ علی ابن ابی طالب بہت بہت مبارک ھو

    اقوال امیر المومنین۔

    جب تو کسی سے احسان کرے تو اس کو مخفی رکھہ اور جب کوئ تیرے ساتھہ احسان کرے تو اس کو ظاھر کر

    آدمی کی قابیلت اس کی زبان کے نیچیے پوشیدہ ھوتی ھے

    معافی نہایت اچھا انتقام ھے

    جاھلوں کی بات پر تحمل کرنا عقل کو زکوۃ دینا ھے

    گفتگو سے سمجھہ بوجھہ میں اضافہ ھوتاھے

    لیکن تنہائ وہ مدرسہ ھے جہاں پر عظیم ذھن بنتے ھیں

    مولاۓ کائنات حضرت علی ابن ابی طالب کا اسم مبارک اھل عرش کےلیے شمائیل

    لوح پر آپ کا نام قسوم

    رضوان کے نزدیک امین

    توریت میں ایلیاء

    انجیل میں بری

    عربی میں علی

    مشرکین کے نزدیک الموت الحمراء

    مومنین کے نزدیک سحاب الخیر

    والد کے نزدیک ظیہر

    ماں کے نزدیک اسد و حیدر

    پیغمبر اسلام کے نزدیک ناصرو مددگار

    ذات حیدر کو کوئ کیا جانے
    یا نبی جانے یا خدا جانے

  8. بہن نگہت قطعہ لگانے کا شکریہ الحمد للہ جو کہ اس کے بعد ایک منقبت کی صورت میں تبدیل ہو گیا ہے۔میں آجکل نیو یارک میں ہوں سات جولائی تک پھر ہیوسٹن جا ؤنگااور انشا اللہ اس کے بعد پندرہ جو لائی کو وینکور پہونچونگا۔یہاں کافون نمبر ہے 6313671266

  9. دل کی محفل کو سجاو یاعلی کہنے کے بعد

    منکروں کا دل جلاو یاعلی کہنے کے بعد

    ذکر اھل بیت سے روشن کرو دل کے چراغ
    محلفوں کو جگمگاو یا علی کہنے کے بعد

    فتنہ سازوں سے بچاۓ گا حصار پنجتن
    معرکوں میں فتح پاو یا علی کہنے کے بعد

    دار سے میثم کی آتی ھیں صدايئں آج بھی
    اپنی تقدیریں بناو یاعلی کہنے کے بعد

    مومنوں اور منکروں کا خود پتہ چل جاۓ گا
    چہرہ چہرہ آزماو یاعلی کہنے کے بعد

    اے مسلمانوں خدا کے واسطے ھوجاو ایک
    آگ نفرت کی بجھاو یا علی کہنے کے بعد

    ھیں قسیم النار و الجنہّ علی مرتضی
    خود کو دوزچ سے بچاو یا علی کہنے کے بعد

    بارگاہ رب میں ھونگی سب دعایئں مستجاب
    اپنے ھاتھوں کو اٹھاو یاعلی کہنے کے بعد

    مجلس و محفل کی زینت ھے ظفر نام علی
    ھر خوشی ھر غم مناو یا علی کہنے کے بعد

    ظفر عباس رضوی

  10. محترمہ بہن جناب نکہت صاحبہ، محترمہ بہن شاہین رضوی صاحبہ،
    جناب آغا ہمدانی صاحب، برادرِ محترم ظفر جعفری صاحب، برادرم مصباح شاہ صاحب !

    آپ سب کی محبتوں اور نوازشوں کا شکریہ، آپ کی حسنِ نظر اور پسندیدگی کا شکریہ، دیکھ لیجیے کہ میں نے مولا کا اسمِ مبارک لکھا تو اجر میں آپ جیسے مؤمنین و مؤمنات کی محبتوں اور شفقتوں کا حقدار بنا، آپ لوگوں کے یہ چند الفاظ ہی میری زندگی کی کمائی ہے، یہی وہ بیش بہا دولت ہے جس پر مجھے ناز ہے-

    میں اس نعمت پر اللہ تعالٰی کا جس قدر بھی شکر ادا کروں کم ہے، نکہت بہن نے تو ایسی باتیں کہہ دئیں کہ میرا دل بھر آیا، آغا ہمدانی صاحب بھی اس انداز سے داد دیتے ہیں کہ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، بس یہ سب کچھ تیرہ رجب ہی کی برکتیں کہ مجھے آپ مؤمنین کی دُعائیں حاصل ہو رہی ہیں اور منافقین پر دھوئیں کے بادل منڈلا رہے ہیں-

    اللہ تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر ہے

  11. یہ بھی تیرہ رجب کا معجزہ ہے کہ ہمارے بزرگ و سرپرست، یورپ میں اردو ادب کے پیشرو، شاعر اور ادیب جناب سّید عارف نقوی صاحب نے بھی اس بلاگ میں شمولیت اختیار کی

    ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں

  12. محترم صفدر بھائی، نگہت آپی ، عبدالمناف بھائی، مصباح بھائی، ظفر بھائی، شمس بھائی، شاہین آپی، منظور قاضی بھائی، عارف نقوی بھائی، آصف بھائی، جاوید
    کیانی بھائی، ماریہ علی اور ثمرین بخاری
    آپ سب کو اللہ تعالی اپنے پاک و پاکیزہ حبیب (ص) اور ان کی پاک آل(ع) کے صدقے میں اجرِ عظیم عطا فرماےء کہ آپ سب نے اس با برکت بلاگ میں حصہّ لیا.
    اور مجھ جیسے کم علم عاشقانِ محمد و آلِ محمد(ص) کے علم میں گراں قدر اضافہ کیا.
    اللہ آپ سب کو خوش رکھے
    آمین

  13. محترم صفدر ہمدانی صاحب! ماشااللہ علمی اخبار میں خاصا معیاری میٹرل شائع ہوتا ہے۔۔۔ میری اللہ کریم سے دعا ہے یہ دن دونی رات چوگنی ترقی کرے۔۔۔ آمیین۔۔۔
    فاطمہ زہرا جبین، ٹورنٹو، کینیڈا

  14. ہم محترمہ فاطمہ زہرا جبین کو اس محفل میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ امید ہے کہ انکی موجودگی اور تبصرے ہمیں سب کو مستفیض کرتے رہیں گے، اور وہ یہاں گاہے بگاہے اپنے تبصرے مرحمت کرتی رہیں گی، انشاء اللہ۔
    ناچیز
    ترجمان عالمی اخبار

  15. فاطمہ زہرا جبین جو بہت ہی اچھی افسانہ نگار اور شاعرہ ہیں .. ان کا یہ تعارف ہمارے لئے ایک اعزاز سہی .. لیکن ان کی ایک اور نسبت جو مجھے بے حد عزیز ہے اور وہ یہ کہ فاطمہ میری بہن دلشاد نسیم ( افسانہ نگار ، ناول نگار ، ڈرامہ رائیٹر اور شاعرہ ) اور میری دوست روبینہ فیصل (افسانہ نگار ، کالم نگار ، شاعرہ اور عالمی اخبار کی کینیڈا کی بیروچیف ) کی دوست بھی ہیں … جی آیاں نوں … میری بڑی خواہش تھی فاطمہ کہ تم (تمام نسبتوں کی وجہ سے ) اس بلاگ پر ضرور آؤ … تم نے میرا مان رکھا اس کے لئے ڈھیروں دعائیں … لیکن یہ کیا … ارے کچھ تحائف اشعار کی صورت ہی لے آتی … تو بات ہی کچھ اور ہوتی … .. اچھا سنو ہم سب نے ابھی سے انتظارشروع کر دیا ہے …
    خوش آمدید دوست .. تمہیں یہاں دیکھ کر تم سوچ نہیں سکتی کہ میں کتنی خوش ہوں … روبینہ کو سلام .. اسے کہنا کہ بہت دنوں سے غائب ہے … کیوں ؟

  16. معروف ادبی شخصیت فاطمہ جبین زھرا کو جشن مولود کعبہ کی مبارک باد اور خوش آمدید،

  17. اس بلاگ کو شروع کرتے وقت مجھے اپنے رب کریم پر مان تھا کہ وہ مجھے ضرور ہی سرخرو اور کامیاب فرمائیں گے اور میری دلی خواہش کو پورا فرمائیں گے کہ” کیوں نا اس بار صرف مدحت علی ع کی صورت صرف عبادت کی جائے اور باب العلم کا وہ علم ایک دوسرے کو تحفے میں دیا جائے جو ہم سب کی دنیا اور آخرت کو سنوار دے” … صد شکر کہ ایسا ہی ہوا ..
    میرے بہت ہی عزیز بہن بھائیو اس ضمن میں جو مجھ سے کسی کی دلشکنی ہوئی ہو تو مجھے رب کریم اور اس کے حبیب ص اور مولا علی ع کے صدقے معاف فرما دیجئے …

    میں آپ سب کی فردا فردا شکر گزار ہوں کہ آپ سب کی دن رات کی محنت اور محبت نے ہم سب کو کامیاب کیا اور آج اس بلاگ کی تاریخی حثیت محب علی ع کی روشن دلیل بن چکی ہے … اللہ کریم ہم سب کو اپنی پناہوں میں اخوت کی اکائی بنا کر رکھے ..

    تو مجھ سے ہے میں تجھ سے ہوں یا علی
    اخوت میں کس سے کروں یا علی
    ( 1834ء، مثنوی ناسخ، 71 )

    چونکہ اب یہ بلاگ اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے … میں اپنے بھائی سیدمصباح حسین جیلانی ٰ( ترجمان عالمی اخبار ، نگران بلاگ ، بیورو چیف سڈنی ) کی بے حد ممنون ہوں جن کی مساعی اور محبت کے بغیر اس بلاگ میں میری نظامت ادھوری تو کیا سرے سے ممکن ہی نہ تھی … رب دوجہاں کے حضورمصباح بھائی کے لئے ڈھیروں ڈھیر دعائیں ..

    اللہ پاک ہم سب کی محبتوں اور محنتوں کو قبول فرمائے .. آمین

    آپ سب سے درخواست ہے کہ اپنے اپنے اختتامی کلمات قلمبند کروا دیجئے پھر مصباح بھائی (نگراں بلاگ اور ترجمان عالمی اخبار) ، بھائی شمس جیلانی (معاون مدیر اعلی عالمی اخبار) اور بابا جی ( جناب صفدر ہمدانی ، مدیر اعلی عالمی اخبار ) کے اختتامی کلمات کے بعد اس بلاگ کو اللہ پاک کے حضور شکرانے کے ساتھ بند کر دیا جائےگا .. انشاللہ .

  18. اسلام وعلیکم

    آپ تمام خواتین و حضرات کا بے حد و حساب شکریہ کے آپ سب نے اس کارِ خیر میں شرکت فرما کر اس کی خوبصورتی میں اضافہ کیا اور مولا علی (ع) کے حضور اپنی اپنی عقدت کے پھول نچھارو کیے-
    خُدا کی ذات پاک پر کامل یقین کے بعد مُحبت ِ مُحمد و آلِ مُحمد (ص) ہی دین کا اصل اصولِ ہے اُس رب کا کس قدر کرم ہو گیا کے اُس نے اس بابرکت مہنے میں ہم سب پر اپنے کرم کی انتہا کر دی ہم سے وہ عمل کروایا جسے خُود راضی ہوتا ہے –

    یہاں پر آنے والوں کا اس بلاگ کو پڑھنے والوں کا اس میں حصہ لینے والوں کا ایک ایک کا بہت شکریہ یہاں پر آنے والے ہر ایک انسان پر خُدا کا فضل ہے تب ہی الله کے علی کے بارے میں کُچھ لکھنے کی جسارت کر سکے سب ہی خُدا کی قسم بغیر الله کی رضا کے کوئی اُس کی محبوب ہستوں کے بارے میں ایک لفظ رقم نہیں کر سکتا یا خُدا تیرا لاکھ لاکھ شُکر ہے –

    یہ بلاگ آپی نے شروع کیا تھا اُن کے سبب ہم سب نے یہ عظیم عمل انجام دیا خُدا سے دُعا ہے کہ آپی کو ہمشہ اپنی حفظ امان میں رکھے اور ان کو دنوں جہانوں میں مُحمد و آلِ مُحمد (ص) کی رضا اور خُشنودی صدا کے لیے حاصل ریے (الہی آمین)

    آپ سب کو بھی الله مولا اپنی امان کے سایے میں رکھے اور آپ تمام لوگوں پر رِدائے خاتونِ جنت کی سایہ تا حشر قاہم رہے (الہی آمین)

    خُوش رہیں شاد و آباد رہیں اور اپنی دُعا میں یاد رکھیں-

    الله اور آلِ نبی آپ کے ہمارے سب کے وارث

    یا علی یا علی

    طالبِ دُعا

    ثمرین بُخاری

  19. میں تہ دل سے اس بلاگ میں حصہ لینے والوں کی دعاوں پر آمین ثمہ آمین یارب العالمین کہتا ہوں ۔
    جزا ک اللہ :
    فقط:
    حضرت علی ( ع) اور اہل بیت کا ایک خاموش شیدائی ۔
    اور ایک سیدھا سادہ کلمہ گو مسلمان
    منظور قاضی
    از جرمنی

  20. ایک ضروری اور بروقت گذارش :
    اس بلاگ کو ہمیشہ کےلیےبند کرنےسے پہلے اگر اس بلاگ کے عنوان کو انگریزی میں بھی لکھدیا جائے( قابل اجمیری کے حالیہ بلاگ کے عنوان کی طرح ) تو ممکن ہے کہ کمپیوٹر کے سرچ انجنوں ( معلومات تلاش کرنے والے پروگراموں ) میں حضرت علی علیہ السلام کے بار ے میں کسی کو اگر تحقیق کرنا ہو تو اس بلاگ کو آسانی سے گوگل اور ویکی پیڈیا کے ذریعہ تلاش کرکے اس سے استفادہ کرسکے۔۔

    ۔۔۔۔۔
    فقط :
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  21. اس بلاگ میں حصہ لینے پر ہم تمام تمام خواتین و حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ رب کریم اس کار خیر شریک تمام افراد کیلئے آسانیاں پیدا فرمائے۔
    ایک بار پھر
    یہاں پر آنے والوں کا
    اس بلاگ کو پڑھنے والوں کا
    اس میں حصہ لینے والوں کا
    بہت بہت شکریہ
    اور ساتھ ہی ہم
    بھائی منظور قاضی کی
    تجویر کی تائید کرتے ہیں کہ
    اگر ممکن ہو تو اس تجویز پر عمل کرکے
    اس
    عظیم و شاندار
    بلاگ کو
    انگریزی قائرین کی
    دستیابی کیلئے
    ممکن بنایا جائے
    تاکہ اگر حضرت علی علیہ السلام کے
    بار ے میں کسی کو کوئی
    تحقیق کرنا ہو
    تو اس بلاگ کو
    آسانی سے گوگل اور ویکی پیڈیا
    کے ذریعہ تلاش کرکے
    اس سے استفادہ کرسکے۔۔

  22. ہمیں یہی سمجھا یا گیا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور تفرقے میں نا پڑو۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔ ؟

    میں بس اتنا جانتا ہوں کہ مولائے کائینات باب علم تھے اورپھر یہ سوچتا ہوں کہ جب علم کی میراث ہماری ہے تو ہمارے اعمال کیا ہوئے ؟

    اے ہمارے پاک پروردگار ہمیں اپنے حبیب کے صدقہ طفیل علم سے منور کر دے .آمین

  23. قبلہ جیلانی صاحب بزرگ تو ہیں ہی سہی، لیکن ان کی اصل خوبی یہ ہے کہ بات ایمان کی ہو تو تب ہم سے سبقت لے جاتے ہیں اور اگر بات ادب و نثر کی ہو تو ہم مات کھا جاتے ہیں۔ کیا خوبصور شعر کہا کہ
    وہ بابِ علم ہیں جن پر کمال ختم ہوا علی کے سامنے اوج و کمال کچھ بھی نہیں
    میرے نزدیک تو زمانے بھر کی تفریق کا جواب یہی ایک شعر ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ سبحان اللہ عما یصفون کہ خدائے پاک ان تمام صفات سے بھی بلند ہے جو اسکی تعریف میں جن و ملک اور بشر کہتے ہیں۔ اب اس علی العظیم کی بندہ پروری دیکھئیے کہ اپنے علی بندوں کو بھی ہم سے کمتروں کی تمام قصیدہ خوانیوں سے بلند رکھا ہے۔
    بس ایک بات یاد آگئی کہ کوفہ میں ایک شخص امام علی (ع) کا محب انکے پاس آیا کہ مولا میں نے چوری کی حد جاری کیجیئے۔ لوگ بڑے تجسس سے دیکھنے لگے کہ اب علی اپنے طرفدار سے کیا سلوک برتتا ہے۔ شرعی تقاضوں کے پورا ہونے کے بعد امام نے اس پر حد جاری کر دی اور اسکے ہاتھ کٹوا دئیے۔ جب ہاتھ کٹ گئے تو لوگوں نے ایک غلغلہ کھڑا کر دیا کہ علی کا طرفدار ہونے کا کیا فائدہ کہ وہ تو سب کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں نے آکر امام علی کو بتایا کہ جس شخص نے آپ سے خود پر حد جاری کی ہے وہ شہر کے ایک چوک میں کھڑا ہوا آپ کا قصیدہ پڑھ رہا ہے کہ میں اس کا پیرو کار ہوں جس نے حد شرعی جاری کر کےمجھے نار جہنم سے بچا لیا، اور لوگ اس پر طعن و تشنیع کر رہے ہیں۔ امام علیہ السلام نے اس شخص کو بلوایا اور اور اسکے کٹے ہاتھ منگوا کر اسکی کلائیوں سے جوڑ کر رکھے اور فرمایا کہ تونے حق ایمان پورا کردیا، لو اب ہم حق محبت پورا کئے دیتے ہیں اور امام نے اعجاز امامت سے اسکے ہاتھ جوڑ دئیے۔ تھوڑی دیر بعد شہر میں لوگوں نے دیکھا کہ وہی کٹے ہاتھوں والا امام علی چوک میں کھڑا امام کی پھر تعریف کر رہا ہے اور کہ رہا ہے کہ میرا امام وہ ہے جو نار جہنم سے بھی بچاتا ہے اور زمانے کی رسوائیوں سے بھی۔۔۔۔۔بس کیا تھا پھر لمحوں میں بھیڑ چھٹنے لگی۔

    اس واقعے کا مقصد یہ ہے امام علی کی شان میں کہنے کی قابلیت کے لئے مجھے ابھی طویل سفر کرنا ہے، جہاں خود اپنے خلاف گواہی دے سکوں، جہاں خوفِ عاقبت، منفعت حاضر پر سبقت لینے لگے، جہاں دل جھوٹ سے بیٹھنے لگے اور سچ کے عوض ہر سزا معمولی تکلیف سے بھی آسان لگے۔۔۔ اور جہاں زبان کٹوا کر بھی سنت میثم میں نماز عشق علی کی آذان دے سکوں۔ امام ہفتم علی ابن موسیٰ الرضا نے اپنے اصحاب سے فرمایا تھا کہ خود کو علی کا طرفدار(شیعہ) مت کہو کہ اس طرح تمہیں حسنین شریفین، سلمان، ابو ذر، مقداد اور میثم کے معیار پر آنا پڑے گا، جو تم نہیں ہو۔ بس خود کو محب کہ لو، یہی بڑا ہے۔ یعنی علی کے شیعوں کو مدینہ چھوڑ کو ربذہ جانا پڑ جاتا ہے یا کربلا میں مار دیا جاتا ہے۔ اتنی ہمت ہے تو دعویٰ کرو۔ ۔۔۔اور سچ یہ کہ محب ہونا بھی مجھ ایسے کے بس میں کہاں؟ اس لئے میں کیا اور کیا میری بساط کہ امام المتقین کی شان میں کچھ کہ سکوں۔
    رسول دوسرا نے کہا تھا کہ زینوا مجالسکم بذکر علی ابن ابیطالب۔۔۔سو نگہت بہن نے اس محفل کو یہ زینت بخش ڈالی اور ہمیں قراءت و سماعت کا موقع نصیب ہو گیا۔
    میں خوش قسمت ہوں کہ آج امام علی کے سچےمحبوں اور شیدائیوں کے مابین کھڑا انکی ادعیہ پا رہا ہوں۔ خداوند کریم آپ سب کی کوششوں اور عبادتوں کو قبول و منظور فرمائے اور دارین کی سعادتیں نصیب کرے۔ آمین اللھم آمین بجاہ محمد و آلہ المعصومین العالین۔

  24. اللہ کا شکر ہے جس نے بہن نگہت اور ہم سب محبان اہلِ بیت کو راستہ دکھایا اور عالمی اخبار اس قابل ہو سکا کہ یہ اپنی زندگی کا طویل ترین بلاگ پیش کر سکے۔ میں بھائی صفدر ھمدانی کی رہنما ئی اور ہمت اافزائی، بہن نگہت کی سعی جمیلہ اور بھائی مصباح جیلانی کی محنت کو سلام پیش کر تا ہوں اور دوسرے تمام بلاگ میں حصہ لینے والوں کو بھی۔ اللہ ہم سب کی کا وشوں کو قبول فر ما ئےاور اگلے سال پھر سب کو خراج ِ عقیدت پیش کرنےکا مو قعہ عطا فر ما ئے۔ آمین ۔کیونکہ اہل ِ بیت کسی فرقے اور گروہ کے نہیں، بلکہ انسان دوست ہونے کی وجہ سے پوری انسانیت کے ہیں۔آخر میںاس شعر کے ساتھ
    “ وہ بابِ علم ہیں جن پر کمال ختم ہوا علی کے سامنے اوج و کمال کچھ بھی نہیں

  25. نگہت بہن جب اس بلاگ کو شروع کیا تھا تو میں نے ایک قطعہ کہا تھا پھر اختتام پر ایک شعر بلاگ میں دیتے ہو ئے عرض کیا تھا کہ اب اسی زمین میں پوری منقبت ہو گئی ہے میری خوش قسمتی ہے کہ وہ شعر مصباح بھائی کو پسند آیا، بہت بہت شکریہ یہ آپکی محبت ہےجسکا تبصرہ غماز ہے، ورنہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں لہذا بطور سپاس میں یہ منقبت مصاح بھائی اور آپ کی نذر کرتاہوں اگرقبول فر مائیں۔
    علی علی ہیں۔۔۔ شمس جیلانی
    علی ، علی ہیں علی کی مثال کچھ بھی نہیں
    نہ ہوں وہ رہنما القا، وصال کچھ بھی نہیں
    علی تو پہلے تھے تخلیق جب ہوئی دنیا
    علی کے واسطے یہ ماہ وسال کچھ بھی نہیں
    وہ باب ِ علم ہیں جن پر کمال ختم ہوا
    علی کے سامنے اوج کمال کچھ بھی نہیں
    علی تونام ہے غلبے کا اور شجا عت کا
    علی ہوں ساتھ میں فکر ِ مآل کچھ بھی نہیں
    وہ کس کا ہاتھ تھا خیبر اکھاڑ پھینکا تھا!
    علی کے واسطے امر ِ محال کچھ بھی نہیں
    انہیں خبر تھی کہ سارا گنوائیں گے کنبہ
    وفورِ عشق میں ر نج وملال کچھ بھی نہیں
    نبی کے خیر خواہ ایسے کہ جان حاضر تھی
    ملے جو حکم تو پھر قیل وقال کچھ بھی نہیں
    نگہ فقیر ہو تو پھر نہیں ہے غیر جچے
    نگہ ِفقیر میں جاہ و جلال کچھ بھی نہیں
    بصیرتیں ہیں عطا اس کی شمس ہے چمکے
    ملے نہ روشنی ندرت ، خیال کچھ بھی نہیں

  26. دوستو ایسے بلاگ کبھی ختم نہیں ہوا کرتے۔بس ان میں وقفہ آتا ہے ۔ میں جتنا سوچتا ہوں اتنا ہی خود پر رشک کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایسے ساتھی ایسے احباب عطا کئے جن کے وصف مولا علی ع آ ج سے چودہ سو سال پہلے ہی بتا چکے ہیں ۔ مولائے متقیان ، مولائے کائینات ایک اچھے دوست کی تعریف یوں فرماتے ہیں کہ “ ایک دوست اپنے دوست کے ساتھ بھلائی کرے جب وہ مصیبت میں ہو ، اس کی پیٹھ پیچھے اور اس کے مرنے کے بعد “

    اس وقت یہ اختتامی کلمات لکھتے ہوئے میری آنکھیں اشکبار ہیں کہ اللہ تعالی نے مجھے اپنے حبیب اور آل حبیب کے صدقے ایسے ہی رفقاء عطاکئے ہیں ۔ خدا گواہ ہے مجھے اب مرنے سے ڈر نہیں لگتا کہ میں اپنے پیچھے ایسے احباب چھوڑ جاؤنگا جنہوں نے میری مدد کی جب میں مشکل میں تھا ، مجھے عزت دی جب میں ان کے درمیاں نہیں تھا ، مجھے دعا دی جب ان کا گواہ صرف اللہ پاک تھا اور میرا مان ہے کہ انشاللہ مرنے کے بعد بھی میں ان کی دعاؤں میں رہونگا ۔

    میں اس بلاگ میں اپنے ایک ایک دوست اور ساتھی کا نام لیکر لکھنا چاہتا تھا لیکن پھر سوچا کہیں اس طرح افراد اول نہ ہو جائیں اور یہ لافانی کام جس کے لئے ہم سب جمع ہوئے وہ پیچھے نہ رہ جائے ۔سو میں بھی آپ سب کے ساتھ مل کر اس عبادت کے معستجاب ہونے کی دعا کرتا ہوں ۔

    دوستو مجھے فخر ہے آپ سب کی مساعی پر ، مجھے فخر ہے محبان علی کے درمیان ہونے پر ، مجھے فخر ہے اپنے رفقاء پر ، اور اس وقت بس مجھے آپ سبکی محبتوں کا شکریہ ادا کرنا ہے اور اس بلاگ کو شروع کرنے والے فرد سے لیکر اختتام کرنے والے تک ایک ایک قاری کے لیئے بس یہی دعا کرنی ہے کہ مولائے کائنات ہمارا سینہ علم کے نور سے منور کر دے ۔اور ہم نے مدحت علی میں جو جو لکھا وہ حروف و الفاظ روز محشر ہماری شفاعت کا موجب بنیں ۔
    آمین ثم آمین

Comments are closed.