اے قائد اعظم تیرا احسان ہے ۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کاایک اہم مضمون آپ سب کی بار گاہ فکر میں

اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان۔از،نگہت نسیم
انسانی نفسیات ہے کہ جب کوئی بات یا واقعہ حد درجہ تکلیف دہ رونما ہو جائے تو ایسے میں یا تو منہہ سے جو الفاظ نکلتے ہیں وہ قابل تحریر اور قابل اشاعت نہیں ہوتے اور یا پھر الفاظ جیسے کھو جاتے ہیں اور تلاش بسیار کے باوجود ایسا کوئی سرا نہیں ملتا کہ بات کہاں سے شروع کی جائے۔

میری کیفیت بھی گزشتہ کئی گھنٹوں سے ایسی ہی ہے اور اب جو میں نے خود کو سنبھالا تو خالق قلم سے ہی مدد طلب کی ہے کہ جس موضوع پر لکھنا چاہ رہی ہوں اسمیں مجھے وہ عدل کی توفیق دے کہ میں اس میں اپنی ذاتی تکلیف اور رنجش شامل نہ کرؤں اور جو کچھ بھی لکھوں کسی تعصب یا کسی طرفداری کے بغیر حق سچ کو پیمانہ اور معیار بنا کر لکھوں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ کہ اگراس موضوع پر لکھتے ہوئے میں نے اپنی تکلیف اور رنج کو شامل کر لیا تو بہت ممکن ہے کہ یہ تحریر اس سے بھی زیادہ تلخ ہو جائے جتنی ابھی اس صورت میں ہے۔

بقیہ یہاں پڑھئیے

21 thoughts on “اے قائد اعظم تیرا احسان ہے ۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کاایک اہم مضمون آپ سب کی بار گاہ فکر میں”

  1. یہ کوئی پہلی مرتبہ اس خاندان کے ساتھ نہیں ہوا کہ زبان پھسلی ہو۔ یادش بخیر لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ستر کے عشرے کے اوائل میں ٹی وی پر بڑے بھٹو صاھب کی تقریر لائیو نشر ہو رہی تھی کہ وہ یوں گویا ہوئے کہ ‘‘ لوگ کہتے ہیں کہ میں شراب پیتا ہوں، ہاں ہاں پیتا ہوں مگر بہت تھوڑی‘‘ اس کے فوری بعد بھٹو صاحب کو خیال آیا کہ وہ کیا کہہ گئے۔ لیکن یہ بھول گئے کہ تقریر لائیو یعنی براہ راست نشر ہو رہی ہے۔ اسی بھول پن میں کہنے لگے کہ ‘‘ اس فقرے کو کاٹ دینا‘‘۔ لیجئے فقرہ تو اب فضا بلکہ خلا کی ملکیت ہو چکا تھا اب کون، کیسے اور کہاں سے اس فقرے کا کاٹتا۔
    آصف زرداری نے اور کچھ کیا یا نہیں کم از کم بڑے بھٹو کا داماد ہونے کا حق ادا کر دیا۔

    واہ واہ واہ۔ یہ بات وہی قلم لکھے گا جسے سوائے خوف خدا کے اور کوئی خوف نہ ہو۔ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا ٹریک ریکارڈ یہی ہے۔اللہ انکے قلم کو اور فکر کو سدا اسی طرح جوان رکھے۔آمین

  2. بابا آپ نے درست فرمایا
    بالکل ایسا ہے
    یہ اس خاندان کی روایت ہے
    کہ سوچنے سے پہلے بولتے ہیں
    اور پھر بول کر سوچتے ہیں
    ان کو یہ بھی احساس نہیں کہ ادب آداب رویات اور معاشرتی
    تقاضے کیا ہوتے ہیں
    اور
    ذات منصب اور مقام کی ذمی داری کیا ہوتی ہے
    درحقیقت یہ ہمارے وہ حکمران ہیں
    جو اپنی کوشش محنت
    اور
    قربانی کی وجہ
    سے نہیں
    بلکہ
    ایک حادثے
    کے نتیجے
    میں
    قوم پر مسلط
    ہوگئے
    اب ایسی
    صورت
    میں ان سے
    اور کیا
    امید کی جاسکتی ہے
    ہمارا نصیب
    بدقسمتی
    ان کا کردار
    صرف
    شرم شرم شرم شرم شرم اور شرم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔

  3. نگہت بہن

    آپ کس منہ سے قائد اعظم کی دفاع کرہی ہیں۔ جتنی اصلی ڈگریاں بھٹو اور بے نظیر کے پاس ھیں اتنی نہ قائدِ اعظم کے پاس تھیں نہ پیغمبروں کے۔ بھٹو فیملی قائدِ اعظم کے پاکستان کو آسمان سے زمین پر لے آئ اور پاکستان کو انہوں نے اُس مقام پر بہنچادیا کہ اب پاکستان کے دس فیصد سے زیادہ لوگ پیٹ بھر کر کھانا کھارہے ہیں۔ یہ سب بھٹو فیملی کا طفیل ہے۔ زرداری کے پاس لے دے کر ڈیڑھ ارب ڈولرز ہیں۔ یہ بھی ہرایک کو کھَل رہا ہے۔ واویلا سد واویلا۔

  4. پیاری نہن نگہت
    میں نے بھی جب سے یہ بات سنی سخت ازیت کا شکار ہوں ۔مگر میری بھن شکر ہے کہ میڈیا نے اب ہم پر ان سب کو بہت اچھی طرح آشکارا کر دیا ہے کہ جو آُس کے نہیں جس نے آزاد ملک اللہ کی مدد سے سیا یہ تمہارے ہمارے یا عوام کے کیا ہمدرد ہونگے ۔بس انہوں نے کچھ چیلے پال لئے ہیں جو مکرر مکرر کرتے رہتے ہیں یا ان کی باتوں کی تشریح ۔
    یہاں ایک سخت بات کرنے کی جسارت کر رہی ہوں امید کہ کوئی برا نہیں مانے گا کہ ان تمام باتوں کے بعد بھی جب ووٹ دینے کا وقت آئیگا تو میرے معصوم عوام پھر ان ہی جیسوں کو کرسیوں پر بٹھا دینگے ۔تو سب سے پہلے ہم سب کو سنبھلنا ہوگا کہ ہم اب اپنے قلم سے بجائے انہیں سنوارنے کے عوام کی بات کریں اسے تیار کریں کہ خدا را اپنے لئے سوچو اور آئندہ ایسے لوگ چن لو جو کم از کم احسان ماننے والے تو ہوں ۔
    یہ دکھ ہم جیسوں کا ہے جو اپنے ملک سے کروڑوں میل دور بیٹھ کر بھی اپنے ملک کی بھلائی اور عزت کے بارے میں سوچتے ہیں ۔اور ان لوگوں سے توقع رکھتے ہیں جن کی ہر بات جعلی ہے ،ہر سوچ جعلی ہے ہر قدم جعلی ہے اور ہر ادا بھی شاید جعلی ہے ۔
    بس اللہ ہمیں آئندہ جعلسازوں سے بچا لے ۔

  5. بہن نگہت بہت ہی اچھا لکھا ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
    باتوں کے دوران ایک بہت ہی مزیدار بات سننے کو ملی جو تم سے بانٹنا چاہتی ہوں ۔
    کہ ہوسکتا ہے ہمارے محترم کو یہ ہی نہ پتہ ہو کہ گریجویشن لا سے پہلے کیا جاتا ہے یا بعد ۔
    میرے خیال سے یہ ہی غلط فہمی ہو گئی۔ ۔

  6. آپا …ہاہاہاہا … ہمارے صدر محترم کو یہ ہی نہ پتہ ہو کہ گریجویشن لا سے پہلے کیا جاتا ہے یا بعد … آپا صدر کی تعلیم ہی اتنی ہے کہ وہ یہ فرق نہیں جان سکتے …

  7. ظفر بھائی …. او مائی گوڈ بھائی واویلا سد واویلا…. چلئے آیئے مل کر مچاتے ہیں واویلا..

  8. شکریہ بابا جی — بس آپ ہی سے سیکھتے ہیں .. آپ ہی سے داد پاتےہیں .. اور اس اعزاز پر اتراتے رہتے ہیں .. سلامت رہیں … آپ کا سایہ مہرباں تاحیات ہمارے سروں پہ رہے .. آمین

  9. مصباح بھائی آپ نے یہ کالم یہاں لگا کر مجھے نیا حوصلہ دیا ہے .. …. میں تو لکھ کر دل میں رو پیٹ کر سو گئی تھی … بھائی غم بانٹنے سے کم ہونے لگا ہے … اس کے لئے میں آپ کی احسانمند ہوں …

  10. احمد بھائی میں آپ سے متفق ہوں لیکن اب بہت ہو چکی .. آپ ہمیں بتائیں کہ پاکستان کی رائے عامہ اس بات پر کیا کہتی ہے .. آپ کیوں نہیں ایک رپورٹ تیار کرتے جس میں سب سے پوچھیں کہ زرداری کےاس بیان پر ان کی کیا رائے ہے … اور کیا ایسے احسان فراموش اور جاہل مطلق کو ہمارا صدر ہونا چاہئے ….؟

  11. میں رات سے اپنے تبصرے کو روک کر بیٹھا تھا، لیکن اب نہیں رہا جا رہا تو لکھ ہی رہا ہوں۔۔۔۔بھئی یہ جو زرداری صاحب نے قائد کو انڈر گریجویٹ کہا ہے، یہ انکی توہین نہیں بلکہ خود کو انکے برابر لانے کی کوشش ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ایک طبقہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان پڑھ اس لئے کہتا ہے کہ اپنی جہالت چھپا لے۔ لوگوں نے آج کے سیاہ سات داندوں کا قائد کے ساتھ موازنہ کرنا شروع کر دیا تو مجھے امام علی علیہ السلام کا وہ فرمان یاد آ گیا کہ جب فرمایا کہ میری اس بڑھ کر توہین کیا ہوگی کہ لوگ میرا ذکر بھی وہاں کرتے ہیں جہاں معاویہ ابن ابی سفیان کی بات ہوتی ہے۔
    لیکن جناب دیکھئیے کہ آگے آگے ہمیں کیا حوادث دیکھنا پڑتے ہیں۔ ۔۔۔ابھی قوم قائد کی توہین کا سوچ رہی تھی ادھر اپنے خون کے نالے پر بند باندھنے کی فکر پڑ گئی۔ اب کون سوچے گا کہ قائد کو کس نے کیا کہاَ اب تو کوئی اپنا ہاتھ ڈھونڈتا ہوگا اور کوئی آنکھ۔ کسی کی آنکھ ہے تو نور نظر نہیں اور اگر نور نظر ہے تو پھر دست و پا میں اتنی ہمت کہاں کہ لاشوں کے اس سیلاب کو پار کر سکیں۔ اب کون روئے زرداری کو اور قائد کی توہین کو، جب کہ سانس لینا بھی سزا لگتا ہے۔۔۔۔
    نگہت بہن آپکا کالم انتہائی بر وقت اور حقائق سے تعبیر تحریر تھا اس لئے جی چاہا کہ سب کو موقع دیا جائے کہ اس پر اپنا اپنا اظہار خیال بھی کریں۔ خدا آپ کے عزم ِ صداقت کو مزید بھی قوت عطا فرمائے اور آپ کے قلم کا نشتر یونہی خیر کو بدی سے جدا کرتا رہئ۔ آمین۔

  12. آپ نے جو لکھا ہے واقعی اس سےبھی زیادہ تلخ تحریر ہوسکتی تھی کیونکہ کوئی ذمہ دار کرسی پر بیٹھ کر ایسی باتیں اسی وقت کر سکتا ہے جب اسے خود اپنے منصب اور اس کرسی کی اہمیت کا اندزہ نہ ہو۔ تقسیم کے بعد مسلمانوں کے لیے یہ ایک نیا مژدہ تھا کہ پاکستان ایک طاقتور مسلم ملک بن کر ابھرے گا اور ایک مثالی ریاست بنکر پورے خطے میں دوسروں کے لیے باعث عبرت ہوگا ۔ لیکن افسو س یہ ہےکہ ایسے نا اہل سیاست داں پاکستان کی تقدیر بن گئے ۔ قائد اعظم کے بعد سچائی یہ ہے کہ اس وراثت کو سمجھنے، سنبھالنے اور آگے بڑھانےواالا کوئی سیاست داں نہیں مل سکا۔ اگر قائد اعظم کی وراثت کو پاکسا ن کے اہل دانش اور اہل سیاست نے سنبھالا ہوتا تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔ ایسے زردار ، وڈیرے اور دولت کے پجاریوں نےاس ملک کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا ہے جو کسی بھی طور پر اس منصب صدارت اور وزارت پر بیٹھنے کے لائق نہیں تھے۔ عوامی سطح پر لوگ اس وراثت کو آج بھی سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ مگر سیاستدانوں کے آگے سر نگوں ہیں ۔ کاش یہ حالت بدل جائے تو ایسے زرداروٕ ں کی نہ تو زبان پھسلے گی اور نہ ہی ملک کوان کی وجہ سے شرمسار ہونا پڑے گانہ ہی ملک تنزلی کا شکار ہوگا۔

  13. السلام و علیکم ڈاکٹر صاحبہ

    میں آپ کے کالمز بہت پابندی سے پڑھتا ہوں ۔ حسب سابق آپ کا یہ کالم ہر لحاظ سے تازہ اور مکمل ہے ۔ بس ایک کمی تھی کہ آپ نے یہ نہیں لکھا کہ صدر زرداری جو بینظیر کے زمانے میں مسٹر 10% پرسنٹ تھا اب صدر بن کر اب مسٹر ففٹی پرسنٹ ہو گیا ہے ۔ پاکستان میں کوئی انڈسٹری ، کوئی کاروبار کرنا ہو سب سے پہلے یہ کہا جاتا ہے کہ ففتی پرسنٹ تو صدر کا ہوا اور باقی اتنے لوگ ہیں بیچ میں کہ ہمیں صرف دو پرسنٹ ہی ہاتھ آئےگا ۔

    آپ دل برا نہ کریں صدر زرداری اپنے پیٹ سے آگے نہیں دیکھ سکتے ۔بھلا انہیں پاکستان اور قائد اعظم سے کیا لینا دینا ۔ رونا ہے تو مل کر عوام سمیت خود پر اور اپنی عقلوں پر مل روتے ہیں جو ہر بار انہیں ووٹ دینے جاتے ہیں اور ہم جیسے لوگ رائے عامہ ہموار نہیں کر پاتے ۔
    کاش ایسا ہو کہ اس بار کوئی امیر غریب ووٹ ہی نہ ڈالنے جائے ۔ جب وہاں کوئی بندہ ہی نہ ہو گا تو جعلی ووٹ کے لئے کن کو کھڑ اکریں گے ۔ یہ میں اس لئے کہہ رہاہوں کہ جب ووٹ باشعور نہیں ڈالنے جاتا تو معصوم اور انپڑھ کیوں جائیں ۔

    مجھے تو یہ سارا قصور ہی پڑھے لکھے طبقوں کا لگتا ہے جو وقت آنے پر چھٹی کا مزہ لینے کے لئے ووٹ ڈالنے کی بجائے لمبی تان کر سو جاتے ہیں ۔پھر لمبی لمبی تقریریں اور کالمز لکھتے ہیں کہ عوام باشعور کب ہونگے ۔ خدا جانے کون کب باشعور ہو گا ۔ میں تو ایک بات جانتا ہوں کہ ہم سب کو اپنی اپنی زمہ داریوں کو نہ صرف پہچاننا ہو گا بلکہ اپنے اپنے قصور اپنے کھاتوں میں لکھنے اور ماننے بھی ہونگے اور مل کر باشعور ہونا پڑے گا ۔
    فتح باز خان ۔کیلگری ۔کینیڈا

  14. مشہور کالم نگار اور صحآفی سیالکوٹ اخبار جناب طارق چغتائی سیالکوٹ سے لکھتے ہیں نگہت صاحبہ آپ کا کالم پڑھا ہے ۔ آپ جیسے اچھے انسان اپنا حق ادا کرتے ہیں ۔کاش اللہ تعالی ہمیں معاف فرمائے اور ان جیسے حکمرانوں سے چھٹکارا عطا فرمائے ۔ یقین جانئے جس طرح قائد کی توہین کی گئی ہے اسی طرح شائد کسی دن کرنسی نوٹ پر قائد کی تصویر کی بجائے عوامی صدر زرداری کی تصویر ضروری قرار دے دی جائے گی ۔

    طارق بھائی آپ کے تبصرے کا بہت بہت شکریہ .. اورعالمی اخبارکی بلاگ فیملی میں آپ کی باقائدہ شمولیت کا انتظار رہے گا .

  15. عالم آرا وینکور
    بہن نگہت کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کمان سے نکلا تیر اور زبان سے نکلی بات واپس نہیں ہوتے ۔مگر آپ سیکھیں کہ ہم یہ کرشمہ بھی اس دور میں بہت دفعہ دیکھ چکے ہیں کہ ان کے گر گے کہتے ہیں کہ جو کچھ تم نے سنا وہ اس طرح کہا ہی نہیں گیا ۔اور ہم اپنی سماعت اور بصارت دونوں کو کوستے رہ جاتے ہیں کہ ہم کیسے کم عقل ہیں کہ ان کی بات نہ سمجھ پائے ۔اور آج کل تو زبانیں اس طرح پھسل رہی ہیں کہ اللہ محفوظ رکھے ۔
    میرے تمام ہم وظنوں کا اللہ حامی و ناصر ہو اور ہم سب کو قلم سے جنگ کی ہمت عظا کرتا رہے کہ اصل طاقت یہ ہی ہے ۔
    ھمدانی بھائی کی لمبی زندگی کے لئے دعا گو ہیں ۔اللہ انہیں اس کار خیر کے لئے اجر عظیم عطا فرمائے کہ انہوں نے قلم کے مجاہدوں کو بلا تفریق جمع کیا ہے

  16. عالم آرا جی. یہ سب رونق تو آپ جیسے احباب کی وجہ سے ہے اور ممنون تو مجھے آپ سب کا ہونا چاہیئے کہ آپ اپنا وقت دیتے ہیں.وقت جسکی کوئی قیمت ادا ہی نہیں کر سکتا

  17. میرے پاس تو لفظ ھی نیہں ھوتے ھیں اپنی عزیز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم کی تعریف کے لیے ۔ اللہ پاک ان کو سلامت رکھے ۔ انکا قلم انکی ڈھال بھی ھے اور تلوار بھی ھے

    ابھی میں کسی دوست سے بات کر رھی تھی اس نے کہا کہ زرداری نے بعدازمرگ اپنا پورا جسم عطیہ کرنے کا اعلان کیاھے

    میرے منہ سے بے ساختہ نکلا یعنی چمڑی جاۓ دمڑی نہ جاۓ

  18. ڈاکٹر صاحبہ ۔ آپ دیکھیئے کہ ہمارے تمام پارلمنٹیررین ماشااللہ سب کے سب بہت تعلیم یافتہ ہیں۔ جناب ڈاکٹر صاحبہ روزانہ دو تین ممبران کی تمام اسناد جعلی ثابت ہوررہی ہیں

  19. طارق بھائی خوش آمدید .. آپ کے تبصرے بہت ہی جاندار ہوتے ہیں … بلاگ فیملی میں شامل ہونے پر ہم سب کی طرف سے ایک بار پھر خوش آمدید .. آپ کے مضامین ، کالمز، گراں قدرتبصروں اور رپورٹس کا شدت سے انتظار رہے گا … سلامت رہیں بھائی آپ نے یہاں آ کر نہ صرف میرے کہے کو مان دیا بلکہ ہم سب کی عزت بڑھائی ہے .. اللہ کریم آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے ..آمین

  20. سب کے سب چور ہیں یہ لوگ۔ملک کے لیئے کچھ نہیں کر سکتے۔انکی تو خود ڈگریاں جعلی ہیں اور یہ پڑھے لکھے بھی نہیں۔

  21. محترم ڈاکٹر صاحبہ یہ آپ کی ذرا نوازی ہے کہ آپ نے ناچیز بندہ کو اپنے پلیٹ فارم سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع بخشا میں آپ اور آپکی ٹیم کا شکر گزار ہوں اور کوشش کرونگا کہ جو کچھ لکھوں ایمانداری اور سچھ دل لکھوں اور کسی کی دل آزاری نہ کروں ۔اور میری پہلی کوشش ہوگئی اگرکسی مسلہئ کو تنقید برائے تنقید نہ سمجھ کر لکھوں۔ بلکہ تنقید برائے اصلاح اور عرض گزارش پیش کرسکوں۔ میں پھر آپ کا ایک بار شکریہ ادا کرتاہوں کہ آپ نے میری حوصلہ افزائی کی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *