بہت شکریہ

عالمی اخبارمیں بلاگ لکھنے کی اجازت ملی ۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے ۔ اس اعتراف کے ساتھ کہ قد آور دوستوں کی محفل میں کچھ سیکھنے اور لکھنے کا سلیقہ اور حوصلہ ملے گا۔

12 thoughts on “بہت شکریہ”

  1. مبارک سلامت بھائی .. ارے یہ کیا کہہ دیا آپ نے کہ اجازت ملی .. بھائی یہ اخبار آپ کا ہی ہے …اور یہ بھی کہ آپ کے بغیر عالمی اخبار ادھورا ہے اور ادھورا رہے گا ..
    ہمیں بھی آپ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا …. یہ ہمارے لئے بھی اعزاز ہے کہ ہمارے درمیاں آپ جیسی قد آور شخصیت موجود ہے جنہوں نے اس جگہ اردو کی بستی بسا رکھی ہے جہاں ھندی کی شمعیں جلتی ہیں . آپ کے کریڈٹ پر کئی جاندار کالمز اور کئی سفرنامے ہیں . اس کے علاوہ اردو زبان کی تعلیم، مسائل ، طریق کار اور تجاویز پر تدریس اکرام بھائی کے خاص موضوعات ہیں جن پر آپ کو دسترس حاصل ہے … درس و تدریس اس لئے بھی کہ اکرام بھائی نئی دہلی کی ایک یونیورسٹی میں ایسوسیٹ پروفیسر کی خدمات انجام دے رہے ہیں .

    جی آیاں نوںبھائی .. آپ کے آنے سے ہمارے حوصلے اور بھی بلند ہوئے ہیں … اللہ کریم آپ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے ..آمین

  2. اھلا و سھلا مرحبا۔ ہم دل و جان سے آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور آپ کی فکر سے مستفیض ہونے کو بے تاب ہیں۔ امید ہے کہ آپکی تحریریں ہم سب کے لئے فکر کی نمو کا موجب بنیں گی، انشاء اللہ۔

  3. اے آمدنت باعثِ آبادی ء ما
    ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کی عالمی اخبار کےبلاگوں کی محفل میں تشریف آوری ہم سب کے علم میں اضافہ کرسکتی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کے اردو ادب اور شاعری پر بلاگوں کےپڑھنے کی تمنا ہے۔

    اس وقت اگر وہ محسن بھوپالی مرحوم کے موجودہ بلاگ پر نظرِ کرم کرکے اپنے ارشادات اُس بلاگ میں شامل کریدیں تو اُس بلا گ کی رونق میں کافی اضافہ ہوگا۔

    ۔۔۔۔۔

  4. ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب خوش آمدید۔آپکا بلاگ کی دنیا میں آنا کوئی نئی بات نہیں یہ تو ہماری بدقسمتی ہے کہ آپ قدرے تاخیر سے ائے ۔اسمیں کچھ ہماری تساہلی ہے اور کچھ آپ کے اسفار اور مصروفیت۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ جیسے صاحب فکر اور مدلل میانہ رو صاحب فکر کی آمد بلاگ کو مزید تقویت دے گی، مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اس مختصر کاروان میں شامل احباب راسخ فکر لوگ ہیں اور مختلف ممالک،مخلتف خیالات۔مختلف مسالک،مختلف زبانوں،مختلف ماحول میں ہونے کے باوجود ایک ہی ھدف کے متلاشی ہیں۔ اس بلاگ کا یہی کمال ہے کہ اختلافات کا الگ زاویہ نگاہ ہی اتحاد اتفاق کا زینہ ہے۔
    ایک بار پھر اس فقیر کی مبارکباد قبول کیجئے

  5. خواجہ اکرم صاحب خوش آمدید ۔ امید ہے کہ آپ کے بلاگ میں آنے سے یہ محفل بھی جگ مگا ئے گی ۔اس فقیر معاون کی طرف سے بھی مبارک باد قبول فر ما ئے۔

  6. ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب خوش آمدید۔
    ہم آپ کے بلاگ کے منتظر رہیں گے

  7. خوش آمدید ، خوش آمدید ، خواجہ اکرم صاحب ! خوش آمدید

  8. خواجہ اکرام صاحب سے ایک اور استدعا ہے کہ وہ اپنے پسند کے موضوعات پر بلاگ لکھنے کے علاوہ ہوسکے تو ہندوستان میں اردو کی ترویج اور اردو فانٹ کی مقبولیت اور تعلیم کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ لکھا کریں اور ساتھ ہی ساتھ ( ہندوستان میں )اردو کے ابھرتے ہوئے شعرا اور شاعرات کے بارے میں بھی عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کو بتاتے رہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ماضی میں امریکہ میں کافی عرصہ رہچکا ہوں وہاں پر آئے دن ہندوستان کے اردو شعرا کا آنا جانا رہتا تھا۔ ان میں وسیم بریلوی ، منظر بھوپالی کے علاوہ حیدرآباد دکن (انڈیا ) کے مزاحیہ شاعر خواہ مخواہ بھی مشاعروں میں شریک ہوکر محفلوں کو اپنے کلام سے لالہ زار بنایا کرتے تھے۔ ( یہ تو ماضی کی بات ہے )
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آج کل ہندوستان میں اور بھی بہت سارے اچھے اچھے ابھرتے ہوئے شعرا اور شاعرات بھی موجود ہیں جن کو مشاعروں میں پڑھتے ہوئے میں یو ٹیوب کے ذریعہ دیکھا کرتاہوں ۔ ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب چونکہ اردو کی ایک مستند ہستی ہیں اور نیو دہلی یونیورسٹی کے اسوسیٹ پروفیسر بھی ہیں اس لیے یقینی طور پر وہ ہندوستان میں اردو شاعری اور ادب کی اور خاص طور پر اردو فانٹ ( رسم الخط ) کی بقا اور ترقی اور ترویج کے موضوعات پر بہت کچھ ہم سب کو بتا سکتے ہیں ۔

    سناگیا ہے کہ جان نثار اختر مرحوم کے بیٹے جاوید اختر کو اردو رسم الخط میںاردو لکھنے کی مشق نہیں اس لیے وہ دیوناگری میں ہی اپنی اردو شاعری لکھا کرتے ہیں ۔اس کےعلاوہ بہت سارے ہندو شعرا اردو شاعری بھی دیوناگری رسم الخط میں یا رومن میں لکھتے ہیں ۔

    اس موضوع پر بھی خواجہ اکرام صاحب روشنی ڈال سکتےہیں۔ اور یہ بھی لکھ سکتے ہیں کہ کیا وہ اپنی یونیورسٹی میں یونی کوڈ اردو فانٹ کی ترویج کررہے ہیں ؟
    ۔۔۔۔۔
    ویسے وہ چاہیں تو سیا سیات ، معاشیات ،عمرانیات اور بین الاقوامی تعلقات وغیر ہ وغیرہ پر بھی بہت کچھ لکھ سکتے ہیں۔ مگر اردو کی بات ہی الگ ہے۔ اور اگر وہ لکھنا چاہیں تو ہندوستان میں ریختہ اور اردو کی تاریخ اور پھر اساتذہ کی شاعری اور ادب اور پھر ترقی پسند ادب اور شاعری کی ابتدا اور انتہا اور اختتام پر بھی بہت کچھ لکھ سکتے ہیں ۔

    یہ بھی لکھ سکتے ہیں کہ کیا ہائیکو اور ثلاثی جیسی اصناف بھی ہندوستان کے اردو شعرا میں مقبول ہوئی ہیں ؟

    اس کے علاوہ کیا آزاد نظم اور نثری نظم جیسی اصناف بھی ہندوستان کے اردو شعرا کے مقبول اصناف ہیں ؟ یا وہ سب صرف روایتی “عروضی “ شاعری ہی کرتے ہیں ؟

    خواجہ اکرام صاحب یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ کیا ہندوستان کے اردو شعرا اور شاعرات کےاشعار میں شاعری کی مختلف “ صنعتوں “ کے استعمال کی کوشش بھی جاری ہے؟

    بہرکیف:
    علم کا خواہاں
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  9. میں بے حد و حساب ممنون ہوں کہ احباب نے اس طرح استقبال کیا ۔ انشا ءاللہ کوشش رہے گی کہ ہندستان کے تہذیبی ، تاریخی اور تعلیمی حوالوں سے قارئین کو کچھ نئی معلومات فراہم کر سکوں۔

  10. اسلام وعلیکم

    آپ کا بلاگ کی دنیا میں آنا ہمارے لیے خوشی کا مقام ہے پوری اُمید ہے کے ہر قدم آپ سے بہت کُچھ سکھنے کو ملتارہے گا باحُکمِ خُدا ۔۔۔

    خوش آمدید سر

    خُدا حافظ و ناصر

  11. جناب ڈاکٹر خواجہ اکرام کو بہت بہت خوش آمدید۔

    دونوں مللکوں کے شاعر ،ادیب دانشور عالم مل کر سیاسی تلخیوں کو کم کرسکتے ھیں اور امن وامان کو فروغ دے سکتے ھیں

    آپکی ادبی صحبت سے مجھہ جیسے کم فہم تلمیذ بھی استفادہ کرنیگے

  12. بہت شکریہ ثمرین بخاری، شاہین رضوی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *