پنجاب ہائ کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف نے فرمایا
میرے لئے دو ہی ہستیاں ہیں ۔ آسمان پر اللہ تعالیٰٰ ہے اور زمین پر شہباز شریف۔
میری نواز شریف سے 37 سال سے دوستی ہے۔ جج تو میں صرف 20 سال پہلے بنا ہوں۔
میں دوستوں کی تقلید میں آخر وقت تک ساتھ دیتا ہوں۔ چھوڑ کر نہیں بھاگتا
مجھ پر ایک تو اللہ تعلیٰٰٰ کا احسان ہے دوسرے شہباز شریف کا
تختِ لاہور پر تنقید نہیں ہونی چاہئے
پپلز پارٹی کو رانا مقبول پر اعترض ہے تو پنجاب حکومت کو چھوڑدے
جرنلسٹ عرفان صدیقی نے خواجہ شریف کی ساری کتابیں بازار سے خرید کر غائب کروادیں
جرنلسٹ عرفان صدیقی کے لئے مشہور ہے کہ وہ نواز شریف سے تنخواہ لیتے ہیں۔

توبہ توبہ —- استغفار .. اللہ ہمیں اس دلدل سے نکالے .. میرا تو دل ہی خراب ہو جاتا ہے یہ سب سن کر ..دیکھ کر .. لوگ ایسے اپنی زبان سے پہچانے جاتے ہیں .. بس یہ سب ہمارے گناہوں کا عذاب ہے جو ان ” سیاسی عالموں ” کے درمیان رہ کر جی رہے ہیں …
جسٹس شریف نے کہ دیا تو کیا ہوا، باقی سب کر کے دکھا رہے ہیں۔ میاں صاحب نے اپنی ایک سابقہ حکومت بھی دیرینہ مراسم کے صدقے ہی بحال کرائی تھی۔۔۔اس عدلیہ کہنا کہاں تک درست ہے، یہ تو سراسر ظلمیہ ہے۔
شہباز شریف،جسٹس شریف۔ نواز شریف،بابرہ شریف،عمر شریف،درود شریف،مزار شریف،حدیث شریف،نعت شریف،بخاری شریف،احمد شریف،موہڑی شریف،بردہ شریف،مدینہ شریف،
آغا جی سلام،
آپ نے بالکل درست کہا ہمارے پاس سب کچھ ہی شریف ہے، چاہے نیک ہو یا بد۔ بندہ کس شریف کو مانے اور کس کا انکار کرے۔ لیکن بغرض تفنن شہباز شریف،جسٹس شریف۔ نواز شریف، کے بعدتھوڑا سا گاڑی کا کانٹا بدل رہا ہوں۔۔۔۔
شہباز شریف، نواز شریف، مشرف شریف، جہاز شریف، عرب شریف، حرم شریف، دعا شریف، وطن شریف، عدل شریف، جسٹس شریف، فوج شریف، جیل شریف قبر شریف، حساب شریف، عذاب شریف، الیکشن شریف، عوام شریف، اور پھر اولاد شریف کی حکومت شریف۔۔۔۔ہاہاہا
مصباح بھائی زندہ باد
افسوس اور صد افسوس
اس سوچ پر اس کے سوا
اور کیا کہا جاسکتا ہے
ہاں
پم جیسے غریب
اور مفلوک الحال
کیلئے
اوپر
اور نیچے زمین
دونوں طرف
صرف
اور
ٍصرف
رب کریم
کی ذات
ہے
مصباح صاحب
میں آپکی بات کو بڑھاتے ہوئے کہونگا کہ ہم سب شریف بھی ہیں اور بے نظیر بھی
ہمدانی صاحب نے مبالغہ کی انتہا کردی۔ نواز شریف ،شہباز شریف اور چمچہ شریف کو درود شریف اور مدینہ شریف کی صف میں کھڑا کردیا۔ بھائ
یہ تو اہلِ کرم کی بستی ہے
ظلم کی آپ انتہا نہ کریں
اسلام علیکم حضرات و خواتین
بات یہ ہے کہ ہم سب ہی شریفوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں ،اور شرافت عنقا ہے ۔کہ ہم نے آج تک یہ پرندہ نہیں دیکھا اور ہمیں یقین ہے کہ یہ جہاں کہیں بھی ہے بس عنقا ہی ہے اسی لئے کتنے ہی نام رکھ لو یہ جب تک عنقا رہے گی جب تک ہم سب متحد نہ ہو جائیں ،تو قلم زندہ باد بس اسی کی طاقت ہم سب کو ان خرابیوں سے اآزاد کرائیگی انشا اللہ
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
ملک کی غربت شریف، فساد شریف، کرپشن شریف، اوباما شریف، امریکہ شریف، اسرائیل شریف، بم شریف، جنگ شریف، بچوں کا قتلِ عام شریف،
افسوس صد افسوس…….
یہ لوگ منصبِ انصاف پر فائز اور منصفی کے دعوہ دار ہیں.اور خود اقربا پروری کا اتنی بے حیائی سے نا صرف اعتراف
کر رہے ہیں بلکہ اعلان فرما رہے ہیں اور حالت دیکھئے ایک طرف وہ ذاتِ واحد اور دوسری طرف ان کے دوست……..
آپ احباب نے درست فرمایا کہ جہاں سب شریف ہوں وہاں در اصل معیارِ شرافت معلوم کرنے کی ضرورت ہے.
اللہ وطنِ عزیز اور ہم سب پر رحم فرماےء.
آمین
پوری قوم کو ان خود ساختہ شریفوں کا مزاجِ شریف پوچھنا ہی پڑے گا ۔
۔
جب پاکستان کی عدلیہ کا ایک اہم ممبر لاہور کی عدالتِ اعلی ٰ کا چیف جسٹس ایسی بے و قوفی کی بات کرسکتا ہے تو پھر پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے۔
اب وقت آگیاہے کہ عوام شریف بیدار ہوجائیں ورنہ ان شریفوں کے چکر جان شریف اور ملک شریف کو خدا حافظ کہنا پڑے گا۔
اگر چیف جسٹس آف پاکستان نے جسٹس شریف کے خلاف ایکشن نہ لیا تو ذرداری پارٹی ایک بار پھر سندہ کارڑ کھیلے گی کیونکہ اگر چیف جسٹس آف پاکستان نے زرداری پارٹی کے خلاف کوئی بھی فیصلہ دیا تو ضرور سندہ کارڑ کھیلا جائے گا
کوئی کچھ بھی کھیلے میرے محترم بھائی اگر عوام ان کے ہاتھوں میں نہ کھیلے تو مسئلہ حل ہو جائیگا ،بس ہمیں جاگنے کی ضرورت ہے ۔
اگر جسٹس شریف یہ فرما دیا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے لئے دو ہی ہستیاں ہیں ۔ آسمان پر اللہ تعالیٰٰ ہے اور زمین پر شہباز شریف۔
میری نواز شریف سے 37 سال سے دوستی ہے۔ جج تو میں صرف 20 سال پہلے بنا ہوں۔
میں دوستوں کی تقلید میں آخر وقت تک ساتھ دیتا ہوں۔ چھوڑ کر نہیں بھاگتا
مجھ پر ایک تو اللہ تعلیٰٰٰ کا احسان ہے دوسرے شہباز شریف کا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تو اس میں کون سی غلط بات ہے ۔ اللہ خالق و مالک کا احسان تو اس کی تمام ہی مخلوق پر ہے تبھی تو وہ ہستی عظیم تر اور لافانی ہے ، اس عارضی اور فانی دنیا میں اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق ایک دوسرے کے کام آنے اور ایک دوسرے کی عزت و تکریم بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ۔ اس فانی دنیا میں اللہ نے انسان کو خلیفہ اور نائب بنایا ہے ۔ حضرت انسان کے روز مرہ کے معمولات میں سہولت ، آرام و آسائش ، سکون ، ہر کام میں آسانی اور حسب منشاء تکمیل کیلئے دوسرا انسان تو کام آتا ہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ان میں سے بیشتر امور کی انجام دہی میں حیوان اور بے جان مشینیں بھی انسان کی مدد گار ہوتی ہیں ۔ ایسے میں اکثر اوقات ہم سب احسان مندی کی زبان سے یہی جملے کہتے ہیں کہ اگر یہ گدھا ، گھوڑا، اونٹ ، کشتی، جہاز ، سائیکل ، کار یا بس نہ ہوتی تو میں یہاں تک نہ پہینچتا، یہ کام نہ ہوتا، شادی میں شریک نہ ہو سکتا، انٹرویو کا وقت نکل جاتا وغیرہ وغیرہ ۔
اسی طرح کسی مشکل یا برے وقت میں ایک انسان دوسرے انسان کی بے لوث مدد کرتا ہے تو اس شخص کے قلب و زبان پر رحمدل ہستی، عظیم ہستی یا نیک ہستی کے نام سے جگہ بنا لیتا ہے ۔
انسان میں اچھے اور برے تمام پہلو ہوتے ہیں ، جسٹس شریف یا کسی اور شخص کیلئے شہباز شریف کے ہاتھ یا حکم سے کسی اچھے کام یا انصاف پر جسٹس صاحب کے قلب و ذہن میں شہباز شریف عظیم ہستی بن گئے ہیں تو اس میں اللہ کی حیثیت کو چیلنج کرنے والا کوئی پہلو نظر نہیں آرہا ، البتہ یہاں جملہ کہنے میں کچھ غلطی ہوئی کہ ( آسمان پر اللہ ) ، جبکہ اللہ ہر جگہ موجود ہے ۔
زمین پر تو عظیم ہستیاں ازل سے ابد تک آتی جاتی رہینگی ۔ امیر غریب یا اچھے برے کی دوستیاں بھی ہوتی رہینگی ۔ ہاں اگر جسٹس شریف اس دوستی یا کسی سابقہ یا موجودہ احسان و عمل کو بنیاد بنا کر کسی عدالتی کاروائی میں شہباز شریف یا کسی بھی شخص کی طرف داری کرتے ہوئے ناحق فیصلہ دیں تو قابل گرفت ہونگے ۔
مین محمد علی خان صاحب کے تبصرے کے آخری حصہ میں لکھے ہوئے فیصلے کی دل سے تائید کرتا ہوں
اسرائیل اور امریکہ کو بآسانی تباہ کیا جاسکتا ہے اگر وہاں کی عدالتوں میں ہمارے جج لگادئے جائیں۔