کالم نگار احمد ترازی عالمی اخبار کے بیورو چیف برائے کراچی

ترازیاحمد ترازی کراچی میں مقیم صاحب مطالعہ اور صاحب قلم فقیر منش انسان ہیں اور ہر کام کو مکمل ایمانداری اور محنت سے سرانجام دیتے ہیں اور ایک عرصے سے عالمی اخبار میں تسلسل سے کالم لکھنے کے علاوہ کراچی اور گردونواح کی خبریں بھی ارسال کر رہے ہیں۔
انکی ان بلامعاوضہ خدمات اور تندہی کو سامنے رکھنے ہوئے عالمی اخبار کے مرکزی ادارتی بورڈ نے انہیں کراچی کا بیورو چیف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مدیر اعلیٰ ،نائب مدیر اعلیٰ اور معاون مدیر اعلیٰ سمیت تمام بورڈ نے انہیں مبارکباد دی ہے اور امید ظاہر کی ہے انکی تقرری کے بعد صوبہ سندھ سے اہم خبریں مزید سرعت سے شائع ہونگی۔

احمد ترازی کے بارے میں سنیئر صحافی سید ہارون الرشید لکھتے ہیں کہ

‘‘حقیقت یہ ہے کہ قلم کی عزت و حرمت کو قائم رکھ کر سچ کی تلاش کا سفر ہمیشہ ہی کٹھن،صبر آزماءاوردشواررہا ہے، لیکن محمد احمدترازی اِس دور ظلمت میں اپنے دامن کوذاتی غرض و غایت اور حرص و طمع سے بچاکراِن دشوار گزار راستوں پر گامزن ہیں،جس میں سوائے آزمائش اور مشکلات کے اور کچھ نہیں،چار سال قبل جب پہلی بار میرا اُن سے تعارف ہوا تو میں اُن کے منفرد و بے باک اوردلچسپ معلوماتی انداز تحریر سے بہت متاثر ہوا اور اپنے اخبار کے ادارتی صفحے پر ”جو میں نے دیکھا“ کے عنوان سے اُن کے مستقل کالموں کا سلسلہ شروع کیا،جو آج بھی جاری ہے،آج اُن کا نام غیر معروف اور محتاج تعارف نہیں اوراُن کے کالم ملک کے معروف اخبارات میں”میری آواز “ کے عنوان سے ادارتی صفحات کی زینت بن رہے ہیں۔

محمداحمد ترازی،بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹر کی ڈگری رکھنے کے ساتھ پاکستان سوئڈیش انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے میکنکل ٹیکنالوجی میں ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹس انجنئر کی ڈگری بھی رکھتے ہیں،انہیں زمانہ طالبعلمی سے ہی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا،اُس وقت بھی اُن کے مضامین اور کہانیاں روزنامہ جنگ،امن،نوائے وقت وغیرہ میں بچوں کے صفحات میں شائع ہوتے رہے،عمر کے ساتھ ساتھ شوق بھی پروان چڑھتا رہا اور قلم میں نکھار آتا گیا،چنانچہ نے انہوں نے اخبارات و رسائل کیلئے لکھنا شروع کردیااور اُن کے مضامین ہفت روزہ”احوال“کراچی،ماہنامہ ”احوال و آثار“ لاہور،”الفتح “ لاہور اور ”افتخار ایشیاء“ راولپنڈی وغیرہ میں شائع ہونے لگے،1992 اور 1993 میں جب نواز شریف دور حکومت میں پاکستان کی صنعتیں بحران کا شکار ہوئیں تو موصوف کو تلاش معاش اکاؤئنٹنگ کی دنیا میں لے گئی۔
آجکل وہ ایک پرائیوٹ ادارے میں ڈیبٹ اور کریڈیٹ کی گتھیاں سلجھانے کے بعد فارغ اوقات میں لکھنے پڑھنے کا شوق بھی پورا کرتے ہیں،محمد احمد ترازی دو کتابوں کے مصنف اور کراچی سے شائع ہونے والے ماہنامے”افق“کے مدیر منتظم بھی ہیں،محمد احمدترازی کی ذات کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ دینی رحجان اور احساسات کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ کسی مخصوص مکتبہ فکر کے ترجمان ہیں اور نہ ہی وہ کسی علا قائیت،رنگ ونسل اور زبان و قومیت کی تقسیم پر یقین رکھتے ہیں،وہ بے حد مخلص،ایثار پسند اور اپنے موقف پر قائم رہنے اور حقائق کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھ کر نتیجہ اخذ کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
اُن کے حلقہ احباب کے وسیع نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے صحافتی عقیدے کی طرح عام زندگی میں بھی سچے اور کھرے انسان ہیں اور وہ اپنے قلم کی سیاہی میں مداح سرائی اور خوشامد کی آمیزش نہیں کرتے،محمد احمد ترازی کی جس بات سے میں سب سے زیادہ متاثر ہواوہ یہ ہے کہ وہ زندگی کو خدائے بزرگ برتر کی سب سے بڑی نعمت تسلیم کرنے کے باوجود سماج کے ضمیر فروشوں کی طرح حیات کواُس کی قدروقیمت سے زیادہ اہمیت و حیثیت دینے پر تیار نہیں ہیں‘‘۔

24 thoughts on “کالم نگار احمد ترازی عالمی اخبار کے بیورو چیف برائے کراچی”

  1. برادر محترم ترازی صاحب۔آپ اس قافلے میں ہمارے عملی معاون ٹھہرے ہیں تو میری قوت و طاقت میں اضافہ ہوا ہے اور میں خود کو نخل ثمر بار سمجھ رہا ہوں۔ آنا اور جانا قانون فطرت ہے،لوگ اداروں میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ لیکن مجھ پر میرے مالک کا عجیب کرم ہے کہ اگر کوئی ایک ساتھی چلا جائے تو دو تین اور نئے ساتھی مل جاتے ہیں۔ عالمی اخبار میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنا قلم پکڑنا اور ہجے کرنا یہیں سے سیکھا لیکن اب انکے تعارف میں عالمی اخبار کا کہیں نام نہیں اور وہ خود ہی خود کو عظیم صحافی،شاعر اور افسانہ نگار لکھتے ہیں۔ احسان فراموشی کینسر سے بھی موذی مرض ہے۔ایسے کچھ نام تھے جو میرے اللہ نے خود ہی عمل تقطیر کے سہارے ہمارے قافلے میں سے الگ کر دیئے۔ اسکے برعکس کچھ احباب آپ جیسے مخلص ہیں جنہوں نے کبھی کسی عہدے کا نہ تقاضہ کیا اور نہ خواہش۔ بلکہ ہم نے خود آپ سے درخواست کی کہ ہماری طاقت بن جایئے۔ میں آپ کا شکر گزار اور ممنون احسان ہوں کہ آپ نے ہماری درخواست کو قبول کیا۔
    سلامت رہیں۔خوش رہیں۔

  2. مجھے یہ ای میل ابھی ابھی ملی ہے ..بھائی عظیم اعظم کی

    نگہت باجی! عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ نے میرے پیارے دوست عزت مآب جنابِ محترم محمداحمد ترازی بھائی کو سندھ/کراچی کا بیوروچیف بنانے کا جو فیصلہ کیاہے اِس پر ادارہ اور احمد ترازی بھائی بھی مبارکباد کے مستحق ہیں اور میری دونوں کے لئے یہ دعاہے کہ اللہ عالمی اخبار اور بھائی احمدترازی کو مزید ترقی سے ہمکنار کرے (آمین)
    محمد اعظم عظیم اعظم کراچیَ

    بہت بہت شکریہ بھائی .آپ کی تائید سے حوصلہ بڑھا .. آپ کے تعاون اور تائید کا عالمی اخبار ہمیشہ سے شکرگزار رہا ہے .

  3. احمد ترازی صاحب خوش آمدید۔ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ ان ہی کالموں میں لکھا تھا کہ مومن ایک دوسرے سے صرف خدا کے لیءے محبت یا نفرت کرتا ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ مجھے پہلے دن سے آپ اپنے سے لگے، میں نے بارہا سوچا اگر کبھی کراچی گیا تو آپ سے ضرور ملونگا۔مجھے خوشی ہے کہ ایک ایسے ادارے میں جس کو کہ ایک ایسے شخص کی قیادت حاصل ہے جو نہ صرف خود فقیر منش ہے بلکہ اپنے گرد فقیروں کا مجمع دیکھ کر خوش ہو تا ہےاور اس کانام صفدر ھمدانی ہے شمولیت قبول کی۔ مجھے امید ہے کہ آپکی شمولیت سے یہ کہکشاں جس میں سارے ستارے ایسے ہی ہیں کہ جن کو ملت کا درد ہے اور سب تعصب سے با لا تر ہیں۔ آپ کی شمولیت بطور بیرو چیف کراچی جو کہ پاکستان کا دل ہے، ایک گرانقدر اضافہ ثابت ہوگی۔

  4. بابا
    ہمیں خوشی ہے کہ سچ کے اس سفر میں جس کے قافلہ سالار آپ ہیں مجھ جیسے ناچیز کو ایک کارکن ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ہم اس قابل تو نہیں ہیں لیکن اگر ہماری ٹوٹی بھوٹی کوشش سے عالمی اخبار کو تقویت ملتی ہے تو یہ ہمارے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں ہے جس کیلئے میں آپ کا بے انہتا مشکور ہوں۔
    بابا
    ہم تو ابھی قلم پکڑنا بھی نہیں سیکھا اور نہ ہی کبھی اپنے آپ کو کوئی ادیب کالم نگار اور دانشور سنجھا بس ہم تو آپ اور باجی نگہت نسیم جیسے اہل و علم و دانش سے سیکھ رہے ہیںاور ہمیشہ سیکھتے رہیں گے لیکن اگر بالفرض محال اگر سیکھ بھی گئے تب بھی اپنے آپ کو ایک خادم ہی سمجھیں گے
    کیونکہ بابا احسان فراموشی ہماری عادت اور فطرت نہیں ہے بس آپ رب سے دعا کریں کہ وہ ہمیں عالمی اخبار کے معیار پر پورااترنے کو توفیق دے اور سچ کے اس سفر میں ہمیں آپ کا اور باجی کا ہم رکاب رکھے آمین
    ہم بابا اور باجی دونوں کی محبتوں کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے

    ہم محترم جناب شمس جیلانی صاحب
    کی محبت اور نظر عنایت کے بھی بے حد مشکور ہیں اور یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ ہم آپ کو اپنے سے لگے اس محبت پر ہم اپنے رب کے شکر گزار ہیں،ہم بھی آپ سے ملاقات کے اتنے ہی متمنی ہیں جتنے آپ انشاء اللہ ضرور ملاقات ہوگی

    ہم بھائی اعظم عظیم اعظم کی محبت کے بھی شکر گزار ہیں بس رب سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اپنے آپ کو اس ذمہ داری کا اہل ثابت کرنے کی توفیق عطافرمائے
    آمین بحرمۃ سید المرسلیں صلی اللہ علیہ وسلم
    آپ سب احباب کی محبتوں کا بہت بہت شکریہ
    آپ کی دعا کا طالب
    محمداحمد ترازی کراچی

  5. آپ سوچ نہیں سکتے احمد بھائی کہ ہم سب آپ کی شمولیت پر کتنے خوش ہیں . ہمیں امید ہے کہ آپ کا تعاون کالمز ، مضامین ، پاکستان کی خبروں ، رپورٹس ، تحقیقی مقالوں اور کتابوں پر تبصروں کی صورت ہمیشہ کی طرح جاری و ساری رہے گا . اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو .. ہم سب کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں … ہم سب کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا ..

  6. اسلام وعلیکم اھمد بھائی خوش آمدید
    بہت خوشی ہوئی کہ اس کاروان میں ایک اور قابل قدر اور برق رفتار شہسوار شامل ہوا ۔
    جس طرح ہماری پیاری بہن نگہت ہمیں خوش آمدید کہتی ہیں اور ہماری مدد بھی کرتی ہیں وہ شاید ان ہی کا خاصہ ہے ۔
    تو دلی مبارکباد ۔اللہ میرے وطن کے لوگوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین

  7. احمد ترازی صاحب جس شہر کراچی کی نمائیندگی کررہےہیں اس میں ایک زمانہ پہلے میں بھی اپنی زندگی کا ایک قیمتی حصہ گذار چکا ہوں اور جس کے ایک قبرستان میںمیرے والد اور بڑےبھائی انور دفن ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کراچی روشنی کا شہر کہلا یا کرتا تھا۔ جہاں ہمارے خاندان کے قافلے کی طرح ہندوستان سے ہجرت کئےہوئے لاکھوں افراد نے پناہ لی ۔
    اب تو بقول محسن بھوپالی مرحوم :
    کراچی کرچیوں میںبٹ گیا ہے
    یہ اپنے آئینے سے کٹ گیا ہے
    وطن اہلِ وطن کا کب ہے محسن
    وطن اہلِ زمیں میں بٹ گیا ہے

    کس کس مصیبت اور آفت کو تذکرہ کریں جس سے کراچی دوچار نہیں ہوا ۔: لوڈ شیڈنگ، فسادات ، دہشت گردی ۔ قبضہ گروپ کی دست درازی ، ہر قسم کی بدکاری اور بے ایمانی اور بے روزگاری اور مہنگائی وغیرہ وغیرہ کا شکار بن گیا ہے۔
    اگر کسی ناظم نے کراچی کو بہتر بنانےکی کوشش کی تو اسے راستے سے ہٹا دیا گیا۔
    لسانی بنیاد پر فسادات بھی ہوتے رہتے ہیں ۔
    کسی کی جان ، مال اور عزت اور حرمت محفوظ نہیں ۔

    اب تو داتا دربار بھی دہشتت گرد وں کے شر سے محفوظ نہیں تو کراچی کیسے محفو ظ رہ سکتا ہے ۔ ؟

    بہر حال : عالمی اخبار کے ایک مہمان مبصر اور بلاگ نگار کی حیثیت سے میں احمد ترازی صاحب کو میرے “ روشنی کےشہر “ کی نمائیندگی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    امید کہ وہ نہ صرف کالم ہی لکھا کرینگے اور کراچی کے خبریں بھی حسب معمول حق گوئی و بےباکی سے اس اخبار میں شایع کرتے رہینگے بلکہ اس اخبار میں بلاگ بھی لکھتےرہینگے۔
    ۔۔۔۔۔
    احمد ترازی صاحب کے تبصروں کو پڑھتا ہوں تو ان تبصروں کی شکل بالکل کسی آزاد نظم کی طرح پاتا ہوں جس میں پہلا جملہ تو
    فاعلاتن فاعلاتن فاعلات کے طرح طویل ہوتا ہے مگر دوسرا اور تیسرا جملہ پہلے جملوں کے مقابلے میں مختصر سےمختصر ہوکر صرف فاعلات پر ختم ہوجاتا ہے ۔ ( کاش کہ مجھے بھی اس قسم کے تبصرے لکھنے کا فن آجاتا ) ۔

    بہر حال احمد ترازی صاحب کی عالمی اخبار میں بے لوث شرکت ہم سب کے لیے ایک نعمت کے برابر ہے۔

    ۔۔۔۔۔
    احمد ترازی صاحب کو دلی سلام کے ساتھ
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  8. آپ سب
    کی خوشی
    دیکھ کر
    ہمیں بھی
    خوشی ہورہی ہے
    بس باجی
    آپ سب دعا کریں
    کہ
    اللہ ہمیں
    آپکے اعتماد
    پر
    پورااترنے
    کی توفیق دے
    آمین بحتمۃ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

  9. برادر محترم جناب احمد ترازی صاحب۔
    السلام علیکم۔ آپکی کراچی کے بیورو چیف کی حیثیت سے ذمہ دار سنبھالنا ہم سب کے لئے نہایت خوش آئیند ہے اور اس مبارک فیصلے پر ہم آغا جی اور نگہت آپی کو مرحبا کہتے ہیں تو پوری ٹیم کو ھدیہء تبریک پیش کرتے ہیں۔ آپکی تحریریں پہلے ہی مجھ ایسے کم بساط کے لئے سامان علم کرتی رہتی ہیں۔ آپ جیسے با علم و عمل سچے عاشقان رسول کا ساتھ ایک اعزاز ہے۔
    خدا آپ کو نور علم پھیلانے میں مزید آسانیاں عطا فرمائے۔ آمین بجاہ محمد و عترتہ العالین و صلی اللہ علیٰ حبیبہ و علی آلہ وسلم۔

  10. نفسا نفسی کے اس تاریک دور میں بہت ہی کم ایسے لوگ نظر آئیں گے جو علم و ادب کے گہرے سمندر کی لطیف و کثیف موجوں میں حقیقی فلموں اور سچی خبروں سے لدی ہوئی، محنت، دیانت، شرافت، صداقت، تحمّل اور دین و دنیا کی بھلائی کے مرکب سے بنی نورانی کشتی کو سچائی کے قلمی چپو کے ذریعے اللہ کے بتائے ہوئے عالمی روٹ پر رواں دواں رکھے ہوئے ہیں ۔
    ایسی ہی ایک کشتی کے نا خدا محترم محمّد احمد ترازی کو ان کی بےلوث و انتھک محنت پر عالمی اخبار کا بیورو چیف برائے کراچی منتخب ہونے پر ہم دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں، اور ایسے گوہر نایاب صفت انسان کی عزت افزائی پر عالمی اخبار کی انتظامیہ بھی مبارکباد کی مستحق ہے ۔

  11. محترمہ عالم آ را صاحبہ
    جناب محترم منظور قاضی صاحب
    برادم سید سیدمصباح حسین صاحب
    اور جناب بھائی محمد علی خان صاحب
    آپ سب کی
    ڈھیروں ڈھیروں
    محتوں کا
    عنایتوں
    کا
    اور
    چاہتوں
    کا بہت بہت
    شکریہ
    آپ سب
    کی دعائیں
    اور تعاون
    شامل
    کے ساتھ
    اور محترم صفدر ہمدانی صاحب
    باجی نگیت نسیم صاحبہ
    اور جناب محترم شمس جیلانی صاحب
    کی معیت
    میں یہ
    سفر
    انشاء اللہ
    اسی طرح جاری
    رہے گا
    انشاء اللہ

  12. بھائی احمد ترازی صاحب کی آمد ہمارے لیے باعث مبارک باد ہے ۔ ہم آپ کے کالم پاکستان اور کئی عالمی اخباورں میں پڑھتے رہے ہیں ۔ اب آپ کی بے لاگ اور غیر جانبدار خبریں اور رپورٹیں بھی پڑھنے کو ملیں گی ۔

  13. اسلام وعلیکم

    بہیت بہت مبارک ہو خُدا آپ کو اس ایمان اور سچ کے راستے پر ثابت قدم رکھے اور ہمہشہ آپ کا معاون اور مدد گار رہے
    الہی آمین

    مولا ولی)ع( کا فرمان ہے کہ

    گر تمھاری منزل کے راستے میں کوئی مُشکل نہیں آئی تو ایک بار تسلی کر لو کہ کہیں تمھارا راستہ غلط تو نہیں –

    اس کا مطلب صاف ہے کے حق اور سچائی کا رستہ کبھی آسان نہیں ہوتا اور ایک مومن مُسلمان اس پر صرف اُس صورت چل سکتا ہے جب اس کے پاس ایمان کی قوت ہو اور خُدا کا کرم شاملِ حال ہو دعا کرتی ہوں کے آپ کا رستہ کتنا ہی کھٹن ہو پر آپ اس سے ثابت قدمی سے گُزریں
    الہی آمین۔
    دُعا گو

    ثمرین بخاری

  14. بائی آپ کو بہت بہت مبا رک و۔ اور اللہ آپ کو اس ذمہ داری کو پورا کر نے کی تو فیق عطا فرما ئے۔ اور خوشی اس بات کی بھی ہے کہ ہماراکولیگ اس ذمہ داری کے لئے چنا گیا ہے۔

  15. محمد احمد ترازی بھائی ! دیر سے حاضرِ خدمت ہو رہا ہوں معذرت قبول فرمائیے لیکن
    پہلے مبارک باد قبول فرمائے

    اس عہدے پر تعیّن کی جس کی تنخواہ نہیں ملے گی، بلکہ اکثر اوقات ان ذمہ داریوں کو نبھانے میں اپنی جیب سے صرف کرنا پڑے گا،
    اپنا وقت، اپنے اعصاب تو خرچ کرنے ہی پڑیں گے
    اس عہدے پر تقرری سے نام و نمود میں اضافہ تو کیا اکثر صلواتیں بھی سُننیں پڑیں گی

    اگر یقین نہ آئے تو آغا (ہمدانی) صاحب، بہن نگہت صاحبہ اور مصباح شاہ صاحب سے پوچھ لیجیے

    لگتا تو شاید یہی ہو کہ میں آپ کو ڈرا رہا ہوں لیکن

    ایک طرف تو میں اس کٹھن کام کے انجام دینے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتا ہوں
    اور دوسری جانب آپ کی حوصلہ افزائی مقصد ہے کہ خواہ ظاہری طور پر کچھ بھی حاصل نہ ہو لیکن
    اس دنیا میں کچھ ایسے لوگ یقیناً موجود ہیں جو ان کاموں کی قدر پہچانتے ہیں
    ان کے کرنے والوں کی محنت کو جانتے اور سراہتے ہیں
    ان لوگوں کا تعظیم کرنا اس سارے کام کا اجر ہے اور
    اپنے ضمیر کا اطمنان وہ تنخواہ ہے جو آپ کو میسر ہوگی . . . انشاء اللہ

    آپ کو اس مبارزت کا قبول کرنا مبارک ہو

  16. محترم ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب
    محترمہ ثمرین بُخاری صاحبہ
    اور
    بھائی محمد وجیہہ السماء
    آپ سب کی
    محبتوں کا
    یہ
    خادم تہہ دل سے مشکور ہے
    اللہ سے دعا
    ہے کہ
    وہ اس ناچیز کو عالمی اخبار
    کے کسی کام آنے
    اور آپ سب کی
    امیدوں پر پورا
    اترنے کی
    اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے
    صدقے
    میں
    توفیق عطا فرمائے
    آمین

  17. جناب احمد ترازی صاحب کوعالمی اخبار کی جانب سے کراچی کے بیورو چیف کی حثیت سے اتنا اھم منصب سنبھالنے پر تہنیت پیش کرتی ھون ۔۔ انشا اللہ آپکے قلم اور، آواز کی طاقت میں روزبروز اضافہ ھوگا۔ آپ سب کو بہت مبارک ھو۔

    بہت پیاری بہن اور بہت عزيز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ اتنی اچھی خبر اور بغیر مٹھائ کے ۔۔۔؟

    چلو تم سب میرے غریب خانے پر آو میں خود اس خوشی کے موقع پر گلاب جامن اور رس ملائ بنا کر سب کو پیش کرونگی ۔۔

  18. جناب عبدالمناف بھائی

    اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

    آپ جیسے کرم فرماوں کے ہوتے کیا ڈر ہے

    بہت شکریہ شاہین رضوی صاحبہ

    باجی

    محترمہ شاہین رضوی صاحبہ کے

    رس گلے کراچی بھیج دیجئے گا

    کیوں یہ ہماری بھی پسند ہے

  19. گلاب جامن ۔ ۔ ۔ ۔ رس ملائی ۔ ۔ ۔
    وہ بھی بہن شاہین رضوی صاحبہ کے بنائے ہوئے
    کیا کروں ؟
    کویت بہت دور ہے

    بہن جی کیا بذریعہ ڈاک نہیں بھیجے جا سکتے ؟ ؟

  20. شاہین جی۔ کیا خوب طریقہ ہے اس سوال سے بچنے کا کہ آپ اتنے دن سے کہاں تھیں۔آپ نے سوچا کہ ان کا منہہ گلاب جامن اور رس گلے سےبند کر دیا جائے۔ چلیں یہ تدبیر کارگر ہوئی۔ لیکن پلیز ہم شوگر کے مریضوں کا بھی تو کچھ خیال کریں۔

  21. شاہین رضوی صاحبہ نےگلاب جامن بنا کر کھلانےکی بات کی : شکریہ

    اس پر کسی کی بتائی ہوئی ( گلاب جامن بنانےکی) یہ آسان سی ترکیب یاد آئی کہ گلاب کے پودے پر جامن کا پیوند لگادو اور گلاب جامن حاصل کرلو۔

  22. بھائ محمد احمد ترازی صاحب ۔ سلامت رھیں انشا اللہ 9 جولائ سے 22جولائ تک میرا قیام کراچی اور حیدرہ آباد میں ھوگا۔ آپکے حکم کی تعمیل ھوگی اور رس گلے آپ نک پہنچ جائنگے ۔ اللہ کرے آ پ لوگ اسی طرح کی خوشخبریوں سے بہنوں کے دلوں کو شاد کرتے رھیں خوب ترقی کریں اور اللہ پاک آپ سب کی حفاظت فرماۓ آمین

    اور میرے عزیز برادر عبدالمناف سلامت رھیں گرم گرم گلاب جامن اور خالص کھویےسے بنی ھوئ ٹھنڈی ٹھنڈی پستہ اور چاندی کے ورق سے گارنش کی ھو‏ئ رس ملائ کے لیے تو آپ کو کویت آنا پڑیگا۔ ایسی سوعاتوں کے لیے ڈاک پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتاھے۔۔ مجھے تو
    ان دنوں بھاشانی ، فریسکو۔ سن شائن ،فرزند علی کی قلفی ۔حافظ کے سموسے۔ پشاروی آئس کریم۔ چپلی کباب۔ حلیم ۔ کلفٹن کی باربیکیو نائٹس ، صابری کی نہاری اور حیدرہ آباد کی ربڑی بھی مسلسل خواب میں نظر آرھے ھیں ۔۔ شریف برادران کی طرح مجھے بھی پھجے کے پاۓ بہت پسند ھے

    اللہ کرے ھمارے پیارے وطن کی ساری رونقیں جلد بحال ھوجایئں اور ھمارے پیارے پاکستان کا ھر شہر روشنی اور امن وامان کا شہر بن جاۓ آمین۔

    محترم صفدررضا ھمدانی صاحب ۔ آپ جیسے اجلے میٹھے سوھنے اور سچے لوگ تو خود محبت اور میٹھاس کا خزانہ ھیں ۔ آپ کے لیے میں فروٹ شوگر سے رس ملائ اور گلاب جامن تیار کرونگی ۔ اللہ پاک بیمار کربلا اور بیمار المدینہ کے تصدق میں آپ کو صحت کامل عطا فرماۓ آمین ثم آمین ۔۔ مین نے سوچا تھا سب کا منہ اشرفیوں سے بھردونگی مگر۔۔ اب تو زردے میں بھی ڈالنے کے لیے اشرافی نیہں ملتی ۔۔۔ سفر کی مصروفیات ھیں اور غم روزگار کی مشقت تھوڑی دیر کےلیے عالمی اخبار سے دور تو کرتا ھے مگر اللہ گواہ ھے ھرروز چپکے سے اس محبت بھرے خاندان کی نظر اتارے ضرور ایک چکر لگاتی ھوں
    آپ سب کے لیے دعا کرتی ھوں اور آپ سب کی دعا لیتی ھوں سب یہی سرمایہ حیات ھے

  23. جناب منظور قاضی صاحب سلامت رھیں ارے واہ کیا زبردست ترکیب ھے گلاب کے درخت پر جامن کی پیوند کاری کرکے گلاب جامن حاصل کیے جاسکتے ھیں ۔۔مگر میں گلاب۔، جامن اور آم کی پیوند کاری کرونگی ۔ ان دنوں آم کا موسم ھے ھم بھی اس معاملے میں مرزا غالب کے طرف دار ھیں کہ بہت سارے ھوں اور بہت میٹھے ھوں ،

  24. اللہ سے دعا ہے کہ محترمہ شاہین رضوی صاحبہ کا کراچی کا دورہ ہر لحاظ سے کامیاب اور خوشگوار ثابت ہو اور وہ
    صحت اور تندرستی کے ساتھ کویت واپس آجائیں۔ ( کراچی کے نلوں کے پانی اور ہوٹلوں کے کھانوں اور بازار سے خریدے ہوئے مسالوں سے وہ دور ہی رہیں تو بہتر ہے ۔)
    اللہ سے یہ بھی دعا ہے کہ شاہین رضوی صاحبہ جیسی پرخلوص ہستی کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے گلاب جامن ، پاکستانی آموں کے ساتھ کھانا انکے مہمانوں اور میز بانوں کو نصیب کرے ۔ آمین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *