تعمیل حکم

انتہائی محترم بھائی منظور قاضی کی حکم کی تعمیل میں چند سطور لکھ رہا ہوں لیکن دو دن کی تاخیر کے لیے معذرت پیش کرتا ہوں۔ حکم یہ تھا ‘‘ہندوستان میں اردو کی ترویج اور اردو فانٹ کی مقبولیت اور تعلیم کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ لکھا کریں ’’ اللہ کا شکر کہ ہندستان میں تمام تر لسانی تعصبات کے بعد بھی اردو کا چلن موجود ہے ۔ بات اب یہ ٹھہری ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے لیکن المیہ یہ ہےکہ ہندستان کے تمام مسلمان اردو بھی نہیں جانتے ۔ صرف شمالی ہندستان میں)جسے عرف عام میں کاؤ بیلٹ کہا جاتا ہے( ایسے لوگ کثرت سے مل جاتے ہیں جو اردو پڑھنا جانتے ہیں۔لیکن کم لوگ ایسے ہیں جو بی ۔اے یا ایم ۔اے کی سطح تک اردو پڑھتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہےکہ اب تک اردو زبان کو معاش سے جوڑنے کی سرکاری اور غیر سرکاری طور پر کوشش نہیں کی گئی ہے ۔ حکومت نے ہاتھی کے دکھانے والےدانت کی طرح چند سرکاری ادارے کھول دیئے ہیں جہاں اردو کے احباب ہی مل بانٹ کر کھانے کھلانے کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اردو کے حوالے سے اردو زبان کو کسی طرح کی مراعات حاصل نہیں ہیں۔ لیکن یہ اردو کا ہی دم خم ہے کہ اپنے بل بوتے اب تک نہ صرف زندہ ہے بلکہ میڈیا اور فلم کے لیے ضرورت کی زبان ہے۔ یہ اردو زبان کی چاشنی اور اس کی دلپذیر ی ہے کہ اردو دشمن بھی جب اچھی زبان بولنےکی کوشش کرتے ہیں تو اردو کا ہی سہارا لیتے ہیں ۔
اردو کو ہندستا ن میں میڈیا اور فلم زندہ رکھے ہوئے لیکن تعلیمی سطح پر مدارس اسلامیہ ہیں ، جہاں ارد و ذریعہ تعلیم ہے ، اس لیے مدراس اسلامیہ ایک بڑا سورس ہے جہاں اردو پنپ رہی ہے اور ایسے گھرانوں میں بھی اردو پڑھی اور لکھی جارہی ہے جہاں لوگ اسے اپنی تہذیبی علامت سمجھتے ہیں۔
مجموعی طور پر ہندستان میں اردو کی صورت ھال بہت اطمینان بخش نہیں ہے ۔ ارود جو پہلے سرکاری زبان تھی اب علاقائی زبان میں اس کا شمار ہو نےلگا ہے اور واقعی اب یہ کچھ علاقوں تک محدود ہوتی جارہی ہے۔ مگر ہندستان کے تناظر میں اردو کے حوالے سے ایک اور خصوصیت سامنے ائی ہے وہ یہ ہےکہ اردو کو اب تک لوگ نرم و نازک اور شیریں زبان کے طور پر جانتے ہیں لیکن یہ تو سخت جان بھی ہے ۔ اگر یہ سخت جان نہ ہوتی تو کب کو اس زبان کا دائرہ سمٹ چکا ہوتا۔
مزید تفصیلات جلد ہی۔

7 thoughts on “تعمیل حکم”

  1. املے کی چند غلطیاں رہ گئیں ، قارئین معاف کریں۔

  2. برادر محترم جناب خواجہ اکرم صاحب ! ماشاء اللہ بہت اچھا لکھا آپ نے، بہت معلوماتی تحریر ہے جس نے تشنگی کو خوب بھڑکا دیا ہے، اب مزید تفصیلات کا بےچینی سے انتظار ہے-

    اگرچہ موضوع سے کچھ ہٹ رہا ہوں لیکن صرف موازنہ کے لیے عرض ہے کہ پاکستان میں اگرچہ اس سلسلہ میں وہ تعصب نہیں جو ایک ہندو اکثریت کے ملک میں درپیش ہے لیکن پھر بھی یہاں اردو کی ترقی کے لیے وہ کام نہ ہوا جو ہونا چاہیے تھا، میری ناقص رائے میں اس کی وجہ وہی ہے جو آپ نے ہندوستان کے سلسلہ میں تحریر فرمائی ہے کہ :

    ” اب تک اردو زبان کو معاش سے جوڑنے کی سرکاری اور غیر سرکاری طور پر کوشش نہیں کی گئی ہے”

    شاید اردو زبان کی ترقی یا اس کی خدانخواستہ ناپیدگی کا دارومدار اسی ایک امر کے کرنے یا نہ کرنے میں پوشیدہ ہے-

  3. اکرام بھائی واہ زبردست موضوع ہے اور اپ کا انداز بیاں سادہ اور دلنشین … آپ نے ایک جملہ میں اردو کی عمر خضر کی تعریف کر دی کہ اردو کو اب تک لوگ نرم و نازک اور شیریں زبان کے طور پر جانتے ہیں لیکن یہ تو سخت جان بھی ہے ۔ اگر یہ سخت جان نہ ہوتی تو کب کو اس زبان کا دائرہ سمٹ چکا ہوتا … بلاشبہ ایسا ہی ہےبھائی …
    اگلی قسط کا شدت سے انتظار ہے …

  4. خواجہ اکرم صا حب اسلام علیکم ورحمہ
    آپ نے اچھا کیا کہ ہم سب کے بزرگ ِ محترم جناب منظور قاضی صاحب کے حکم کی تعمیل کی اور ہندوستان میں اردو کی حالت ِ زار کے بارے میں با خبر کیا۔ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہو ئی، جو بات پہلے میرے علم نہ تھی کہ وہاں اسلامی مد رسوں میں ابھی تک اردو ذریعہ تعلیم ہے۔کیونکہ جتنا بڑا اسلامی ذخیرہ اردو زبان میں، ترجموں، اصل تصنیفات اور تالیفات کی شکل میں اردو میں ہے وہ دنیا کی اور کسی زبان میں نہیں ہے۔جب ہندوستان میں یہ تحریک اردو کے ایک خیر خواہ چلا رہے تھے کہ اردو کا رسم الخط بدل کر رومن کر دیا دیا جا ئے تو میں نے اس کی مخالفت اسی بنا پر کی تھی کہ اگر رسم اخط بدلا گیا تو یہ اسلامی ذخیرہ ضائع ہو جا ئے گا۔اور ایک طویل مضمون لکھا تھا کہ “ اصل میں اردو رسم الخط کا نام ہے “ یہ رسم الخط تسبیح یا مالا کا وہ دھاگہ ہے جس میں دنیاکی تمام زبانوں سے مو تی لیکر ان کو ایک جگہ پرو کر اردوزبان کو جنم دیاگیا ہے ۔میرا یہ مضمون ابھی تک ہندوستان اور پاکستان کی بہت سی ویب پر لگا ہوا۔
    اردو وہ بد قسمت زبان ہے جو مفت میں سیاست کی نذر ہوگئی اور مسلمانوں کی زبان قرار دیکر ماری گئی۔اگر ذراسا آپ غور سے دیکھیں گے تو تاریخ میں نظر آئے گا کہ سوائے انگریزوں کےتھوڑے سے دور کے اس کو کبھی بھی سرکاری سر پرستی حاصل نہیں رہی کیونکہ وہ اپنی آسانی کے لیئےپورے ہندوستان کو ایک زبان دینا چاہتے تھے تاکہ وہ بھی اسے سیکھ لیں اور انہیں ان کی بات سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی رہےاور اس سلسلہ میں انہوں نے اردو کا پہلا کالج فورٹ ولیم کے نام سے قائم کیا پھر ان ہی کے ایما پر کئی ریاستوں نے اردو کو اپنا یا؟
    ورنہ تو صورت ِ حال یہ تھی کہ پہلے اردو کے شاعر علی قلی خان اور آخری بادشاہ اور شاعر بہادرعلی شاہ ظفرتھے جبکہ دونو کی در باری زبان فا رسی تھی۔
    یہ پیدا بھی حکومتوں کی سر پرستی کے بغیر ہوئی اور زندہ بھی انشا اللہ حکومتوں کی مخالفتوں کے با وجود رہے گی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی اقوام متحدہ کی بڑی زبانوں کی فہرست میں شامل ہے اور اس کا نمبر پانچواں ہے۔

  5. ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب اپنے علم کی وجہ سے مجھ سےانتہائی اونچےمقام پر ہیں ( یہ ہی رتبہ جناب شمس جیلانی صاحب کا ہے ) اس لیے میں ایک کم علم انسان کی حیثیت سے ان علما ء کو حکم تو درکنار آں کے سامنے کسی قسم کی التجا کرتے ہوئے ہچکچا تا ہوں ۔

    ڈاکٹر خواجہ اکرام نے ہندوستان میں اردو کی بقا اور اردو رسم الخط کے متعلق بہت اہم باتیں لکھی ہیں۔
    شمس جیلانی صاحب نے صحیح کہا ہے کہ اردو کی شناخت اسکے اردو رسم الخط سے ہے۔

    اگر اردو ، رومن میں لکھی جائےگی تو اسکا بھی وہ حشر ہوگا جو ترکی زبان کا ہوا ہے۔ افسوس کہ ترکوں نے قرآن کو بھی ( رومن ) ترکی رسم الخط میں تبدیل کردیا ۔

    ہندوستان میں اردو اورخاص طور پر اردو ( فارسی ) رسم الخط کی اتنی مایوس کن حالت پڑھکر افسوس ہو تاہے۔

    پاکستان میں تو کم از کم پاکستان کے صوبوں کے افراد جب ایک دوسرے سے ملتےہیںتو اردو ہی میںبات چیت کرتے ہیں اور اگر ایک دوسرے سے مراسلت کرتےہیںتو اردو رسم الخط ہی میںکرتے ہیں۔
    پاکستان میں وہ افراد بھی جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے وہ اردو میں اپنی شاعری اور ادب کے کمال کا مظاہرہ بھی کرتے رہتے
    ہیں۔

    خدا کا شکر ہے کہ ہندوستان کے اسلامی مدرسوں میں بچو ں اور بچیوں کو اردو اور عربی رسم الخط پڑھنا ( اور ہوسکےتو لکھنا بھی )سکھایا جاتا ہے ۔ مگر افسوس کہ یہ علم ان بچوں اور بچیوں کے لیے روزی کمانےکا ذریعہ نہیں بنتا ۔

    اس کے باوجود ہنوستان میں رپنے والے اردو کے ادیب اور شعرا بھی اپنی شاعری او ر اپنے ادب کا مظاہرہ دنیا کےسامنے کررہے ہیں۔

    خواجہ اکرام صاحب ہندوستان میں اردو کی بقا اور ترقی کےلیے جو کام ہورہا ہے اس پر مزید کچھ روشنی ڈالیں تو ہم سب کے علم مین مزید اضافہ ہوگا ۔

    میں اردو زبان ہی میں جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن انڈیا سے بی اے کیا ہوں ۔ ان دنوں اس جامعہ میں دار الترجمہ اردو بھی تھا جو ہر زبان کے الفاظ اور اصطلاحات کو بڑی تیزی اور بڑی خوبی کےساتھ اردو میں تبدیل کررہا تھا۔

    چند سال پہلے میں جب اپنی مادر علمی جامعہ عثمانیہ گیاتھا تو دیکھا کہ جامعہ کی عظیم الشان عمارت پر جگہ جگہ شہد کی مکھیوں کے چھتے تھے اور جدھر دیکھو ادھر ہندی اور مرہٹی اور تلگو اور کنڑی زبانوں والے طلبا انگریزی اور دیوناگری میں بہت کچھ سیکھ رہے تھے۔۔ پتہ نہیں چلا کہ اردو کہاں گم ہوگئی تھی ۔

    ہندوستان میں اردو کے حال اور مستقبل کے بارے میں خواجہ اکرام کے مزید خیالات اور تاثرات کے پڑھنے کا انتظار ہے۔

    ققط
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  6. منظور قاضی صاحب اسلام علیکم و رحمہ
    عزت افزائی کا بہت بہت شکریہ! میں تو ایک طالب علم ہوں جو آپ جیسے بزرگوں سے سیکھتا ہوں اور حکم یہ ہے کہ اچھی بات آگے بڑھادو لہذا اس پر عمل کر نے کی کوشش کرتا ہوں۔

  7. میں ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کے مزید تبصروں کا منتظر ہوں ۔
    ہم سب کو ان سے بہت کچھ سیکھنا ہے اور بہت کچھ معلوم کرنا ہے۔
    خاص طور پر بھارت میںاردو کے مستقبل کے لیے وہ اور انکے رفقا جو کام کررہے ہیں ان کے بارے میں بھی بہت کچھ معلوم کرنا ہے ۔
    کیا وہ اپنی یونیورسٹی کے اردو زبان کے طلبا کو عالمی اخبار مین یونی کوڈ سے اردو لکھنے کی تاکید کررہے ہیں؟ کیا وہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو یونی کوڈ سکھارہے ہیں ؟
    بہت ساری مفید باتیں خواجہ اکرام صاحب سے اردو زبان ( فارسی رسم الخط ) کی بھارت میں بقا اور ترویج اور ترقی کے بارے میں معلوم کرنی ہیں۔

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *