<
ابھی ایک بلاگ میں بات ہو رہی تھی پاکستان کے کرنسی نوٹ پر قائد کی بجائے قید کی تصویر پر۔ اس خیال پر مشتمل ایک تصویر سیالکوٹ سے ایک نامور صحافی اور عالمی اخبار کے کرمفرما جناب طارق چغتائی صاحب نے ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کو بھجوائی تھی۔ ڈاکٹر صاحبہ نے یہ تصویر فدوی کو بھی بھجوائی تو سوچا کیوں نہ اسے الگ سے بلاگ میں لگا دیا جائے تا کہ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو کے قائل ہیں، وہ اس تصویر کو حقیقت کا جامہ ملنے سے پہلے جل تو جلال تو آئی بلا ٹال تو کی تسبیح پڑھنا شروع کر دیں۔ حکومتی ایوانوں میں بی بی نے قائد کی تصویر کو پہلے ہی پس پشت کر رکھا ہے، سو اب اگر کرنسی نوٹ پر ایسا ہوجائے تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں، تاہم صرف پشیمانی کی بات ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ویسے اگر کل کلاں ایسا نوٹ سچ مُچ جاری ہوجائے تو سٹیٹ بینک کو نوٹ پر عبارت یوں لکھنی چاہیئے کہ
“حصول ٹین پرسنٹ عین شرارت ہے”۔
آپ حضرات سے بھی گزارش ہے کہ اپنی قیمتی آراء سے مستفید فرمائیں تا کہ کل کلاں کو نوٹ چھاپنے کی نوبت آئے تو سٹیٹ بینک کو سارا کام پہلے سے تیار مل جائے۔۔۔۔۔

جزاک اللہ. پہلے شکریہ.سیالکوٹ کے صحافی جناب طارق چغتائی کا دوسرا ڈاکٹر نگہت نسیم کا جنہوں نے یہ مستقبل کا خوفناک کام بھائی مصباح کو بھیجا اور تیسرا شکریہ بھائی مصباح کا جنہوں نے اس کو بلاگ کی صروت دی. اب یہ کام جو ”قیمتی آراء” والا سرکار آپ نے ہم سب کے ذمے لگایا ہے تو پہلے ذرا سنبھل لینے دیجئے کہ ابھی تو اس نوٹ کو دیکھنے کے بعد ہاتھوں کے طوطے کیا کوے اور فاختائیں بھی اُڑ گئی ہیں اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ہے. جل تو جلال تو کا ورد تو اب جیسے بے اثر ہو چکا ہے کیونکہ یہ ورد چھوٹے موٹے عذابوں کے لیئے ہے. بڑے عذابوں کے لیئے اس فقیر نے ایک ورد چند ماہ پہلے خود تیار کیا تھا.
دژم دژالوں
دژم دژالوں
شنید ژانکہ کنید آدرش
نخ نخوشہ
میرے خدا اب کیا کریں .. خدا نہ کرےجو یہ کبھی سچ ہو .. سچ مجھے توگھبراہٹ میں سب دعائیں تو کیا ساری باتیں بھی بھول گئیں ہیں .. ..ٹھہریں میں زرا پانی پی کر آتی ہوں ..
یہ بھی کیا تعزیر مستقبل کی ہے
نوٹ پر تصویر مستقبل کی ہے
۔۔۔۔۔۔
ایک فقرہ جو لکھا ہے ”حال” کا
دوستو تحریرمستقبل کی ہے
۔۔۔۔۔
نوٹ پر ہے عکس ایک زردار کا
کیا یہی تقدیر مستقبل کی ہے
۔۔۔۔۔
قائد اعظم سدھارے ”نوٹ” سے
ہائے کیا توقیر مستقبل کی ہے
۔۔۔۔۔
دیکھنے کو یہ کرنسی نوٹ ہے
اصل میں تفسیر مستقبل کی ہے
۔۔۔۔۔
اے خدا اس راز کو کر منکشف
کیا کوئی تدبیر مستقبل کی ہے
۔۔۔۔
ہے یہ سب اعمال کی صفدر سزا
حال میں تشہیر مستقبل کی ہے
دیکھنے کو یہ کرنسی نوٹ ہے
اصل میں تفسیر مستقبل کی ہے
واہ واہ .. کیا کہنے .. حسب حال اور عمدہ ..
مصباح بھائی کے اس بلاگ اور بابا جی کی پر تفکر غزل کے بعد یہ نظم بھی انہی حالات کے پس منظر میں ہے .. جو آج ہی اسی وقت لکھی ہے … آپ سب کی بارگاہ فکر میں …. بہت دکھ اور رنج کے ساتھ ..
ہم اجتماعی خود کشی کر رہے ہیں
سوچتی ہوں کہ سوچنا سزا کیوں بن گیا ہے
سوچنا تو تفکرون تھا
حکمِ قرآن تھا
ورثہ انیبا تھا
پھر یہ سوچا سزا کیسے بن گیا
چاروں طرف ایک بے ہنگم سا شور ہے
اور اس شور میں
شعور بھی جیسے شور بن گیا ہے ۔۔
سنا ہے کل سرکار کے مخالفت میں نعرے لگے تھے
وہیں سرکاری ہرکارے اپنی جان بچانے میں لگے تھے
اور گھبرا کرمیں سوچتی رہی
بھلا یہ کوئی بتائے کہ نعروں سے پیٹ کیسے بھرے گا
پھر
سرکار ۔۔ سرکاری ٹی وی سب چل پڑے تھے
عوامی صدر ۔۔ اپنی عوام سے مخاطب تھا ۔۔
جھنجھلا رہی ہوں اب میں
جھوٹی باتیں روزانہ آخر میں کیوں سنتی ہوں
پرانے راگ ۔۔ پرانی باتیں ۔۔ پرانی چالیں
آخر کیوں میں ہر بار پہلو بدلتی ہوں
تقریر جاری تھی ۔۔
نامہ نگار بھی تھے ۔۔۔ سرکاری مہمان بھی تھے
اتنا شور کہ کسی کو کوئی شعور ہی نہیں رہا
روٹی کا زکر تھا نہ کہیں پانی کی بات تھی
کارخانے بند پڑے ہیں اور مزدور فاقہ زدہ ہے
لوگ بچے فروخت کر رہے ہیں
دوہزار دس میں پاکستان میں مصر کا بازار لگا ہے
“یوسف“ کے علاوہ سب بک رہا ہے
بچے۔عزت،غیرت،حمیت سب کچھ
مملکت اسلامی میں لوگ روٹی کے لیئے خود کشی کر رہے ہیں
یا اللہ
یہ تیرے عذاب کی کیسی صورت ہے
صدر نئے کاغذ پر لکھی برسوں پرانی تقریر کر رہا ہے
پرانی شراب نئے جام میں بدل رہا ہے
اور میں سوچ رہی ہوں
کہ
عوامی صدر نے اپنی عوام کے منہ پر بے حسی سے تھپڑ ماڑا
غریب روزگار کہاں سے لائے گا اس کا زکر کہیں نہیں
جن لوگوں کو مرلے دو مرلے کڑوڑوں دینے کی بات تھی
اس خوش نصیبی میں بیچاری عوام کا کہیں زکر نہیں
ہائے ۔۔ عوامی صدر تم نے دیکھا ہی نہیں
کھلے آسمان تلے بھوکے بچے ۔۔ مرتے بچے ۔۔
خودکشیاں کرتے بےبس لوگ ۔۔
بے حس ، بے ایمان نہیں تھے جو یوں مر گئے
مرنے والوں نے اپنے ہاتھ نہیں پھیلائے
تم جیسے بھیس نہیں بدلے
کسی کو دھوکے سے نہیں مارا
آہ !
بے حس عوامی صدر کی بے بس عوام ۔۔
شاید
ہم سب اجتماعی خود کشی کر رہے ہیں
(نگہت نسیم .سڈنی )
مجھے زوار حسین شاہ صاحب نے سڈنی سے ایک تبصرہ ارسال کیا ہے، فرماتے ہیں کہ زرداری اور زر تو ہیں ہی ایک دوسرے سے ہمیشہ کے لئے ملے ہوئے اور ناقابل جدائی ہیں۔ جب ان کے دل و نگاہ پر نوٹ نقش ہیں تو کیا ہوا اگر نوٹوں پر انکی صورت نظر آجائے تو۔ ویسے قائد اعظم کی تصویر رہے یا نہ رہے جب ان کی فکر کو پامال کر دیا گیا ہے تو اور کس غم کا رونا؟
کارخانے بند پڑے ہیں اور مزدور فاقہ زدہ ہے
لوگ بچے فروخت کر رہے ہیں
دوہزار دس میں پاکستان میں مصر کا بازار لگا ہے
“یوسف“ کے علاوہ سب بک رہا ہے
بچے۔عزت،غیرت،حمیت سب کچھ
مملکت اسلامی میں لوگ روٹی کے لیئے خود کشی کر رہے ہیں
یا اللہ
یہ تیرے عذاب کی کیسی صورت ہے
سمجھ میں نہیں آتا کہ اس پر واہ واہ کہا جائے یا ہائےہائے
میں بہت حیران ہوتا ہوں کہ اس صورت حال پر ہم جیسے طالب علم تو لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں لیکن وہ امجد اسلام امجد،عطا الحق قاسمی اور اسی قبیل کے اعزاز یافتہ شاعر ادیب کہاں ہیں.کیا انہیں یہ سب نظر نہیں آتا؟ کیا انکے شہروں میں خود کش حملے نہیں ہورہے،کیا انکے ہاں نوجوانوں کے لاشے نہیں اٹھ رہے؟ یا پھر سرکار دربار کی قربت نے انہیں عام آدمی سے دور کر دیا ہے
آغا جی اور آپی حقائق کی پردہ کشائی پر ممنون ہوں۔ کہیں کسی زمین میں تو یہ جملے، یہ باتیں، یہ مصرعے کوئی بیج ایسا بو دیں گے جو ذرا نم ملنے پر پھوٹ پڑے گا اور صحرا میں نخلستان کا نقطہء آغاز بنے گا۔
میں آج سے کوئی دو برس پہلے اک مضمون میں کہا تھا کہ کاش ذولفقار علی بھٹو اگر آج آ جائیں تو ہم انہیں بتائیں کہ یہ قوم اب روٹی کپڑا اور مکان نہیں صرف روٹی مانگتی ہے۔ کپڑے اور مکان کا مطالبہ اس قوم کے مزدوروں نے چھوڑ دیا ہے۔
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=misbah&article=249
5 کے نیہں 5000 کے نوٹ پر ملکی دولت کو دونوں ھاتھوں سے لوٹنے والے عالمی چور کی تصویر،،،، لاحول ولا قوۃ
حصول ٹین پرسنٹ عین شرارت ہے”۔ نئے بنکی فرمان کے بجاۓ میں محترم صفدررضا ھمدانی صاحب کا تجویز کردہ وظیفہ پڑھ رھی ھوں
دژم دژالوں
دژم دژالوں
شنید ژانکہ کنید آدرش
نخ نخوشہ
میں صرف ایک لطیفہ سناکر آپ کے اور اپنے ذہن کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہوں۔ویسے ایک بات کان میں بتادوں کہ بچہ سقہ نے بھی اپنے ایک دن کے راج میں اپنے نام کا چمڑے کا سکہ جاری کیا تھاجو تاریخ میں تو ہے، مگر کسی مو زیم میں نہیں پایا جاتا؟
چلیئے دل نہ جلا ئے وہ لطیفہ یہ ہے کہ ایوب خان کے دور میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری ہوا جس پر ایوب خان کی تصویر تھی ۔بعد میں شکایت ملی کہ وہ لفافے پر چپکتا نہیں ہے۔انکو ئری کمیشن بنایا گیا تو یہ انکشاف ہوا لوگ ٹکٹ پر سامنے کی طرف سے تھوک کر چپکانا چاہتے تھے جو ممکن نہ تھا۔ اور اب وہ ٹکٹ بھی بچہ سقہ کے سکےکی طرح کہیں دستیاب نہیں ہے۔
اے خدا اس راز کو کر منکشف
کیا کوئی تدبیر مستقبل کی ہے
۔۔۔۔
ہے یہ سب اعمال کی صفدر سزا
حال میں تشہیر مستقبل کی ہے
واہ واہ کلب کے اراکین کی جانب سے زبردست داد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی برمحل اور بروقت شاعری کیا کہنے ، سبحان اللہ
سبحان اللہ قبلہ جیلانی صاحب۔ آپ نے ساری پریشانی اک لمحے میں ہوا کر دی۔ خدا آپ کو سلامت رکھے۔
میری بھی ایک خواھش ھے کہ 5000 کے نوٹ کے بجاۓ موصوف کی تصویر والا ڈاک ٹکٹ جاری کردیا جاۓ ۔باقی کام لوگوں کا ھے
میری عزیز بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ،تمھاری یہ نظم بہت سارے دکھی دلوں کی آواز ھے
عوامی صدر نے اپنی عوام کے منہ پر بے حسی سے تھپڑ ماڑا
غریب روزگار کہاں سے لائے گا اس کا زکر کہیں نہیں
جن لوگوں کو مرلے دو مرلے کڑوڑوں دینے کی بات تھی
اس خوش نصیبی میں بیچاری عوام کا کہیں زکر نہیں
ہائے ۔۔ عوامی صدر تم نے دیکھا ہی نہیں
کھلے آسمان تلے بھوکے بچے ۔۔ مرتے بچے ۔۔
خودکشیاں کرتے بےبس لوگ ۔۔
بے حس ، بے ایمان نہیں تھے جو یوں مر گئے
مرنے والوں نے اپنے ہاتھ نہیں پھیلائے
تم جیسے بھیس نہیں بدلے
کسی کو دھوکے سے نہیں مارا
آہ !
بے حس عوامی صدر کی بے بس عوام ۔۔
شاید
ہم سب اجتماعی خود کشی کر رہے ہیں
واہ واہ شمس بھائی کمال کی بات بتائی .. اور شاہین واقعی اب دل چاہ رہاہے کہ 5000 کے نوٹ کے بجاۓ موصوف کی تصویر والا ڈاک ٹکٹ جاری کردیا جاۓ ۔باقی کام لوگوں کا اور ہمارا ہے …
زوار حسین شاہ صاحب نے بات انتہائی قابل غور کی ہے کہ جب قائد اعظم کی فکر کو پامال کر دیا گیا ہے تو اب ان کی تصویر رہے یا نہ رہے بھلا کیا رونا ہے …. کس قدر تلخ حقیقت ہے …
بھائیو اور بہنو، دل زیادہ خراب مت کریں۔ انٹر نیٹ پر ایک اور تصویر عرصہ دراز سے چل رہی ہے، اور عین ممکن ہے کرنسی نوٹ کی دوسری طرف یہی تصویر آ جائے۔ ذرا دیکھیں تو۔۔۔۔
ہاہا ہا .. مصباح بھائی تسلی دینا تو کوئی آپ سے سیکھے … واہ .. سچ طبیعیت میں کچھ افاقہ ہوا ہے یہ تصویر دیکھ کر .. کاش یہ تصویر پاکستان کی ہرگلی کی ہر دیوار پر کوئی لگا دے … اور جیلوں میں ضرور ہی لگائی جائے … اور تصویر کے نیچے لکھا ہو
“حصول ٹین پرسنٹ عین زلت ہے “..
مصباح بھائی اور بہن نگہت پسندیدگی کا شکریہ!اب مصباح بھائی آپ نے تصویر کا دوسرا رخ پیش کردیا ہے۔
اس پر بھی تبصرہ مطلوب ہے ! ویسے تو یہ تصویر ماضی کی دکھا ئی دیتی ہے لیکن اس میں یہ پیغام پنہاں ہے کہ اگر کوئی ماضی سے سبق نہ سیکھے تو یہ مستقبل بھی بن سکتا ہے۔ ایک مشہور شعر پر تصرف پیش خدمت ہے
لوگ ایسے بٹہ ہیں حکراں کے ناموں پر
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں پر؟
مصباح بھائی آپ نے تصویر کا دوسرا رخ لگا کر بہت اچھا کیا … جن بہن بھائیوں کو اس پر اعتراض ہو گا ان کے لئے ہمارے قابل صد احترام بھائی شمس نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ
لوگ ایسے بٹہ ہیں حکراں کے ناموں پر
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں پر؟
میرا دل چاہ رہا ہے کاش کہ کوئی اس تصویر پر اعتراض کرے اور میں شان بے نیازی سے کندھے اچکا کر کہوں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں پر؟ …
مصباح بھائی ویسے بابا جی صحیح فرماتے ہیں کہ حکومت میں ہونا خود ایک گالی ہے … سوچتی ہوں کہ اس ملک نے کیسے کیسے پڑھ لکھے ہیرے موتیوں جیسے لوگ مٹی میں رول دئے ہیں .. اور آج پڑھی لکھی باشعور عوام پر جاہل جعلی ڈگریوں والے بیٹھے کس دھڑلے سے قائد سے لے کر بے بس عوام کی ڈگریوں کی تفتیش میں لگے ہیں …
گھن آتی ہے مجھے یہ سوچ کر بھی کہ اس کرسی کو زرداری جیسا صدر ناپاک کر رہا ہے … یہ تصویر تو انتہائی معصوم سی ہے ورنہ جو حال عوامی صدر نے پاکستان کا کیا ہے اس کی سزا اس سے بھی بھیانک ہونی چاہئے …
انشاللہ ضرور ہو گی … بس آہ کو عمر چاھیئے اثر ہونے تک .. اور مصباح بھائی 63 سال کی عمر کم نہیں ہوتی .. اس 63 برسوں میں پاکستان نے ہر لمحہ آہ بھری ہے .. صرف آہ !
دیر سے شامل ہونے پر معزرت لیکن صدمہ اتنا سخت تھا کہ سنبھلنے میں وقت لگ گیا ۔اآپ سب حضرات کی رائے ۔دکھ اور جزبات اپنی جگہ وہاں تو کانوں میں سیسہ پلا دیا گیا ہے تو ہم اور اآپ مجبور اور بے کس لوگ صرف سر دُھن سکتے ہیں ۔ہم تو ہر جگہ محترمہ کے نام سے منصوب ہوتے سن کر بھی اس خوف میں مبتلا ہیں کہ بقیہ وقت جو باقی بچا ہے اسمیں کہیں ہم سب بےنظیرستان نہ ہو جائیں ۔
اس تصویر نے مجھے ایسی دحشت میں مبتلا کر دیا ہے کہ کہ افاقے کے لئے تسبیح ہاتھ میں ہے اور سر سجدے میں کہ پناہ وہیں سے ملے گی ۔
آپ سب کے تبصرے بے حد جاندار ہیں اور ان کو پڑھنے کے بعد ہی میری بھی ہمت بڑھی کہ اپنا حصہ بھی ڈال دوں ۔
جناب شمس بھائی زخموں پر مرہم لگانے کا فن جانتے ہیں ۔
نگہت آپ کی نظم بھی خوب ہے اور باقی سب حظرات کا شکریہ کہ ان کی تھریروں نے مداوا کیا ۔
جوہوگا دیکھا جائے گا
جب اوکھلی میں سر دیا تو موصلوں کا کیا ڈڑ
لکھنے میں غلطیوں پر معافی کہ کچھ نظر نہیں اآتا کہ کیا لکھ رہی ہوں ۔
اتفاق سے جیو ٹی وی کے ایک مزاحیہ میز بان عمر شریف نے اپنے 4 جولائی 2010 کے “ شریف شو“ میں بھی ایک بات کہی کہ حکومت پاکستان کو چاپیے کہ رشوت ، حرام کی کمائی ، چوری اور چور بازاری اور ہر قسم کی بدکاری اور پیراپھیری کے لیے ایک خاص قسم کا نوٹ جاری کیا جائے جس پر بجائے قائد اعظم کی تصویر کے ، کسی بد کار اور بد چلن اور چور اور غاصب کی تصویر ہو ۔
عمر شریف نے کسی خاص شخص کی تصویر کو اس قسم کے نوٹ کے لیے تجویز نہیں کیا ،
ا س کا کہنا یہ تھا کہ اس طرح قائد آعظم کی تصویر والے نوٹوں کو ان برے کاموں سے دور ہی رکھا جائے تو بہتر ہے۔
آج اس بلاگ کو پڑھکر اور اس بلاگ کے عنوان کے ساتھ چھپنے والی ایک فرد کی تصویر کو دیکھکر ایسا محسوس ہوتاہے کہ یہ تصویر اس نوٹ کے معیار کی پوری پوری عکاسی کرتی ہے۔
وڈ ے وڈے مولکاں وچ اے چھوٹے چھوٹے کم ہوندے رہندے نے۔ کیو ن کہ حکومت جدی ۔مج اودی۔ باقی گل مقدراں تے رہن دے
میری تمام بہن بھائیوں سے گزارش ہے کہ مصباح بھائی کا آج کا کالم جو ہمیشہ رہ جانے والا کالم ہے “جہالت کی باقیات ” ضرور پڑھیں .. یقین کریں یہ تحریر تحفہ ہے ہم سب کے لئے …
بھائی اس یملے نے مجھے بھی کملی کر دیا ۔۔۔ کیاخوب کہا کہ بھئی جب پوری قوم زبان کے نام پر منقسم ہے تو دہشت گردوں کابھی تو حق بنتا ہے ناں کہ خود کو لسانی و قومی بنیادوں پر تقسیم کر لیں“ اور اس جملے نے تو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ “تم امن صرف اپنی جان بچنے کو کہتے ہو “ ۔۔
اور یہ جملہ بطور خاص ہر وقت ساتھ رکھنے کا ہے ۔۔“کوئی مر جائے تو اسکا افسوس کرتے تھکتے نہیں ہو لیکن اپنا ضمیر روز مارتے ہو پر اسکا ماتم نہیں کرتے “ ۔۔۔ سائیں یملے کو اس بار ملیں تو میرا سلام ضرور دیجئے گا ۔۔ اور کہئے گا کہ ہمیں ان کی یہ منطق دل کو لگی کہ “ کسی اور کو جھوٹ پر مجبور کیوں کریں؟ “
بہت ساری دعاؤں کے ساتھ آپ دونوں کی لمبی عمر کی دعائیں ۔۔۔
اسی کو تو کہتے ہیں”دیوانہ بکار خوایش ہشیار” یملے نے وہ کمال کیا کہ مجھے 1982 کا اسلام آباد ریڈیو کا اپنا وہ پروگرام یاد آ گیا جو میں عالمی سروس کے لیئے کرتا تھا”ن سے نادان” یہ چار پانچ آوازوں کا پروگرام تھا جو میں اکیلا کرتا تھا۔ یوں لگتا ہے کہ میرا نادان مصباح کے یملے سے برسوں پہلے پیدا ہوا تھا اور ہو سکتا ہے کہ یملے کے آباؤ اجداد میں سے ہو۔ ن سے نادان کی کچھ ریکاردنگ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے کبھی موقع ملا تو اسے نزر سامعین و قارئین کرؤں گا۔
مصباح جی یہ بات تو صرف زندہ ضمیر ہی کر سکتا ہے۔ اپنے اندر کے یملے کو محفوظ رکھیں ہمیں اسکی حیاتی کی ضرورت ہے
“کوئی مر جائے تو اسکا افسوس کرتے تھکتے نہیں ہو لیکن اپنا ضمیر روز مارتے ہو پر اسکا ماتم نہیں کرتے”
یہ ایک فقرہ نہیں پورا مرثیہ ہے اور امت مرحوم کا نوحہ ہے
ضمیر خان کے مرنے پر سینہ زن سارے
ضمیر مرتا ہے ماتم کوئی نہیں کرتا
۔۔۔۔
چھڑکتے رہتے ہیں احباب بھی نمک صفدر
ہمارے زخموں کا مرہم کوئی نہیں کرتا
میرے حافظے کے مطابق کئی سال پہلے ریڈیو پاکستان کی عالمی سروس کا “ ن سے نادان “ والا پروگرام مردانی اور نسوانی آوازوں پر مشتمل ہوا کرتاتھا ۔اور میں اس پروگرام کو بڑے انہماک سے جرمنی میں سنا کرتا تھا۔
اس پروگرام کے شروع اور آخر میں ( میرے حافظے کے مطابق ) صفدر ھمدانی صاحب کا نام بھی بحیثیت مہمان آجایا کرتا تھا۔
اگر صفدر ھمدانی صاحب ُاس پروگرام کی ریکارڈنگ اس بلاگ میں چسپاں کردیں تو یاد تازہ ہوجایےگی ۔
اسلام علیکم
واہ مصباح بھائی کمال کا کالم ہے اور دل کو چھو لینے والا خاصکر یملے کی بات ہمیں شرمندہ کر گئی کہ۔ “یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ہمیشہ ان ہی نا اہلوں کی نسلوں کو ووٹ دیتے چلے آتے ہو ۔یہ امن کا فروغ ہے یا بد امنی کا “
میرا ایک شعر حاضر ہے
عقل حیراں ہے کہاں جائوں کسے الزام دوں
ووٹ تو میرا تھا پھر کس کو میں دشنام دوں
مصباح بھائی جیتے رہئے اور اسی طرح خوبصورت تحریروں سے ہہمیں نوازتے رہئے
جزاک اللہ
اکثر سوچتا ہوں کہ نہ جانے کیا ہو گیا ہم پاکستانی عوام کو کہ غور و فکر ، سمجھ بوجھ، اچھائی برائی، حلال و حرام کے معنی بھولتے جا رہے ہیں، ہماری قوّت برداشت بالکل ختم ہو چکی ہے، ہر کام اور بات پر انتہائی جذباتی اور خود پسند فیصلے کرنے یا سننے کی عادت پختہ ہوتی جا رہی ہے، اور نفسا نفسی کی بھاگ دوڑ میں ہم اکثر و بیشتر انصاف کے ترازو کی بے ادبی کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔
ہم کسی ایک کھلاڑی کی تعریف میں تو اس کے صرف ایک گول کو نسل در نسل یاد رکھتے ہیں، مگر دوسری طرف ہر میچ میں درجنوں گول کرنے والے کھلاڑی کا ہمیں نام اور کام ہی یاد نہیں رہتا ۔ اسی طرح 63 برس پہلے کے صرف ایک کام کرنے والے کو ہم آج تک یاد رکھے ہوئے ہیں، جبکہ آج سینکڑوں اچھے کام کرنے والے ہیرو کی تصویر دیکھ کر ہم جل جاتے ہیں۔ یہ سخت نا انصافی ہے ۔
اب غور کریں اس بات پر کہ محمّد علی جناح نے ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو کیا دیا ? یہی ناں کہ صرف اور صرف ایک عدد پاکستان ، مگر ہم نے محمّد علی جناح کے سر پر قائد اعظم کا تاج سجایا، پھر قائد اعظم محمّد علی جناح کی تصویر پاکستانی کرنسی پر چھاپ کر پاکستانی عوام کو انکی روزانہ زیارت کی روایت کا پابند بھی بنا دیا، ہر سرکاری دفتر میں قائد اعظم کی تصویر خوبصورت دیواری فریم میں لگانے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا، صرف ایک پاکستان دینے والے قائد اعظم محمّد علی جناح کو ہر پاکستانی اتنی عزّت دیتا ہے کہ مشکل ترین، جائز نا جائز اور نا ممکن کام کے کروانے کیلئے آپکی تصویر کی ایک جھلک سے برسوں کا کام ایک منٹ میں ہو جاتا ہے۔ اور یہ اتنی بڑی عزّت ہم اسے دیتے ہیں جس نے ہمیں صرف اور صرف ایک عدد پاکستان دیا ۔
دوسری جانب اس ملک کے عوامی رہنما المعروف ذرد آری نے بچت کرنے کی عادت ڈالنے کی عوامی مہم میں بغیر صابن سوڈے کے عوام کی چمڑی سے میل اتارنے، ملکی دولت کو ڈکیتی اور لوٹ مار کے سیلاب سے بچانے کیلئے سمندر پار ملکوں میں محفوظ کرنے اور دیگر ہمہ اقسام عوامی خدمات انجام دینے کی پاداش میں عوام دشمنوں کی سازش اور ملی بھگت کی وجہ سے برسوں جیل کے شب و روز کی سختیاں جھیلیں ، باالآخر اسی پاکستان کے صحت مند گدھ نما قصاب سرداروں، لٹیروں، وڈیروں کے قیمہ بنانے والے ٹوکوں یا جعلی ووٹوں سے منتخب ہونے والے رحمدل بادشاہ محترم جناب آصف علی بھٹّو ذرد آری نے ایک مرتبہ پھر یہاں کے بے حال عوام کو حسب وعدہ آئی ایم ایف کی روٹی مفت، کفن کیلئے ایدھی کا کپڑا مفت ، رہنے کیلئے مقبرہ مفت، بے چینی کی چینی مفت، ڈاکؤوں اور چوروں کو پکڑ سے بچانے کیلئے اندھیرے مفت، دوستی میں عہدوں کے تحفے مفت، پلاٹ و پرمٹ مفت ، ملک میں پیسے کی بچت کیلئے عوامی اخراجات پر کنٹرول کیلئے مہنگائی کا سایہ مفت، بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے ڈرون کیپسولوں کی عوام پر مفت بارش ، خود کشی کی حوصلہ افزائی اور تراکیب مفت، اور لاتعداد فوائد فل اسکیموں کا اعلان کر کے قوم کو ایک روشن و تابناک مستقبل دینے کا وعدہ کیا ۔
علاوہ ازیں بی بی جی کی طرف سے ذرد آری کو گدی نشین بنانے پر شکریہ ادا کرنے اور ان کی پاکستان کیلئے بے شمار کارہائے نمایاں اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی خاطر پاکستان میں جگہ جگہ شہروں، شاہراہوں، ائیرپورٹوں، قبرستانوں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، فلاحی اداروں، ذاتی اور خاندانی حکومت کی درجنوں عوامی بھلائی کی اسکیموں کو بھی انکے مکرّم نام شہید بے نظیر بھٹو سے موسوم کیا، یہاں تک کہ نسل در نسل عوامی خدمت کے سلسلے کو جاری رکھنے کیلئے اپنی اولاد کو بھی آری سے بچا کر بی بی جی کے بھٹو خاندان سے نتھی کر دیا اور یہ محبت، عقیدت، قربانی کی لازوال مثال ہے ۔
بڑے بے انصاف اور خود پسند ہیں ہم لوگ جنہوں نے محترم آصف علی ذرد آری بھٹّو کی تصویر کو پانچ ہزار 5000 والے بڑے نوٹ چھاپا، تا اس پاکستان کے صرف 2 فیصد عوام ہی آپ کا دیدار کرسکیں ۔
ایسے عظیم لیڈر کی شان بلند کرنے اور تاریخ میں ان کے کارناموں کو سنہری الفاظ سے لکھنے اور ہمیشہ اچھی تعریف کے ساتھ یاد کرنے کیلئے انہیں قائد عظیم کا خطاب دینے کے ساتھ ساتھ آئیندہ 63 سال کیلئے ان کی مبارک تصویر پاکستان کی ہر چھوٹی کرنسی پر لگانی چاہئے، مذید برآں تمام سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں، کھیل کے میدانوں، دوکانوں کی چھتوں اور دیواروں پر ذرد آری صاحب کی تصویر لازماً لگانے کیلئے آئینی ترمیم پاس کی جائے تا کہ نئی آنے والی 98 فیصد پاکستانی قوم ان کی زیارت سے بار بار مستفید ہوتی رہیے کیونکہ موجودہ قوم تو انہیں زندہ دیکھ دیکھ کر قبرستان کے گیٹ تک پہنچ چکی ہے ۔
پارلیمنٹ میں عوام کی مردہ ھڈیوں سے بنے بنچوں پر بیٹھے اور قوم کے خون و گوشت سے پلے ہوئے نسل در نسل گدھ نما جعلی درندوں سے نیم مردہ عوام کی گزارش ہے کہ وہ اپنے ذرد آری بادشاہ کی شان و عظمت بلند کرنے کیلئے ایک آئینی ترمیم پاس کروائیں، جس میں ہر چھوٹی بڑی کرنسی (نوٹ، سکّہ) پر انکے مذکورہ بادشاہ کی چمکدار تصویر بھی ہو تا کہ بڑے مگر مچھوں کے ساتھ مجھ جیسا غریب بھی انکی زیارت سے فیضیاب ہو سکے ۔
جناب مصباح صاحب ،
’میرے مطابق‘ پاک کرنسی کی کسی بھی مالیت کے نوٹ پہ زرداری کی تصویر سے نقلی نوٹوں کی پہچان آسان ہو جائے گی۔ شاید یہی سوچ کار فرما ہو اس نئے نوٹ کے اجراء پہ بھی۔
ویسے عالمی اصول ہے جہاں اچھائی ہوگی وہاں برائی بھی ہوگی، اگر نیکی ہوگی تو ہمراہ بدی بھی ہوگی، جہاں نیند ہوگی ساتھ بیداری بھی ہوگی ، تو پھر کیا وجہ ہے جہاں زرداری ہو وہاں غداری نہ ہو ؟ جہاں قائد اعظم کا نام آئے وہاں ’ قائد ہضم‘ کا نہ آئے ؟
شہر ہضم، ملک ہضم
پیسہ ختم ، کھیل ختم
نوٹوں پہ بھی میرے ٹھپے
کھپے کھپے پاکستان کھپے
میرا خیال ہے حکومتِ پاکستان کو براک حسین اوباما کی تصویر کے ساتھ ٹکٹ ضرور جاری کرنا چاہئے۔ حسین ہمارے لئے اچھا نام ہے۔