اسلام آباد سے محترمہ بہن عرشی ملک صاحبہ کا تازہ بہے خون پر خون کے آنسو بہا دینے والا تازہ کلام
داتا دربار پر حملہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از: محترمہ ارشاد عرشی ملک، اسلام آباد پاکستان
اب کے داتا کا بھی دربار لہو رنگ ہوا
یہ وہ دربار کہ جو امن کا گہوارہ تھا
یہ وہ دربار جو الفت کا رواں دھارا تھا
جو غریبو ں کو امیروں کو بہت پیارا تھا
………………………………
یہ وہ دربار کہ جس تک تھی رسائی سب کی
یہ وہ دربار جو سنتا تھا دہائی سب کی
جہاں مذہب کو نہ مسلک کو تھا پرکھا جاتا
نہ حسب کو، نہ نسب کو ، جہاں دیکھا جاتا
جہاں غربت ، نہ امارت کی تھی تفریق کوئی
جہاں زر دار، نہ بے زر کی تھی تحقیق کوئی
کوئی دیوان ، جہاں ، خاص نہ تھا ، عام نہ تھا
نام والا نہ تھا کوئی ، کوئی بے نام نہ تھا
چین ہی چین تھا ، ہنگامہء ایاّم نہ تھا
…………………………..
جوق در جوق چلی آتی تھی خلقت ساری
آس و اُمید کا، خوراک کا لنگر جاری
بھوک مٹ جاتی دل و پیٹ کی باری باری
کتنی صدیوں سے تھا روشن ، یہ محبت کا چراغ
زرد موسم میں بھی سرسبز رہا ، عشق کا باغ
دہریے بھی یہاں پاتے تھے عقیدت کا سراغ
………………………………….
کس نے کاٹی ہیں یہاں آکے سروں کی فصلیں
کون انساں کی مٹانے پہ تُلا ہے نسلیں
باڑ نفرت کی سرِ راہ اگانے والو
خانقاہوں پہ جلے دیپ بجھانے والو
قتل کی رسم سرِ راہ چلانے والو
بو میں بارود کی جنت کو کمانے والو
خو د کشی کر کے بڑا جشن منانے والو
………………………………
تم کہ کرتے ہو ،عقیدوں کی بنا پر حملہ
اب کے تو تم نے کیا ، بادِ صبا پر حملہ
مردِ درویش کے ، پیغام ِبقا پر حملہ
ایک صوفی کی محبت کی صدا پر حملہ
یہ تو حملہ ہے عقیدت پہ، وفا پر حملہ
آس و اُمید پہ اور حرفِ دعا پر حملہ
دلِ مظلوم کی ہاں آہِ رسا پر حملہ
مار پائیں نہیں جس شخص کو صدیاں عرشی
کس لئے کرتے ہو اُس مردِ خدا پر حملہ

تم کہ کرتے ہو ،عقیدوں کی بنا پر حملہ
اب کے تو تم نے کیا ، بادِ صبا پر حملہ
مردِ درویش کے ، پیغام ِبقا پر حملہ
ایک صوفی کی محبت کی صدا پر حملہ
یہ تو حملہ ہے عقیدت پہ، وفا پر حملہ
آس و اُمید پہ اور حرفِ دعا پر حملہ
دلِ مظلوم کی ہاں آہِ رسا پر حملہ
مار پائیں نہیں جس شخص کو صدیاں عرشی
کس لئے کرتے ہو اُس مردِ خدا پر حملہ
بہت ہی شاندار
جواب نہیں
واقعی آپ نے اولیائے کرام کے حوالے
سے صحیح جزبات کی ترجمانی کی ہے
اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے
بہت خوب بہن عرشی ملک
واقعئی ہمارے پاس سوائے خون کے آنسو بہانے کے کچھ نہیں ہے ۔
مگر ہم مایوس نہیں ہیں کہ وہ مالک کُل ہم جیسے لوگوں کی پکار سنے گا اور ہمیں اس مشکل سے ضرور نکال دے گا مگر ایک حقیقت اور بھی ہے ک جب تک ہم سب مل کر خود کو بدلنے کی کوشش نہیں کرینگے کچھ نہیں بدلے گا ۔اور قلم ہی وہ طاقت ہے جو جاہلوں کو دبا سکتی ہے ۔تو ہم اور آپ اسی سے جہاد کے کرتے ہیں اس طلم کے خلاف ۔
اللہ آپ کے قلم میں اور طاقت دے ۔
اللہ میرے ملک کا اور اس میں رہنے والون کا حامی و ناصر ہو
واہ واہ ..مرحبا عرشی آپا…
مناف بھائی کا سب سے زیادہ شکریہ جنہوں نے اس نظم کو یونی کوڈ میں لکھا اور ہم سب تک پہنچایا .. کاش عرشی آپا یونی کوڈ میں لکھا کریں .. آپا آپ کوشش تو کریں … جیسے آپ ان پیج میں لکھتی ہیں اسی طرح تو اردو ایڑیٹر میں لکھا جاتا ہے .
لیجئے میں آپ کو آسان سے ترکیب بتائے دیتی ہوں آپ بلاگ میں تبصرے تو یہاں ٹائپ کرتی ہیں نا .. اسی طرح اپنی پوری نظم بھی ٹائپ کر لیں .. اور اسے جی میل میں کاپی پیسٹ کر کے بھجوا دیں .. ہم اسے آسانی سے یہاں لگا دیں گے .. ..یقین مانئے میں نے صرف ایک روز میں سیکھا ہے … آپ کو تو وہ بھی نہیں لگے گا .. اس کا مجھے یقین ہے .. کیونکہ آپ کی ان پیج میں لکھنے کی پریکٹس ہے جو مجھے نہیں تھی .اس لئے مجھے نئے سرے سے الف ب سیکھنی پڑی تھی .
پھر دوسرا مرحلہ یہ ہو گا کہ میں آپ کو بلاگ پیسٹ کرنا بتا دونگی .. بس کوئی مشکل ہی نہیں … سارے کام آپ خود اپنی مرضی سے جب چاہے کر سکیں گی .. ہم سب لوگ باہر … کیسا ہے … ہے نا مزے کی بات …
ڈاکٹر صاحبہ یہ آپ عرشی کو کیسا مشکل کام بتا رہی ہیں. یہ تو زمین پر جنتی ہیں.انکو اللہ پاک نے دو چھوڑ تین تین کاتب دیئے ہیں انکو بھلا کیوں اس یونی کوڈ اور بلاگ لکھنے کے عذاب میں ڈال رہی ہیں آپ. یہ کام تو ہم جیسے معمولی اور عام لوگوں کا ہے. اور ویسے بھی عرشی یہ کہتی ہیں کہ یہ چیزیں میں شائع کرنے کے لیئے نہیں ارسال کرتی وہ تو جنکو ارسال کرتی ہیں وہ لوگ از راہ ”محبت” لگا دیتے ہیں.
اب وہ شاعری کر رہی ہیں کیا یہی کیا کم ہے؟
مار پائیں نہیں جس شخص کو صدیاں عرشی
کس لئے کرتے ہو اُس مردِ خدا پر حملہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندہ باد عرشی جی۔ سبحان اللہ۔
عرشی آپا۔۔ سلامت رھیں آپ اور عزيز بہن ڈاکٹر نگہت ھمیشہ نیکی کے کام کرنے میں سبقت لے جاتی ھیں ۔ اجرکم اللہ
میرے عزیز بھائ عبدالمناف اس کارخیرمیں بھی سبقت لے گۓ ۔ میں اسی لیے اتنے، مان اور فخر سے کہتی ھوں کہ آپ سب مجھے کنبے کی طرح عزیز ھیں
عرشی آپا داتا دربار پر حملہ کرنے والے کی جتنی مذمت کی جاۓ کم ھے ۔
سید علی بن عثمان الجلالی الغزنوی المعروف داتا گنج بخش کا صد سو سالہ مزار بھی ان انسانیت اور اسلام دشمن دھشت گردوں کے شر سے محفوظ نیہن رھا۔۔ ۔ ھم سب پہچانتے ھیں کہ یہ سب کون،، کہاں سے تعلق ھے کہاں مقیم ھیں ھیں کہاں سے سرمایہ آرھا ھے ۔
ھم اپنے دشمنوں کو خوب اچھی طرح پہچانتے ھیں
پاکشتان کے اسلام کے امن وامان کے دشمن ۔
مقامی اور غیرملکی شدت پسند ، شمالی وزیر ستان اور ۔جنوبی وزیرستان میں موجود خطرناک اسلام دشمن قوتیں پنجابی طالبان ، کالعدم تنظیمیں ۔ القاعدہ، لشکر جھگنوی ۔ جیش محمد۔ عربی ۔ ازبکی افغانی دھشت گرد پاکستان کے بے گناہ لوگوں کے لیے عذاب بن گۓ
یہ سب پاکستان کے دشمن ھیں ۔۔ مساجد، مدارس، اور مقدس ااماکن پر حملہ کرنے والے بےگناھوں کے خون سے منبر ومسجد کو بےگناہ عبادت گزاروں کے خون ناحق سے رنگنے والے جاھل بے بصیرت ، سفاک خونی درندے ھر شہر میں موجود عبادت گاھون کو نقصان پہنچارھے ھیں
میرے اللہ ھم سب پر رحم فرماء ان درندوں کو نیست و نابود کردے۔
لوگ مسجد عبادت گاھوں میں کفن سر پر باندھ کر جارھے ھیں ۔ ھر کوچہ میں کہرام مچا ھے
ھر گھر ماتم کدہ بن چکا ھے
ھر انکھہ اشک بار ھے
ھر دل افسردہ ھے
اے خالق منعم ۔
ان ظالمون کے شر سے ھم سب کو امان میں رکھہ
جوق در جوق چلی آتی تھی خلقت ساری
آس و اُمید کا، خوراک کا لنگر جاری
بھوک مٹ جاتی دل و پیٹ کی باری باری
کتنی صدیوں سے تھا روشن ، یہ محبت کا چراغ
زرد موسم میں بھی سرسبز رہا ، عشق کا باغ
دہریے بھی یہاں پاتے تھے عقیدت کا سراغ
مجھے بھی اس بات سے شدید دکھہ ھوا کہ داتا کا دربار تو ھر خاص و عام کے لیے بہت عقیدت کی جاء تھی لاکھوں زائرن بلا تفریق و مذھب و مسلک یہاں آتے تھے ۔ اور جس بات نے میری بھی بھوک پیاس آڑادی کہ روزآنہ داتا دربار تر 5 ھزار دیگیں دیگیں پکتی تھیں اور لاکھوں ضرورت مند اس لنگر سےفیض یاب ھوتے تھے۔، دھشت گردی کے بعد لنگر کا سلسلہ بھی جاری نیہں ھوا ھے مین تو یہ سوچ کر ھی دل گرفتہ ھوں کہ داتا کے دربار سے رزق پانے والے لاکھوں لوگ بھوکے پیاسے سوۓ ھونگے۔۔ ۔
اس موضوع پر احمد بھائی نے بہت ہی خوبصورت اور معلوماتی مضمون لکھا ہے .. اپنے تمام پڑھنے والوں سے درخواست ہے ایک بار ضرور پڑھیں .. عنوان ہے “اب کے داتا کا بھی دربار لہو رنگ ہوا۔از؛ محمد احمد ترازی اور لنک بھی حاضر ہے ..
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=interviews&article=15957
شاہین میں تمہاری نظروں کے حسن تک کبھی پہنچ ہی نہیں سکتی … سو پیاری دوست جیو اور جینے کی امنگ یونہی بانٹتی رہو …اللہ پاک ہم سب کو محبتیں اور شفقتیں بانٹنے والوں میں رکھے ..آمین
عرشی آپا تو میری لاڈلی آپا ہے .. سو وہ ہمارے لاڈ اٹھاتی ہیں اور ہم سب ان کے … ہمارے لئے ان کا یہاں آ جانا ہی بہت ہے .. لیکن آپا میں بھی آپ کو بلاگ لکھنا سکھا کر ہی رہونگی … ارے سب بولیں ..آمین ..
نگہت بہن ! آپ عرشی بہن کو بلاگ لکھنا ضرور سکھائیں
لیکن یونی کوڈ والے چکروں میں ڈال کر ہمیں غریبوں، گنہگاروں کو تھوڑے سے کام کے بدلے بہت سارے ثواب سے محروم نہ کیجیے
بقول آغا صاحب :
“ان کو بھلا کیوں اس یونی کوڈ اور بلاگ لکھنے کے عذاب میں ڈال رہی ہیں آپ. یہ کام تو ہم جیسے معمولی اور عام لوگوں کا ہے”. اور
“اب وہ شاعری کر رہی ہیں کیا یہی کیا کم ہے؟ ”
میں عرشی بہن کا ہم لوگوں سے لگاتار رابطہ رکھنے کو بھی غنیمت جانتا ہوں، پوچھ لیجیے آغا ہمدانی صاحب قبلہ سے کہ کئی بار انہیں بھی التجا کرچکا ہوں کہ “عالمی اخبار” کی ذمہ داریاں کسی اور کو سونپ دیں کیوں کہ آغا صاحب کا اصل کام (یعنی شاعری) بہت بُری طرح متاثر ہورہا ہے، میری نظر میں آغا صاحب کی شاعری میں رکاوٹ در اصل قوم کا نقصان ہے، ناقابلِ تلافی نقصان-
مناف بھائی آپ کی بات سر آنکھوں پر .. لیجئے میں اپنے ارادے واپس لیتی ہوں .. عرشی آپا کا مقام و مرتبہ واقعی اتنا بڑا ہے کہ ان کا ہم لوگوں سے لگاتار رابطہ رکھنا بھی غنیمت ہے .. رہی بات بابا کی تو میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ان پر اخبار کی زمہ داریاں کم سے کم ہوتی جائیں تاکہ وہ سکون سے اپنا تخلیقی کام کر سکیں .. لیکن بابا اور کام لازم و ملزوم ہیں .. وہ تو ائر پورٹ کے لاؤنج سے بھی اخبار کی سرخیاں ٹھیک کر رے ہوتے ہیں … اب بتائیں کیا کیا جائے .. ہماری ٹیم اب ماشاللہ بہت فعال ہے .. اور مجھے بہت امید ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کا ہاتھ پہلے سے زیادہ بٹا سکیں گے …
ڈاکٹر صاحبہ. مناف بھائی کے ثواب کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہیں آپ. رہی عرشی صاحبہ کی بات تو وہ ہماری طرح فارغ نہیں ہیں. میں انہیں تیس پینتیس برس سے جانتا ہوں وہ ہمیشہ مصروف رہی ہیں. مجھے تو یہ بھی علم نہیں کہ وہ یہ تبصرے بھی پڑھتی ہیں یا نہیں. کیونکہ اگر پڑھتی ہوتیں تو کم از کم دو لفظ تو لکھ دیتیں. اس لیے انہیں حق اللہ میں مصروف رہنے دیں. یہ کام ملکہ مکھی کا نہیں کارکن مکھیوں کا ہے آپ اور میرے جیسی.
پیاری نگہت ! میں ہمیشہ کی طرح آپ سب کی محبتوں اور احسانوں کے نیچے ہوں۔
اور تم جو ہر لمبی غیر حاضری کے بعد مجھے جھنجوڑ کر ہلاتی اور جگاتی ہو،(اس کے لئے بھی میں بہت احسان مند ہوں۔
گو کہ ایک آدھ ہنکارا بھر کر کروٹ بدل کر میں دوبارہ سو جاتی ہوں)۔کیا کروں شائد یہ کوئی ایسی فنی خرابی مجھ میں ہے جس کا علاج ممکن نہیں۔
مناف بھائی کا بہت شکریہ جنہوں نے مجھ ناچیز کی تازہ نظم کو یونی کوڈ میں بدل کر عالمی اخبار کی زینت بنایا۔
اور ان سب مہربانوں کا شکریہ جنہوں نےاس پر تبصرے لکھ کر میری حوصلہ افزائی کی۔
خاص طور پر صفدر ہمدانی صاحب کا شکریہ جن کے کاٹ دارفقرےکسی سوئے ہوئے کو تو کیا
کسی فوت شدہ کو بھی ہڑبڑا کر اٹھنے پر مجبور کر دیں
بہر حال اس نظم کو شائع کرنے میں بھی عالمی اخبار ہمیشہ کی طرح بازی لے گیا
اس کی مجھے بہت خوشی ہے اور عالمی اخبار میں شائع ہونا ہمیشہ ہی سے میرے لئے بہت فخر کا باعث رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کی ٹیم کو یونہی فعال رکھے۔
والسلام
عرشی ملک
عرشی آپا زندہ باد .. عرشی آپا زندہ باد جی .. آپ جتنے مرضی ہنکارے بھریں .. کروٹیں بدلیں .. میں نے نہیں سونے دینا آپ کو .. ارے آپ نے مناف بھائی گرافکس کا شعبہ سنبھالنے پر مبارکباد بھی نہیں دی ابھی تک … اور آپا عالم آراء کو وینکوور کی بیورو چیعف بننے کی اور بھائی احمد ترازی جنہوں نے اپنے داتا دربار والے کالم میں آپ کی نظم بھی لگائی ہے وہ کراچی کے بیوروچیف ہو گئے ہیں .. آپا اٹھیں ناں … سب کو باری باری مبارکباد اور دعائیں دیں ..
اور سنیں آپ بھی ہماری ٹیم میں شامل ہیں اور فعال بھی ہیں … مجھے پتہ ہے اب بابا جی نے یہ کہنا ہے این این ملکہ مکھی ہمیشہ فعال کارکن مکھیاں رکھتی ہے خود آرام کرتی ہے … او مائی گوڈ آپا .. بابا کی باتوں کی کاٹ سے آج تک کوئی نہیں بچ سکا …. آپس کی بات ہے میں تو اب عادی ہو چکی ہوں .. اسی لئے کاٹ کی بجائے ڈانٹ کھاتی ہوں … یقین کریں دن میں کئی بار .. نسخے کی طرح .. لیکن اس کی بھی عادی ہو رہی ہوں .. بس اس بات کا اب بابا جی کو نہ پتہ چلے ورنہ ڈانٹ کا دورانیہ بڑھ جائے گا .. اللہ خیر کرے …
ڈانٹ کسی غیر کو نہیں پڑتی جی جس پر مان ہوتا ہے اسی کو پڑتی ہے اور اس ناطے سوائے شمس جیلانی صاحب کے شاید کوئی محفوظ نہیں حتیٰ کہ میں خود بھی نہیں۔ اور جو اب تک محفوظ ہیں وہ ہی دراصل غیر محفوظ ہیں۔ میں تو کم از کم ازل سے ہی کارکن مکھی رہا ہوں اور کسی نہ کسی ملکہ مکھی کے ماتحت ہی کام کرنا پڑا ہے اور اب تو ”بادشاہ مکھے” کا سوچ کر بھی خوف آتا ہے۔ اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے اب رہائی ملی بھی تو مر جائیں گے۔
دیکھیں آپ لوگ اپنے آپ کو خوش بخت سمجھیں کہ عرشی جی دراصل ”عرش والی ” ہیں اور انکا کبھی کبھی بھی یہاں آ کر چار سطور لکھ جانا ہماری نجات کا سامان ہے۔ دیکھیں یہ تو انکی رحمت کا حصہ ہے کہ وہ عش سے خود فرش پر ہم طوطا چشموں اور مفاد پرستوں جے درمیان تشریف لاتی ہیں ورنہ کبھی سوچیں کہ اگر انہوں نے ہمیں عرش پر بلوانا شروع کر دیا تو کیا ہو گا۔ سب سے پہلے صفدر ھمدانی جائے گا یہ طے ہے۔
عرش والوں کا کرم ہے عرش والوں کا کمال
وہ جو ہم اہلِ زمیں کا رکھتے ہیں اتنا خیال
میں بھی صفدر اپنی قسمت پر ہوں نازاں آجکل
شب میں کیسے چاند نے دکھلا دیا روئے جمال
صفدر ہمدانی صاحب اڑا لیں مذاق جتنا جی چاہے۔
اس کام میں آپ ہمیشہ سے ہی کافی ایکسپرٹ رہے ہیں۔
اور ہاں
شب میں کیسے چاند نے دکھلا دیا روئے جمال ؟؟؟؟؟؟
چاند شب میں ہی روئے جمال دکھاتا ہے۔دن کو تو اسے سورج کے سامنے آنے کی ہمت نہیں ہوتی
عرشی ملک
اسلام وعلیکم بڑی خوبصورت گفتگو ہو رہی ہے
صفدر بھائی ایسا نہ کیجئے گا ہم گنہگاروں کو بھی اپنے ساتھ لے چلئے گا ۔
ہم سب آپ سے بہت پیچھے چلینگے مگر جب یہاں ہم سب آپ کے بغیر کچھ نہیں تو وہاں بھی ہمیں ساتھ رکھئے گا ،ورنہ نا انصافی ہوگی اور عرش پر آپ کا دل بھی ہم سب کے بغیر نہ لگے گا ۔
امید کہ ہماری طرف نظر ضرور رہے گی ۔
کیا کہتے ہیں آپ سب حضرات ۔
عالم آرا صاحبہ آپ کی فرمائش نوٹ کر لی گئی ہے اور متعلقہ شعبے تک پہنچا دی جائے گی
اور عالی مرتبت عرشی صاحبہ اس بار بھی آپ نے غلط اندازہ لگایا ہمیشہ کی طرح. اول تو جس کافر صفت نے مزاق اڑایا ہو وہ دنیا و آخرت میں سیاہ رو رہے. دوسری بات اس فن میں ایکسپرٹ ہونے کی تو کاش میں کسی فن میں تو ایکسپرٹ ہوتا. نہیں ایسا نہیں. میں تو ہمیشہ سے آپکا قصیدہ خوان رہا ہوں یقین نہ آئے تو ڈاکٹر صاحبہ سے پوچھ لیں. مجھے معلوم ہے کہ بلاگ وغیرہ آپکا مزاج نہیں ہے لیکن پھر بھی آپ کبھی کبھار اس گلی کا پھیرا ڈال لیتی ہیں تو ہمیں اپنے ہونے کا احساس بھی ہو جاتا ہے.
اب رہی بات چاند کے روئے جمال کی شب میں والی. تو عرض کرؤں کہ صرف 14 دن رات میں نظر آتا ہے روئے جمال. اور میں نے تو 18 ویں 19 ویں کی بات کی ہے.ان تاریخوں میں رات کو نظر آنا چاند کی خاص عنایت ہی ہے نا
عدیم ہاشمی تو آپ کو یاد ہے نا اور اپنی شہناز پروین سحر بھی. تو عدیم کا ایک شعر ہے اور یہ غزل لاہور ریڈیو پر 1975 میں پرویز مہدی کی آواز میں ریکارڈ بھی ہوئی تھی۔ پہلے مطلع سماعت فرما لیجئے۔ پھر پوری غزل۔ مطلع ہے
اسے تشبیہ کا دوں آسرا کیا
وہ خود اک چاند ہے پھر چاند سا کیا
قیامت ہو گیا چلنا بھی مجھ کو
پلٹ کر دیکھنا بھی تھا ترا کیا
الٹ جاتی ہے صورت آئینے میں
دکھائے گا حقیقت آئینہ کیا
بہت نزدیک آتے جا رہے ہو
بچھڑ جانے کا ارادہ کر لیا کیا
بڑے محتاط ہوتے جا رہے ہو
زمانے نے تمہیں سمجھا دیا کیا
تہی محسوس آنکھیں ہو رہی ہیں
نہ جانے آنسوؤں میں بہہ گیا کیا
کسے تکتے ہوئے پتھرا گئے ہو
خلاؤں میں تمہارا کھو گيا کیا
بڑے رنگین سپنے آ رہے ہیں
عدیم اس نیند سے اب جاگنا کیا
عرشی ڈئیر
کس نے کاٹی ہیں یہاں آکے سروں کی فصلیں
کون انساں کی مٹانے پہ تُلا ہے نسلیں
باڑ نفرت کی سرِ راہ اگانے والو
خانقاہوں پہ جلے دیپ بجھانے والو
قتل کی رسم سرِ راہ چلانے والو
بو میں بارود کی جنت کو کمانے والو
خو د کشی کر کے بڑا جشن منانے والو
آپ کی یہ نظم نہیں بلکہ جذبات کا ایک بحر بیکراں ہے جس کا ہرحرف اس موج کی طرح ہے جو داتا دربار کے اس انتہائی شرمناک اور قابل مذمت حملے پر ہر پاکستانی کے دل سے اہ و بکاء بن کر اٹھی ہو .
عفاف اظہر
ٹورانٹو
http://www.Affaf.ca
عدیم ہاشمی کی بہت خوبصورت اور جاندار غزل بلاگ پر لگانے کا شکریہ
غزل پڑھ کر چھلک اٹھی ہیں اآنکھیں
نہ جانے یاد ہم کو آ گیا کیا
واہ جی واہ ہم تو اپنی آپا عالم آراء کے ساتھ ہیں جنہوں نے کہا کہ عرش پر آپ کا دل بھی ہم سب کے بغیر نہ لگے گا .. بابا جی کے علاوہ بھی اگر کسی نے عرش پر عرشی آپا سے ملنے کاپروگرام ہم دونوں کے بغیر بنایا ہے وہ اپنی اور اپنے باقی دنوں کی خیر منا لے … عرشی آپاتو ہماری من موجی ہیں ..وہ تو عرش پر بلا کر بھی بھول سکتی ہیں .. ہنکارا بھر کروٹ بدل کر سو سکتی ہیں … آپ کا کیا ہو گا جناب عالی … سو سوچ لیں .. ہمیں ساتھ رکھ لیں وہاں بھی ہم کارکن مکھیاں ہی کام آئیگی .. ہے کے نہیں ..
ہم عالمی اخبار پر محترمہ بہن عفاف اظہر صاحبہ کو خوش آمدید کہتے ہیں
یہ امید رکھتے ہیں کہ اب یہاں ملاقات ہوتی رہے گی
عرشی بہن ! دیکھ لیجیے یہ بھی آپ ہی کی برکت ہے
ماشاء اللہ
(محترمہ بہن عفاف اظہر صاحبہ ! پہلی فرصت میں آپ کا مضمون ” پردہ وہ کیا ہوا ” ضرور پڑھوں گا، انشاء اللہ)
جی آیاں نوں محترمہ بہن عفاف اظہر صاحبہ .. ہم سب کی طرف سے خوش آمدید .. انشاللہ اب آپ سے ملاقات ہوتی رہے گی ..
ہاں بھئی نگہت ! یہ عرش پر آنے جانے کی کیا باتیں ہو رہی ؟
ہم لوگ اس زمین پر ہی قدم جما کر کھڑے ہو سکیں تو بہت غنیمت ہے۔
یہ’’ آنیاں جانیاں‘‘ تو اہل اقتدار کو ہی زیب دیتی ہیں۔
بے نتیجہ ہیں یہ دورے ،تھک گئے ہم دیکھ کر
آپ کی یہ ’’آنیاں اور جانیاں‘‘ کچھ کیجئے
آپ سائے میں ہیں امریکہ کے امن و چین سے
اپنے گھر میں ہو گئے ہم بے اماں کچھ کیجئے
بلبلوں کے گیت تو جانے کہاں رخصت ہوئے
ہے چمن میں شورِ آوازِ سگاں کچھ کیجئے
آپ تو ’’ڈو مور‘‘ کرنے میں لگے ہیں رات دن
اور اب ’’نو مور‘‘ ہیں ہم بے نشاں کچھ کیجئے
کاگ اذانیں دے رہے ہیں منبروں پر رات دن
اور اجڑتا جا رہا ہے گلستاں کچھ کیجئے
لو بھئی آنیاں جانیاں سے بات شروع ہوئی اور کہیں کی کہیں نکل گئی۔
داتا دربار پر حملے سے بلاگ شروع ہوا تھا۔دوبارہ اسی کی طرف لوٹنا چاہیے۔
داتا صاحب کا ایک ارشاد نقل کرتی ہوں
بدترین انسان وہ ہے کہ لوگ اسے مردِ خدا جانیں اور درحقیْت وہ ایسا نہ ہواور اس بات سے وہ خوش ہو،اور
بہترین انسان وہ ہےکہ لوگ اسے مردِ خدا جانیں اور وہ در حقیقت درویش ہو،اور افضل ترین وہ ہےکہ لوگ اسے مردِ کامل نہ سمجھیں
لیکن در حقیقت وہ اعلیٰ درجہ کا مردِ خدا ہو‘‘۔
آپ سب کی اس محبت کا شکریہ انشا الله بات ضرور ہوتی رہے گی یہ حقیقت میں عرشی ملک صاحبہ کی برکت ہی ہے جو انہوں نے مجھے اس کا لنک بھیجا.
عفاف اظہر
شہر کی گونگی فضا میں جبر ہنستا ہے مگر
اہل دل اہل زبان اہل نظر خاموش ہیں
چپ کی چادر اوڑھنا کیوں ہے قرین مصلحت
سولیاں کس واسطے ہیں کیوں یہ سر خاموش ہیں ؟
عفاف اظہر