از : محترمہ ارشاد عرشی ملک، اسلام آباد پاکستان
arshimalik50@hotmail.com
وہ جو قاتل تھے، جنونی تھے، بہت بے رحم تھے
جب گلی کوچوں میں اپنے آگھسے
ہم چُپ رہے
ہم پڑھے لکھے تھے، دانشمند تھے، پُرامن تھے
کس لئے پھر بولتے
ہم چُپ رہے
……………………….
ہندوں پر سندھ میں حملے ہوئے
مندروں میں خون کے چھینٹے اُڑے
ہم چُپ رہے
ہم مسلماں لوگ تھے ہندو نہ تھے، بے وجہ کیوں بولتے
ہم چُپ رہے
…………………………..
پھر عیسائی بستیوں میں قتلِ ناحق بھی ہوئے
گرجا گھر جلتے ہوئے جسموں کی بُو سے بھر گئے
ہم چُپ رہے
کیا عیسائیوں سے ہمیں لینا تھا، جو کچھ بولتے
ہم چُپ رہے
………………………………….
پھر شیعوں کا بھی لہو ارزاں ہوا
دس محرم ، یومِ محشرجب بنا
ہم چُپ رہے
ہم شیعہ کب تھے کہ ناحق بولتے
ہم چُپ رہے
………………………………
احمدی بوڑھے، جواں، اپنی عبادت گاہ میں
ظلم و سفاکی سے جب بھونے گئے
ہم چُپ رہے
قادیانی ہم نہیں تھے، کس لئے پھر بولتے
ہم چُپ رہے
………………………………
پھر مزاروں، خانقاہوں کی بھی باری آگئی
جب دھوآں بارود کا، صحنوں کے اندر بھر گیا
ہم چُپ رہے
ہم کسی صوفی کے پیروکار نہ تھے
بے وجہ کیوں بولتے
ہم چُپ رہے
…………………………..
اور پھر ایسا ہوا ۔ ۔ ۔ ۔
ہم بھی مدد کے واسطے اک رات چِلّائے بہت
خوں کی جب ہم پر ہوئی برسات، چِلّائے بہت
چیتھڑے بن کر فضا میں جب اُڑے
بیویوں، بچوں کے پاﺅں، ہاتھ، چِلّائے بہت
…………….
گھپ اندھیرے میںتھی، عرشی ہوں نہ ہاں
مستقل چُپ تھی زمیں تا آسماں
کون آتا ۔ ۔ ۔ ؟ کون باقی تھا وہاں ؟؟
………………………………………………..

ماشااللہ ، مرحبا ، سبحان اللہ عرشی صاحبہ نے پاکستان میں رہکر مظالم اور دہشت گردی کے سانحات کو دیکھ کر چپ رہنےوالون کا انجام بھی اپنی نظم میں پیش کردیا کہ جب :
“ہم بھی مدد کے واسطے اک رات چِلّائے بہت
خوں کی جب ہم پر ہوئی برسات، چِلّائے بہت
چیتھڑے بن کر فضا میں جب اُڑے
بیویوں، بچوں کے پاﺅں، ہاتھ، چِلّائے بہت
…………….
گھپ اندھیرے میںتھی، عرشی ہوں نہ ہاں
مستقل چُپ تھی زمیں تا آسماں
کون آتا ۔ ۔ ۔ ؟ کون باقی تھا وہاں ؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی متاثر کن نظم ضرور ہے
میرے خیال میں اس نظم میں عالم گیریت پیدا کرنے کے لیے ہم یہ بھی کہ سکتےہیں کہ :
جب فلسطینیوںپر مسلسل مظالم ہوئے
اور کشمیریوں پر تشدد کی بارش ہوئی
ناگاساکی بھی لمحوں میں غائب ہوا
ہم چپ رہے
۔سب چپ رہے
جب عراق میں تریاق ناپید ہوا
نالہ و فغان ِ افغان بھی شاید ہوا
ہم چُپ رہے
فارسی عربی نہیں تھے، ہم کس لیے بولتے
ہم چُپ رہے
اوپر کی گئی جسارت پر مجھے محترم منظور قاضی صاحب کے تبصرے نے اکسایا ہے، اگر کسی کو اعتراض ہو تو اسے قاضی صاحب جواب دئیں گے
ماشاء اللہ محترمہ،
کیسی روح اور ضمیر کو جھنجھوڑنے والی پکار ہے۔ یہی لگا مخاطب کوئی اور نہیں فقط میں ہی ہوں۔
لیکن یہاں چُپ تو کوئی نہیں ، احتجاج بھی ہے ، دہائی بھی ہے ، ہر سُو واویلا بھی ہے لیکں کوئی حل نہیں ہے۔ یہ سب دشمن کی سازشیں اور چالیں ہیں جو رفتہ رفتہ کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ارباب اختیار آپس میں دست و گریباں ہیں، عوام بھوک اور خوف سے سہمے بیٹھے ہیں اور قدرت بھی ہماری بے بسی اور بے کسی پہ خاموش ، محوِ تماشہ ہی دِکھ رہی ہے۔
افراد کی بے بسی اقوام تک پھیل چکی ہے۔ کبھی فلسطین، کبھی لبنان، کبھی کشمیر، کبھی افغانستان، کبھی صومالیہ، کبھی سوڈان، عراق اور اب پاکستان اور اس کے بعد شاید ایران !
اقوام عالم میں مسلمان ممالک کی تعداد دیکھیں اور سامراج کی کامیاب حکمت عملی کے سامنے ان کی بے بسی اور مجرمانہ چُپ !
محترمہ، جنہیں خدا کا پیغام اور حکم بیدار نہیں کرسکتا ان پہ ’ عرشی کلام‘ کا کیا اثر ہوگا؟ لیکن مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ہو سکتا ہے یہی نظم ہی کسی نئے محمد بن قاسم کی آمد کا سامان بن جائے، آمین۔
اللہ سبحان و تعالیٰ آپ پہ اپنی رحمت کا سایہ تا قیامت قائم رکھے اور آپ کی فکر اور درد کو بستی بستی، قریہ قریہ پھیلائے، آمین ثمہ آمین ۔
عبدالمناف صاحب،
’عرشی کلام‘ ہم تک پہنچانے کا بے حد شکریہ اور میری دلی مبارکباد آپ کو عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ میں شامل ہونے پہ ، جو کہ آپ جیسے با صلاحیت شخص کی خوبیوں کا اعتراف ، عالمی اخبار کی انتطامیہ کی ہنر شناسی اور اسے بھی بڑھ کر ہماری خوش قسمتی ہے۔
محتم بھائی جناب جاوید اقبال کیانی صاحب !
حضور شرمندہ نہ کیجیے، یہ تو میری خوش قسمتی کہ مجھے آپ حضرات نے کسی قابل سمجھا، عالمی اخبار کی انتطامیہ کا شکریہ جنہوں نے اس اخبار میں اپنا دن رات ایک کر کے، اپنا وقت، علم، مال اور اپنے اعصاب تک خرچ کر کے ہمیں ایک ایسا منصّہ مہیا کیا ہے جہاں ہم علم سے مستفید تو ہوتے ہی ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ حالات حآضرہ، ادب، دین و مذہب کے بارے میں معلومات اورمحبت، آشتی تعلقات وغیرہ بھی استوار کر لیتے ہیں (جس کی مثال محترمہ نادیہ بخاری صاحبہ کا نیا بلاگ ہے) اور آپس میں تبادلہء خیال وغیرہ اور بات چیت شاید یہاں کی سب سے اہم پیشکش ہے-
اللہ کریم اس اخبار اور اس اخبار والوں نظرِ بد سے محفوظ فرمائے
جوابِ شکوہ
ہم مسلماں ہیں
ہمیں فخر ہے
اپنی صدیوں کی اکڑ پر
ہم چپ کیوں رہیں
ہم اپنوں کا اور غیروں کا خون بہاتے رہیں گے
ہم قتل وغارتگری کرتے رہیں گے
کیونکہ یہی اللہ کی مرضی ہے
مرحبا، مرحبا، مرحبا
تصحیح
جوابِ شکوہ
ہم مسلماں ہیں
ہمیں فخر ہے
اپنی صدیوں کی اکڑ پر
ہم چپ کیوں رہیں
ہم اپنوں کا اور غیروں کا خون بہاتے رہیں گے
ہم قتل وغارتگری کرتے رہیں گے
کیونکہ یہی اللہ کی مرضی ہے
اللہ کی مرضی نہ بھی ہو
تو کم از کم
ملّا کی مرضی تو ہے
واہ واہ واہ جناب ظفر جعفری صاحب
کیا درست فرمایا
ہمیں فخر ہے
اپنی صدیوں کی اکڑ پر
ہم اپنوں کا اور غیروں کا خون بہاتے رہیں گے
اللہ کی مرضی نہ بھی ہو
تو کم از کم
مُلا کی مرضی تو ہے
زبردست