سڈنی میں مقیم ماہر نفسیات اور عالمی اخبار کی نائب مدیر اعلیٰ ڈاکٹر نگہت نسیم نے ” بلیئنگ یعنی ڈرانے دھمکانے” کے اہم موضوع پر ایس بی ایس آسٹریلین براڈکاسٹنگ سروس کی اردو سروس سے خصوصی گفتگو کی ہے جس کے دونوں حصے سامعین و ناظرین و قارئین کی خدمت میں حاضر ہیں۔
مزید دیکھنے اور سننے کے لیئے یہاں کلک کریں

ڈاکٹر صاحبہ اتنی اہم اور قیمتی معلومات کا شکریہ۔۔۔خاص طور پر یہاں باہر رہتے ہوئے والدین کے لئے یہ معلومات انتہائی اہم ہیں تا کہ اپنے بچوں کو در پیش مسائل سے کسطرح بچا سکیں۔۔ ۔شکریہ۔
آغا جی یہ قیمتی علم عام کرنے پر اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
بابا جی آپ کا بہت بہت شکریہ .. میں تو اتنا بڑا کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی .. اللہ کریم آپ کا شفیق مہربان سایہ ہم پر تا حیات رکھے .. میں آپ کی اس محنت اور محبت پر اشکبار ہوں .. دعا کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں ہے بابا جی …
مصباح بھائی آپ کا شکریہ .. مجھے یوں لگا جیسے میری بات اب یقینا تمام لوگوں تک پہنچ جائے گی ..
اسلام و علیکم
بہت خوب آپی بہت اچھے انداز میں آپ نے ماں باپ کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر اپنے بچوں کی تربیت کی طرٍف خاص دھیان دیں ان کے دوست بن جاہیں تا کہ بچوں کی ہر طرح سے مدد کر سکیں
خدا آپ کو سلامت ررکھے (الہی آمین)
بہت شکریہ ثمرین .. جیتی رہو گڑیا ..
ابھی ابھی مجھے کویت سے اپنی بہت پیاری دوست شاہین رضوی کا فون آیا تھا اور جس طرح سے اس نے اس پروگرام کو پسند کیا ہے اور جس طرح سے اس نے تعریف کی ہے اگر میں یہاں لکھونگی تو میں ایک بار پھر اشکبار ہو جاؤنگی … شاہین میں کچھ نہیں ہوں یہ سب آپ سب کی دعائیں ہیں میرے ساتھ جو مجھے یہاں تک لے آئی ہیں … میں بہت خوش نصیب ہوں کہ میرے اللہ پاک نے اپنے حبیب اور آل حبیب کے صدقے مجھے تم جیسے احباب عطا کئے … جو میری خوشی میں میرے ساتھ اور میری مشکل میں حوصلہ دیتے ہیں … میری زندگی کا کل سرمایہ یہی دعائیں ہیں …
اس وڈیو کی تیاری کا سارا کریڈٹ بابا جی جناب صفدر ہمدانی کو جاتا ہے .. اور اس طرح سے تمام دعاؤں کے حقدار بھی ہیں .. بابا کی اس شفقت کے بغیر میری بات آپ تک نہیں پہنچ سکتی تھی … اللہ پاک ہماری اس چھوٹی سے بلاگ فیملی کو خوشیوں اور دعاؤں کے حصار میں رکھے .. آمین .
ایکبار پھر شکریہ حبیب من ..
جیتی رہئے نگہت یہ واقعئی ایک ایسا موضوع ہے جس پر بے حد توجہ کی ضرورت ہے کہ ہمارے بچے اسی معشرے کا حصہ ہیں اور مائیں اپنی مصروفیت کی وجہ سے اُن چھوٹی چھوٹی باتوں پر توجہ نہیں دے پاتیں جن کے نتائج آگے جاکر شخصیت کو مسخ کر دیتے ہیں ۔
اتنے اہم نکات بیان کرنے اور سب کی توجہ اس اہم مسئلے پر مبزول کرنے پر مبارک باد ۔
اللہ تمہیں کامیابیوں سے نوازے
میں انشاء اللہ آج کل میں یہ ویڈیوز دیکھ لوں گا،
تب تک کے لیے . . .
بہن نگہت ویڈیو دیکھا بہت معلوماتی ہے۔ میری تجویز یہ ہے کہ آپ اس کو تحریری شکل میں بطور معلوماتی مضمون کے لگا دیں تاکہ ریکارڈ میں رہے۔ میں آج ہیو سٹن جا رہا ہوں وہا چار دن بہت مصروفیت کے ہیں ۔لہذا ڈر تھا کہ ممکن ہے وقت نہ ملے لہذا میں نے اپنے دونوں مضمون دس جولائی کو جو لگنا تھے انتظار میں ڈالدیئے ہیں۔ ذرا دیکھ لیجئے گا۔
کاش کہ ہٹلر ، صدام ، یزید جیسے تمام انا پرست شیطانوں ( بلیوں ) کو انکے بچپن ہی میں ختم کردیا جاتا ، تو دنیا کی تاریخ ہی بدل جاتی ۔
جی شمس بھائی آپ کا حکم سر آنکھوں پر .. انشاللہ “پگلیات ” میں ” پی ایچ ڈی ” کرنے کے بعد سب سے پہلے یہی کام کرونگی کہ آپ کا حکم ہے … آپ جہاں بھی جائیں لیکن میرے لئے دعاؤں کو مت بھولئے گا .. اپنے کا کالم اور مضون کی فکر مت کیجئے گا .. آپ کابہت شکریہ کہ آپ نے اتنی مصروفیت پر بھی لکھ دئے .. یہ کیا کم تھا کہ اوپر سے لگا بھی دئے … سلامت رہیں .. کاش میں آپ جیسی ہو سکتی .. ..
ڈاکٹر صاحبہ آپ کی آوازمیںمیں ریڈیو پر بات چیت کو سنوا آپ نے بالکل سچ کہا ہے کہ جو بچپن میں ڈراھنے اور دھمکانے کی عادات بچپن میں جنم لیتی ہیں ۔ یہ واقع سچ ہے کہ جو بچھے ماں باپ کے بہت زیادہ لاڈلے ہوتے ہیں ۔اُس میں ایک پہلو بہت بڑا یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے گھر میں بڑوں کی کاپی کرتا ہے۔جس طرح گھر میں کوئی بڑا فرد اپنا دب دبہ قائم کرنے کیلئے جس طرح دوسرے فمیلی ممبران پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اُسی سے چھوٹے بچے اس چیز کو کاپی کرتے ہیں ۔ آپ نے بین الاقوامی معاشرے کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کی ہے میرا تو ایشاکے معاشرے کو سامنے رکھ کر بات کرونگا کہ اس معاشرے میں لڑکے کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اور لڑکی کو کم جس کی وجہ سے لڑکا گھر میں لاڈلا اور اہم اہمیت کا مالک ہوتا ہے جبکہ کچھ جگہ پر لڑکی کو کھانا بھی لڑکوں کی نسبت فراہم کیا جاتا ہے اور بچے جن کو بچن میں خصوصی توجہ ملتی ہے اور کھبی کھبار کوئی ایسی غلطی کریں یعنی اُس کی مثال اس طرح ہے کہ جیسے کسی بڑے نے کسی دوسرے کو گالی دی یا غصے سے بات کی تو بچے نے اُس کی کاپی کی تو اُس کو منع کرنے کی بجائے بچے کو وہ بات دوبارہ اُس کی زبان سے سننے کا اصرار کرکے اُس کو اسی چیزیں اپنے کا موقع دیا جاتا ہے ۔
طارق بھائی شکریہ کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں کچھ وقت نکال کر ریڈیو پروگرام کو سنا .. مجھے آپ کی تمام باتوں سے اتفاق ہے .. انشاللہ جب میں اسے تحریر میں لاؤنگی تو ان نقاط کو ضرور لکھنے کی کوشش کرونگی .. ایک بار پھر بہت بہت شکریہ .. بھائی مجھے آپ کے کالم ابھی تک نہیں ملے ہیں ..
ڈاکٹر صاحبہ میں کالم ضرور بھجیوں گا۔ ڈاکٹر صاحبہ کے میل ایڈریس پر بھیجنا ہے۔
بہت معلوماتی گفگتو کو پوسٹ کے ذریعے ہم تک پہنچانے کا شکریہ ۔ اس گفگتو کو سن کر میں نے بھی کچھ سیکھا ہے۔ نسیم باجی خداآپ کوسلامت رکھے اور آباد رکھے