بے زباں

میرے زوالوجی ڈیپارٹمنٹ میں قوت گویائی سے محروم قدیر نامی اٹینڈنٹ کام کرتا ہے ہمیں اس کی بات سمجھنے میں کافی دقت ہوا کرتی تھی  قدیر اکثر اپنے بچے لے کر یونیورسٹی ایا کرتا تھا  قدیر کی سب سے بڑی بچی کی  دس  برس کے لگ بھگ عمر ہوگی اکثر ہماری پریشانی دور کرتی اپنے ابا کی بات سمجھ کر ہمیں سمجھاتی تو مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی کہ قدیر کو بیٹی کے روپ میں اللہ نے زبان عطا کر دی ایک دن ہمیں اطلاع ملی کہ قدیر کی بچی اغوا ہو چکی ہے اور اگلے ہی روز بچی کی سر بریدہ نعش ملی اچانک میرے دل میں خیال اےا کہ اج قدیر پھر سے بے زباں ہو گیا جب میں نے قدیر کو اس کی بیٹی کا افسوس کیا تو اس نے اشاروں کی زباں سے مجھے واقعہ سنایا جب میں اس کے اشارے سمجھ رہی تھی تو مجھے سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ میں اسے کیسے تسلی دوںایک لمحےکو مجھے یوں لگا۔۔۔۔ کہ جیسے  اج میں خود بے زباں ہوگئی ہوں

13 thoughts on “بے زباں”

  1. نادیہ جی،
    کتنادردناک حادثہ بیان کیا ہے آپ نے۔ قدیر بچارا تو گویائی سے محروم ہے سو غریب اپنا غم اپنے آنسوئوں کے ساتھ ہی پی گیا ہوگا لیکن یقین کریں ہم قوت گویائی رکھنے والے بھی یہ وحشت ناک واقعہ پڑھ کر جیسے گنگ ہوگئے ہیں ۔ اپنی بے اختیار چیخوں کو بمشکل کنٹرول کیا۔ اگر اُس بدنصیب کو زبان عطا ہوتی تو نجانے اِس حادثے کے بعد اسکی چیخوں اور آہ و بکا سے کتنے سنگدل سے سنگدل انسانوں کے بھی کلیجے پھٹ جاتے۔
    کاش آپ کے اِس دردناک بلاگ کی خبر اہلِ اقتدار تک بھی پہنچے اور اُس قادر مطلق کی ذات انہیں اُن ظالموں کو کیفرِ کردار تک پہنچاتے ہوئے بچارے قدیر کے زخموں پہ مرہم رکھنے کی توفیق عطا کرے ، آمین ۔

  2. اتنا درد ناک ، وحشت ناک اور غضب ناک سانحہ بیان کرکے نادیہ بتول بخاری صاحبہ نے تمام پڑھنے والوں کے دلوں اور دماغوں کا جھنجھوڑ دیا۔
    اللہ نے قدیر اور اسکی بیوی اور بچوں کواس سانحہ کے برداشت کرنے کی طاقت اور صبر عطا کیا ہوگا۔ مگر اس معصوم شہید بچی ( قدیر کی دس سالہ بیٹی کے ساتھ اسکے قاتلوں نے جو سلوک کیا وہ شیطان بھی شائد نہ کرسکے۔
    افسوس صد افسوس ؛

    ۔۔۔۔۔۔
    اگر نادیہ بتول بخاری صاحبہ قدیر کی اس دس سالہ ترجمان بچی کا نام بھی اپنے بلا گ میں لکھ دیتیں تو اس معصوم کےلیے دعائے مغفرت کرنے میں آسانی ہوجاتی ۔
    اس کے علاوہ یہ بھی بتاددیتیں کہ اس معصوم بچی کے قاتل کا کیا حشر ہوا تو اس سانحہ کا دوسرا رخ بھی معلوم ہوجاتا۔
    ۔۔۔۔۔
    نادیہ بتول بخاری صاحبہ کی پر اثر بلاگ نگاری کا قائل

    فقط
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  3. اس واقعہ پر جتنابھی افسوس کیا جائے کم ہے .. .. دکھ کی انتہا ہے بس …. اللہ کریم معصوم بچی کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اس کو تا قیامت اپنی محبتوں میں رکھے .. اس طرح کی دردناک موت بلاشبہ ہر ہوشمند کو بے زبان کرسکتی ہے ..

  4. شاید ہی کوئی دل ہو جو ایسی بات پڑھ کر دہل نہ جائے جیسا کہ نگہت بہن نے لکھا ۔۔۔اس طرح کی دردناک موت بلا شبہ ہر حوشمند کو بے زبان کر سکتی ہے ،
    اور اس پر لکھنے کو میرے پاس بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ اُس بچی کے لواحقین کو صبر دے ۔

  5. جی منظور قاضی صاحب میں عنقریب اس معصوم بچی کا نام اپ کو بتا دوں گی اپ نے پوچھا کہ بچی کے قاتل کا کیا بنا تو یہ پاکستان ہے یہاں وزیر اعظم کے قاتلوں کا نہیں پتا چلتا یہ تو غریب کی بچی تھی میں نے ہیومن رائٹس کے دفتر میں خوب شور مچایا وہاں بیٹھے ہوئے یونائٹیڈ نیشن کے نمائندے بھی خاموش رہے
    جاوید اقبال کیانی صا حب اہل اقتدار اور میڈیا کے نوٹس میں ہے یہ واقعہ اور ٹی وی پر خبر کچھ یوں نشر ہوئی تھی کہ انار کلی میں ایک اور بچی کے اغوا کے بعد قاتل کی چوتھی واردات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  6. بہت ہی دکھ بھری کہانی ہے………….

    ویسے نادیہ
    شکر ہے آپ کی بخیر یت واپسی ہوئی.
    آپ کو بہت یاد کیا .آپ کے بلاگ عموماً بہت ہی دلچسپ اور اچھوتے مو ضو عات کا احاطہ کرتے ہیں.

    خوش رہیےء.

  7. اس اندھیر نگری میں ایک ظلم اور ہوا۔۔

    تاریکی اوربڑھی ۔۔۔وحشت اوربھی پھیل گئی۔۔
    جنہیں پرواکرنی ہے انہیں ڈگریوں سےہی خلاصی نہیں
    اب تو رب سوہنا اپنی ڈگری جاری کرہی دےتو بھلاہے۔۔۔۔
    رب سوہنے۔۔۔۔
    رحم ہم گنہگاروں پر۔۔۔
    غریب بےزبان جائیں تو کدھرجائیں ۔۔۔

  8. السلام علیکم
    ہائے ! کیسا یہ نیند کا جھونکا سرِ شام آگیا ۔
    ہماری دُعا ہے کہ اللہ معصوم (شہید ) مرحومہ کوجنت کے اعلی درجات عطا فرمائے ، اور اُس کے لواحقین کو صبر ، اور اُن ظالموں کو دُنیا و آخرت میں عبرت بنائے ۔ آمین ۔ ثمہ آمین ۔
    آصف احمد بھٹی

  9. لو بہنو بھائیو اب طے ہوا کہ یہ مسلہ گھمبیر ہے۔ سند مل گئی ہے۔اس لیئے کہ اگر ناصر زیدی جاگ گئے ہیں اور جاگنے کے بعد بول بھی رہے ہیں تو بلاشبہ مسلے کی شدت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اس زمانے میں اسے بھی تو،عجزہ ہی کہتے ہیں نا۔ اللہ پاک ایسے بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم رکھے۔آمین

  10. بی بی نادیہ کیا خوبصورت تحریر، چند سطور میں آپ نے ایک بہت بڑی اور پُر درد داستان کا احاطہ کیا ہے اس پُر درد واقعہ پر اناللہہ. لاحول ولاقوۃ الال بلاہ. اوردعائے مغفرت کے ساتھ ساتھ ایک اور دعا کو شاملِ کاسہء دعا کرنا چاہوں گا اور وہ ہے انقلاب .. انقلاب… آمین .خدا قدیر کی بیٹی جیسی بہت سی بچیوں کا حافظ و ناصر اور اُن کی عزت و عفّت کا نگہبان ہو. ظلم اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ میں حیران ہوں ہوں کہ اب اس کے مٹنے میں اب کتنی دیر ہے. کتنی دیر ؟
    کل ہی میری بیوی چار ماہ بعد پاکستان سے واپس آئیں ہیں اور اُن سے وہاں کی باتیں سن سن کر وہی سوال ذہن میں گونج رہا ہے..کتنی دیر…کتنی دیر؟ میری بار کیوں دیر اتنی کری؟ افسوس صد افسوس ہزارہا افسوس. میں خاموش ہوں. تحریر ساکت ہو گئی ہے اور آنسو رواں ہیں

  11. اک سچ جو کسی نے کہا بھی نہیں
    خدا اب زمین پر رہا ہی نہیں ………

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *