بلوچستان: ڈپٹی اسپیکرسمیت دو ارکان کی ڈگریاں جعلی قرار

ارکان اسمبلی کی جعلی ڈگریوں کی جانچ پڑتال جاری۔سیلاب شدت اختیار کر گیا۔این اے انتالیس فاٹا سے رکن قومی اسمبلی جواد حسین اور ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی مطیع اللہ آغا کی ڈگریوں کو جعلی قرار دے دیا گیا۔بلوچستان یونیورسٹی کاکہنا ہے کہ مطیع اللہ کی سند کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
اناللہ واناالیہ راجعون

19 thoughts on “بلوچستان: ڈپٹی اسپیکرسمیت دو ارکان کی ڈگریاں جعلی قرار”

  1. بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے تو صاف کہ دیا ہے کہ جعلی ہو کہ اصلی ، ڈگری ڈگری ہی ہوتی ہے!!1
    چون ہمیں مکتب و ہمیں مُلا
    کارِ طفلاں تما م خواہد شد

  2. ابھی آج میں نے پڑھا تھا کے رضا عابدی کی ڑگری بھی جعلی ہے ایک نہیں یہاں تو سب کے سب ایک سے ہیں افسوس کے سوا کیا کیا جا سکتا

  3. یوں لگتا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں

  4. وطن عزیز کی تاریخ میں مورخہ 9جولائی 2010ء ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا کہ اس دن قانون بنانے والوں نے غیر قانونیت کے مرتکب ہونے والے افراد کے دفاع میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے اور ادھر میڈیا کو موردِ الزام ٹھہرایا کہ انہوں نے اس مسئلہ کی رپورٹنگ کیوں کی یعنی غور فرمایئے کہ ڈگریاں آپ کی جعلی ہیں لیکن قصور میڈیا کا ہے۔ دراصل میڈیا تو ایک آئینہ ہے اگر اس میں آپ کو اپنے چہرے پر داغ نظر آئیں تو قصور آئینے کا نہیں چہرے کا ہے آپ داغ دور کریں‘ شکل صاف شفاف ہو جائیگی۔ آئینہ توڑ دینے سے تو مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

    ممبران اسمبلی کی طرف سے قانون کے احترام سے گریز کوئی نئی بات نہیں۔ ایک زمانے میں بھارت میں مسٹر شاستری ریلوے منسٹر تھے۔ ایک ریل کا حادثہ پیش آیا اور آپ نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اصول پسندی کا اظہار کیا۔ آگے چل کر قوم نے انہیں وزیر اعظم بنا دیا۔ لیکن ہمارے ہاں اتنی اعلیٰ و ارفع سوچ کہاں سے لائی جائے؟

    ممبران نے رپورٹرز‘ اینکر پرسنز کو بلیک میلر‘ کرپٹ اور جمہوریت کیلئے خطرہ قرار دیا اور واک آؤٹ کرنے والے صحافیوں کو دھکے دیئے اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ ادھر پارلیمنٹری کمیٹی برائے تعلیم جس نے حکومت پر زور دیا تھا کہ ممبران کی ڈگریاں چیک کی جائیں۔ پارلیمنٹرینز نے اس کے چیئرمین عابد شیر علی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے خلاف بھی قرار داد لانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

    معاشرے کے تمام طبقوں میں غلط کاری کی مثالیں سامنے آتی ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پارلیمنٹرینز کا ردِعمل سب سے زیادہ نا مناسب ہے کہ میڈیا ان کے خلاف مسئلے کو اچھال رہا ہے اور نہ ہی میڈیا کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔

    عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ سب سیاسی جماعتوں کے ممبران اسمبلی اس وقت یک زبان ہوتے ہیں جب ان کے ذاتی مفادات کا مسئلہ ہوتا ہے جبکہ معاشرے میں تمام اہل الرائے حضرات نے ممبران اسمبلی کے موقف سے اختلاف کیا ہے۔

    ان کے اپنے عمائدین نے اس قرار داد کو غیر مشروط طور پر واپس لینے کا مشورہ دیا ہے اور انہیں یاد دلایا ہے کہ قانون ہر ایک کیلئے ایک جیسا ہوتا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ اول تو جرم کے مرتکب ہوں اور اگر پکڑے جائیں تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق میڈیا پر برس پڑیں۔

    یہ بھی یاد رہے کہ جو معاشرے دنیا میں ترقی پذیر ہیں وہاں عوامی نمائندوں سے توقع کی جاتی ہے کہ ان کے کردار کا معیار عوام الناس کے متوقع کردار سے کئی گنا بہتر ہو وہاں یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ کسی ممبر اسمبلی کی ڈگری ہی جھوٹی ہو اور اگر کہیں ایک آدھ واقع پیش بھی آئے تو وہ استعفیٰ بھی دے گا اس پر کیس بھی چلے گا اور اس کو سزا بھی ملے گی۔

    وہ قومیں اسی طرح اپنی تطہیر کا اہتمام کر کے گڈگورننس کو یقینی بناتی ہیں۔ ممبران اسمبلی کو چاہئے کہ اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کا دفاع کرنے کی بجائے ان کا اخراج یقینی بنائیں تا کہ اسمبلیوں کی تطہیر ہو ان کی ساکھ بحال ہو اور وطن عزیز ترقی و خوشحالی کی سمت رواں دواں ہو۔

  5. کیا یہ وہی خوش گفتار اور تیز و طراررضا علی عابدی صاحب پی پی بی کے سینیٹر اور صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری صاحب کے مشییر خاص ہیں جن کے بارے میں اوپر کے تبصرے میں کہا گیا ہے کہ ان کی” ڈگری بھی جعلی ہے” ؟؟
    کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ :
    ” میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
    “تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے”

    ہم نے معاشیات کی کتابون میں پڑھا تھا کہ گریشم کے نظریہ کے مطابق کھوٹآ سکہ کھرے سکے کو بازار سے باہرنکال دیتا ہے. اس نظریہ کے تحت ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ کھوٹے سکے کھرے سکوں کی جگہ لے لیتے ہیںاور بازاروں میں صرف کھوٹے سکے چلنا شروع ہوتےہیں اور کھرےسکے ذخیرہ اندازوں کے خزانوں میں چلے جاتےہیں.
    آج کل پاکستان میں یہی ہورہا ہے. آصلی رہنما اپنےجان کی خیر مناتےہوئے روپوش اور خانہ نشین ہوگئے ہیں اور چور اچکے جعل سازوں نے انکی جگہ لے لی ہے.
    پاکستان ک اللہ ہی حافط ہے.

  6. اسلام علیکم
    ھمدانی بھائی ،منظور قاضی بھائی اور ثمریں بخاری بہن
    مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت اچھا ہے کہ کم از کم ایک دفعہ سب چھلنی سے نکل تو جائیں شاید کچرا نکل کر کچھ اچھا باقی بچ جائے
    کہ اللہ جو کرتا ہے سب کے بھلے کو ہی کرتا ہے ۔
    اللہ میرے ملک کا اور اس میں رہنے والوں کا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو

  7. یہ رضا علی عابدی نہیں فیصل رضا عابدی ہیں جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں اور ایوان بالا کے سینیٹر ہیں اور صدر کے سیاسی مشیر. جیسا صدر،جیسی سیاست ویسا مشیر. رہی جعلی ڈگری کیا بات تو اسکی خبر ہم تک تو ابھیہ پہنچی نہیں.

  8. ثمرین بخاری صاحبہ ہی بتا سکتی ہیں کہ وہ اپنے 12 جولائی کے اس تبصرے میں کن رضا عابدی صاحب کی جعلی ڈگری کے بارے میں کہ رہی تھیں:

    ” ابھی آج میں نے پڑھا تھا کے رضا عابدی کی ڑگری بھی جعلی ہے” ا

  9. ان اسمبلیوں کی چھٹی کروا کر ان اراکین کو مستقل نا اہل قرار دیا جانا چاہئے اور تمام ملوثین کے خلاف تادیبی کاروائی ہونا چاہیئے، جس میں چیف الیکشن کمشنر، تعلیمی بورڈز کے وہ اراکین جن کی مدد سے یہ جعلی اسناد بنیں اور الیکشن کمیشن کا تمام متعلقہ جانچ پڑتال کا عملہ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جس ملک کا چیف جسٹس اپنے بیٹے کی ناجائز بھرتی کروانے کی مجرمانہ کوشش کر چکا ہو، وہاں کون سا عدل باقی رہتا ہے اور کون سا قانون زندہ۔ آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا۔۔۔۔۔ڈر ہے کچھ دنوں بعد کئی ججز کی قانون کی ڈگریاں اور بیروکریٹس کی اسناد بھی جعلی نکلیں گی۔ اقوام عالم کے ما بین ہم ہیں شرمندہ کھڑے ہیں۔

  10. جناب محترم ہمدانی صاحب ۔
    ہمدانی صاحب کل رات کو جناب ہائیر ایجوکیشن کے ڈائریکٹر صاحب کے بھائی کو پنجاب گورئمنٹ نے بغیر کسی اطلاع کے کرپشین کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے ۔ جناب میاں نواز شریف صاحب نے کمیٹی تشکیل دی ہے کہ قرار داد پیش کرنے والے موصوف کے سے یہ تحقیقات کی جائے کہ قرار داد پیش کرنے میں کس کا ہاتھ ہے۔ بڑی سوچ کی بات ہے اُس کے کمیٹی کے چیئرمین جنا ب میاں نواز شریف خود ہیں اور جبکہ نجی دورہ پر ملک سے باہر ہیں ۔ کل شام کے وقت جب موصوف صاحب اجلاس میں تشریف لائے تو باقی ممبران اسمبلی ن لیگ نے ایسے نعرے لگائے کہ جیسے انہوں نے قرار داد پیش کرکے کشمیر کو فتخ کرلیا ہے۔

  11. طارق بھائی ہمارے ہاں فتح کا تصور ایسا ہی رہا ہے۔ہماری فوج کچھ عرصے بعد ہمیشہ اپنے ہی ملک کو فتح کرتی رہی ہے اور اسی طرح یہ اسمبلیوں میں بیٹھے عوام کی قسمتوں کے سودے کرنے والے اس قرارداد کو پیش کر کے خود کو ”فاتح صحافت” ثابت کر رہے ہیں۔ سچ جانیں ہماری سیاسی جماعتوں میں سے سے ایک بھی ملک اور عوام سے مخلص ہے اور جو اگر کوئی ہے تو اسوقت تک جب تک اسے اقتدار نہیں ملتا۔ اب تو ایک سماجی جماعت بنے جسکا نعرہ ہو نہ روٹی،نہ کپڑا،نہ مکان۔۔۔ اسکا نام رکھا جائے ”عوام دشمن” جماعت۔

  12. جناب ہمدانی صاحب ،
    ’’ ہماری فوج کچھ عرصے بعد ہمیشہ اپنے ہی ملک کو فتح کرتی رہی ہے‘‘ یہ تاریخ کا صحیح رخ نہیں بلکہ ’ ہماری فوج کچھ عرصے بعد ہمیشہ اپنے ہی ملک پہ قبضہ کرتی رہی ہے ‘ صحیح رخ ہے کیونکہ ہماری فوج کی ڈکشنری میں ’ فتح ‘ جیسا ’ ناپسندیدہ اور غیر پارلیمانی ‘ لفظ موجود ہی نہیں۔ اگر اپنا ملک ہی فتح کرنے کی بات ہوتی تو کراچی، سندھ، بلوچستان اور اب وزیرستان کی ’ فتوحات‘ کم از کم ملک میں امن کا باعث تو ہوتیں۔ البتہ ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیرِ اعظم پہ بار بار چڑہائی اور قبضہ ( آپکے بقول فتح) ہماری عسکری تاریخ کے کارہائے نمایاں ہیں !

  13. جاوید بھائی مجھے نہیں پتہ مجھے فورا اسی انداز میں ایک کالم لکھ کر بھیجیں .. مجھے نہیں پتہ ابھی کہ ابھی .. بھائی آپ کو اپنی اس صلاحیت کا پتہ ہی نہیں کہ آپ کتنا اچھا “طنز و مزاح ” لکھتے ہیں .. سچ ایسا کوئی کوئی لکھ پاتا ہے .. یہ انداز بہت ہی پر تاثر ہے ..

  14. ڈاکٹر صاحبہ،
    آپ کی حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ اور آپ کا حکم سر آنکھوں پہ لیکن ذرا زمیں پہ پائوں تو ٹکنے دیں اتنی تعریف کے بعد !
    اب فرمائیے آُب کا اشارہ کس موضوع کی طرف ہے تاکہ میں بھی ناک ، کان اور سر کھجا کر کچھ سوچ سکوں، سوچ لوں تو پھر لکھنے کی مشق کروں، لکھنا شروع کروں تو تو اسے مکمل بھی کر پائوں اور بالآخر آپکے دربار پیش بھی کر سکوں !

  15. جاوید بھائی آپ موضوع کوئی سا بھی لے لیں .. چلیں یہی سے شروع کرتے ہیں
    ’’ ہماری فوج کچھ عرصے بعد ہمیشہ اپنے ہی ملک کو فتح کرتی رہی ہے‘‘ یہ تاریخ کا صحیح رخ نہیں بلکہ ’ ہماری فوج کچھ عرصے بعد ہمیشہ اپنے ہی ملک پہ قبضہ کرتی رہی ہے ‘ صحیح رخ ہے کیونکہ ہماری فوج کی ڈکشنری میں ’ فتح ‘ جیسا ’ ناپسندیدہ اور غیر پارلیمانی ‘ لفظ موجود ہی نہیں۔ اگر اپنا ملک ہی فتح کرنے کی بات ہوتی تو کراچی، سندھ، بلوچستان اور اب وزیرستان کی ’ فتوحات‘ کم از کم ملک میں امن کا باعث تو ہوتیں۔ البتہ ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیرِ اعظم پہ بار بار چڑہائی اور قبضہ ( آپکے بقول فتح) ہماری عسکری تاریخ کے کارہائے نمایاں ہیں !

    بس ہوگیا ایک پیراگراف .. باقی کے 4 اور لکھ بھیجئے …

  16. ڈاکٹر صاحبہ،
    کیوں میری زندگی کے پیچھے پڑی ہیں؟ پہلے تو کسی طور کورٹ مارشل کیس سے بچ گیا تھا مگر لگتا ہے اب باقی کے تین پیرا گراف لکھوا کر مجھے غداری یا بغاوت کے مقدمے میں پھنسوا کر آپ طنز و مزاح سے پوری طرح لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں۔
    ’ چلی ہے رسم کہ نہ کوئی سر اٹھا کے چلے ‘ ، میری پیاری بہن ذرا ’ہولا ہتھ ‘ رکھیں۔
    ویسے ہماری فوج نے ہر مشکل گھڑی قوم کے کندھے سے کندھا ملایا ہے۔ ’ ٹُو ان ون ‘ ( یعنی صدر اور آرمی چیف دونوں ایک ساتھ ) سپہ سالاروں کو تو ہمارے کندھے اتنے پسند آئے کہ اپنی بندوقیں ہی ہمارے کندھوں پہ رکھ دیں ۔ اسی طرح کے ایک اور ’ آل رائونڈر ‘ ( بقول خود ، حوالہ : ’ سب سے پہلے پاکستان‘ ) نے عوام کے درد کی تشخیص کرتے ہوئے ارکانِ اسمبلی کیلئے ڈگری کی شرط رکھ دی۔ کم بخت نے جو کام بھی کیا ادھورا ہی کیا۔ شرط ہی رکھنی تھی تو واضح کیوں نہ کیا کہ ڈگری اصلی ہونی چاہیے تاکہ نہ جعلی ڈگریوں والے خادمانِ قوم کسی مغالطے میں پڑتے ، نہ ڈگریوں پہ عدالتیں سجتیں اور نہ جعلی ڈگریوں کی طرف داری میں قراردادیں پاس ہوتیں۔ اپنے سابقہ سپہ سالار کی بات کا بھرم رکھنے کو میں موجودہ سپہ سالار سے درخواست کروں گا آرمی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو حرکت میں لاتے ہوئے ملک کے تمام جعلی گریجوئیٹس ، اور سب سے پہلے جعلی ڈگریوں والے ارکانِ اسمبلی، کو لازمی فوجی تربیت کے عمل سے گذاریں اور متواتر ’حالتِ پِٹھو ‘ میں رکھیں۔
    فوج کی اور بھی بے شمار خدمات اور کارنامے ہیں جو کسی اور موقع کے لئے !

  17. بھائی رستم کیانی ثانی۔غداری اور بغاوت تو بڑے مثبت رویے ہیں ۔یہ تو یہ ظالم حکومتیں ہیں جنہوں نے اپنے مفاد کے لیئے نہ جانے کب سے اپنے پروپیگنڈے کے زور پر ان الفاظ کو منفی بنا رکھا ہے۔ غدار اور باغی تو بیدار مغز اور زندہ شعور کا املک انسان ہی ہو سکتا ہے۔
    یاد رکھیں اگر یہ دونوں الفاظ ان ظالم حکومتوں کے مفاد میں ہوتے تو جیسے اپنے ملک میں تمغہ شجاعت اور ستراہ امتیا کی بجائے انکے نام تمغہ غدار اور ستارہ بغاوت ہوتے اور 14 اگست کے اخباری شماروں میں خبر یوں شائع ہوتی کہ ملک کے وزیر داخلہ رحمان فرشتہ کو عوام سے نفرت اور شاہ وقت سے محبت کی وجہ سے اس سال تمغہ غدار دیا گیا ہے جبکہ جعلی قانون کی ڈگری ثابت ہونے پر لاقانونیت کے وزیر برابر عنوان کو ستارہ بغاوت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آپ تو تاریخ کے طالب علم ہیں نا۔ تو یاد ہے کہ ہم 1857 کی بغاوت کو آج بھی تحریک آزادی کا نکتہ آغاز اور طرہ امتیاز و افتخار سمجھتے ہیں اور جنگ آزادی کا باغی بخت خان آج بھی ہمارا ہیرو ہے۔
    ویسے کیانی جی کیا مزائقہ ہے کہ اعلیٰ فوجیوں کی بھی ڈگریاں چیک کروا لی جائیں۔مجھے توایک عجیب سا خوف یہ ہے کہ کہیں کل کو یہ خبر نہ آئے کہ فلاں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی ڈگری بھی جعلی نکلی ہے۔

  18. آج کی خبر ہے کہ فیصل رضا عابدی کی بی اے ڈگری کو ” مشکوک” قرار دیا گیا ہے.
    عجیب بات ہے کہ جعلی کے بجائے مشکوک کی اصطلاح استعمال کی جارہی ہے.

  19. جناب ہمدانی صاحب،
    حضور آپ سے ’ رستم کیانی ثانی ‘ کا لقب پا کر اور غداری اور بغاوت کی شان پڑھ کر تو یہ ننھا سا دل جیسے بغاوت پہ کمر بستہ ہی ہوگیا لیکن مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ بغاوت کی کس سے جائے؟ اور کون سا مقصد لے کے کی جائے، کیا محض جعلی ڈگریوں کی خاطر ؟
    اور پھر مجھے تو ان سب عیاروں، مکاروں، غداروں اور زرداروں میں تو کوئی مرد یا مرد کا بچہ ہی نظر نہیں آتا جسے پنجہ لڑائوں ! ایسے خواجہ سرائوں کے ہاتھوں مر کر موت کو بھی شرمندہ کرنے والی بات ہے جو روزِ محشر تک یہی طعنے دیتی رہے گی کہ اسے کہیں بہتر ہوتا جو خود کشی کر لیتے !
    ’’ ویسے کیانی جی کیا مزائقہ ہے کہ اعلیٰ فوجیوں کی بھی ڈگریاں چیک کروا لی جائیں ‘‘
    مرشد بخدا ، یا تو آپ نجومی ہیں یا ولائیت کے کسی درجے پہ ۔ ’ اعلیٰ فوجیوں ‘ کی ڈگریاں چیک کرنا تو اللہ میاں کے علاوہ کسی کے بس کی بات نہیں مگر ’ ادنیٰ فوجیوں ‘ کی ڈگریوں کے بارے میں ایک انکشاف سن لیں کہ ہمارے دو عدد کورس میٹ جعلی ڈگریوں جیسے ہی کیس پہ فوج سے فارغ کر دئے گئے تھے۔ یہ دونوں شہزادے فوج کی E-Cadet سکیم کے تحت فوج کے خرچے پہ انجئیرنگ یونیورسٹی گئے اور فائینل کے بعد کمیشن لے کر ڈائیرکٹ کیپٹن بن کر فوج میں شامل ہوئے۔ میجر بننے کے قریب پہنچے تو کسی کلرک بادشاہ نے پکڑ لیا کہ دونوں نے اپنی سپلیمنٹریز ہی کلئیر نہیں کیں اور ڈگری مکمل کئے بغیر کمیشن لے لیا اور اتنا عرصہ مراعات کا فائدہ اٹھاتے رہے۔ وہ تو Push & Pull والی ٹیکنیک کام کر گئی ورنہ عبرت بنا دئے جاتے۔
    لہذا آپ کی بات میں بڑا وزن ہے ، نجانے کون کون اس چھننی سے گذر گیا ہوگا !
    ارے آپ نے بھی مجھے کن باغیانہ خیالات میں الجھا دیا۔ لات ماریں ایسی فضول اور وطن دشمن بحث کو !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *