سُنا آپ نے۔۔۔ ڈاکٹر قدیر کو گورنمنٹ نے آزاد کر دیا!

اعجاز آزر جو ھمارے نئے کالم نگار بھی ھیں ۔۔آج ان سے فرانس میں فون پر باتیں ھو رھی تھی اور باتوں باتوں میں پاکستانی حالات پر گفتگو بھی ھوئی ۔۔ ھم دونوں بڑی آرزدگی سے ڈاکٹر قدیر کا زکر بھی کرتے رھے اور پھر فون بند ھو گیا ۔۔لیکن کچھ دیر بعد ای میل سے انہوں نے یہ تحریر بھیجی ۔۔ میں نے سوچا کہ مجھے آپ سب سے بھی ان کے خیالات بانٹنے چاھئے ۔۔ لکھتے ھیں ۔۔۔
سُنا آپ نے۔۔۔ ڈاکٹر قدیر کو گورنمنٹ نے آزاد کر دیا!
واقعی؟ مگر یہ تھے کون اور اِن کو قید کیوں کیا گیا تھا؟ہوں گے کوئی سیاست دان یا سرمایہ دار ۔
اَرے نہیں بھائی سائنسدان تھے بس پکڑا اور بند کر دیا۔
ایساکیسے ہو سکتا ہے؟ضرور کچھ نہ کچھ کیا ہو گا !
ہاں پاکستان کو ایٹم بم بنا کر دیا تھا ، اُن کو فادر آف پاکستان ایٹومک بومب۔۔۔۔ بھی کہتے ہیں۔
اوہ، تو ہم نے انہیں چھوڑ کیوں دیا؟
بھائی جِس کے کہنے پر پکڑا تھا اُسی کے کہنے پر چھوڑ بھی دیا کے یہ تو ہماری روایت رہی ہے

پاکستان میں ایٹم بم بنانے کی داغ بیل 1976 میں ڈاکٹر صاحب کے خط سے پڑی جو اُنھوں نے وزیرِاعظم وقت جناب ذوالفقار علی بھٹو کو لکھا تھا۔ حکمراں بدلتے رہے ایٹمی پروگرام چلتا رہا یہاں تک کے اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے اپنے ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کیا۔
چار جنوری دو ہزارچار کو ڈاکٹر صاحب کو حکومتِ وقت نے ٹی وی پر آنے پر مجبور کیا اور اُن سے اُن کے ناکردہ گناہوں کا اعتراف کروایا گیا اور بعدِاذاں صدرِوقت پرویز مشرف نے اِن الزامات کو معاف کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کو گھر پر نظر بند کر دیا۔
ڈاکٹرصاحب پر عاید الزامات میں سرِفہرست ایران اور لیبیا کو ایٹمی معلومات کی فراہمی اور شمالی کوریا کو طاقت بننے میں مدد تھے۔سا بق صدر پرویز مشرف کے دور میں ڈاکٹر صاحب کو خان ریسرچ لیبارٹریز کے چیرمین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور آخرِکار متنازعہ شخصیت بنا کر عوام کے سامنے لایا گیا ۔اگر ڈاکٹر صاحب پر لگائے جانے والے الزامات درست تھے تو ان کا سب سے بڑا گناہ پاکستان کو ایٹمی چاقت بنانا تھا آج اگر پاکستان عالمی اقوام میں کوئی مقام رکھتا ہے تو عبدالقدیر خان کی وجہ سے،
اگر پاکستان انڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے تو صرف ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے۔
پورے پانچ سال بعد آج ڈاکٹر صاحب آزاد ہیں، حکومت کے جاری کردہ بیانات کے مطابق ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کے وہ تعلیمی خدمات سرانجام دیں گے مگر کیا یہ ممکن ہے کے پوری قوم کو اُن کی صحت کے بارے میں اعتماد میں لیا جائے ،پانچ سال نظر بندی ایک طویل دورانیہ ہے ،کیا قوم کو آگاہ کیا جاسکتا ہے کے پرویز مشرف کے دور میں بحالتِ نظربندی اُن سے کیا سلوک روا رکھا گیا؟
پاکستانی قوم اب وہ قوم ہے جسکے گھر کے جھگڑوں کے فیصلے محلے والے طے کرتے ہیں۔۔ یہ سوئی ھوئی آنکھیں کیسے کھلے گی ۔۔کب ھماری تقدیرجو اکسٹھ سال سے سوئی ھوئی جاگے گی ۔۔

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

4 thoughts on “سُنا آپ نے۔۔۔ ڈاکٹر قدیر کو گورنمنٹ نے آزاد کر دیا!”

  1. یہ سوئی ھوئی آنکھیں کیسے کھلے گی ۔۔کب ھماری تقدیرجو اکسٹھ سال سے سوئی ھوئی جاگے گی ۔۔۔۔اعجاز آزر بھائی یہ کوئی ایک سوال یا ایک فقرہ نہیں۔ان الفاظ کے پس منظر میں ملت اسلامیہ کے اس ایک اہم ملک کا پورا سمتقبل مضمر ہے۔ 47 کے بعد سے لیکر آج تک جو بھی حکمران آیا اس نے صرف اپنا اور اپنا سوچا اور ملک اور ملک کے عوام غریب سے غریب تر اور بد سے بد تر ہوتے چلے گئے۔ احسان فراموشی تو جیسے اس ملک کے منشور کا ایک حصہ بن چکا ہے اور اگر کوئی احسان فراموش اور بددیانت نہیں تو وہ حکمران طبقے میں سے نہیں۔ ڈاکٹر قدیر بیچارے نے تو صرف ایٹم بم بنایا۔ذرا کبھی سوچیں جس نے پاکستان بنایا اسکا ہم نے کیا حال کیا۔اب تو یہ حالت ہے کہ ایوان صدر اور ایوان وزیر اعظم سے لیکر متعدد وزارتوں اور محکموں میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر تک نظر نہیں آتی۔
    یہ تو قرآن بھی کہتا ہے کہ جس نے اپنا ماضی بھلا دیا سمجھو کہ اسکا مستقبل بھی تاریک ہوا۔
    ذرا یہ الفاظ آج ایک بار پھر پڑھ لیجئے جو بندوق کی نالی کی نوک پر انہیں ڈاکٹر قدیر نے سرکاری پی ٹی وی پر پڑھے تھے”:’بہنوں اور بھائیو! میں اپنے کیئے پر بہت نادم ہوں اور صدمے سے دوچار قوم سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔ میں یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ان سرگرمیوں کے لئے (جن میں میری شمولیت رہی) حکومت نے کوئی اجازت نہیں دی تھی۔ میں اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔‘نہوں نے کہا جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے پریشان کن الزامات اور چند شہادتیں پیش کیئے جانے کے بعد جن میں کہا گیا تھا کہ کچھ پاکستانی اور کچھ غیر ملکی گزشتہ دو دہائیوں سے جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہیں، حکومتِ پاکستان نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔’ان تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ لگائے گئے اکثر الزامات اور بہت سی باتیں درست تھیں اور یہ یقیناً میرے ہی کہنے پر شروع ہوئی تھیں۔‘انہوں نے کہا کہ تفتیش کاروں نے ان کے سامنے اپنے نتائج اور شہادتیں رکھیں اور ’میں نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ ان میں سے اکثر باتیں سچ اور درست ہیں۔‘ڈاکٹر قدیر نے کہا ’مجھے علم ہے کہ قومی سلامتی کے لئے میری خدمات کے عوض آپ نے مجھے بہت عزت بخشی ہے اور پیار دیا ہے اور میں ان تمام اعزازات اور ایوارڈز کے لئے جو مجھے عطا کیئے گئے، بہت شکر گزار ہوں۔‘تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا بہت قلق ہے کہ ان کے زندگی بھر کا کارنامہ کہ انہوں نے ملک کو کسی سقم کے بغیر اپنی حفاظت کرنے کے قابل بنایا، خود انہیں کی وجہ سے انتہائی خطرے سے دوچار ہو سکتا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی سرگرمیوں کے پیچھے نیت بری نہیں تھی البتہ ان سے فیصلہ کرنے میں غلطیاں ہوئیں۔
    اور اسکے بعد یہ ہوا کہ ”پاکستان کی کابینہ نے صدر جنرل مشرف سے سفارش کی ہے کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی معافی کی درخواست قبول کرتے ہوئے انہیں معاف کر دیں”۔
    بس اس سے آگے لکھتے ہوئے خود ایک پاکستانی کے طور پر اپنی ذلت محسوس ہو رہی ہے

  2. اسلام و علیکم محترم ھمدانی صاحب،میری خوش قسمتی ہے کے میرے بلاگ پر آپ نے اپنےاپنی رائے کا اظہار کیا، آپ نے بجا فرمایا کے احسان فراموشی تو جیسے اس ملک کے منشور کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ احسان فراموشی اور محسن کشی ہمارا دین مزہب ہے،قرآن صرف قران خوانیوں تک اور نمازیں صرف سر پٹخنے تک محدود ہو گئی ہیں ،پیسے ارر اقتدار کے لئے ہم سب کچھ کرنے کو تیار ہیں کاش کے یہ قوم جاگے، دوسروں کی نا سہی اپنی حالت ہی سدھار لے، آپکی تحاریر جہاد باالقلم ھے اللہ آپ کو سلامت رکھے ، آپکا قلم یوں ہی سچ کے نغمے بکھیرتا رہے اور ہمیں ہمت دے کے ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں آمین۔

  3. اعجاز کیا عمدہ بات کہی آپ نے کہ احسان فراموشی اور محسن کشی ہمارا دین اور مذہب بن گیا ھے ۔۔ یقین کریں یہی سچ ھے آج کا ۔۔ جس کا نتیجہ ھم سب اتنی دور بیٹھے ھوئے بھی بگھت رھے ھیں ۔۔کبھی جاب سے نکل جانے کو کہہ دیا جاتا ھے تو کبھی صرف نام اور ملک دیکھ کر جاب دی ھی نہیں جاتی ۔۔اور روز ھی کسی نا کسی بات کی نئی توضیع کے ساتھ لوگو ں سے ملنا پڑتا ھے ۔۔ اتننے جوازوں کے ساتھ زندہ ھیں ۔۔ بقول افتخار عارف ”
    تم سے بچھڑ کر زندہ ھیں
    جان بہت شرمندہ ھیں
    جسے میرے ماموں خالد مسعود ھمیشہ یوں پڑھتے ھیں
    تم سے مل کر زندہ ھیں
    جان بہت شرمندہ ھیں

  4. محترم اعجاز صاحب۔ تسلیمات۔ آپ نے بالکل بجا کہا کہ احسان فراموشی اور محسن کشی ہمارا مذھب بن چکے ہیں۔ یہ المیہ صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا یہی روگ ہے اور اس روگ نے اپنے وبال میں اس قوم کو آج سے نہیں بلکہ چودہ سو برس سے لے رکھا ہے۔۔۔۔رسول دوسرا (ص) خود جب وصال فرما گئے تو قل لا اسئلکم اجرا علیہ الاالموۃ فی القربیٰ کی آیت کا جو حال کیا گیا اسکی بنیاد 11 ہجری میں ڈلی تو عملی صورت 61 ہجری میں نظر آ گئی۔ رسول پاک کے احسانات کا جواب امت نے یہی تو دیا تھا۔ امت آج بھی اس آیت کے ضمن میں اجر مؤدت اپنے اپنے قربٰی میں بانٹنے کی تفسیر کر رہی ہے اور نکار ہے تو صرف رسول کے اقرباء کا۔۔۔۔۔ ہمدانی صاحب نے جو بات لکھی، اس کو آگے بڑھاؤں تو سچ یہی ہے کہ آج قائد اعظم بھی زندہ ہوتے تو ان کو پی ٹی وی پر آ کر معافی مانگنا پڑ جاتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *