کئی سال پہلے اپنے ڈلس ، ٹیکسس کے قیام کے دوران سرور عالم راز سرور کو ترنم سے وہاں کے مشاعروں میں شعر پڑھتے سنتا تھا اور انکے کلام کی خوبیوں اور انکے طرز بیان کے جادو سے محظوظ ہوتا تھا۔ ( یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں اردو لنک (پاکستان لنک ) میں پنہاں صاحبہ کی غزلیں پڑھتا تھا اور دل ہی دل میں انکے اندازبیان کی تعریف کیا کرتا تھا )۔
اب چند دنوں سے میں القمر آن لاین ویب سایٹ کے شعرا کی فہرست میںسرور عالم راز سرور کی غزلیں پڑھتا ہوں اور انکی غزل گوئی سے لطف اندوز ہوتا ہوں ۔ آج دل چاہا کہ گوگل google search کے ذریعے سرور عالم سرور راز کی ویب سایٹ کا پتہ چلاوں ۔ اور اپنی پہلی ہی کوشش میں میں نے www.sarwarraz.com کا پتہ چلا لیا ۔ ماشا اللہ بڑی ہی جامع قسم کی ویب سایٹ انکے دوست یونس خان صاحب نے تیار کی ہے ۔ اس میں سرور صاحب نے اپنا تعارفی مضمون بھی لکھا ہے اور انکی شاعری کے محرکات پر بھی تبصرہ کیا ہے۔ اس ویب سایٹ میں انکی غزلیں شامل ہیں ۔ ( وہ اپنی کتابوں شہر نگار ، رنگ گلنار اور درشہوار کے بارے میں بھی اس میں تذکرہ کرتے ہیں )
سرور صاحب ، راز چاند پوری مرحوم ( تلمذِ سیماب اکبر آبادی ) کے بیٹے ہیں اور بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور غزل گوئی میں پرانے اور روایتی طرز سخن کے دل دادہ ہیں۔
وہ لکھتے ہیں :
شاعری اپنی برائے بیت ہے سرور کہ میں
حاشیہ بردارِ غالب ، خوشہ چینِ میر ہوں
سرور صاحب نے علیگڑھ یونیورسٹی سے انجینیرینگ میں تعلیم بھی حاصل کی اور وہاں پڑھا یا بھی۔ کئ سال پہلے وہ امریکہ آے اور ڈلس فورٹ ورتھ ٹیکسس میں رہنے لگے ۔ انکے آنے کے بعد وہاں کی بزم اردو اور اردو کی مختلف انجمنوں میں ایک اچھا سا ماحول پید ا ہوگیا ( جس طرح چند مہینوں سے وہاں پر جناب حنیف اخگر صاحب کے آنے سے پیدا ہوگیا ہے ) ۔
اب میں سرور صاحب کے چند اشعار تمونے کے طور پر پیش کرتا ہوں :
بندگانِ آرزو میں کرلیا شامل ہمیں
آپ نے، شکرِ خدا ! سمجھا کسی قابل ہمیں
لمحہ لمحہ ، لحظہ لحظہ وہ قریب آتے گئے
رفتہ رفتہ کر گئے خو د آپ سے غافل ہمیں
۔۔۔۔
نہ سوز آہ میں اپنی ، نہ ساز ہی دل میں
میں لاوں کون سی سوغات تیری محفل میں
۔۔۔۔
بے خودی آگئی لے کر کہاں اے یار مجھے
کردیا اپنی حقیقت سے خبردار مجھے
۔۔
اقرارِ وفا امید کرم کچھ کہ نہ سکے کچھ بھول گئے
وعدے وہ ترے مبہم مبہم کچھ کہ نہ سکے کچھ بھول گئے
۔۔۔
غمِ زندگی تر ا شکریہ تر ے فیض ہی سے یہ حال ہے
وہی صبح و شام کی الجھنیں ، وہی رات دن کا وبال ہے
۔۔۔
پتہ نہیں سرور عالم راز سرور صاحب اس بلاگ کو پڑھینگے یا نہیں ۔ میری خواہش ہے کہ وہ اب القمر آن لاین کے علاوہ عالمی اخبار ویب سایٹ کو بھی اپنی شاعری سے سرفراز فرمایں اور اپنی فرصت میں اس ویب سایٹ کے پڑھنے والوں کو اپنی شاعری سے مستفید فرما تے رہیں ۔
فقط :
اچھی شاعری کا دلدادہ
منظور قاضی از جرمنی
نوٹ: میں چونکہ ڈلس میں رہچکا ہوں اور بزم اردو کی محفلوں میں شرکت کرتا رہا ہوں اس لیے میری یاد ڈلس کے ادبی ماحول سے زیادہ مانوس ہے ۔ ویسے ہیوسٹن اور پھر لاس انجلس اور نیویارک اور شکاگو میں بھی اردو پر بڑا کام ہورہا ہے ۔ افسوس کہ جو کام بھی وہاں پر ہورہا ہے اسکا مجھے اس لیے علم نہیں ہے کہ انکی عالمی اخبار کی طرح کوی انٹر ایکٹیو interactive وئب سایٹ نہیں ہے ۔اگر ہے بھی تو مجھے اسکا علم نہیں ہے جس کا مجھے افسوس ہے ۔ اگر کوی قاری ان ویب سایٹوں کی فہرست کو اس بلا گ کے تبصروں میں شامل کردے تو مشکور ہونگا ۔

قاضی صاحب
محترم راز صاحب نے ایک اردو فورم بھی بنا رکھا ہے
www. bazm.urduanjuman.com
اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر اُن کی زیرِ ادارت ایک ادبی سہ ماہی رسالہ بھی شائع ہوتا ہے
http://www.mizraab.org
انٹر نیٹ پر اردو کے فروغ کے لئے راز صاحب کی گراں قدرخدمات قابلِ ستائش ہیں
والسلام
زرقا
زرقا مفتی صاحبہ کا دلی شکریہ کہ انہوں نے سرور عالم راز سرور کے متعلق مزید مفید معلومات اپنے تبصرے میں لکھیں۔ مجھے یہ معلوم کرکے بے حد خوشی ہوی کہ اردو کی خدمت کا یہ شاندار کام سرور صاحب ، زرقا مفتی صاحبہ کے تعاون سے کررہے ہیں ۔ یہ اردو ادب اور شاعری کی خوش قسمتی ہے کہ سرور صاحب اور زرقا مفتی صاحبہ یہ قابل دید اور لایق ستائش کام کررہے ہیں۔
سرور صاحب کی ویب سایٹ اور دوسری ویب سایٹ اگر یونی کوڈ میں ہوتیں اور ان میں انٹر ایکٹیو interactive مکالموں اور بات چیت اور فوری تبصروں instant comments and observation کی سہولت ہوتی تو ان ویب سایٹ کی افادیت بڑھ جاتی ۔ فی الوقت ان کے شمولیات contents میں فوری تبصروں کی گنجایش شاید نہیں ہے یا ہے تو ان کا علم مجھ کو نہیں ہے۔ میں تو عالمی اخبار کی ویب سایٹ کو اس معاملہ میں ایک مثال کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں اور ان سب کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی ویب سایٹوں کو یونی کوڈ میں تبدیل کردیں اور صرف اور صرف ان پیج سافٹ ویر inPage تک اپنی ویب سایٹوں کو محدود نہ رکھیں اس لیے کہ ان پیج سافٹ ویر میں اردو فانٹ میں فوری تبصروں کی گنجایش نہیں ہے ۔ اگر کوی تبصرہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو الگ ان پیج سافٹ ویر میں خط لکھنا پڑے گا یا پھر انگریزی میں تبصرہ کرنا پڑے گا۔ جس سے اردو کی ترویج اور ترقی کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ ( ہا ں رومن اردو میں بھی تبصرے ہوسکتے ہیں مگر وہ مزا کہا ں جو اردو فانٹ میں ہوتا ہے )
بہر حال: سرور عالم راز سرور صاحب ( جن کا تخلص میں راز سمجھتا تھا مگر اصل میں انکا تخلص سرور ہے ۔ راز چاند پوری مرحوم انکے والد تھے اور سرور صاحب اپنی فرزندانہ عقیدت اور سعادت مندی کے باعث اپنے والد کا نام اپنے ناممیں شامل کرتے ہیں ،) کااور زرقا مفتی صاحبہ کا کارنامہ ہے کہ وہ اپنی شاعری اور ادبی تحریرون سے اردو کی خدمت بھی کررہے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نئے نئے اچھے لکھنے والوں کی ہمت افزای بھی کررہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے اس بلاگ کی وجہ سے اردو ادب اور شاعری کی ایک تنظیم اور انجمن کا حال سب تک پہنچ گیا۔ ( اور زرقا مفتی صاحبہ کی ان دور رس خدمات کا حال بھی اس عالمی اخبار کی ویب سایٹ تک پہنچ گیا ۔
اللہ اردو کا چراغ اس علم وفن کی دنیا میں ہمیشہ روشن رکھے اور اس چراغ کو روشن رکھنے والوں کو ہمت اور تخلیقی طاقت عطا کرتا رہے ۔ آمین
فقط : اردو کا شیدای :
منظور قاضی از جرمنی
بھئی بہت ھی عمدہ اشعار ھیں ۔۔ لاجواب ۔۔شکریہ منظور بھائی ۔۔
نگھت نسیم بہن : سرور عالم راز سرور نے اپنے تعارف میں ( اپنی ویب سایٹ میں ) لکھا ہے کہ وہ اپنے والد راز چاند پوری مرحوم سے اپنے شعروں پر شروع شروع میں اصلاح لیا کرتے تھے مگر بعد میں وہ خود اس قابل ہوگئے کہ انہیں کسی سے اصلاحلینے کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ اسی عقیدت میں اپنا وہ شعر لکھ چکے ہیں جو اس بلاگ کو عنوان ہے:
سرور یہ فیضِ راز ہے کہ تیری شاعری ۔ حُسنِ سخن سے گلشنِ شیراز بن گئی
۔۔
میرا خیال ہے کہ القمر آن لاین میں انکا کلام آپ کی ادارت کے زمانے میں شامل ہوا تھا جو ابھی تک وہا ں موجود ہے۔
یہ معلوم کرکے خوشی ہوی کہ زرقا مفتی صاحبہ ، سرور عالم راز سرور صاحب کی ویب سایٹوں کے تزین اور تنظیم میں حصہ لے رہی ہیں ۔
آپ کے تبصرے کا شکریہ ؛
فقط : منظور قاضی از جرمنی
مکرم بندہ جناب قاضی صاحب: آداب عرض ہے
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے !
آپ کے بلاگ کے توسط سے ایک مدت کے بعد آپ سے نیاز حاصل ہوا اور دلی مسرت ہوئی۔ مختلف ادبی و شعری محفلوں میںبرادرم مسعود قاضی سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ حال ہی میں ان کے کلام کا مجموعہ :انا کی کرچیاں: شائع ہوا ہے جس کو دیکھنے کی سعادت مجھ کو بھی حاصل ہوئی ہے۔ اس پر میں نے ایک تبصرہ بھی لکھا ہے۔ اگر آپ کا اخبار ایسی چیزوںکا متحمل ہو سکتا ہے تو میں تبصرہ آپ کو بھیج سکتا ہوں۔ شاید اشاعت کے قابل ہو۔ اردو کی خدمت کے حوالہ سے آپ کی مساعی جمیلہ لائق صد ستائش ہیں۔ انشا اللہ جلد ہی آپ کے اخبار کا مطالعہ بھی کروں گا اور جو خدمت ممکن ہوگی ضرور کروں گا۔
مجھ پر جو مضمون آپ نے یہاںتحریر کیا ہے اس کے لئے ممنون ہوں۔میرا پورا نام ہی سرورعالم راز ہے ۔ راز میںنے اپنی مرضی سے والد مرحوم کی عقیدت میں نہیںلکھا ہے۔ مرحوم نے اپنے سب بچوں کے نام کے آگے شاعرانہ جدت کے طور پر اپنا تخلص راز لگا دیا تھا جواب ہمارا خاندانی نام ہوگیا ہے۔
آپ نے یونی کوڈ کے حوالہ سے جو بات کہی ہے وہ ایسی چوپالوںکے لئے تو قابل قبول ہے جن پر ہر ایک آ کرلکھ پڑھ سکتا ہے۔ لیکن میرا سائٹ ذاتی ہے جہاں صرف میں ہی لکھ سکتا ہوں، اگر سب کو لکھنے کی سھولت فراہم کر دی جائے تو صورت حال میرے اختیار سے باہر ہو جائے گی اور یہ قابل قبول نہیں ہو گا۔ دوسروں کے تبصرے اور خیالات یقینا سب کے لئے سودمند ہے لیکن ذاتی سائٹ کو ذرا مختلف طرح چلانا پڑتا ہے۔
میں آپ کو الگ سے ای میل بھیج رہا ہوں۔ دیکھ لیجئے گا۔
سرور عالم راز سرور
محترمی سرور عالم راز سرور صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے میرے بلاگ کو اپنے مثبت تبصرے سے نوازا۔
سب سے پہلے میں ان سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ عالمی اخبار میرا اخبار نہیں ہے ، اس سے میرا تعلق صرف اتنا ہے کہ اس کی انتظامیہ نے مجھے اپنا سمجھ کر اس کی اجازت دی کہ اس ویب سایٹ میں بلاگ لکھ سکوں ۔ یہ جناب صفدر ھمدانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسییم صاحبہ ( جو اس ویب سایٹ کے ناظم اور مدیر ہیں ) کی مہربانی ہے کہ میں حسب استطاعت اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں بلاگ لکھ سکتا ہوں ۔” وگرنہ من کہ ایک خاکم کہ ہستم ” کا معاملہ ہے۔
یہ محترم سرور عالم راز صاحب کی ذرہ نوازی کہ انہوں نے میرے چھوٹے بھای مسعود قاضی کی کتاب ” انا کی کرچیاں ” پر تبصرہ لکھا اور ا س تبصر ے کو اس ویب سایٹ میں بھیجنے کی خواہش ظاہر کی ۔ میں اس سلسلے میں انکا ممنون ہوں مگر میرا خیال ہے کہ اس ویب سایٹ میں کتابوں پر تبصروں کی گنجایش نہیں ہے ( اور اگر ہے تو مجھے اس کا علم نہیں ہے ) ۔ اس لیے میں ان سے عرض کرونگا کہ وہ مجھے وہ تبصرہ ای میل کے ذریعہ بھیجدیں تاکہ میں خود اسے پڑھکر اپنے بھای کی خوش قسمتی پر ناز کرتا رہوں ۔ یقینی طور پر اس تبصرے سے مسعود قاضی نے فیض حاصل کیا ہوگا اور آیندہ کے لیے آپ کے مشوروں کو پیش نظر رکھا ہوگا ۔)
قارین شاید جانتے ہیں ( ویسے میں خود وثوق کے ساتھ کہتا ہوں ) کہ میں جو کچھ بھی لکھتا ہوں، نیک نیتی کے ساتھ لکھتا ہوں ۔میں تو شروع ہی سے انیس کا یہ شعر اپنے پیش نظر رکھتا ہوں کہ :
خیال خاطر احباب چاہیے ہردم ۔ انیس ٹھیس نہ لگ جائے آب گینوں میں
اس کے باوجود اگر میری کسی بات سے کسی کی دلشکنی ہوتی ہے تو میں معافی چاہنے میں بھی پہل کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ غلط فہمیا ں ابتدا ہی میں دور ہوتی رہیں تاکہ ہمیشہ کے لیے دلوں میں کدورت برقرار نہ رہے۔
میں سرور عالم راز سرور صاحب کا تذ کرہ اس بلاگ میں اسی نیک نیتی سے کیا ہوں ۔ جو کچھ بھی لکھا ہوں اس میں کوی مبالغہ نہیں ۔ ( سرور عالم راز سرور صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے کہا کہ راز انکا خاندانی نام ہوگیا ہے ) ۔
میں اسی نیک نیتی کے ساتھ محترمہ زرقا مفتی صاحبہ کا تذکرہ اس بلاگ میں کیا ہوں کہ انکا نام میں نے سرور عالم راز سرور صاحب کی ویب سایٹ خاص طور پر “مضراب ” اور ” اردو انجمن ” میں دیکھا اور یہ محسوس کیا کہ وہ اپنے علم سے اردو کی دنیا کو فیضیاب کررہی ہیں اس لیے اس بات کو اپنے بلاگ میں لکھنے سے عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کو خوشی ہوگی ۔ مقصد نیک تھا ۔ ( میرے دل میں زرقا مفتی صاحبہ کی بے حد عزت اور احترام ہے ) ۔
سرور عالم راز سرور صاحب نے اپنی ذاتی ویب سایٹوں کو تیار کیا ہے ان پر انکا پورا پورا اختیار ہے وہ جس طرح چاہیں انکو چلایں ۔ صرف یہ عرض ہے کہ کبھی کبھی اس عالمی اخبار کی ویب سایٹ کو بھی اپنے کلام سے اور ہوسکے تو اپنے گرانقدر تبصروں سے نوازتے رہیں تو اس ویب سایٹ کے پڑھنے والوں کے علم میں اضافہ ہوتا رہے گا ۔
آخر میں جناب سرور عالم راز سرور صاحب کے مفید اور مثبت تبصرے کا مزید شکریہ۔ جزاک اللہ
اردو کا شیدای :
منظور قاضی از جرمنی
راز بھائی آپ کو عالمی اخبار کے بلاگ میں بہت بہت خوش آمدید ۔۔آپ کا ھونا آج اپنے ھونے کا یقین دلا رھا ھے ۔ اس ادبی قبیلے کا ایک ایک فرد منظور بھائی کا شکر گزار ھے جنہوں نے آپ کو آواز دی اور ھم سب کی آپ سے ملاقات ھو گئی ۔
جیسا کہ میں اپنے کسی میں بلاگ میں لکھ چکا ہوں کہ میں ” یاد ماضی ثواب ہے یارب ۔ مجھ سے مت چھین حافظہ میرا ” کی دعا مانگتا رہتا ہوں اس لیے کہ میں اپنی اس زندگی کے آخری حصہ میں اپنی یادوں کے سہارے ہی جی رہا ہوں ۔ انہیں یادوں میں مجھے ماضی کی وہ تمام باتیں اور وہ تمام لوگ یاد آتے رہتے ہیں جن سے میرا ( بای پاس شدہ ) دل متاثر ہوا ۔
اسی لیے میں اپنے حافظے کو اللہ کی ایک بڑی نعمت سمجھتا ہوں ۔ اسی حافظے میں ڈاکٹر پنہاں اور سرور عالم راز سرور اور بہت ساری ہستیاں اور انکے اشعار موجود ہیں جن کو میں کبھی بھول نہیں سکتا اور سب سے بڑی خوشی کی بات ہے کہ صفدر ھمدانی صاحب اور نگہت نسیم بہن کی عنایت اور ذرہ نوازی سے مجھ کو اس عالمی اخبار میں لکھنے کی اجازتم مل گئی ہے ۔ اس لیے میں اس عنایت کا شکریہ ادا کرتے ہوے کوشش کرتا ہوں کہ سخنوروں اور دانشوروں کی قدر کرتا رہوں اور ابھرتے ہوے سخنوروں کی ہمت افزائی کرتا رہوں ۔
موقع ملنے پر انشا اللہ چند اور ہستیوں جن میں میرے بچپن کے دوست حمایت علی شاعر ( جن کا تعلق میری طرح اورنگ آباد دکن سے ہے ) اور میری کراچی کی زندگی کے کرم فرما وں جن میں جمیل الدین عالی اور عبدالعزیز خالد اور صہبا اختر (علیگ ) ان سب پر بھی کچھ لکھ سکونگا ۔ افسو س کہ میرے قریب نہ کوی دارالمطالعہ ہے نہ میرے پاس کتا بوں کا ذخیرہ ہے اس لیے مجھے سرور عالم راز سرور صاحب کے نہا یت ہی عمدہ و اعلی او ر انتہای معیاری انٹرنیٹ کے مجلہ ” مضراب ” سے مدد لینے کی ضرورت ہوگی ۔
میں نگہت نسیم بہن کے مندرجہ بالا تبصرے کا شکریہ ادا کرنے کےلیے ، سرور عالم راز سرور صاحب کی ہمنوای میں سرور صاحب ہی کے اس شعر پر یہ تبصرہ ختم کرتا ہوں کہ:
بندگانِ آرزو میں کرلیا شامل ہمیں ۔۔ آپ نے شکرِ خدا سمجھا کسی قابل ہمیں
فقط:
علم کا طلب : منظور قاضی
assalamu alaikum
pls send ne ur news
جناب زبیر صاحب :وعلیکم السلام :
قبلہ آپ نے یہ 10 فروری 2009 کا لکھا ہوا میرا یہ بلاگ نمبر 302 کیسے ڈھونڈ نکالا ؟
شکریہ کہ آپ نے یاد کیا مگر مجھے آپ کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں !!
اگر آپ اپنا تعارف کروادیں اور یہ لکھیں کہ آپ کو اس بلاگ کے موضوع سے کیسے دلچسپی پیدا ہوئی؟
کیا آپ سرور عالم راز سرور صاحب کے حلقہ احباب میں شامل ہیں ؟
کیا آپ بھی ڈلس ، ٹیکسس میں رہتے ہیں اور وہاں کی اردو محفلوں میں شریک ہوتے ہیں؟
اگر آپ آئندہ اس بلاگ میں یونی کوڈ اردو میں اپنے متعلق لکھیں تو مشکور ہونگا.
اللہ سے دعا ہے کہ آنے والا سال 2011 آپ کے لیےخوشیوں کا پیغام لائے : آمین
اللہ حافظ
منظور قاضی
جرمنی سے