اردو کے خود مختار بلاگ نگاروں کومبارکباد

کچھ دن پہلے تانیہ رحمان صاحبہ نے ای میل کے ذریعہ یہ اطلاع دی کہ انہوں نے یونی کوڈ اردو فانٹ میں اپنا ذاتی بلاگhttp: //Tanyarehman.wordpress.pk شروع کردیا . ۔
میں تانیہ رحمان صاحبہ کے عالمی اخبار سے چلے جانے پر افسوس کررہا تھا ۔ مگر تانیہ رحمان صاحبہ کی اس خوشخبری نے مجھے انکے جانے کی وجہ بتا دی ۔
تانیہ رحمان صاحبہ میرے خیال میں سرحد سے تعلق رکھتی ہیں اور انکی اس ویب سایٹ سے اس بات کی خوشی ہوی کہ وہ گوشہ نشینی کی بجاے اردو زبان کی خدمت کررہی ہیں ۔ اور اس ویب سایٹ پر اپنے بلاگ بھی لکھرہی ہیں اور ا ن پر تبصروں کے جوابات بھی دے رہی ہیں۔

فی الوقت انہوں نے سعدیہ سحر صاحبہ اور زین الدین صاحب کو بھی اپنے اس بلاگ میں تبصروں اور انکے اپنے بلاگ لکھنے کی سہولت بھی دے ہے۔ اس سہولت کے باعث ان دونوں نے بھی خود اپنا اپنا بلاگ بنا لیا ہے ۔ سعدیہ سحر صاحبہ کے بلاگ کا پتہ ہےhttp://sadiasaher.wordpress.pk اور زین الدین صاحب کے بلاگ کا پتہ ہے http://zain.wordpress.pk
میرے خیال میں یہ ایک خوش آیند بات ہے اس لیے کہ اس کا اولین مقصد اردو کی خدمت ہے ۔معاشی اور مالی فایدہ اٹھانا فی الوقت اس کا مقصد نہیں ۔ یہ اردو کی بے لوث خدمت کی آینہ دار ہے۔

ان بلاگو ں کی خوبی یہ ہے کہ یہ سب مکالماتی interactive یونی کوڈ میں ہیں اور ان میں مبصروں کے اردو یا انگریزی میں تبصروں کی سہولت ہے۔

اگر اسی طرح دنیا ے اردو میں یونی کوڈ اردو فانٹ میں مکالماتی انٹرایکٹیو ہزاروں اور لاکھوں ویب سایٹیں اور بلاگ لکھی جایں تو اردو زبان کی نہایت اعلی پیمانے پر ترویج ہوتی رہے گی اور دنیا میں اردو زندہ رہے گی۔ اس لیےکہ یونی کوڈ اردو فانٹ ایک متحرک dynamic قسم کی سافٹ ویر ہے ۔ جو منجمد اور ساکت ان پیج سافٹ ویر سے ہزار درجہ بہتر ہے ۔ اس یونی کوڈ سافٹ ویر ہی میں اردو کی بقا کی ضمانت ہے۔
میرے خیال میں اردو زبان خوش ہورہی ہوگی کہ تانیہ رحمان صاحبہ نے اپنا بلاگ اور اپنی ویب سایٹ بنا کر اس کی خدمت کرنے والوں میں اضافہ کردیا ہے۔
تانیہ رحمان صاحبہ کو مبارکباد مگر انکے بلاگ “بلاگ تانیہ رحمان ( عین الیقین ) خوش آمدید ” کے ساتھ ساتھ یہ غیر ضروری اور بے مقصد شعر بھی موجود ہے جس کو حذف کرکے وہ اپنی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرسکتی ہیں:
” ہم تو دشمن کو بھی پاکیزہ سزا دیتے ہیں ۔ ہاتھ اٹھتے نہیں نظروں سے گرا دیتے ہیں”
ویسے انکی مرضی :
تانیہ رحمان صاحبہ کو اور سعدیہ سحر صاحبہ کو اور زین الدین صاحب کو اپنے اپنے بلاگوں کے چلانے پر مبارکباد۔
امید کہ وہ سب اپنی مادر علمی ” عالمی اخبار کی ویب سایٹ ” کو کبھی نہیں بھولینگے اور اس کی ترویج اور ترقی کے لیے بھی حسب استطاعت اور حسب مقدور کام کرتےرہینگے۔ ( یہ میں اپنی طرف سے کہ رہا ہوں ، عالمی اخبار کی انتطامیہ کی طرف سے نہیں )۔
اردو کا ایک بے لوث خادم :
منظور قاضی از جرمنی

15 thoughts on “اردو کے خود مختار بلاگ نگاروں کومبارکباد”

  1. زبردست قاضی صاحب، بہت خوبصورت انداز میں اصلاح فرمائی ہے آپنے۔سلامت رہیں۔ ادب کے ترویج ہونی چاہیئے اور اس کی جتنی بھی شاخیں ہو سکیں اتنے ہی پھول پتے نکلیں گے اور علم و ادب کے لیئے آکسیجن مہیاء ہوگی، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوناچاہیئے کہ تنے کو نقصان پہنچے، بلکہ شجر سے وابستگی مضبوطی کا باعث ہوتی ہے۔

  2. میں برادرم عمران چوہدری صاحب کی بات سے اتفاق کرتا ہوں ؛
    اقبا ل نے بھی کہا ہے کہ فرد قایم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں ۔ موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں ۔

    مگر ہماری نظر مقصد کے حصول کی طرف ہونی چاہیے ۔اگر چند احباب اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اردو کی‌خدمت اپنے آپ کو خود مختا ر بنا کر کرسکتے ہیں تو ہم سب کو انکی ہمت افزای کرنی چاہیے۔ ویسے ان سب کے لیے ہم کو اپنے گھر کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے

    ۔ اسی طریقہ کو اپنا کر ہزاروں لاکھوں بچے بچیاں اپنے والدین کو خدا حافظ کہ کر دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ گئے ہیں۔ یہی زندگی کا تقاضہ ہے۔

  3. عالمی اخبار کا ادارہ تمام نئے خود مختار بلاگ نگاروں کو دلی مبارکباد پیش کرتا ھے اور دعاگو ھے کہ جو نئے چراغ اللہ پاک نے پرانے چراغوں سے جلائے ھیں انہیں روشن رکھے ۔آمین

  4. ڈالی گئی جو فصلِ خزاں میں شجر سے ٹوٹ
    ممکن نہیں ھری ہو سحابِ بہار سے
    ہے لازوال عہدِ خزاں اس کے واسطےکچھ واسطہ
    نہیں ہے اسے برگ و بار سے
    ہے تیرے گلستاں میں بھی فصلِ خزاں کا دور
    خالی ہے جیبِ گل زرِ کامل عیار سے
    جو نغمہ زن تھے خَلوتِ اوراق میں طیور
    رخصت ہوئے ترے شجرِ سایہ دار سے
    شاخِ بریدہ سے سبق اندوز ہو کہ تو
    ناآشنا ہے قاعدۂ روز گار سے
    ملّت کے ساتھ رابطۂ استوار رکھ!
    پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

  5. درڈ پریس ڈاٹ پی کے کو عبدلقدوس نے بہت محنت و لگن سے بنایا ہے! اردو بلاگ بنانے کے لئے کوئی شک نہیں ایک اچھا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جناب خود بھی دیوانگی کے نام سے ایک اردو بلاگ لکھتے ہیں! اور بڑے پروفیشنل ویب ڈیزائینل ہیں! تمام جدید آلات و سروسس کا استعمال کر رہے ہیں!

  6. آپ سب نے مبرکباد دی ہے تو مجھے بھی یہ فرض ادا کر لینے دیجئے اور یہ مبارکباد بھی مشہد مقدس سے۔ مجھے عمران کی بات کو آگے بڑھانا ہے اور ڈاکٹر نگہت کی بات کو بھی اور وہ یہ کہ خوشی کی بات ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اردو کی خدمت کریں لیکن اس عمل میں محسن کُشی سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے لگائے پودے اب درخت بننے میں کوشاں ہیں اور ہمیں خالق لوح و قلم نے وسیع قلب دیا ہے لیکن جیسے عمران نے کہا کہ ایسے میں جڑ کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہیئے۔

  7. میں اوپر کے تمام تبصرہ نگاروں کا (جو عالمی اخبار کی انتظامیہ میں شامل ہیں ) اور خاص طور پر اس ویب سایٹ کی روح رواں جناب صفدر ھمدانی صاحب کا اور میری نہایت ہی محترم بہن‌ڈاکٹر نگہت نسیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان سب نے میری نیک نیتی پر شبہ کیے بغیر میرے بلاگ کو نہایت ہی اعلی ظرف اور وسیع القلب ویب سایٹ میں شایع کردیا اور اپنے تبصروں میں مجھے ہدف نہیں بنا یا ۔ (شکریہ )
    میرے اس بلاگ کو پڑھنے والے یہ بھی اس میں پڑھ چکے ہونگے کہ میں اس میں یہ لکھا ہوں کہ ” یہ میں اپنی طرف سے کہ رہا ہوں عالمی اخبار کی انتظامیہ کی طرف سے نہیں۔ ”

    ویسے اگر کوی” اپنی دنیا آپ پید ا کرنے” کی کوشش کرتا ہے تو اسکے لیے میری دلی دعایں اسکے ساتھ رہینگی ، مگر مادر علمی سے رابطہ اسے فایدہ ہی پہنچا سکتا ہے نقصان نہیں ۔
    اللہ ہم سب کو ارد و کی خدمت کرنے کی توفیق اور استطاعت عطا کرتا رہے ۔ آمین
    خیر اندیش :
    منظور قاضی از جرمنی

  8. جناب منظور قاضی صا حب ۔ آپ سب لوگوں نے مبارکباد دیکراردو دوستی کا ثبوت دیا ہے میں بھی آ پ سب دوستوں کا اتبا ع کر تے ہو ئے تانیہ رحمٰن صا حبہ کو مبا رکباد پیش کر تا ہوں۔اور جناب صفدر ھمدانی کو بھی کہ انہوں نے ار دو دوستی ہی نہیں بلکہ انتہا ئی اعلیٰ ظرفی کا بھی ثبوت دیا ہے۔
    قاضی صاحب میں ” ابھرتے ہوئے سنخنوروں والے بلاگ میں نے آپ کی فر ما ئش اور اس ناچیز کی ستا ئش کا جواب دے دیا ہے۔ آ پ نے ابھی تک شاید پڑھا نہیں ؟ للہ یہ مت خیال کیجئے گا کہ میں نےجواب نہیں دیا۔ تھو ڑی اس میں تاخیر ہوگئی تھی معافی چاہتا ہوں۔

  9. شمس جیلانی صاحب کے اوپر کے تبصرے کا شکریہ اور انکے اس تبصر ے کا بھی شکریہ جو انہوں نے میرے ” ابھرتے ہویے سخنوروں ” پر لکھے ہوے بلاگ میں کیا ۔
    اب آپ کے مندرجہ بالا تبصرےکےبعد ہم سب یہ خدا سے دعا کرتے ہیں کہ یہ عالمی اخبار ویب سایٹ ہمیشہ ہمیشہ پھلتی پھولتی رہے اور اپنی بساط کے مطابق اردو کی خدمت کرتی رہے۔ آمین
    جو اس ویب سایٹ کے ساتھ ہیں انکی ہمت افزای کرتے رہنے میں اور جو چلے گئے ہیں انکے لئے اپنے دل کا دروازہ کھلا رکھنےمیں ہم سب کا فایدہ ہے۔
    بہر حال :
    اردو کا خادم
    منطور قاضی از جرمنی

  10. میں اس پر ثم آمین کہتا ہوں۔ آپ سب کا ادنیٰ خادم ۔شمس جیلانی

  11. ایران جاتے ہوئے بھی آپ سے بات ہوئی تھی اور اب آتے ہوئے بھی۔بدھ کی صبح لندن واپس پہنچ جاؤں گا انشااللہ۔ مجھے اسوقت یہ عرض کرنا ہے کہ اب اس موضوع پر بات ختم کر کے ہمیں آگے بڑھنا چاہیئے کہ اسی کا نام زندگی ہے۔ ہمیں تو خوشی ہے کہ جس فرد نے اپنی تھریری زندگی کا آغاز ہمارے ساتھ کیا تھا وہ اب خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں کوشاں ہیں۔ انکی آمد ہمارے ساتھ ڈاکٹر نگہت کی مرہون ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ کوئی نہ کوئی کسی کو متعارف کرواتا ہے۔ بس اپنے محسنوں کو یاد رکھنا چاہیئے۔ اور بھی اگر کوئی بلاگ پیج بنانا چاہے تو خوش آمدید۔ یہ بھی ہماری ہی کامیابی ہے
    ویسے عالمی اخبار میں بلاگ تو بہت ایک چھوٹا سا عنصر ہے ورنہ یہ اب اردو،انگلش اور فارسی زبان کا عالمی روزنامہ ہے اور ہم سب کی کامیابی ہے۔ چلیں اس قافلے کو اور آگے بڑھائیں۔ اہمیت افراد کی نہیں کام کی ہوتی ہے۔

  12. صفدر ھمدانی صاحب کے اس مشورہ پر کہ ” اس موضوع کو ختم کرکے ہمیں آگے بڑھنا چاہیے ” اس بلاگ کا مقصد پورا ہوگیا ۔
    اس میں مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہیں۔
    ہم سب کی دعا اور کوشش یہی ہونی چاہیے کہ عالمی اخبار اپنی پوری تابانی کے ساتھ ہمیشہ قایم و دایم رہے۔

  13. آج نیٹ پر تلاش کے دوران اتفاقآ یہاں تک پہنچا۔
    آپ سب کا اور خصوصآٓ منظور قاضی صاحب کی حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ

  14. فرحان دانش صاحب نے اس بلاگ کو جو 12 مارچ 2009 سے عالمی اخبار کے “سرد خانے“ میں پڑا ہوا تھا ، اپنی تحریر اور تبصرہ سے پھر سے زندہ کردیا۔ شکریہ
    ابھرتے ہوئے بلاگ نگاروں کی ہمت افزائی کی تاریخ میں عالمی اخبار ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے ۔
    فرحان دانش صاحب نے صرف اپنے بلاگ کی ویب سائٹ لکھدی مگر کچھ اور نہیں لکھا۔ صرف اپنی ویب سائٹ کی تشہیر ہی کرنی تھی تو آج کل Facebook کے چرچے عام ہیں (۔ جس کو دیکھو اپنی اپنی تصویر لگا کر اپنے شیدائیوں اور پروانوں کو اپنی اپنی انجمن میں گھسیٹ رہا ہے ) ۔ فرحان دانش صاحب بھی یہ طریقہ استعمال کرسکتے تھے ۔
    بہر حال :
    عالمی اخبار میں تشریف آوری کا اور اس بلاگ میں اپنی ویب سائٹ لکھنے کا شکریہ۔
    آئندہ اگر وہ اس بلاگ میں آئیں تو براہ کرم اپنا تعارف ضرور کروائیں ۔تاکہ سب کو پتہ چلے کے آپ کہاں رہتے ہیں اور ویب سائٹ میں tk کا کیا مطلب ہے؟ کیا وہ ترکی میں رہتے ہیں ؟
    بہر حال: اے آمدنت باعثِ آبادی ء ما

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *