عالمی اخبار کے ابھرتے ہوے سخنوروں کے قابل مطالعہ اشعار

عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن میں مشہور و معروف سخنوروں ( پنہاں ، صفدر ھمدانی ،نگہت نسیم ، زرقا مفتی اور اسحاق ساجد اور فراز ) کا کلام تو موجود ہے مگر ساتھ ہی ساتھ ان ابھرتے ہوے سخنوروں کا کلام بھی موجود ہے جن سے میں پوری طرح واقف نہیں ہوں ( یہ صرف میری کوتاہ علمی کا ثبوت ہے ، ان ابھرتے ہوے سخنوروں کی شاعری کا قصور نہیں )۔
آج میں ان ابھرتے ہوے سخنوروں میں سے چند کے اشعار پیش کرتا ہوں جو مجھے اچھے لگے:
عائشہ انمول :
تجھ کو پانے کا خواب باقی ہے ۔ دل کا وہ اضطراب باقی ہے
جانے انمول کے مقدر میں ۔ اور کتنا عذاب باقی ہے
۔۔۔
شعیب تنویر :
بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب پیار کے قصے
گل و گلزار کی باتیں لب و رخسار کے قصے
مرے احباب کہتے ہیں یہی اک عیب ہے مجھ میں
سر دیوار لکھتا ہوں پس دیوار کے قصے
۔۔۔
محمد احمد :
جس پ گولی لگی وہ مرا سر نہ تھا ۔ آگ جس پر لگی وہ مرا گھر نہ تھا
میرا دل اپنی دنیا میں مشغول ہے ۔۔۔ میری دنیا میں سب حسب معمول ہے
۔۔۔۔۔۔
ماہ پارہ صفدر:
اک ادھورا سا خواب ہو جیسے ۔ زندگانی کتا ب ہو جیسے
میری آنکھوں کے رہگزاروں میں ۔ اک مسلسل سراب ہو جیسے
منتشر منتشر رہی ایسی ۔ بکھرا بکھرا گلاب ہو جیسے
۔۔۔۔۔
لیاقت علی عاصم :
یہاں رہنا معطل کرنے والا تھا کہ تم آئے ۔۔میں دروازہ مقفل کرنے والا تھا کہ تم آئے
چھتوں پر لوگ ہوتے اور میرا رقص تنہای۔ ۔ مجھے یہ چاند پاگل کرنے والا تھا کہ تم آئے
۔۔۔۔
عامر عباس :
آئی جب شام الم ، ہم نے افق پر دیکھا ۔۔ اور لیا خوب ترے عارض گلنا ر کا لطف
۔۔۔
صدف مرزا :
تم گھوم آے بستی بستی ، کیا دیکھا ہے کوی ہم سا بھی
سن آے ہو تم نظمیں سب کی کیا لہجہ ہے کوی ہم سا بھی
اس بے خوفی سے حال دل کیا لکھتا ہے کوی ہم سا بھی
یوں شعر بہت ہیں جانِ صدف کیا مصرع ہے کوی ہم سا بھی
۔۔۔۔
سائرہ بتول :
دکھ مری انکھوں میں اشکو کو سجانے آئے
دل میں بھڑکی ہوئی اک آگ بجھا نے آئے
میں نے آواز اٹھای تو مرے سب ساتھی
مجھ کو دنیا کے رواجوں سے ڈرانے آئے
۔۔۔
زہرہ علوی :
سنا ہے تتلیاں تجھ سے ہی سارے رنگ لیتی ہیں
سنا ہے جگنو ٹہرتے ہیں تری ہی نوک مژگاں پر
۔۔۔۔
سید انور ظہیر :
ساحل کی ہواوں سے مچل جائے گا پانی
لہروں میں اک ادا سے ڈھل جائے گا پانی
۔۔۔۔۔
فی الوقت میں ان اشعار پر اکتفا کرتا ہوں۔ کوشش کرونگا کہ باقی کے ابھرتے ہوے سخنوروں کے چند اشعار بھی اس بلاگ میں پیش کروں ۔
اردو کا شیدای :
منظور قاضی از جرمنی

24 thoughts on “عالمی اخبار کے ابھرتے ہوے سخنوروں کے قابل مطالعہ اشعار”

  1. بھت خوب منظور جی بہت خوبصورت اشعار ہیں ! سلامت رہیں صدا 🙂
    محمد احمد کا یہ شعر دل کو چھونے والا ھے :
    جس پ گولی لگی وہ مرا سر نہ تھا ۔ آگ جس پر لگی وہ مرا گھر نہ تھا
    میرا دل اپنی دنیا میں مشغول ہے ۔۔۔ میری دنیا میں سب حسب معمول ہے

    اور سائرہ بتول کا یہ کلام بہت خوب :
    دکھ مری انکھوں میں اشکو کو سجانے آئے
    دل میں بھڑکی ہوئی اک آگ بجھا نے آئے
    میں نے آواز اٹھای تو مرے سب ساتھی
    مجھ کو دنیا کے رواجوں سے ڈرانے آئے

  2. شکریہ سیدہ ثناء شاہ صاحبہ کہ آپ نے ابھرتے ہوے سخنوروں کے کلا م کو سراہا۔ آپ سب کی ہمت افزای سے نئے نئے سخنور اچھا اچھا سا کلام تخلیق کرسکتے ہیں۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم سب مل کر ہر ابھرتے ہوے سخنور کی ہمت افزائی کریں ۔ کاش کہ آپ بھی اس شاعری کےسیکشن میں اپنا کلام شامل کرتی رہیں اس لیے کہ ماشا اللہ آپ بھی اچھے اچھے شعر لکھتی ہیں۔
    میں اب اس بلاگ کو مکمل کرنے کے لیے چند اور سخنوروں کے کلا م کے نمونے پیش کرتا ہوں :
    فوزیہ مغل:
    حال پوچھا نہ زندگی میں کبھی ۔ خاک میں وہ ملا کے پچھتا ئے
    نام ہوتا جو عشق میں مرتے ۔ ہم تو دامن بچاکے پچھتا ئے
    اپنے اشکوں کو فوزیہ پی لو ۔ یہ نہ ہو وہ رُلا کے پچھتا ئے
    کوئی اپنا نظر نہیں آیا ۔ انکی محفل میں جا کے پچھتا ئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حمیرا راحت:
    گذر جائے گی ساری رات اس میں ۔ مرا قصہ کہانی سے بڑا ہے
    ترا خاموش سا اظہار راحت ۔ کسی کی لن ترانی سے بڑا ہے
    ۔۔۔۔
    طاہر عدیم:
    ہاتھ اٹھتے ہی ترے ، سینکڑوں مصرعے اٹھے ۔ تیری انگڑائی جو ٹھہرے تو تو غزل بھی ٹھہرے
    اسکی آنکھوں کو اگر جھیل بنا یا ہے تو پھر ۔ اے خدا اس میں کوی شوخ کنول بھی ٹھہرے
    ۔۔۔۔
    فریدہ لاکھانی :
    بھول بھی جاتی ہوں انکو یاد بھی کرتی ہوں میں ۔ اس میں میری سادگی بھی اور نادانی بھی ہے
    تپتے لمحوں میں بھلا کوئی کہاں تک خوش رہے ۔ بات تو میری ہے لیکن ان کو سمجھانی بھی ہے
    ۔۔۔۔۔
    ناہید ورک ::
    جانے کس سمت اڑتاپھرتا ہے ۔ میرا یہ دل ترے خیال میں گم
    اوڑھ کر میں شکستگی ناہید ۔ ہوگئی اپنے ہی زوال میں گم
    ۔۔۔۔
    عالمی اخبار ویب سائٹ کی انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے کہ وہ ابھرتے ہوے فنکا روں اور سخنوروں کی ہمت افزائی کرتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس انتظامیہ کے ارباب اختیار ان سب شعرا کو یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی شاعری کو ان پیج سافٹ ویر یا پھر یونی کوڈ میں لکھکر انتظامیہ کو بھجوایں تاکہ انتظامیہ اس کلام کو ” شاعری ” کے سیکشن میں منتقل کرتی ر ہے۔ اس سلسلے میں میں نے انتظامیہ کی کوئی تحریری ہدایات اس ویب سایٹ کے کسی بلاگ میں نہیں دیکھا ۔ میرا خیال ہے کہ اگر نئے اور پرانے سخنوروں کو اس بات کا علم ہوجاے کہ وہ براہ راست کس طرح اپنی شاعری کو “شاعری ” کے سیکشن میں بھیج سکتے ہیں تو شعرا اور شاعرات کو اس ویب سایٹ کی “شاعری ” کے سیکشن میں اپنا کلام پیش کرنے میں آسانی ہوگی ۔ ( اس سلسلےمیں انتظامیہ یہ بھی کرسکتی ہے کو وہ ہر نئی غزل یا نظم کو حذف کردے اگر وہ( غزل یا نظم ) انتطامیہ کے ادبی معیار پر پوری نہ اترتی ہو )
    فقط :
    اردو کا شیدای : منظور قاضی از جرمنی

  3. منظور صاحب اور ثنا صا حبہ
    مجھ نا چیز کے حقیر سے اشعار پسند کرنے کا شکریہ۔
    آپ جیسے صا حبانِ ذوق کی حوصلہ افزائ ہی مجھ جیسے نو آموز اہلِ سخن کا سر مایہء حیات ہے۔

  4. جناب قاضی صاحب۔ایران کے مقدس شہر مشہد جاتے ہوئے راستے میں آپکی تحریر دیکھی اور لکھے بغیر نہیں رہ سکا۔ ہم سب ہمیشہ آپکی محبتوں کے مقروض رہے ہیں۔آپکی حوصلہ افزائی بلاشبہ ایک ٹانک ہے ۔سلامت باشد

  5. قاضی صاحب
    آپ کی شفقت کے لٕے ممنون ہوں ۔ یہاں صرف یہ کہنے کے لٕے حاضر ہوئی ہوں کہ میرا شمار ادب کے ادنیٰ طالبعلموں میں ہوتا ہے ۔ معروف سخنوروں میں نہیں۔لیاقت علی عاصم صاحب کا شمار معروف شعرامیں ہوتا ہے ان کی شاعری کے تین مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ صدف مرزا اور ناہید ورک کا بھی ایک ایک مجموعہ چھپ چکا ہے
    والسلام
    زرقا

  6. منظور بھائی آپ کی توجہ اور محبت کا شکریہ لیکن میں اس مقام سے بہت دور ھوں جہاں بابا اور پنہاں آپا ھیں ۔ دعا ھے کہ اللہ پاک مجھے علم کے طالبوں میں رکھے ۔۔آمین

  7. یہ میری خوش نصیبی ہے کہ صفدر ھمدانی صاحب نے اپنے سفر کے دوران تھوڑا سا وقت نکال کر مجھے یاد کیا اور میرے اس بلاگ کی افادیت کو سراہا۔ اللہ انکا سفر کامیاب بناے اور ساتھ صحت اور خیریت کے واپس لندن لے جاے ۔ آمین ۔ انکا مقام ہر لحاظ سے کافی بلند ہے ۔ میرے پاس الفاظ نہیں کہ انکی تعریف کا حق ادا کرسکوں ۔وہ عالمی اخبار کی روح رواں ہیں : جزاک اللہ
    اب میں سائرہ بتول صاحبہ اور پھر محترمہ زرقا مفتی صاحبہ اور ڈاکٹر نگھت نسیم صاحبہ کے مندرجہ بالا تبصروں کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں :
    سائرہ بتول صاحبہ:
    مجھے یاد ہے جب القمر آن لاین کی ویب سایٹ ( جس کی ادارت صفدر ھمدانی صاحب اور نگھت نسیم صاحبہ کررہے تھے ) اس وقت ایک طرحی مشاعرہ ویب سایٹ پر ” مجھے تو اور کوی کام بھی نہیں آتا ” کے طرحی مصرعہ پر منعقد تھا ۔ جس میں آپ نے اپنی غزل سے مشاعرہ میں جان ڈال دی تھی اور سب سے داد اور خاص طور پر صفدر ھمدانی صاحب سے بھی داد وصول کی تھی ۔ آپ کی اس غزل کے یہ اشعار ابھی تک اس ویب سایٹ پر موجود ہیں:
    لگی جو عشق پہ قدغن تو سوچتی ہوں میں
    “مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا ”
    غریب ِ شہر پہ اٹھتی ہیں انگلیا ں لیکن
    امیرِ شہر پہ الزام بھی نہیں آتا
    میں اپنے اشک چھپاتی ہوں دامنِ دل میں
    ،رے رقیب کو یہ کام بھی نہیں آتا
    فقیہِ شہر کے فتوے ہیں سب ہمارے لیے
    کہ اُن میں تیرا کہیں نام بھی نہیں آتا
    ہمارا نام تو اب ان کی انجمن میں بتول
    برائے طعنہ و دشنام بھی نہیں آتا
    : اتنی اچھی غزل کہنے والی شاعرہ کبھی بھی ” ناچیز ” اور اسکی شاعری کبھی بھی ” حقیر ” نہیں ہوسکتی ۔ آپ پورے اعتماد کے ساتھ اپنے اشعار کی تخلیق کو جاری رکھیے اور پڑھنے والوں اور سننے والوں کو اپنے کلام سے مستفید کرتی رہیے۔ ہم سب کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

    اب میں اس تبصرے کو ختم کرتا ہوں اور زرقا مفتی صاحبہ اور نگہت نسیم صاحبہ کے تبصروں کے جوابا ت آنے والے تبصروں میں پیش کرونگا۔
    فقط:
    اردو کا شیدای : منظور قاضی از جرمنی

  8. بھت اچھے عنوان سے بھت اچھا بلاگ لکھا گیا ھے۔ نیے لکھنے والوں کی حوصلہ افزایٔ ایک مثبت قدم ھے۔ اشعار کا انتخاب بھی قابل تعریف ھے۔ محمد احمد ، سایٔرہ بتول ، اور طاھر عدیم کے اشعار کے آیٔنوں میں مستقبل کے بڑے شعرا کی جھلکیاں دکھایٔ دے رھی ھیں۔ باقی شعرا کی کاوشیں بھی داد اور حوصلہ افزایٔ کے لایٔق ھیں۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر پنھاں ۔

  9. زرقا مفتی صاحبہ سے مودبانہ عرض ہے کہ جس بزم یا جس ادارے یا جس انجمن نے “انکا شمار ادب کے ادنٰی طالبعلموں میں کردیا ” اس نے بڑی بے قدری سے کام لیا۔ کتابوں کی تعداد کسی بھی سخنور کی شہرت اور عظمت کی دلیل نہیں ہوتی ۔ اصل میں ، کتاب کے شمولیات کی گہرای اور سادگی سے ہی سخنور کے علم اور فن اور ادراک کی عظمت اور مقبولیت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کی کتابیں ابھی نہیں چھپیں ہیں تو انشا اللہ مستقبل میں ضرور چھپینگی اور وہ ضرور کامیاب ہونگی۔ یہ پیش گوئی میں نے آپ کے ان اشعار کے پڑھنے کے بعد کی ہے:
    حنا کا رنگ ہتھیلی سے تو جدا نہ ہوا ۔۔ وہ میرے ساتھ رہا پر کبھی مرا نہ ہوا
    زمانے بھر کی جفاوں کا شکوہ کر نہ سکے۔ تری جفا کا بھی ہم سے کبھی گلہ نہ ہوا
    ۔۔۔
    ابلیس کی مانند تکبر میں رہا ہے ۔ انسان تو ہر دور میں فرعون بنا ہے
    ۔۔۔۔اور یہ قطعہ :
    معمور ترے نور سے یہ کون و مکاں ہے ۔ ان چاند ستاروں میں تری ہی تو ضیا ہے
    عرفان کی ضو دے کے مجھے شمس بنا دے ۔ پتھر کو ضیا دے کے قمر تو نے کیا ہے
    ۔۔۔۔۔
    بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم ۔ جنوں کی راہ چلے ہیں ، تو آگہی پائی
    چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ اس دفعہ ہم نے۔ بہار میں بھی خزاں کی سی ابتری پائی
    ۔۔۔۔
    سہمی ہوئی ہیں خوف سے کلیا چمن میں کیوں ۔ کیا پھر کسی گلاب کو لے کر اجل گئی
    ۔۔۔
    لاکر مرے قریب تجھے دور کردیا ۔ تقدیر میرے ساتھ کوئی چال چل گئی
    ۔۔۔
    وہ ساحل بنا مجھ کو تکتا رہا ۔ میں لہروں کی صورت مچلتی رہی
    ۔۔۔۔
    پندار کی شکست نے بے حال کردیا ۔ اپنی انا کے بت کو گرادینا چاہیے
    آواز اب ضمیر کی سنتا نہیں کوئی ۔ احسا س کی چبھن کو مٹادینا چاہیے
    ۔۔۔۔
    اتنے اچھے اچھے اشعار کی اور اتنے اچھے اچھے کالموں کی اور بلاگوں کی خالق “ادب کی ادنٰی طالبہ علم ” نہیں ہوسکتی ۔ اور خاص طور پر اس لیے بھی کہ آپ نے عالمی اخبار کی تزین اور تشکیل کی اور نہ صرف عالمی اخبار ویب سایٹ کی بلکہ سرور عالم راز سرور صاحب کی ویب سایٹوں کی بھی تزین اور تشکیل کی اور ان تمام ویب سایٹوں کو اپنے علم وفن کے کمال سے اس قابل بنادیا کہ وہ اردو کی دنیا میں بلند مقامات پر پہنچ چکی ہیں ۔

    اللہ آ پ کو اور آپ کے کلام کو اور آپ کے فن کو مزید تقویت اور شہرت عطا کرے ۔ ( پنہاں صاحبہ اور نگہت نسیم صاحبہ اور آپ سب میرے لیے کافی قابل تعریف اور قابل قدر ہیں ) ۔
    میں اس بلاگ کے شروع میں ہی اس کا اعتراف کیا ہوں کہ یہ میری کوتاہ علمی ہے کہ میں چند سخنوروں کی عظمت سے واقف نہیں اس لیے انکو میں ابھرتے ہوے سخنور میں شامل کیا ۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے یہ کہا کہ لیاقت علی عاصم صاحب، صدف مرزا صاحب اور ناہید ورک صاحبہ مشہور و معروف سخنور ہیں اور اپنی اپنی تصانیف کے مصنفین بھی ہیں۔ امید کہ وہ سب سخنور میری کوتاہ علمی کو معاف کردینگے۔

    میں اس تبصرے کو یہا ں پر ختم کرتا ہوں اور انشا اللہ بہن نگھت نسیم صاحبہ کی شاعری اور اسکی عظمت کے بارے میں اپنے تاثرات اپنے آیندہ کے تبصرے میں لکھونگا ۔
    فقط : منظور قاضی از جرمنی

  10. بہن نگھت نسیم صاحبہ : میرے خیال میں آپ مشہور و معروف سخنوروں کی صف میں شامل ہیں ۔ مشہور و معروف اس لیے کہ عالمی اخبا ر ویب سایٹ کے پڑھنے والے آپ کے نام سے اور آپ کی عظمت سے واقف ہیں ۔ آپ سڈ نی اسٹریلیا میں ہیں مگر آپ کا نام دنیا کے ہر اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں اس ویب سایٹ کے پڑھنے والے موجود ہیں۔ یہ آپ کی قابلیت کا ثبوت ہے کہ آپ نے اور صفدر ھمدانی صاحب اور امجد شیخ صاحب اور زرقا مفتی نے صرف آٹھ دس دن میں اس ویب سایٹ کی تخلیق کی اور اسے القمر آن لاین سے بھی ہزار درجہ بہتر بنادیا ۔ آپ ماہر نفسیات ہونے کے باعث ، اس ویب سایٹ کے پڑھنے والوں کےدلوں اور دماغوں کو اپنی قابلیت اور محبت سے متا ثر کرنے کا علم جانتی ہیں ۔ اس کے علاوہ آپ میں آزاد نظمیں لکھنے کی قابلیت بے حد زیادہ ہے ۔ آپ کے متعلق آپ کی سابقہ ویب سایٹ ( القمر آن لاین )میں یہ ارشادات درج ہیں:
    ” نظم نگاری میں ڈاکٹر نگہت نسیم ، میرا جی کے بعد نظم کو غزل کے مقابلے میں اس کا کھویا ہو وقار واپس ولوانے میں ایک اہم کردار ادا کررہی ہیں ” اور یہ بھی کہ ۔” نظم نگاری میں ان کا منفرد اور بے باک اندازِ اظہار انہیں عہد حاضر کے نظم نگاروں میں ممیز کرتا ہے ‘ِ ” انہیں اس امر کا ادراک ہے کہ انکا مزاج غزل گوئی کا نہیں اس لیے انہوں نے غزل کے مصرعے زبردستی جوڑنے کی بجائے حقیقی اور خالص نظم لکھنے پر ہی خود کو مرکوز کردیا ”

    آزاد نظم نگاری کے فن پر عبور حاصل کرنا کوی معمولی سی بات نہیں۔ اس کے لیے خیالا ت کو عروض کی بندھنوں سے بے نیاز ہوکر ، اپنے الفاظ کے حصار میں لانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
    انکی آزاد نظمیں اس ویب سایٹ کے شاعری کے سیکشن میں موجود ہیں اور تمام کی تمام ہر لحاظ سے بہترین ہیں ۔

    انکی غزل گوئی بھی قابل تعریف ہے جس کا ایک نمونہ یہاں پیش کرتا ہوں :
    بے نشاں تھی میں قافلوں کی طرح ۔ تو مگر ساتھ منزلوں کی طرح
    تیری فرقت بھی روگ جیون کا ۔ تیری قربت بھی فا صلوں کی طرح
    بارشیں، خوشبوئیں یا باد نسیم ۔ ،یرے اندر ہیں جنگلوں کی طرح
    دور جانا بھی تیرا فیصلہ تھا ۔۔۔۔ ڈھونڈتا کیوں ہے پاگلوں کی طرح
    ( نوٹ : کمپوزنگ کی غلطیوں کی معافی چاہتا ہوں )
    میں ان خصوصیا ت کی وجہ سے ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کو ابھرتے ہوے سخنوروں کی صف میں نہیں بلکہ ان سے آگے کی صف میں شمار کرتا ہوں ۔

    اب میں آنے والے تبصروں میں ان ابھرتے ہوے سخنوروں کی شاعری کے نمونے پیش کرونگا جن پر میں نے اب تک تبصرہ نہیں کیا ۔ ان میں سعدیہ سحر ، احتشام انور ، ضیاء بلوچ ، شفیق مراد ۔، ارمان نجمی ، نوید صادق، ڈاکٹر ہدایت اللہ ، رامش جان ، سہیل ثاقب اور خاور چوہدری شامل ہیں ۔
    فقط :
    منظور قاضی از جرمنی

  11. اس بلاگ کی تکمیل کے لیے میں ضروری سمجھتا ہوں باقی کے ان ابھرتے ہوے سخنوروں کے کلام کے نمونے پیش کروں جو اس عالمی اخبار کی ویب سایٹ کے شاعری کے سیکشن میں موجود ہیں :
    خاور چوہدری :
    نعتیہ اشعار : اب مرےدشت تمنا میں بھی گل کھلنے لگے ۔ جلوہ ء حق کی قسم ، بارش عرفاں کی قسم
    کتنی پاکیزہ ہے خوش بوے مدینہ خاور ۔ عطر گیسو کی قسم ، عارضِ تاباں کی قسم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جو غموں کی دھوپ میں ہم سفر نہیں رہا ۔ منزلوں کی چھاوں میں معتبر نہیں رہا
    ۔۔۔
    کوی حسرت نہیں باقی ، نہیں تم سے کوئی شکوہ ۔ پر اتنا ہے زوال زندگانی دیکھتے جاو
    ۔۔
    نصیب ور نہیں مجھ سا جہانِ خوباں میں ۔ مرے وجود سے قایم صداقتوں کی لاج
    ۔۔۔۔۔
    سہیل ثاقب:
    اسے ہے علم کہاں وقت کی ادا وں کا ۔ وہ اپنے چہرے پہ پہلی سی دلکشی چاہے
    غرض نہیں ہے ترے گھر کی جگمگاہٹ سے۔ یہ جھونپڑی تو فقط تھوڑی روشنی چاہے
    ۔۔۔
    رامش جان :
    ہم اترے نین سمندر میں ہم سمجھے تھے گرداب کہاں ۔ پانی پہ لکھی تحریریں ہیں ہم ٹھیریں سطح آب کہاں
    ۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر ہدایت اللہ:
    شہر دل میں ہے امیدوں کا چراغا ں آج کل ۔ آپ بھی تو دیکھنے تشریف لایا کیجئے
    مسکرا کر دیکھنا عادت بنا لیجیے حضور ۔ نیکیا ں اس عمر میں صاحب کمایا کیجئے
    ۔۔۔۔
    نوید صاد ق:
    وہ رفا قت ، وہ فسانہ ، وہ تماشا ، وہ خلوص ۔ کوئی عنوان تلاشیں تو زمانے لگ جائیں
    پھر وہی ضد کہ ہر بات بتانے لگ جائیں ۔ اب تو آنسو بھی نہیں ہیں کہ بہانے لگ جائیں
    ۔۔۔
    ارمان نجمی :
    بھٹک رہا ہوں کب سے میں انجان راہوں پر ۔ نگاہوں سے مگر اس شہر کا نقشہ نہیں جاتا
    یہی دیکھا کہ ساحل پر بھی قطرے کو ترستے ہیں ۔ یہ سوچا تھا کہ دریا سےکوئی پیاسا نہیں جاتا
    ۔۔۔۔۔
    شفیق مراد :
    خود ہی ڈوبا درد کے طوفان میں ۔ اشک رو کے دل سمندر کرلیا
    قہقہے بانٹے جہاں بھر میں مراد ۔ آنسووں سے اپنا دامن بھر لیا
    ۔۔۔۔
    ضیاء بلوچ :
    اب کے محفل میں‌ضرورت ہے جنوں والوں کی ۔ کیوں نہ دل چاک کئے بزم میں آیا جائے
    تیر وہ تیر ہے جو پار ہو سینے سے ضیاء ۔ زخم وہ زخم ہے جو دل پہ سجا یا جا ئے
    ۔۔۔۔
    چونکہ ابھرتے ہوے سخنوروں میں سعدیہ سحر صاحبہ اور احتشام انور صاحب بھی شامل ہیں اس لیے ان کے کلام کے نمونے پیش کرنا چاہتا ہوں مگر مشکل یہ ہے کہ انکا کلام آزاد نظمون کی شکل میں موجود ہے جن کو اس بلاگ میں پیش کرنے کی بجاے میں قارین سے درخواست کرونگا کہ وہ شاعری کے سیکشن میں ان کا کلام پڑھ لیں ۔ بڑے اچھے خیالات کو بڑ ے پر اثر انداز میں ان سخنوروں نے اپنی آزاد نظموں کی شکل میں پیش کیا ہے۔
    ۔۔۔۔
    آخر میں میں تمام ابھرتے ہوے سخنوروں کو ” اللہ کرے زور سخن اور زیادہ ” کی دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں ۔

    ( اگر کمپوزنگ میں مجھ سے کوی غلطی ہوی ہو تو براہ کرم تصحیح کرلیں )
    اردو کا شیدای :
    منطور قاضی از جرمنی

  12. منظور بھائی میں آپ کی محبتوں کی قرضدار ھوں ۔۔ اللہ پاک ھمیں اپنے عاجزوں میں رکھے ۔۔آمین ۔

  13. محترم جناب منظور قا ضی صاحب،
    آپ کی محبتوں اور نوازشوں کا شکریہ کہ آپ نے اس حقیر کو سخنوروں کی فہرست میں شامل کرلیا۔ آپ بھی گوئٹے اور شیلر کی سرزمین پر مقیم ہیں اور میں بھی لیکن افسوس کہ آپ سے ابھی تک شرف ٍ باریابی نصیب نہ ہوئ ، کبھی برلن کی یاد آئے تو اس ناچیز کو ضرور یاد رکھیے گا- واسلام

  14. جناب انور ظہیر صاحب کی عنایت کہ میرے اس بلاگ کو پسند کیا ۔ میں انکو ابھرتے ہوے سخنوروں کی فہرست میں شامل کرتا ہوں اس لیے کہ ان میں اپنے خیالات کو شعر کے سانچے میں ڈھالنے کا طریقہ آتا ہے ۔

    میرے اس بلاگ کا مقصد کسی کی شاعری پر تنقید کرنا نہیں ہے اس لیے کہ ہر سخنور اپنا خود نقاد ہوتا ہے ۔ آہستہ آہستہ ہر سخنور اپنے کلام پر خود تنقید کرکے یہ معلوم کرسکتا ہے کہ اس کے شعر میں وزن اور عروض کی پابندی کی مزید ضرورت ہے یا نہیں ۔

    انور ظہیر صاحب کو برلن کی زندگی مبارک ۔ سنا ہے کہ وہاں پر اچھے اچھے شعرا اور شاعرات مقیم ہیں ۔ انشا اللہ کبھی ان سب سے ملنا ہوجاے گا ۔

    میں ہر شعر کہنے والے ( والی ) کی ہمت افزائی کرتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
    ویسے میری تمام سخنوروں سے درخواست ہے کہ ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی شاعری کا مطالعہ کرتے رہیں اور اس سے سبق سیکھیں اس لیے کہ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے : ابھی ابھی انکا یہ شعر پڑھنے میں آیا:

    کیا اسے بھی آپ پتھر سا بنا لیں گے حضور
    موم سا یہ دل مرا جب آپ کا ہوجا ئے گا

    دیکھیے یہ شعر کس قدر خوبصورت ہے ۔ اس میں الفاظ کی سادگی بھی ہے اور خیال کی گہرای بھی۔ اور یہ شاعری کے تمام سانچوں پر پورا اترتا ہے۔ دیکھیے اس میں وزن بھی ہے اور ترنم بھی اور خیال کی بلندی بھی۔ اس شعر کو ایک مثال کی طور پر سامنے رکھکر شعر کہنے سے کلام میں حسن پیدا ہوجاے گا ۔
    فقط : اردو کا خادم : منظور قاضی از جرمنی ( میونخ کے قریب ایک چھوٹے سے گاوں سے )

  15. میں تمام سخنوروں اور دانشوروں کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ وہ انٹرنیٹ پر اردو کے ایک انتہای معیاری سہ ماہی رسا لے” مضراب ” کو پڑھتےرہیں اور اپنے علم میں اضافہ کرتے رہیں ۔

    اس رسالے میں وہ تمام باتیں موجود ہیں جو میں کئی سال پہلے نقوش ، نیا دور ، ادب لطیف اور اقدار جیسے رسالوں میں دیکھتا تھا۔ ( وہ تمام ادبی رسالے صرف اور صرف کاغذی پیرہن میں شایع ہوتے تھے ) مگر ” مضراب” انٹرنیٹ پر سب کے لیے بغیر ر کسی قیمت کے موجود ہے۔ اس میں ادب اور شاعری کےشایقین کے لیے ہر قسم کا ادبی خزانہ موجود ہے ۔۔ اس کے ساتھ ساتھ شاعری کے فن اور عروض اور بحور پر بھی مکمل ہدایات موجود ہیں۔ مقالے اور مضامین پڑھنے کے قابل ہیں۔ ہم سب کو چاہیے کہ اس رسالے کو ضرور پڑھیں اور اس کے مضامین سے ضرور مستفید ہوں۔ ( اس سلسلے میں http://www.mizrab.org کی ویب سایٹ کو دیکھیں )۔
    علم کا طالب :
    منظور قاضی از جرمنی

  16. میرے اوپر کے تبصرے میں مجھ سے مضراب کی ویب سایٹ لکھنے میں جو غلطی ہوی اس کی معافی چاہتے ہوے یہ لکھتا ہوں کہ یہ ویب سایٹ یوں ہے:

    http://www.mizraab.org
    شکریہ:
    منظور قاضی

  17. منظور بھا ئی اسلام علیکم
    آپ آئےہیں تو رونق آگئی ہے۔
    بلا گوں سے چھلکتی زندگی ہے

  18. شعر کہ دینے کی خوبی شمس جیلانی میں ہے ۔ بات وہ مجھ میں نہیں جو شمس جیلانی میں ہے

    شمس جیلانی بھای : آپ کی شاعری کا ،۔ آپ کی باتوں کا اور آپ کے کالم اور آپ کے بلاگوں کا کوی جواب نہیں ۔ کاش کہ میں آپ کی طرح اردو لکھ سکتا ۔ آپ کی مزاح نگاری لاجواب ہے ۔

    آپ سے گذارش ہے کہ کینیڈا کے سخنوروں کے بارے میںضرور کچھ لکھیں ۔ سنا ہے کہ میر حمایت علی شاعر صاحب زیادہ تر وہیں کہیں رہتے ہیں ۔ ہوسکے تو انکی خیریت کی بھی اطلاع دیجئے۔ اگر مجھے انکا ای میل اور ٹیلیفون مل جاے تو انشا اللہ انکو بھی اس ویب سایٹ میں شرکت کرنے کی دعوت دونگا۔
    انکے علاوہ کینیڈا میں اگر کوی اردو کی انٹر ایکٹیو ( باہم مکالماتی ) یعنی بقول سرور عالم راز سرور صاحب ” چوپالی زبان کی ” یعنی یونی کوڈ اردو میں لکھنے والی ویب سایٹ ہیں تو انکا حال بھی لکھیے ۔
    آپ تو جانتے ہیں کہ انٹر نیٹ نے اس دنیا کو ویب سایٹوں کے ذریعہ ایک چھوٹا سا گاوں بنا دیا ہے ۔ اس سے فایدہ اٹھا کر اردو کی ترویج کرنا ہم سب کا فرض ہے۔

  19. شمس جیلانی صاحب کا انتہای بصیرت افروز مضمون “سیرت النبی صلعم ” پر وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا کے عنوان سے ابھی ابھی پڑھنے میں آیا ۔ یہ مضمون شعرو سخن کی ویب سایٹ کے رسالہ “شعر وسخن ” http://www.sherosokhan.com پر موجود ہے۔ اس مضمون کو پڑھکر روح کو تازگی مل گئی۔ شمس جیلانی صاحب نہ صرف عالمی اخبار کی بے لوث خدمت کرتے ہیں بلکہ اردو کی دوسری ویب سایٹوں کی بھی اپنی ادبی تخلیقات سے سرفراز کرتےہیں ۔ جزاک اللہ ۔

    “شعر و سخن ” ایک انتہای معلوماتی ویب سایٹ ہے جس میں ہر اردو کے طالب علم کے لیے معلومات کا خزانہ موجود ہے۔ اس ویب سایٹ پر بھی میں مستقبل قریب میں مختصر سا بلاگ لکھونگا۔ میں تمام دانشور وں اور سخنوروں کو اس ویب سایٹ کے پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں ۔

    جب سے اس قسم کی ویب سایٹوں کے ڈھونڈنے کی دماغ میں دھن سوار ہوی ہے اس وقت سے کہاں کہاں سے اتنی اچچھی اچھی ویب سایٹوں کا پتہ چل رہا ہے۔ اس میں گوگل سرچ کا بھی بڑا ہا تھ ہے ۔
    آج اسی گوگل سرچ کے ذریعہ رشیدہ عیاں صاحبہ کی شاعری اور انکی ادبی خدمات اور تخلیقات کا بھی پتہ چلا ۔

    جمیل الدین عالی صاحب نے اپنے 4 جنوری 2009 کے جنگ کے کالم میں رشیدہ عیا ں کی تازہ کتاب ” موسموں کے بدلتے رنگ ” پر مختصر سا تبصرہ کیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ رشیدہ عیا ں ( جو نیوجرسی امریکہ میں رہتی ہیں)‌ پچیس کتابوں کی مصنفہ ہیں اور یہ کتاب انکا تیرھواں شعری مجموعہ ہے۔ ( یہ کتاب دوسو ساٹھ صفحات پر مشتمل ہے ) ۔
    انکے یہ اشعار عالی صاحب نے اپنے کالم میں لکھے ہیں:
    ازل سے ایک مبحث ہوں جو دہرا یا گیا ہے ۔ مجھے ہر رنگ ، ہر اک شکل میں لا یا گیا ہے
    ابھی کار جہاں بھی ہے ، سفر بھی ہے مسلسل ۔ عیا ں کیوں حشر کے بازار میں لا یا گیا ہے
    اب مرا سوز دروں رخ سے جھلکتا کم ہے ۔ کوز ہ ء ظرف ہو گہرا تو چھلکتا کم ہے
    وہ تو بسیار طلب ہے دل آزار طلب ۔ ورنہ ایسا بھی نہیں، خار کھٹکتا کم ہے
    ۔۔۔۔۔
    بات شروع ہوی تھی شعر و سخن کی ویب سایٹ سے تواس کے متعلق عرض یہ ہے کہ یہ صرف ان پیج سافٹ ویر کی اردو فانٹ میں ہے
    اگر ” چوپالی ” یونی کوڈ کی ادو فانٹ میں ہوتی تو اسکی شمولیات پر فوری تبصرہ اس ہی ویب سایٹ کے اندر کردیا جاتا ۔۔ مگر یہ سہولت صرف عالمی اخبار کی ویب سایٹ میں ( اور القمر آن لاین کی ویب سایٹ میں ) ہی موجود ہے ۔
    میں اس لحاظ سے اس نتیجہ پر پہچا ہوں کہ عالمی اخبار کی ویب سایٹ اب تک تمام دوسری ویب سایٹوں کے مقابلہ میں ممتاز قسم کی ہے ۔ اس خوبی کے ذمہ داروں کو دلی مبارکباد عرض ہے ۔
    فقط : علم کا طالب : منظور قاضی از جرمنی

  20. منظور قاضی صا حب اسلام و علیکم و رحمہ
    میں سب سے پہلے معافی چاہتا ہوں کہ میں آپکے بلاگ کا جواب تاخیر سے دے رہا ہوں۔ آپ نے جو پتے وغیرہ مانگے تھے ۔ وہ بھی ہنوز نہیں بھیج سکا اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے برادر نسبتی کا دو ہفتہ پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ اس سلسلہ میں تعزیت کے لیئے آنے والوں کا سلسلہ جاری ہےاور مستقل مہمانداری بھی ہے جس کی وجہ سے کالم بھی مشکل سے لکھ پارہا ہوں ۔ پر سو ں سعودی عرب سے میرے بھا ئی اور ان کے ساتھ بہن آگئیں صرف تین دن کے لیئے ۔بس یہ ہی وجہ تا خیر تھی جس کے لیئے میں معافی چا ہتا ہوں ۔
    دراصل یہ آپ کا حسن ِ ظن ہے میں تو کچھ بھی نہیں کر رہا ہوں !مگر اردو کے لکھنے والوں کی ہمت افزائی کر کے اصل خدمت آپ کر رہے ہیں ۔ کیونکہ بقول صفدر ھمدانی بھا ئی ” آ جکل تنقید کر نے والےبہت ہیں جبکہ وہ خود ایک شعر نہیں کہہ سکتے ” مگر تعریف کر کے ہمت افزائی کر نے والے بہت کم ہیں ۔ جس سے خصو صی طور پر نئے لکھنے والوں کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ شیر و سخن ویب سا ئٹ والے سردار بھائی ایک بہت ہی خاموش اردو کی خدمت کرنے والے شخص ہیں انکا تعلق حیدر آباد دکن سے ہے اور میرے بہت پرانے کرم فر ما بھی وہ تورنٹو میں رہا ئش پذیر ہیں اور آجکل حیدر آبا د گئے ہو ئے ہیں ۔ انہو ں نے یونی کو ڈ کی تر ویج واشاعت میں بہت کام کیا ہے۔ اور ہر وقت اس کا استمال سکھانے کے لیئے بلا غرض سر گر داں رہتے ہیں۔ میں انکی سا ئٹ کاذکر کر نے والا تھا کہ آپ گوگل کے ذریعہ ان تک پہو نچ گئے۔
    میں انشا اللہ جلد ہی آپ کو حما یت علی سا حب اور دوسری بہت ویب سا ئتوں کے رضا کار خالق صلا ح الدین پر ویز سے رو شنا س کرا ؤنگا جو مجھ سے تین ہزار کلومیٹر دور ٹورنتو میں رہتے ہیں اور تورنٹو کنیڈا میں اردو کا گڑھ ہے زیادہ تر ادیب و شاعر وہیں ہیں ۔ اگر ممکن ہو تو آپ اپنا فون نمبر دیدیں تاکہ بات ہوسکے۔ میرا نام بھی اگر آپ گوگل میں ڈالیں گے تو بہت سی سرکاری و غیر سر کاری ویب سا ئٹ اور مل جا ئیں گی صرف یہ دو لفظ۔
    shams jilani

  21. شمس جیلانی صاحب وعلیکم السلام عرض کرتے ہوے سب سےپہلے آپ کے برادر نسبتی کے انتقال پر آپ سے اپنی دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اور مرحوم کے لیے دعاے مغفرت کرتا ہوں ۔ اور یہی کہتا ہوں کہ “ہم سب اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور اس ہی کی طرف ہم سب کو واپس جانا ہے” ۔ اللہ ہم سب کا خاتمہ بخیر کرے اور عافیت بھی بخیر کرے ۔ آمین
    آپ کا تبصرہ پڑھکر میں گوگل کی ویب سایٹ میں آپ کے کہنے کے مطابق آپ کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے اتنا مصروف ہوگیا کہ مجھے یہ بھی معلوم نہ ہوسکا کہ آپ نے میرے ایک تازہ بلاگ میں اپنے تبصرہ لکھا ہے اور مجھے یہ یاد دلایا ہے کہ میں اس بلاگ میں آپ کا تبصرہ دیکھوں۔
    شمس جیلانی صاحب : آپ تو ڈاکٹر شمس جیلانی کے نام سے ریچمنڈ ، وینکوور کنیڈا میں مشہور ہیں اور آپ وہاں کے سماجی کاموں میں اپنا مقام پیدا کرچکے ہیں ۔ اس کے علاوہ آپ کی تحقیقات دین کےبارے میں بھی بہت زیادہ ہیں ۔ آپ تو ایک عظیم شخصیت کے مالک ہیں ،اور نہ صرف عالمی اخبار میں بلکہ” شعر وسخن” کی ویب سایٹ میں او ر پھر “مضراب ” کی ویب سایٹ میں آپ کی ادبی تخلیقات شایع ہوتی جارہی ہیں۔ ان سب پر سرسری سی نظر ڈالکر میں آپ کی ادبی اور مذ ہبی قابلیت کا قائل ہوگیا ہوں ۔
    مجھے یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ پی ایچ ڈی کے وجہ سے ڈاکٹر کہلاتے ہیں یا میڈیکل ڈگری کی وجہ سے۔ بہر حال علم وفن کے سلسلے میں آپ کا رتبہ کافی بلند معلوم ہوتا ہے ۔ میری خوش قسمتی ہے کہ آپ اپنے تبصروں سے میرے بلاگوں کو نوازتے رہتےہیں۔
    ابھی ابھی آپ کا مضمون ” عنوان کی تلاش “پڑھا اور آپ کی مزاح نگاری کا قایل ہوگیا کہ آپ نے یہ لکھا کہ پاکستان میں ایماندار عہدہ داروں کو انکے افسران بالا پاگل پن کا الزام لگا کر پاگل خانے (چریا خانے ) بھجوادیا کرتے تھے اس لیے کہ وہ ایماندار افسر ، بے ایمان اور رشوت خور افسروں کے برخلاف ایمانداری سے کام لینے کی کوشش کرتے تھے ۔ ( شاید یہی حال اب تک پاکستان میں موجود ہے ) ۔
    یہ جان کر خوشی ہوی کہ آپ ٹورینٹو کے ادیبوں اور شعرا سے بھی رابطہ رکھتے ہیں ۔ شعرو سخن کی ویب سایٹ کی انتظامیہ سے اور پھر صلاح الدین پرویز سے بھی واقف ہیں ۔ اگر وہ تمام احبا ب بھی آپ کی طرح عالمی اخبار میں بھی اپنی تخلیقات شامل کرتے رہیں تو ہمیں انکی تخلیقات کے پڑھنے میں سہولت ہوگی۔
    باقی باتیں اور میرا ٹیلی فون نمبر وغیرہ میں آپ کو ای میل کے ذریعہ بھجوادونگا ۔
    خیر اندیش :
    منظور قاضی از جرمنی

  22. شمس جیلانی صاحب کی کتابوں اور انکی اپنی شخصیت پر ایک نہایت ہی سیر حاصل تفصیلی تبصرہ ( جسے صفدر ھمدانی نے کیا )‌ اسی ویب سایٹ میں کتابو‌ں پر تبصرے کی سیکشن میں پڑھنے میں آیا ۔
    اس تبصرے کو پڑھنے کے بعد میں اس شش و پنج میں ہوں کہ شمس جیلانی کو جی بھر کر مبارکباد دو ں‌ یا صفدر ھمدانی صاحب کی نہایت ہی متوازن تحریر کو پڑھتا ہی رہوں اور انکو بھی اتنا اچھا تبصرہ کرنے پر مبارکباد دوں ۔
    یہ تبصرہ میرے خیال میں اس وقت لکھا گیا تھا جب صفدر ھمدانی صاحب القمر آن لاین کی ادارت کررہے تھے۔ یہ بہت اچھا ہوا کہ اس کو عالمی اخبار کی ویب سایٹ میں جوں کا توں منتقل کردیا گیا ورنہ اردو کا اساسہ شاید ضایع ہوجاتا ۔
    شمس جیلانی صاحب کی ہشت پہلو شخصیت کے ہر پہلو کی عکاسی کرنے پر صفدر ھمدانی صاحب کو مبارکباد ۔ شمس جیلانی صاحب کو اللہ اسی طرح دنیا اور دین کی سرخروی عطا کرتا رہے اور ان سے اسلام اور اردو اور ‘عباد ” کی خدمت کرواتا رہے۔ آمین
    فقط :
    علم کا طالب :
    ؛منظور قاضی از جرمنی

  23. ڈکٹر(پروفیسر) عرشی نقوی کے تین اشعار ارسال کر رہا ہوں اگر پسند آءے تو مطلع کیجیے گا…….
    کرنے والے علاج کرتے ہیں + مرنے والے خوشی سے مرتے ہیں
    کون سمجھے گا درد لہجے کا + سب سے ہم ہنس کے بات کرتے ہیں
    آپ کو کیا دیا ہے اپنوں نے + جو گلہ دوسروں کا کرتے ہیں
    حال یہ مفلسی نے کر ڑالا + لوگ ملتے ہونے بھی کرتے ہیں
    Mail-E…۔.sainaqvi72@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *