میں اردو کی ان ویب سایٹوں کی تلاش کررہا ہوں جن کا کام صرف اردو کی خدمت کرناہے ۔ ایسی ویب سایٹ جن کا مقصد پیسے کمانا نہیں ہے بلکہ بے لوث جذبے کے ساتھ صرف اور صرف اردو کی ترویج کرنا ہے ۔
شعر وسخن کی ویب سایٹ www.sherosokhan.com ایسی ہی ویب سایٹ ہے جس میں اردو ادب اور شاعری کا خزانہ موجود ہے اور اردو کے شیدائیوں کے ذوق کی تسکین کے لیے سب ہی کچھ موجود ہے:
اس ویب سایٹ کو ٹورنٹو ، کینیڈا سے سردار علی نہایت ہی خوش اسلوبی سے چلا یا کرتے تھے مگر وہ مختصر عرصے کے لیے اب حیدر آباد (دکن ) انڈیا چلے گئے ہیں اور وہیں سے اس کی ادارت اور نظامت کرتے ہیں۔ ( ممکن ہے کہ بعد میں وہ پھر کینیڈا چلے جایں۔ ) )
اس ویب سایٹ میں دنیاے اردو سے متعلق یعنی ادبی محفلوں اور مشاعروں سے متعلق بھی معلومات موجود ہیں ۔
مثال کے طور پر یہ خبر بھی موجود ہے کہ : 19 فروری 2009 کو کراچی میں شبنم رومانی کا انتقال ہوگیا ۔ ( اس خبر کو پڑھکر بےحد افسو س ہوا ۔ میں ڈلس ٹیکسس کے مشاعرے میں شبنم رومانی صاحب کو قریب سے دیکھ چکاہوں اور سن چکا ہوں۔ اس کے علاوہ انکے رسالے اقدار کے چند شماروں کو پڑھ چکا ہوں اور خاص طور پر وہ شمارہ جو انکے استاد دل شاہجہاں پوری کی شاعری اور انکی زندگی پر مضامین پر مشتمل تھا ۔ اللہ انہیں مغفرت عطاکرے اور جنت میں جگہ دے۔ آمین )
اس شعر وسخن ویب سایٹ میں کتابوں پر اور شعرا اور ادیبوں پر سیر حاصل اور متوازن قسم کے تبصرے بھی موجود ہیں۔ لیکن ان تبصروں پر اور انکی مشمولات پر یونی کوڈ میںتبصرے کرنے کی سہولت نہیں ۔ میرا خیال ہے کہ اکیلے انسان کے لیے یونی کوڈ میں تبصروں کو وصول کرکے ان پر یونی کوڈ میں جوابات دینے کے لیے نہ توانای موجود ہے نہ وقت موجود ہے ۔
اس کمی کے باوجود اس ویب سایٹ میں اور تما م باتیں موجود ہیں جن کو پڑھکر ہر قاری اپنی معلومات میں اضافہ کرسکتا ہے۔ اس کے حصوں میں نہ صرف حمدو نعت، اسلامیات ،شاعری ، طنز و مزاح ، ادبی تقریبات اور اطلاعات اور مضامین ، افسانے، شخصیات ، سفر نامے، خاکے بلکہ مندرجہ ذیل حصے بھی موجود ہیں:
آواز کی دنیا، اردو ٹیچر ، ویڈیو جھلکیاں اور کلام بزبان شاعر ، جیسے دلچسپ بھی موجود ہیں۔
ان تما م باتوں کے علاوہ اس ویب سایٹ میں دوسری ویب سایٹوں کا بھی تذکرہ ہے ۔ اس سلسلےمیں “جدید ادب ” www.jadeedadab.com کی اشاعت کا اعلان بھی موجود ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سردار علی صاحب کا تعلق (میری طرح ) جامعہ عثمانیہ حیدرآباد سے رہا ہے ۔ انکی اس ویب سایٹ میں نہ صرف دنیا بھر کے ادیبوں اور سخنوروں کے متعلق معلومات موجود ہیں مگر خاض طور پر حیدرآباد دکن انڈیا کی ادبی شخصیات جن میں خورشید احمد جامی اور سلیمان اریب شامل ہیں ان پر ا پر مضامین بھی موجود ہیں۔ اور نیوجرسی امریکہ میںمقیم رشیدہ عیاں پر بھی بے حد معلوماتی مضمون موجود ہے۔
شعر وسخن کی اس ویب سایٹ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندستان میںاردو دیوناگری رسم الخط یا رومن رسم الخط میں ہی نہیں بلکہ اردو فارسی رسم الخط میں بھی زندہ رہے گی ۔
میں سردار علی صاحب sardargraphics@yahoo.com کو اردو کی خدمت کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں ۔اردو زبان اس سلسلےمیں انکی مشکور رہے گی۔
اس بلاگ کے پڑھنے والے اس ویب سایٹ کو پڑھکر اس کی افادیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔”ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے” ۔
فقط:
علم کا طالب:
منظور قاضی از جرمنی

کبھی ہمارا بلاگ بھی وزٹ کیجیے گا۔
http://www.derwesh.com
” ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی ء داماں بھی تھا”
ماشااللہ کیسی کیسی اچھی خبریں مل رہی ہیں۔ اب تو مجھ کو تنگ دامانی کا یا اپنی چاک دامانی کا احساس ہونے لگا ہے۔
کیا خوب ڈاکٹر نگہت نسیم بہن نے اپنے ایک تبصرے میں لکھا تھا کہ “چراغ سے چراغ جلتے ہیں” ۔
ہم سب کو اپنے عظیم مقصد یعنی اردو زبان کی زندگی اور اس کی بقا کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہیے اور اپنے علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچا نا چاہیے ۔ علم ایک ایسا سمندر ہے جس کی وسعت اور گہرای کا اب تک کوی اندازہ نہیں لگا سکا۔
درویش ویب سایٹ بنانے والوں کو میری دلی مبارکباد
اگر انکی یا کسی کے علم میں اسی طرح کی ویب سیا یٹیں ہوں تو ضرور اس بلاگ میںلکھدیں تاکہ سب کا بھلا ہو۔
جزاک اللہ :
علم کا طالب :
منظور قاضی از جرمنی
درویش جی آپ کو عالمی بلاگ کی محفل میں خوش آمدید ۔۔ میں نے آپ کے بلاگ کی سائٹ دیکھی ھے ۔۔ بہت ھی عمدہ ھے ،اللہ پاک اردو کے چراغ یونہی جلائے رکھے ۔۔بس کوشش کیجیئے گا کہ بلاگ آپس کے مسلکی اور سوچوں کے فرق کو بالائے طاق رکھتے ھوئے قریب لانے کا موجب بنیں اور بحث برائے بحث میں الجھ کر کسی کابھی وقت نہ ضائع کریں ۔
آپ اپنے دوستو سے ھماری طرف سے گزارش کیجئے گا کہ عالمی اخبار کے بلاگ سیکشن کو بھی اپنی موجودگی سے عزت عطا کریں ۔۔ دعاگو ۔
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
جی جناب اسی کو کہتے ہیں چراغ سے چراغ جلنا۔ ہم جیسے لوگ اردو کی ہر ایک نئی ویب سائٹ اور بلاگ سے خوش ہوتے ہیں تا آنکہ انکا مقصد ذاتی اور مسلکی اختلافات کو ہوا دینا نہ ہو۔
درویش جی آپ کو عالمی بلاگ کی محفل میں خوش آمدید ۔۔ !!
آپ لوگوں کی پسندیدگی اور دعائوں کا بے حد شکریہ۔ ماشا اللہ سے آپ کا عالمی اخبار بھی بہت عمدہ کاوش ہے۔ جس آپ سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ترقی عطا فرمائے ﴿آمین﴾
بڑی اچھی سائٹ ہے جی، پہلے تو شعر وسخن کا نام دیکھ کر مجھے لگا کہ شاید یہ ہمارے شہر مانسہرہ سے شائع ہونے والے ادبی مجلہ کا ذکر ہو رہا ہے،
بہت اچھے جی۔
خیر اندیش: عمر احمد بنگش
خدا کا شکر ہے کہ اس ویب سایٹ کی انتظامیہ نے درویش صاحب کی اس بلاگ میں تشریف آوری پر خوش آمدید کہا اور اپنے قیمتی مشوروں سے شروع ہی میں آگاہ کردیا ۔
میں دریش صاحب ( جن کے اصلی نام سے میں واقف نہیں ) کو اردو کی ترویج اور خاص طور پر کپیوٹرسافٹ ویر کی تشریحات کو انکی اپنی ویب سایٹ میں شامل کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں ۔
انکی ویب سایٹ کی باتوں کے عربی ، اردو، ترکی ، انڈونیشای ، اسپینش، فرنچ ، یگری ( جس کا مجھے پتہ نہیں ) اور انگریزی میں ایک ہی ساتھ ترجمے بھی ہوتے ہیں ۔پتہ نہیں انہوں نے یہ خوبی اپنی ویب سایٹ میں کیسے پیدا کی ہے۔ ماشا اللہ ۔
اب رہے مختلف موضوعات پر فتوے اور دینی معاملات کی توضیح اور تشر یح کے معاملات تو ان پر یہ کم علم آدمی کوی تبصرہ نہیں کر سکتا ۔ میں صرف میرے ایک شاعر دوست : حمایت علی شاعر کا یہ بہت ہی پرانا شعر لکھنا چاہتا ہوں کہ :
اُ س کے غم کو ، غم ہستی تو مرے دل نہ بنا
زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا
درویش صاحب کی ویب سایٹ جب تک اردو کی بے لوث خدمت کرتی ہے اس وقت تک میں اس کو پڑھتا رہونگا۔ باقی وہ جانیں اور انکے کام جانیں ۔
مجھے انکے کالموں پر یونی کوڈ کی اردو فانٹ میں تبصرہ کرنے کا طریقہ نہیں آیا اس لیے کہ انہوں نے تبصرہ نگار کو انگریزی یا رومن اردو کے علاوہ اردو فانٹ میں لکھنے کی سہولت نہیں دی (کم از کم مجھے اس کی ترکیب اس میں نہیں ملی ) شاید وہ چاہتے ہیں کہ کٹ اور پیسٹ کی مدد سے کسی اور جگہ لکھکر ادھر منتقل کیا جاے ۔ جو وقت طلب اور دقت طلب کام ہے )۔
فقط :
شعر وسخن ویب سایٹ کا اور اسی طرح کی اچھی اچھی اردو کی ویب سایٹوں کا دلدادہ :
منظور قاضی ۔ از جرمنی
عمر بنگش جی آپ کو عالمی اخبار کے بلاگ کی محفل میں خوش آمدید ۔۔ آپ بھی بتایئں نہ کہ آپ کے مانسہرہ میں ادبی تقریبات میں کیسی ھوتی ھیں ،، ھمیں وہاں پر اردو کی ترقی دیکھ کر بہت خوشی ھو گی ۔
عالمی اخبار کے لوگ غالبا اس سائٹ سے واقف نہیں:
http://www.urduweb.org/planet/
یہ اردو بلاگز کی دنیا ہے۔
منظور قاضی صاحب! میں آپ کا بے حد مشکور ہوں اور ساتھ میں عالمی اخبار کا بھی جن کے توسط سے ہماری ملاقات ہوئی۔ اصل اردو تبصرہ کرنے والا پلگ ان میں نے بلاگ میں شامل کر رکھا ہے لیکن وہ تھیم کے ساتھ کام نہیں کر رہا۔ میں جلد ہی اسے درست کر دوں گا تو آپ اردو میں بھی تبصرہ کر سکیں گے ان شا اللہ۔
عالمی اخبار کی تمام ٹیم کے لیے میرا سلام اور دعائیں۔
جی بھائیوں اور بہنوں، یہاں پر میری یہ پہلی آمد ہے اور وہ بھی درویش بھائی کے لنک دینے پر۔ باقی رہی بات زبانوں میں ترجمے کی تو وہ گوگل کی سروس استعمال کی جارہی ہوگی۔ میری بیاض پر بھی نظر ڈال لیں اور اپنے تبصرات کے بارے میںآگاہ کریں۔
یہ رہا ربط: http://hassanmughal.info
درویش صاحب کا شکریہ؛ اللہ انہیں اردو کی خدمت کرنے کی مزید طاقت اور ہمت عطا کرے ۔ آمین
براہ کرم وہ یہ بھی بتا دیں کہ ایک ہی مضمون کو بیک وقت سات زبانوں میں اپنی ویب سایٹ پر کس طرح پیش کرتے ہیں۔ کیا وہ ان تمام زبانوں پر قدرت رکھتے ہیں؟
حسن لطیف مغل صاحب زندہ باد : لطف آگیا انکی ویب سایٹ ( جس کو انہوں نے اپنے اوپر کے تبصرہ میں لکھا ا ) کو دیکھکر اور اسکی شاندار ابتدا کو دیکھکر اس کے مستقبل کے لیے دعا یں نکلیں۔ بڑی معلوماتی ویب سایٹ بنای ہے مغل صاحب نے ۔ وہ دیکھنے کے قابل ہے۔
اس ویب سایٹ میں عبدالقدوس صاحب کے تبصرے بھی موجود ہیں ( میرے خیال میں عبدالقدوس صاحب یونی کوڈ سافٹ ویر کے ماہر ہیں اور وہ مغل صاحب کی ہمت افزای بھی کررہے ہیں) ۔
اردو زبان کو اب اپنے مستقبل سے متعلق فکر کرنے کی اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔
اس ویب سایٹ میں یونی کوڈ میں اردو فانٹ میں تبصرے کرنے کی وہی سہولت موجود ہے جو عالمی اخبار کی ویب سایٹ میں ہے۔ اس قسم کی متحرک ویب سایٹوں ہی سے اردو زبان آگے بڑھ سکتی ہے ۔ ( ان پیج سافٹ ویر میں یہ سہولت نہیں ۔ وہ صرف یک طرفہ ہوتی ہے ۔ دو طرفہ نہیں )
حسن مغل صاحب کو مبارکباد۔
علم کا طالب:
منظور قاضی از جرمنی
حسن جی آپ کو عالمی بلاگ کی محفل میں خوش آمدید ۔۔ میں نے آپ کی سائٹ دیکھی ھے اور جو مجھے سب اچھا لگا وہ ھندوستان کا آزادی کا مجسمہ تھا ۔۔ واہ جی کیا عمدہ خیال ھے ۔۔ اللہ پاک ھمارے قلم کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے ۔۔آمین ۔۔ درویش جی کاشکریہ جنہوں نے آپ کو ھم سب سے ملوایا ۔۔
آپ سب صاحبان کا ہمت افزائی کا شکریہ۔ عبدالقدوس بھائی اردو زبان کی ترقی کے لئے بہت عمدہ کام کررہے ہیں۔ آج کل وہ ذرا منظر سے غائب ہیں (شاید کسی ذاتی مصروفیت کی وجہ سے( آپ ان کا کام انکے بلاگ http://www.abdulqudoos.info پر دیکھ سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ وہ http://www.pak.net فورمز کے منتظم اعلٰی بھی ہیں۔ انکا اردو زبان کے لئے ایک پراجیکٹ بھی موجود ہے http://www.wordpress.pk کے نام سے۔ جہاں پر اپ اپنا اردو بلاگ حاصل کرسکتے ہیں وہ بھی کسی بغیر مشکل کے۔ واقعی مجھے اردو بلاگنگ کی جانب لانے والے عبدالقدوس بھائی ہی ہیں۔ اور واقعی جہاں کہیں کوئی مسئلہ بنتا ہے وہ میری مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالٰی انہیں جزائے خیر دے۔باقی رہی درویش کی ترجمے والی بات تو قاضی بھائی کیا آپ مجھے سکرین شاٹ مہیا کرسکتے ہیں؟ کیونکہ میرے پاس ایسا کوئی بھی انتخاب نہیں آرہا۔
فیصل جی اس سائٹ پر تو بلاگرز کا ھجوم ھے ۔۔ اللہ خیر کرے ۔۔
میں فیصل صاحب کےمشورہ کے مطابق انکی تجویز کردہ ” اردو ویب ” ویب سایٹ کو دیکھا ہوں اور اس کی خوبیوں کا تذکرہ اپنے نئے بلاگ میں کرچکا ہوں ۔ فیصل صاحب سے یہی گذارش ہے کہ وہ اردو ویب کی ویب سایٹ کی انتظامیہ کا نام بھی بتا دیں تاکہ انکو ہم دل سے مبارکباد کہ سکیں۔
اب میں حسن مغل صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوے ان کے تجویز کردہ بلاگ نگاری کے مصنف اور انتہای بلند مقام پر پہچے ہوے فنکار : عبدالقدوس صاحب کی ویب سایٹ کو پوری طرح دیکھ کر اس ویب سایٹ کی خوبیوں کے بارے میں کچھ لکھ سکونگا۔ فی الوقت صرف ایک نظر ڈالنے پر میں تو اس نتیجہ کہ : ” یاران تیز گام نے منزل کو جالیا ۔ ہم محو نالہ ء جرس کارواں رہے ”
میں حسن مغل صاحب کو درویش صاحب کی ویب سایٹ بذریع ای میل بھجو ا نے کی کوشش کرونگا اگر وہ میرے ایی میل manzoorquazi@gmail.com پر یا اس بلاگ میں اپنے ای میل کا پتہ لکھدیں۔ ( اگر دریش صاحب اس تبصرے کو پڑھ رہے ہیں تو وہ خود اپنی ویب سایٹ کی اس خوبی کو بتا سکتے ہیں کہ وہ بیک وقت سات زبانوں میں اپنی تحریر کے ترجمے کیسے کرتے ہیں ۔)
علم کو تقسیم کرنے سے کسی کا علم کم نہیں ہوتا ۔ یہ بھی ایک فیض جاریہ ہے۔ اسکو دینے والوں اور اس کے لینے والوں کو میرا سلام۔
فقط :
علم کا طالب :
منظور قاضی از جرمنی
حسن مغل صاحب نے اپنے تبصرے میں جن ویب سایٹوں کی نشاندہی کی ہے وہ سب انتہای معلوماتی ہیں ۔ وہ تینوں ویب سایٹیں الگ بلا گ کی حقدار ہیں ۔ مگر میرے پاس تعریفی الفاظ کا اتنا بڑا ذخیرہ نہیں کہ ان تینوں ویب سایٹوں کی نئے نئے الفاظ میں تعریف کروں ۔ میں خود ان تینوں ویب سایٹوں کا مطالعہ کرکے بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا رہونگا ۔ فی الوقت یہ ہی کہنا ہے کہ بلاگو ں کے علم اور انکی تکنیک کے بارے میں قاریین کچھ جاننا چاہتے ہیں تو ان تینوں ویب سایٹوں کو غور سے پڑھیں:
http://www.pak.net
http://www.wordpress.pk
http://www.abdulqudoos.info
خاص طور پر عبدالقدوس صاحب کی ویب سایٹ کو پڑھیں اور ہو سکے اس سے فیض حاصل کریں۔
میں تو عالمی اخبار کی ویب سایٹ سے مطمئین ہوں اس لیے کہ جتنی خوبیاں الگ الگ دوسرےبلاگوں اور دوسری ویب سایٹوں میں ہیں وہ تمام خوبیاں اور ان سے بڑھکر خوبیاں عالمی اخبار کی ویب سایٹ میں موجود ہیں۔اسی لیے کہتا ہوں کہ:
ہم کو اپنی جاں سے پیار ا عالمی اخبار ہے
مونس و ہمدم ہمارا عالمی اخبار ہے
دستِ صفدر کا سنوا را عالمی اخبار ہے
چشمِ نگہت کا ستا را عالمی اخبار ہے
شیخ امجد کا دُلارا عالمی اخبار ہے
زرقا مفتی کا نکھا را عالمی اخبار ہے
بزم اردو کا سہارا عالمی اخبار ہے
امن عالم کا ادارا عالمی اخبار ہے
بحرِ اردو کا کنارا عالمی اخبار ہے
یہ تمھارا اور ہمارا عالمی اخبار ہے
۔۔۔۔
فقط:
اردو کا خادم :
منظور قاضی از جرمنی
منظور بھائی میں حیران ھوں کہ اب کیا لکھوں ۔۔ آپ نے عالمی اخبار پر جو منظوم تعریف لکھی ھے وہ اتنی خوبصورت ھے کہ میں صرف دیکھے جا رھی ھوں اور بار بار پڑھ رھی ھوں اور سوچ رھی ھوں کہ آپ جیسا سایہ دار شجر جسے میسر ھو اسے دھوپ کا کیا ڈر ھو ۔۔سلامت رھے ۔
برادرم منظور قاضی۔ عالمی اخبار کا تمام عملہ اور قارئین آپکے احسان مند ہیں کہ آپ نے ہم سب کی عزت افزائی فرمائی۔آپ جیسے دوست ہمارے لیئے سرمایہ افتخار ہیں۔ آپ عالمی اخبار کی تشکیل اور اشاعت کے پہلے دن سے تمام مراحل میں ہمارے ساتھ ہیں اور آپکی حوصلہ افزائی نے ہمیں ہمیشہ ایک نیا عزم اور حوصلہ دیا ہے۔ اردو زبان سے آپکی محبت ایک مثالی بات ہے جس میں کسی قسم کے مفاد کا کوئی دخل نہیں۔ ہم جیسے طالب علموں کو بس آپکی شفقت اور راہنمائی کی ضرورت ہے۔ آپ کے لیئے یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ۔
عجب اک عشق اردو سے کیا منظور قاضی نے
جلایا عشقِ اردو کا دیا منظور قاضی نے
۔۔۔۔۔
ہمیں ذرہ برابر شک نہیں اس بات میں یارو
کہ جامِ عشقِ اردو ہے پیا منظور قاضی نے
۔۔۔۔۔
عجب اک منفرد طرزِ محبت سے لکھا ہر لفظ
ہر اک زخمِ دلِ عاشق سیا منظور قاضی نے
۔۔۔۔
محبت عالمی اخبار سے صفدر عیاں ان کی
قصیدہ جس طرح سے ہےلکھا منظور قاضی نے
میں چشم نم کے ساتھ بہن نگہت نسیم کا اور بھای صفدر ھمدانی کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ اور بصد ادب سعدی کا یہ فارسی شعر دہراتا ہوں کہ:
جمالِ ہم نشیں در من اثر کرد
وگرنہ من کہ اک خاکم کہ ہستم
۔۔
یہ سب آپ کی اور آپ کے بے لوث ساتھیوں کا طفیل ہے کہ پارس کی طرح جس کو چھوتےہیں اسے سونا بنا دیتے ہیں۔
۔۔۔
آپ سب کی تحریر اور آپ کی نظم کو ہمیشہ محفوظ رکھونگا۔
نیک تمناوں کے ساتھ:
منظور قاضی از جرمنی
ہمارا بلاگ بھی ملاحظہ کریں۔
http://www.urduteacher.co.cc
اردو ٹیچر کا بلاگ بے حد مفید تکنیکی معلومات پر مبنی ہے ۔ اس سے وہ تمام افراد مستفید ہوسکتے ہیں جن کو ورڈ پریس کے فن میں مہارت حاصل کرنی ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے محمد عرفان لطیف القادری صاحب بڑی مہارت کے ساتھ چلا رہے ہیں ۔ اس ویب سایٹ کی فوٹو گیلری میں اللہ اور محمد صلعم کے ناموں کے بعد جو چند تصاویر موجود ہیں وہ سب کی سب عرفان لطیف القادری صاحب کی ہی ہیں ۔ جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ اس ویب سایٹ کے ناظم ہیں۔
اس ویب سایٹ کے چند صفحات ابھی مکمل حالت میں نہیں ہیں مگر جو صفحات مکمل ہیں ان میں انگریزی ہی میں تمام مضامین ہیں۔
اس ویب سایٹ میں یونی کوڈ میں تبصر ے کرنے کی ترکیب کا مجھے علم نہیں ۔
اردو ٹیچر صاحب ( صاحبہ) اگر اس ویب سایٹ کے بارے میں مزید کچھ لکھیں تو بہتر رہے گا۔
ارے بھائیوں آپ نے تو مجھے اتنا بڑا چڑھا دیا ہے کہ اگر کسی پرانے بابے کو پتا چل گیا تو میری خیر نہیں ہونی ویسے بھی میں ایک متنازع شخصت رہا ہوں 😛
عبد لقدوس صاحب نے ایک سال کے بعد اس بلاگ میں اپنا تبصرہ شامل کرکے جان ڈالدی.
عبدالقدوس صاحب مطمئن رہیے اس بلاگ کو تو ” پرانے پابوں ” نے پڑھا تک نہیں .
آپ کی علم سے اگر علم کی دنیا فیض حاصل کرتی ہے تو اسے ثوابِ جاریہ کی طرح جاری رکھیے .
جزاک اللہ
منظور قاضی
جرمنی سے