ڈیم انجینیر امیر ضمیر خان کے مطابق کالاباغ اور بھاشا ڈیم اس سیلابی پانی کو اسٹور کرنے کیلئے کافی تھے۔ یہ ڈیم اگر ہوتے تو سیلابی پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع نہ ہوتا ۔ اسکے علاوہ یہ ڈیم دس سے پندرہ ہزار میگاواٹ بجلی بھی پیدا کرتے جو ہماری ضرورت سے کہیں زیادہ ہے لیکن سیاستداں عوام کو بجائے کالاباغ ڈیم پر اعتماد میں لینے کے سبز باغ دکھانے میں زیادہ مہارت رکھتے ہیں ۔ جنابِ صدر نے یورپینز کے سامنے فرمایا کہ وہ پاکستان کو Triple digit growth عطا کرکے رہیں گے جو تاریخ میں جہالت کا عظیم ترین مظاہرہ ہے۔ چین جو اسوقت سب سے تیزی سے ترقی کررہا ہے اسکا Growth rate اسوقت 9سے 11 فیصد ہے۔

اسلام علیکم
ایک عرصے سے بڑے ڈیم یقینا ملک کی اشد ضرورت ہیں ، مگر شو مئی قسمت کہ سیاست دان اِن پر ہمیشہ سے سیاست ہی کرتے رہے ، لیکن اگر یہ اتنے ہی متنازعہ تھے تب بھی کیا ہم لوگ بو یا تین برے ڈیم بنانے کے بجائے کئی چھوٹے ڈیم نہیں بنا سکتے تھے ؟
اللہ کرے ہم لوگ ٹھوکر کھا کر ہی سنبھل جانے والوں میں شامل ہوں ۔
آصف احمد بھٹی
جناب ظفر جعفری صاحب،
مجھے یاد پڑھتا ہے جب میں نے خیبر پختونخواہ کے نام کے بعد کالا باغ ڈیم کی حمایت میں ایک بلاگ شروع کیا تھا تو سب سے پہلے آپ ہی نے کچھ معروضی ٹیکنیکل اعتراضات کی بنا پہ مخالفت کی تھی اور اب آپ خود ہی دو بار اس موضوع پہ بلاگ شروع کرکے میری اس بات کی تائید اور اسے تقویت دے رہے ہیں کہ کالا باغ ملک کے لئے ناگذیر ہے۔ کسی لمبی بحث کو دوبارہ شروع کئے بغیر میں اللہ سے دعاگو ہوں کہ وہ آپ کی سوچ کی طرح ان تمام مخالفین کی سوچیں بدل دے جو محض سیاست، تعصب اور تنگ نظری ( پلیز آپ اسے پرسنل مت لیجئے گا کہ یہاں میرے مخاطب آپ ہر گز نہیں ) کی بنا پہ ملکی مفاد سے وابسطہ بڑے بڑے منصوبوں کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں۔
جہاں تک آپ کا یہ ارشاد کہ :
’ جنابِ صدر نے یورپینز کے سامنے فرمایا کہ وہ پاکستان کو Triple digit growth عطا کرکے رہیں گے جو تاریخ میں جہالت کا عظیم ترین مظاہرہ ہے۔ نے فرمایا کہ وہ پاکستان کو Triple digit growth عطا کرکے رہیں گے جو تاریخ میں جہالت کا عظیم ترین مظاہرہ ہے ‘
تو حضور صدرِ محترم کی Triple digit سے مراد ’000‘ ہے اور ہمارے صدر جو کہتے ہیں پورا کرکے دکھاتے ہیں ، میرے منہ میں خاک جو ایسا کبھی ہو۔
جاوید اقبال کیانی صاحب
یہ میری کمزوری ہے کہ میں اپنی رائے ، بیان، خیال اور فیصلوں پر نظر ثانی کرتا رہتا ہوں۔
میں نے آپکے بلاگ میں کہا تھا سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ کی شدید مخالفت کی وجہ سے کالاباغ ڈیم نہیں بن سکتا اور یہ کہ سارے صوبوں کو پیار کے ساتھ گفت و شنید سے کوئ راستہ نکالنا چاہئے۔ اب کیونکہ کالا باغ ڈیم کے فوائد سامنے ہیں اسلئے اب سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ کو میری ناقص رائے میں اعتماد میں لیا جاسکتا ہے۔ میں ماہرِ ڈیم اور واپڈا کے سابق چیرمین ملوک صاحب کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ کالا باغ ڈیم کی location پر دریا کا موڑ ہونے کی وجہ سے silting زیادہ ہوگی۔ اسلئے یہ دس بارہ میل ہٹ کر بنانا بہتر ہوگا۔ ملوک صاحب کا نوشہرہ سے ہے
بھٹی صاحب
آپ کی بات صحیح ہے چھوٹے بڑے ہر قسم کے ڈیم بننے چاہئیں ۔ امریکہ کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی چارپانچ مصنوئ جھیلیں موجود ہیں۔ یہاں برساتی نالیوں پر بھی بند بندھے ہوئے ہیں اور اسطرح جھیلیں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے دریاؤں کے باوجود یہاں سیلاب نسبتاً کم آتے ہیں۔