بھارتی ھندو فلمی شاعرہ لتا حیا کا تازہ کلام ‘‘اسی لیے یہ دھرم “حیاء” کے دل کو بھاتا ہے‘‘
14 thoughts on “بھارتی ھندو فلمی شاعرہ لتا حیا کا تازہ کلام ‘‘اسی لیے یہ دھرم “حیاء” کے دل کو بھاتا ہے‘‘”
میرے لفظ اس خوبصورت ،منفرد اور دل کو چھو لینے والے کلام کو سننے کے بعد گونگے ہو چکے ہیں .. جی چاہ رہا ہے لتا ہی کی بات کو دہراتی جاؤں “ہدایت جس کو دے مالک وہ پاتا ہے ” .واہ .. واہ .. مرحبا .. سبحان اللہ .. میرا مالک جس پر چاہے مہربان ہو جائے اور جس سے چاہے اپنا کلام لکھوا لے .. جس کو چاہے ہدایت سے روشن کر دے.. جس کو چاہے نور سے بھر دے … بیشک ہمارا رب جوہر شناس …اور.. سب سے زیادہ مہربان ہے … اللہ اللہ ..حق اللہ ..
جناب صفدر ہمدانی صاحب،
سبحان اللہ مرشد، کیا خوب پیشکش ہے۔ آج پہلا روزہ ہے اور ان محترمہ کی پرکیف آواز میں اسلام کی تعریف سنی ، خود پہ شرمندگی محسوس کرتے ہوئے محترمہ کے لئے بےاختیار لبوں سے یہ دعا نکلی کہ اے رب ذوالجلال تو ان کا دل اسلام کے نور سے منور کردے اور ان سے اسلام کی خدمت کا کام لے، آمین۔
دنیا میں آئے ہو تو انسان بنو پہلے
جس کی امت میں ہو اس کی راہ چلو پہلے
اس کی فرماں برداری کا نام محبت ہے
یہی عقیدہ کہلائے اور یہی عبادت ہے
وید ہو یا توریت کہ انجیل ہو یا قرآن
لیکن دین فطرت دین قیم اک ہے ہاں
وہ کہ جو ایماں نہیں لائے پچھتائیں گے
جب دوزخ کی تکلیفوں کو سہہ نہ پائیں گے
جو سچا ایمان یقین اور علم بڑھاتا ہے
وہ ہے سچا مذہب جو اسلام کہلاتا ہے
ماشاء اللہ، اللہ آپ کو علم کے ایسے خزانے ڈھونڈنے اور ہم تک پہنچانے پہ اجر عظیم عطا فرمائے۔
اہل ہنود کی شاعری میں اسلام کی حقانیت،نبی آخر الزمان سے محبت اور اہلبیت سے عقیدت کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن یہ رویہ عمومی رویہ نہیں ہے بلکہ ان اہل ہنود اہل قلم کے لیئے ہے جن کو قلم کی اور ضمیر کی روشنی ملی ہوئی ہے ورنہ انکے ہاں بھی اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے موجود ہیں. اہل ہنود میں ایک مرحوم شاعر ملکھی رام گزرا ہے جس نے ”پانی” کی ردیف میں کربلا والوں پر بہت طویل نظم لکھی ہے۔
پٹنہ کے محقق رضوان احمد نے اپنے ایک مطبوعہ مضمون میں لکھا ہے
اردو کے غیرمسلم شعرا نے بھی ان کی حیات طیبہ سے متاثر ہو کر کافی تعداد میں نعتیں کہیں اور اس کا کافی بڑا سرمایہ اردو میں موجود ہے ۔ غیر مسلم شعرا کی نعتوں کو جمع کرنے کی سب سے پہلے کوشش مشہور شاعر مرحوم والی آسی نے کی تھی اور اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ یوں تو اردو میں غیرمسلم نعت گو شعرا کی تعداد کئی سو تک پہنچتی ہے۔ لیکن نور میرٹھی نے جو کتاب ” بہ ہرزماں بہ ہر زباں“ مرتب کی وہ بہت اہمیت کی حامل ہے اس میں انہوں نے 336 ہندو شعراءکی نعتوں کویکجا کیا ہے۔
غیر مسلم شعراءمیں جو نامور سامنے آتے ہیں ان میں پنڈت دیا شنکرنسیم، پنڈت ہری چند اختر، پنڈت لبھو رام جوش ملسیانی، علامہ تربھون ناتھ زار زتشی دہلوی، تلوک چندر محروم، پنڈت بال مکند عرش ملسیانی، گوپی ناتھ امن، پنڈت نوبت رائے نظر، پنڈت امر ناتھ آشفتہ دہلوی، بھگوت رائے راحت کاکوروی، مہاراجہ کشن پرساد، پنڈت برج نرائن دتا تریا کیفی، رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری، کالی داس گپتارضا، اوم پرکاش ساحر ہوشیارپوری، کنور مہندرسنگھ بیدی سحر، کرشن موہن، چندر پرکاش جوہر بجنوری، آنند موہن زتشی، گلزار دہلوی، پنڈت دیا پرساد غوری، اوما شنکر شاداں، اشونی کمار اشرف، ہری مہتا ہری اور چند ر بھان خیال جیسے شعراءکے نام آتے ہیں ۔
کالی داس گپتا رضا کی نعتوں کا مجموعہ ”اجالے “ کے عنوان سے شائع ہوا تھا اور چند ر بھان خیال نے منظوم سیرت پاک” لولاک “کے عنوان سے شائع کی ۔
ذیل میں کچھ ہندو شعراءکا نعتیہ کلام درج ہے ۔
ہر شاخ میں ہے شگوفہ کاری
ثمرہ ہے قلم کا حمد باری
کرتا ہے یہ دو زباں میں یکسر
حمد حق مدحت پیمبر
پانچ انگلیوں میں یہ حرف زن ہے
یعنی یہ مطیع پنجتن ہے
پنڈت دیا شنکر نسیم
ہو شوق نہ کیوں نعتِ رسولِ دوسرا کا
مضموں ہو عیاں دل میں جو لولاک لما کا
پہنچائے ہے کس اوج سعادت پہ جہاں کو
پھر رتبہ ہو کم عرش سے کیوں غار حرا کا
یوں روشنی ایمان کی ہے دل میں کہ جیسے
بطحا سے ہوا جلوہ فگن نور خدا کا
پنڈت دتا تریا کیفی
انوارہیں بے شمار معدود نہیں
رحمت کی شاہراہ مسدود نہیں
معلوم ہے کچھ تم کو محمد کا مقام
وہ امت اسلام میں محدود نہیں
رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری
سبز گنبد کے اشارے کھینچ لائے ہیں ہمیں
لیجئے دربار میں حاضر ہیں اے سرکار ہم
نام پاک احمد مرسل سے ہم کو پیار ہے
اس لئے لکھتے ہیں اختر نعت میں اشعار ہے
پنڈت ہری چند اختر
سلام اس پر جو آیا رحمت للعالمین بن کر
پیام دوست لے کر صادق و وعدو امیں بن کر
سلام اس پر جو حامی بن کے آیا غم نصیبوں کا
رہا جو بے کسوں کا آسرا مشفق غریبوں کا
جگن ناتھ آزاد
پر تو حسن زاد آئے تھے
پیکر التفات آئے تھے
کذب اور کفر کو مٹانے کو
سرور کائنات آئے تھے
پنڈت آنند موہن گلزارزتشی
گرچہ نام و نسب سے ہندو ہوں
کملی والے میں تیرا سادھو ہوں
تیری توصیف ہے مری چہکار
میں ترے باغ کا پکھیرو ہوں
کرشن موہن
حضرت کی صداقت کی عالم نے گواہی دی
پیغام الہٰی ہے پیغام محمد کا
اوہام کی ظلمت میں اک شمع ہدایت ہے
بھٹکی ہوئی دنیا کو پیغام محمد کا
راجیندر بہادر موج
زندگی میں زندگی کا حق ادا ہو جائے گا
تو اگر اے دل غلام مصطفٰے ہو جائے گا
رحمت للعالمیں سے مانگ کر دیکھو توبھیک
ساری دنیا سارے عالم کا بھلا ہو جائے گا
ہے یہی مفہوم تعلیمات قرآن و حدیث
جو محمد کاہوا اس کا خدا ہو جائے گا
شوق سے نعت نبی لکھتا رہا گر اے خودی
حق میں بخشش کا تری یہ آسرا ہو جائے گا
پنڈت گیا پرساد خودی
واہ کیا بات ہے بات وہ ہی ہے کے جب اور جس کو وہ خدا خود چاہے ہدایت سے نواز دیتا ہے
لتا جی کے اس دلکش کلام کو سُن کر روح خوش ہوگیی کہ یہ ہی اصولِ مُحبت ہے کے محبوب کی بات جب کرے جو کرے اچھی لگتی ہے اور دل کرتا ہے بس سُنتے جاوّ-
لتا جی کو ایک غیر مُسلم ہو کر بھی جو پہچان حاصل ہوئی ہے دین ِ اسلام کی اکثر مُسلمان اب اس سے لاعلم نظر آتے ہیں –
اور بے شک وہ بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا پے جیسے چاہے اپنی راہ کی طرف موڑ دیتاہے-
خدا ہم سب کو بھی اپنی راہ پر ثابت قدمی سے چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور لتا جی کو اس کلام کا بہرین اجر عطا فرمائے کہ بے شک وہ سب سے اچھا بدلہ دینے والا ہے
جزاک اللہ
طالبِ دُعا
ثمرین بخاری
اسلام علیکم
واہ واہ دل خوش ہوگیا ۔لتا صاحبہ کا کلام اپنی جگہ داد و تحسین کا مستحق ، اور اس پر آپ سب کے تبصرے اور تحریر ۔
اتنی زیادہ معلومات اور وہ بھی اس خوبصورتی کے ساتھ ہمدانی بھائی کا کمال ۔اور ساتھ ہی یہ بات روز روشن کی طرح حق کے وہ جس سے چاہے جو چاہے بات پہنچا دے ۔
افسوس کہ ہم اس نبی پاک کی امت ہوتے ہوئے کہ جس کو ہر دور نے ہر مزہب کے لوگوں نے اور ہر زی شعور نے ما نا اور اعتراف کیا کہ ۔بعد از خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنت رسول کی طرف راغب کرے ۔خانوادہ رسول کی محبت عطا کرے اور اپنی زندگیوں کو بھلائی کی طرف بدلنے کی توفیق عطا کرے ۔
کہ وہ جسے چاہے نواز دے ۔
عالم آرا
آغا صاحب ! محترمہ لتا حیا صاحبہ کا کلام سن کر مجھے بہت حیا آئی ہے
یقیناً اس محترمہ کے دل میں ایمان کی شعائیں مجھ جیسے عاصی سے کہیں تیز تر ہیں
جس کی امت میں ہو اس کی راہ چلو پہلے
مجھ جیسے کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے
مناف بھائی کچھ ایسا ہی حال میرے دل کا بھی ہے .. لگتا ہے جیسے یہ کلام ایک آئینہ ہو اور مجھے اپنی شکل ….ٍ اف کیا بتاؤں کیسی کیسی نہ دیکھائی دی … اے میرے پاک رب مجھے اپنی خاص رحمت سے معاف کر دیجئے اور اپنی راہ پر چلا دیجئے .. آمین
خدا لتا جی کو اپنے گیان کو اپنانے اور ہم سب کو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے۔، اور ہندو معاشرے میں ان کو سچ کہنے کا اجر عطا فرمائے۔ آمین
ہندوستان کو لتا حیا جیسی شاعرہ پر فخر کرنا چاہیے کہ اس نے اردو کو اور اسلام کو اپنے دل میں جگہ دی ہے ۔
مشکل یہ ہے کہ ہندوستان کے بعض ماں باپ لڑکیوں کو بوجھ سمجھ کر ان کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کے کوکھ میں قتل کردیا کرتے ہیں ۔ اس افسوسناک بات سے متاثر ہوکر محترمہ عرشی صاحبہ نے ایک انتہائی متاثر کن نظم لکھی ہے جسے انہوں نےمجھے ای میل کے ذریعہ روانہ کی تھی۔
میں اس نظم کو اس بلاگ میں صرف اس لیے چسپاں کررہا ہوں کہ اسے پڑھکر سارے پڑھنےوالے دعا کریں کہ ہندوستان سے یہ وبا دور ہو تاکہ لتا حیا جیسی اچھی اچھی لڑکیاں پیدا ہونے سے پہلے ہی قتل نہ کردیے جائیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دعا کرتے رہیں کہ خدا نخواستہ اس قسم کی وبا پاکستان میں بھی نہ پھیل جائے :
Gender Murder in India: 50 million girls and women killed before and after birth
Posted on August 3, 2009 by The Editors
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فقط:
مبصر :
منظور قاضی
جرمنی سے
جناب منظور قاضی صاحب،
آپ نے بہت احسان فرمایا جو محترمہ عرشی ملک کی اس مایہ ناز نظم کو اس بلاگ میں اپنے تبصرے کی زینت بنایا۔ محترمہ کا یہ بڑا پُن ہے جو انہوں نے مجھے بھی اپنے میلنگ ایڈریس میں جگہ دے رکھی ہے اور اپنے تازہ کلام سے نوازتی رہتی ہیں۔ کچھ میری کوتاہی، کچھ وقت کی کمی لیکن سب سے بڑھ کے ان پیج کو یونی کوڈ میں تبدیل کرنے کی سہولت کے نہ ہونے کی وجہ سے چاہتے ہوئے بھی میں ان کا کلام آگے نہیں پہنچا سکتا اور اکثر میری لائیبریری میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ یہ نظم بہت ہی جذباتی اور انسانیت کے ایک بڑے اہم پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔
’’ مشکل یہ ہے کہ ہندوستان کے بعض ماں باپ لڑکیوں کو بوجھ سمجھ کر ان کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کے کوکھ میں قتل کردیا کرتے ہیں‘‘
قبلہ قاضی صاحب یہ وبا صرف ہندو معاشرے میں ہی نہیں بلکہ ہمارے اسلامی معاشرے میں بھی موجود ہے ۔ بہت دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ جس مذہب نے بیٹیوں کے زندہ دفن کرنے پہ پابندی لگائی ، ستی جیسی رسم ختم کی اور عورت کو معاشرے میں باعزت مقام دیا آج اسی مذہب کے پیروکار وں کے لئے بیٹی بوجھ بن رہی ہے۔جب سے سائینس نے سکیننگ ایجاد کی ہے بیٹی کی خبر ملتے ہی غریب ماں کی زندگی جہنم بننا شروع ہوجاتی ہے۔ اسے گھر میں منحوس سمجھنا یا خاوند کا دوسری شادی کا فیصلہ کر لینا اب کوئی انوکھی بات نہیں رہی۔ اور اکثر ماں کی کوکھ میں پلنے والی معصوم روح بغیر کفن ، بغیر جنازے ، بغیر قبر کے بڑی مظلومیت سے ’گٹر میں بہا دی جاتی ہے‘ اور محترمہ نے اس روداد کا بڑا ہی صحیح اور دردناک نقشہ کھینچا ہے ۔
محترمہ عرشی صاحبہ نے تو بیٹیوں سے متعلق جہالت کا صرف ایک پہلو دکھایا ہے جو اکثر سامنے نہیں آتا ( جبکہ رونگٹے کھڑے کرنے والی حقیقت کسی بھی زچہ بچہ سینٹر سے مل سکتی ہے ) لیکن دو یا تین بیٹیوں کی پیدائیش کی بعد ہماری سوسائیٹی میں اس بدنصیب ماں کوبات بات پہ طعنے ، سوئی ہوئی بیٹیوں کو کبھی اکیلے میں اور کبھی ماں سمیت ذبح کر دینا ، جہیز کی لعنت اور سسرال کے طعنے ، جائیداد کی خاطر بیٹیوں کی درختوں حتاکہ قرآن پاک سے شادی ، کاروکاری کی بیہودہ رسم ، بہو کے آنے کے بعد گھروں میں چولہے پھٹنے اور کتنی معاشرتی برائیاں ہیں جو بیٹیوں کے گرد گھومتی ہیں اور ہمارے اسی اسلامی معاشرے میں ۔ بیٹی کتنی مظلومیت کی زندگی گذار رہی ہےاس کو ذہن میں لاتے ہی پاگل پن کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔
کاش آپ یہ نظم علحٰدہ سے بلاگ میں لگاتے تاکہ محترمہ کی اس انتہائی جذباتی اور متاثر کن نظم پہ میرے علاوہ ( ویسے بھی میں نے ان سے اس نظم پہ اپنی تفصیلی رائے کا وعدہ کیا تھا جو کہ آج تک محض وعدہ ہی رہا ) اور بھی قیمتی آراء آتیں۔ لیکن امید کرتا ہوں کہ قارئین اسی بلاگ میں اس انتہائی اہم سماجی یا معاشرتی مسئلے پہ اپنی رائے کا ضرور اظہار کریں گے۔
میں جاوید اقبال کیانی صاحب کے انتہائی مفید اور بروقت تبصرے سے متاثر ہوکر عرشی صاحبہ کی نظم “ کوکھ میں قتل “ پر ایک نیا بلاگ شروع کرچکا ہوں :
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
جناب صفدر ہمدانی صاحب کی تحریر “غیر مسلم شعراء کا نبی صلعم کی توصیف میں نعتیہ کلا م” پڑھی میں بھی یہاں مقیم اپنے دوست راجیو چکرورتی کی ایک نعتیہ غزل پیش کرنا چاہتا ہوں راجیو چکرورتی کا تعلق ہندو مذہب سے ہے انکی مادری زبان تیلگو ہے اور دفتری زبان انگریزی ہے.جبکہ اختیاری زبان اُردو ہے جو انہوں نے یہیں ڈیلس میں سیکھی ہے اور خوب سیکھی ہے. بلکہ انتہائی قابل فخر.
ٹیکساس کے ایک اور شہر ہویسٹن میں ایک ادبی سوسائٹی “بزم ادب” ہے انہوں نے ایک نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کیا تو غیر ارادی طور پر فہرست شعراء میں شامل راجیو چکرورتی کو بھی مدعو کر لیا راجیو طویل فاصلے کے سبب وہاں جا تو نہیں سکے لیکن انہوں نے اپنا کلام بزم ادب کو روانہ کردیا جو پیش خدمت ہے. راجیو کا تخلص “نادان” ہے.
جب سے دیکھا آپ کا خط ، دل میرا سرشار ہے
یاد کرنا آپ کا مجھ پر بڑا اُپکارہے(اُپکار=احسان)
ہے عنایت آپ کی یہ مہر و الفت کا پیام
کیسے کہدوں کس قدر مجھ پر گراں یہ بار ہے
آپ کی “بزمِ ادب ” میں ایک “ناداں” ہو شریک
فصلِ گُل میں کیوں کسی کو آرزوِ خار ہے
بے تکلف میں سناتا ہوں حقیقت آپ کو
بات کہنے میں نہیں مجھ کو ذرا بھی عار ہے
اِس زُباں کی تو الف بے سے بھی میں واقف نہیں
ہے اگرچہ سچ ، مجھے اُرور سے بے حد پیار ہے
طفلِ مکتب سے زیادہ ہے مری اوقات کیا؟
شاعری، اور میں کروں، ممکن نہیں دشوار ہے
چاہئے اس کے لئے وہ عقل، وہ دانش وہ علم
جو ہنر مجھ میں نہیں، ایسا ہنر درکار ہے
شاعری تو ایک بحرِ بیکراں ہے، اور پھر
ہے یہ کشتی اِس طرف، جانا مجھے اُس پار ہےِ
نعت گر کہنا بھی چاہوں میں تو اِس قابل کہاں؟
ایک کافر سے تو یہ امید ہی بیکار ہے
ہاں ضرور اتنا کہوں گا میں نبی کی شان میں
آپ ہی کی سنتوں سے اپنا بیڑا پار ہے
ریگزارِ دہر میں جب ہو غموں کی دھوپ تیز
آپ(ص) ہی کا نام مثلِ سایہء دیوار ہے
آپ(ص) نے کی عمر ساری عشقِ یزداں پر نثار
آپ(ص) سے سیکھے کوئی کیا عشق کا معیار ہے
آپ(ص) کی شفقت کا میں خواہاں رہوں گا یا رسول(ص)
جب تلک اِس دَم میں دَم ہے طاقتِ گُفتارِ ہے
مختصر سی بات ہے اس سے زیادہ کیا کہوں
دل ثنا خوانِ حضورِ احمدِ مُختار ہے
آئندہ کسی موقع پر راجیو چکرورتی کی شاندار غزلیں بھی شاملِ اشاعت کروں گا
آپ سب کی محبتوں کا امین
راجیو چکرورتی صاحب کو میں ایک زمانہ پہلے اپنے ڈلس کے قیام کے زمانے میں دیکھ اور سن چکا ہوں ۔ انکی اردو زبان سے محبت کا میں دل سے قائل ہوں ۔
انکی نعتیہ شاعری مندرجہ بالا تبصرے میں پہلی مرتبہ پڑھنےکا موقع ملا۔ وہ ماشااللہ اچھے اچھے شعرا سے بہتر لکھتے ہیں۔
راجیو چکرورتی نے مصحفی کی غزل کی زمین میں جو غزل کہی تھی وہ پڑھنےکے قابل ہے۔ اسکا ایک شعرمیرے ذہن میں ہمیشہ محفوظ رہے گا کہ :
تعلق دیر سے رشتہ حرم سے ہے تو بس اتنا
مسلسل لوٹا جاتا ہے انہی کے درمیاں مجھ کو
میرے لفظ اس خوبصورت ،منفرد اور دل کو چھو لینے والے کلام کو سننے کے بعد گونگے ہو چکے ہیں .. جی چاہ رہا ہے لتا ہی کی بات کو دہراتی جاؤں “ہدایت جس کو دے مالک وہ پاتا ہے ” .واہ .. واہ .. مرحبا .. سبحان اللہ .. میرا مالک جس پر چاہے مہربان ہو جائے اور جس سے چاہے اپنا کلام لکھوا لے .. جس کو چاہے ہدایت سے روشن کر دے.. جس کو چاہے نور سے بھر دے … بیشک ہمارا رب جوہر شناس …اور.. سب سے زیادہ مہربان ہے … اللہ اللہ ..حق اللہ ..
جناب صفدر ہمدانی صاحب،
سبحان اللہ مرشد، کیا خوب پیشکش ہے۔ آج پہلا روزہ ہے اور ان محترمہ کی پرکیف آواز میں اسلام کی تعریف سنی ، خود پہ شرمندگی محسوس کرتے ہوئے محترمہ کے لئے بےاختیار لبوں سے یہ دعا نکلی کہ اے رب ذوالجلال تو ان کا دل اسلام کے نور سے منور کردے اور ان سے اسلام کی خدمت کا کام لے، آمین۔
دنیا میں آئے ہو تو انسان بنو پہلے
جس کی امت میں ہو اس کی راہ چلو پہلے
اس کی فرماں برداری کا نام محبت ہے
یہی عقیدہ کہلائے اور یہی عبادت ہے
وید ہو یا توریت کہ انجیل ہو یا قرآن
لیکن دین فطرت دین قیم اک ہے ہاں
وہ کہ جو ایماں نہیں لائے پچھتائیں گے
جب دوزخ کی تکلیفوں کو سہہ نہ پائیں گے
جو سچا ایمان یقین اور علم بڑھاتا ہے
وہ ہے سچا مذہب جو اسلام کہلاتا ہے
ماشاء اللہ، اللہ آپ کو علم کے ایسے خزانے ڈھونڈنے اور ہم تک پہنچانے پہ اجر عظیم عطا فرمائے۔
اہل ہنود کی شاعری میں اسلام کی حقانیت،نبی آخر الزمان سے محبت اور اہلبیت سے عقیدت کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن یہ رویہ عمومی رویہ نہیں ہے بلکہ ان اہل ہنود اہل قلم کے لیئے ہے جن کو قلم کی اور ضمیر کی روشنی ملی ہوئی ہے ورنہ انکے ہاں بھی اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے موجود ہیں. اہل ہنود میں ایک مرحوم شاعر ملکھی رام گزرا ہے جس نے ”پانی” کی ردیف میں کربلا والوں پر بہت طویل نظم لکھی ہے۔
پٹنہ کے محقق رضوان احمد نے اپنے ایک مطبوعہ مضمون میں لکھا ہے
اردو کے غیرمسلم شعرا نے بھی ان کی حیات طیبہ سے متاثر ہو کر کافی تعداد میں نعتیں کہیں اور اس کا کافی بڑا سرمایہ اردو میں موجود ہے ۔ غیر مسلم شعرا کی نعتوں کو جمع کرنے کی سب سے پہلے کوشش مشہور شاعر مرحوم والی آسی نے کی تھی اور اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ یوں تو اردو میں غیرمسلم نعت گو شعرا کی تعداد کئی سو تک پہنچتی ہے۔ لیکن نور میرٹھی نے جو کتاب ” بہ ہرزماں بہ ہر زباں“ مرتب کی وہ بہت اہمیت کی حامل ہے اس میں انہوں نے 336 ہندو شعراءکی نعتوں کویکجا کیا ہے۔
غیر مسلم شعراءمیں جو نامور سامنے آتے ہیں ان میں پنڈت دیا شنکرنسیم، پنڈت ہری چند اختر، پنڈت لبھو رام جوش ملسیانی، علامہ تربھون ناتھ زار زتشی دہلوی، تلوک چندر محروم، پنڈت بال مکند عرش ملسیانی، گوپی ناتھ امن، پنڈت نوبت رائے نظر، پنڈت امر ناتھ آشفتہ دہلوی، بھگوت رائے راحت کاکوروی، مہاراجہ کشن پرساد، پنڈت برج نرائن دتا تریا کیفی، رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری، کالی داس گپتارضا، اوم پرکاش ساحر ہوشیارپوری، کنور مہندرسنگھ بیدی سحر، کرشن موہن، چندر پرکاش جوہر بجنوری، آنند موہن زتشی، گلزار دہلوی، پنڈت دیا پرساد غوری، اوما شنکر شاداں، اشونی کمار اشرف، ہری مہتا ہری اور چند ر بھان خیال جیسے شعراءکے نام آتے ہیں ۔
کالی داس گپتا رضا کی نعتوں کا مجموعہ ”اجالے “ کے عنوان سے شائع ہوا تھا اور چند ر بھان خیال نے منظوم سیرت پاک” لولاک “کے عنوان سے شائع کی ۔
ذیل میں کچھ ہندو شعراءکا نعتیہ کلام درج ہے ۔
ہر شاخ میں ہے شگوفہ کاری
ثمرہ ہے قلم کا حمد باری
کرتا ہے یہ دو زباں میں یکسر
حمد حق مدحت پیمبر
پانچ انگلیوں میں یہ حرف زن ہے
یعنی یہ مطیع پنجتن ہے
پنڈت دیا شنکر نسیم
ہو شوق نہ کیوں نعتِ رسولِ دوسرا کا
مضموں ہو عیاں دل میں جو لولاک لما کا
پہنچائے ہے کس اوج سعادت پہ جہاں کو
پھر رتبہ ہو کم عرش سے کیوں غار حرا کا
یوں روشنی ایمان کی ہے دل میں کہ جیسے
بطحا سے ہوا جلوہ فگن نور خدا کا
پنڈت دتا تریا کیفی
انوارہیں بے شمار معدود نہیں
رحمت کی شاہراہ مسدود نہیں
معلوم ہے کچھ تم کو محمد کا مقام
وہ امت اسلام میں محدود نہیں
رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری
سبز گنبد کے اشارے کھینچ لائے ہیں ہمیں
لیجئے دربار میں حاضر ہیں اے سرکار ہم
نام پاک احمد مرسل سے ہم کو پیار ہے
اس لئے لکھتے ہیں اختر نعت میں اشعار ہے
پنڈت ہری چند اختر
سلام اس پر جو آیا رحمت للعالمین بن کر
پیام دوست لے کر صادق و وعدو امیں بن کر
سلام اس پر جو حامی بن کے آیا غم نصیبوں کا
رہا جو بے کسوں کا آسرا مشفق غریبوں کا
جگن ناتھ آزاد
پر تو حسن زاد آئے تھے
پیکر التفات آئے تھے
کذب اور کفر کو مٹانے کو
سرور کائنات آئے تھے
پنڈت آنند موہن گلزارزتشی
گرچہ نام و نسب سے ہندو ہوں
کملی والے میں تیرا سادھو ہوں
تیری توصیف ہے مری چہکار
میں ترے باغ کا پکھیرو ہوں
کرشن موہن
حضرت کی صداقت کی عالم نے گواہی دی
پیغام الہٰی ہے پیغام محمد کا
اوہام کی ظلمت میں اک شمع ہدایت ہے
بھٹکی ہوئی دنیا کو پیغام محمد کا
راجیندر بہادر موج
زندگی میں زندگی کا حق ادا ہو جائے گا
تو اگر اے دل غلام مصطفٰے ہو جائے گا
رحمت للعالمیں سے مانگ کر دیکھو توبھیک
ساری دنیا سارے عالم کا بھلا ہو جائے گا
ہے یہی مفہوم تعلیمات قرآن و حدیث
جو محمد کاہوا اس کا خدا ہو جائے گا
شوق سے نعت نبی لکھتا رہا گر اے خودی
حق میں بخشش کا تری یہ آسرا ہو جائے گا
پنڈت گیا پرساد خودی
واہ کیا بات ہے بات وہ ہی ہے کے جب اور جس کو وہ خدا خود چاہے ہدایت سے نواز دیتا ہے
لتا جی کے اس دلکش کلام کو سُن کر روح خوش ہوگیی کہ یہ ہی اصولِ مُحبت ہے کے محبوب کی بات جب کرے جو کرے اچھی لگتی ہے اور دل کرتا ہے بس سُنتے جاوّ-
لتا جی کو ایک غیر مُسلم ہو کر بھی جو پہچان حاصل ہوئی ہے دین ِ اسلام کی اکثر مُسلمان اب اس سے لاعلم نظر آتے ہیں –
اور بے شک وہ بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا پے جیسے چاہے اپنی راہ کی طرف موڑ دیتاہے-
خدا ہم سب کو بھی اپنی راہ پر ثابت قدمی سے چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور لتا جی کو اس کلام کا بہرین اجر عطا فرمائے کہ بے شک وہ سب سے اچھا بدلہ دینے والا ہے
جزاک اللہ
طالبِ دُعا
ثمرین بخاری
اسلام علیکم
واہ واہ دل خوش ہوگیا ۔لتا صاحبہ کا کلام اپنی جگہ داد و تحسین کا مستحق ، اور اس پر آپ سب کے تبصرے اور تحریر ۔
اتنی زیادہ معلومات اور وہ بھی اس خوبصورتی کے ساتھ ہمدانی بھائی کا کمال ۔اور ساتھ ہی یہ بات روز روشن کی طرح حق کے وہ جس سے چاہے جو چاہے بات پہنچا دے ۔
افسوس کہ ہم اس نبی پاک کی امت ہوتے ہوئے کہ جس کو ہر دور نے ہر مزہب کے لوگوں نے اور ہر زی شعور نے ما نا اور اعتراف کیا کہ ۔بعد از خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنت رسول کی طرف راغب کرے ۔خانوادہ رسول کی محبت عطا کرے اور اپنی زندگیوں کو بھلائی کی طرف بدلنے کی توفیق عطا کرے ۔
کہ وہ جسے چاہے نواز دے ۔
عالم آرا
آغا صاحب ! محترمہ لتا حیا صاحبہ کا کلام سن کر مجھے بہت حیا آئی ہے
یقیناً اس محترمہ کے دل میں ایمان کی شعائیں مجھ جیسے عاصی سے کہیں تیز تر ہیں
جس کی امت میں ہو اس کی راہ چلو پہلے
مجھ جیسے کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے
مناف بھائی کچھ ایسا ہی حال میرے دل کا بھی ہے .. لگتا ہے جیسے یہ کلام ایک آئینہ ہو اور مجھے اپنی شکل ….ٍ اف کیا بتاؤں کیسی کیسی نہ دیکھائی دی … اے میرے پاک رب مجھے اپنی خاص رحمت سے معاف کر دیجئے اور اپنی راہ پر چلا دیجئے .. آمین
خدا لتا جی کو اپنے گیان کو اپنانے اور ہم سب کو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے۔، اور ہندو معاشرے میں ان کو سچ کہنے کا اجر عطا فرمائے۔ آمین
ہندوستان کو لتا حیا جیسی شاعرہ پر فخر کرنا چاہیے کہ اس نے اردو کو اور اسلام کو اپنے دل میں جگہ دی ہے ۔
مشکل یہ ہے کہ ہندوستان کے بعض ماں باپ لڑکیوں کو بوجھ سمجھ کر ان کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کے کوکھ میں قتل کردیا کرتے ہیں ۔ اس افسوسناک بات سے متاثر ہوکر محترمہ عرشی صاحبہ نے ایک انتہائی متاثر کن نظم لکھی ہے جسے انہوں نےمجھے ای میل کے ذریعہ روانہ کی تھی۔
میں اس نظم کو اس بلاگ میں صرف اس لیے چسپاں کررہا ہوں کہ اسے پڑھکر سارے پڑھنےوالے دعا کریں کہ ہندوستان سے یہ وبا دور ہو تاکہ لتا حیا جیسی اچھی اچھی لڑکیاں پیدا ہونے سے پہلے ہی قتل نہ کردیے جائیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دعا کرتے رہیں کہ خدا نخواستہ اس قسم کی وبا پاکستان میں بھی نہ پھیل جائے :
Gender Murder in India: 50 million girls and women killed before and after birth
Posted on August 3, 2009 by The Editors
نطم
کوکھ میں قتل
ارشاد عرشی ملک ،اسلام آباد پاکستان
arshimalik50@hotmail.com
ابھی جنم نہیں میں نے لیا ہے دنیا میں
مگر میں خوف سے ہر پل لرزتی رہتی ہوں
میں ماں کی کوکھ کے اندر بھی ڈرتی رہتی ہوں
سہم سہم کے میں، بے موت مرتی رہتی ہوں
سنا ہے میں نے کہ سائنس کی یہ ترقی بھی
ہمارے واسطے لائی ہے اک نئی افتاد
سنا ہے ایسی مشینیں بھی ہو گئیں ایجاد
جو ماں کی کوکھ کے اندر کے سب مناظر کو
چمکتی،جاگتی سکرین پر دکھاتی ہیں
جو نسل و جنس کا پورا پتہ لگاتی ہیں
سنا ہے مائیں بھی اب بیٹیوں کی دشمن ہیں
جب اپنے پیٹ میں بیٹی کا جان لیتی ہیں
تو اس کے قتل کی پھر دل میں ٹھان لیتی ہیں
کبھی تھی رسم ہمیں زندہ گاڑ دینے کی
تو قبر بنتی تھی آنسو بہائے جاتے تھے
جو ساتھ باپ کے ، ہم قتل گاہ جاتے تھے
نئے لباس میں ہم بھی سجائے جاتے تھے
ہمارے سر پہ ربن بھی لگائے جاتے تھے
پر ایسا ظلم تو دیکھا سنا نہ دنیا میں
بہت سی ہیں میری بہنیں کہ جن کو مل نہ سکا
کفن کے نام پہ کپڑا کوئی نیا عرشی
کہ جن کا کوئی جنازہ اٹھا نہ ارتھی ہی
زمیں پہ ایک دو بالشت بھی جگہ نہ ملی
ہمیں تو ماوں کے پیٹوں میں بھی پنہ نہ ملی
بہت سی ہیں مری بہنیں جو ماوں کے ہاتھوں
انہیں کی کوکھ کے اندر مٹائی جاتی ہیں
خوشی کے ساتھ گٹر میں بہائی جا تی ہیں
ابھی جنم نہیں میں نے لیا ہے دنیا میں
مگر میں خوف سے ہر پل لرزتی رہتی ہوں
میں ماں کی کوکھ کے اندر بھی ڈرتی رہتی ہوں
سہم سہم کے میں، بے موت مرتی رہتی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فقط:
مبصر :
منظور قاضی
جرمنی سے
جناب منظور قاضی صاحب،
آپ نے بہت احسان فرمایا جو محترمہ عرشی ملک کی اس مایہ ناز نظم کو اس بلاگ میں اپنے تبصرے کی زینت بنایا۔ محترمہ کا یہ بڑا پُن ہے جو انہوں نے مجھے بھی اپنے میلنگ ایڈریس میں جگہ دے رکھی ہے اور اپنے تازہ کلام سے نوازتی رہتی ہیں۔ کچھ میری کوتاہی، کچھ وقت کی کمی لیکن سب سے بڑھ کے ان پیج کو یونی کوڈ میں تبدیل کرنے کی سہولت کے نہ ہونے کی وجہ سے چاہتے ہوئے بھی میں ان کا کلام آگے نہیں پہنچا سکتا اور اکثر میری لائیبریری میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ یہ نظم بہت ہی جذباتی اور انسانیت کے ایک بڑے اہم پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔
’’ مشکل یہ ہے کہ ہندوستان کے بعض ماں باپ لڑکیوں کو بوجھ سمجھ کر ان کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کے کوکھ میں قتل کردیا کرتے ہیں‘‘
قبلہ قاضی صاحب یہ وبا صرف ہندو معاشرے میں ہی نہیں بلکہ ہمارے اسلامی معاشرے میں بھی موجود ہے ۔ بہت دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ جس مذہب نے بیٹیوں کے زندہ دفن کرنے پہ پابندی لگائی ، ستی جیسی رسم ختم کی اور عورت کو معاشرے میں باعزت مقام دیا آج اسی مذہب کے پیروکار وں کے لئے بیٹی بوجھ بن رہی ہے۔جب سے سائینس نے سکیننگ ایجاد کی ہے بیٹی کی خبر ملتے ہی غریب ماں کی زندگی جہنم بننا شروع ہوجاتی ہے۔ اسے گھر میں منحوس سمجھنا یا خاوند کا دوسری شادی کا فیصلہ کر لینا اب کوئی انوکھی بات نہیں رہی۔ اور اکثر ماں کی کوکھ میں پلنے والی معصوم روح بغیر کفن ، بغیر جنازے ، بغیر قبر کے بڑی مظلومیت سے ’گٹر میں بہا دی جاتی ہے‘ اور محترمہ نے اس روداد کا بڑا ہی صحیح اور دردناک نقشہ کھینچا ہے ۔
محترمہ عرشی صاحبہ نے تو بیٹیوں سے متعلق جہالت کا صرف ایک پہلو دکھایا ہے جو اکثر سامنے نہیں آتا ( جبکہ رونگٹے کھڑے کرنے والی حقیقت کسی بھی زچہ بچہ سینٹر سے مل سکتی ہے ) لیکن دو یا تین بیٹیوں کی پیدائیش کی بعد ہماری سوسائیٹی میں اس بدنصیب ماں کوبات بات پہ طعنے ، سوئی ہوئی بیٹیوں کو کبھی اکیلے میں اور کبھی ماں سمیت ذبح کر دینا ، جہیز کی لعنت اور سسرال کے طعنے ، جائیداد کی خاطر بیٹیوں کی درختوں حتاکہ قرآن پاک سے شادی ، کاروکاری کی بیہودہ رسم ، بہو کے آنے کے بعد گھروں میں چولہے پھٹنے اور کتنی معاشرتی برائیاں ہیں جو بیٹیوں کے گرد گھومتی ہیں اور ہمارے اسی اسلامی معاشرے میں ۔ بیٹی کتنی مظلومیت کی زندگی گذار رہی ہےاس کو ذہن میں لاتے ہی پاگل پن کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔
کاش آپ یہ نظم علحٰدہ سے بلاگ میں لگاتے تاکہ محترمہ کی اس انتہائی جذباتی اور متاثر کن نظم پہ میرے علاوہ ( ویسے بھی میں نے ان سے اس نظم پہ اپنی تفصیلی رائے کا وعدہ کیا تھا جو کہ آج تک محض وعدہ ہی رہا ) اور بھی قیمتی آراء آتیں۔ لیکن امید کرتا ہوں کہ قارئین اسی بلاگ میں اس انتہائی اہم سماجی یا معاشرتی مسئلے پہ اپنی رائے کا ضرور اظہار کریں گے۔
میں جاوید اقبال کیانی صاحب کے انتہائی مفید اور بروقت تبصرے سے متاثر ہوکر عرشی صاحبہ کی نظم “ کوکھ میں قتل “ پر ایک نیا بلاگ شروع کرچکا ہوں :
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
جناب صفدر ہمدانی صاحب کی تحریر “غیر مسلم شعراء کا نبی صلعم کی توصیف میں نعتیہ کلا م” پڑھی میں بھی یہاں مقیم اپنے دوست راجیو چکرورتی کی ایک نعتیہ غزل پیش کرنا چاہتا ہوں راجیو چکرورتی کا تعلق ہندو مذہب سے ہے انکی مادری زبان تیلگو ہے اور دفتری زبان انگریزی ہے.جبکہ اختیاری زبان اُردو ہے جو انہوں نے یہیں ڈیلس میں سیکھی ہے اور خوب سیکھی ہے. بلکہ انتہائی قابل فخر.
ٹیکساس کے ایک اور شہر ہویسٹن میں ایک ادبی سوسائٹی “بزم ادب” ہے انہوں نے ایک نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کیا تو غیر ارادی طور پر فہرست شعراء میں شامل راجیو چکرورتی کو بھی مدعو کر لیا راجیو طویل فاصلے کے سبب وہاں جا تو نہیں سکے لیکن انہوں نے اپنا کلام بزم ادب کو روانہ کردیا جو پیش خدمت ہے. راجیو کا تخلص “نادان” ہے.
جب سے دیکھا آپ کا خط ، دل میرا سرشار ہے
یاد کرنا آپ کا مجھ پر بڑا اُپکارہے(اُپکار=احسان)
ہے عنایت آپ کی یہ مہر و الفت کا پیام
کیسے کہدوں کس قدر مجھ پر گراں یہ بار ہے
آپ کی “بزمِ ادب ” میں ایک “ناداں” ہو شریک
فصلِ گُل میں کیوں کسی کو آرزوِ خار ہے
بے تکلف میں سناتا ہوں حقیقت آپ کو
بات کہنے میں نہیں مجھ کو ذرا بھی عار ہے
اِس زُباں کی تو الف بے سے بھی میں واقف نہیں
ہے اگرچہ سچ ، مجھے اُرور سے بے حد پیار ہے
طفلِ مکتب سے زیادہ ہے مری اوقات کیا؟
شاعری، اور میں کروں، ممکن نہیں دشوار ہے
چاہئے اس کے لئے وہ عقل، وہ دانش وہ علم
جو ہنر مجھ میں نہیں، ایسا ہنر درکار ہے
شاعری تو ایک بحرِ بیکراں ہے، اور پھر
ہے یہ کشتی اِس طرف، جانا مجھے اُس پار ہےِ
نعت گر کہنا بھی چاہوں میں تو اِس قابل کہاں؟
ایک کافر سے تو یہ امید ہی بیکار ہے
ہاں ضرور اتنا کہوں گا میں نبی کی شان میں
آپ ہی کی سنتوں سے اپنا بیڑا پار ہے
ریگزارِ دہر میں جب ہو غموں کی دھوپ تیز
آپ(ص) ہی کا نام مثلِ سایہء دیوار ہے
آپ(ص) نے کی عمر ساری عشقِ یزداں پر نثار
آپ(ص) سے سیکھے کوئی کیا عشق کا معیار ہے
آپ(ص) کی شفقت کا میں خواہاں رہوں گا یا رسول(ص)
جب تلک اِس دَم میں دَم ہے طاقتِ گُفتارِ ہے
مختصر سی بات ہے اس سے زیادہ کیا کہوں
دل ثنا خوانِ حضورِ احمدِ مُختار ہے
آئندہ کسی موقع پر راجیو چکرورتی کی شاندار غزلیں بھی شاملِ اشاعت کروں گا
آپ سب کی محبتوں کا امین
راجیو چکرورتی صاحب کو میں ایک زمانہ پہلے اپنے ڈلس کے قیام کے زمانے میں دیکھ اور سن چکا ہوں ۔ انکی اردو زبان سے محبت کا میں دل سے قائل ہوں ۔
انکی نعتیہ شاعری مندرجہ بالا تبصرے میں پہلی مرتبہ پڑھنےکا موقع ملا۔ وہ ماشااللہ اچھے اچھے شعرا سے بہتر لکھتے ہیں۔
راجیو چکرورتی نے مصحفی کی غزل کی زمین میں جو غزل کہی تھی وہ پڑھنےکے قابل ہے۔ اسکا ایک شعرمیرے ذہن میں ہمیشہ محفوظ رہے گا کہ :
تعلق دیر سے رشتہ حرم سے ہے تو بس اتنا
مسلسل لوٹا جاتا ہے انہی کے درمیاں مجھ کو