محمد خاور صاحب کی ایک بہت اچھی سی غزل آپ سب کے لیئے ۔۔
ملتا ہے اپنے آپ سے انساں کبھی کبھی
ہوتا ہے اس کے درد کا درماں کبھی کبھی
مشکل پڑے توہنس کے گلے سے لگایئے
مشکل کو کر کے دیکھئے حیراں کبھی کبھی
ان کی جسارتوں کا برا نہ منایئے
چومیں ہیں اشک آپ کی مژگاں کبھی کبھی
کس درجہ معتبر ہے خمار وصالِ یار
لیتی ہے امتحاں شبِ ہجراں کبھی کبھی
فرقت ہے جان لیوا تو قربت ہے جاں تراش
ہجر و وصال ہوتے ہیں یکساں کبھی کبھی
شکوے گلے اٹھا کہ کہاں تک چلے کوئی
کرتا ہوں خود کو بے سرو ساماں کبھی کبھی
خاورکی میزبانی کی عادت نہیں گئی
بنتا ہے اپنا آپ ہی مہماں کبھی کبھی

محترم خاور صاحب۔عالمی اخبار کے بلاگ میں تشریف لانے کا شکریہ۔ اور آپ آئے بھی ایک غزل کے ساتھ۔ بہت خوب کہی ہے آپ نے غزل ۔ میں دراصل اس بات کا حامی ہوں کہ کی کی تخلیق میں خامی نکالنا شاید آسان ترین کا ہے اور اسی لیئے یہ کام وہ تنقید نگار کرتے ہیں جنہوں نے خود کبھی ایک مصرعہ بھی نہیں لکھا ہوتا۔ میرے نزدیک ہر لکھنے والا منفرد ہے اور یہی اسکی انفرادیت ہے کہ وہ اپنے رنگ میں لکھے۔ ہاں ایک چیز کا خیال رہے کہ اب غزل کا کینوس بہت وسیع ہو چکا ہے اور یہ گل و بلبل یا محبوب کی زلفوں اور پلکوں تک محدود نہیں رہا۔ لکھتے رہیں کہ یہی راز ہے تخلیق کی پختگی کا۔
محمد خاور صاحب کی غزل پڑھکر لطف آگیا۔ اور صفدر ھمدانی صاحب کا تبصرہ بھی بے حد درست ہے۔
میں نہ شاعرہوں نہ نقاد ، میں تو صرف ایک قاری کی حیثیت سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا دوسرے مصرعہ کا قافیہ ” آساں” تھا جو کمپوزنگ میں جلدی کے باعث ” حیراں ” بن گیا ؟ ( مشکل ” آسان ” ہوتی ہے ، مشکل کا ” حیرا ں ‘ ہونا بھی شاعروں کی دنیا میں ممکن ہے اس لیے میرے اس سوال کے جواب دینے کی ضرورت نہیں)۔
بہت ہی خوب تخلیق ہے ۔
یہ شعر بھی خوب ہے :
انکی جسارتوں کا برا نہ منائیے
چومیں ہیں اشک آپ کی مژگا ں کبھی کبھی
امید کہ خاور صاحب اسی طرح اپنے کلام سے پڑھنے والوں کو سرفراز کرتے رہینگے
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے محمد خاور صاحب کی شاعری کو پیش کیا ۔
صفدر ہمدانی صاحب!
ںسیم بہن کا شکر گذار ہوںکہ انہوں نے میر ی غزل کو یہاں پر چسپاں کیا۔ یہ ان کا حسن نظر ہے وگرنہ میںاس قابل نہیں نہ میری غزل۔
آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ غزل کا کینوس بہت وسیع ہو چکا ہے۔ آپ جیسی ادبی ہستیوں سے تعلق رہا تو سیکھتا رہوں گا
نیازمند
محمدخاور
محترم منظور قاضی صاحب!
غزل پر تبصرہ کے لیئے ممنون ہوں۔ آپ جیسے قاری ہی تخلیق کار کو سیدھے راستے پر رکھ سکتے ہیں وگرنہ تو ادب بے لگام ہو جائے۔
قافیہ حیراں ہی ہے۔آپ صحٰیح کہتے ہیں شاعری کی دنیا میںہی عین ممکین ہے :))))
دعائوںکا طالب
محمد خاور
فرقت ہے جان لیوا تو قربت ہے جاں تراش
ہجر و وصال ہوتے ہیں یکساں کبھی کبھی
بہت خوب
اسی بر قابل اجمیری کا ایک شعر
اس حسنِ اتفاق کی تصویر کھینچ لو
ہوتے ہیں ایک ساحل و طوفاں کبھی کبھی
محمد خاور صاحب سے شکریہ کہ ساتھ یہ عرض ہے کہ مجھ جیسے قاری میں اتنی قابلیت نہیں کہ کسی تخلیق کار کو سیدھے راستے پر لگا کر ادب کو بے لگام نہ ہونے دوں۔
یہ تو تنقید نگاروں کا کام ہے میرا کام نہیں۔
میں تو مان گیا تھا کہ شاعروں کی دنیا میں یہ سب ممکن ہے ( یعنی مشکل کو ہنس کر گلے لگا کر مشکل کو حیران کردینا ممکن ہے ) اس لیے میں نے یہ لکھدیا تھا کہ اگر ایسا ہے تو پھر جواب دینے کی ضرورت نہیں۔۔
محمد خاور صاحب کے لیے یہ دعا ہے کہ:
اللہ کرے زور سخن اور زیادہ
فقط :
ایک قاری :
منظور قاضی از جرمنی
قابل اجمیری
غم چھیڑتا ہے سازِ رگِ جاں کبھی کبھی
ہوتی ہے کائنات غزلخواں کبھی کبھی
اس حسنِ اتفاق کی تصویر کھینچ لو
ہوتے ہیں ایک ساحل و طوفاں کبھی کبھی
ہوتے ہیں شہرِگل میں حوادث تو روز روز
رکتا ہے کاروانِ بہاراں کبھی کبھی
کیسا شراب خانہ کہاں کا صنم کدہ
کعبہ میں لُٹ گیا ہے مسلماں کبھی کبھی
ہم بیکسوں کی بزم میں آئیگا اور کون
آ بیٹھتی ہے گردشِ دوراں کبھی
کچھ اور بڑھ گئ ہے اندھیروں کی زندگی
یوں بھی ہوا ہے جشنِ چراغاں کبھی کبھی
احباب کی بلندئ اخلاق دیکھ کر
دشمن بھی ہوگیا ہے پشیماں کبھی کبھی
اے دولتِ سکوں کے طلبگار دیکھنا
شبنم سے جل گیا ہے گلستاں کبھی کبھی
قابل مری نگاہ کے چرچے ہیں دور دور
آتا ہی بتکدے میں مسلماں کبھی کبھی
خاور صاحب کی غزل بھی اسی زمین میں ہے۔ لیکن دونوں غزلوں میں کوئ مماثلت نہیں۔ خاور صاحب کےالفاظ ہیں اپنے خیالات ہیں اپنا رنگ ہے اور اپنا اندازِ بیان۔ واہ خاور صاحب دل خوش ہوگیا۔
ظفر بھائی آمد کا اور اتنی خوبصورت غزل عطا کرنے کا شکریہ۔استاد شعرا کے کلام کو یاد رکھنا اور اسے نئے لوگوں تک سند کے ساتھ پہنچانا میرے نزدیک صدقہ جاریہ ہے۔
جعفری بھائی واللہ غزل کا لطف آ گیا ۔۔ اور آپ کے آنے سے بزم میں رونق ۔۔
ASLAMO ALEKOM Khawar ji ke Ghazal bohat kobsorat hee Mashallha ese ke tfeel Qabal Almere ke gazal bhee parehe Kear ji ka klam bhee acha hee aur ap sab ke tbsre to bohat he ache hein Sukreya Tahir Malik Germany
میں تو جناب محمد خاور صاحب کی غزل کا لطف لے رہاتھا کہ اس بلاگ کے موضوع کو بڑی خوبصورتی سے میرے پسندیدہ جواں مرگ شاعر قابل اجمیری کی طرف موڑ دیا گیا ۔ ( اور یہ بھی اچھا ہی ہوا کہ قابل اجمیری کی وہ غزل جس کی زمین میں خاور صاحب نے طبع آزمای کی اس کے پڑھنے کا موقعہ مل گیا ۔ اس کے لیے ظفر جعفری صاحب بجا طور پر تعریف کے مستحق ہیں )
۔ میرے خیال میں اگر اس بلاگ کو محمد خاور صاحب کی شاعری ہی تک محدود رکھا جاے اور قابل اجمیری پر ایک نیا بلاگ کوی لکھ سکے تو وہ بلاگ بھی بے حد معلوماتی ثابت ہوگا۔ ( اگر کوی اور دانشور اس میں پیش قدمی نہ کرے تو میں ہی قابل اجمیری پر اپنی محدود معلومات کے سہارے ایک نیا بلاگ لکھنے کی کوشش کرونگا )
ویسے قابل اجمیری مرحوم کی بات نکلی ہے تو اس کی یہ غزل بھی ( اور غزلوں کی طرح ) پڑھنےکے “قابل ” ہے :
تضادِ جذبا ت میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کروگے
میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کروگے
مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کررہے ہو
مگر کچھ اپنے لئے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کروگے
کچھ اپنے دل پہ بھی زخم کھا و مرے لہو کی بہار کب تک
مجھے سہارا بنانے والو میں لڑکھڑا یا تو کیا کروگے
ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں کی لیکن
تمھاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کروگے
ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو بگڑ کے قابل سے جارہے ہو
مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کروگے
۔۔
بہر حال :
محمد خاور صاحب کے مزید کلام کا اس بلاگ میں انتظار رہے گا۔
فقط:
ایک قاری : منظور قاضی از جرمنی
منظور بھائی بہت خوب۔ مقبول اور معروف غزل۔لیکن ایسی کہ جتنہ بار سنیں ایک نیا لطف۔ ہم سب کو اپنا اپنا حصہ ڈالتے رہنا چاہیئے۔ ہر ایک فرد کو خالق کائنات نے دوسرے سے الگ ایک خوبی دی ہوتی ہے جو صرف اس کے لیئے ہوتی ہے اور ہماری کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ ان تمام خوبیوں کو ایک جگہ جمع کریں اور ان سے مستفید ہوں۔ خاور کی غزل کے طفیل دو اچھی غزلیں سننے کو مل گئیں تو یہ ہم سب کی کامیابی ہے۔
منظورقاضی صاحب،صفدر ہمدانی صاحب، ظفرجعفری صاحب، طاہر ملک صاحب!
آپ بڑے لوگ ہیں اور آپ کے درمیان میں خود کو خوش قسمت محسو س کر رہا ہوں۔ یہ انکساری نہیں بالکل سچ ہے کہ میں فقط طالبِ علم ہوں۔ اور اس میں بھی میری عمر کوئی دو سال سے زیادہ کیا ہوگی۔
اور قابل اجمیری صاحب کی غزلوں سے تو جیسے بلاگ کو چار چاند لگ گیے ہوں۔
اللہ آپ تمام لوگوں کی عمر دراز، رزق کشادہ اور صحت شاندار کرے۔
محمد خاور
خاور صاحب بہت اچھی غزل داد وصول کیجیے ۔
صفدر ھمدانی بھائی صاحب : خاور صاحب کی غزل بھی اچھی ہے اور قابل اجمیری تو اپنا بلند مقام اردو شاعری میں بنا کر اکتیس سال کی عمر میںدق کا شکار ہوکر دنیاے فانی سے رخصت ہوگئے۔ یہ دو اشعار بھی اسی غزل کے ہیں جنھیںمیں اوپر لکھ نہ سکا:
تمھارے جلووں کی روشنی میں نظر کی حیرانیا ں مسلم
مگر کسی نے نظر کے بدلے دل آزمایا تو کیا کروگے
اُتر تو سکتے ہو پار لیکن مآل پہ بھی نگاہ کرلو
خدا نہ کردہ سکونِ ساحل نہ راس آیا تو کیا کروگے
۔۔۔۔۔
باقی کی باتیں قابل اجمیری پر کسی نے بلاگ شروع کیا تو اس میں ہونگی۔ قابل اجمیری کے لیے یہ مختصر قسم کے تبصرے کافی نہیں ہیں۔
چونکہ یہ بلاگ نگہت نسیم صاحبہ نے محمد خاور صاحب کی غزل کےلیے شروع کیا ہے اس لیے خاور صاحب اپنا مزید کلام اس بلاگ میں عطا کرسکتے ہیں۔
آپ کے نہایت ہی مثبت تبصرہ کا شکریہ ۔
قابل اجمیری

تم نہ مانو، مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے
حسن ہی حسن، جلوے ہی جلوے
صرف احساس کی ضرورت ہے
اس کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا
اب دروبام سے ندامت ہے
اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیالِ سود نہ اندیشہ زیاں ہے ابھی
چلے چلو کہ مذاقِ سفر جواں ہے ابھی
رکا رکا سا تبسم، جھکی جھکی سی نظر
تمہیں سلیقہ بے گانگی کہاں ہے ابھی
سکونِ دل کی تمنا سے فائدہ قابل
نفس نفس غمِ جاناں کی داستاں ہے ابھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قابل اجمیری کی زندگی
ابتدائی حالات :
دن پریشاں ہے رات بھاری ہے
زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے
قابل اجمیری کا اصل نام عبدالرحیم تھا- وہ 27 اگست 1931ء کو قصبہ چرلی میں پیدا ہوۓ- یہ قصبہ ہندوستان کے صوبہ راجستھان کے ضلع اجمیر میں واقع ہے- قصبہ چرلی اجمیر سے چوبیس میل کے فاصلے پر ہے- قابل کا اجمیر کے مشہور “دیس والیوں کے خاندان” سے تعلق تھا- یہ خاندان پہلے راجپوت تھا جو شہاب الدین غوری کے حملے کے بعد مسلمان ہوا- اس خاندان میں بہت سے ذی حیثیت، اعلی تعلیم یافتہ اور نامور افراد ہوۓ- قابل کے دادا کا نام چاند محمد، والد کا عبدالکریم اور والدہ کا نام گلاب تھا- قابل کے والد تقسیم ہند سے قبل اجمیر میں تعمیرات کی ٹھیکیداری کرتے تھے- موصوف بہت فرض شناس تھے- وہ خود تیز اور جھلستی ہوئی دھوپ میں گھنٹوں کھڑے رہ کر تعمیری کام کی نگرانی کیا کرتے تھے چنانچہ اس مسلسل اور صبر آزما مشقت کے سبب جسم پر انتہائی مضر اثرات پڑے یہاں تک کہ وہ دق کے مرض میں مبتلا ہو گۓ- ان پر دق کا پہلا حملہ 1932ء میں ہوا- اس وقت قابل کی عمر صرف ایک برس تھی- یہ مرض اس تیزی سے بڑھا کہ 1938ء میں انکا اجمیر کے لونگیا ہسپتال میں انتقال ہو گیا اس صدمے سے قابل کی والدہ اس قدر نڈھال ہوئیں کہ وہ بھی چند دنوں کے بعد اس دار فانی سے رخصت ہو گئیں- ان سانحوں کے بعد قابل اپنے کم سن بھائی کے ہمراہ دنیا میں تنہا رہ گۓ- انکے چھوٹے بھائی کا نام شریف اور ہمشیر کا نام فاطمہ تھا ۔
خاور صاحب کو اگر شاعری کرتے ہوئے صرف دو سال ہوئے ہیں تو انکا مستقبل مجھے روزِ روشن کی طرح عیاں نظر آرہا ہے۔ جس پائے کی انہوں نے غزل کہی ہے ایسی غزل کہنا میرے بس کی بات نہیں۔ جب کم سنی میں لتا منگیشتر نے نورجہاں کو نورجہاں کا گانا سنایا تو اُس ہی وقت نور جہاں نے کہدیا کہ یہ بہت بڑی گلو کارہ بنے گی اور بین الاقوامی شہرت حاصل کرے گی۔ اُس زما نے میں بین الاقوامی شہرت حاصل کرنا ایسا ہی تھا جیسے آج تیسری دنیا کے کسی آدمی کے لئے چاند پر جانا ہو۔ خاور صاحب کو اگر ایک اچھا استاد ملجا ئے تو یہ وہ مقام حاصل کرسکتے جو آج قابل ۔ مجاز یا فیض کا ہے۔
قابل ، مجاز اور فیض کے استادوں کے نام معلوم ہوجایں تو ہم سب کی معلومات میں اضافہ ہوجاے گا۔
شاعری کا عطیہ خداداد ہوتا ہے ۔ ویسے مستند اسا تذہ سے اصلاح لینے سے شاعری میں جلا ضرور پید ا ہوجاتی ہے۔ مگر مستند اساتذہ اس دنیا میں شاید بہت ہی کم ہیں۔ اور جو ہیں بھی انکے پاس نہ اتنا وقت ہے اور نہ توانائی کی وہ کسی کو عروض کی تعلیم دے سکیں اور اپنے شاگردوں کے الٹے سیدھے اشعار کی تصحیح کرتےپھریں۔
ہم سب کو یہ بھی معلوم نہیں کہ محمد خاور صاحب کہا ں رہتے ہیں اور انکے قریبی ماحول میں کو ن کون سے دانشور اور سخنور رہتے ہیں۔ اگرمحمد خاور صا حب ہی اپنے بارے میں کچھ اور لکھیں تو ہمارے علم میں اضافہ ہوگا۔ ما شااللہ وہ تو یونی کوڈ اردو فانٹ میں اچھا خاصہ لکھ بھی سکتے ہیں اس لیے اس بلاگ میںوہ اپنی شاعری اور اپنے زندگی کے بارے میں بہت کچھ لکھ سکتے ہیں۔ اور اپنی غزلوں کا شایع کر سکتے ہیں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محمد خاور صاحب فطرتاً شا عر بھی ہیں اور خود اپنے اشعار کے نقاد بھی ۔ اس لیے وہ اپنے شعر کافی اعتماد سے کہتے ہیں۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔ ابتدا اتنی اچھی ہے تو انتہا بھی اچھی ہی ہوگی ۔
اب رہا قابل اجمیری کی شاعری کا معاملہ تو اس پر صفدر ھمدانی صاحب نے اپنے تبصرے میں بہت کچھ مواد پیش کردیا ہے جو مجھے اس عظیم شاعر پر ایک الگ بلاگ شروع کرنے میں بے حد مفید ثابت ہوگا ۔ میرے پاس قابل کی کوی کتاب نہیں اور نہ اس کی شاعری پر لکھی ہوی کسی کی تحقیقی کتاب ہے۔ پھر بھی میں گوگل کے سہارے ایک بلاگ کی ابتدا کرنے کی کوشش کرونگا ۔ قابل کو اور اسکی شاعری کو پسند کرنے والے دانشور قابل کے بلاگ میں حصہ لے کر اس کی افادیت بڑھا سکتےہیں۔
اب یہ بلاگ صرف محمد خاور صاحب کی شاعری اور انکی شاعری کے محرکات کے بارے میں ہی چلتا رہے تو ہم اس ابھرتےہوے شاعر کی شاعری سے مستفید ہوتے رہینگے ۔
ویسے سب کی مرضی
محمد خاور کی غزل کی زمین میں قابل کا ایک اور شعر پڑھنےمیں آیا:
ہم نے دیے ہیں عشق کو تیور نئے نئے
ان سے بھی ہوگئے ہیں گریزاں کبھی کبھی
استاد دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں اور ایک اچھا اُستاد ہونے کیلئے ضروری نہیں کہ وہ پائے کا شاعر ہو۔ میر غالب مومن ذوق جوش فانی وغیرہ کے اُستادوں کے نام بیشتر لوگ نہیں جانتے۔ استاد اور شاگرد اردو شاعری کا خا صا ہے۔ یہ چیز دوسری زبانوں میں نظر نہیں آتی۔ شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ ہماری موسیقی میں یہ روایت عرصہء دراز سے موجود ہے۔
امید کہ محمد خاور صاحب اپنے کچھ اور اشعار اس بلاگ میں عطا کرینگے ۔ اور ہو سکے تو اپنی شاعری اور شاعری کے محرکات کے متعلق لکھینگے۔
http://bazm.urduanjuman.com/index.php?action=dlattach;topic=127.0;attach=301;image
آپ تمام لوگ بہھت محبت کرنے والے ہیں۔ نگہت بہن کے کہنے پر میں نے یہ اخبار جوائن تو کر لیا لیکن یہ پتا نہ تھا کہ دھر لیا جائوں گا۔ ایک دوسرے فورم کے لئے ایک تعارف لکھا تھا۔ اگر JPG لگانے کا طریقہ پتا چل جائے تو وہی چسپاں کر دوں۔
نیازمند
خاور
خاور صاحب کی غزل یقینا بہت اچھی ہے
خاور صاحب داد سے زیادہ تعمیری ننقید کے متمنی رہتے ہیں
جس کی استعداد کم از کم میں اپنے اندر نہیں پاتی
یہ غزل خاور صاحب نے اردو انجمن کے طرحی مشاعرے کے لئے کہی تھی
طرح کا مصرع
عبدالحمید عدم صاحب کے اس شعر سے لیا گیا تھا
تخلیقِ کا ئنات کے دلچسپ جرم پر
ہنستا تو ہوگا آپ بھی یزداں کبھی کبھی
میرے پاس عدم صاحب کی دو کتابیں موجود ہیں رمِ آہو اور دستورِ وفا
ان دونوں کتابوں میں مکمل غزل نہیں ملی
ورنہ یہاں پیش کرتی
اس سلسلے میں ہمدانی صاحب نے جو قابل اجمیری صاحب کا تعارف پیش کیا ہے
میرا خیال ہے اُسے ایک بلاگ میں شخصایت کے زمرے میں بھی ضروری ٹیگز کے ساتھ لگا دیا جائے
والسلام
زرقا
اس
ASLAMO ALEKOM KHAWAR SIDIQQI ji bohat achee GHAZAL lekhee aur per ap ka taraf prha to aur bhee kuchee hoeye kabhee hum bhee LAHOREI howa karte te ap to seraf hejee he yad hein LAHORE ke 25 saal ho geye hein LAHORE chore ALLHA kare ZORE QALAM aur zeyadha SUKREYA ji TAHIR MALIK GERMANY
خاور صدیقی صاحب کا تعارف انکی اوپر کی دی ہوی ویب سایٹ میں پڑھنے کا موقعہ ملا ۔ شکریہ ۔
یقینی طور پر ہر ایک پڑھنے والے کو یہ جستجو لگی رہتی ہے کہ اتنے اچھے اشعا ر کے خالق کا پس منظر کیا ہے اور اسکی شاعری کے کیامحرکات ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
اب محمد خاور صدیقی صاحب اطمینا ن کے ساتھ اپنے اشعار اس بلاگ میں لکھتے رہیں تو سب پڑھنےوالے لطف اندو ز ہوتے رہینگے ۔
۔۔۔۔۔۔
جہاں تک قابل اجمیری کے تعارف کا تعلق ہے اس کو اس بلاگ میں شروع تو صفدر ھمدانی صاحب نے نہایت عمدگی سے کیا ہے مگر میں قابل اجمیری پر ایک الگ بلاگ لکھکر تمام پڑھنے والوں سے عرض کیا ہوں کہ وہ اپنےاپنے تبصروں سے اس بلاگ کی افادیت کو بڑھایں۔
۔۔۔۔۔
آپ لوگ بہھت محبت کرتے ہیں اور رہنمائی بھی۔ سوچا کچھ اور اشعار پر آپ سے رہنمائی لے لوں۔
سر ِ راہ ِ شوق کسی نے کل ذرا آئینہ جو دکھا دیا
مجھے “میں” سے “تو” کا حسیں سفر فقط ایک پل میںکرا دیا
مرے کاسئہ ۔ دل ۔ شوق میں ترے التفات کہ یہ کھنک
تری اک نگاہ نے مہرباں مرے دل کا غنچہ کھلا دیا
میری شاعری کی بساط کیا ہے کسی نظر کا کمال کہ
مرے حرف حرف کو چوم کر اسے یادگار بنا دیا
میں نے لمحہ لمحہ فراق کا ہے گذارہ تیرے خیال میں
میں شوق وصل کو ہجر پر یونہی رفتہ رفتہ لٹا دیا
مرے مہرباں ذرا سوچ تو، مرے چارہ گر ذرا دیکھ تو
مرے دل میں پھر یہ پرانا درد ہے آج کس نے جگا دیا
مرحبا ، بے حد اچھے تاثرات کو محمد خاور صدیقی صاحب نے اپنی اس تازہ غزل میں پیش کیا ہے۔ پڑھکر لطف آگیا۔ اللہ انکی تخلیقی قابلیت کو اور بھی زیادہ کرے ۔ آمین
میں ایک رہنما کی حیثیت سے نہیں بلکہ صرف ایک قاری کی حیثیت سے یہ عرض کرتا ہوں کہ اگر خاور صاحب اپنے ای میل کا پتہ بھی اس بلاگ میں لکھدیں تو شاید انکا کوی بہی خواہ ذاتی ای میل کے ذریعہ ان سے براہ راست بات کرسکے ۔ ( ویسے انکی مرضی )
منظور قاضی صاحب!
آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ میرا ای میل muhammad_19k@hotmail.com ھے۔
اور اگر کوئی دوست میری شاعری میں بہتری کے لئے کو ئی رائے دینا چاہتا ہے تو خدا را بلا جچھک دے۔ ا ور زیادہ بہتر ہے کے یہیںپر دے دے۔ تا کہ کچھ دوسرے دوستوںکا بھی بھلا ہو سکے۔
شکر گذار
محمد خاور
ؔ92-321-4435273
Email: muhammad_19k@hotmail.com
محمد خاور صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے اپنے ذاتی ای میل کےپتہ اور ٹیلیفون نمبر سے سب کو آگاہ کردیا۔
امید کہ اس بلاگ کے پڑھنےوالے دانشور اور سخنور محمد خاور صاحب سے براہ راست رابطہ قایم کر ینگے ۔
ویسے خاور صاحب کی خواہش کا احترام کرتے ہوے اگر کوی دانشور اور سخنور اسی بلاگ میں انکو کچھ مشورہ دے تو اسکی اور خاور صاحب کی مرضی۔ ممکن ہے انکی اس فراخدلی کے نتیجہ میں انکے دوسرےدوستوں کا بھی بھلا ہوجائے۔
محمد خاور صاحب کو ابھی ابھی میں نے اپنی ذاتی ای میل کے ذریعہ ان کی غزل سے متعلق کچھ لکھا ہوں۔ اگر وہ یہ صرف یہ لکھدیں کہ میرا اردو فانٹ کا ای میل انکو ملا یا نہین تو اطمینا ں ہوجے گا۔ اگر نہیں ملا تو پھر سے وہی ای میل بھیج سکتا ہوں۔
مییری ترجیح یہی ہے کہ کسی کے کلام کے بارے میں کوی تبصرہ کرنا ہو تو اسے ذاتی ای میل ہی کے ذریعہ کیا جاے ۔
منظور قاضی صاحب۔
سچ بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ بہت کچھ ہونے کے باوجود عا جزی و انکساری میں خود کو طفل مکتب کہہ دیتے ہیں۔ میری نظر میں یہ بہت بڑے لوگ ہیں۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں واقعتاَ طفل مکتب ہوں۔ اور آپ دوستوں سے بہت کچھ سیکھنا چاہتا ہوں۔
میں اس سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ علمی گفتگو فورمز میں ھی ہونی چاہیئے اور ہم سب میں دوسرے کا نقطہ نظر سننے اور اس کا احترام (اتفاق ضروری نہیں) کرنے کا حوصلہ ہونا چا ہیے۔ اور میں آپ سے یہ درخواست دوبارہ کروں گا کہ آپ بلا جھجک لکھا کریں۔
شکریہ
محمد خاور۔
محمد خاور صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے اپنی ای میل سے میرے ای میل کی وصولی کی اطلاع دی ۔
علی یاد ہے نا میرا فون؟ میں نے آپ کی عمر پوچھی اور جواب آنے پر میںنے کہا یار آپ مجھ سے چھوٹے ہو اس لیئے میں اب سے آپ کو تم کہا کروں گا۔ اور یاد ہے اپنا جواب؟ لیکن اوپر والی لائن لکھتے وقت آپ اپنا جواب بھول گئے۔ میں تو علم کی بات سیدھی کرتا ہوں چاہے کسی کو اچھی لگے یا بری۔ ذات کی عزت کرتا ہوں۔ لیکن آپ نے تو علمی بات میں ذات کو ہی رگڑا لگا دیا۔ اور پھر میرے سادہ سے ٹاپک میں جس میں نے آپ کو مینشن بھی نہیں کیا اتنی دھواں دھار پوسٹس۔ آپ کی مرضی جناب۔
میری طرف سے کیس ڈسمس، کچہری بند
محمد خاور صاحب کی فراخد لی قابل تعریف ہے کہ وہ اپنے کلام کو ” چو پال ” یعنی فورمز میں بحث کے لیے پیش کررہے ہیں۔
میں تو ان کو اپنا مشورہ اپنے ای میل کے ذریعہ د ے دیا ۔ اس سے زیادہ میں اور کچھ نہیں کر سکتا چاہے وہ مجھے اس چوپال میں ” بلا جھجک ” کہنے کی کتنی ہی دعوتیں دیتے رہیں ۔
تخلیق کا خالق اپنی تخلیق کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے ۔ کوی باپ ا پنے بیٹے کے خد و خال کے عیو ب برداشت نہیں کرسکتا چاہے وہ کتنا ہی فراخدل ہو۔ اس لیے اس معاملہ میں کسی کو کسی کے کلام پرتنقید (جو نکتہ چینی میں بدل جاتی ہے،کرنا میر ے خیال میں مناسب نہیں ۔ میں تو نکتہ چینوں کے لیے یہ قظعہ لکھ چکا ہوں:
نکتہ چینوں کی بات مت پوچھو
کوئی میٹھے تو کوئی کھٹے ہیں
وہ بظاہر تو مختلف ہیں مگر
ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں
۔۔۔۔۔۔
اب دوسرے دانشوروں اور سخنوروں کا کام ہے کہ وہ محمد خاور صاحب کی غزل پر تبصرہ کرتے ہوے ان کو کچھ مشورے دیں۔ ویسے میرے خیال میں وہ ان مشوروں کے بغیر بھی ایک ابھرتے ہوے شاعر کی طرح اردو ادب میں اپنا مقام پیدا کرسکتے ہیں۔ پھر بھی انکی اور سب کی مرضی ۔
۔۔۔۔۔
اگر خاور صاحب مجھ سے کوی مشورہ لینا چاہتے ہی ہیں تو وہ مجھے میرے ای میل کے پتہ پر (جن کا انکو علم ہے ) خظ وکتابت کرسکتے ہیں۔