میں اک عورت
میں کرچی کرچی
میں ریزہ ریزہ
میں مٹی میں دھول
میں خاک ببول
کیوں مانگتی رہتی ہوں
تم سے اپنا حق
کیوں ٹوٹتی ریتی ہوں
میں یوں ہی پل پل
کیوں بولتی رہتی ہوں
میں یوں ہی ناحق
کوئی مجھے سمجھائے
کوئی مجھے بتلائے
میں اک عورت
کیا میرا حق؟؟
کیا میرا مول؟؟
زرقا مفتی

کیوں مانگتی رہتی ھوں۔۔۔۔تم سے اپنا حق۔۔۔۔زرقا مفتی جی ۔خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر لکھی ھوئ یہ نظم بہت پسند آی۔اسی طرح لکھتی رہیں ۔
اے عورت :
تو ماں کے روپ میں۔
بہن کے روپ میں۔
بیوی کے روپ میں۔
رفیق کے روپ میں۔
قوس قزح کے روپ میں۔
ساری کائنات پر چھای ہوی ہے ۔
تو نہ ہوتی تو ساری کائنات نہ ہوتی ۔
تو بقول جگر ” کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غننچہ و گل و خار پر ۔ تو چمن میں چاہے جہاں رہے تیرا ” حق ” ہے فصل بہار پر ”
تو انمول ہے ۔
تیرا کوی مول نہیں۔
واہ ۔۔واہ ۔۔زرقا اتنی خوبصور ت نظم ۔۔ سچ بہت اچھی لگی ۔۔
مجھے بھی اپنی لکھی ھوئی ایک پرانی نظم یاد آئی
“میری ھمزاد”
جانم
دیکھو تو یہ کتنی خوش رنگ ، خوش جمال رنگدار سی ھے
مسکراتی ھے کبھی ، اٍٹھلاتی ھے کبھی ، پر بڑی دلدار سی ھے
تم نے اپنی بند مٹھی کو یوں کھولا جیسے بند گلاب کٍھلتا ھے
جانم
دیکھو تو کتنی آزادی سے اٰڑتی ، پھولوں سے باتیں بھی کرتی جاتی ھے
اپنے ھر سفر پہ نازاں ، مغرورو مسحور کتنے فخر سے ھنستی گاتی ھے
تھمارے ھاتھوں میں قید تتلی نے مجھے حیرت سے دیکھا
پھر مسکرا کر کہا
سہیلی میں بھی تھماری ھمزاد تم جیسی ھی ھوں
رنگدار خوش جمال پر اک کم نظر کی قید میں ھوں
تھماری ھی طرح
بے نور شہر میں ایک دیدہ ور کی تلاش میں ھوں
ابھی ابھی سائرہ بتول کی نظم موصول ھوئی ھے ۔۔لکھتی ھیں
آداب
خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ایک نظم لکھی تھی ۔۔ حاظر ھے ۔۔
سائرہ بتول
عورت
وہ جو خالق بھی ہے ،مالک بھی ہے، معبود بھی ہے
وہ جو رازق بھی ہے، ہادی بھی ہے،مسجود بھی ہے
اپنے بندوں کو وہ جنّت کی خبر دیتا ہے
شامِ ظلمات کی قسمت میں سحر دیتا ہے
اُس نے ہر گھر میں بھی جنّت کا وسیلہ بھیجا
اپنے بندوں کے لیےء خلد کا نقشہ بھیجا
جس کی آغوش میں نبیّوں نے بھی کھولیں آنکھیں
دیکھ کے جس کو ستاروں نے جھکا لیں آنکھیں
وہ جو ماں ہے تو دعاؤں کی ردا ہو جیسے
وہ جو بیوی ہے تو ساون کی گھٹا ہو جیسے
وہ بہن ہے تو محبّت کی صدا ہو جیسے
وہ جو بیٹی ہے تو جینے کی دعا ہو جیسے
نسلِ آدم کی امیں بھی تو یہی عورت ہے
روزِ فردا کا یقیں بھی تو یہی عورت ہے
اس نے قوموں کو زمانے میں بقاء بخشی ہے
اس نے ہر دور کی ظلمت کو ضیاءبخشی ہے
اس کو اسلام نے عصمت کی ردا بخشی ہے
میرے معبود نے خود اس کو حیا بخشی ہے
اس کی توقیر زمانے کو بھی کرنی ہو گی
اس کو خود اپنی یہ تقدیر بدلنی ہو گی
زیورِ شرم و حیا سے ہی سنورنا ہو گا
اس کو خود وادئ ظلمت سے نکلنا ہو گا
لیجیے مجھ سا بے خبر بھی کوئی ہوگا۔ آج اردو محفل پر کچھ تلاش کرتے ہوئے اپنے اخبار کے بلاگ کا لنک دیکھا۔
ما شا اللہ خوب ہے۔ تنیوں نظموںمیں احساس کی شدت نمایاں ہے۔ زرقا بہن کی نظم متاثر کن ہے
رانی جی ، قاضی صاحب، نگہت جی ، خاور بھائی
نظم کی پذزیرائی کے لئے آپ سب کی ممنون ہوں
نگہت جی آپ کی اور سائرہ بتول صاحبہ کی نظمیں بھی بہت پسند آئیں
والسلام
زرقا
حضرت اقبال بھی اسی رنگ و نور سے متاثر ہو کر لکھتے ہیں کہ
وجود زن سے ہے تصویر. کائینات میں رنگ
صرف علامہ ہی کیوں ہر محسوس کرنے والا خداوند. عظیم کی اس بہترین مخلوق کی حمد و ثنا کرتا ہے، اور پھر حمد کیئے بغیر چارہ بھی تو نہں ہے۔ آخر گھر بھی تو جانا ہوتا ہے۔
اور غالب کو بھی آدم(ع) کے خلد سے نکلنے کا شاید اتنا افسوس نہیں تھا جتنا محبوب کے کوچے سے نکلنے کا تھا۔
پھر جنت کو رکھ بھی ماں کے قدموں تلے ہی رکھ دیا گیا، اس میں بھی خدا کی کیا مصلحت رہی ہوگی، گویا دنیا ہو یا آخرت خاتون کا احترام بہرحال لازم و ملزوم ہے۔ اور معاشرہ سازی میں انکا کردار بھی سب سے اہم ہے،
میں تو کہتا ہوں کہ 365 دنوں میں صرف ایک دن انکے لیئے کم ہے، کوئی بھی دن ایسا نہی ہے کہ جس میں انکا وجود نمایاں نہیں ہوتا۔
گویا دنیا ہو یا آخرت خاتون کا احترام بہرحال لازم و ملزوم ہے۔ اور معاشرہ سازی میں انکا کردار بھی سب سے اہم ہے،
میں تو کہتا ہوں کہ 365 دنوں میں صرف ایک دن انکے لیئے کم ہے، کوئی بھی دن ایسا نہی ہے کہ جس میں انکا وجود نمایاں نہیں ہوتا۔
عمران صاحب آپ کے درج کردہ کلمات کے لئے ہم سب خواتین ممنون ہیں
والسلام
زرقا
عمران بھائی، بقول آپکے، جب ہر روز ہی عورتوں کا وجود نمایاں ہے تو ایک دن مخصوص کرنے کی کیا تک بنتی ہے؟
اب آپ بتائیں کہ وہ کون سا دن ہے جس دن عورت اپنے آپ کو نمایاں نہیں کرتی، خواہ وجود سے یا زبان سے- بلکہ 24 گھنٹے ہی ماشاا اللا نمایاں رہتی ہے- اگر دن منانا ہے تو بیچارے مردوں کا منانا چاہئے جن کا کوئی بھی دن نہیں ہے- مردوں کا بس ایک ہی دن ہوتا ہے جسے دفن دن کہا جاتا ہے کیوں کہ مرتا تو وہ بیچارہ روز ہی ہے- بقول انشا جی 20 سال کی عمر میں فوت ہوئے اور 60 سال کی عمر میں دفن ہوئے- سب مردوں کے دل سے نکلنے آواز ہے کہ کدی تے پیکے جا بیگم ——–سینے وچ ٹھنڈ پا بیگم
محترمہ زرقا مفتی کا تجزئی کالم پڑھا بہت اچھا تھا- میں مانتا ہوں کہ شہباز میں بہت ساری خامیاں ہیں مگر ہم نے کبھی زبیدہ جلال پہ تنقید کی ہے؟ اب اس سے بڑی شرافت کی سند کیا ہو سکتی ہے کہ میان شہباز کے نام کے ساتھ ہی شریف لگا ہوا ہے- اس کا مطبل کہ میان صاحب ڈاکومینٹری شریف ہیں-
مردوں کے ایک دن کی بدولت اللہ پاک نے عورت کو اس کے ایک دن کے صبر اور تحمل پر سارے دن عطا کر دیئے ۔۔ اب اس میں عورت کا کیا قصور ؟ ۔۔ یہ صبر اور تحمل اگر مردوں میں بھی ھوتا تو ۔۔۔۔اللہ دی اللہ ھی جانے سایئں جی ۔۔
نگہت بی بی جی مرد تو بیچارے مردہ بن کے وقت گذارتے ہیں- اللہ کی تو اللہ ہی جانے مگر قبر کا حال بھی مردہ ہی جانتا ہے- توبہ یا اللہ کیسے ہاتھ دھو کے مردوں کے پیچھے پڑ گئی ہیں
خواتین کا عالمی دن ھے ۔۔سایئں جی ۔۔
نہ نہ یہ خواتین کا عالمی دن ہے ہا مردوں کو ستانے کا عالمی محاذ ہے ؟ خدا بخشے نور جہاں نے بھی ہمارے لئے ہی گایا تھا- جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سو جا
سائیں جی ۔ حق اللہ
شکر کریں اُس رب کا جس نے انہیں بنایا ہے ۔ شکر اس بات کا کہ ہاتھ دھو کر پیچھے پڑی ہیں اور اگر ادرک لہسن والوں ہاتھوں کے ساتھ پیچھے پڑ جاتیں تو کیا ہوتا۔
حق اللہ
آغا جی آپ مردوں کا دفاع کر رہے ہیں یا خواتین کو سبق دے رہے ہیں؟ آپ کا اشارہ پاکر خواتین نے گرم مصالحہ بھی ہاتھوں کو لگا لینا ہے- پھر زبان پہ حق ا اللہ نہیں ہوگا بلکہ ہائے ا اللہ ہوگا
یا اللہ ۔۔ آپ دونوں ایک بات بھول رھے ھیں کہ یہ خواتین کا عالمی اخبار ھے ۔۔اگر یقین نہ ھو تو ادارتی بورڈ دیکھ لیجیئے ۔۔
مرردوں کو تو ویسے بھی ”دفع” ہی کیا جاتا ہے رعہی بات گرمصالحے کی تو یہ انکی عنایت ہے ورنہ وہ تو ہاتھوں کو پوٹاشیم بھی لگا سکتی ہیں۔
توبہ بابا آپ بھی آغا سایئں جی کی باتوں میں آگئے ھیں ۔۔اللہ کی قسم وہ تو کھوتا کہانی کے ماھر ھیں ۔۔ آپ بھی بس ۔۔
آغا جی مجھے آپ کے اردے نیک نہیں لگتے آج- آپ ہم سب کہ مروانے کے موڈ میں ہیں- یاد رکھیں کہ ہمارے ساتھ یہاں پہ ایک لیڈی ڈاکٹر بھی ہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں کلوروفارم سنگھا کے ہاتھوں کو ھایئڈرو کلورک ایسڈ لگا لے- ا للہ بچائے برے وقت سے-
نگہت جی کہاں لکھا ہے عورتوں کا عالمی اخبار؟ میں نے ابھی ابھی ادارتی بورڈ پڑھا ہے ایسی کوئی تحریر نظر نہیں آئی- یا یہ سب کچھ ابھی ابھی ہو گیا ہے؟
سایئن جی میرا مطبل یہ تھا کہ ھمارے بورڈ میں جتنی خواتین ھیں اتنی کہیں کسی بھی اخبار میں نہیں ھیں ۔۔ اس لیئے عالمی اخبار جناب خواتیں کی نمایئندگی سب زیادہ کرتا ھے ۔۔ جیسے خواتین کے عالمی دن پر “مین نیوز ” صرف عالمی اخبار کی تھی اور بلاگ بھی صرف ھماری سائٹ پر ھی تھا ۔۔ ورنہ باقی سارے اخبار سو رھے تھے اور بلاگرز بھی ۔۔
مجھے جس کا ڈر تھا وہی ہوا- میں چاہتا تھا کہ خواتین کا عالمی دن ایسا ہی رہے مگر یہ دن بھی کھوتا کہانی میں بدل گیا- مبارک ہو
صدائے احتجاج
میں اکثر بلاگ کی محفل میں نہیں آتی
کیونکہ یہاں شریک گفتگو ہونے بلاگرز اکثر موضوع سے روگردانی کرتے ہیں
میری درخواست ہے کہ کم از کم اس بلاگ سے غیر متعلقہ خطوط ہٹا دیے جائیں
محترم سائیں رحمت صاحب
شہباز شریف صاحب کے طرزِ حکومت پر میں نے اپنے ذاتی مشاہدات اور تاثرات درج کیے۔ جن میں ایک فیصد مبالغہ بھی زیبِ داستان کے لیے شامل نہیں۔
مزید یہ عرض کرنا چاہوں گی کہ موجودہ حالات میں شریف برادران ہی موضوعِ سخن بن سکتے ہیں زبیدہ جلال نہیں۔
والسلام
زرقا
خدا کرے کہ عالمی اخبار کی انتطامیہ زرقا مفتی صاحبہ کی “صدائے احتجاج ” کا احترام کرتے ہوے ” کم از کم اس بلاگ سے غیر متعلقہ خطوط ہٹادے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں دوسرے بلاگوں میں ” اکثر شریک گفتگو ہونے والے بلاگرز اکثر موضوع سے رو گردانی کرتے رہیں” اور ان بلا گوں کو خرافات میں تبدیل کرتے رہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش کہ ڈاکٹر پنہاںصاحبہ اس مقدس بلاگ کے موضوع پر اپنے کلام سے اس بلاگ کی رونق میں اضافہ کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منظور بھائی نے چونکہ عالمی اخبار کی انتظامیہ کوبراہ راست مخاطب کیاھے تومیں سب سے پہلے مدیر اعلی صفدر ھمدانی صاحب سے درخواست کرونگی کہ اس بارے میں اپنی اور عالمی اخبار کی پالیسی کے حوالے سے ضرور کچھ تحریر کریں تاکہ مستقبل میں بنیادی اصولوں کا علم رھے ۔ جہاں تک بلاگ کی صنف کاتعلق ھے توکسی اور کے ہاں توضیع اور معنی کچھ بھی ھوں ۔ میں عالمی اخبار کی نائب مدیر اعلی کے طور پر یہ وضاحت کرناچاھتی ھوں کہ ھمارے نزدیک یہ “ھائیڈ پارک ” ھے جس پر کسی کو بھی تہذیب ، شرافت اور ادب و آداب کے دائرے میں رھتے ھوئےکچھ بھی لکھنے کی اجازت ھے ۔ وگرنہ منظور بھائی آپ سمیت بہت سے لوگ اس بات کے گواہ ھیں کہ پالیسی سے ھٹ کر لگائے گئے بلاگز کو ھم پہلے بھی سائٹ سے ھٹا چکے ھیں اور آیئندہ بھی ھٹاتے رھیں گے ۔
زرقا مفتی ھماری ٹیم کی فعال ترین رکن ھیں اور ھم ان کی مساعی کے ممنون بھی ھیں ،لیکن اس سے انکار نہیں کہ وہ ایک آزاد فرد اور لکھاری بھی ھیں ۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ھر کوئی ان کے نقطہ نظر سے اتفاق بھی کرے ۔ انتظامیہ نے ان تبصروں کو کئی کئی بار بغور پڑھا ھے اور ان میں ایسے کوئی غیر شائستہ اور غیر متعلقہ بات نہیں ھے ۔ ویسے آپ لوگ ھی گواہ ھیں کہ ھم نے آپ میں سے بہت سے لوگوں کے ایسے بلاگ بھی ابھی تک سائٹ پہ محفوظ رکھے ھیں جوان لوگوں کی تعریف و توصیف کے بارے میں ھیں جنہوں نے بظاہر اس عالمی اخبار کو نقصان پہنچانے کی کوشش تک کی ۔ مییں سمجھتی ھوں کہ ھمیں اپنی بات کہنے سے رکنانہیں چاھیئے اور دوسرے کی بات سننے کی ھمت اور حوصلہ بھی پیدا کرنا چاھیئے ۔
نگہت جی
میرا خیال تھا
میری نظم کے بعد عالمی اخبار سے متعلقہ دوسری خواتین بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گی یا اپنی تخلیقات پیش کریں گی
جیسا کہ آپ نے اپنی اور سا ئرہ بتول صاحبہ کی نظمیں پیش کیں
لیکن اس کے بعد کچھ اس طرح کے خطوط مجھے غیر متعلقہ لگے
آپ اسے میری کوتاہ فہمی سمجھیئے کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کھوتا کہانی کیا ہے اور خواتین کے عا لمی دن کا کھوتا کہانی سے کیا تعلق ہے ۔ اور نہ ہی یہ سمجھ پائی ہوں کہ اس تذکرے کا یہاں کیا مقصد تھا۔
والسلام
زرقا
محترمہ زرقا صاحبہ ۔میں نے اوپر کے بلاگ میں سارے تبصرے پڑھے ہیں اور آپکے احتجاج کو بھی نوٹ کیا ہے۔ڈاکٹر نگہت کے تفصیلی جواب کے بعد کوئی مزید گنجائش تو نہیں کہ میں بھی لکھوں لیکن صرف ایک بات عرض کرنی ہے کہ یہ ممکن ہے کہ آپ اپنی مصروفیات کی وجہ تواتر سے بلاگ نہیں پڑھ سکتیں اس لیئے ”کھوتا کہانی” کی اصطلاح سے واقف نہیں۔ ویسے بھی میں اور آپ جیسے لوگ جو پنجاب میں رہتے ہیں عمومی طور پر اس اصطلاح سے واقف ہوتے ہیں اس لیئے اس کو یہاں استعمال کیا گیا۔
دوسری بات یہ کہ ہر کسی کو اپنے نکتہ نظر کی وضاحت کا حق ہے جیسے کہ آپ نے بھی اپنا حق استعمال کیا اور یہ اچھی بات بھی ہے۔ یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ ہم کسی کو منع نہیں کر سکتے کہ وہ ہماری فکر سے اختلاف نہ کرے اور ویسے بھی اختلاف کے ساتھ جینے کا اپنا ہی رنگ ہے۔ خواتین کے موضوع پر اور انکے حق میں شاید جتنا خود میں نے لکھا ہے اتنا بہت کم مردوں نے لکھا ہوگا۔ کبھی کبھی بہت سنجیدہ موضوع پر تبصرہ بھی بے حد سنجیدہ نہیں ہوتا۔ ذرا سا ہلکے پھلکے انداز میں بھی بات ہو سکتی ہے۔
آپ خود عالمی اخبار کے قافلے میں اول روز سے ہمارے ساتھ ہیں اور اس بات کی گواہ ہیں کہ معیار پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا اور نہ ہو گا۔ آپ سمیت ہم سب کو اپنی بات کہنے کا حق بھی ہے اور دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ بھی۔ آپ نے جو وضاحت کی اسکے بعد میرے خٰیال میں اس گفتگو پر مزید بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صلائے عام والی جگہوں پر اس قسم کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ہمارا کام دوسرے لوگوں کی تربیت بھی تو ہے۔
آپ ہماری ٹیم کی ان فعال ارکان میں سے ہیں جو بلاناغہ اس سائٹ کے لیئے محنت کرتی ہیں ورنہ ہمارے ساتھ ایسے لوگ بھی ہیں اس کارواں میں جنہوں نے اول دن سے اب تک شاید ایک بار ہی کچھ لکھا ہو۔ لیکن اسی کو ٹیم ورک کہتے ہیں۔ سب کا بوجھ اکثر دوچار لوگ ہی اٹھاتے ہیں۔ ہم سب کو آپکی رفاقت پر فخر ہے۔
میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ بلاگ پر تواتر سے آیا کریں،خود بھی لکھیں،تبصرہ بھی کریں تو پھر ایسی کوئی غلط فہمی پیدا نہیں ہو گی۔یہ یقین میں آپکو دلاتا ہوں۔
سلامت رہیں۔
محترم ہمدانی صاحب
السلام و علیکم
احتجاج سے میرا مقصد خدا نخواستہ کسی کی آزادی ءاظہار پر کوئی قدغن لگانا نہیں
لیکن میرا ذاتی خیال یہی ہے کہ بعض اوقات ایسے خطوط موضوع کی مقصدیت کو ختم کر دیتے ہیں
مزید یہ کہ
کسی بھی محفل میں گفتگو کے لیے مدمقابل کے مزاج کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا پڑتا ہے
مجھ جیسے لوگوں کا مسلہ یہ ہے کہ ہم اپنی عمر سے کئی گنا زیادہ بوڑھے ہو چکے ہیں
اور سنجیدہ گفتگو میں ہی حصہ لے سکتے ہیں
بلاگ کے اس سلسلے میں یہ میراآخری خط ہے
والسلام
زرقا
زرقا صاحبہ نے جب یہ آخری خط لکھ دیا ہے تو مزید اب کوئی گنجائش نہیں۔ اس لیئے از راہ کرم اس بلاگ کو بند سمجھا جائے اور کسی قسم کا کوئی مزید تبصرہ سائٹ سے حذف کر دیا جائے گا
محترم خواتین و حضرات
تنقید اور تنقیص کا فرق سبھی جانتے ہیں۔یہ الگ معاملہ ہے۔ یہاں تو تمام لوگ محبت کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ یقینا سبھی حوصلہ افزائی ہی کرتے ہیں۔ اختلاف رائے بھی ایک حسن ہے اور موضوع پرکاربندرہنے کی بات تولازمی ہونی چاہیے۔ یہ بھی موضوع کا حسن ہے۔
گلے شکوے تو اگرچہ اپنوںمیںہی ہوتے ہیں مگر یہ فضا نہ ہی ہو تواچھا ہے۔ القمر پر سب لوگ محبت سے پیش آتے تھے۔ نصر ملک صاحب کے ساتھ بحث کا سلسلہ نرمی سے شروع ہو کرسختی پر ختم ہوا۔ بس میںاس سے ڈرتا رہتا ہوں اور خصوصا خود بھی احتیاط کرتا ہوں کہ کہیںمیری طرف سے انتظامیہ یا دوسرے ساتھیوں کو رنج نہ پہنچ جائے۔
اللہ مجھ سمیت سب دوستوںکو بدگمانی سے محفوظ رکھے
آمین ثمہ آمین ۔ یارب العالمین