سال 2005 سے صدائے وطن سڈنی ویب سایٹ www.sadaiwatansydney.com میرے علمی اور ادبی ذوق کی تسکین کررہی ہے۔ یہ اردو اور انگریزی پر مشتمل مختصر مگر بہت ہی مفید معلوماتی ویب سایٹ ہے جس کے مدیر اعلیٰ سید ظفرحسین صاحب اور مدیر سید جعفر حسین صاحب ہیں۔
اس ویب سایٹ کا عنوان ہے ” میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے ” اور یہ چاہتی ہے کہ سب کے سب ” ہاتھوں میں ہاتھ دیں اور صدائے وطن کا ساتھ دیں ” اور ساتھ ہی ساتھ اس میں لاہور شہر کی تعریف ” نئیں ریساں شہر لاہور دیاں ” بھی موجود ہے ۔
اس کا مشن ( مقصد ) دلوں کو توڑنا نہیں ، دلوں کو جوڑنا ہےاور تخریب کی بجائے تعمیر پر توجہ موکوز کرنا ہے ِ ۔
اس ویب سایٹ کے تعارف میں سید ظفر حسین صاحب نے لکھا ہے کہ انہوں نے اس ویب سایٹ کو اپنے بیٹوں طلا ل اور بلال کی مد د سے اور سید مصباح صاحب کی اردو ٹائیپنگ کے طفیل، بغیر کسی معاوضہ کے اور بغیر کسی اشتہار کے شایع کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اسے باقاعدگی کے ساتھ اپنی بے شمار مصروفیات کے باوجود مسلسل انٹرنیٹ پر پیش کیا۔ ( اگر یہ سیدمصباح صاحب ( جو اس ویب سایٹ کی کمپوزنگ کررہے ہیں) وہی ہیں جو عالمی اخبار سے بھی منسلک ہیں تو وہ ہم سب کی مبارکباد کے مستحق ہیں اور اگر یہ کوی اور سید مصباح صاحب ہیں تو وہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں )۔
اس ویب سایٹ کو میں باضابطگی سے پڑھتا ہوں اور اس کی مشمولیات سے اپنے علم کو زیادہ کرنے کی کوشش کرتاہوں۔ اس میں ان تمام تقریبات کی تصاویر شامل ہیں جو ادبی ، مذ ہبی اور سماجی امور کے سلسلے میں اسٹریلیا اور بالخصوص سڈنی میں منعقد ہوتی ہیں۔
اس میں سید ظفر حسین صاحب کے سفر نامے بھی شامل ہیں اور قمر علی عباسی کی تصنیفا ت اور انکے سفر ناموں کی اطلاعات بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ دنیا کے مشہور و معروف شعرا ( جن میں منظر بھوپالی اور صفدر ھمدانی صاحب بھی شامل ہیں ) کی شاعری بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر صفدر ھمدانی صاحب کی نظم ” عدالت بک گئی اک بار پھر زردار کے ہاتھوں” بھی اس میں موجود ہے۔
ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کی آرکایو ( خزانے ) میں سن 2005 سے لے کر اب تک کی تمام مشمولات موجود ہیں اور صرف ایک کلک کے ذریعہ کمپیوٹر کے اسکرین پر آجاتی ہیں۔ اس خوبی کی وجہ سے یادوں کو تازہ کرنے میںمدد مل سکتی ہے ۔
اصل میں اس ویب سائٹ کے بارے میں عالمی اخبار سےمنسلک وہ ہستیاں زیادہ بہتر لکھ سکتی ہیں جو سڈنی میں رہتی ہیں ۔ میں تو صرف دور سے اس ویب سایٹ کی اردو سے محبت اور پاکستان سے عشق کا ا نظارہ اور مطالعہ کررہا ہوں ۔
یہ ویب سایٹ ان پیج سافٹ ویر میں ہے جس کی وجہ سے یہ بے حد خوبصورت بن گئی ہے مگر اس کی مشمولات پر اردو یا انگریزی میں فوری تبصرو ں کی گنجایش نہیں ۔ ویسے ای میل کے ذریعہ ہر ایک قاری کو اس ویب سایٹ کے مدیروں کو اپنے پیغامات ارسال کرنے کی آزادی ہے۔
اب تک جتنی ویب سایٹوں کا ذکر میں اپنے سابقہ بلاگوں میں کیا ہوں ان کی صف اول میں یہ ویب سایٹ بھی شامل ہے۔
اس ویب سایٹ کی انتظامیہ اور سید ظفر حسین صاحب کے بیٹے طلال اور بلال اور اس کے کاتب سید مصباح صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔
آخر میں میں یہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس بلاگ کا ذمہ دار میں ہی ہوں ۔ اس میں اگر کوی کوتاہی یا غلطی نظر آئے تو از راہ کرم تصحیح کرلیں۔
فقط :
علم کا طالب : منظور قاضی از جرمنی

جناب محترم منظور قاضی صاحب۔
تسلیمات۔ صدائے وطن کے موضوع پر آپکا جامع تبصرہ دیکھا۔ اپنی ذات کے حوالہ سے صرف اتنا ہی عرض کروں گا کہ صدائے وطن میں جس مصباح حسین کا نام دیا گیا ہے، وہ یہی نا چیز ہے۔ تاہم، فدوی اب باقاعدہ صدائے وطن سے متوسل نہیں رہا، جسکا سبب محض وقت کے دامان کی تنگی ہے۔ تاہم برادرم ظفر حسین محبتوں کے امین ہیں اور اس سفر میں اگر کسی نے انکا ساتھ بال کے برابر بھی ساتھ دیا تو انہوں نے اعزاز و محبت میں فراوانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گاہے بگاہے، اب بھی میں صدائے وطن کے لئے مضمون نگاری تو کر دیتا ہوں، لیکن کتابت اور تمام محنت کا سہرا سراسر ظفر بھائی کو ہی جاتا ہے۔
اگر آپ تعارفی کلمات بار دیگر دیکھیں تو ظفر بھائی نے بتایا ہے کہ صدائے وطن کا سوفٹ وئیر اس نا چیز نے انہیں فراہم کیا تھا۔ لیکن ایک آدھ بار کی معاونت کے بعد ظفر بھائی اور انکے بچوں نے اس کام کو اتنی خوبصورتی سے سنبھال لیا کہ میں بھی حیران تھا۔ خاص طور پر جو بچے آسٹریلیا میں پلے بڑھیں، اگر وہ اردو لکھنا اور پڑھنا سیکھ لیں تو ایک غنیمت ہوتا ہے، لیکن طلال اور بلال ساتھ میں کیلی گرافی اور ویب ٹولز بھی بطریق احسن استعمال کر رہے ہیں۔
صدائے وطن کے نام کا حوالہ ایک اعزاز کے طور پر عالمی اخبار کے تعارفی صفحے پر بھی میرے تعارف میں موجود ہے۔ http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=humseymileye&article=16
صدائے وطن ایک محض نیوز بورڈ نہیں، بلکہ اگر خاص غور کریں تو یہ ایک تحریک بھی ہے اور ایک نظریہ بھی۔ روز اول سے جب صدائے وطن کاغذ پر شائع ہوتا تھا تب سے لیکر آج تک، ظفر بھائی کے تمام تخیلات اور خبریات کو مرکز محض پاکستان رہا ہے اور دنیا وما فیہا سے بے نیازی انکی آپنے کام اور وطن سے محبت کی آئینہ ہے۔
سچ لکھنا ظفر حسین کی مجبوری ہے۔ صدائے وطن میں کوئی کمرشل پہلو نہیں ہے۔ یہاں کے کاروباری حضرات نے بارہا ظفر بھائی سے گزارش بھی کی کہ ہم اشتہار دینا چاہتے ہیں اور یوں آپکا بوجھ بھی بٹ جائے گا، مگر ظفر صاحب اس کام کو محض خدمت سمجھ کر تنہا نباہ رہے ہیں۔ اگر کوئی اپنے کاروبار کے لئے زیادہ اصرار کرے تو خبر کی صورت میں بلا معاوضہ انکی تشہیر کر دیتے ہیں تاکہ انکا مدعا بھی حل ہوجائے اور نان کمرشلزم کا عزم بھی قائم رہے۔
صدائے وطن اس وقت تقریبا دنیا کے ہر خطے میں جانا اور پہچانا جاتا ہے۔
ایک دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ ظفر حسین صاحب اور ہمدانی ساحب عرصہ دراز سے دوست بھی ہیں اور ہم مکتب بھی، اور یہ طفل اسی مکتب میں کھیلا کرتا ہے۔
اس اخبار کے مدیر جعفر حسین نہیں، بلکہ جاوید حسین شاہ صاحب ہیں جو کہ ضفر صاحب کے برادر خورد اور ہمارے ظفر کی طرح ہی محترم ہیں۔ دونوں بھائی، ہمہ وقت دوستی اور محبت کے جذبے سے سرشار اور سب کی بھلائی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ یہاں کی پاکستانی کمیونٹی میں دونوں بھائیوں کا برابر احترام کیا جاتا ہے۔ مجلس عزا ہو یا محفل مشاعرہ، عید ملن ہو یا کوئی تقریب، اس میں ظفر حسین تو رونق محفل ہوتے ہی ہیں، ساتھ میں جاوید حسین بھی ایک شفیق دوست کی طرح ہر کام کی کامیابی کے لئے دعاؤں کا حق ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ کبھی موقع ملا تو انشاء اللہ ظفر بھائی کی ذات پر کچھ کھل کر بھی لکھوں گا۔
میںسید جاوید حسین صاحب مدیر صدائے وطن سڈنی ویب سایٹ سے معافی چاہتا ہوں کہ انکا نام لکھنے میں غلطی کی۔
میں سید مصباح حسین صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اس موضوع پر اتنا سیر حاصل تبصرہ کیا اور میرے بلاگ کی غلطیوں کو بھی درست کردیا۔
جزاک اللہ ۔
یہ بالکل درست ہے کہ کہ صداے وطن سڈنی کی ویب سایٹ صرف ایک خبرنامہ یا ڈایر ی نہیں ہے بلکہ یہ ایک تحریک اور ایک نظریہ ہے اور اپنے وطن پاکستاں کی صدا ہے جسے سید ظفر حسین صاحب اور سید جاوید حسین برادران اپنے مشیروں اور ساتھیوں کے ساتھ انتہای بے لوثی اور مستعدی سے پاکستان سے باہر تمام پاکستانیوں تک پہنچا رہے ہیں۔ ( کہا ں پاکستان اور کہاں آسٹریلیا بس یہ دلوں کی قربت کی بات ہے کہ تمام فاصلے ختم ہوجاتے ہیں )
اس سلسلے میں سید مصباح حسین صاحب بھی دلی مبارکباد کے مستحق ہیں۔
میں مصباح صاحب سے مزید اس ویب سایٹ کے متعلق لکھنے کی اور خا ص طور پر سید ظفر حسین صاحب کی شخصیت پر لکھنے کی درخواست کرتا ہوں۔
منظور بھائی۔برادرم مصباح اگر چہ بہت کم لکھتے ہیں لیکن مستند اور منفرد لیکن کامل ایمانداری سے لکھتے ہیں۔ کم از کم مجھ جیسے کی طرح نہیں جو بس قلم گھسیٹتا ہے۔ مصباح صاحب علم خانوادے ہیں اور علم سب سے پہلے عدل سکھاتا ہے۔
برادر سید ظفر حسین میرے بھی محسنوں میں سے ہیں اور یہ بھی انکی وسیع القلبی ہے کہ میرے ساتھ متعدد فکری اور نظریاتی اختلافات کے باوجود تعلقات میں کبھی رخنہ نہیں آیا اور تعلق قائم و دائم ہے۔ انکی ویب سائٹ کا مزاج عام اصطلاح میں خبروں کی ویب سائٹ سے الگ ہے اور انہیں مقامی طور پر ایسے بھی بہت سے افراد کی خبریں لگانا پڑتی ہیں جن سے شاید انکے نظریاتی یا ماحول کے حوالے سے اتفاق نہ ہوں۔ میں اکثر ان سے کہات ہوں کہ دراصل اختلافات کے ساتھ جینا ہی تو جینا ہے۔ آسٹریلیا جیسے دور دراز خطے میں اردو صحافت کی شمع روشن رکھمے میں سید ظفر،انکے بھائی جاوید اور بچوں کا بہت عمل دخل ہے۔مجھے اس خانوادے کا مہمان ہونے کا بھی فخر حاصل ہے اور میں یہ بات بھی آن ریکارڈ رکھنا چاہتا ہوں کہ آسٹریلیا میں سب سے پہلی بار مجھے اگر چہ اردو سوسائٹی نے مدعو کیا اور دوسری بار امام حسن سینٹر میں ،لیکن ان دونوں دعوتوں کے پس منظر میں فکر اور متعارف کروانے کا سہرا سید ظفر کے سر ہے۔ ایک بات اور کہ ڈاکٹر نگہت نسیم جیسی انتھک اور قابل بھروسہ نائب مدیر اعلیٰ کو بھی ہم سے متعارف کروانے کی سعی انہی کی ہے اور ڈاکٹر صاحبہ نے انکے انتخاب کی خوب خوب لاج رکھی ہے جس کے معترف آپ بھی ہیں۔ ظفر بھائی پر کبھی تفصیل سے لکھوں گا ایک کالم کی صورت میں۔ وہ میرے مزاج اور قلم کے عادلانہ پن سے بخوبی واقف ہیں اور مجھے یقین ہے کہ جب بہت تفصیل سے انکے بارے میں لکھوں گا تو وہ اپنی روایتی وسیع القلبی کا مظاہرہ کریں گے۔
مجھے علم ہے کہ سید ظفر عالمی اخبار کا شاید بہت زیادہ مطالعہ نہیں کرتے کیونکہ انکا صحافیانہ معیار ہم جیسے طالب علموں سے بہت بلند ہے اور بلاگ تو وہ بلاشبہ بالکل نہیں پڑھتے اس لیئے انکو معلوم ہی نہیں ہو گا کہ یہاں انکی سائٹ کے بارے میں اور خود انکے بارے میں لکھا جا رہا ہے۔میں آج ہی اپنے طور پر انہیں اس اسکا لنک ارسال کرتا ہوں۔
میں نے منظوربھائی کا یہ شفقت نامہ کل ھی دیکھ لیا تھا ۔ لیکن محفل میلاد کی وجہ سے جواب نہ دے پائی ۔۔ مصباح بھائی اور پھر بابا کے بعد میرے کسی تبصرے کی گنجائش رہ تو نہیں جاتی لیکن چونکہ ظفر بھائی اور جاوید بھائی میرے بھی محسنوں میں سے ھیں اور وہی احسانمندی مجھ سے یہ تحریر لکھوا رھی ھے ۔ ظفر بھائی کا مزاج تعارفی ھے ۔۔ ان کا بس چلے تو سب کو ایک دوسرے سے ملوا دیں ۔۔ مجھے ان کایہ مزاج محبتی اور مولائی لگتا ھے ۔اللہ پر توکل اور بھروسہ کرنے والے ظفر بھائی ھمیشہ مسکراتے رھتے ھیں اور اپنی بات جب “اوہ ھو ” سے شروع کرتے ھیں تو مجھے جیسا پہلے ڈر جاتا ھے کہ مبادا کوئی غلطی ھو گئی ھے لیکن دوسرے ھی لمحے ان کی خیر خواہی کے سامنے شرمسار ھونا پڑتا ھے کہ وہ یہ کہہ رھے ھوتے ھیں کہ انہیں فو ن لینڈ نبر پر کیا جائے تاکہ موبائل کے چارجز زیادہ نہ ھو جائے ۔۔ جوآپ کا اس قدر خیر خواہ ھو وہ کیسے کوئی بات اپنے اخبار میں ایسی لکھ سکتا ھے جو کسی کی دل آزاری کا باعث ھو ۔۔ بابا صیح کہتے ھیں کہ ظفر بھائی کا جس سے جتنا بڑا چاھے اختلاف ھو وہ اگر نظریاتی ھے تو ظفر بھائی کے لیئے وہ نظریاتی ھی رھے گا ۔۔ان کا کوئی اختلاف ذاتی نہیں ھوتا ۔۔ اور ھمیشہ اپنایئت اور شفقت سے ھر کام اور رشتہ نبھاہتے ھیں ۔۔ مثال کے طور پر سعید اور نوشی گیلانی کی شادی کی کوریج اور نوشی کا حالیہ انٹرویو دیکھ لیجیئے ۔۔یہاں ظفر بھائی سب سے اونچے نظر آتے ھیں ۔۔ اور میں ان کے حسن ظن کی نہ صرف قائل ھوئی ھوں بلکہ بہت کچھ سیکھا ھے ۔۔
جب بابا سڈنی آئے تھے تو ظفر بھائی کا گھر ھم سب کے لیئے بھی “ھمارا گھر” ھو گیا تھا ۔ ان کی مہمانداری میں نفیسہ بھابھی اور ان کے بچوں کی محبت بھی شامل تھی ۔ مجھے ظفر بھائی کا گھر اپنے بھائی کا گھر لگتا ھے ۔جب جی کرتا ھے چلی جاتی ھوں اور نفیسہ بھابھی کے ھاتھ کے بنے ھوئے مزے دار کھانوں کے ساتھ مزیدار سی باتیں کر کے واپس آجاتی ھوں ۔ میں جاوید بھائی اور ان کی فیملی کی محبت کی بھی قرضدار ھوں ۔۔ جاوید بھائی بات ھی شروع اس طرح سے کرتے ھیں ۔۔ اللہ سلامت رکھے کیسی ھو نگہت ۔۔ بس محبتوں سے گندھا ھوا یہ گھرانہ سڈنی میں میری طرح سب کو اپنا ھی لگتاھے ۔۔ اور اسی محبت اور توجہ سے “صدائے وطن” ھر گھر میں پڑھا جاتا ھے ۔۔
میں اللہ پاک کی شکر گزار ھوں کہ اس نے مجھے اتنے بے لوث لوگوں کے درمیاں رکھا اور انہیں خوبصورت حوالوں سے مجھے پہچان بھی عطا کی ۔
میری سعادت کی کوی انتہا نہیں کہ میں ایک ایسے موضوع پر یہ بلاگ لکھا جو سید مصباح حسین صاحب اور جناب صفدرھمدانی صاحب اور محترمہ ڈاکٹر نگہیت نسیم صاحبہ کی محبوب شخصیت جناب ظفر حسین صاحب ( جنھیں وہ سب ظفر بھائی کے نام سے مخاطب کرتےہیں ) کے دلوں کے قریب ہے ۔
میں ا ب تک صدائے وطن کی ای میل sadaewatan@gmail.com کا پتہ نہ لکھ سکا ۔ مگر میں خوش ہوں کہ صفدر ھمدانی صاحب نے اس بلاگ کی لنک کو سید ظفر حسین صاحب ( سب کے اور میرے بھی ظفر بھائی ) کے پاس بھجوادیا ۔
ہم سب ” ہاتھوں میں ہاتھ دیں ۔ صدائے وطن کا ساتھ دیں ”
صدائے و طن سڈنی : ” سلامت رہے ہزاربرس ۔ ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار “