عبدالستار ایدھی اور نوبل پرائز

کیا ہماری حکومت کبھی عبدالستار ایدھی کو نوبل پرائز کے لئے Nominate کرنا برداشت کریگی۔ کیا یہ اقدام صحیح ہوگا۔ جوش کی شاعری کیونکہ پیغامِ انسانیت، مساوات، امن اور محبت و اخوت کی حامل تھی اور ہر قسم کے تعصب کے خلاف تھی اسلئے دانشورانِ پاکستان نے دو مرتبہ جوش کو نوبل پرائز کیلئے Nominate کرنے کی کوشش کی۔ بہلی مرتبہ ایوب خان نے اور دوسری مرتبہ ضیا الحق نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔ ڈاکٹر سلام کو حکومتِ برطانیہ نے Nominate کیا۔ کیا مدر تھریسا کی طرح عبدالستار ایدھی کو نوبل پرائز نہیں مل سکتا؟ اگر نوبل پرائز عبدالستار ایدھی کو ملا تو یقیناً یہ بات ہمارے وقار میں اضافہ کریگی۔ لیکن عبدالستار ایدھی کو نوبل پرائز ملنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے اُنہیں اس انعام کیلئے Nominate کیا جائے۔

12 thoughts on “عبدالستار ایدھی اور نوبل پرائز”

  1. السلام علیکم
    ظفر صاحب ، آپ کی تجویز تو بہت عمدہ ہے ، اِس سے پہلے بھی شاید آپ کسی موقع پر یہ تجویز دے چکے ہیں ، حکومت Nominate کرے نہ کرے میرے خیال میں پہلے ہمیں مولانا عبدالستار ایدھی سے بھی پوچھ لینا چاہیے کہ کیا وہ اِس Nomination کو قبول بھی کرتے ہیں یا نہیں ؟ اور میرے خیال میں یہ اُن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا ، وہ ویسے ہی نوبل ہیں ، آپ جیسے اور مجھ جیسے لوگوں کے دلوں میں ۔ کیوں ۔ کیا خیال ہے ؟
    آصف احمد بھٹی

  2. جس شخص کو بھی خود اللہ اور اسکے حبیب نے کسی بھی نیک کام کے لیئے اور انسان و انسانیت کی بھلائی کے لیئے منتخب کر لیا ہو بظاہر اسے ایسے دنیاوی اعزاز کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جب ہم اس دنیا میں رہتے ہیں تو اسکی تقاضے نبھانے پڑتے ہیں۔ میرے خیال میں عبدالستار ایدھی ایسی شخصیت ہیں جنکے لیئے شاید انکے شایان شان ابھی کوئی ایوارڈ بنا نہیں۔ یہ نوبل انعام تو ایسے ایسے شخص کو مل چکا ہے کہ اب کیا لکھوں کہ ایک نئی بحث شروع ہو جائے گی۔ جنگ بھڑکانے اور بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے کو جب امن کا نوبل انعام ملے گا تو ایسے اعزاز کی کیا حیثیت رہے گی۔ ویسے بھی یہ سب ”لابی” کا کھیل ہے اور پاکستان کیا سارے مسلم ممالک کے پاس اجتماعی طور پر ایسی کوئی لابی نہیں ہے جو ایدھی صاحب جیسے فقیر منش انسان کو ایسا کوئی زمینی عالمی اعزاز دلوا سکے۔ روز محشر ایسی مقدس ارواح کو کیا انعام ملے گا اسکا سوچنا بھی محال ہے

  3. السلام علیکم
    محترم صفدر ہمدانی صاحب ، آپ نے میری بات کو نہایت ہی واضع اور خوبصورتی سے پیش کر دیا ہے ، جزاکم اللہ خیر ۔
    آصف احمد بھٹی

  4. ذہن کو خواب تعافل سے جگانا ہو گا
    اب حقیقت کی طرف آپ کو آنا ہو گا
    کام اعلان جنوں سے نہ چلے گار ہر گز
    علم کی زلف میں اب عقل کا شانہ ہو گا
    ہیں اگر ہاتھ جوانوں کے ہنر سے خالی
    پھر تو دنیا میں انھیس ٹھوکریں کھانا ہوگا
    ہوگئے عظمت رفتہ کے محل خاک نشیں
    اب تو خود +پ کو کچھ کر کے دکھانا ہوگا
    تاج عزت کا پہنتے ہیں یوں اہل کمال
    کب سند سے تری مرعوب زمانہ ہو گا

    ایسی مقدس ارواح کو کیا انعام ملے گا اسکا سوچنا بھی محال ہے

  5. جناب ہمٰدانی صاحب کا تبصرہ ہی ہم سب کے جذبات کی صحیح ترجمانی ہے۔

  6. جب گاندھی کو مرنے کے بعد نوبل پرائز offer ہوا تو حکومتِ ہند نے یہ کہکر لینے سے انکار کردیا کہ ہمارے لیڈر کیلئے یہ ایک م بہت معمولی سی چیز ہے اور وہ اس سے بہت اوپر ہے۔۔ حکومتِ ہند کے اس عمل سے گاندھی کا مقام بلند تر ہوگیا اور بھارت کا وقار بھی بڑھ گیا۔ لیکن گاندھی کو نوبل پرائز کیلئے اگر سرے سے nominate ہی نہ کیا جاتا تو نہ گاندھی کا نہ بھارت کا نوبل پرائز کے تناظر میں اور اسکی وجہ سے دنیا میں اتنا بلند مقام ہوتا۔ برنارڈ شاء نے بھی نوبل پرائز لینے سے انکار کردیا تھا جس سے اُسکا مقام اور بھی بلند ہوگیا۔

    یہ بات درست ہے کہ ایدھی یا مدر تھریسا کیلئے ایسے امتیاز و اعزاز کی کوئ اہمیت نہیں ہے۔ لیکن ہمارا تو یہ فرض ہے کہ ہم ایدھی کیلئے کوشش کریں اور انہیں یہ انعام ملے۔ اگر انکو اس انعام کی پیشکش ہو تو برنارڈ شاء کی طرح وہ چاہیں تو منع کرسکتے ہیں اور اگر چاہیں تو اسے مدر تھریسا کی طرح قبول کرسکتے ہیں۔ انکار یا قبول دونوں صورتوں میں ہمارا قومی وقار بلند ہوگا۔ خصوصاً موجودہ حالات میں جب مسلمان کو صرف غتل و غارتگری سے منسوب کیا جارہا ہے اس قسم کا نوبل پرائز ڈیڑھ ارب مسمانوں کیلئے باعث فخر ہوگا ۔ پاکستان کیلئے باعث فخر ہوگا ۔ میرے اور آپ کیلئے باعث فخر ہوگا ۔ لیکن اگر پہلا قدم ہی نہیں اٹھا یا گیا تو ہزار میل کا سفر کیسے شروع اور کیسے مکمل ہوگا ۔

  7. السلام علیکم
    محترم ظفر جعفری صاحب ، آپ نے فرمایا کہ !
    جب گاندھی کو مرنے کے بعد نوبل پرائز offer ہوا تو حکومتِ ہند نے یہ کہکر لینے سے انکار کردیا کہ ہمارے لیڈر کیلئے یہ ایک م بہت معمولی سی چیز ہے اور وہ اس سے بہت اوپر ہے۔۔ حکومتِ ہند کے اس عمل سے گاندھی کا مقام بلند تر ہوگیا اور بھارت کا وقار بھی بڑھ گیا۔ لیکن گاندھی کو نوبل پرائز کیلئے اگر سرے سے nominate ہی نہ کیا جاتا تو نہ گاندھی کا نہ بھارت کا نوبل پرائز کے تناظر میں اور اسکی وجہ سے دنیا میں اتنا بلند مقام ہوتا۔
    میں یہ بات پہلے نہین جانتا تھا مگر آپ کی اِس تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاندھی کو nominate حکومت ہند نے نہیں کیا تھا ، ورنہ وہ اِسے معمولی سی چیز کہہ کر رد نہ کرتے ، اور جیسا کہ صفدر ہمدانی صاحب اپنے تبصرے میں کہہ چکے ہیں کہ یہ سارا لابی کا کھیل ہوتا ہے اور پھر حالیہ امن کا نوبل پرائز جس شخص کو ملا ہے اُس کے بعد تو نوبل پرائز کی حیثیت بہت ہی مشکوک ہو گئی ہے ۔
    اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آمین ۔
    آصف احمد بھٹی

  8. بھٹی صاحب

    صفدر ہمدانی صاحب اپنے تبصرے میں کہہ چکے ہیں کہ یہ سارا لابی کا کھیل ہوتا ہے اور پھر حالیہ امن کا نوبل پرائز جس شخص کو ملا ہے اُس کے بعد تو نوبل پرائز کی حیثیت بہت ہی مشکوک ہو گئی ہے ۔

    حضور اُن ممالک سے اپنا مقابلہ کرکے دیکھ لیں جنکو نوبل پرائز در نوبل پرائز ملتے رہے ہیں۔ وہ بھیک دے ہیں ہم بھیک لے رہے ہیں۔وہ ترقی کررہے ہیں ہم زمیں بوس ہورہے ہیں۔ کیا یونس خان کو اقربا پروری کی وجہ سے نوبل پرائز ملا ہے۔ ہر چیز کو اقربا پروری یا دھاد لی کہدینا یا عوام کو جاہل کہدینا مسائل کا حل نہیں ہے۔ مسائل اس ہی وقت حل ہوتے ہیں جب اپنی کمزوریوں کا اعتراف کیا جائے۔ اپنی کمزوریوں کا اعتراف زندہ قوموں کی پہچان ہے جو نوبل پرائز لینے والے ہر ہر قدم پر کرتے ہیں۔ میری ساری زندگی ان قوموں کے بیچ گذری ہے۔

  9. نوبل پرائز کے موضوع پر میں ایک بلاگ لکھ چکا ہوں جس میں یہ بتا یا گیا تھا کہ نوبل پرائز کی تاریخ میں صرف گیارہ مسلمانوں کو نوبل پریئز دیا گیا ہے ۔ ( اس گوگل فیرست میں ڈاکٹر عبدالسلام اور چند ایک اور ( ایک مصری اور ایک ترکی ) بھی شامل ہیں)

    یہودیوں نے سب سے زیادہ نوبل پرائز حاصل کیے ۔

    اس بلاگ میں تمام نوبل پرائز حاصل کرنے والوں کے نام بھی دیئے گئے تھے

    میرے بلاگ میں یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ مسلمان علم و فن اور حکمت اور عقل و دانش کے سلسلے میں دوسری قوموں سے اتنے پیچھے کیوں ہیں کہ وہ نوبل پرائز کے مستحق سمجھے نہیں جاتے ؟

    میرے سوال کے جوابات میں یہ بات نمایاں تھی کہ نوبل پرائز کمیٹی پر یہودیوں اور عیسائیوں کا قبضہ ہے ۔ اس لیے وہ صرف اپنے پسندیدہ افراد کو نوبل پرائز دیتے ہیں۔ ۔

    میرے خیال میں صحیح جواب کےلیے مسلمانوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنےکی ضرورت ہے۔

    پانچ سو سال پہلے کے مسلمانوں نے علم وفن اور حکمت و دانش میں دنیا کو نئی نئی ایجادات عطا کیے ۔
    مگر آج کل کے مسلمان “ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہیں “

    ایک دوسرے سے بحث و تکرار اور خواہ مخواہ کی باتوں میںاپنی توانائیاں صرف کرنے کی بجائے علم و حکمت اور عقل و دانش کے میدانوں میں نئی نئی ایجادات پیش کریں تو ضرور مسلمان بھی نوبل پرائز اور اس سے بھی اعلیٰ انعامات حاصل کرلیں گے ۔۔

    عبدالستا رایدھی صاحب تمام مستحق پاکستانیوں کی اپنی بساط کے مطابق بے لو ث خدمت کررہے ہیں مگر جب پاکستانی حکومت ہی ان کی قدر نہیں کرتی تو غیروں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔؟

  10. قاضی صاحب

    ہم جس کے لئے جو کرنا چاہتے ہیں وہ ضرور کرتے ہیں۔ جس کے لئے کچھ نہیں کرنا چاہتے اسکی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ اسکی ایک Casualty غبدالستار ایدھی بھی ہیں۔ بقول علامہ غامدی آج کے مسلمانوں میں کوئ ایسا سُرخاب کا پر نہیں لگا ہوا جس سے کسی کوحسد ہو۔

    حکومتِ پاکستان نے دو مرتبہ فیض احمد فیض کو نوبل پرئز کے لئے Nominate کیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں یہ بہت اچھا عمل تھا اور وہ اسکے مستحق بھی تھے۔ لیکن افسوس کہ جب فیض اور احمد ندیم قاسمی جیسے دانشوروں نے جوش ملیح آبادی کو دو مرتبہNominate کرنے کی کوشش کی تو پہلی مرتبہ ایوب خان نے اور دوسری دفعہ ضیاء الحق نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔ جب پہلی جنگ عظیم کے دوران 1918۔ 1917 میں یہودی جرمن سائنسداں نے Theory of Relativity پیش کی تو اُس پرسب سے پہلے جرمنی کے سب سے دشمن کیمبرج کے عیسائ سائنسدانوں نے ہاتھ بڑھایا اور اُس تھیوری کو Welcome کیا اور پھر Southampton، آسٹریلیا اور کیلیفرنیا کی تجربہ گاہوں نے اس تھیوری کو صحیح ثابت کردیا۔ تھیوری کے ثابت ہونے پر آئنسٹائن کو نوبل پرائز ملا۔ اس ضمن میں ہم سے کہیں بہتر بنگالی ہیں جنہوں نے یونس خان کو Nomnate کروایا۔

  11. عبد الستار ایدھی کا نام اور کام کسی طرف کا محتاج نہیں اگر ان کو نوبل پرائز ملنا ہو گا تو مل کر رہے گا اگر نہ بھی ملے تو اس کی شخصیت پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا . ایدھی کا مقام کسی پرائز کا محتاج نہیں بلکل وہی مقام جو ڈاکٹر عبدالسلام کا تھا ۔ جس طرح سورج کی روشنی نظر آ جاتی ہے دکھائی نہیں جاتی اسی طرح اس ایدھی کا انسانیت کے لئے کام اور پیار سب کو نظر آ رہا ہے اگر پورے پاکستان میں کوئی مسلمان ہے یا اسلام کی سہی تعلیم پر عمل کرتا کوئی نظر آ رہا ہے تو وہ فقط ایدھی ہے .

  12. محمود صاحب

    ٰٰٰاگر پورے پاکستان میں کوئی مسلمان ہے یا اسلام کی سہی تعلیم پر عمل کرتا کوئی نظر آ رہا ہے تو وہ فقط ایدھی ہےٰٰ

    .انکی یہ خدمت اسلام کی سب سے بڑی تبلیغ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *