عزت ماب جناب صفدر ھمدانی صاحب سے ایک مختصر ملاقات
انور ظہہر رہبر، برلن جرمنی
چودھا 14مارچ کو شام پونے چھھ بجے میں برلن کے خوبصورت سے ہال “پلاسٹ” میں جو کہ برلن کے دل میں واقع علاقے “شونے برگ”( خوبصورت وادی) میں ہے کو اردو انجمن برلن کی ادبی شام کے لئے سنوارنے میں لگا تھا مگر میری نظر ہال کے دروازے پر لگی تھی۔ اچانک سے مجھے محسوس ہوا کہ مہمان گرامی تشریف لا چکے ہیں( چونکہ میں پروگرام کی تیاری میں سخت مصروف تھا اسلئے اردو انجمن برلن کے صدر جناب عارف نقوی کے شامل خود ائیرپورٹ نہ جاسکا تھا، مہمان گرامی کو خوش آمدید کہنے کے لئے) میں پھر دروازہ کی طرف لپکا جہاں ہمارے آج کے مہمان گرامی عزت ماب جناب صفدر ھمدانی صاحب ہال میں داخل ہورہے تھے انھوں نے بھی مجھے آتا دیکھا تو دوسرے لوگوں سے نکل کر میری جانب آئے اور کہا” کسی تعرف کی ضرورت نہیں ہے میں جانتا ہوں کہ آپ نام کے رہبر ہیں حلانکہ آج کل تو ساری قوم ان رہبروں سے پریشان ہے” یہ کہکر انھوں نے مجھے گلے لگا لیا۔ مجھے حیرت اس بات کی تھی کہ میں تو ان سے پہلی بار مل رہا ہوں، اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میری کوئ تصویر بھی کبھی عالمی اخبار میں نہیں چھپی، جب کہ میں نے انکی تصاویر البتہ بہت جگہ دیکھ چکا ہوں، لیکن محو حیرت تھا میں کہ عزت ماب جناب صفدر ھمدانی صاحب نے مجھے کیسے پہچان لیا اور نہ صرف پہچان لیا بلکہ ایسا لگا کہ ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہیں۔
بس عزت ماب جناب صفدر ھمدانی صاحب ہوا کے ایک جھونکے کی طرح برلن تشریف لائے اور پھر ایک دوسرے جھونکے مانند ہمیں چھوڑ کو چلے گئے، لیکن انھوں نے برلن شہر میں آکر نہ صرف موسم بہار کی آمد کا اعلان کیا بلکہ اس شہر برلن کی فضاؤں میں ھمدان کی ایسی خوشبو بکھیر دی جو ایک طویل عرصے تک ہمارے ذہنوں کو معطر کرتی رہے گی۔
یہ میری خوش نصیبی ہے کہ ان سے ملاقات ہوئ، لیکن تشنگی باقی ہی رہی، میں شکرگزار ہوں کہ انھوں نے برلن تک آنے کی زحمت گوارہ کی، ہم اہل برلن آپ کو ہمشیہ یاد رکھیں گے، ان دو دنوں میری صرف تین ہی ملاقات ہوسکی، میں تو صیح طریقے سے حق میزبانی بھی ادا نہ کرسکا اور آپ چلے گئے، میری دلی خواہش ہے کہ آپ سے جلد دوبارہ ملوں تاکہ دل کو کچھ تو تسلی ہو۔

انور صاحب یہ صفدر صاحب کی خاصیت ہے کہ ان کو ملنے پہ تعارف کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ میں سٹاکہولم ایئرپورٹ پر قبلہ کو لینے کے لئے گیا۔ جب آپ باہر آئے تو میں جاکر گلے ملا اور ساتھ کان میں اپنا نام بھی بتا دیا۔ ھمدانی صاحب نے جواب میں کہا کہ رحمت تعارف کی ضرورت نہیں مجھے پتہ ہے یہ تم ہی ہو۔ گذشتہ 3 سال سے آغا صاحب سے فون پہ یا نیٹ پہ بات ہوتی تھی لیکن ملاقات کا سبب نہیں بنا تھا۔ میں حیران تھا کہ قبلہ نے تعارف کی ضرورت نہیں سمجھی۔
آغا صاحب جہاں بھی جاتے ہیں اسی طرح جاتے ہیں ۔ اداس کر کے چلے جاتے ہیں۔ ویسے سستے مہمان ہیں۔
صفدر بھائی نے یورپ میں جو تربیتی پروگرام شروع کیا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ آئیندہ 2 سالوں میں یورپ میں رہنے والا ہر پاکستانی قلمکار بن جائے گا۔ جہاں بھی جاتے ہیں داستاں چھوڑ جاتے ہیں۔
دعا ہے کہ پروردگار عالم صفدر بھائی اور آپ کے چاہنے ہمیشہ سلامت رہیں۔
انور ظہیر رہبر صاحب کے بلاگ کو پڑھکر میں صفدر ھمدانی صاحب کی جوہر شناسی کی داد دیتا ہوں کی وہ جہاں بھی جاتے ہیں ایک جوہر تلاش کرلیتے ہیں اور اس کی ہمت افزائی کرتے ہیں۔ چونکہ وہ خود بھی آئین جوانمرداں حق گوئی و بے باکی پر عمل کرتے ہیں اس لیے وہ ان افراد کو اپنے قریب بلالیتے ہیں جو ( انکی دانست میں ) اسی صفت کے حامل ہیں۔
عالمی اخبار کی انتظامیہ تو یقینی طور پر انور ظہیر رہبر صاحب کا استقبال کرے گی ۔ مگر میں اپنی طرف سے انہیں بلاگ نگاروں کی انجمن میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہتا ہوں۔
آپ کا تخلص رہبر ہے اس لیے آپ اقبال کے اس شعر سے بخوبی واقف ہونگے:
نگہ بلند ، سخن دلنواز ، جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کاروں کے لیے
اے آمد نت باعث آبادی ما
نیک تمناو ں کے ساتھ:
منظور قاضی از جرمنی (میونخ کے ایک قریبی بستی سے )
انور صاحب آپ نے بجا فرمایا جناب صفدر ھمدآنی صاحب جھاں جاتے ھیں لوگوں کے دلوں میں تشنگی سی چھوڑ آتے ہیں میں خود ملنا چاہتا تھا محترم اقبال حیدر صاحب نے فون کر کے یادھانی کروای تھی لیکن ابھی تک بیمار ھوں آ نہیں سکا بنابِ صفدر ھمدانی صاحب کے لیے جرمنی سے دعاؤں کا تحفھ
اسحاق ساجد
انور بھائی سڈنی والوں کا بھی یہی خیال ھے ۔۔۔۔مزے کی بات بتاؤں کہ جب بابا یہاں آئے تھے تو ھم سب ایئر پورٹ گئے ھوئے تھے انہیں لینے ۔ میرے اہل آفتاب ( بابا انہیں ھمیشہ اہل ھی کہتے ھیں ) بھی میرے ساتھ تھے انہیں بھی بابا نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ جب میں بابا سے آگے بڑھ کران کا تعارف کروانے لگی تومجھے بڑی شفقت سے روک کر بڑے یقین سے کہتے ھیں این این تمہارے ساتھ چمکتا ھوا یہ “آفتاب” ھی ھو سکتا ھے ۔۔ جاوید بھائی ( معاون چیف اڈیٹرصدائے وطن) بھی وہیں تھے ۔۔ وہ تو جب سے مجھے ، آفتاب اور بچوں کو “چاند، سورج اور ستارے ھی کہتے ھیں ۔۔ بھائی اتنی باتیں ھیں کہ ھم سب ابھی تک انہیی سے باھر نہیں آ سکیں ھیں ۔۔ آپ کی طرح ھم سب بھی بہار کے اسی جھونکے کا انتظار کر رھے ھیں جس نے سڈنی کی فضاؤں کو ابھی تک معطر کر رکھا ھے ۔ سایئں جی کی بات دل کو لگی کہ بابا نے ھر پاکستانی کو اردو سکھانے کا مشن بنارکھا ھے ۔۔ اللہ پاک ھم سب کو سیکھنے والوں میں رکھے ۔ آمین
مزا تو تب ہے اگر ہم کو اردو سکھا لیں
ASLAMO ALEKOM Jnab rahbar ji ap to GERMANY main hein PAKISTANI rehbroon ke trha na karein BABA ek fqeermansh banha hee un ko EZATMAAB eke poree na chrha dein kahein kam kaj se he na jeye MAZRAT ke sath ke Hamdni ji se doste ka mera bhee sath hee SUKREYA Tahir Malik GERMANY
بھئی عمران بھائی یہ معجزہ بھی بابا کر سکتے ھیں ۔۔ ویسے بھی وہ آپ ھی کے پاس آ رھے ھیں اور جتنے وقفے سے آپ لکھتے ھی انہیں وقعی آپ کی کلاس لینی چاھیئے۔۔۔اور عمران بھائی ایسی بھی کیا بات ھے میں بھی وہاں آکر آپ کی یہ کلاس لے سکتی ھوں ۔۔آخر بابا کے مشن کو آگے بھی تو بڑھانا ھے ۔
اس میں شک نہیں کہ صفدر بھائ کی شخصیّت اتنی باغ و بہا ر قسم کی ہے
کہ ملنے والے متاءثر ہوےء بغیر نہیں رہ پاتے۔
اللہ تعالی انھیں صحت و تندرستی کے ساتھ عمرِ دراز عطا فرماےء۔
آمین۔
سوچ رہاہوں کہ وہ لوگ کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں جو اپنی زندگی میں ہی بعد از موت کے سارے مزے لے لیتے ہیں۔اور اسکے سوا جنت کیا ہو گی کہ لوگ آپ سے کسی مفاد کے بغیر محبت کریں۔ اس بلاگ پر لکھنے میں تاخیر صرف اس لیئے ہوئی کہ میں سوچتا رہا کہ مجھ میں تو کوئی ایسا ہنر اور صلاحیت نہیں ہے جو دوسروں کو اس قدر متاثر کرے کہ وہ مجھ فقیر کو عرش نشین بنا دے۔یہ دراصل خود آپ دوستوں کی اندر کی خوبصورتی ہے جو مجھ جیسا شخص بھی آپکو کوئی پارس لگتا ہے۔انور ظہہر رہبر آف برلن جرمنی خود ایک نستعلیق فرد ہیں اور یہ سارا گھرانہ ایک آفتاب صفت ہے۔ انکی اہلیہ،بڑے بھائی،بیٹیاں سب کے سب صاحبان فن ہیں اور پھر انکے درمیان عارف نقوی جیسے با عمل ترقی پسند کا موجود ہونا ان تمام افراد کی صلاحیتوں کی سند ہے۔ سویڈن کے سفر کے اختتام کے بعد جب برلین کے بارے میں لکھوں گا تو ان سب باتوں کا تفصیلی ذکر ہو گا۔
اس وقت بس یہ کہنا ہے کہ شکریہ،،،،انور ظہہر رہبر، عارف نقوی،مناف غلزئی،ملک صفدر۔سائیں رحمت،منظور قاضی،طاہر ملک،عمران چوہدری،سائرہ بتول،اسحاق ساجد اور ڈاکٹر نگہت صاحبہ۔اللہ تعالیٰ آپ سب کی عزتوں میں اضافہ کرے۔آمین