زیب سندھی ، مہران کی دھرتی کے ایک بہت ہی اچھے لکھاری ہیں ، سندھی نظم و نثر میں انکا اپنا ایک مقام ہے ، اپنی پہلی کہانی “درد دل“ جو ١٩٧٤ میں شائع ہوئی تھی اسکے بعد چار کہانیوں کی کتابیں “گهٽيل خواهشون“ (گھٹی ہوئی خواہشیں) (1977ع) ، (2) ”زندگي درد جي ٻانهن ۾“ (زندگی درد کے ہاتھوں میں) (1981ع)، (3) ”ڌنڌ ۾ گم ٿيل منظر“ (دھند میں گم ہوا منظر) (2001ع) ۽ (4) ”حيدرآباد 47 ڪلوميٽر“ (2010ع) ، انکی اکثر کہانیوں کا ترجمہ اردو اور انگریزی میں ہو چکا ہے، اسکے علاوہ انکے لکھے ہوئے کتنے ہی ڈرامے پی ٹی وی سمیت بہت سارے چینل پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں ۔ جن میں سندھی کے علاوہ اردو کے بھی مشہور ڈرامے ہیں جن سیریل جانشین ، کیسی یہ تڑپ شامل ہیں اسکے علاوہ انکا اردو صوتی ڈرامہ پاکستان برڈکاسٹنک اکیڈیمی میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کر چکا ہے ، انکے اکثر کالم اردو سندھی اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں ، سندھ کی دھرتی سے پیار کے ساتھ ساتھ انکی پاکستانی سیاست اور ثقافت پر بھر پور نظر ہے ، وہ تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور گورنمنٹ سچل سرمست آرٹس اینڈ کامرس کالج حیدرآباد میں سندھی لٹریچر کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انکا یہ کالم سندھی روزنامہ کاوش سے انکی خصوصی اجازت کے تحت لیا گیا ہے ، جس کے لئے میں انکا ممنون ہوں ، میری سندھی اتنی بھی اچھی نہیں کہ میں زیب سندھی جیسے سندھی زبان کے ماہر کو بامحاورہ ترجمہ کر سکوں ، مگر ایک کوشش کی ہے ، جسکی تمام خامیوں کا ذمہ دار میں ہوں، اور خوبیاں زیب سندھی کی ہیں ۔
============================================================================
“پیر پگارا کی باتوں کو کبھی بھی شوشہ نہ سمجھنا “ شیخ ایاز نے یہ الفاظ ١٩٨٤ کے نومبر یا دسمبر میں مجھ سے کہے تھے
ان دنوں میں سکھر میں شیخ ایاز کے گھر پہنچا تھا ، انہوں نے مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر چائے کے ساتھ اردو کا ایک اخبار بھیجھ دیا تھا، میں اخبار پڑھ رہا تھا کہ وہ ڈرائینگ روم میں داخل ہوئے ، میں اخبار پڑھ کہ مسکرا رہا تھا انہوں نے پوچھا کہ کیا ہوا ، کیوں مسکرا رہے ہو؟
پھر انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ میں نے تو اس اخبار میں کوئی لطیفہ تو نہیں پڑھا
میں نے کہا ، سائیں آج ایک زبردست لطیفہ کہا گیا ہے
اچھا تو مجھے بھی سناؤ ۔ انہوں نے بھی مسکراتے ہوئے کہا
میں نے ڈبل کالم باکس میں چھپی خبر کی ہیڈنگ شیخ ایاز کو پڑھ کر سنائی ، “میں اپنے لئے وزیر اعظم تلاش کر رہا ہوں ؛ پیر پگارا“
انکے چہرے سے مسکراہٹ ایک دم غائب ہو گئی ، اور انہوں نے سنجیدگی سے کہا ، “تم اس بات کو شوشہ سمجھتے ہو؟“
میں نے حیرت سے کہا ، مگر سائیں ، ابھی تو الیکشن کی بھی کوئی خبر نہیں ، اور پیر پگارا صاحب اپنے لئے وزیر اعظم تلاش کر رہے ہیں
شیخ ایاز نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کہا ، اسکا مطلب یہ کہ الیکشن ضرور ہونگے ، اور وزیر اعظم پیر پگارا کا آدمی ہو گا ، تم کبھی بھی پیر پگارا کی بات کو شوشہ سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش نہ کرنا“
شیخ ایاز نے یہ باتیں بند کمرے میں کیں تھیں ، جس میں میرے علاوہ کوئی اور نہ تھا ، لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ ١٩٨٥ کے غیر جماعتی انتخابات کا اعلان ہوا ، اور محمد خان جونیجو کو بنا مقابلے کے وزیر اعظم بنانے کا اعلان ہوا ، اور پیر پگارا کی اشیرواد ملنے سے وہ وزیر اعظم بن گئے !
آج پھر تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں ، پیر پگارا کی آل پاکستان متحدہ مسلم لیگ کے خیال پر کچھ سیاسی یتیموں نے پیر پگارا کی طرف رُخ کیا ہے ، انہوں نے نواز شریف کو بھی دعوت دی ہے کہ وہ ن لیگ کو متحدہ مسلم لیگ میں ضم کر دیں ، لیکن نواز شریف نے پنجاب کے وزیر اور پھر وزیر اعلٰی اور پھر ملک کے وزیر اعظم کے عہدوں کے علاوہ جیل اور جلا وطنی کاٹنے سے اتنا تو ضرور سیکھا ہے کہ ، اس وقت انکی کیا جگہ ہے اور اہمیت کیا ہے ۔ اسی لئے وہ متحدہ مسلم لیگ کا حصہ بننے کے بجائے وقت آنے پر موجودہ “متحدوں“ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، مگر کبھی بھی متحدہ مسلم لیگ میں ضم نہیں ہونگے۔ لیکن اسکے باوجود پیر پگارہ کی باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ وہ کئی بار علی الاعلان کہتے رہے ہیں کہ “ میں اسٹیبلشمنٹ کا بندہ ہوں“
ایک طرف تبدیلی کی باتیں ہو رہیں ہیں اور دوسری طرف اس منظرنامے میں سیلاب میں سندھی عوام کی سوچ بھی تبدیل ہو رہی ہے ۔ اور اس سیلاب نے نہ صرف سندھ کے ستر لاکھ سیلاب متاثرین کو دربدر کیا ہے ، بلکہ اس سے زیادہ تعداد میں سندھی عوام کی سوچ میں اُتھل پتھل آئی ہے ، اور سندھ کے اندر اسی اتھل پتھل کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ گھر بار، کھیت کھلیان ، گاؤں گوٹھ شہر کراچی ، حیدرآباد اور دوسرے شہروں کے کیمپوں سے لیکر بندوں ، سڑکوں ، قبرستانوں اور پلیٹ فارموں پر دربدر دن ہفتے نہیں مہینے گذار رہے ہیں۔ کیا یہ لوگ جب اپنے گھروں کو واپس جائیں گے تو انکی سوچ سیلاب سے پہلے جیسی ہو گی ؟
مکلی کے قبرستان میں آج مر جانے والون سے زیادہ زندہ انسان رہ رہے ہیں ، کیا یہ لوگ واپس آ کر ان لوگوں کو ووٹ دیں گے ، جنہوں نے انہیں کیمپوں میں صحت صفائی کے عدم موجودگی کی وجہ سے گیسٹرو اور دوسری بیماریوں میں مرنے کے لئے چھوڑ دیا؟ کیا یہ لوگ واپس آ کر نعرے لگا کر گلیوں میں ناچیں گے ؟ جنکے پیارے انکی آنکھوں کے سامنے سیلاب نے نگل لئے ۔ کیا وہ کسی سیاسی دھوکے میں آ کر اپنے آپ کو قربان کریں گے ، کیا یہ لوگ اپنا سب کچھ لٹا کر ووٹ دینے والوں کی قطار میں لگیں گے ؟
سندھ کے صحافی ، ادیب یا شاعر یا عام آدمی بھی یہ نہیں سوچ سکتا، اور اگر کوئی ایسا سوچے تو وہ احمقوں کی جنت میں ہے ، ووٹ لینے والوں کے پاس اتنا وقت ہی کہاں ہے کہ وہ دنیا کے انقلابوں پر سرسری سی نظر ڈال کر آنے والے طوفان کو محسوس کر سکیں۔ مگر انہیں بھولنا نہیں چاہیے کہ جب بپھرے ہوئے عوام اٹھتے ہیں تو بقول شاعر “اک کھیت نہیں ، ایک دیس نہیں ، ہم ساری دنیا مانگیں گے“ کے مصداق دنیا کے تاجداروں کو ایسے ٹھوکروں میں رکھیں گے کہ انہیں کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
سیلاب زدگان کے لئے ابھی وطن کارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے ، جس میں بیس ہزار دئیے جائں گے ، ایک تو سبھی سیلاب زدگان کو وطن کارڈ ملنے کا امکان نہیں ، اور اگر اتفاق سے مل بھی گیا تو کراچی اور حیدرآباد کے کیمپوں میں رہنے والے خاندانوں کو واپس پہنچنے کے بعد کتنے پیسے بچیں گے کہ وہ زندگی کے کچھ دن بھی گذار سکیں ؟ اور دربدر ہوئے سیلاب زدگان کے اندر جو انارکی جنم لے گی وہ کیا رنگ لائے گی ، کیونکہ بھوک ایک ایسا درد ہے جو داناؤں کو بھی دیوانہ کر دیتا ہے ، اسی لئے ان لوگوں کے صبر کا امتحان نہیں لیا جانا چاہیے بلکہ انکی مکمل بحالی کا انتظام کرنا چاہیے ۔
سندھ میں اب نہ تو شہید ذوالفقار علی بھٹو جیسی مقناطیسی شخصیت موجود ہے ، اور نہ ہی شہید بینظیر بھٹو جیسی باوقار سیاست دان، اس لئے اگر سیلاب زدگان کو مطمئن کئے بنا الیکشن ہوئے تو اس میں سب سے زیاد نقصان پیپلز پارٹی کو ان سندھی آبادی والے ان علاقوں میں ہے جہاں وہ پچھلے الیکشن میں جیتی تھی ، اور اسے کبھی انتنے ووٹ بھی نہیں ملیں گے۔ ایک طرف کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم زیادہ سیٹیں لے لے گی ، اور دوسری طرف ذاتی اثر رسوخ والے ووٹ حاصل کر کہ اسمبلی میں جا بیٹھیں گے۔ اندرون سندھ میں قومی جماعتوں کا کوئی اثر نہیں ہے ، پنجاب میں نواز شریف موجود ہے ، بلوچستان سے لیکر خیبر پختون خواہ میں بھی نواب اکبر بگٹی ، عطااللہ مینگل ، ولی خان اور مفتی محمود سے آج تک اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرھمان جیسے مذہبی اور قوم پرست اسمبلیوں میں آتے رہے ہیں ، جسکی وجہ سے مذہبی اور قوم پرست قیادت حکومتوں کا حصہ رہی ہے ، لیکن سندھ کے اندر سندھی آبادی کا ووٹ بینک پیپلز پارٹی کی طرف رہا ہے ، اور اگر ان حالات میں سندھ کا ووٹ اگر بکھرا تو سندھ کے اندر کیا منظر نامہ بنے گا ، اس پر سوچنے کی ضرورت ہے ، سندھ کی سوچ میں تبدیلی کو غیر جمھوری قوتیں اپنے مفاد میں استعمال کر سکتی ہیں ، جو کہ نہایت خطرناک عمل ہو گا، اور اس سوچ کی تبدیلی کا فائدہ قوم پرست دھڑوں کو بھی مل سکتا ہے
سیلاب کی صورت حال کے بعد یہ بدلتی سوچ پیپلز پارٹی اپنی طرف کر سکے گی یا اس میں سیاسی قیادت کا خلا پیدا ہو گا؟ اور اگر سندھ میں یہ خلا پیدا ہوا تو کونسی پارٹی یا شخصیت ہے جو اس خلا کو پُر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ، اس حالت میں سندھ کی بدلی ہوئی سوچ نئی سیاسی دھڑے کو بھی جنم دے سکتی ہے ، پیپلز پارٹی کی سرکار کو اس پر ضرور سوچنا چاہیے، اور یہ کبھی بھی بھلانا نہیں چاہیے کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا ، اور سیلاب کے بعد بدلی ہوئی سوچ والے نئے سندھ کو کبھی بھی رد نہیں کیا جا سکتا ۔

اظہر الحق آپکا شکریہ کہ آپ زیب سندھی کو کسی طرح عالمی اخبار پر لے آئے۔ مجھ فقیر آدمی کے جو زندگی میں معدودے چند فخر ہیں زیب سندھی بھی ان میں سے ایک ہے۔ زیب نشریات کی دنیا میں میرا”شاگرد” ہے حالانکہ وہ خود اب استاد ہے لیکن آج بھی جو عزت وہ مجھ فقیر کو دیتا ہے وہ بہت کم اساتذہ کا مقدر ہوتی ہے۔
زیب سندھی کی تخلیقی صلاحیتوں کا میں اکیڈیمی کے زمانے سے ہی معترف رہا ہوں اور اس نے بہت لمبا سفر بہت جلد طے کیا ہے۔ پروردگار اسکو ہر قدم کامیاب رکھے۔ میری یہ بھی عزت ہے کہ زیب نے میری ایک غزل سندھی میں بھی ترجمہ کی ہے۔ اظہار الحق آپ کا ایک بار پھر شکریہ۔
زیب سندھی کے اس کالم میں یہ فقرہ بہت دور کی خبر دے رہا ہے سمندر کی تہہ میں چھپے طوفان کی طرح
”ایک طرف تبدیلی کی باتیں ہو رہیں ہیں اور دوسری طرف اس منظرنامے میں سیلاب میں سندھی عوام کی سوچ بھی تبدیل ہو رہی ہے ۔ اور اس سیلاب نے نہ صرف سندھ کے ستر لاکھ سیلاب متاثرین کو دربدر کیا ہے ، بلکہ اس سے زیادہ تعداد میں سندھی عوام کی سوچ میں اُتھل پتھل آئی ہے ، اور سندھ کے اندر اسی اتھل پتھل کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا”۔۔
ہمدانی بھائی ، مجھے توآپ کا شکر گذار ہونا چاہیے کہ آپ نے مجھے اتنی عزت دی ، ورنہ میں تو ایک عام سا طالب علم ہوں ، جس نے قلم کو ابھی صحیح سے پکٹرنا بھی نہیں سیکھا، اور زیب سندھی جیسے لکھنے والوں سے تعلق میرے لئے فخر کی بات ہے ۔ میں صفدر بھائی اور نگہت بہن کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے مجھ جیسے طفل مکتب کو اپنی ٹیم کا حصہ بنایا۔
—————————————————–
تبدیلی جہاں سارے ملک میں نفوذ پزیر ہوتی جا رہی ہے ، وہاں سندھ میں اسکا ایک ہراول دستہ بنایا جا رہا ہے ، اور پیپلز پارٹی جسکا سندھ میں اثر بہت ہی زیادہ ہے ، اس بدلتی ہوئی سچویشن میں زیب سندھی نے جو تصویر پیش کی ہے وہ سندھ کی سیاست اور سماجیات پر گہری نظر رکھنے والے کا ہی کمال ہے
ماضی سے حال تک کی کڑیاں ملاتے ہوئے ، زیب صاحب نے بدلتے ذہنوں پر لکھا ہے ، اور انکے اس تجزیے پر غور کرنا چاہیے
درج بالا مضمون پڑھا، ماشاء اللہ، حالات کو بہت قریب سے دیکھ کر بات کی گئی ہے، آئندہ حالات کا تجزیہ بھی امکانات سے قریب تر ہے، لیکن
ہر انسان کی سوچ مختلف ہے اگر میرے خیال میں واقعات کی اصل کچھ اور ہے یا مستقبل میں حالات کا کسی اور سمت مُڑ جانا زیادہ ممکن ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں مضمون نگار سے اختلاف کر رہا ہوں، بلکہ وہ حقائق جو آشکار نہ ہوں، چھپے ہوئے ہوں یا مستقبل کے بارے میں اندازہ لگانا وغیرہ وغیرہ، ایسے عنوانات ہیں جن میں خیالات کا مختلف ہونا ایک قدرتی امر ہے-
جن باتوں میں، میں مضمون نگار کا ہم خیال ہوں، ان کی دو مثالیں:
مضمون نگار کے اس جملہ سے میں سو فی صد متفق ہوں کہ “جب بپھرے ہوئے عوام اٹھتے ہیں تو بقول شاعر “اک کھیت نہیں ، ایک دیس نہیں ، ہم ساری دنیا مانگیں گے“ کے مصداق دنیا کے تاجداروں کو ایسے ٹھوکروں میں رکھیں گے کہ انہیں کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔”
پہلے بھی کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ میری نظر میں وطنِ عزیز کے حالات کو سدھارنے کا واحد حل، “انقلاب” ہی ہے-
میں اس بات سے بھی بالکل متفق ہوں کہ : “سیلاب زدگان کے صبر کا امتحان نہیں لیا جانا چاہیے بلکہ انکی مکمل بحالی کا انتظام کرنا چاہیے ۔”
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اب مثال کے طور پر ایک نکتہ جس پر میرا خیال ذرا مختلف ہے (مضمون نگار اور محترم اظہر الحق صاحب سے معذرت کے ساتھ):
یہ جملہ کہ “سندھ کی سوچ میں تبدیلی کو غیر جمہوری قوتیں اپنے مفاد میں استعمال کر سکتی ہیں” ذرا وضاحت طلب ہے، کیا مطلب یہ ہے کہ ملک کی بقا جمہوریت میں مضمر ہے ؟ میں ذاتی طور پر “نام نہاد جمہوریت” کو کسی بھی آمریت سے زیادہ مہلک سمجھتا ہوں بطور دلیل آج ہی کی جمہوری حکومت کی کارستانیاں ملاحظہ فرما لیجیے، میری نظر میں سوائے ذوالفقار علی بھٹو شہید (نور اللہ مرقدہ) کے کوئی حکومت ایسی نہیں گزری جسے ہم جمہوری کہہ سکیں کیوں کہ میری نظر میں انتخابات کا ڈھونگ رچا کر کسی ایک کے حوالے حکومت کر دینا جمہوریت ہرگز نہیں بلکہ جمہوریت کا مطلب ایسا نظام ہے جس میں عوام کی مرضی، عوام کی رائے اور عوام کے مفادات ہی پیشِ نظر ہوں، اگر کوئی نام نہاد الیکشن جیت کے حکومت کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے کر صرف اپنی جیب ہی بھرے تو وہ جمہوریت ہرگز نہیں، بلکہ آمریت کی بدترین قسم ہے، ایک آفت ہے، ایک خونخوار عفریت ہے-
پھر اشارہ کن غیر جمہوری قوتوں کی طرف ہے ؟ مارشل لا ؟ اس کے لیے فوج کا سندھی عوام کی حمایت کی قطعاً ضرورت نہیں، بلکہ وہ کسی کی طرفداری کی احتیاج کے بغیر بھی وارد ہو سکتے ہیں-
کاش کہ زیب سندھی صاحب بھی عالمی اخبار میں باضابطگی کے ساتھ کچھ نہ کچھ لکھتے رہیں ۔
عالمی اخبار میں لکھنے سے کوئی مالی فائدہ تو نہیں ہوگا مگر ہزاروں پڑھنے والوں کے علم میں ضرور اضافہ ہوگا ۔
امید ہے کہ زیب سندھی صاحب ہم جیسے عام انسانوں کے لیے نہیں تو کم از کم اپنے مشفق استاد کی قدر افزائی کی خاطر ہی کچھ نہ کچھ اس اخبار میں عطا کرتے رہیں گے ۔
اظہر الحق صاحب نے زیب سندھی صاحب کے سندھی مضمون کو اردو میں عطا کرکے اپنی سندھی دانی کا بہتریں ثبوت تو دے دیا ہے ۔اب زیب سندھی صاحب کی اردو دانی کا نمونہ پڑھنے کی خواہش ہے ۔