ماوان ٹھنڈیاں چھاواں

happy_mothers_day.gif
اسلام علیکم سب بلاگرز کو ، آج 22 مارچ کو یوکے میں ماؤں‌ کا عالمی دن منایا جا رہا ھے ، اس پے بحث کیے بنا کہ ماں سے محبت کسی دن کی محتاج نہیں ہے،یا یہ کسی کی تقلید ھے، یا منانا صحیح ھے کہ نہیں، یا یہ وہ ،،،،،،
میں نے سوچا ھے کہ یہاں اس دن کے حوالے سے اپنی ماں کے لیے اپنے جذبات کا اظہارسب اپنی خود کی یا پسندیدہ شاعری میں کریں۔
تو میں بکلم خود بسم اللہ کرتی ھوں 🙂

ابھی میں اک پنجابی کی قوالی سن رہی ھوں راحت فتح علی خان کی ، وہ لکھتی ھوں ماں کی عنوان سے، پنجانی تحریر میں کوئی غلطی کی پہلے سے معزرت 🙂

تسی راضی جے اپنڑاں رب کرنا
مان دی خدمت رجھ رجھ کرنا
آپڑیں ماں نوں پیار نال ویکھ لینڑاں
کار بییٹھیاں جنے وی حج کرنا

جدوں توں کسے دا میں ناں لینڑاں سکھییا
رب کینڑے نالوں پیلاں ماں کینڑاں سکھییا

گل نی سی آوندی سی ، موں کھولنڑاں نہیں آوندا سی
اودھو کییا ماں جدوں بولنڑاں نہی آونداں سی
پیراں اوتوں بیٹھنڑ توں پیراں تے کھلونڑ تک
ماں میری کدی وی نہیں سُتی میرے سونڑ تک

اک وی نا دکھ نیڑے آونڑ جنے دتا اے
وال بھی نا ویگھا میرا ھونڑ جنے دتا اے
آپ رہ کے پکھیاں تے مینوں او رجونڑ والی

سنڑیان زمانے وچ فرشتے وی ھوندے نے
نال ساہ لینڑ والے رشتے وی ھوندے نی
ماں نوں میں ویکھیا ، فرشتہ نہی ویکھیا
مان نالوں وڈھا کوئی رشتہ نہیں ویکھیا

جیدیاں میں ساواں نال ساہ لینڑاں سکھیا
رب کینڑے نالوں پیلاں ماں کینڑاں سکھییا

،،،،مزید اس لنک پے سن لیں، شکریہ
http://www.youtube.com/watch?v=W-ILhLVLT2g (حصہ اول )

http://www.youtube.com/watch?v=BYstm3EV65Y&feature=related(حصہ دوم)
گود ماں دی اے درس گاہ پیلی
ایتھوں زندگی دا نصب العین بنڑھدا
ایتھوں داتا، خواجہ، فرید ورگے
دکھی دلاں دے واسطے چین بنڑھ دا
شرم و حیا دی ماں جے ھووے پیکر
فیر پتر وی غوث، ثقلین نبڑھدا
سیدا خاتونِ جنت جے ماں ھووے
فر لال بھی سخی حسین بنڑھدا
ماوان ٹھنڈیاں چھاواں ۔۔
جدوں تینوں سکون دی لوڑ ھووے، پیر ماں دے توہ کے پی لیا کر۔۔
ماوان ٹھنڈیاں چھاواں

8 thoughts on “ماوان ٹھنڈیاں چھاواں”

  1. ماں

    موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں
    تب کہیں جاکر ذرا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں

    ہرعبادت ہرمحبت میں نہاں ہے اک غرض
    بےغرض بے لوث ہرخدمت کو کرجاتی ہےماں

    ہڈیوں کا رس پلاکر اپنےدل کےچین کو
    کتنی ہی راتوں میں خالی پیٹ سوجاتی ہے ماں

    صفحہء ہستی یہ لکھتی ہےاصولِ زندگی
    اسلئے اک مکتبِ اسلام کہلاتی ہے ماں

    جب پریشانی میں گھرِ جاتے ہیں ہم پردیس میں
    آنسؤں کو پونچھنے خوابوں میں آجاتی ہے ماں

    ایسا لگتا ہے کہ جیسے آگئے فردوس میں
    بھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہےماں

    مرتے دم بچہ نہ آپائے اگر پردیس سے
    اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پہ رکھ جاتی ہے ماں

    پیار کہتے ہیں کسے اورمامتا کیا چیز ہے
    کوئ اُن بچوں سے پوچھے جنکی مرجاتی ہے ماں

    چاہے ہم خوشیوں میں ماں کو بھول جائیں دوستو
    جب مصیبت سر پہ آتی ہے تو یاد آتی ہے ماں

    بعد مرجانے کے پھر بیٹے کی خدمت کیلئے
    بھیس بیٹی کا بدل کر گھر میں آجاتی ہےماں

    گم رہی کی گرد جم جائے نہ میرے چاند پر
    بارشِ ایمان میں یوں روز نہلاتی ہے ماں

    مرتبہ ماں کا ہو ظاہر اسلئے فردوس سے
    اپنے بچوں کیلئے پوشاک منگواتی ہے ماں

    دے کے اپنے لعل کو اسلام کی آغوش میں
    گود خالی پھر سوئے جنت پلٹ جاتی ہے ماں

    شکریہ ہو ہی نہیں سکتا کبھی اُسکا ادا
    مرتےمرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں

    یہ بتا سکتی ہے ہمکو بس ربابِ خستہ تن
    کس طرح بن دودھ کے بچوں کو بہلاتی ہے ماں
    سید رضا سرسوی

  2. ماں کے آنسؤں پر اک شعر

    انِ آنسؤں کا رِتبہ کیا پوچھتے ہو میں نے

    جب بھی مجھے ملے ہیں اِن سے وضو کیا ہے

  3. اے ماں۔۔۔۔۔۔تیرا مرتبہ سدا اونچا رھے۔تو سلامت رکھے تا قیا مت رھے۔۔۔۔

  4. A beautiful poem in urdu! Although it’s lost its sweetness in English, I’ve still tried my best to translate it

    Maa
    (Mother)
    موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں
    تب کہیں جاکر ذرا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں
    (When a mother goes to sleep in the lap of death,
    That’s when she really gets a little bit of peace/rest)

    فکر میں بچوں کی کچھ اس طرح گھل جاتی ھے ماں
    نوجوان ھوتے ھوئے، بوڑھی نظر آتی ھے ماں
    (A mother becomes so involved in the worries of her children,
    That even though she’s young she seems to look old)

    اپنے بہلو میں لٹا کے، روز طوطے کی طرح
    ایک، بارہ، پانچ، چودہ ھم کو رٹواتی ھے ماں
    (She makes us sleep on her lap and every day like a parrot
    She makes us memorize 1, 5, 12, 14)

    گھر سے جب پردیس جاتا ھے کوئی نورِ نظر
    ھاتھ میں قرآن لے کر در پے آ جاتی ھے ماں
    (When any child leaves home to go to another country
    A mother comes to the door with a Qur’an in her hand (to bless the child))

    چاہے ھم خوشیوں میں ماں کو بھول جاہیں دوستو
    جب مصیبت سر پے پڑتی ھے تو یاد آتی ھے ماں
    (Even though we might forget our mother when we are really happy,
    But when we have a problem on our heads, we always remember our mother)

    پیار کہتے یہں کسے، اور ممتا کیا چیز ھے
    کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر جاتی ھے ماں
    (What is love and what is motherhood?
    Ask the person who has lost their mother)

    شکریہ ھو ھی نہیں سکتا کبھی ماں کا ادا
    مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ھے ماں
    (We can never thank our mom for what she did
    Because even when she is dying she will pray for our lives)

  5. کیا اچھا نظام ہے کہ ایران میں بنت رسول خاتون جنت سیدہ فاطمہ سلام اللہ کے یوم ولادت پر ….مدرز ڈے یعنی یوم مادر منایا جاتا ہے. میرے ایک مرثیے کا ایک مصرعہ ہے…… معراج ساری ماؤں کی بنت رسول ہے…………..

  6. یہاں کتنے ھی ایسے لوگ ھیں جو اپنی ماؤں کے ساتھ صرف مدرز ڈے مناتے ھیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ھیں جو اپنی ماؤں کی قبروں پہ روز مدرز ڈے مناتے ھیں۔

    ماں ، میری پیاری ماں
    میں تجھے پاؤں کہاں
    تیری دعاؤں کا بادل
    ابٍر بہار کی مانند
    میرے ساتھ چلتا تھا
    تیرا پیار بے مثل
    مجھے سب سے بے نیاز رکھتا تھا
    میری ننھی ھتیلیاں تیری گرم مٹھی میں بند تھیں
    تیرے ساتھ تیری آنکھیں بھی نظریں اتارتی تھیں
    مجھے یاد ھے اب تک
    میں گر پڑا تھا
    توں نے اٹھا لیا تھا
    میں رو پڑا تھا
    توں نے ھنسا دیا تھا
    میں خفا ھو گیا تھا
    توں نے منا لیا تھا
    سر پہ دھوپ آ گئی تھی
    توں نے آ نچل دے دیا تھا
    میں تھک گیا تھا
    توں نے دامن بچھا دیا تھا
    میں بھوک سے رورھا تھا
    توں نے نوالہ اپنا دے دیا تھا
    میں بے علم اور جاھل تھا
    توں نے افسر بنا دیا تھا
    میں پردیس جا رھا تھا
    توں نے حوصلہ دے دیا تھا
    جدائی میں عجب حال تھا
    توں نے صبر سکھا دیا تھا
    میری ماں
    تیری یاد میں رو رھا ھوں
    جانے کس سمت چل رھا ھوں
    کیسے کہہ دوں
    کیسے یقین کر لوں
    میری دعاؤں کا بادل
    مٹی میں کہی گم ھوگیا ھے
    ماں ، میری پیاری ماں
    کیا کروں
    اب سفر بہت کڑا ھو گیا ھے ۔
    ۔۔(نگہت نسیم)

  7. میں خوشبو کا دیوانہ خوشبو ماں کی ڈھونڈوں
    دور بہت وہ مجھ سے ہے قربت اُُسکی ڈھونڈوں
    میں راتوں کو جاگوں، میں کروٹ میں سوچوں
    میں اندھیار کاباسی، روشنی صبح کی ڈھونڈوں

  8. اللہ اکبر
    بہت اچھا لکھا ہے سب نے، لیکن ان بد نصیبوں کی کیا کیفیت ہو گی جو ماں کی گود کی ٹھنڈک اور ماں کے پاوں کے لمس سے دور ہیں اور یہ دوری بھی عاضی نہیں،آنسوءں کا نذرانہ ہی پیش کیا جا سکتا ہے بس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *