خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

آج دل بہت اداس ھے جب سے آغا سایئں رحمت نے مجھے یہ ای میل عالمی اخبار کے لیئے بھیجی ھے ۔۔آغا جی اپنے بھتیجے کا زکر کرتے ھوئے لکھتے ھیں ۔۔

20 مارچ بروز جمعہ طارق حسین کو لین شوپنگ (سویڈن) کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ طارق کا انتقال 28فروری کو دل کی اچانک دھڑکن بند ہو جانے کی وجہ سے ہوا۔
طارق کی عمر صرف 23 کی تھی۔ طارق میڈیسن میں دوسرے سال کا طالعلم تھا۔ نہایت خوش اخلاق اور ہر ایک سے محبت سے ملتا تھا۔ اسی وجہ سے صرف اپنے عزیزوں میں ہی نہیں بلکہ دوستوں میں بہت مقبول تھا۔ پاکستانی کھانے بہت شوق سے کھاتا تھا۔ اپنی تعلیم کے علاوہ طارق پیانو بھی بہت اچھا بجاتا تھا۔
طارق کے والد امدا حسین صاحب نے لاہور سے انجنیئرنگ کی تھی۔ کافی عرصہ پاکستان میں اسی شعبہ سے منسلک رہے۔ 1971 میں سویڈن آگئے اور یہاں سے نیشنل اکنامکس میں Ph.D کی۔ آج کل سویڈن کی ایک یونیورسٹی میں بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر کام کر رہے ہیں۔ طارق کی والدہ مقامی خاتون ہیں اور آرٹ کے ٹیچرز ٹریننگ کالج میں بحثیت ٹیچر کام کرتی ہیں۔
طارق نے اپنے والدین ، بھائی و بہن اور نزدیکی اقرباء کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ طارق کی تدفین میں پاکستانیوں کے علاوہ طارق کے سویڈش دوستوں نے بھی حصہ لیا۔ طارق کے دوستوں نے یونیورسٹی میں مرحوم کی یاد میں دن بھی منایا۔
میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کا مشکور ہوں کہ اس دکھ اور غم کے موقع پر سب نے تعزیت کی۔
کچھ احباب نے فون پہ تعزیت کی اور کچھ نے بنفسٍ نفیس سویڈن میں پہنچ کر طارق کی آخری رسومات میں حصہ لیا۔
برادرم محترم مناف غلزئی صاحب نے مرحوم کے لئے دعا کا خصوصی اہتمام کیا۔ سویڈن کی تمام مساجد میں ہمارے بھائیوں نے دعا کروائی۔
برادرم جعفر صاحب، نوید بٹ صاحب، مقبول صاحب، انور صاحب ، معین بھائی اور دیگر احباب نے اس موقع پر شرکت کر کے اپنایت کا اظہار کیا ۔ قبلہ صفدر ہمدانی صاحب نے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود مجھے ہر وقت یاد رکھا اور سفر کے باوجود روز ہی فون کر کے حوصلہ دیتے رہے۔ اس طرح ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے بھی اپنی شرکت سے غم کا اظہار کیا اور حوصلہ بڑھاتی رھیں ۔
میں بھائی امداد حسین ، سایئں عبد الجبار اور اپنے سب خاندان کی طرف سے سب احباب کا مشکور ہوں۔
ہماری دعا ہے کہ خداوندٍ عالم سب احباب کو بحقٍ محمد(ص) و آلٍ محمد(ص) کو کوئی غم نہ دے سوائے غمٍ حسین علیہ السلام کے ۔ آمین

15 thoughts on “خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں”

  1. جب احمد مرسل(ص) نہ رہے تو کون رہے گا،،، ،، ،
    انا للہ و انا علیہ راجعون
    دل بہت اداس ھو گیا ھے ، یہ بلاگ پڑھ کہ اور پھر تصویر دیکھ کے تو واقعاً آنسو رک نہیں پائے ،
    اللہ تعالیٰ سایئں رحمت کے بھتیجے طارق حسین کی مغفرت فرمائے اور اللہ تعالی انکو اپنی رحمت خاص سے جنت فردوس میں داخل کرے (آمین) اور انکے عزیز و اقارب کو صبرجمیل عطاء کرے،اور ان کو بحقٍ محمد(ص) و آلٍ محمد(ص) کے کوئی غم نہ دے سوائے غمٍ حسین علیہ السلام کے ۔ آمین (آمین ثم آمین)

  2. ایسے ہی سانحات پر کسی کے شعر کا یہ مصرعہ یاد آتاہے :” حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بِن کِھلے مرجھا گئے ”
    اللہ مغفور کو جنت میں جگہ دے اور اسکے والدین اور تمام بہی خواہوں کو صبر عطا فرمائے ۔
    جانا سب ہی کو ہے مگر قبل از وقت جانے والے پر دل روتا ہے۔
    میں سائیں رحمت علی صاحب اور انکے تمام رشتہ داروں کے غم میں برابر کا شریک ہوں اس لیے بھی کہ گذشتہ سال نومبر میں میرا بھتیجا بھی قبل از وقت چلا گیا۔
    افسوس صد افسوس

  3. انا للہ و انا الیہ راجعون
    میں تمام قارئین سے ملتمس ہوں کہ مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے اول و آخر تین تین بار صلوات کے ساتھ سورہ فاتحہ ایک بار اور سورہ اخلاص تین بار تلاوت فرمائیں۔
    سائیں جی جو باتیں آج ہم آپ سے کہہ رہے ہیں، یقیناً کل آپ کو ہم سے کہنی پڑیں گی۔
    میں جانتا ہوں موت ہے سنت رسول (ص) کی ۔۔۔

  4. یہ افسوسناک خبر پڑھ کر یقین کریں۔میں ابھی تک رو رہی ھوں۔مجھے یوں لگا۔کہ جسے مجھ سے میرا پیا را بھائ بچھر گیا ھو۔اور تعژیت کے لیے میرے پاس الفاظ نیں۔میرا یہ حال ھے۔ تو انکے خاندان کا کیا حال ھو گا۔میری طرف سے ان کے خاندان کو صبر و جمیل اور غم برداشت کر نے کا حو صلہ عطا فرماے۔آمین ثم آمین۔اور خدا آغا سایئں رحمت کے بتیجیے کی مغغرت کرے۔اور خداو ند کر یم ان کے خاندان کو مزید غموں اور دکھو ں سے بچاے ۔آمین

  5. انا للہ و انا الیہ راجعون
    کافی افسوس ناک بلاگ ہے!
    خدا اُن کے عزیز و اقارب کو حوصلہ عطا کرے!
    قابل، ذہین اور نوجوان موت مجھے ہمیشہ دکھی کر دیتی ہے!

  6. انا للہ و انا الیہ راجعون، انتہائی افسوس ہوا ایک نوجوان موت کے بارے میں یہ پڑھ کر، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائیں بالخصوص انکے والدین کو۔

  7. یا اللہ طارق حسین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ مرحمت فرمائے اور انکے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرئے آمین ثم آمین

  8. سیارہ پر ہمیشہ کی طرح چکر لگاتے ہوئے قدم اس بلاگ پر آکر روک گے جو نگہت صاحبہ نے جناب ساہیں کے جواں سالہ بھتیجے کی اچانک موت کے بارے میں پڑھ کر بہت دکھ ہوا ۔ اللہ پاک کسی کو اولاد کا دیکھ نا دے ۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ طارق حیسن کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمایے ۔ اور گھر والوں کو صبرِ جیمل ۔ یہ ایسا دکھ ہے ۔ جس کو الفاظ کم تو نہیں کر سکتے ۔ لیکن ہم سب نے جانا ہے کوئی آگے تو کوئی پیچھے ۔ یہ اللہ تعالی کے راز ہیں وہی جانے ۔بس نیکی کی توفیق عطا فرمائے

  9. منظور قاضی صاحب آپکے بھتیجے کا سن کر دکھ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے- خد ا وند کریم آپکو اور ہم کو ہمت اور حوصلہ دے اور مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ دے – آمین-
    موت بر حق ہے- ثنا نے بلکل صحیح لکھا ہے کہ ختم مرسل(ص) بھی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے- پیغمبر بھی وہ کہ جن کے صدقے میں یہ سب کچھ ہے- آپ کی رحمت کے طفیل تمام جہان ہیں- ہم سب نے ایک دن جانا ہے-
    خدا ہم سب کو نبی کریم(ص)‌ کی سنت پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے- الاہی آمین-
    آپ سب کے تعزیتی پیغام پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ سب اس وقت میرے پاس موجود ہوں- میری ہزارہا غلظیوں اور خطاکاریوں کے با وجود آپ سب نے میرے لئے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے- اپنایت اسی کو کہتے ہیں- میرے دل سے آپ سب کے لئے بہت سی دعایئں نکل رہی ہیں- خدا پاک آپ سب پر اور سب مسلمانوں پر اپنی خصوصی رحمتوں کا نزول فرمائے- الاہی آمین-

  10. رحمت جی زندگی میں بہت کم ایسے مقامات ہیں جہاں الفاظ دم توڑ جاتے ہیں اور یہ ایسا ہی مقام ہیں. اللہ تعالیٰ نوجوان کو جوار علی اکبر میں جگہ دے اور آپ سب کو صبر جمیل عطھ فرمائے

  11. انا للہ و انا الیہ راجعون!!
    سائیں بہت افسوس ھوا با خدا نوجوان کی موت سن کے
    شہزادہ علی اکبر علیہ السلام کی شہادت یاد آ جاتی یے بے شک پروردگار طارق کو مولا علی اکبر علیہ السلام کا قرب عطا فرمائے اوربی بی پاک علیہ السلام کی نظر کرم عطا فرمائے آمین
    بہت معزرت مجھے یہاں پر ہی پتہ چلا ہے میں علی کو ضرور بتاوں گی وہ آپ کو فون کر کے تعزیت کرلیں
    بے شک پروردگار مومنین و مومنات کو بی بی پاک کا قرب ضرور عطا فرماتا ھے

    مہتا ج دعا

    آپکی بیٹی ماریہ علی
    cph

  12. شکریہ ماریہ مولا پاک سلامت رکھیں۔ میں نے کل اپنا ای میل اڈریس لکھ دیا تھا اس پہ رابطہ کر لینا۔ میں معذرت چاہتا ہوں کہ طارق کے انتقال کی خبر آپکو نہیں کر سکا۔ بس دعا کریں کہ خدا وندٍ کریم ہم کو یہ ِصدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔ جتنی دعائیں طارق کے لئے کی گئی ہیں ان دعاوں کے صدقے میں اللہ یقینن طارق کو جوارٍ معصومین میں جگہ عطا کریں گے۔ آمین۔
    اللہ آپ سبکو آباد و شاد رکھے ۔ آمین

  13. طارق حسین کی تصویر کو غور سے دیکھتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو زندہ ہے ، وہ نظروں سے دور تو ہوگیا مگر دلوں سے دور نہیں ہوسکے گا۔ وہ معصوم بچہ ایک پھول کی طرح ہے جو ہمیشہ سدا بہار رہے گا ۔ وہ تو صرف دوڑ لگاکر سب سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ گیا مگر وہ زندہ ہے ۔ ۔
    اللہ اسے کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین یا رب العالمین

  14. سائنن آپکے بھتیجے کی وفات کی خبر سن کر سکتے میں آ گیا الفاظ نہیں کہ کچھ کہ سکوں بے شک موت ایک تلخ حقیقت ہے مگر جواں موت کا صدمہ اسی کو معلوم ہوتا ہے جس پر یہ حادثہ گزرتا ہے میں آپ کے دکھ میں برابر شریک ھوں اور دعا گو ہوں کہ خدا وند کریم تمام گھر والوں کو معصومین علیہ ا لسلام کے صدقے میں صبر عطا کرے اور مرحوم کو مععصومین علیہ ا لسلام کے قرب میں جگہہ عطا کرے آمین ثمَ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *