امامت کی چھٹی منزل، حضرت امام جعفرصادق۱۷ ربیع الاول ۸۳ھ میں اس دنیا میں ظاہری متولد ہوئے۔
پدر بزرگوار حضرت امام محمد باقرؑ اور مادر گرامی حضرت امِ فروہؑ ہیں ۔ آپ کا نام جعفر کنیت ابو عبداللہ اور القاب صابر ،فاضل ، طاہر اور مشہور ترین لقب صادق ہے
بسند معتبر روائیت ہے کہ امامِ صادقؑ نے فرمایا کہ امام کے بارے میں کچھ کلام نہ کرو ۔ کہ تمھاری عقلہائے ناقص وہاں تک نہیں پہنچ سکتے جو امام جانتا ہے ۔ امامؑ جب شکمِ مادر میں ہوتا ہے لوگوں کے کلام سنتا ہے۔
آنحضرتؑ کو دین کی ترویج کے لے زیادہ وقت ملا آپ کے بیشمار شاگرد ہوئے ۔ ان میں سے چند تو بعد میں امام بنائے گئے، مثلاً امام مالک اور امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے شاگرد امام شافعی اور امام شافعی کے شاگرد امام حنبل مسلمانوں کے امام بنے۔
منصور دوانقی نے بارہا آنحضرتؑ کو اپنی راہ سے ہٹانا چاہا مگر بحکمِ الٰہی اپنے اس عمل میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اس بات کا اس نے خود اعتراف کیا ہے معلون کہتا ہے کہ میں جب بھی آنحضرت کو قتل کرنے کی کوشش کرتا حضرت محمد کو اپنے سامنے سروپا برہنہ دیکھتا تھا۔
آپ کے بیشمار معجزات ہیں ۔ اختصار کے ساتھ یہاں چند بیان کرتے ہیں
محمد بن عبداللہ سکندری جو کہ منصور دوانقی کے خاص مصاحب میں سے تھاکہتا ہے کہ ایک روز اس کے پاس گیا تو اس کو نہایت مغموم پایا اس کے دریافت کرنے پر اس ملعون نے کہا کہ میں ایک سو سے زائد اولادِ فاطمہؑ کو ہلاک(شہید) کر چکا ہوں مگر ان کا سردار باقی ہے میں نے کہا کہ وہ کون ہے اس نے کہا وہ جعفر بن محمدؑ ہیں اور میں جانتا ہوں کہ تو ان کی امامت پر یقین رکھتا ہے میں بھی ان کی بزرگی جانتا ہوں مگر میں نے قسم کھائی ہے کہ قبل از شام اس اندوہ سے فارغ ہو جاوں ، راوی کہتا ہے کہ میں یہ سن کر بہت غمگین ہوا اس شقی نے جلاد کو بلا کر حکم دیا کہ جب میں جعفر بن محمدؑ کو بلاوٗں اور باتوں میں لگا کے اپنی ٹوپی سر سے اتار کر زمین پر رکھوں اسی وقت ان کو قتل کر دینا ، پھر اسی وقت آنحضرتؑ کو طلب کیاجب امامؑ داخلِ قصر ہوئے میں نے دیکھا وہ قصر مثلِ کشتی متحرک ہوا، ناگاہ منصور اٹھ کے حضرتؑ کے استقبال کو سروپا برہنہ دوڑا کبھی سرخ ہوتا تو کبھی زرد، تمام بدن کانپتا تھا۔ پھر حضرتؑ کو نہایت آرام اور اعزاز کے ساتھ لا کے اپنے تخت پر بٹھایا اور دوزانوں ہو کر بمثلِ غلام آپؑ کی خدمت میں بیٹھا اور کہا یاابن رسول اللہ آپ کیوں تشریف لائے ، آپؑ نے فرمایا بااطاعت خدا ور اس کے رسول تیرے کہنے سے آیا اس معلون نے کہا کہ میں نے آپ کو نہیں بلایا اگر کوئی حاجت ہو تو بتائیں ۔ آپ نے فرمایا میری حاجت یہ ہے کہ مجھے بلا ضرورت نہ بلایا کر۔پھر امام باہر تشریف لے آئے راوی کہتا ہے کہ آدھی رات کہ بعد وہ شقی نیند سے بیدار ہوا اور نماز پڑھنے لگا نماز سے فارغ ہو کر مجھ سے مخاطب ہوا ۔ کہ جس وقت میں نے امامؑ کو قتل کے ارادے سے بلایا اور امامؑ میرے قصر میں داخل ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا اژدہا ظاہر ہوا اور اس نے اپنا منہ کھول کر اپنے اوپر کا تالو کھول کر بالائے قصر اور نیچے کا تالو زیرِ قصر رکھ کر اپنی دم قصر کے گرد گمائی اور بزبانِ عربی فصیح مجھ سے کہا کہ اگر امامِ صادقؑ سے بدی کا ارادہ کرے گا تو تجھے تیرے مکا ن کے ساتھ نگل جاوٰں گا اس مشاہدہ سے میری عقل جاتی رہی اور میرے بدن پر کپکپی طاری ہوئی اور میں باادب ہوا اور اپنے عزائم سے باز رہا۔
ایک اور جگہ روایت ہے کہ ربیع دربان نے کہا کہ ایک دن منصور دوانقی نے مجھے بلا کے کہا کہ قسم بخدا میں جعفر بن محمدؑ کی نسل (نعوذوبااللہ) ختم کر دوں گا۔ پھر اپنے اک امیر کو بلا کر حکم دیا کہ ہزار نفراپنے ہمراہ مدینے لے کر جاوٗ اور بے خبر امام صادقؑ اور انکے فرزند موسٰیؑ کے سر کاٹ لاوٗ ۔ جب وہ امیر مدینہ میں داخل ہوا امامؑ نے فرمایا دو اونٹ لاکے مکان کے گرد باندھ دو اور اپنی اولاد کو جمع کر کے محرابِ عبادت میں بیٹھ کر مشغول عبادت ہوئے ۔ امامِ موسٰی کاظمؑ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت کھڑا ہوا تھا جب وہ امیر اپنے لشکر کے ساتھ دروازے پر آیا اس نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ ان دونوں اونٹوں کے سر کاٹ لو اس کے بعد واپس منصور کے پاس آیااور کہا کہ میں نے آپ کے حکم کہ تعمیل کی اور وہ تھیلی جس میں سر تھے منصور کے حوالے کر دی منصور نے جب تھیلی کھول کر دیکھی تو اس میں اونٹوں کے سر تھے اس نے کہا یہ کیا ہے اس نے کہا میں جب امام کے مکان میں داخل ہوا میرا سر گھومنے لگا اور مکان میری نظر میں تاریک ہو گیا بس دو آدمی دکھائی دیئے اور ایسا معلوم ہوا کہ یہ دونوں جعفر اور موسٰی بن جعفرؑ ہیں لہذا میں نے حکم دیا کہ ان کا سر کاٹ لو اور یہ سر لے کر تیری خدمت میں آگیا۔ منصور نے کہا ہرگز ہرگز جو تو نے دیکھا کسی سے بیان نہ کرنا اور کسی کو اس معجزہ کی اطلاع نہ کرنا پس جب تک منصور زندہ رہا کسی نے اس کا ذکر نہ کیا
حضرت امام جعفر صادقؑ نے ۲۵ شوال ۱۴۸ھ بسبِ زہر جامِ شہادت نوش کیا اور بقیع میں اپنے والدِ بزرگوار کے پہلو میں مدفون ہوئے۔

امام جعفرصادق علیہ السلام کے بعض نصائح وارشادات
علامہ شبلنجی تحریرفرماتے ہیں :
۱ ۔ سعید وہ ہے جوتنہائی میں خود کولوگوں سے بے نیازاورخداکی طرف جھکاہواپائے ۔
۲ ۔ جوشخص کسی برادرمومن کادل خوش کرتاہے خداوندعالم اس کے لیے ایک فرشتہ پیداکرتاہے جواس کی طرف سے عبادت کرتاہے اورقبرمیں مونس تنہائی ،قیامت میں ثابت قدمی کاباعث، منزل شفاعت میں شفیع اورجنت میں پہنچانے مین رہبرہوگا۔
۳ ۔ نیکی کاتکملہ یعنی کمال یہ ہے کہ اس میں جلدی کرو،اوراسے کم سمجھو،اورچھپاکے کرو۔
۴ ۔ عمل خیرنیک نیتی سے کرنے کوسعادت کہتے ہیں۔
۵ ۔ توبہ میں تاخیرنفس کادھوکہ ہے۔
۶ ۔ چارچیزیں ایسی ہیں جن کی قلت کوکثرت سمجھناچاہئے ۱ ۔آگ، ۲ ۔ دشمنی ، ۳ ۔ فقیر، ۴ ۔مرض
۷ ۔ کسی کے ساتھ بیس دن رہناعزیزداری کے مترادف ہے ۔
۸ ۔ شیطان کے غلبہ سے بچنے کے لیے لوگوں پراحسان کرو۔
۹ ۔ جب اپنے کسی بھائی کے وہاں جاؤتوصدرمجلس میں بیٹھنے کے علاوہ اس کی ہرنیک خواہش کومان لو۔
۱۰ ۔ لڑکی (رحمت) نیکی ہے اورلڑکانعمت ہے خداہر نیکی پرثواب دیتاہے اورہرنعمت پرسوال کرے گا۔
۱۱ ۔ جوتمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے تم بھی اس کی عزت کرو،اورجوذلیل سمجھے اس سے خودداری برتو۔
۱۲ ۔ بخشش سے روکناخداسے بدظنی ہے۔
۱۳ ۔ دنیامیں لوگ باپ داداکے ذریعہ سے متعارف ہوتے ہیں اورآخرت میں اعمال کے ذریعہ سے پہچانے جائیں گے۔
۱۴ ۔ انسان کے بال بچے اس کے اسیراورقیدی ہیں نعمت کی وسعت پرانہیں وسعت دینی چاہئے ورنہ زوال نعمت کااندیشہ ہے۔
۱۵ ۔ جن چیزوں سے عزت بڑھتی ہے ان میں تین یہ ہیں: ظالم سے بدلہ نہ لے، اس پرکرم گستری جومخالف ہو،جواس کاہمدردنہ ہواس کے ساتھ ہمدردی کرے۔
۱۶ ۔ مومن وہ ہے جوغصہ میں جادہ حق سے نہ ہٹے اورخوشی سے باطل کی پیروی نہ کرے ۔
۱۷ ۔جوخداکی دی ہوئی نعمت پرقناعت کرے گا،مستغنی رہے گا۔
۱۸ ۔ جودوسروں کی دولت مندی پرللچائی نظریں ڈالے گا وہ ہمیشہ فقیررہے گا۔
۱۹ ۔ جوراضی برضائے خدانہیں وہ خدا پراتہام تقدیرلگارہاہے۔
۲۰ ۔ جواپنی لغزش کونظراندازکرے گاوہ دوسروں کی لغزش کوبھی نظرمیں نہ لائے گا ۔
۲۱ ۔ جوکسی پرناحق تلوارکھینچے گاتونتیجہ میں خودمقتول ہوگ
ا ۲۲ ۔ جوکسی کوبے پردہ کرنے کی سعی کرے گاخودبرہنہ ہوگا
۲۳ ۔ جوکسی کے لیے کنواں کھودے گا خود اس میں گرجائے گا”چاہ کن راچاہ درپیش“
۲۴ ۔ جوشخص بے وقوفوں سے راہ ورسم رکھے گا،ذلیل ہوگا،جوعلماء کی صحبت حاصل کرے گا عزت پائے گا،جوبری جگہ دیکھے گا،بدنام ہوگا۔
۲۵ ۔ حق گوئی کرنی چاہئے خواہ وہ اپنے لیے مفیدہویامضر،۔
۲۶ ۔ چغل خوری سے بچوکیونکہ یہ لوگوں کے دلوں میں دشمنی اورعدوات کابیج بوتی ہے۔
۲۷ ۔اچھوں سے ملو،بروں کے قریب نہ جاو،کیونکہ وہ ایسے پتھرہیں جن میں جونک نہیں لگتی ،یعنی ان سے فائدہ نہیں ہوسکتا(نورالابصارص ۱۳۴) ۔
۲۸ ۔ جب کوئی نعمت ملے توبہت زیادہ شکرکروتاکہ اضافہ ہو۔
۲۹ ۔ جب روزی تنگ ہوتواستغفارزیادہ کیاکروکہ ابواب رزق کھل جائیں۔
۳۰ ۔ جب حکومت یاغیرحکومت کی طرف سے کوئی رنج پہنچے تولاحول ولاقوة الاباللہ العلی العظیم زیادہ کہوتاکہ رنج دورہو،غم کافورہو،اورخوشی کاوفورہو (مطالب السول ص ۲۷۴،۲۵۷) ۔
اللہم صل علی محمد و آل محمد
لعنۃ اللہ علی اعدائہم اجمعین
ہم “عالمی اخبار” کی جانب سے
تمام مؤمنین کو ان کے مولا،
تمام سادات کو ان کے جد اور
بطورِ خاص
امام عصر و زمان (عجل اللہ فرجہ الشریف)
کی خدمتِ اقدس میں ان کے جد (علیہ السلام)
کی یومِ شہادت پر
دلی تعزیت پیش کرتے ہیں
آپ کے اخلاق اورعادات واوصاف
علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے اپنے ایک غلام کوکسی کام سے بازاربھیجاجب اس کی واپسی میں بہت دیرہوئی توآپ اس کوتلاش کرنے کے لیے نکل پڑے،دیکھاایک جگہ لیٹاہواسورہاہے آپ اسے جگانے کے بجائے اس کے سرہانے بیٹھ گئے اورپنکھاجھلنے لگے جب وہ بیدار ہواتوآپ نے فرمایایہ طریقہ اچھانہیں ہے رات سونے کے لیے اوردن کام کاج کرنے کے لیے ہے آئندہ ایسانہ کرنا(مناقب جلد ۵ ص ۵۲) ۔
علامہ معاصر مولاناعلی نقی مجتہدالعصررقمطرازہیں،آپ اسی سلسلہ عصمت کی ایک کڑی تھے جسے خداوندعالم نے نوع انسانی کے لیے نمونہ کامل بناکرپیداکیا ان کے اخلاق واوصاف زندگی کے ہرشعبہ میں معیاری حیثیت رکھتے تھے خاص خاص اوصاف جن کے متعلق مورخین نے مخصوص طورپرواقعات نقل کیے ہیں مہمان نوازی، خیروخیرات، مخفی طریقہ پرغرباکی خبرگیری ،عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک عفوجرائم، صبروتحمل وغیرہ ہیں۔
ایک مرتبہ ایک حاجی مدینہ میں واردہوااورمسجدرسول میں سوگیا،آنکھ کھلی تواسے شبہ ہواکہ اس کی ایک ہزارکی تھیلی موجودنہیں ہے اس نے ادھرادھردیکھا، کسی کونہ پایاایک گوشہ مسجدمیں امام جعفرصادق علیہ السلام نمازپڑھ رہے تھے وہ آپ کوبالکل نہ پہنچانتاتھا آپ کے پاس آکرکہنے لگا کہ میری تھیلی تم نے لی ہے حضرت نے پوچھااس میں کیاتھا اس نے کہا ایک ہزاردینار،حضرت نے فرمایا،میرے ساتھ میرے مکان تک آؤ، وہ آپ کے ساتھ ہوگیابیت الشرف میں تشریف لاکر ایک ہزاردیناراس کے حوالے کردئیے ،وہ مسجدمیں واپس آگیااوراپنااسباب اٹھانے لگا،توخود اس کی دیناروں کی تھیلی اسباب میں نظرآئی ،یہ دیکھ کربہت شرمندہ ہوااوردوڑتا ہواامام کی خدمت میں آیااورعذرخواہی کرتے ہوئے وہ ہزاردیناواپس کرناچاہا، حضرت نے فرمایا ہم جوکچھ دیدیتے ہیں وہ پھرواپس نہیں لیتے۔
موجودہ زمانے میں یہ حالات سب ہی کی آنکھوں سے دیکھے ہوئے ہیں کہ جب یہ اندیشہ معلوم ہوتاہے کہ اناج مشکل سے ملے گاتوجس کوجتناممکن ہووہ اناج خریدکررکھ لیتاہے مگرامام جعفرصادق علیہ السلام کے کردارکاایک واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ سے آپ کے وکیل معقب نے کہاکہ ہمیں اس گرانی اورقحط کی تکلیف کاکوئی اندیشہ نہیں ہے، ہمارے پاس غلہ کااتناذخیرہ ہے جوبہت عرصہ تک کے لے کافی ہوگا حضرت نے فرمایایہ تمام غلہ فروخت کرڈالواس کے بعدجوحال سب کاہوگا،وہی ہمارابھی ہوگاجب غلہ فروخت کردیاگیاتوفرمایااب خالص گہیوں کی روٹی نہ پکاکرے، بلکہ آدھے گہیوں اورآدھے جوکی پکائی جائے، جہاں تک ممکن ہوہمیں غریبوں کاساتھ دیناچاہئیے۔
آپ کاقاعدہ تھاکہ آپ مالداروں سے زیادہ غریبوں کی عزت کرتے تھے مزدوروں کی بڑی قدرفرماتے تھے خودبھی تجارت فرماتے تھے اوراکثراپنے باغوں میں بہ نفس نفیس محنت بھی کرتے تھے ایک مرتبہ آپ بیلچہ ہاتھ میں لیے باغ میں کام کررہے تھے اورپسینہ سے تمام جسم ترہوگیاتھا، کسی نے کہا،یہ بیلچہ مجھے عنایت فرمائیے کہ میں یہ خدمت انجام دوں حضرت نے فرمایا،طلب معاش میں دھوپ اورگرمی کی تکلیف سہناعیب کی بات نہیں، غلاموں اورکنیزوں پروہی مہربانی رہتی تھی جواس گھرانے کی امتیازی صفت تھی ۔
اس کاایک حیرت انگیزنمونہ یہ ہے کہ جسے سفیان ثوری نے بیان کیاہے کہ میں ایک مرتبہ امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوادیکھاکہ چہرہ مبارک کارنگ متغیرہے، میں نے سبب دریافت کیا،توفرمایامیں نے منع کیاتھا کہ کوئی مکان کے کوٹھے پرنہ چڑھے ،اس وقت جومیں گھرآیاتودیکھاکہ ایک کنیزجوایک بچہ کی پرورش پرمتعین تھی اسے گودمیں لیے ہوئے زینہ سے اوپرجارہی تھی مجھے دیکھاتوایساخوف طاری ہواکہ بدحواسی میں بچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا،اوراس صدمہ سے جاں بحق تسلیم ہوگیامجھے بچہ کے مرنے کااتناصدمہ نہیں جتنااس کارنج ہے کہ اس کنیزپراتنارعب وہراس کیوں طاری ہوا،پھر حضرت نے اس کنیزکوپکارکرفرمایا،ڈرونہیں میں نے تم کوراہ خدامیں آزادکردیا، اس کے بعدحضرت بچہ کی تجہیزوتکفین کی طرف متوجہ ہوئے (صادق آل محمد ص ۱۲ ،مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۵۴) ۔
کتاب مجانی الادب جلد ۱ ص ۶۷ میں ہے کہ حضرت کے یہاں کچھ مہمان آئے تھے حضرت نے کھانے کے موقع پراپنی کنیزکوکھانالانے کاحکم دیا،وہ سالن کابڑاپیالہ لے کرجب دسترخوان کے قریب پہنچی تواتفاقاپیالہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کرگرگیا، اس کے گرنے سے امام علیہ السلام اوردیگرمہمانوں کے کپڑے خواب ہوگئے،کنیز کانپنے لگی اورآپ نے غصہ کے بجائے اسے راہ خدامیں یہ کہہ کرآزادکردیاکہ توجو میرے خوف سے کانپتی ہے شایدیہی آزادکرنا کفارہ ہوجائے ۔
پھراسی کتاب کےص ۶۹ میں ہے کہ ایک غلام آپ کاہاتھ دھلارہاتھا کہ دفعتہ لوٹاچھوٹ کرطشت میں گرااورپانی اڑکرحضرت کے منہ پرپڑا،غلام گھبرااٹھاحضرت نے فرمایاڈرنہیں،جامیں نے تجھے راہ خدامیں آزادکردیا۔
کتاب تحفہ الزائرعلامہ مجلسی میں ہے کہ آپ کے عادات میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے جاناداخل تھا،آپ عہدسفاح اورزمانہ منصور میں بھی زیارت کے لیے تشریف لے گئے تھے کربلاکی آبادی سے تقریباچارسوقدم شمال کی جانب،نہرعلقمہ کے کنارے باغوں میں”شریعہ صادق آل محمداسی زمانہ سے بناہواہے (تصویرعزا ص ۶۰ طبع دہلی ۱۹۱۹ ءء)۔
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام جنہیں راسخین فی العلم میں ہونے کاشرف حاصل ہے اورجوعلم اولین وآخرین سے آگاہ اوردنیاکی تمام زبانوں سے واقف ہیں جیساکہ مورخین نے لکھاہے میں ان کے تمام علمی فیوض وبرکات پرتھوڑے اوراق میں کیاروشنی ڈال سکتاہوں میں نے آپ کے حالات کی چھان بین کی ہے اوریقین رکھتاہوں کہ اگرمجھے فرصت ملے،توتقریبا چھ ماہ میں آپ کے علوم اورفضائل وکمالات کاکافی ذخیرہ جمع کیاجاسکتاہے.
آپ کے متعلق امام مالک بن انس لکھتے ہیں میری آنکھوں نے علم وفضل وروع وتقوی میں امام جعفرصادق سے بہتردیکھاہی نہیں جیساکہ اوپرگذراوہ بہت بڑے لوگوں میں سے تھے اوربہت بڑے زاہدتھے خداسے بے پناہ ڈرتے تھے ،بے انتہاحدیث بیان کرتے تھے ،بڑی پاک مجلس والے اورکثیرالفوائد تھے، آپ سے مل کر بے انتہاء فائدہ اٹھایاجاتاتھا
(مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۵۲ طبع بمبئی)۔
حضرت صادق آل محمداورعلم طب
علامہ ابن بابویہ انفمی کتاب الخصائل جلد ۲ باب ۱۹ ص ۹۷،۹۹ طبع ایران میں تحریرفرماتے ہیں کہ ہندوستان کاایک مشہورطبیب منصوردوانقی کے دربارمیں طلب کیاگیا،بادشاہ نے حضرت سے اس کی ملاقات کرائی، امام جعفرصادق علیہ السلام نے علم تشریح الاجسام اورافعال الاعضاء کے متعلق اس سے انیس سوالات کئے وہ اگرچہ اپنے فن میں پوراکمال رکھتاتھا لیکن جواب نہ دے سکابالاخرکلمہ پڑھ کرمسلمان ہوگیا.
علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ اس طبیب سے حضرت نے بیس سوالات کئے تھے اوراس انداز سے پرازمعلومات تقریرفرمائی کہ وہ بول اٹھا ”من این لک ہذا العلم“اے حضرت یہ بے پناہ علم آپ نے کہاں سے حاصل فرمایا؟ آپ نے کہاکہ میں نے اپنے باپ داداسے ،انہوں نے محمدمصطفی صلعم سے ،انہوں نے جبرئیل سے ،انہوں نے خداوند عالم سے اسے حاصل کیاہے ،جس نے اجسام وارواح کوپیداکیاہے ”فقال الھندی صدقت-“ اس نے کہابے شک آپ نے سچ فرمایا،اس کے بعد اس نے کلمہ پڑھ کراسلام قبول کرلیااورکہا ”انک اعلم اہل زمانہ“ میں گواہی دیتاہوں کہ آپ عہدحاضرکے سب سے بڑے عالم ہیں (مناقب ابن شہرآشوب جلد ۱ ص ۴۵ طبع بمبئی)۔
امام جعفرصادق علیہ السلام کادربارمنصورمیں ایک طبیب ہندی سے تبادلہ خیالات
علامہ رشیدالدین ابوعبداللہ محمدبن علی بن شہرآشوب مازندرانی المتوفی ۵۸۸ ء نے دربارمنصورکاایک اہم واقعہ نقل فرمایاہے جس میں مفصل طورپریہ واضح کیاہے کہ ایک طبیب جس کواپنی قابلیت پربڑابھروسہ اورغرورتھا وہ امام جعفرصادق علیہ السلام کے سامنے کس طرح سپرانداختہ ہوکرآپ کے کمالات کامعترف ہوگیاہم موصوف کی عربی عبارت کاترجمہ اپنے فاضل معاصرکے الفاظ میں پیش کرتے ہیں:
ایک بارحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام منصوردوانقی کے دربارمیں تشریف فرماتھے،وہاں ایک طبیب ہندی کی باتیں بیان کررہاتھا اورحضرت خاموش بیٹھے سن رہے تھے جب وہ کہہ چکاتوحضرت سے مخاطب ہوکرکہنے لگا اگرکچھ پوچناچاہیں توشوق سے پوچھیں، آپ نے فرمایا،میں کیاپوچھوں ،مجھے تجھ سے زیاد ہ معلوم ہے (طبیب اگریہ بات ہے تومیں بھی کچھ سنوں ۔
امام : جب کسی مرض کاغلبہ ہوتواس کاعلاج ضدسے کرناچاہئے یعنی حارگرم کاعلاج سردسے ترکاخشک سے ،خشک کاترسے اورہرحالت میں اپنے خداپربھروسہ رکھے یادرکھ معدہ تمام بیماریوں کاگھرہے اورپرہیزسودواں کی ایک دواہے جس چیزکاانسان عادی ہوجاتاہے اس کے مزاج کے موافق اورا سکی صحت کاسبب بن جاتی ہے ۔
طبیب: بے شک آپ نے جوبیان فرمایاہے اصلی طب ہے۔
امام : اچھامیں چندسوال کرتاہوں،ان کاجواب دے : آنسووں اوررطوبتوں کی جگہ سرمیں کیوں ہے؟ سرپربال کیوں ہے؟ پیشانی بالوں سے خالی کیوں ہے؟ پیشانی پرخط اورشکن کیوں ہے؟ دونوں پلکیں آنکھوں کے اوپرکیوں ہیں؟ ناک کاسوراخ نیچے کی طرف کیوں ہے؟ منہ پردوہونٹ کیوں بنائے گئے ہیں؟ سامنے کے دانت تیزاورڈاڈھ چوڑی کیوں ہے؟ اوران دونوں کے درمیان میں لمبے دانت کیوں ہیں؟ دونوں ہتھیلیاں بالوں سے خالی کیوں ہیں؟
مردوں کے ڈاڈھی کیوں ہوتی ہے؟ ناخن اوربالوں میں جان کیوں نہیں؟ دل صنبوری شکل کاکیوں ہوتاہے؟ پھیپڑے کے دوٹکڑے کیوں ہوتے ہیں،اوروہ اپنی جگہ حرکت کیوں کرتاہے ؟ جگرکی شکل محدب کیوں ہے ،گردے کی شکل لوبئے کے دانے کی طرح کیوں ہوتی ہے گھٹنے آگے کوجھکتے ہیں پیچھے کوکیوں نہیں جھکتے؟ دونوں پاوں کے تلوے بیچ سے خالی کیوں ہیں؟
طبیب: میں ان باتوں کاجواب نہیں دے سکتا۔
امام : بفضل خدامیں ان سب باتوں کاجواب جانتاہوں ۔ طبیب بیان فرمائیے۔
امام علیہ السلام : ۱ ۔ سراگرآنسوؤں اوررطبوتوں کامرکزنہ ہوتاتوخشکی کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔
۲ ۔ بال اس لیے سرپرہیں کہ ان کی جڑوں سے تیل وغیرہ دماغ تک پہنچتارہے اوربہت سے دماغی انجرے نکلتے رہیںدماغ گرمی اورزیادہ سردی سے محفوظ رہے۔
۳ ۔ پیشانی اس لیے بالوں سے خالی ہے کہ اس جگہ سے آنکھوں میں نور پہنچتاہے۔
۴ ۔ پیشانی میں خطوط اورشکن اس لیے ہیں کہ سرسے جوپشینہ گرے وہ آنکھوں میں نہ پڑجائے ،جب شکنوں میں پسینہ جمع ہوتوانسان اسے پونچھ کرپھینک دے جس طرح زمین پرپانی جاری ہوتاہے توگڑھوں میں جمع ہوجاتاہے۔
۵ ۔ پلکیں اس لیے آنکھوں پرقراردی گئی ہیں کہ آفتاب کی روشنی اسی قدران پر پڑے جتنی کہ ضرورت ہے اوربوقت ضرورت بندہوکرمردمک چشم کی حفاظت کرسکیں نیزسونے میں مدد دے سکیں، تم نے دیکھاہوگاکہ جب انسان زیادہ روشنی میں بلندی کی طرف کسی طرف کسی چیزکودیکھناچاہتاہے توہاتھ کوآنکھوں کے اوپررکھ کرسایہ کرلیتاہے۔
۶ ۔ ناک دونوں آنکھوں کے بیچ میں اس لیے قراردیاہے کہ مجمع نورسے روشنی تقسیم ہوکربرابردونوں آنکھوں کوپہنچے۔
۷ ۔ آنکھوں کوبادامی شکل کااس لیے بنایاہے کہ بوقت ضرورت سلائی کے ذریعہ سے دوا(سرمہ وغیرہ) اس میں آسانی سے پہنچ جائے،اگرآنکھ چوکور یاگول ہوتی توسلائی کااس میں پھرنامشکل ہوتادوااس میں بخوبی نہ پہنچ سکتی اوربیماری دفع نہ ہوتی۔
۸ ۔ ناک کاسوراخ نیچے کواس لیے بنایاکہ دماغی رطوبتیں آسانی سے نکل سکیں ،اگراوپرکوہوتاتویہ بات نہ ہوتی اوردماغ تک کسی چیزکی بوبھی جلدی نہ پہنچ سکتی
۹ ۔ ہونٹ اس لیے منہ پرلگائے گئے کہ جورطوبتیں دماغ سے منہ میں آئیں وہ رکی رہیں اورکھانابھی انسان کے اختیارمیں رہے جب چاہے پھینک اورتھوک دے۔
۱۰ ۔ داڑھی مردوں کواس لیے دی کہ مرداورعورت میں تمیزہوجائے ۔
۱۱ ۔ اگلے دانت اس لیے تیزہیں کہ کسی چیزکاکاٹنایاکھٹکھٹاسہل ہو، اورڈاڈھ کوچوڑا اس لیے بنایاکہ غذاپیسنااورچباناآسان ہو،ان دونوں کے درمیان لمبے دانت اس لیے بنائے کہ ان دونوں کے استحکام کے باعث ہوں، جس طرح مکان کی مضبوطی کے لیے ستون (کھمبے) ہوتے ہیں۔
۱۲ ۔ ہتھیلوں پربال اس لیے نہیں کہ کسی چیزکوچھونے سے اس کی نرمی سختی،گرمی،سردی وغیرہ آسانی سے معلوم ہوجائے، بالوں کی صورت میں یہ بات حاصل نہ ہوتی۔
۱۳ ۔ بال اورناخن میں جان اس لیے نہیں ہے کہ ان چیزوں کابڑھنابرامعلوم ہوتاہے اورنقصان رساں ہے،اگران میں جان ہوتی توکاٹنے میں تکلیف ہوتی
۱۴ ۔ دل صنوبری شکل یعنی سرپتلااوردم چوڑی (نچلاحصہ) اس لیے ہے کہ بآسانی پھیپڑے میں داخل ہوسکے اوراس کی ہواسے ٹھنڈک پاتارہے تاکہ اس کے بخارات دماغ کی طرف چڑھ کربیماریاں پیدانہ کرے۔
۱۵ ۔ پھیپڑے کے دوٹکڑے اس لیے ہوے کہ دل ان کے درمیان ہے اوروہ اس کوہوادیں۔
۱۶ ۔ جگرمحدب اس لیے ہواہے کہ اچھی طرح معدے کے اوپرجگہ پکڑے اوراپنی گرانی اورگرمی سے غذا کوہضم کرے۔
۱۷ ۔ کردہ لوبئے کے دانہ کی شکل کااس لیے ہواکہ (منی) یعنی نفطفہ انسانی پشت کی جانب سے اس میں آتاہے اوراس کے پھیلنے اورسکڑنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ نکلتاہے جوسبب لذت ہے۔
۱۸ ۔ گھٹنے پیچھے کی طرف اس لیے نہیں جھکتے کہ چلنے میں آسانی میں ہواگرایسانہ ہوتاتوآدمی چلتے وقت گرگرپڑتا،آگے چلناآسان نہ ہوتا۔
۱۹ ۔ دونوں پیروں کے تلوے بیچ میں سے اس لیے خالی ہیں کہ دونوں کناروں پربوجھ پڑنے سے باسانی پیراٹھ سکیں اگرایسانہ ہوتااورپورے بدن کابوجھ پیروں پرپڑتاتوسارے بدن کابوجھ اٹھانادشوارہوتا۔
یہ جوابات سن کرہندوستانی طبیب حیران رہ گیااورکہنے لگاکہ آپ نے یہ علم کس سے سیکھاہے فرمایااپنے داداسے انہوں نے رسول خداسے حاصل کیاتھا اورانہوں نے خداسے سیکھاہے اس نے کہا ”اشہدان لاالہ الااللہ وان محمدارسول اللہ وعبدہ“ میں گواہی دیتاہوں کہ خداایک ہے اورمحمداس کے رسول اورعبد خاص ہیں ،”وانک اعلم اہل زمانہ“ اورآپ اپنے زمانہ میں سب سے بڑے عالم ہیں (مناقب جلد ۵ ص ۴۶ طبع بمبئی وسوانح چہاردہ معصومین حصہ ۲ ص ۲۵) ۔
فرانس کی شٹراس برگ یونیورسٹی نے ایک کتاب شائع کی جو 25 مستشرقین و محققین کی مشترکہ کاوش ہے، جن میں ایک ایرانی اور ایک لبنانی نژاد کے علاوہ باقی 23 یورپی اور امریکی باشندے ہیں، اس کتان کا پہلے فارسی اور پھر اردو میں ترجہ ہو چکا ہے، فارسی ترجمے کا نام “مغزِ متفکرِ اسلام” اور اردو ترجمے کا نام “سُپر مَین اِن اسلام” رکھا گیا ہے-
یہ کتاب امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں ہے، اس میں آپ کے تعلیم دیے علوم پر بحث، ان کے پس مناظر اور ان کی اہمیت وغیرہ پر تفصیلی بحثیں موجود ہیں، یہ ایک حیرت انگیز کتاب ہے جس کو پڑھنے کی میں ہر مسلمان بھائی اور بہن کو سفارش بلکہ تاکید کرنا چاہتا ہوں. اس کتاب سے واضح ہوتا ہے کہ آج کے تمام جدید علوم کے بانی حضرت امام جعفر صادقِ آلِ محمد ہی ہیں، بشمول علمِ فلکیات، جدید ریاضی، طبعیات، کیمیا، طبِ متقدم وغیرہ وغیرہ-
ایک مثال پیشِ خدمت ہے، لکھا ہے کہ :
“امام جعفر (علیہ السلام) کا ایک قول ہے کہ پانی دو عناصر سے مل کر بنا ہے، ایک خود جلتا ہے اور دوسرا جلنے میں مدد کرتا ہے، اس زمانے کے لوگ یقیناً کسی بھی صورت میں یہ بات سمجھنے سے قاصر تھے، یہ حقیقت کہ پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مرکب ہے، بجلی کی دریافت کے بعد ہی ڈیڑھ سو برس قبل معلوم ہو سکی، سوال یہ ہے کہ یہ شخص بغیر بجلی کے کسی تجربہ کو کیے 1200 برس قبل یہ بات کیسے کہہ گیا، اسے کیسے اس حقیقت کا پتہ چل سکا ؟؟؟؟؟ یہاں صرف وہی بات سامنے آتی ہے جس پر شیعوں کا اعتقاد ہے کہ امام جعفر علمِ لدنی یعنی وہبی علم کے حامل تھے، لیکن ایک غیر جانبدار مورخ یا محقق اس بات پر یقین نہیں کر سکتا”-
یہ آخری جملہ اس کتاب میں جا بجا لکھا ملے گا کہ ہم نہیں جانتے کہ انہیں یہ کیسے پتہ چلا یا وہ کیسے معلوم ہوا ؟
یہ کتاب انٹرنیٹ پر درج ذیل ایڈریس پر دستیاب ہے . . . ضرور پڑھیے
http://shiamultimedia.com/books/urdu/Abdul%20Kareem%20Mushtaq%20-%20Superman%20In%20Islam.pdf
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ پروردگار عالم،انکے حبیب نبی آخر الزمان اور انکے حبیب علی مرتضیٰ اور انکی آل آپکی اس مساعی کو قبول کرے۔آمین۔ یاد رکھیں کہ عشق محمد و آل محمد کے لیئے کسی خاص مسلک حتیٰ کہ کسی مخصوص دین کا ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔یہ تو وہ شجر سایہ دار ہے جو کسی بھی ریگزار میں،کسی بھی صحرا میں اور کسی بھی سرزمینِ قلب ونظر میں کھل سکتا ہے۔بلاشبہ آپ پر آل رسول کی نظر خاص ہے۔ اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ شیعہ کوئی مسلک نہیں،بس اسی کو شیعہ کہتے ہیں۔محمد و آل محمد کا دوست ہی تو شیعہ ہوتا ہے ورنہ ؟
امام جعفر صادق علیہ اسلام ایک چوٹی کے کیمسٹ بھی تھے۔ جابر ابنِ حیان امام کا شاگرد تھا جس نے Sulphuric Acid, Hydrochloric acid, Aqua regia جیسے کیمیکل بنائے۔ انسائکلو پیڈیا بریٹانیکا میں امام Jafar Ibne Mohammad یعنی امام جعفر صادق کے تعارف میں لکھا ہے جس کے مطابق جابر ابن حیان نے اپنی خاص formulations کو امام کی formulations کہا ہے۔ انہی ایجادات کی وجہ سے یورپ اور امریکہ مسلمانوں کو Founding Fathers of Modern Science کہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں صد ق دل اور خلوص نیت سے یہ لکھتے یوئےخوشی محسوس کرتا ہوں کہ میں اس بلاگ اور اسکے موضوع کےتقدس کی عظمت کو دل سے مانتا ہوں ۔
فقط:
ایک سیدھا سادہ مسلمان جس کے والدین ہر سال کی رجب کی بائیس تاریخ کو ایک خاص قسم کا میٹھا ( کونڈے ، کھیر اور مغزیات سے بھری پوریا ں ) بناتے تھے جس کے بنانےمیں ہم سب بھائی اوربہنیں رات بھر شریک ہوتے تھے ۔ اور صبح کو اس میٹھے پر امام جعفر صادق( ع ) کے نام کی فاتحہ پڑھی جاتی تھی ۔ ( اب وہ سب ایک خواب بن گیا ہے)
منظور قاضی
جرمنی سے
السلام علیکم
میں امام جعفر صادق رحمۃ اللہ کی یومِ شہادت پر تمام مسلمانوں کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں ۔
آصف احمد بھٹی
آصف بھائی اور قاضی منظور صاحب اسی کو اتحاد بین المسلمین کہتے ہیں.عالمی اخبار کا یہ پلیٹ فارم خوش قسمت ہے کہ یہاں ہم سب ایک ہیں. ماشااللہ

……………….
سپر مین ان اسلام
مختلف علوم میں امام کی دسترس کا بنیادی راز یہ ہے کہ آئمہ اور معصومین کا علم لدنی ہوتا ہے اور کائنات کی ہر چیز ان کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔ یہ الہامی علم ہے جس کی بنیاد روحانیت ، تزکیہ نفس اور معارف الہیہ ہیں اس موقع پر ایک اہم کتاب کا حوالہ مقصود ہے جس کا ہمارے علمی حلقوں میں بے حدچرچا ہے
فرانس کے شہر اسٹراسبرگ کی یونیورسٹی کے مطالعاتی مرکز سے شائع ہونے والی کتاب کا فرانسیسی زبان سے ذبیح اﷲ المنصوری نے ”مغز متفکر جہانِ شیعہ ” کے نام سے فارسی ترجمہ کیا تھا۔ ہمارے دانشور محمد موسیٰ رضوی نے اس کتاب کی اردو زبان میں تلیخض ” حضرت امام جعفری صادق کے بارے میں ٢٣ یورپی دانشوروں کی تحقیق” کے عنوان سے دو حصوں میں ادارہئ تبلیغات ِ اسلامی کے ذریعہ شائع کروائی۔ اردو داں طبقہ کے لئے ان کی یہ خدمت لائق تحسین ہے۔ بعد ازاں قیام پبلی کیشنز لاہور نے ١٩٩٤ء میں اصل فارسی کتاب کا مکمل اردو ترجمہ شائع کیاجس کے مترجم سید کفایت حسین ہیں۔ اصل کتاب کی مناسبت سے اس کا نام ” مغز متفکر اسلام ” ہے لیکن اس کا عوامی نام ” سپر مین اِن اسلام ” زیادہ زبان زد عام ہے ۔
اس کتاب میں ایسے مطالب درج ہیں جو پہلی مرتبہ عام قاری تک پہنچے ہیں، یہ کتاب ایک علمی کاوش ہے جو ٢٥ دانشوروں کی تحقیق کا نتیجہ ہے جس میں صرف دو مسلمان ہیں ( حسین نصر، موسیٰ صدر) باقی یورپ اور امریکہ کی مختلف جامعات سے منسلک پروفیسر اور مستشرقین ہیں۔ اس کا وش کا پس منظر یہ ہے کہ ستر ہویں صدی عیسوی سے اسلامی مسائل یورپ کے دانشوروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے ۔ اسٹر اسبرگ یونیورسٹی کا تحقیقاتی مرکز جوادیاں عالم پر ریسرچ کرتا ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد اہل تشیع اور ان کے مذہب کی عظیم شخصیات کی علمی سطح ، خدمات اورفیوضات کا جائزہ لیا اور اس جائزہ کے دوران مختلف کتب خانوں میں موجود شیعہ دانشوروں کی علمی تحقیقات اور دستاویزات کے مطالعہ کے نتیجہ میں ان دانشوروں کو امام جعفر ِ صادق کی آفاقی شخصیت کا پہلی مرتبہ انداز ہوا۔ (موسیٰ رضوی ۔٩)
یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ ممتاز دانشور محمد ابوزہرا مصری کے مطابق” اختلاف فکر و نظر اور اختلاف حزب و طائفہ کے باوجود علماء اسلام کسی امر پر اس درجہ متفق نہیں ہوئے جتنے امام جعفر صادق کے علم و فضل پر یعنی حق زیادہ دیر تک پوشیدہ نہیں رہ سکتا ۔ یہان یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس کتاب کے مندرجات کے انتخاب کی اساس امام صادق کی روحانیت نہیں ہے اور نہ یہ توقع رکھنی چاہئے کی متذکرہ غیر مسلم دانشور امام کی ذاتی ، مذہبی یارو حانی شخصیت کی طرف کوئی جھکا ؤ رکھتے تھے۔ اس وجہ سے امر باعث طمانیت ہے جو نتائج اخذ کئے گئے اور جو انکشافات پیش کئے گئے بالکلیہ علم و فضل اور سائنسی علوم کی جانچ کے عالمی معیار پر پورے اترے، یہی اس کتاب کی پذیرائی کا منفرد پہلو ہے۔
اس کتاب میں علوم جدیدہ سے متعلق انکشافات اور مندرجات پڑھ کر ایک فخر محسوس ہوتا ہے جب امام ایک استاد کی طرح نہایت دقیق مسائل مثلاً ماحول کا تحفظ ، دنیا کے حالات میں بد نظمی کے اسباب ، کائنات کا متحرک ہونا، تخلیق کائنات ، وائرس ، جراثیم اور اینٹی باڈیز( ضد اجسام) اور مادہ کی دوامیت جیسے نظریات کے اسباب و علل اور توضیحات نہایت آسان پیرا یہ میں سمجھا تے ہیں ۔ تیرہ سو سال پہلے جب انسانی ذہن میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا کوئی واضح تصور موجود نہ تھا اور نہ صحت کے ساتھ جانچنے والے آلات موجود تھے اس وقت امام جعفر صادق(ع) نے حیات و کائنات کے حوالہ سے ایسے افکار و نظریات پیش کئے جو صدیوں بعد علمی اور سائنسی تجربات کی پیش رفت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات سے حد درجہ مطابقت رکھتے ہیں۔ ( کفایت حسین ۔١٠)
چند مثالیں
اس مقالہ میں ان امور پر تفصیلی بحث کی گنجائش نہیں لیکن صرف سر سری طور پر چند نظریات کی طرف اشارہ مقصود ہے تاکہ تجس کو مہمیز ملے۔
١۔ عناصر اربع: امام نے واضح کیاکہ عناصر اربع میں ہوا ایک مجرو عنصر نہیں اور نہ ہی پانی ، بلکہ یہ مرکبات ہیں آج
ہمارے پاس ١٠٩ عناصر کی ایک طویل فہرست ہے ۔
ب۔ زمین کی حرکت: امام نے آیاتِ قرآنی کی روشنی میں ثابت کیا کہ سورج اپنی جگہ قائم ہے اور زمین سورج کے
اطراف اپنے محور کے گرد گھومتی ہے جس سے دن رات اور موسم تبدیل ہوتے ہیں ، یہ ایک انقلابی دریافت ہے۔
ج۔ ماحول کے تحفظ کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ آدمی کو زندگی اس طرح گزارنی چاہئے کہ اس کا ماحول آلودہ نہ
ہو ورنہ بالآخر زندگی گزارنا مشکل بلکہ نا ممکن ہو جائیگا۔ آج ماحولیات سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
د۔ امام کی نظر میں طوفان، سیلاب ، زلزلہ کائنات کی بدنظمی نہیں ہے بلکہ ایک مستقل ناقابل ِ تسخیر اور تغیر قواعد کی
اطاعت کا نتیجہ ہے جس کے خلاف انسان کو ئی تدارک نہیں کرسکتا۔ ( ثقلین ۔١١)
خلاصۃ ً عرض ہے کہ امام صادق(ع) نے کلیات کی طرف اشارہ کردیا ہے اگر ان کی جزئیات پر موجود سائنس علوم اور وسائل کے ساتھ تحقیق کی جائے تو انسانیت کی بھلائی کے اسباب مہیا ہو سکتے ہیں۔
امام صادق(ع) کے شاگر د اور اصحاب:
ایک درخت اپنے پھل سے، ایک آدمی اپنے ساتھیوں سے اور ایک استاد اپنے شاگردوں کی صلاحیتوں سے پہچانا جاتا ہے۔ امام صادق(ع) کے شاگرد اور اصحاب کی ایک طویل فہرست ہے ان میں چند معروف نام آبان بن تغلب ، ہشام ابن الحکم، مفضل بن عمر، حماد بن عیسیٰ ، زرارۃً بن اعین، محمد بن علی المعروف مومن طاق اور آخر میں لیکن بہت قابل احترام جابر بن حیان ہیں۔
امام جعفر صادق سے پہلے تحصیل علم کے لئے لوگوں میں خاص رغبت نہیں پائی جاتی تھی اس عدم تو جہی کا ایک سبب درس و تدریس کا طریقہ تھا، مسلمانوں میں حصول ِ علم کا جذبہ اور شوق پیدا کرنے کے لئے امام صادق(ع) نے باہمی ربط کا موثر طریقہ رائج کیا جس کو موجودہ زمانہ میں Intractive طریقہ کہتے ہیں اس میں شاگرد کو سوالات کرنے کی آزادی تھی امام سے مختلف افراد کے مناظروں میں اس طریقہ کی جھلک نظرآتی ہے، امام کی دانشگاہ میں مختلف علوم یعنی فقہ، حدیث ،اصول، علم کلام اور تفسیر کے علاوہ علوم طبیعی اور علمِ ابدان سے متعلق امور پر درس و تدریس اور بحث و مباحثے ہوتے تھے۔ امام اپنے شاگردوں کو تاکید فرماتے تھے کہ جو کچھ سمجھو اور سنو لکھ لو کیونکہ جب تک لکھو گے نہیں اس وقت تک حفاظت نہ کرسکو گے۔ علم و حکومت کو زمانے کی دست برد سے محفوظ رکھنے کے لئے ضبط تحریر میں لانا ضروری ہے، انسان کا حافظہ کتنا ہی قوی کیوں نہ ہو تحریر کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ امام صادق کا منشایہ تھاکہ ذہن کی دی ہوئی دولت اور بصیرت کی نعمت کو الفاظ کے مکتوبی حصار میں محفوظ کرلینا چاہئے۔ ( مظفر حسن ۔٣)
امام کے چند شاگردوں کا مختصر تذکرہ حسب ذیل ہے۔
الف۔ آبان بن تغلب ابو سعد الکوفی: انہوںنے ٣ آئمہ کا زمانہ دیکھا۔ یعنی امام زین العابدین، سے امام صادق(ع) ، وہ قاری بھی تھے اور فقیہ بھی۔قرآن ، حدیث، نعت اورتجوید میں دوسروں پر سبقت رکھتے تھے ان کے بارے میں اتنا کہنا کافی ہے کہ امام محمدباقر (ع) نے ان سے فرمایا تھا کہ مسجد مدینہ میں بیٹھو اور لوگوں کو فتوے دو اس کے علاوہ سوائے صحیح بخاری کے دیگر تمام صحابہ میں ان کے حوالہ سے روایتیں موجود ہیں یعنی یہ بین الفریقین قابل ِ اعتماد ہیں۔ ان کی اہم کتاب (غریب القرآن) ہے جو اس موضوع پر پہلی کتاب ہے جس میں الفاظ قرآنی کے مفہوم پر اشعار عرب سے استدلال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ”کتاب الفضائل” اور” کتاب القرات” آپ کی اہم تالیفات ہیں۔ (محسن نقوی۔٤)
ب: ہشام بن الحکم البغدادی لکندی: ان بزرگ ہستی کا تاریخ اور رجال کی کتب میں خاص تذکرہ کیا گیا ہے ان کی علمیت کے اندازہ کے لئے یہ کافی ہے کہ انہوں نے ”الردعلیٰ ارسطا طالیس” نامی کتاب میں ارسطو کے فلسفہ پر تنقید کی ہے ۔ ان کی پوری زندگی مناظروں میں گزری جس میں جاثلیق نصرانی عالم سے مناظرہ، امامت حق کی اطاعت کا وجوب اور ابو حنفیہ سے مناظرے شامل ہیں۔ امام صادق(ع) سے رسائی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی مذہب کو تبدیل کردیا اور مکمل طور پر اپنے آپ کو خدمت امام کے لئے وقف کردیا اور آخری وقت تک پاسداران ولایت ہی رہے۔ ان کی تصانیف بصورت مناظر ے کے حوالے موجود ہیں۔ ہشام کے متعلق امام صادق(ع) کا قول ہے ”ہشام ہمارے حق کا سراغ رساں ہے ہماری صداقت کا موئد ہمارے اعدا کی باطل قوتوں کا دفع کرنے والا ہے۔” امام محمد تقی (ع) نے ہشام کے متعلق کہا۔ ” اﷲ ان پر رحمت کرے وہ کسی طرف سے ہم پر حرف نہیں آنے دیتے تھے۔”(محسن نقوی ۔٤)
ج۔ جابر بن حیان: امام جعفر صادق(ع) کی شخصیت اور علمی فیوض کے سلسلے میں جابر بن حیان طوسی کے ذکر کو خصوصیت حاصل ہے، جابر ١٠٤ ھ میں پیدا ہوئے اور ٢٠٢ھ میں ان کا انتقال ہوا۔ حجاج بن یوسف کے ہاتھوں اپنے والد کی شہادت کے بعد مدینہ آگئے اور امام کی خدمت میں پہنچے۔ جابر نے امام سے کسب فیض کے بعد علم کیمیا میں اہم انکشافات اور نظریات پیش کئے جس کی بناپر ان کو ”بابائے کیمیا” کے لقب سے یاد کرتے ہیں جابر نہ صرف علم کیمیا کے ماہر تھے بلکہ حیاتیات اور نباتات ، علم حجر( جیالوجی) اورنفسیات پربھی ان کے متعدد کتابیں اور رسالے موجود ہیں۔
جابر کی سائنس کی بنیاد کلام الہی پر ہے۔ جابر نے امام صادق(ع) سے روایت کی کہ ( پارہ چاندی) ہے جو آگے چل کر تمام عناصر میں یگانگت اور صرف ایٹمی نمبر کے فرق کے نظرئے کی توثیق کرتا ہے۔ جابر کلام معصوم کے حوالہ سے ایک سائنسدان کی صفت کا پروفائل یوں بناتے ہیں ” کہ علوم عقلیہ پر تحقیق کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ صالح ہو اور کلام مجید اور کلام معصومین سے آگاہی رکھتا ہو۔ ایسے شخص کو فاضل ہونا چاہئے، اور بصیرت والی آنکھیں ہونی چاہئے اسے آلات کے استعمال کا علم ہونا چاہئے۔ ( علی سرور ۔٣)
آخر میں عرض یہ ہے کہ مغرب کے علمی سفر کا آغاز سولہویں صدی سے ہو تا ہے جبکہ لوگ نو جوانوں کو مشورہ دیتے تھے کہ تہذیب یا علم کے لئے عربی سیکھو جس کی بنیاد وہ معلومات یا نکات ہیں جن کو امام صادق کے فیض اور سرپرستی میں حاصل کر کے جابر جیسے شاگرد وں نے سائنس کو مالا مال کردیا، جابر کے ٥٠٠ رسائل اور کتابوں کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا گیا کچھ کتابیں فرانسیسی تراجم کے ساتھ ایران ، مصر، ترکی ، جرمنی اور فرانس کے کتب خانوں کی زینتیں ہیں۔ اب انٹر نیٹ اور ویب کی سہولتوں کے ذریعے امام کے فیوض دنیا کے ہر کونے میں علم کے پیاسوں کی دسترس میں ہیں۔
السلام علیکم
جناب صفدر ہمدانی صاحب ، آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اتنی معلومت ہم تک پہنچائی ، یقینا دُنیا کے موجودہ تمام علوم کی بنیاد ہمارے ہی اسلاف نے رکھی تھی ، یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم لوگ اُن کے نقشِ قدم پر نہیں چل سکے ۔ اللہ ہمیں پھر اِس قابل کر دے کہ ہم کم از کم اپنے اسلاف کو اُن کا جائز حق ہی دلا سکیں ۔
آصف احمد بھٹی
صفدر بھائی حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی شہادت پر تمام محبان اہل ِبیت کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کر تا ہوں۔ یہ ایک ایسی نادرالوجود ہستی کی شہادت تھی جو علوم کا سمندر تھا۔ جس سے بعد میں بہت سے ندی نالے پھوٹے۔ اور ہر ایک نے اپنے ظرف کے مطابق علم حاصل کیا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اہلِ سنت کے چاروں امام یاتو ان کے شا گرد تھے یا شا گردوں کے شاگرد تھے۔ اور شاید انہوں کبھی سو چا بھی نہ ہو کہ وقت ہمیں بھی امام بنا دے گا ۔ کیونکہ انکا مطمح نظر اپنی اپنی سوچ کے مطابق کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلیاللہ کی علیہ و آلہ وسلم کی تشریح کر نا تھی نہ کہ کسی تلمود کو جنم دینا اور ملت کو تقسیم کر نا۔ آپ نے بہن نگہت نسیم اور دوسرے احباب نےجو اس سلسلہ میں کاوشیں کی ہیں وہ سب قابل ِستا ئش ہیں ۔ میں صرف اس میں ایک نکتہ کا اضا فہ کر نا چا ہونگا کہ حضرت امام جعفر صادق ایٹم سے بھی واقف تھے۔ مگر وہ اس وقت اس پر کچھ فر ماتے تو وقت سے پہلے کی بات ہو تی لہذا لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی مگر ایک روایت ملتی ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک مرتبہ بادشاہ نے شکا یت کی کہ جب وہ سفر پر جا تا ہے تو بیمار ہو جا تا ہے ۔ انہوں نے اس کا علاج یہ تجویز فر ما یا کہ ایک صراحی میں یہاں سے پانی لے جا ئیں اور جتنا اس میں سے نکا لیں اتنا ہی اور ڈال لیں ۔ پھر اس کو وہ شکا یت کبھی نہیں ہو ئی ۔ اور اسی نظریہ کو غالبا جرمن ڈاکٹر سیمو ئیل ہنیمین نے کئی صدی پہلے لیکر ہو میو پیتھی ایجاد کی جس میں دوا میں جتنی ما دیت کم ہو تی جاتی ہے اتنی ہی پوٹینسی بڑھتی جا تی ہے ۔
تمام مؤمنین تمام سادات کو ان کے جد اور
بطورِ خاص
امام عصر و زمان (عجل اللہ فرجہ الشریف)
کی خدمتِ اقدس میں ان کے جد (علیہ السلام)
کی یومِ شہادت پر
دلی تعزیت پیش کرتے ہیں
ہمدانی صاحب
ماشاء اللہ ۔ بہت معلوماتی مضمون ہے۔
جیلانی صاحب
آپ نے بہت ہی آنکھیں کھول دینے والا واقعہ لکھا ہے کہ ہومیوپیتھی کے بنیادی نقوش امام جعفرصادق کے یہاں ملتے ہیں۔ یہاں میں تمام قارئین کیلئے حضرت علی کا حافظہ کیلئے ایک نسخہ پیش کرنا چاہونگا۔
روزانہ صبح اصلی ایک ٹیبل اسپون شہد میں تھوڑی سی اصلی زعفران کوٹ کر ملائ جائے اور اسے نہار منہ کھالیا جائے۔
ڈکٹر تقی حیدر عاپدی 35 سال سے اپنے مریضوں کو یہ نسخہ دیرہے ہیں جو مجرٰب ہے اور مریضوں کا حافظہ تین چار ہفتہ بعد improve ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
عقیدہ کے اعتبار سے ائمہ کے پاس علمِ غیب تھا۔ غیر مذاہب مفکرین کے مطابق اہلِ بیت اپنے وقت سے بہت آگے تھے۔
جناب جعفری صاحب بہت بہت شکریہ یہ نسخہ دیکر آپ نے نسیان کے مریضوں کے لیئے ایک امید کی جھلک دکھا ئی ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ جزا دے۔ رہا ان کے علم کا سوال تو اللہ جس کو جس کام کے لیئے مقرر فرما تا ہے اسے اس کی ضرورت کے مطابق علم ِلدنی بھی عطا فرماتاہے۔لہذا ہر ایک کے پاس ضرورت کے مطابق علم ہو تا ہے۔ جو اس کے منکر ہیں میں ہمیشہ ان کو یہ کہہ کر چیلینج کر تا ہوں کہ اگر یہ بات غلط ہے تو ان میں سے کسی کے استاد کا نام بتا دیں اس پروہ خاموش ہو جاتے ہیں ۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہ کے علم کا تو یہ عالم ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں اگر سورہ فا تحہ کی تفسیر لکھوں تو وہ اسی اونٹوں پر بار ہو سکے گی ؟
السلام علیکم
جناب ظفر جعفری صاحب ، بہت بہت شکریہ ، آپ نے جناب سیدنا علی رضی اللہ تعالی کا نسخہ تحریر کر کے مجھ جیسے کا بہت بھلا کیا ہے ، کچھ عرصے سے مجھے بھی یاداشت کا مسئلہ محسوس ہو رہا ہے ۔ اللہ ضزائے خیر عطا فرمائے ۔ آمین ۔
آصف احمد بھٹی
جناب صفدر ھمدانی صاحب آپ نے بجا ارشاد فرمایا کہ
”آصف بھائی اور قاضی منظور صاحب اسی کو اتحاد بین المسلمین کہتے ہیں.عالمی اخبار کا یہ پلیٹ فارم خوش قسمت ہے کہ یہاں ہم سب ایک ہیں. ماشااللہ“
اور میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھ رہا ہوں کہ میں نے عالمی اخبار سے رابطہ جوڑ لیا ہے تمام صاحبان نے اتنی فصیح و بلیغ گفتگو فرمائی ہے اور اتنی گرانقدر معلومات ملیں ہیں کہ دل جھوم اٹھا ہے علم کے وسیع سمندر کو کوزے میں سمانے کی سعی کی گئی ہے۔ مجھ جیسے کم علم اور کم فہم کو اتنی معلومات مل جائیں گی معلوم نہ تھا!
نگہت آپی ، عبدالمناف صاحب ، ظفر جعفری صاحب آپ سب کا بیحد مشکور ہوں
ظفر صاحب ٓپ نے جو حافضہ تیز کرنے کا نسخہ امام عالی مقام علیہ السلام کا دیا ہے بہت عمدہ ہے
”روزانہ صبح اصلی ایک ٹیبل اسپون شہد میں تھوڑی سی اصلی زعفران کوٹ کر ملائ جائے اور اسے نہار منہ کھالیا جائے“۔
جزاک اللہ
اس بلاگ کی تمہید میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ :
“حضرت امام جعفر صادقؑ نے ۲۵ شوال ۱۴۸ھ بسبِ زہر جامِ شہادت نوش کیا اور بقیع میں اپنے والدِ بزرگوار کے پہلو میں مدفون ہوئے۔“
اپنی کم علمی کی معافی چاہتے ہوئے ، میں یہ درخواست کررہا ہوں کہ کوئی اس بلاگ میں یہ لکھدے کہ امام جعفر صادق (ع) کو شہید کس نے کیا ؟
جس ملعون نے ا ن کو شہید کیا اسکا نام کیا تھا اور اس کو اتنے عظیم عالم سے کیا بغض اور عناد اور دشمنی تھی؟
اس شہادت کی سازش میں کس کا ہاتھ تھا؟
میں اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ اس بلاگ کی تمہید میں چند ایک ملعونو ں کی ناکام کوششوں کا ذکر کیا گیا تھا مگر وہ ناکام رہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلی تعزیت کے ساتھ
منظور قاضی
جرمنی سے
علامہ ابن بابویہ انفمی کتاب الخصائل جلد ۲ باب ۱۹ ص ۹۷،۹۹ طبع ایران میں تحریرفرماتے ہیں کہ ہندوستان کاایک مشہورطبیب منصوردوانقی کے دربارمیں طلب کیاگیا،بادشاہ نے حضرت سے اس کی ملاقات کرائی، امام جعفر صادق علیہ السلام نے علم تشریح الاجسام اورافعال الاعضاء کے متعلق اس سے انیس سوالات کئے وہ اگرچہ اپنے فن میں پوراکمال رکھتاتھا لیکن جواب نہ دے سکابالاخرکلمہ پڑھ کرمسلمان ہوگیا،علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ اس طبیب سے حضرت نے بیس سوالات کئے تھے اوراس انداز سے پرازمعلومات تقریرفرمائی کہ وہ بول اٹھا ”من این لک ہذا العلم“اے حضرت یہ بے پناہ علم آپ نے کہاں سے حاصل فرمایا؟ آپ نے کہاکہ میں نے اپنے باپ داداسے ،انہوں نے محمدمصطفی صلعم سے ،انہوں نے جبرئیل سے ،انہوں نے خداوند عالم سے اسے حاصل کیاہے ،جس نے اجسام وارواح کوپیداکیاہے ”فقال الھندی صدقت-“ اس نے کہابے شک آپ نے سچ فرمایا،اس کے بعد اس نے کلمہ پڑھ کراسلام قبول کرلیااورکہا ”انک اعلم اہل زمانہ“ میں گواہی دیتاہوں کہ آپ عہدحاضرکے سب سے بڑے عالم ہیں (مناقب ابن شہرآشوب جلد ۱ ص ۴۵ طبع بمبئی)۔
علماء فریقین کااتفاق ہے کہ بتاریخ ۱۵/ شوال ۱۴۸ ھ بعمر ۶۵ سال آپ نے اس دارفانی سے بطرف ملک جاودانی رحلت فرمائی ہے، ارشادمفید ص ۴۱۳ ، اعلام الوری ص ۱۵۹ ، نورالابصار ص ۱۲۳ ، مطالب السول ص ۲۷۷ ،یوم وفات دوشنبہ تھا اورمقام دفن جنت البقیع ہے۔ علامہ ابن حجرعلامہ علامہ ابن جوزی علامہ شبلنجی علامہ ابن طلحہ شافعی تحریر رقمطرازہیں کہ مات مسموما ایام المنصور، منصورکے زمانہ میں آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں (صواعق محرقہ ص ۱۲۱، تذکرةخواص الامتہ، نورالابصار ص ۱۳۳، ارجح المطالب ص ۴۵۰) ۔ علماء اہل تشیع کااتفاق ہے کہ آپ کو منصور دوانقی نے زہرسے شہید کرایاتھا، اور نمازحضرت امام موسی کاظم علیہ اسلام نے پڑھائی تھی
میں صفدر ھمدانی صاحب کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ انہوں نے تاریخ شہادت 15 شوال لکھی ( نہ کہ 25 شوال، جو اس بلاگ کی تمہید میں لکھی گئی ہے) ۔
جناب صفدر ھمدانی صاحب کا مزید شکریہ کہ انہوں نے یہ بتا یا کہ ہم سب کے روحانی پیشوا حضرت امام جعفر صادق ( ع) کی شہادت کیسی ہوئی اور کس نے کروائی ۔
یہ بلاگ کافی معلوماتی ہے جس کے لیے بلاگ نویس جعفر حسین صاحب اور تمام مبصرین تعریف کے مستحق ہیں ۔
جناب صفدر ھمدانی بہت بہت شکریہ تصیح فرمانے کا تایخ میں اشکال ہے بعض علماء نے ۲۵ شوال بھی لکھی ہے اور ھمارے والد بزرگوار مرحوم و مغفور (اللہ ان کے درجات بلند فرمائے) ان دونوں تاریخوں کو شہادت کے طور پر مناتے تھے شاید اسی بنا پر ھم نے ۲۵ شوال کو تاریخِ شہادت لکھی۔
جناب منظور قاضی صاحب آپ کے اس سوال ۔۔۔
—————————————————————————————————–
جس ملعون نے ا ن کو شہید کیا اسکا نام کیا تھا اور اس کو اتنے عظیم عالم سے کیا بغض اور عناد اور دشمنی تھی؟
اس شہادت کی سازش میں کس کا ہاتھ تھا؟
—————————————————————————————————-
کا ھمدانی صاحب نے تفصیل سے جواب دے دیا ۔ میں اتنا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ حضرت علی علیہ السلام سے لیکر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام (گیارہویںامام) تک تمام اماموں کو شہید کیا گیا (صرف اور صرف اولادِ علی علیہ السلام ہونے کی وجہ سے )
اور مزید یہ کہ سوائےحضرت علی علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کہ جن کو تلوار سے شہید کیا گیا باقی تمام کو زہر سے شہید کیا گیا مزید تفصیل کے لیئےعلامہ محمد باقر مجلسی ابن علامہ محمد تقی مجلسی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب جلا العیون اور آپ ہی کی کتاب حیا ت القلوب (جلد ۳) ملاحضہ کر سکتے ہیں
قاضی بھائی میں تعریف کا مستحق نہیں البۃ تمام مبصرین تعریف کے ضرور مستحق ہیں خاص طور پہ صفدر ھمدانی صاحب ، نگہت آپی ،شمس جیلانی صاحب اور ظفرجعفری صاحب جنہوں نے اس بلاگ کو جِلا بخشی
آپ سب کی دعاوں کا طالب
جعفر حسین ، کراچی
ماشاء اللہ ، بہت ہی معلوماتی بلاگ ہے ، جس میں ہر ایک کی کاوش لائقِ تحسین ہے۔
دورانِ سروس اپنے ہمسائیوں ، دوستوں اور رفیقوں کے گھروں سے کُونڈوں کی نیاز کھانے کا شرف حاصل ہوتا رہا مگر اصل تاریخ اور حقیقت اب معلوم ہوئی۔
ایک تمنا میری بھی ہے اور وہ یہ کہ
امام جعفر صادق علیہ السلام کی وجہء شہادت اور قاتل کے نام کے ساتھ ساتھ یہاں
آپ کے جد امام علی
ان کے بیٹے امام حسن
آپ کے پردادا امام حسین
آپ کے دادا امام زین العابدین
آپ کے والدِ ماجد امام محمد باقر
آپ کے پسر امام موسیٰ کاظم
آپ کے پوتے امام علی رضا
ان کے بیٹے امام محمد تقی
ان کے بیٹے امام علی نقی . . . اور
ان کے بیٹے امام حسن عسکری سلام اللہ علیہم اجمعین
کے قاتلان علیہم اللعنۃ کے چہروں سے بھی نقاب نوچ دیے جائیں
ان سب ملعونین کے نام یہاں لکھے جائیں
تاکہ بات پوری ہو جائے
بشرط کہ کسی کو اعتراض نہ ہو
جیلانی صاحب
جو اس کے منکر ہیں میں ہمیشہ ان کو یہ کہہ کر چیلینج کر تا ہوں کہ اگر یہ بات غلط ہے تو ان میں سے کسی کے استاد کا نام بتا دیں اس پروہ خاموش ہو جاتے ہیں ۔ٰ
اتنی ٹھوس دلیل میں نے اس سے پہلے نہیں سُنی۔
رسولِ خدا ہستئ کُل ہیں اور اہلِ بیت اس ہستئ کُل کا جزو ہیں ۔ جزو ہمیشہ کُل سے کم ہوتا ہے۔ ذرا سوچئے کہ جب ایک ایک اہلِ بیت کے علم کا یہ حال تھا تو ہستئ کُل کا کیا عالم ہوگا۔ گذشتہ دو سو سال سے درجہء رسالت پر مسلمانوں کے جو حملے ہورہے ہیں اور جسطرح حضور کے مقام کو گرایا جارہا ہے یہ بات تشویشناک ہے۔
ظفر جعفری صاحب بہت بہت شکریہ! یہ ایک منظم سازش ہے ۔ جس کے پس ِمنظر پر بات کر نے کے لیئے ایک الگ کالم کی ضرورت ہے کیا ہی اچھا ہو کہ مواجہ شریف میں پیش ہونے سےپہلے اس پر ایک کالم شروع فرمادیں! بندے کو جو کچھ علم ہے وہ انشا اللہ قارئین اور آپ کی نذر کرے گا ۔
محتر م ظفر جعفری ، مکتب محمّد و آ ِل محمّد کی بہت حقیر طا لب علم ھوں آ پ صر ف آ ج نہیں دیکھیے پو رے چو دہ سو برس سے ا س مکتب کے د شمن اس کو مٹا نے کی سعئ پیہم کر رھے ھیں لیکن کس کو کا میا بی نصیب ھو سکی ھے الحمد للہ با غ ر سو ل صلی للہ علیہ وآ ِلہ و سلّم لہلہا رھا ھے یے سب ا للہ تعا لیٰ کی شا ن کریمی ھے