
آپ مجھے غلط نہ سمجھیں ۔ میں نہ تو سیاسی پارٹیوں کو اور نہ ہی سیاستدانوں کو پہانڈے (برتن) یا ڈنگر (جانور) کہہ رہا ہوں بلکہ میں ان ’ پہانڈوں ‘ اور ’ ڈنگروں ‘ کا ذکر کر رہا ہوں کہ جو دن بدن سیاست میں نام اور مقام بنا رہے ہیں ۔ میری اس لسٹ میں ’ پہانڈوں ‘ میں صرف چمچے اور لوٹے ، ’ ڈنگروں ‘ میں گھوڑا ، گدھا ، بندر اور کُتا جبکہ پرندوں میں اُلو اور طوطے شامل ہیں ۔
اس لسٹ میں مزید اضافے کی کافی گنجائیش ہے جسے مکمل کرنے میں میں آپ کی مدد کا طالب ہوں ، جس کے لئے آپ کا پیشگی شکریہ ۔

http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=urducolumn&article=17898

السلام علیکم
جاوید بھائی ، ارے یہ بیٹھے بٹھائے کیا ہو گیا ہے آپ کو ، کیوں گھوڑوں ، گدھوں ، بندروں ، کتوں ، اُلوؤں اور طوطوں کو بدنام کر رہے ہیں ، مگر کالم زبردست لکھا ہے ، اللہ آپ کے قلم کو اور زیادہ روانی عطا فرمائے ۔ آمین ۔
آصف احمد بھٹی
ڈئیر آصف بھائی ، میں نے اس لسٹ کے اضافے میں مدد مانگی ہے ، ذرا اپنے ذخیرے میں سے کچھ عنائیت فرمائیں۔ آپ کی پسند کا شکریہ۔
السلام علیکم
میری طرف سے لسٹ مکمل ہے ، یہی بہت ہیں مزید اضافے کی گنجائش نہیں ہے ، یا کم از کم مجھے نظر نہیں آتی ، آپ نے جس خوبصورتی سے لسٹ ترتیب دی ہے وہ بے مثال ہے ، خوش رہیے ، مگر اپنے ۔۔۔۔۔
آصف احمد بھٹی
بھائی جاوید اینڈ اقبال اینڈ کیانی
اس بلاگ اور فہرست حیوانات کو پڑھ کر کے تو ان آپ کے ماہر حیوانات ہونے کا شک نہیں یقین سا ہونے لگا ہے.مگر ایک بات اس فقیر شہر کی سمجھ میں نہیں آ رہی کہ آخر ان بیچارے جانوروں کا کیا قصور ہے کہ انکو سیاسی؟؟؟ کے ساتھ ان کو ملایا جا رہا ہے. ویسے اپنے ہاں تو حشرات کو بھی ان سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ معلومات انٹر نیٹ سے حاصل کی گئی ہیں اسمیں مجھ غریب کا کوئی قصور نہیں ہے
کینیڈا کے پستانیہ جانوروں کی فہرست
سنجاب، کاسٹر کانڈینساس (Castor canadensis) کینیڈا کا قومی جانور ہے۔
کینیڈا میں کل 200 کے لگ بھگ ممالیہ جانور موجود ہیں۔ اپنے وسیع و عریض رقبے اور بے شمار ایکو سسٹموں جن میں پہاڑوں سے لے کر شہری آبادیاں بھی شامل ہیں، کی وجہ سے کینیڈا میں بے شمار جانور ایسے موجود ہیں جو کہیں ایک جگہ اور نہیں ملتے۔ ان میں معلوم بڑی سمندری حیات کی تقریباً نصف تعداد شامل ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد میں کترنے والے جانور اور کم تعداد میں اپوسم موجود ہیں۔ کینیڈا میں ممالیہ جانوروں کے مشاہدے کا آغاز 1795 میں ہوا جب سموئل ہارن نے اس کام کا بیڑہ اٹھایا۔ سموئل ہارن شمالی مہموں کا ذمہ دار تھا۔ اس کے مشاہدے کو تقریباً درست مانا جاتا ہے۔ پہلا باقاعدہ کام جو کینیڈا کے ممالیہ جانوروں پر ہوا، جان رچرڈسن نے 1829 میں شروع کیا۔ جوزف بر ٹیرل نے 1888 میں پہلی بار کینیڈا کے ممالیہ جانوروں کی باقاعدہ گروہ بندی کی۔ ارنسٹ تھامپسن سٹن اور چارلس یوزبے ڈیون کا کام بھی کافی اہمیت رکھتا ہے۔
ممالیہ کی کئی نسلیں اپنی الگ اہمیت رکھتی ہیں۔ کینیڈا کا گھوڑا اور اود بلاؤ کینیڈا کے سرکاری نشانات ہیں۔ دیگر صوبوں کے اپنے نشانات ہیں۔
فہرست
* 1 کترنے والے جانور
* 2 خرگوش
* 3 چھچھوندر
* 4 چمگادڑیں
* 5 بڑے سمندری جانور
* 6 درندے
* 7 جفت کھروں والے جانور
* 8 اپوسم
* 9 متعارف کرائی گئی یا حادثاتی طور پر آنے والی اقسام
* 10 معدوم شدہ یا دوبارہ متعارف کرائے گئے جانور
کترنے والے جانور
کترنے والے جانور ممالیہ جانوروں میں سب سے زیادہ تعداد رکھتے ہیں۔ یہ کل ممالیہ جانوروں کا 40 فیصد ہیں۔ ان میں اوپری اور نچلے جبڑے پر دو بڑے اور تیز دانت ہوتے ہیں جو مسلسل کترنے کی وجہ سے تیز دھار رہتے ہیں۔ اس قسم کے زیادہ تر جانور مختصر جسامت رکھتے ہیں تاہم کیپی بارا 45 کلو تک وزنی ہو سکتا ہے۔
کترنے والے جانوروں میں شمالی امریکہ کی سیہی، اود بلاؤ، گلہری، کالی دم والے پریری ڈاگ، مارموٹ، گراؤنڈ ہاگ، گوفر، چوہے، وُل، لیمنگ کی بہت ساری اقسام موجود ہیں۔
خرگوش
خرگوش کترنے والے جانوروں سے اس طرح فرق ہوتے ہیں کہ ان کے اوپری جبڑے پر چار لمبے دانت ہوتے ہیں۔
چھچھوندر
چھچھوندروں کی کئی اقسام بھی یہاں پائی جاتی ہیں۔
چمگادڑیں
چمگادڑوں کی یہاں بہت ساری اقسام ملتی ہیں ۔ واضح رہے کہ چمگادڑیں ممالیہ جانوروں کی کل تعداد کا 20 فیصد ہیں۔
بڑے سمندری جانور
بڑے سمندری جانوروں میں وہیل، ڈالفن وغیرہ بھی یہاں بکثرت ملتے ہیں۔ یہ جانور پوری طرح سے آبی زندگی گذارتے ہیں۔ ان کے جسم پر نہ ہونے کے برابر بال ہوتے ہیں اور ان میں چربی کی موٹی تہہ موجود ہوتی ہے۔ اگلے بازو اور دم کی شکل اس طرح ہوتی ہے کہ تیرنے میں مدد دیتے ہیں۔
[ترمیم] درندے
درندوں کی یہاں کل 260 اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے اکثریت کے لئے گوشت بنیادی غذاء کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے دانت اور کھوپڑی مخصوص شکل کے ہوتے ہیں۔ ان میں لنکس، باب کیٹ، کوگر، لومڑیاں، گیدڑ، بھیڑیئے، ریچھ (بھورے، برفانی، کالے وغیرہ)، ریکون، سٹوٹ، مارٹن، ولورین، بجو، اود بلاؤ، سکنک، سمندری بچھڑے، سمندری شیر، والرس اہم ہیں۔
[ترمیم] جفت کھروں والے جانور
جفت کھروں والے ممالیہ جانور ایسے ہوتے ہیں جن کا وزن تیسری اور چوتھی انگلی یعنی تیسرے اور چوتھے کھروں پر پڑتا ہے۔ ان کی دنیا بھر میں کل 220 اقسام ملتی ہیں۔
ان میں واپیٹی، موز، مختلف اقسام کے ہرن، کیری بو، جنگلی بھینسا، پہاڑی بکری، مشک بیل، بگ ہارن شیپ اور ڈل شیپ اہم ہیں۔
اپوسم
اپوسم بڑے حجم کی گھریلو بلی کی جسامت رکھتا ہے اور اس کی لمبی تھوتھنی اور وزن سہار سکنے والی دم ہوتی ہے
متعارف کرائی گئی یا حادثاتی طور پر آنے والی اقسام
کینیڈا میں بہت سارے ایسے ممالیہ جانور ملتے ہیں جو یہاں کے مقامی نہیں۔ ان میں کچھ کو خاص مقاصد کے لئے متعارف کرایا گیا جبکہ کچھ جانور اتفاق یا حادثاتی طور پر آ گئے۔ جان بوجھ کر یا حادثاتی طور پر متعارف کرائے گئے جانوروں میں چوہے اہم ہیں۔ دیگر فرار شدہ جانوروں میں خرگوش، بلیاں، کتے اور گھوڑے شامل ہیں۔ پاڑہ اور جنگلی سور کو شکار کی غرض سے یہاں متعارف کرایا گیا تھا۔ کچھ اقسام کے جانور ایسے ہیں جو کبھی کبھار یا حادثاتی طور پر دکھائی دیتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے بارے زیادہ جاننا ممکن نہیں کہ آیا یہ یہاں کے مقامی جانور ہیں یا نہیں۔ ان میں وہیل، ڈولفن، چمگادڑیں اور سفید دم والے خرگوش شامل ہیں۔
معدوم شدہ یا دوبارہ متعارف کرائے گئے جانور
تحریری تاریخ کے دوران کینیڈا سے معدوم شدہ تین میں سے دو اقسام کے جانور دوبارہ یہاں متعارف کرائے جا چکے ہیں۔ چوتھی قسم کے بارے تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا یہ جانور یہاں کا مقامی تھا بھی کہ نہیں۔ کالے پیروں والا فیرٹ 1937 میں یہاں سے غائب ہو گیا۔ 1950 سے 1981 تک اسے معدوم سمجھا گیا لیکن 1981 میں وائیومنگ میں اس کی جنگلی قسم مل گئی۔ سوئفٹ لومڑی اور سمندری اود بلاؤ 1930 کی دہائی میں کینیڈا سے معدوم ہو گئے تھے لیکن اب 1970 کی دہائی میں انہیں کامیابی سے دوبارہ متعارف کرا دیا گیا ہے۔
مجھے سب سے زیادہ خوبصورت اور حسین پرندہ الو لگتا ہے .. سو اسے دیکھ کر طوطوں کے بھی طوطے اڑ جاتے ہیں .. کیانی بھائی .. جاوید بھائی .اقبال بھائی .. ارے ایک میں تین بھائی .. دیکھیں یہ میر اقصور نہیں ہے بلکہ اتنا اچھاکالم پڑھنے کے بعد ایسا ہی ہوتا ہے … دن میں تارے اور ایک کے تین نظر آنے لگتے ہیں … ہے نا آصف ..
السلام علیکم
اب آصف بیچارہ کیا کہے ؟ ’’ ہاں ‘‘ کرتا ہوں تو جاوید + اقبال + کیانی صاحبان ( بھائی لوک ) سے ڈر لگتا ہے ، اگر ’’ نا ‘‘ کہتا ہوں تو ڈر ہے کہیں آپ بیلن لیکر پیچھے نہ دوڑ پڑیں اور مجھے دن میں تارے تو کیا مجھے تو مریخ ، زہرہ اور مشتری بھی نظر آجائیں ۔
آصف احمد بھٹی
ہا ہا ہا ہا ہا ہا .. اچھے سے بھائی آصف جو ڈر گیا سمجھو ..سچی مچی ڈر گیا … بھائی بیلین سے کیا ڈرنا ..بھابھی جی جہیز میں ساتھ لائی ہو نگی بھلا اس سے کیا ڈرنا ..جاوید + اقبال + کیانی صاحبان = بھائی لوگ سے پوچھتے ہیں ان کا تجربہ بیلن کے بارے میں کیا کہتا ہے ..کیانی بھائی بات طوطوں سے بیلن تک آ گئی .. سنو یہ میں نے نہیں بھائی آصف نے لکھا ہے ..
السلام علیکم
ہم قبائلی یا نیم قبائلیوں میں یہ ایک اچھا رواج ہے کہ ہماری بیگمات کو جہیز میں عموما اِس طرح کے ہتھیار نہیں ملتے اور اگر کسی بے چاری کو مل بھی جائیں تو وہ تمام عمر اِن کے اِس استعمال سے ناواقف ہی رہتی ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
جاوید اقبال کیانی صاحب نے اپنے بلا گ کی تمہید میں ان جانوروں اور پرندوں کا تذکرہ کیا ہے جو سیاست میں کسی نہ کسی بہانے تشبیہ کے طور پر استعمال ہوتےہیں ۔
جاوید اقبال کیانی صاحب کا یہ کہنا ہے کہ :
“ میری اس لسٹ میں ’ پانڈوں ‘ میں صرف چمچے اور لوٹے ، ’ ڈنگروں ‘ میں گھوڑا ، گدھا ، بندر اور کُتا جبکہ پرندوں میں اُلو اور طوطے شامل ہیں ۔“
اسی کے ساتھ جاوید اقبال کیانی صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ :
“اس لسٹ میں مزید اضافے کی کافی گنجائیش ہے جسے مکمل کرنے میں میں آپ کی مدد کا طالب ہوں ، جس کے لئے آپ کا پیشگی شکریہ ۔“
میرا خیال ہے کہ جاوید اقبال کیانی صاحب نے جو خاص خاص جانوروں اور پرندوں کی فہرست دی ہے وہی کافی ہے مگر میں اس میں :
سانپ کو بھی شامل کرونگا اس لیے کہ اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک تو زہریلا سانپ ہوتا ہے اور دوسرا سانپ زہریلا نہیں ہوتا ۔
آستین کا سانپ سب سے خطر ناک سانپ ہوا کرتا ہے جس کا کاٹا بچتا ہی نہیں ۔ سیاست میں ایسے سانپوں سے بچنا ہی بہتر ہے ورنہ یہ سانپ نہ صرف اپنے قائد کو بلکہ پوری قوم کو موت کی نیند سلا سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک کہاوت بھی مشہور ہے کہ سانپ اور ملاّ میں یہی فرق ہے کہ چند سانپ زہریلے نہیں ہوتے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب رہا پرندوں کی اقسام کا سوال تو ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے “الّو “ کو شامل کردیا ۔ مگر کوئی عاشق قسم کا قاری اس بلاگ کو پڑھ رہا ہے تو اسکی زندگی “بلبل “ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ۔
اسی لیے تو کسی شاعر نے کہا ہے کہ :
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریا ں
تو ہائے گل پکار میں چلاوں ہائے دل
،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اگرکوئی اقبال کی شاعری کا پرستا ر ہے تو اسکے لیے شاہین کا تذکرہ بھی ضروری ہے جو پہاڑوں کی چٹانوں میں اپنا نشمین بناتا ہے
اور اب پرویز مشرف کی پارٹی “ ال پاکستان مسلم لیگ “ کے پرچم کی زینت بنا دیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
یہ فہرست بڑھتی ہی جائے گی ۔ اس میں گدھ ، کوا ، کوئل اور کبوتر وغیرہ بھی شامل ہوسکتے ہیں ۔
جانوروں میں شیر اور گیدڑ جیسے جانور بھی اس فہرست میں شامل کرنا ضروری ہیں ۔
پاکستان کی سیاست میں شیروں اور گیدڑوں کی کمی نہیں ۔
اس کے علاوہ ہاتھی بالخصوص پورس کا ہاتھی بھی مشہور ہے جو سکندر کے تیروں سے مار کھا کر خود اپنی فوج پر ٹوٹ پڑا ۔
السلام علیکم
جاوید بھائی
زبردست
کالم
لکھا
ہے آپ نے
جواب
نہیں
آپ کا
اللہ
آپ
کے
قلم کو
بہتے
دریاوں
اور
جھرنوں
کی
روانی عطا فرمائے
بہت عمدہ کالم ہے جاوید بھائی!!
موسمی بٹیروں کا ذکر نہیں ہوا مگر شاید وہ طوطوں کی خصوصیات کی بناء پر عزت بچا گئے ہیں!
اور ہاں وہ جو لوگ اپنے لیڈر کو شیر کہتے ہیں اس پر بھی روشنی درکار ہے کہ کیسے بکری کو شیر پکارا جاتا ہے؟
جانوروں کے محاورے بھی تو کسی نہ کسی بہانے تشبیہ کے طور پر ان تمام سیاست دانوں پر بھی تو استعمال ہوتےہیں ۔
بھینس کے آگے بین بجانا۔
طوطا چشم ہونا۔
ہاتھی کے دانت دیکھانے کے اور کھانے کے اور؟
اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی ؟
کوا چلا ہنس کی چال ۔
گھر کی مرغی دال برابر۔
عقل بڑھی کے بھینس؟
کتے کی دم کی طرح ٹیڑھا؟
کتے کو گھی ہضم نہیں ہوتا ۔
میاں مٹھو بننا۔
نشہ ہرن ہونا۔
بھیڑ ہوگیا۔ ( یعنی بزدل ہونا میدان سے بھاگ جانا )
وسلام ۔ آویز برمنگھم۔
جناب صفدر ہمٰدانی صاحب،
مرشد ، سب سے پہلے تو بلاگ کو زینت بخشنے کا بے حد شکریہ ، کبھی کبھار دستِ شفقت دراز فرمادیا کریں نہیں تو کوئی منچلا ہمیں ’ ادبی لاوارث ‘ کا طعنہ ہی نہ دے بیٹھے۔
ماہر حیوانات ، یا اپنی دیسی زبان میں ڈنگر ڈاکٹر ، تو میں ہر گز نہیں لیکن ان سے واسطہ کچھ اتنا قریبی اور اتنا متواتر ہوگیا ہے کہ اب اپنی اس لسٹ کی بھی کوئی ’ سنیارٹی لسٹ ‘ ترتیب دینی پڑے گی ۔ آپ کی اس بات سے کلی اتفاق ہے کہ ان بچاروں کا کیا قصور ہے جو ہم ان کا ان سے بھی کم تر، سیاسی ؟؟؟؟ ، مخلوق سے تعلق جوڑنا شروع کر دیتے ہیں ؟ شاید اس لئے کہ یہ بچارے بے زبان ہیں ، کہ ان کی گز گز بھر لمبی زبان نہیں ہوتی ، یا پھر یہ ان پڑھ ہیں اور کوئی ڈگری ، اصلی یا نقلی ، نہیں رکھتے جو جواب دے سکیں اور یا پھر یہ ’ مساوی حقوق یعنی مساوی کرپشن ‘ کا حق نہیں مانگتے !
آپ کی ریسرچ بھی بہت خوب ہے ، جس کی بنا پہ اب انہیں ان کی عادات بمقابلہ سیاسی عادات کی روشنی میں کچھ یوں کلاسیفائی کرنا پڑے گا :
کترنے والے ، کاٹنے والے ، پھنکارنے والے ، ڈسنے والے ، بھونکنے والے ، چنگھاڑنے والے ، دم دبا کر بھاگنے والے وغیرہ وغیرہ ۔
آپ کا پھر سے شکریہ ، مولا آپ کو خوش رکھے یہ سب بہاریں آپ ہی کے دم سے ہیں ۔
آپ کا ’ تھری اِن وَن ‘
محترمہ ڈاکٹر نگھت نسیم صاحبہ ،
سب سے پہلے تو اس بلاگ کا ’ میک اپ ‘ سنوارنے کا بے حد شکریہ ، یہ بڑی ہی خوشگوار حیرت تھی جس کے لئے ممنون و مقروض ہوں۔
” مجھے سب سے زیادہ خوبصورت اور حسین پرندہ الو لگتا ہے “
ڈاکٹر صاحبہ پسند اپنی اپنی ، کوئی زبردستی کا سودا نہیں ۔ مجھے حیرت اس بات پہ ہے کہ ابھی تک ’ ہنومان جی ‘ کو کسی نے پسند نہیں کیا حالانکہ سائینس کی رُو سے ہم ان کی اولاد جبکہ مذہب کی رُو سے وہ ہماری ہی بگڑی ہوئی شکلیں ، یعنی دونوں صورتوں میں اپنے کوئی قریبی ہی ہیں !
” کیانی بھائی .. جاوید بھائی .اقبال بھائی .. ارے ایک میں تین بھائی “ .
ڈاکٹر صاحبہ ، یہ بڑے نصیبوں کی بات ہے جو ہمیں اتنے گھنے رشتوں کا اعزاز مل رہا ہے ، اللہ رب العزت آپ کو خوش رکھے ۔
محترمہ ڈاکٹر صاحبہ و محترم آصف بھٹی صاحب،
ڈاکٹر صاحبہ ، ایک تاریخی مقولہ تو ثابت ہوا ، آصف صاحب کی داڑھی میں تنکا ، میں تو بولا بھی نہیں ! اب میں کیا جانوں کہ آصف صاحب کی آنکھوں کے سامنے بیلن کیوں گھومنے لگا ! میں نے تو نام بھی نہیں لیا اس کم بخت ناک توڑ ، ماتھا پھوڑ ہتھیار کا ۔
آصف صاحب کا یہ فرمانا کہ :
” ہم قبائلی یا نیم قبائلیوں میں یہ ایک اچھا رواج ہے کہ ہماری بیگمات کو جہیز میں عموما اِس طرح کے ہتھیار نہیں ملتے اور اگر کسی بے چاری کو مل بھی جائیں تو وہ تمام عمر اِن کے اِس استعمال سے ناواقف ہی رہتی ہیں “
مانا کہ وہ اس کے اصلی استعمال سے ناواقف ہوتی ہیں لیکن یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اس کے صحیح اور بروقت استعمال سے بھی ناواقف ہوں ۔ چلیں اگر وہ اسے بھی ناواقف ہیں تو ’ مُنگلی ‘ (کپڑے دھونے والا ڈنڈا ) تو دیہات میں ہر گھر کی زینت ہوتی ہے اور پھر ’ چمٹا ‘ نام کی چیز بھی تو ہے جو کیا شہر کیا دیہات ہر کچن کی رونق ہے ۔ ذرا انہی پہ ہی روشنی ڈال دیں ۔
ڈاکٹر صاحبہ ، آپ نے میرا تجربہ پوچھا ہے تو میں اور بیگم دونوں ایک وقت میں کچن میں ہوتے ہی نہیں ۔بُرے وقت کا کیا پتہ ، وہ بتا کر تھوڑا ہی آتا ہے ، سو احتیاط لازم ہے ۔ ویسے بھی جب بیگم غصے میں ہوں تو میں یا تو گھر ہی چھوڑ دیتا ہوں ، عارضی طور پر ، اور یا سر درد کی گولی کھا کر چادر اوڑھ لیتا ہوں ۔ اور پھر جب پہلے ہی عمر قید کاٹ رہا ہوں تو مزید ڈر کیسا !
بیگم صاحبہ میری ماموں زاد ہیں۔ بچپن کی منگ تھیں ، لہذا اپنی صدی کے رومیو جولیٹ ! بیاہ کر لایا تو بیلن بھی ساتھ ہی لایا کہ ماں باپ کی لاڈو ہونے کی بنا پہ انہیں چپاتیاں بنانے کا خاص تجربہ نہیں تھا ۔ میں نے بھی دکھتی رگ پکڑ لی کہ روٹی کھائوں گا تو صرف بیگم کے ہی ہاتھ کی ورنہ بھوک ہڑتال ۔ جب چپاتیاں بننا شروع ہوتیں تو میں انہیں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز سے تشبیہہ دینا شروع کر دیتا ، کسی کو رمنا تو کوئی شالیمار ، کسی کو غبارہ تو کسی کو آبپارہ ! والدہ مرحومہ کی ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود میں باز نہ آتا ۔ طعنے ایسے فِٹ بیٹھے کہ ’ بیلن خان ‘ اپنے مدار سے ہی باہر نہ نکل سکے ، نتیجتاّ بہت جلد کسی پُرکار سے کھینچے ہوئے دائرے سے بھی گول چپاتیاں دستر خوان کی زینت بننا شروع ہوگئیں ۔ بیگم صاحبہ نے جب سے یہ ٹیکنالوجی ہماری پیاری اور چہیتی بیٹی کو منتقل کرنا شروع کی ہے تو اسے بیتے دنوں کے ایک ایک لمحے کی روداد سناتے ہوئے محضوض ہوتیں ہیں ۔
محترم قاضی صاحب،
آپ نے بھی بلا شبہ اس لسٹ میں خوب اضافہ کیا ہے۔ لگتا ہے کہ مجھے کالم اپ گریڈ کرنا پڑے گا ۔
آپ کے تبصرے کا بے حد شکریہ۔
جناب محمداحمد ترازی صاحب،
زہے نصیب جو اس کالم کے بہانے آپ بھی میرے بلاگ میں تشریف لائے۔ آپ کی پسند اور تشریف آوری کا بہت شکریہ۔
جناب شعیب صفدر صاحب ،
آپ کی آمد ، تبصرے اور پسند کا شکریہ۔
اس لسٹ میں اضافہ میری توقع سے بڑھ کر ہے ۔ مجھے یقیناّ کالم کو اپ گریڈ کرتے ہوئے نئے نام بھی شامل کرنے پڑیں گے۔
آپ کا پھر سے شکریہ۔
جناب آویز صاحب،
آپ کے مرتب کردہ محاوروں کی لسٹ بھی ایک علمی خزانہ ہے جو یقیناّ مستقبل میں میرے کام آئے گا۔
آپ کا بہت شکریہ۔
السلام علیکم
جاوید بھائی، محاوروں پر یاد آیا کہ 2008 میں کی چیف ایڈیٹر اور علی گڑھ اردو کلب کی موڈریٹر محترمہ رضیہ مشکور صاحبہ کے حکم پر میں نے اردو کے ضرب المثل محاورے جمع کر کے اُن پر مشتمل ایک کتابچہ لکھا تھا جو اُس وقت رضیہ آپی نے اُسے برقی کتاب کی چکل میں http://www.deedahwar.net پر لگا دیا تھا جو شاید اب بھی موجود ہوگا آپ یا اگر کوئی بھی معزز دوست چاہے تو اُس سے بھی استفادہ کر سکتا ہے ۔ لنک شاید یہ ہے !
http://www.deedahwar.net/books.html
لنک کھلنے کے بعد برقی کتب کی ایک طویل فہرست ملے گی ( جو کہ جناب ڈاکٹر صہیب احمد کی ایک گراں قدر علمی خدمت ہے ) وہیں کہیں پر ’’ اردو کے مشہور محاورے ۔ 2008 آصف احمد بھٹی ‘‘ کے نام سے محاوروں پر مشتمل کتابچہ مل جائیگا ۔
آصف احمد بھٹی
جناب آویز صاحب !
آپ کے محاوروں کی لسٹ کافی طویل ہے اس میں ایک اضافہ کرنا چاہوں گا
دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا
اس محاورہ کا ھماری سیاست میں خاصہ کردار ہے
اور
دکھ بھریں بی فاختہ اور کوئے انڈے کھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھمارے ہاں فاختائیں بہت ہیں کوے کم مگر کھانے میں ماہر ۔۔۔۔
سب کچھ ہضم کر جائیں اور ڈکار بھی نہ لیں
اور تو اور ۔۔۔۔
ڈر ہے کہیں ملک ہی نہ بیچ کھائیں
اور ہاں آج کل شیر بھی بہت ہیں مگر دم کے بغیر۔۔۔۔۔
اور ایک اور
پانی میں رہ کر مگر مچھ سے بیر نہیں کر سکتے
اس پر تو ساری قوم متفق ہے
کیوں کہ ۔۔۔۔۔ایک۔۔۔۔داری۔۔۔۔۔ سب پہ بھاری
مشاعروں کی تاریخ میں ایک انمول اضافہ۔ہم سا ہو تو سامنے آئے
۔۔۔۔۔۔
کیا خیال ہے کہ اب جو جانوروں کی بات چل نکلی ہے تو کیوں نہ اسی بہانے کچھ محاور ےبھی سب شیئر کر لیں۔یہ بھی تو اردو زبان کے فروغ کی ایک صورت ہے نا؟
آ بیل مجھے مار
۔۔۔۔
توتے کی طرح آنکھیں مٹکانا
۔۔۔۔
کتے کی دُم ٹیڑھی کی ٹیڑھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
نائجیرین کہاوت ہے:
دن کے وقت مینڈک بغیر بات کے نہیں اچھلتا۔
۔۔۔۔
بندر کیا جا نے ادرک کا سواد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مڑ کے کھوتا بوہڑ تھلے
۔۔۔۔۔۔۔
اپنا آلو سیدھا کرنا
۔۔۔۔۔
اُونٹ رے اُونٹ تیری کونسی کل سیدھی
۔۔۔۔۔
کوا چلا ہنس کی چال۔اپنی چال بھی بھول گیا
۔۔۔۔۔
اونٹ کے منہ میں زیر
۔۔۔۔۔۔۔۔
گھوڑاگھاس سے دوستی کر لے گاتوکھائے گا کیا
۔۔۔۔۔۔
دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر
۔۔۔۔۔۔
گھر کی مرغی دال برابر
۔۔۔۔۔۔
شتر بےمہار ہو جانا
۔۔۔۔۔۔
مکھی صرف گند پہ ہی بیٹھتی ھے
۔۔۔۔۔۔
کھودا پہاڑ نکلا چوہا
۔۔۔۔
میری بلی مجھے ہی کو میاؤں
۔۔۔۔۔۔
اپنے منہ میاں مٹھو
۔۔۔۔۔
دو ملاؤں میں مرغی حرام
۔۔۔
مگر مچھ کے آنسو رونا
۔۔۔۔۔
نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی
۔۔۔۔۔۔۔
بھئی سب باتیں چھوڑیں .. جاوید بھائی آپ خوش قسمت ہیں آپ کے بلاگ میں آویز بھائی تشریف لائے ہیں .. آویز بھائی ہمارے بہت ہی عزیز بھائی ہیں اور بہت برسوں سے بھائی اسی طرح سے سے آتے اور جاتے ہیں .. مجھے تو بس اتنظار ہی رہتا ہے کہ کونسا بلاگ اتنا خوش نصیب ہوگا جس پر آویز بھائی تشریف لائیں گے .. سو جاوید بھائی اس بار آپ وہ خوش نصیب بلاگر ہیں ..آویز بھائی سلامت رہیں اور بس جلدی جلدی آیا کریں .. ہمیں آپ کی رائے بہت محترم ہے ..
السلام علیکم
کوئی معزز دوست اُن سیاسی سانڈھوں کے بارے میں بھی لکھے نا جو ’’ جنونیت کے حالت میں ‘‘ اکثر کانچ کی مٹی اور شیشوں سے بھری دوکان میں جا گھستے ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
جناب جعفر صاحب،
آپ نے بھی محاوروں کی لسٹ ، بمع ان کی سیاسی تشریح ، میں اضافہ کرکے میرے علم میں اضافہ فرمایا۔ آپ کا بے حد شکریہ۔
جناب آصف احمد بھٹی صاحب،
آپ کا بھیجا ہوا لنک ایک گراں قدر اضافہ ہے ، آپ تو چھپے رستم ہو بھائی ۔ اللہ آپ کو یوں ہی مزید ادبی خدمات کی توفیق عطا فرماتا رہے، آمین۔
” کوئی معزز دوست اُن سیاسی سانڈھوں کے بارے میں بھی لکھے نا جو ’ جنونیت کے حالت میں ‘ اکثر کانچ کی مٹی اور شیشوں سے بھری دوکان میں جا گھستے ہیں “
کیوں نہ یہ نیک کام آپ کے ہاتھوں ہوجائے، جزاک اللہ۔
جناب صفدر ہمٰدانی صاحب،
مرشد ، ” مُش عائرہ “ شامل کرکے آپ نے بلاگ کو کیا خوب رنگ دیا ہے ۔ یہ بلاگ ہے ہی ، علم و ادب کے علاوہ ، گپ شپ کا بہانہ بھی کہ اتنے سنجیدہ موضوعات ، جہاں کبھی کبھی سپاہ باقاعدہ مورچہ بند ہو جاتی ہیں ، کے ساتھ کٹھی مٹھی گولیاں یا سویٹ ڈش بھی ضروری ہے ۔
محاوروں کی لسٹ میں اضافے نے سوچ کو ایک نئی راہ دے دی ہے کہ کیوں نہ ادبی و سیاسی محاوروں کا ایک دنگل کرایا جائے ؟
آپ کی پیش کردہ نائجیرین کہاوت ، ” دن کے وقت مینڈک بغیر بات کے نہیں اچھلتا “ آج کل کے حالات اور سیاست میں بہت ہی فِٹ بیٹھتی ہے کہ ایک ’ نو وارد مینڈک ‘ نے ایسی اچھل کود شروع کر رکھی ہے کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کہاں کب اور کیا کہنا ہے ۔
کیانی صاحب
اگر آپکو پتھروں کی فہرست درکار ہو تو میں فراہم کرسکتا ہوں۔
کیانی صاحب
سب سے زیادہ خطرناک جانور شریف زردار ہیں جو آج شیطان کے کان کاٹ رہے ہیں۔ اس ہی لئے اللہ تعلیٰٰ نے شیطان کو حکم دیا تھا کہ وہ حضرتِ انسان کے حضور سجدہ کرے۔
ڈاکٹر نگھت نسیم صاحبہ ،
” جاوید بھائی آپ خوش قسمت ہیں آپ کے بلاگ میں آویز بھائی تشریف لائے ہیں .. آویز بھائی ہمارے بہت ہی عزیز بھائی ہیں اور بہت برسوں سے بھائی اسی طرح سے سے آتے اور جاتے ہیں .. مجھے تو بس اتنظار ہی رہتا ہے کہ کونسا بلاگ اتنا خوش نصیب ہوگا جس پر آویز بھائی تشریف لائیں گے .. سو جاوید بھائی اس بار آپ وہ خوش نصیب بلاگر ہیں “
ڈاکٹر صاحبہ ، میں واقعی اپنی قسمت پہ نازاں ہوں کہ میرے استادِ محترم جناب آویز صاحب کو فرصت کی چند گھڑیاں نصیب ہوئیں جو انہوں نے میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے میرے بلاگ میں شامل ہوکر مجھے اعزاز بخشا۔ ان کے شب و روز واقعی بہت مصروف ہوتے ہیں ۔ خدمت خلق کو یہ اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں ۔ برمنگھم کے مایہ ناز ویب ڈیزائینر ہیں ۔ کمپیوٹر کی سافٹ وئیر یا ہارڈ وئیر میں کسی کو بھی کوئی مسئلہ پیش آجائے ان کی خدمات ہمہ وقت حاضر ہیں ۔
آویز صاحب ہی وہ ہستی ہیں جنھوں نے مجھے عالمی اخبار کی راہ دکھائی ۔ میں جب بھی عالمی اخبار کھولتا ہوں سب سے پہلے آویز صاحب آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں ۔
استادِ محترم ، آپ نے مجھے اس درسگاہ میں بھیج کر مجھ پہ جو احسان کیا میں تا حیات آپ کا مقروض رہوں گا ۔
بلاگ میں آپ کی شرکت کا پھر سے شکریہ۔
محترم جناب ظفرجعفری صاحب ،
” اگر آپکو پتھروں کی فہرست درکار ہو تو میں فراہم کرسکتا ہوں “۔
جناب ، نیکی اور پوچھ پوچھ ، سو بسم اللہ ۔
جن سب سے زیادہ خطرناک حشرات کی آپ نے بات کی ہے اللہ ان سے ہمارے کان کٹنے سے بچائے رکھے ، آمین ۔
آپ کی شمولیت کا بے حد شکریہ ۔دورانِ طوافِ کعبہ بندہء ناچیز کو یاد رکھئیے گا ، شکریہ۔
شائد کسی نے پرویز مشرف کا یہ مقولہ پہلے بھی لکھا ہے کہ:
“جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے“
اسلام علیکم ساتھیو
اس بلاگ نے چِک اآ ئی کمر کے ساتھ اُٹھنے پر مجبور کردیا ۔جتنی دیر بیٹھ سکتی ہوں اُس کا فائدہ اُٹھا ؤنگی ۔
تبصرے پڑھے ان میں کہیں گر گٹ نظر نہیں اآیا اور اگر کسی نے لکھ تھا تو شاید میری نظر سے چوک گیا ۔کہ اس کے بعد شاید سیاست میں کسی ریپٹائل کی یا کسی اور کی گنجائش مجھے تو نظر نہیں اآتی ۔
کہ گر گٹ ایسی خاصیت کا حامل ہے جو ہر رنگ اختیار کر سکتا اور خود کو پوری طرح جس رنگ میں چاہے چھپا کر بڑی اآسانی سے شکار کر سکتا ہے ۔اور ایسے گرگٹ ہمارے چاروں طرف موجود ہیں اور ہمیں بڑی اآسانی سے شکار کر رہے ہیں ۔
ہمارے لیڈر اور عہدے دار جس طرح رنگ بدلتے اور شکار کرتے ہیں اُس پر تو شاید گر گٹ بھی شرمندہ ہوگا اور برا مان جائیگا کہ ہم نے اُس کا نام کیوں لکھا ۔ہم گرگٹ سے معافی چاہتے ہیں ،
کہ ہم اس سے بھی زیادہ تیزی سے رنگ بدلنے والوں کے نام لے سکتے ہیں ،کہ یہ خاصیت صرف اس کی میراث نہیں رہی ۔
اللہ ہم سب پر اپنا فضل فرمائے ۔اور میرے ملک کو شاد آباد رکھے ۔
عالم آرا
وینکور
ارے صاحب ہر شاخ پہ الو بیٹہا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا،،
اب آپ کی مرضی ہے اسکو بندر کی شگل دیں یا کسی اور کی، کوئی فرق نہیں پڑنے والا
خوش آمدید غفور بھائی .. مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کو عالمی اخبار اور بلاگ کا پلیٹ فارم بہت اچھا لگا .. اور مجھے جو سب سے زیادہ خوشی ہوئی ہے وہ آپ کی اردو ادب سے وابستگی اور دلچسپی ہے . آپ کو اچھے اشعار اور مقالے بہت پسند ہیں .. تو یقین کریں آپ بلکل صحیح جگہ پر صحیح دوستوں کے درمیاں ہیں .. ایک دفعہ پھر آپ کو خوش آمدید .. جی آیاں نوں ..
اسلام علیکم عبدالغفور بھائی
سنا ہے کہ اُلو عقلمند پرندہ ہوتا ہے ۔اگر بارَ خاطر نہ ہو تو اس شعر کو تھوڑی ترمیم کے ساتھ پڑھ لیں،
ہر شاخ پہ اِک گِدھ بیٹھا ہے
انجامِ گلستاں کیا ہوگا
اب شاید صحیح تصویر اُبھر اآئے ۔
عالم آرا
وینکور
محترمہ عالم آ را صاحبہ ،
آپ آئیں ، بہار آئی ۔ عالمی اخبار کی بلاگ فیملی سے آپ کی لمبی غیر حاضری جیسے ڈستی رہی ۔ اللہ آپ کی ’چُک ‘ کو جلد از جلد ’ چُک ‘ دے اور آپ کو مکمل صحت یابی دے ۔
گر گٹ کا نام واقعی کہیں نہیں آیا جوکہ آپ کا انمول اضافہ ہے کہ سیاستدانوں پہ سب سے زیادہ فِٹ ہی یہ محاورہ بیٹھتا ہے ۔
میری اس اپیل پہ مجھے بہت اچھی ریسپانس ملی ہے ۔ میں بہت سنجیدگی سے اپنے کالم کو اپ گریڈ کرنے کی سوچ رہا ہوں۔
آپ کا پھر سے شکریہ ۔
محترم عبدالغفور صاحب ،
سب سے پہلے تو خوش آمدید اور بلاگ میں تشریف آوری کا شکریہ۔
” ارے صاحب ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا “
جیسا کہ میں نےکالم میں بھی لکھا ہے کہ اُلو کو اس بات پہ سخت احتجاج ہے کہ گلستاں تو ہم نے خود بیچ کھایا اور بدنام اسے کر ڈالا ۔ دعا کریں اُلو ہمیں کوئی بددعا نہ دے کہ آدھی رات کی دعا یا بددعا جلدی قبول ہوتی ہے اور اُلو تو جاگتا ہی ساری رات ہے !
آپ کا پھر سے شکریہ ۔
اسلام علیکم ساتھیو اللہ آپ سب کو خوش و خرم رکھے ۔
آپ کی دعا کا بہت شکریہ ۔واقعئی تکلیف میں ہوں ۔
محترم جاوید اقبال کیانی بھائی مجھے بھی ایساہی لگا کہ میں اپنی فیملی سے دور رہی ،لیکن باوجود کوشش کہیں سے بھی رابطہ نہ رکھ سکی ،جلد ہی میں ان پندرہ دنوں کا احوال لکھونگی جو میں اپنے وطن میں گزار آئی ۔
آپ کی محبت اور خیال کے لئے میرے پاس سوائے دعاؤں کے کچھ نہیں اللہ رب العزت آپ کو علم و عمل کی دولت سے مالا مال کرے ،آمین
میرے بھائی اُلو واقعئی سخت احتجاج کر رہا ہے کہ اُس جیسے زیرک اور عقلمند پرندے کو کن لوگوں کے ساتھ جوڑ رہے ہو ۔اللہ ہم سب کو ہر کسی کی بد دعا سے بچائے ،اور اُلو کی بد دعا سے تو بچاتا ہی رکھے
آمین ثمہ آمین ۔ لیکن گر گٹ بہت خوش ہے کہ اُس کی خاصیت بہت لوگوں میں حلول کر گئی ہے ۔اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والوں کی کمی نہیں رہی ہے ۔
اللہ میرے ملک کو بد دیانت الوؤں اور گر گٹ کی طرح رنگ بدلنے والوں سے سے بچاتا رکھے ۔
عالم آرا
وینکور
السلام علیکم
جاوید + اقبال + کیانی صاحبان ( بھائی لوک ) آپ کو لنک پسند آیا ، مجھے خوشی ہوئی ، میں علی گڑھ اردو کلب کے ابتدائی ممبران میں سے تھا بعد میں کچھ اختلافات ( جو کہ اتنے اہم بھی نہ تھے ) کے سبب میں کلب سے علیحدہ ہو گیا تھا ’’ علی گڑھ اردو کلب ‘‘ کے فورم پر اور پھر ’’ دیدہ ور ‘‘ کے ابتدائی شماروں میں میرے مضامین ، افسانے اور شاعری ( میرے دل کی آواز ) چھپتے رہے ہیں ، شاید اب بھی کچھ مواد وہاں موجود ہو ، خیر آپ کو پسند آیا ، مجھے خوشی ہوئی ۔
رہی بات سیاسی سانڈھو کی تباہی کی اور جس پر لکھنے کا حکم آپ نے مجھے دیا ہے تو آپ کے حکم سے سرتابی کی جرآت کم از کم مجھ میں تو نہیں ، بس کچھ وقت عنایت کیجیے ۔ انشاء اللہ حکم کی تعمیل ہوگی ۔
آصف احمد بھٹی
محترمہ عالم آ را صاحبہ،
آپ سے پندرہ دنوں کی غیر حاضری کا سن کر حیرت ہوئی ، یہاں تو ایسا لگ رہا تھا جیسے آپ کو گئے پندرہ سال ہوگئے ہوں ۔ آپ کے ہر تبصرے کا پر خلوص دعائوں پہ ختم ہونا اس کمی کی بڑی وجہ تھی ۔ اللہ رب العزت آپ کی تمام دعائوں کو شرفِ قبولیت بخشے ، آمین۔
محترم ساتھیو اسلام علیکم
محترم بھائی جاوید اقبال کیانی آپ کی محبت کے لئے جزاک اللہ خیر ۔
آپ کی دعا پر میری بھی ہزار بار آمین ۔
محبت اور پیار ایسی دولت ہے جو زہریلے جانوروں کے سوا ہر جانور پر اثر کرتی ہے پھر چاہے وہ شیر جیسا طاقتور ہو یا چوہے جیسا ۔انسان ہر ایک پر بھاری ہے ۔اور انہیں اپنے اشاروں پر نچاتا بھی ہے ۔
بس اگر ہم نفرتوں اور عداوتوں سے نکل اآئیں تو شاید ان اشرف المخلوقات کو بھی سنوار لینگے جو ہمارے اپنے ہی ہیں مگر لگتے نہیں ۔اگر کسی ترکیب سے یہ سانڈ ہمارے مطیع ہو جائیں تو ہم دنیا ہلا سکتے ہیں ۔مگر ہم صرف باتوں کے شیر ہیں عمل کے نہیں اسی لئے نتائج نہیں ملتے ۔یا پھر ہم چراغ ا لہٰ دین کی تلاش میں ہیں کہ ہلدی لگے نہ پھٹکری اور رنگ اآئے چوکھا ۔
لوگ وہ ہی سنورتے ہیں جو خود کو سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں ۔معجزوں کے انتظار میں نہیں رہتے ۔
اللہ ہمیں سنورنے اور سنوارنے کی صلاحیت عطا رفر مائے ۔
عالم آرا
وینکور