کئی دن سے بڑی دھوم تھی کہ صدر پاکستان خطاب فر ما ئیں گے؟ اور عوام نے بڑی امیدیں اس سے لگا ئی ہو ئی تھیں ۔ ممکن ہے کہ ہمارے علم میں نہ ہو، مگر سٹہ کھیلنے والوں نے شر طیں بھی لگا ئی ہو ں کہ صدرِ محترم کچھ نہ کچھ ضرور کہیں گے اور غریب اس پہ رقمیں ہار گئے ہو ں ؟ ہم نے صدر کے اعلان کو کان لگا کر سنا اور تمام اخباروں میں پڑھا، مگر نہ کچھ سنا نہ نظرآیا ، اگر آپ بھا ئیوں اور بہنو ں میں سے کو ئی کچھ سمجھ سکا ہو تو ہمیں بتائیں تا کہ ہم اس پر کالم لکھ سکیں ممکن ہے کہ ق لیگ کے شورو غل کی وجہ سے کسی کو کچھ سنا ئی نہ دیا ہو مگر انہوں نے کہا ہو؟ اور اس سے زیادہ حیرت لوگوں کو اس پر ہو ئی ہےکہ نون لیگ کیوں خاموش ہے۔جبکہ امید تھی کہ وہ تازہ بہ تازہ بلو چستان سےآرہے ہیں ۔ وہاں والوں کے مطالبات تھے کہ مشرف کا قتل ِ عام اور غداری پر محاسبہ کیا جا ئے ، ہمارے وسا ئل ہمیں دیئے جا ئیں وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ صدر ِ محترم نے وہاں فر مایا بھی تھا کہ جو تمہارے مطالبات ہیں وہی ہمارے بھی ہیں ؟
ہم تو بس یہ سمجھ سکے ہیں وہ یہ ہے کہ سب کچھ وہیں ر ہے گاجہاں تھا اور عوام کی را ئے سر آنکھوں پر ۔مگر ضرور ت ان کے جاگتے رہنے کی ہے، کہیئے کیا خیال ہے آپ کا؟

جب منتخب نمائندوں اور پارلیمنٹ کی کوئ حیثیت ہی نہیں ہے اور فیصلے سڑکوں پر ہو رہے ہیں تو جمہوریت کیسے پنپ سکتی ہے۔ ہمیشہ silent majority پارلیمنٹ منتخب کرتی ہے جو سڑکوں پر کبھی نہیں آتی۔ جبکہ ہارے ہوئے اور دہشت گرد سڑکوں پر آکر silent majority کے انتخاب کا تختہ اُلٹ دیتے ہیں۔ یہ ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہ گا جب تک کوئ ضیاءالحق کی طرح سخت لیکن روشن خیال، تعلیم اور ترقی پسند ،دیانتدار، مخلص اور مغرب کا نورِ نظر لیڈر یا ڈکٹیٹر تیس چالیس سال حکومت کر کے قوم کو علم اور ٹیکنالج کے میدان میں یہودیوں کے مدِ مقابل کھڑا نہیں کر دیتا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بجز بھارت اور اسرائیل کہیں بھی جمہوریت نے یکلخت جڑ نہیں پکڑی۔
ماشااللہ دو تبصرے وہ بھی ایک سے بڈھ کر ایک بہت خوب بھئی سچ میں بہت ھی خوب !!
مگر بات تو یے سوچنے کی ھے کے آخر آپ نے پہاڑ کھودہ ھی کیوں کے چوھا سمنے آ گیا اور پھر شرمندگی کا سامنہ کرنا پڑا؟
بھا ئی جب یہ پیاڑ سامنے آپا تھا تو ھم جیسے ناقص العقل لوگوں کو تو سچ میں اندازہ ھو گیا تھا کے اس میں صرف اور صرف چوہا ھی بیٹھا ھے –
وہ ایک اوز بلاگ ھینا سائیں کا کھوتا کھو میں بیٹھا ھےبھائی وہ بلاگ فقط مزاق نہیں ایک بہت بڑا سچ ھے جس کو ھمدانی صاحب رحمت سائیں جیسے لوگوں نے مزاح کی شکل دے کر ایک بہت بڑا سچ ھمارے سامنے پیش کیا ھے ھمار ملک میں پہاڑ سے چوھا باہر آے یا کھوتا کھو میں بیٹھا ھو سچ یئی ھے کے سب کچھ ھماری اپنی ھی وجہ سے ھے آج ھماری وہ عوام جو انکے لیئے سڑکوں پر آ کر ان جیسے کھوتے اور چوھوں کی حوصلہ افزائی کرتی ھے کبھی تو وہ عوام اس ملک کیئیے بھی تو سڑکوں پر آئے؟طنز کرنے میں ھماری عوام ماہر ھے بھائی کبھی کبھی تو ایسا لگتا ھے کے خدا نے تنقید کا عنصر ھماری پاکستانی عوام میں کوٹ کوٹ کر بھرا ھے مگر فقط تنقید :)اور جب الیکشن آتے ھیں یا کوئی احتجاج کی کال ھوتی ھے کوئی دھرنہ اناونس کیا جاتا ھے تو یہی نقاد عوام بھرپور شرکت کر کے اسکو ایسے کامیاب بناتی ھے کے جیسے شعور بیداری سے سرشار ھیں یے لوگ
آپ خود ھی مجھے ایک بات کا جواب دو آج ھم ان سب کو بر بھلا کہتے ھیں ابھی اسمبلیاں ختم ھو جاتی ھیںالیکشن کا اعلان ھوتا ھے پھر کیا صورتحال دیکھتے ھو آپ پاکستان کی؟پھر ھمارے آپ کے جیسے لوگ ھی بیٹھ کر یہی کہتے دیکھیں گے کے فلاں لیڈر کو وٹ ڈالو فلا اچھا ھے
بھا ھم خود تو ان چوھوں اور کھوتوں کو اپنے ایوانوں تاک عدالتوں تک سینٹ تک وزیر اعظم ھاوس ایوان صدر تک لاتے ھیں اور پھر خود ھی کہتے ھیں کے کھودا پہاڑ نکلا چوہا ۔۔۔۔یا پھر کھوتا کھو میں بیٹھا ھے
میرے عزیز بھائی ھمکو اپنے منتخب کیئے ہوئے کھوتوں اور چوھوں سے امید لگا کر ان کا ایوان میں خطاب نہیں دیکھنا چاھیئے بلکہ ھمکو تو یہ سب اس نظر سے دیکھنا چاہیے کے اب ھمار چوہا یا ھمارہ کھوتا کیا نئی شرارت کرنے جا رہا ھے 🙂
اگر یے لوگ سچ میں لیڈر ھوتے تو بھارت کی طرح ایٹمی معاہدے کرتے امریکہ سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنےملک کی سلمیت پر بات کرتے امریکہ سے مگر بھائی جی یے تو سچ میں کھوتے اور چوہے ھی ھیں جب ھی تو ھمارے ملک کا حال کسی سے چھپا نہیں ھے
ھمارے کھوتے اور چوہوں کو ڈرانے کلیئے امیرکہ نے ایک چوکیدار رکھا ھینا رچرڈھالبرک وہ ھمارے کھوتے اور چوھوں کو کیسا سیدھا رکھتا ھے اسکی ایک فون کال پر ان کی کیا حالت ھوتی ھے کیا آپ کو نیہں پتہ؟
معزرت بھائی لکھنے کو تو بہت کچھ ھے مگر میں اسی پر اکتفا کرتی ھو
فقط
ماریہ علی