میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن ۔ ہے کائنات خد ا سے ، مگر سخن مجھ سے ( ظفرجعفری )

ظفر جعفری صاحب نے ایک بلاگ ( جو پاکستان کی قرارداد کے موضوع پر ہے ) میں یہ ارشاد فرمایا :

ایک نعتیہ شعر آبکی نذر کررہا ہوں

میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
ہے کائنات خدا سے مگر سخن مجھ سے

منظور قا ضی نے کہا ہے:
March 29, 2009 بوقت 10:02 pm
ظفر جعفری صاحب : واہ واہ واہ واہ بہت اچھے بہت خوب سبحان اللہ کیا الہامی مصرعہ آپ نے کہا ہے کہ :
میں ” ایک ‌نعتیہ شعر آپ کی نذر کررہاہوں ” وہ یہ کہ :
میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن ۔۔ ہے کائینات خدا سے ، مگر سخن مجھ سے

اگر ظفر جعفری صاحب یہ کہ دیں کہ انہوں نے اپنے اس شعر کو “‌نعتیہ شعر ” کس وجہ سے کہا ہے تو میری جستجو ختم ہوجاے گی ۔
بہرحال :
بلاگ کے تبصروں میں آپ کے لکھے ہوے اشعار کو جمع کروں تو ظفر جعفری صاحب کی غزل یوں بنتی ہے‌: ( میری کمپوزنگ میں کوی غلطی ہوجاے تو ظفر جعفری صاحب تصحیح فرمادیں ) :

ہیں بلبلوں کی‌ وہاں روز و شب غزل خوانی
وہی جو چھوٹ گیا ہے مرا چمن مجھ سے

نظر نہ آئی مجھے پھر کہیں وہ ہریالی
نہ جانے چھوٹ گیا کیوں مرا وطن مجھ سے

نظیر و غالب و میر و ابولحسن خسرو
یہ ارض آگرہ کہتی ہے ، ہے سخن مجھ سے

میں فخر تاج محل ہوں ، زمین فتح و ظفر
کہ حسن و عشق و محبت کا ہے چلن مجھ سے

میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
ہے کائنات خدا سے ، مگر سخن مجھ سے

۔۔۔۔۔۔
اوپر کی تحریر کے بعد ظفر جعفری صاحب نے ایک دعوت مجھے اور تما م سخنوروں کو دی ہے کہ ان کی اس غزل ( جو انیس 19 اشعار میں ہے ) پر تبصرے کریں اور تعمیری تنقید کریں ۔
میں ظفر جعفری صاحب سے عرض کرتا ہوں کہ وہ بقیہ اشعار بھی اس بلا گ میں لکھدیں تاکہ انکی پوری غزل سے سب مستفید ہوں ۔
فی الوقت سب دانشوروں اور سخنوروں سے عرض ہے کہ وہ اپنے اپنے تعمیری تبصرے مندرجہ بالا چند اشعار پر شروع کردیں۔ ۔
علم کا طالب :
منظور قاضی از جرمنی

36 thoughts on “میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن ۔ ہے کائنات خد ا سے ، مگر سخن مجھ سے ( ظفرجعفری )”

  1. قاضی صاحب

    میں پوری غزل ضرور تحریر کرونگا۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ غزل کے ایک شعر کا دوسرے شعر سے ربط ہونا ضروری نہیں۔

  2. طفر جعفری صاحب کا اوپر کا تبصرہ انا نیمس ( گمنام ) کے نام سے شایع ہوگیا ، پھر بھی انکی تحریر انکی شناخت کو ثابت کرتی ہے ۔
    جی ہاں ظفر جعفری صاحب اگر کوئی غزل مسلسل ایک موضوع پر نہ ہو تو اسکے اشعار اپنی اپنی جگہ ایک الگ مضمون کے حامل ہوتے ہیں۔
    شکریہ کہ آپ نے بقیہ اشعار بھی لکھنے کا وعدہ کیا۔
    اب صرف یہ بتا دیجیے کہ آ پ نے اپنے اس شعر کو ” نعتیہ شعر ” کس بنییاد پر کہا :
    میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
    ہے کائنات خدا سے ، مگر سخن مجھ سے

    شکریہ :

  3. شاید ظفر جعفری صاحب کی دانست میں یہ شعر ” نعتیہ ” ہو میرے خیال میں یہ شعر نعتیہ نہیں ہے ۔ اگر ہے تو وہ یہ بتادیں کہ وہ کس بنا پر اپنے اس شعر کو نعتیہ کہتے ہیں:
    میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
    ہے کائنات خدا سے ، مگر سخن مجھ سے
    و یسے میں اس شعر میں شاعر کی ” تعلّی ” کو مانتا ہوں جس کو شاعر نے بڑے اچھے الفاظ میں قلم بند کی ہے ۔ میرے خیال میں یہ بہت ہی اچھا شعر ہے جس میں شاعر دعوی کرتا ہے کہ وہ سخن کے چمن کا باغباں ہے جب کہ خدا کاینات کا نگہبان ہے )
    ۔۔۔۔
    اب آتے ہیں ظفر جعفری صاحب کی غزل کے پہلے شعر پر :
    ہیں بلبلوں کی وہاں روز وشب غزل خوانی
    وہی جو چھوٹ گیا ہے مرا چمن مجھ سے

    اس شعر کا مضمون تو ٹھیک ہے مگر اسکی ترکیب میں تبدیلی کی گنجایش ہے ۔ اس شعر میں اگر مان بھی لیں کہ بلبلیں شب کو بھی غزل خوانی کرسکتی ہیں تو بھی اس چمن کے چھوٹ جانے کا ذمہ دار شاعر معلوم ہوتا ہے ، چمن یا کوی دوسرا نہیں ۔

    میرے خیال میں اس کی تشکیل یوں ہوجائے تو یہ شعر کافی بہتر ہوسکتا ہے :
    تھی بلبلوں کی جہاں روز و شب غزل خوانی
    خزاں نے چھین لیا ہے وہی چمن مجھ سے
    ۔۔۔۔
    اب آتے ہیں دوسرےشعر کی طرف :
    نظر نہ آئی مجھے پھر کہیں وہ ہریا لی
    نہ جانے چھوٹ گیا کیوں مرا وطن مجھ سے

    اس شعر میں شاعر کو اپنے وطن کی ہریالی کی جیسی ہر یا لی دنیا میں کہیں پر بھی نظر نہیں آتی مگر شاعر اس کا اعتراف بھی کرتا ہے کہ اسکو علم م نہیں کہ اسکا وطن اس سے چھو ٹ کیوں گیا ( حالانکہ وہ خود اپنے وطن کو چھو ڑ کر پردیس میں جا بسا ہے ۔ )
    مکن ہے کہ اس شعر کو یوں لکھا جائے تو شاید بات بنے : :

    وطن کے نام پہ قربان میری جاں تھی مگر
    فلک نے دور ہی رکھا مرا وطن مجھ سے
    ۔۔۔۔
    اب آتے ہیں تیسرے شعر کی طرف :

    نظیر و غالب و میر و ابوا لحسن خسرو
    یہ ارض آگرہ کہتی ہے ، ہے سخن مجھ سے

    میرے پاس کتابوں کا ذخیرہ نہییں ہے کہ خسرو کے اکبر آباد ( آگرہ ) میں پیدا ہونے کی تصدیق کروں مگر ظفر جعفری صاحب نے جو کچھ لکھا وہ ٹھیک ہی ہوگا کہ خسرو کا تعلق ا کبرآباد سے تھا ۔
    اس شعر کے پہلے مصرعہ پر مجھے صرف یہہ ہی کہنا ہے ،مگر اس کے دوسرے مصرعہ میں ” ہے ہے ” کی تکرار ذرا ٹھیک نہیں معلوم ہوتی ۔
    شاید اسکو تبدیل کرکے یہ لکھا جاے تو پڑھنے میں ہے ہے نہ کہنا پڑے:
    یہ آگرہ کا ہے دعوی کہ ہے سخن مجھ سے

    اس تبدیلی کے بعد اس شعر کو یوںپڑھا جاسکتا ہے :

    نظیر و غالب و میر و ابوالحسن خسرو
    یہ آگرہ کا ہے دعو ی کہ ہے سخنن مجھ سے

    اب چوتھا شعر یوں ہے :

    میں فخر تاج محل ہوں زمین فتح و ظفر
    کہ حسن و عشق و محبت کا ہے چلن مجھ سے

    ،ہرا خیال ہے کہ آگرہ کی شناخت فتح و ظفر سے نہیں ۔ میرے خیال می‌ آگرہ حسن و جمال کی عکاسی کرتا ہے ۔
    دوسرے مصرعہ میں ہ عشق کے بعد محبت کا لفظ غیر ضروری معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ عشق ہی محبت کی انتہا ہے ۔

    اس لیے دوسرےمصرعہ کو یوں بھی لکھا جاسکتا ہے :

    کہ حسن و عشق کی عظمت کی ہے پھبن مجھ سے

    اس مصرعہ میں عظمت کی بجاے دولت یا رفعت یا حشمت یا سطوت بھی کہا جاسکتا ہے
    اس تبدیلی کے بعد یہ شعر یوں لکھا جاسکتا ہے:
    میں فخر تاج محل ہوں زمین حسن و جمال
    کہ حسن و عشق کی عظمت کی ہے پھبن مجھ سے
    ۔۔۔۔
    اب پانچویں شعر پر میں اس تبصرے کے شروع میں جو کچھ کہ چکا ہوں اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ امید کہ قاریین اس تبصرے کے شروع کے حصہ کو پڑھ لینگے۔
    ۔۔۔
    اب ظفر جعفری صاحب کی غزل کے بقیہ چودہ اشعار کا انتظار ہے ۔
    فی الوقت اسی تبصرہ پر اکتفا کرتا ہوں۔
    ۔۔۔۔
    خدا نخواستہ میں ظفر جعفری صاحب کی شاعرانہ عظمت سے انکار نہیںں کررہا ہوں ۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ اپنے دو بہت ہی قابل استادوں ( جناب قمر نقوی نقشبندی صاحب اور جناب طارق ہاشمی صاحب ) سے اس غزل کی اصلاح لینے کہ بعد یہ غزل ا س عالمی اخبار میں پیش کر چکےہیں ۔ میں ان عظیم شعرا کو دیکھ چکا ہوں اور انکے کلام کو ڈلس ، ٹیکسسس (امریکہ )میں ان کی زبانی سن چکا ہوں ۔ امید کہ وہ عظیم شعرا میرے اس بلاگ کو پڑھ کر مجھے میری غلطیوں سے مطلع کردینگے ۔

    مجھے ظفر جعفری صاحب کی تاثرات کے پڑھننے کا انتظار رہے گا۔

    دوسرے پڑھنے والوں سے عرض ہے کہ میرے تبصرے کو کسی بھی طرح کسی اشتعال انگیز ی کے لیے استعمال نہ کیا جاے۔ اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ ہم سب مثبت طریقے سے ایک دوسرے سے سیکھیں اور اس بلاگ کو علم کی ترسیل و تحصیل کا ذریعہ بنایں۔
    ۔ ۔۔
    علم کا طالب :
    منظور قاضی از جرمنی
    manzoorquazi@gmail.com
    xx49863884203

  4. اس وقت بہتر ہے کہ یہ شعر معہ آپکے قارئین کے لئے چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ تبصرہ کرسکیں ۔ ضروری نہیں کہ ہر قاری اسے نعتیہ سمجھ کر ہی تبصرہ کرے۔ آگے چل کر میں اپنی تشریح کردونگا۔

  5. میں ظفر جعفری صاحب کی تجویز کی دل سے تائید کرتا ہوں ۔
    اس شعر پر اور بقیہ اشعار پر میرے تبصرہ پر ظفر جعفری کے تاثرات کا اور دوسرے پڑھنے والوں کے خیالات کا انتظار رہے گا

    اور ظفر جعفری صاحب کے بقیہ چودہ اشعار کا بھی انتظا ر رہے گا ۔

  6. جنونِ عشق کی قائم ہے انجمن مجھ سے
    خوشا کہ قیس بھی سیکھے گا اب یہ فن مجھ سے

    نگوں رہے گا مرے سامنے سر۔ فرہاد
    کہ کوہِ عشق کے دبتے ہیں کوہکن مجھ سے

    بسی ہوئ ہے دل وجاں میں ایک خوشبو سی
    ذرا سا مس جو ہوا تیرا پیرہن مجھ سے

    یہ تیری دی ہوئ خوشبو ہے اور کچھ بھی نہیں
    جو مانگتے ہیں ثمن اور نسترن مجھ سے

    ہے بلبلوں کی وہاں روز و شب غزل خوانی
    وہی جو چھوٹ گیا ہے مرا چمن مجھ سے

    نظر نہ آئ مجھے پھر کہیں وہ ہریالی
    نہ جانے چھوٹ گیا کیوں مرا وطن مجھ سے

    میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
    ہے کائنات خدا سے مگر سخن مجھ سے

    جو بحرِ شعر و سخن میں ہے آج طغیانی
    قسم خدا کی مرے ہے یہ موجذن مجھ سے

    خدا کرے کہ مرے دم سے ہو روش قائم
    کہ خوش خدا ہو مرا اور پنجتن مجھ سے

    عطا ہو قوّتِ تخلیق وہ مجھے یارب
    ٰٰٰٰ ٰٰٰ کہ میں سخن سے ہوں مشہور اور مجھ سےٰٰٰ ٰٰٰ

    نظیر و غالب و میر و ابوالحسن خسرو
    یہ ارض آگرہ کہتی ہے ، ہے سخن مجھ سے

    میں فخر تاج محل ہوں ، زمین فتح و ظفر
    کہ حسن و عشق و محبت کا ہے چلن مجھ سے

    میرا خیال تھا کہ اس غزل میں انیس اشعار تھے۔ لیکن مجھے صرف مندرجہء بالا اشعار ملے ہیں۔
    امیر خسرو آگرہ کی Suburb ایٹہ میں پیدا ہوئے تھے۔ نظیر اکبر آبادی تیئیس سال کی عمر میں آگرہ آئے اور آگرہ ہی کے ہوکر رہ گئے اور ہمیشہ خود کو نظیر اکبر آبادی کہا اور نظیر اکبر آبادی لکھا۔

    آپکا تبصرہ تعمیری ہے اور میری رہنمائ کریگا۔ آپنے تعلی صحیح کہا ہے۔ میں نے پہلے شعر یوں کہا تھا

    لہو سے سینچ رہا ہوں میں شاعری کا چمن
    ہے کائنات خدا سے مگر سخن مجھ سے

    کچھ لوگوں نے اسے کفر کہا تو میں نے پہلا مصرع بدل دیا

    میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
    ہے کائنات خدا سے مگر سخن مجھ سے

    اب مختلف مبصر اسکے مختلف معنی لیں گے۔ اسلئے میں اپنے تاثرات کو محفوظ رکھنا چاہونگا

  7. سلام عرض ھے آپ دونوں کی خدمت میں !!!
    ماشااللہ قاضی صاحب اور جعفری صاحب آپ دونوں کی بھرپور شعرانہ گفتو پڑھکر مجھ جیسی کم علم لڑکی کو اسکو سمجھنے کلئیے بھی ایک طویل عرصہ درکار ھے 🙁
    میرا اس گفتگو پر تبصرہ بلکل ایسا ھوگا کے جیسے ایک کم علم ایک پی ایچ ڈی کی بات پر تبصرہ کر رہا ھو ۔۔۔ سو میں فقط اتنا ھی کہہ سکتی ھوں کے آپ دونوں کی گفتگو پڑھ پڑھ کر میں یہاں ایک طالب علم کی مانند خاموش بیٹھی کچھ حاصل کرنے کی کوشش کروں گی کے اگر مجھے یہاں سے کچھ حاصل ھو جائے تو میرے لیئے بارش کے ان چند قطروں کی مانند ھوگا کے ایک پیاسا انسان پانی کی تلاش میں در در ٹھوکریں کھا رہا ھو مگر اسکو کیہں پانی نا مل رہا ھو اور پھر اچانک بارش ھو جاے تو وہ پیاسا انسان پیاس کی شددت میں اتنا پاگل ھو کے آسمان کی طرف اپنا منہ کھول کر کھڑا ھو جائے کے چند قطرے ھی منہ میں جائیں تو میری پیاس بجھ جائے
    قاضی صاحب میں بھی اردو ادب اور معیاری شعری کی بلکل ایسی ھی پیاسی ھوں جگہ جگہ بھٹکنے کے بعد میرے لئیے یے جگہ بلکل پروردگار کی وہ غیب سے امداد ھے کے جسکی میں بہت عرصہ سے متلاشی تھی پھر اچانک مجھ پر رحمت کی بارش ھوئی اور آپ لوگ مجھے مل گئیے
    اب میں بھی بلکل اسی پیاسے انسان کی طرح آسمان کی جانب منہ کھولے کھڑی ھوں کے شاید یہاں سے چند قطرے ھی میرے منہ میں جا کر مجھے سیراب کر دیں ؟
    اسی لئیے معزرت کے ساتھ میں ان اشعار پر اور اپکی گفتگو پر تبصرہ کرنے کی اہل نہیں 🙂
    آپلوگ گفتگو کئیے جائیں میں پیاسے انسان کی مانند پیاس بجھانے میں مصروف ھوں:)
    آپکی کم علم بیٹی
    ماریہ علی

  8. میں آج کسی وقت اپنی فرصت میں ظفر جعفری صاحب کے اور ڈاکٹر ماریہ علی کاظمی صاحبہ کے تبصروں کا جواب دونگا ۔ انشا اللہ
    فی الوقت صرف میں ظفر جعفری صا حب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے میرے تبصرے کو تعمیری تبصرے سے تعبیر کیا۔ شکریہ
    ظفر جعفری صاحب کی غزل کے بقیہ اشعار پر بھی کچھ تبصرہ کرونگا ؛ انشا اللہ
    خوشی کی بات یہ ہے کہ ظفر جعفری صاحب نے اپنے شعر میں تعلی کی جھلک دیکھی ۔ اگر ایسا ہی ہے تو وہ یہ بھی کہ سکتے ہیں:
    ازل سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
    ہے کائینات خدا سے ، مگر سخن مجھ سے

    اس میں ازل کا تعلق شاعر کی ازل سے ہے کایئنات کی ازل سے نہیں
    ۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر ماریہ علی کاظمی صاحبہ سے یہی عرض کرنا ہے کہ ہم سب جب تک زندہ ہیں ایک دوسرے سے سیکھتے رہینگے اور علم حاصل کرتے رہینگے۔ دیکھیے جب کوئی پی ایچ ڈی کسی موضوع پر مقالہ لکھتا ہے وہ مقالہ بیشتر اوقات چند سالوں کے بعد فرسودہ ہوجاتا ہے اور کوی دوسرا پی ایچ ڈی اسی موضو ع میں اختراع کرکے نئی نئی معلومات کا اضافہ کرتا ہے ۔ تو یہ علم کا سلسلہ تو ابد تک جاری رہے گا۔
    ہم سب علم کے پیاسے ہیں اور سمندر سے شبنم ہی مل جائے تو غنیمت ہے ، میرے خیال میں یہ بخیلی نہیں بلکہ اللہ کی رزاقی ہے۔ کسی کسی کو تو یہ شبنم بھی نہیں ملتی۔
    جوش نے کیا خوب کہا ہے کہ :
    غنچہ تری زندگی پہ دل ہلتا ہے
    تو ایک تبسم کے لیے کھلتاہے
    غنچہ نے کہا اس چمن میں‌ اے بابا
    یہ ایک تبسم بھی کسے ملتا ہے ؟
    ۔۔
    فقط:
    علم کا طالب
    منظور قاضی از جرمنی

  9. ظفر جعفری صاحب کی غزل کے بقیہ اشعار پر ضروری مصروفیات کے باعث زیادہ توجہ نہ دے سکا۔

    امید تھی کہ بہت سارے دانشور اور سخنور اس تعمیری بلاگ میں حصہ لینگے مگر ایسا نہیں ہور ہا ہے۔ شاید اس لیے کہ یہ مضمون بے حد خشک قسم کا ہے ۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دانشور اور سخنور اپنے اپنے ضروری کاموں میں مصروف ہیں ۔
    بہر حال:
    فی الوقت ظفر جعفر ی صاحب سے یہی کہنا ہے کہ میں نے انکے اوپر کے لکھے ہوے اشعار کو اپنے انداز سے ترتیب دیے ہیں انکو قبول یا رد کا اختیار ہے۔
    مثال کے طورپر :” میں فخر تاج محل ہوں زمین خواب و خیال ” ۔۔ بھی لکھ سکتےہیں
    ا ور
    ہے آگرہ کو یہ دعوی کہ ہے سخن مجھ سے ” بھی کہ سکتے ہیں

    اب انکی غزل کے بقیہ اشعار پر تبصرہ کرتا ہوں :
    مطلع یوں ہے :
    جنون عشق کی قائم ہے انجمن مجھ سے
    خوشا کہ قیس بھی سیکھے گا اب یہ فن مجھ سے

    اس میں قیس کو جنون کا فن سیکھنے کے بارے میں کہا گیا ہے ۔ جنون وہ کیفیت نہیں جس کا “فن ” کوی سیکھ سکے گا ۔ اس لیے کہ جنون قواعد اور ضوابط سے بے نیاز کیفیت کا نام ہے۔ یہ فن نہ کوی سیکھ سکتا ہے نہ کوی سکھا سکا سکتا ہے۔

    میرے خیال میں جنون عشق کی بجاے ” رموز عشق ” کہنا ٹھیک رہے گا:

    رموز عشق کی قائم ہے انجمن مجھ سے
    خوشا کہ قیس بھی سیکھے گا اب یہ فن مجھ سے
    ۔۔۔
    اب ایک اور شعر :
    نگوں رہے گا مرے سامنے سرِ فرہاد
    کہ کوہِ عشق کے دبتے ہیں کوہ کن مجھ سے

    دوسرا مصرعہ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔ کیا شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ کوہ عشق میں جو کوہ کن رہتے ہیں ، وہ میر ے سامنے دبتے ہیں؟ تو کیا یہ کوہ عشق نام کا کوئی پہاڑ تھا جس کو کا ٹ کر فرہاد نے شیریں کو حاصل کرنے لیے دودھ کی نہر بنائی تھی؟ یا یہ کوہ عشق ، ظفر جعفری صاحب نے استعارہ کی طورپر لکھا ہے ؟ )

    میرے خیال میں یہ مصرعہ نا قابل فہم ہے۔ اس لیے اس شعر کو یوں بدلا جا سکتا ہے :
    نگوں رہے گا مرے سامنے سر فرہاد
    سبق جنون کے لیتا ہے کوہ کن مجھ سے
    ۔۔۔

    ظفر جعفری صاحب کا ایک اور شعر:

    بسی ہوئی ہے دل وجاں میں ایک خوشبو سی
    ذرا سا مس جو ہو ا تیرا پیر ہن مجھ سے

    شعر یت کے لحاظ سے یہ ٹھیک ہے مگر اس کو بہتر بنا جاسکتا ہے
    بسی ہوئی ہے مری روح میں تری خوشبو
    ذرا سا مس جو کیا تیرا پیرہن مجھ سے

    میرے خیال میں ” مس کرنا ” محاورہ ہے” مس ہونا ” نہیں
    ۔۔۔
    ایک اور شعر یوں ہے :

    یہ تیری دی ہوئی خوشبو ہے اور کچھ بھی نہیں
    جو مانگتے ہیں ثمن اور نسترن مجھ سے

    میرے خیال میں یہ لفظ اگر ثمن ہے تو یہا پر غلط معنو ں میں استعما ل ہوا ہے اس لیے کہ ثمن نام کا کوی پھول نہیں۔ ہاں سمن نام کا پھول ہے جو یاسمیں یا چنبیلی کے نام سے بھی مشہور ہے ۔ ( میرے خیال میں سمن کو جلدی میں ثمن کمپوز کردیا گیا ))
    اس شعر کے بارے میں میں کچھ اور نہیں کہتا صرف یہ کہنا ہے کہ سمن اور نسترن مونث اسم ہیں اس لیے یہ شعر یوں ہونا چاہیے:

    یہ تیری دی ہوئی خوشبو تھی اور کچھ بھی نہیں
    جو مانگتی ہیں سمن اور نسترن مجھ سے
    ۔۔۔۔۔۔
    ایک شعر جو کسی کی طرح پر گرہ لگا کر لکھا گیا ہے وہ یہ ہے :

    عطا ہو قوت تخلیق وہ مجھے یارب
    ” کہ میں سخن سے ہوں مشہور اور سخن مجھ سے ”

    طفر جعفری صاحب نے بڑہی اچھی گرہ لگائی ہے ۔ اس پر میں آمین ثم آمین کہتا ہوں
    ۔۔۔۔

    باقی کا یہ شعر بالکل غیر ضروری اور میرے خیال میں ‌بھرتی کا شعر ہے جسے تلف کرنے سے غزل میں کوئی کمی نہیں ہوگی :

    جو بحر شعر و سخن میں ہے آج طغیانی
    قسم خدا کی مرے ہے یہ موجزن مجھ سے

    پہلی بات یہ ہے کہ خدا کو ایسی غلط بات کا گواہ بنا نا اچھا نہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ خدا سب کا خدا ہے شاعر کا یہ کہنا کہ “مرے ” خدا کی قسم ” کا مظلب یہ ہوگا کہ وہ شاعر کا اپنا ایک خاص خدا ہے جس کی قسم کھا کر شاعر یہ کہ رہا ہے کہ یہ جو شعر وسخن میں آج طغیانی موجزن ہے وہ وہ شاعر کی شاعری کا نتیجہ میں موجزن ہے۔

    اس لیے میں کہتا ہوں کہ اس شعر کو غزل سے نکا ل دینا ہی بہتر ہے ۔
    ؛؛۔۔۔۔۔۔
    میں نے اپنی بساط کے مطابق انکے تمام اشعارپر تبصرہ کردیا ۔ اب ظفر جعففری صاحب کا اور دوسرےمبصرین کا کام ہے کہ وہ اپنے اپنے ارشادات سے ظفر جعفری صاحب کو آگاہ کریں ۔
    مگر یہ خیال رہے کہ اصل موضوع ظفر جعفری صاحب کی غزل ہے ( میری تصحیح نہیں ) اس لیے جو دانشور اب کوئی تبصرے کریں تو انکی غزل کے اشعار پر ہی کریں ( یہی شرط ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا )

    اور اس کے بعد یہ دیکھیں کہ انکی دانست میں میرے اصلاح قابل قبول ہے یا نہیں اگر نہیں تو اسکی وجوہات بھی لکھدیں اور اسکے بعد اپنی اصلاح سےاور اپنے مشورے سے ظفر جعفری صاحب کو آگاہ فرمادیں تو اس بلاگ کا مقصد پورا ہوجاے گا۔
    ۔۔۔۔۔
    امید کہ چارہ گر چارہ گری سے گریز نہیں کرینگے ۔
    فقط:
    ظفر جعفری صاحب کی وسیع القلبی کا معترف
    علم کا طالب
    منظور قاضی از جرمنی

  10. قاضی صاحب

    آپکا تبصرہ اچھا ہے اور میرے مفید ہوگا۔

  11. ماریہ علی کاظمی صاحبہ

    آپ میں شاعری کے جراثیم موجود ہیں۔ آپ اگر کسی استاد سے مدد لیں تو بہت جلد آپ ترقی پسند اور اصلاحی شاعری نیز غزل کے میدان میں عروج حاصل کریں گی۔

  12. ظفر جعفری صاحب کی فراخدلی اور اعلی ظرفی میرے اور سب کے لیے قابل مثا ل ہے۔
    میں دل سے انکا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میرے تبصرے کو ” اچھا ” اور اپنے لیے “مفید ” سمجھا۔
    اب میرے اس بلاگ کا مقصد پور ا ہوگیا اس لیے مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔

    ویسے میں ظفر جعفری صاحب کا ہم خیال ہوں کہ ڈاکٹر ماریہ علی کاظمی صاحبہ میں شاعری کی خداداد صلاحیت موجود ہے اور اس پودے کی آبیاری کے لیے اگر وہ عالمی اخبار کے بلاگوں میں اپنی تخلیقات کو شایع کرتی رہیں تو ممکن ہے کہ مجموعی طور پر تمام سخنور انکی ہمت افزائی کرتے رہیں۔
    شاعری ایک خدا داد صلاحیت ہے اگر شاعر کو کوی قابل رہنما مل جائے تو بہتر ہے ورنہ اسکو خود مکتفی ہونا پڑے گا اور اپنے صلاحیت اور اپنے ضمیر کی ہدایت اور خدا کی مدد پر بھروسہ کرنا پڑے گا۔
    ۔۔۔۔۔۔
    فقط :
    اردو کا شیدائی
    منظور قاضی از جرمنی

  13. سلام۔۔۔
    بہت بہت شکریہ جعفری صاحب اور منظور قاضی صاحب آپ دونوں نے مجھ میں ایسے جراثیم تو دیکھے مگر میں آپ جیسے استادوں کی موجودگی میں اگر سچ سے کام لوں تو بہت شرم محسوس کرتی ھوں یہاں کچھ لکھتے ھوئے بھی کیونکہ آپ لوگوں کی گفتگو ھی اتنی معیاری ھوتی ھے کے میری تک بندی اسکے آگے ماند سی محسوس ھوتی ھے ۔
    قاضی صاحب آپ اور جعفری صاحب جیسے انسان سے کچھ سیکھنا میرے لیئے فخر کی بات ھوگی میں انشااللہ ضرور اپنی تکبندیاں آپ لوگوں کو تنگ کرنے کلئیے یہاں لکھتی رہوں گی اور آپ لوگوں سے اسکی اصلاح کرواتی رھوں گی پھر آخر کار میں ایک ٹوٹھی پھوٹی شاعر بن جا ونگی:)

  14. ڈاکٹر ماریہ علی کاظمی صاحبہ سے عرض ہے کہ آپ میں شاعری کے ” جراثیم ” تو محترم ظفر جعفری صاحب نے دیکھے ہیں ۔ مگر میں تو یقین کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ آپ میں شاعری کی خداداد ” صلاحیت ” موجود ہے جس کا مظاہرہ آپ خود کرچکی ہیں ۔

    یہ بات تو آپ کو معلوم ہے کہ عالمی اخبار کی مدیر نگہت نسیم صاحبہ بھی ایک مستند شاعرہ ہیں اور اس کے علاوہ زرقا مفتی صاحبہ جیسی مشہور و معروف شاعرہ تو عالمی اخبار کی شاعری کی دنیا کی نظامت بھی کرتی ہیں ۔ یہ اور شاعرہ سائرہ بتول صاحبہ بھی اپنی اچھی اچھی شاعری سے سب پڑھنے والوں کی داد لیتی رہتی ہیں ۔ اور روبینہ فیصل صاحبہ اور فریدہ لکھانی صاحبہ ، سائرہ انمول صاحب بھی اپنی شاعری عالمی اخبار میں اپنا کلام شامل کرچکی ہیں ، ان تمام شاعرات کی محفل میں آپ اپنے آپ کو اجنبی محسو س نہیں کرینگی ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ دل وجان سے آپ کی ہمت افزائی کرتی رہینگی ۔

    اس کے علاوہ صفدر ھمدانی صاحب بھی شاعری کی دنیا میں اپنا مقام پید ا کر چکے ہیں ۔ انکی رہنمائی سے بھی آپ فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
    آتش نے کیا خوب کہا ہے کہ :
    سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
    ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

    ( یہ شعر لکھ تو چکا ہوں مگر مییر ے خیال میں آتش جیسے استاد شاعر نے اس شعر میں کچھ عجیب سی بات کہی ہے :
    ایک بات تو یہ ہے کہ اس نے ” بہتیرے ” کے بعد ” ہزار ہا ” کا لفظ استعمال کیا ۔ میرے خیال میں بہتیرے کے بعد ہزار ہا کہنے کی ضرورت نہیں تھی ۔
    اس لیےکہ وہ تو یہ ہی کہنا چاہتا تھا کہ اے مسافر تو سفر شروع کر اس لیے کہ تیرے سفر کو آسان بنانے کے لیے بہتیرے ( یا ہزار ہا ) سایہ دار شجر ( درخت ) تیرے راستےمیں موجود ہیں ۔
    دوسری بات یہ ہے کہ جب اس نے کہا ” ہزار شجر سایہ دار ” تو میرے خیال میں اس کو ” راہ میں ہیں ” کہنا چاہیے تھا ۔ مگر اس نے ” راہ میں ہے ” کہا
    بہر حال : وہ تو استاد ی کا درجہ رکھتا تھا اس لیے اس کے کہنے کو مستند کہنا پڑے گا ۔ ) ان باتوں کو صرف برسبیل تذکرہ لکھدیا ہوں ۔ آپ ان کو درگذر کردیجیے ۔
    ۔۔۔۔
    تک بندی بھی ایک خدا داد صلا حیت ہے ۔ اور کئی ایک شعرا نے تک بندی سے ہی اپنی شاعری کا آغاز کیا ۔ خود فراز نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کا پہلا شعر تک بندی کے نتیجے میں اس طرح کیا :
    دوسروں کے واسطے لاے وہ کپڑے سیل سے
    اور میرے واسطرے لاے وہ کمبل جیل سے
    ۔۔۔۔
    آپ کو عالمی اخبار میں اور کسی اور اردو ویب سایٹ میں‌ یونی کوڈ میں لکھنے کا موقعہ حاصل ہوچکا ہے ۔اس موقعہ سے فایدہ اٹھا تی رہیے ۔
    دلی دعاوں اور نیک تمناوں کے ساتھ :
    خیر اندیش :
    منظور قاضی از جرمنی

  15. کمپوزنگ کی غلطی سے ساائرہ انمول صاحبہ کو صاحب لکھ چکا ہوں امید کہ سایرہ انمول صاحبہ معاف کردینگی ۔

  16. بہت بہت شکریہ قاضی صاحب آپکی حوصلہ افزائی کا!!
    مجھے یہاں سب سے ذیادہ سپورٹ ھمیشہ نگھت آپا کی ملی ھے انکی بہت مہربانی ھے کے وہ میرے لکھے کو شائع کرتی ھیں ورنہ یقین مایئیے قاضی صاحب اگر ھمدانی صاحب اور نگھت آپا کی سرپرستی نا ھوتی تو شاید میں پہلے ھی دن بھاگ جاتی یہاں سے ۔۔ مجھے جب پیلی دفعہ ھمدانی صاحب اور نگھت آپا نے کہا کے آپ بلاگز میں شریک ھوں اور جب میں یہاں آئی تو اردو ٹائپینگ دیکھ کر مجھے چکر سے آ گئے میں نے سوچا بھاگ لو ماریہ یہاں ٹکنا مشکل ھے پھر میں نے علی کو بتایا تو اصل میں علی نے مجھے بہت ھمت دلائی کے کوشش کرو اردو بولنے کی طرح لکھنا بھی بہت آسان ھے تو میں نے کوشش کی اور کامیاب ھو گئی 🙂
    میں نے بہت سنا ھے کے شوہر کی کامیابی کے پیچھے بیوی کا ھاتھ ھوتا ھے مگر میں یے بات دل سے کہہ رھی ھوں کے میری بہت سی کامیابیوں کے پیچھے علی کا بہت بڑا ھاتھ ھے۔آج سے 5 سال پہلے تک مجھے ایک ٹوٹھی پھوٹی اردو آتی تھی مگر جب سے علی ملے وہ میری اردو ٹوک ٹوک کے ٹھیک کرواتے رہے کرواتے رہے اور اب جا کر میری اردو کچھ بہتر ھوئی ھے۔
    پہلے میں بھی یورپ میں رہنے والی دوسری پاکستانی لڑکیوں کی طرح پاکستان اور اسکے حالات پر ذیادہ توجہ نہیں دیتی تھی مگر پھر علی نے مجھے سمجھایا کے ھماری اصل پہچان ھی پاکستان ھے اگر ھم پاکستان کو اسطرح فراموش کر دیں گے تو ہم دھوبی کے وہ کتتے بن جائیں گے جو نا گھر کا ھوتا ھے نا گھاٹ کا
    ہر ہر قدم پر میری بلکل بچوں کی طرح رہنمائی کی اسی لئیے اگر میری لائف میں میرا کوئی آئیڈیل ہے تو وہ میرے اپنے شوہر علی ھی ھیں
    آج اگر مجھ میں پاکستان کا شعور اردو کا شعور آیا ھے تو اس سب کے پیچھے علی کا ھی ہاتھ ھے ورنہ شاید میں بھی آج یورپ میں رہنے والی دوسری پاکستانی لڑکیوں کی طرح ھوتی جنکو اپنے ملک کے بارے میں الف ۔بے تک نہیں پتا ۔قاضی صاحب آپ جب بھی میری کسی بات کو سراہتے ھیں تو میرا ذہن اسی وقت دل ھی دل میں علی کا شکریہ ادا کرتا ھے کے آج انکی وجہ سے میں کم ازکم اس قابل تو بنی کے آپ جیسے بزرگ میری رہنمائی کرتے ھیں 🙂
    مجھے آپکی ہر ہر قدم پر دعائیں درکار ھیں بس ہمیشہ آپ مجھے اور علی کو اپنے بچے سمجھ کر دعاوں میں ضرور یاد رکھیئے گا :)آ
    اپکی بیٹی
    ماریہ علی

  17. آپ سب کی محبتوں ، شفقتوں اور دعاؤں کے لیئے ممنون ھوں اور دعا گو ھوں کہ سب کو اللہ پاک اپنے گھروں میں خوش اور خوشحال رکھے ۔آمین

  18. ڈاکٹر ماریہ علی کاظمی صاحبہ اتنے خلوص سے میرے بارے میں لکھتی ہیں کہ مجھ سے کوئی معقول جواب دینے کے لیے سونچنا پڑتا ہے۔
    انہوں نے اردو سیکھنے کے لیے اور ان بلاگوں میں حصہ لینے کےلیے جدہ جہد او ر محنت کی ہے وہ سب کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے ۔ انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ مغرب میں رہتے ہوے بھی اردو زبان پر قابو پانا ممکن ہے۔ اس نیک کام میں انکے شوہر نامدار علی کاظمی صاحب نے انکی جو ہمت افزائی کی اور رہبری کی وہ بھی قابل ستا یش ہے۔
    ویسے علامہ اقبا ل‌ نے کہا ہے کہ:
    یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
    سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
    تو فیضان نظر بھی بڑی اہم نعمت ہے ۔ یہ علی کاظمی صاحب کی نظر کا اور عالمی اخبار کی انتظامیہ کی توجہ کا فیض تھا کہ آپ آداب شعر وشاعری اور بلاگ نگاری کے آداب سیکھ رہی ہیں۔
    میں کوشش کرونگا کہ اپنی طرف سے ہر اردو کے شیدای کی ہمت افزائی کرتا رہوں۔
    جاتے جاتے میں یہ بھی کہے بضیر نہیں رہ سکتا کہ علی کاظمی صاحب نے بھی اپنی اہلیہ محترمہ سے بہت کچھ سیکھا ہوگا : ۔

    کم از کم وہ اپنے دانتوں کو موتی کی طرح چمکتے ہوے رکھتے ہونگے اور ہر کھانے کے بعد اپنے دانتون کو دانتوں کے برش سے صاف کرتے ہونگے اور دھاگے سے دانتوں کے بیچ کے میل کو بھی صاف کرتے ہونگے

    اور سال میں دو تین مرتبہ اپنی اہلیہ محترمہ کے ہاتھوں اپنے دانتوں کی صفای بھی کرواتے ہونگے

    اور اگر کوی دانت خراب ہوجاے تو اسکو اکھاڑ کر یا تو کوی کرا ون اس پر لگا لیتے ہونگے یا پھر ہڈی میں سوراخ کرواکر ایک مصنوعی دانت امپلانٹ کروالیتے ہونگے ۔
    اور عام طور پر قوام اور کتھے چونے والی مسالے والے پان سے اور سگریٹ نوشی سے بھی پرہیز کرتے ہونگے
    اور اصلی گھی اور انبالہ والوں مٹھایوں خاص طر پر حبشی حلوہ اور گاجر کا حلوہ اور جلیبی اور برفی سے دور رہتے ہونگے اس لیے کہ ان میں خراب کولیسٹڑول زیادہ ہوتا ہے ؛
    اور وہ شاید بکری کا بھیجا ( کسی دوسرے بھیجا نہیں) اور گردہ اور کلیجی اور نہاری اور انڈوں کی زردی کے بنے ہوے آملیٹ ( خاگینہ ) جیسی کولسٹرول والی غذاوں سے دور رہتے ہونگے۔

    اور چاکلیٹ جیسے شکر آلود مٹھایوں سے اپنے دانتوں کو برباد نہیں کرتے ہونگے

    اور کوی مشروب جس میں الکحل موجود ہو اسکو منہ تک نہیں لگاتے ہونگے
    اور کبھی مسافرت میں فرصت کے رات دن مل جایں تو اپنی اہلیہ محترمہ کا تصور کرتے رہتے ہونگے ۔

    اگر وہ یہ تما م باتیں کرتےہیں تو ان کا سہرا آپ کے سر ہے۔

    اللہ میاں بیوی کی محبت میں استواری بخشے ۔ آمین
    ۔۔۔۔
    فقط :
    ایک انسان جو عمر میں بڑا تو ہے لیکن عقل کے معاملے میں کسی سے بڑا نہیں۔
    منظور قاضی از جرمنی

  19. االسالام و علیکم قاضی صاحب‌!!
    آپکی گفتگو کا آج بلکل نیا رخ سامنے آیا ھے میرے سچ میں آپ نے آج جو جو باتیں لکھی ھیں کمال لکھی ھیں 🙂
    علی کیلئیے آپ نے جو کچھ کہا ان میں سے کچھ باتیں بلکل درست ھیں اور کچھ غلط:(
    وہ کھانے پینے کے بہت شوقین ھیں جب وہ مجھے پہلی دفعہ ملے تو ایک ریسٹورینٹ میں ایک ویٹر کی کلاس لے رھے تھے کے اسکو کہتے ھیں چائینیز:( اور آپ یقین کریں مجھے صرف روٹی پکانا آتی ھے اور سالن بھی بس ایسا کے گزارہ ھو جائے اور شوہر پیٹو رام:( مگر ایک بات اچھی ھے کے وہ مجھ سے صرف روٹی ھی پکواتے ھیں باقی سالن خود بنا لیتے ھیں کیونکہ میرے ھاتھ کا سالن کھا کے انکے پیٹ میں درد ھو جاتا ھینا:(
    مگر کسی بھی غلط کام میں نہیں ھیں ایک دم اپ ٹو دیٹ ہر رشتے میں ہر کام میں مجلس ماتم نماز ہر ہر چیز میں اتنا پرفیکٹ انسان میں نے نہیں دیکھا سچ میں ۔۔ میں یہ باتیں اس لیئے نہیں کر رہی کے وہ میرے شوہر ھیں سچ میں قاضی صاحب آپکو میری باتوں سے کافی اندازہ ھوگیا ھوگا کے میں کس دماغ کی لڑکی ھوں۔ میں تنقیدی عناصر پہلے پکڑتی ھوں بعد میں پاذیٹو سوچتی ھوں مگر اس انسان میں مجھے آج تک کچھ بھی ایسا نہیں دکھا جس پر میں تنقید کروں ۔۔ کبھی کبھی سمجھ نہیں آتا کے میرے پاس ان پر غصہ کرنے کے لیئیے کچھ کیوں نہیں ھے ۔۔
    میں ایک لڑکی ھونے کی نظر سے اگر بات کروں تو ایسا انسان میرے خیال میں ہر لڑکی کا ائیڈیل ھوتا ھے۔۔ نا کھانے میں کبھی تنگ نا شاپینگ میں تنگ ۔جو بھی بات کہتی ھوں ایسا لگتا ھے کے اسکے لیئے پہلے سے تیار رہتے ھیں اور ایسا بھی نہیں کے شادی کو کم وقت ھوا ھے اس لیے ایسا کرتے ھوں ۔میں نے پاکستان میں بھی دیکھا ھے انکو انکے گھر والوں میں انکی کوئی بہن ھو بھائی ھو کبھی کسی کے کام میں نا نہیں دیکھی کبھی کسی میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جو میں یہ سوچوں کے میرے ساتھ کچھ خاص ھے ۔۔حیرت ھوتی ھے ایسے انسان پر مجھے ۔۔خیر میں تو یہی مانتی ھوں کے پروردگار کی طرف سے میرے لییئے بہت بڑا تحفہ ھیں علی بس آپ ھم دونوں کو اپنی دعاوں میں یاد رکھیں یہ بہت ھے ھمارے لیئے !!!
    ویسے اس بلاگ کو ھم نے شاید فیملی بلاگ بنا لیا ھینا ؟:) ایسا نا ھو یہاں آنے والے یہ سمجھیں کے اسکا عنوان کچھ اور ھے اور باتیں گھریلو چل رہی ھیں‌:(
    اس لیئیے اب بات تبدیل کرتی ہوں 🙂
    قاضی صاحب ایک شعر میرے ذہن میں اٹکا ھوا ھے اس پر آگے میں کچھ لکھ نہیں پا رہی آپ میری مدد کریں پلیز میں‌ چاہ رہی ھوں کے میں سلام لکھوں مگر آگے شعر ہی نہیں بن پا رہے مجھ سے آپ میری رہنمائی فرمائیں پلیز
    شعر یہ ھے
    حصار کر لیا میرا عزا کی خوشبو نے
    علم کے سائے سے لائی جو میں اٹھا کے گلاب

  20. اللہ مارہ علی کاظمی صاحبہ کی اپنے شوہر نامدار سے محبت اور عقیدت کو ہمیشہ برقرار رکھے اور ان دونوں میا ں بیوی کو اسی طرح ہنستا کھیلتا اور کھاتا پیتا رکھے ۔ آمین ثمہ آمین
    اب رہا انکے اتنے اچھے شعر پر تبصرہ تو اس کے لیے یہی کہنا ہے کہ یہ اتنا مقدس موضوع ہے کہ جس پر جناب صفدر ھمدانی صاحبہ نے انتہای کمال اور شہرت حاصل کرلی ہے ۔ مہربانی کرکے انکے واپس آنے کا انتظار کیجیے اور ان سے رہنمائی حاصل کیجیے ۔

    میں اس شعر کو ہر لحاظ سے نہایت ہی مکمل سمجھتا ہوں ۔

    ممکن ہے کہ سیدہ ثنا ء شاہ نقوی صاحبہ اور ظفر جعفری صاحب اس سلسلے میں ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی مد د کرسکیں ۔ ( ان دونوں نے صفدر ھمدانی صاحب کے ساتھ ساتھ ، گذشتہ چند ہفتوں میں اس موضوع پر انتہای عمدہ کلام عالمی اخبار کے بلاگو ں میں پیش کیا ہے ) ۔
    فقط:
    دلی دعاوں اور نیک تمنا وں کے ساتھ
    منظور قاضی از جرمنی

  21. خداکا شکر ہے کہ میرا ایک الگ بلاگ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کے نہایت ہی عمدہ شعر پر کھل گیا اور اس میں ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی شاعری کی پذیرائی ہورہی ہے۔
    اب اس بللاگ میں‌کسی مزید تبصرے کی ضرورت نہیں۔
    شکریہ
    خیر اندیش :
    منظور قاضی از جرمنی

  22. آپ سب سے ایک گزارش کرنی ھے 🙁
    میرا ایک کلام ادھورہ ہے آپ سب کی مدد درکار ھے قاضی صاحب نے اس کلام کے لئیے ایک بلاگ بھی بنایا ہوا ھے اگر آپ سب کی نظر کرم ہو اس پر تہ بہت مہربانی ہوگی 🙂

  23. ماریہ علی کاظمی صاحبہ نے جس بلاگ کی نشا ندہی کی ہے اس بلاگ کا عنوان ہے: ” ماریہ علی کاظمی صاحبہ کا ایک نہایت ہی عمدہ شعر ” ۔
    اس بلاگ پر ” سب کی نظرکرم ” کی ضرورت ہے۔

  24. منظور قا ضی صاحب

    اس شعر کی ہر قاری اپنی سمجھ سے تشریح کریگا ۔ میری نظر میں یہ شعر اس اعتبار سے ہے کہ خدا خود تو بولتا نہیں ہے۔ چنانچہ خدا نے جب تخلیقِ کائنات کا ارادہ کیا تو ًٰٰکنٰٰٰٰٰ ٰٰ اپنے اُس بندہ سے کہلوایا جس کے نور کے سوا اُسوقت اور کچھ نہیں تھا۔ شعر میں ٰٰ ٰٰمیںٰٰٰ ٰٰ سے مراد بندہ ہے۔

    میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
    ہے کائنات خدا سے مگر سخن مجھ سے

  25. منظور قا ضی صاحب

    اوپر لفظ ٰٰٰ ٰٰٰ نعتیہٰٰٰ ٰٰٰ چھوٹ گیا تھا۔
    میری نظر میں یہ شعر نعتیہ اس اعتبار سے ہے ۔

  26. ظفر جعفری صاحب قبلہ :
    آپ کی تشریح کا شکریہ :
    ” میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن ”
    یا : ” ازل سے سینچ رہا ہوں سخنور ی کا چمن ” کہیے ۔
    ہے کائنات خدا سے مگر سخن مجھ سے

    کی تشریح اور اس شعر کے نعتیہ ہونے کی وجہ ابھی تک میری سمجھ میں‌نہیں آرہی ہے۔
    اگر یہ کہا جاے کہ اللہ قران کی زبان میں مجھ سے ہم کلام ہے تو پھر یہ شعر نعتیہ ہو سکتا ہے مگر اس کے دوسرے مصرعہ میں یہ بات کھل کر سامنے نہیں آتی ۔ ( اس دوسرے مصرعہ پر آپ ذرا نظر ثانی کرکے اپنے کہنے کا مقصد پوری طرح سے پیش کرسکتے ہیں ) ۔

    شاید کوی اور دانشور آپ کی تشریح کی مزید نوضیح فرمادے ۔
    اور خاص طور پر اس بات کی توضیح کہ ” کن ” کا لفظ اللہ نے ” اپنے اس بندہ ( ص ) سے کہلوایا جس کے نور کے سوا اس وقت کچھ نہیں تھا ” ( مگر خدا تو موجود تھا یا نہیں ؟ اسی بات کو غالب بھی کہتا ہے کہ : نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔” )

    کیا یہ جو آپ نے کہا ہے وہ قران کی روشنی میں صحیح ہے ؟

    اس پر شاید سید مصباح حسین صاحب یا جناب شمس جیلانی صاحب یا پھر صفدر ھمدانی صاحب ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔

    میں اس معاملے میں کم علم ہوں ۔
    فقط : علم کا طالب
    منظور قاضی از جرمنی ۔

  27. ظفر جعفری صاحب ایک مصرعہ ذہن میں آرہا ہے
    قران پاک میں کرتا ہے وہ سخن مجھ سے
    اب اس مصرعہ سے ہ یقینی طور پر آپ کا شعر نعتیہ کہلاےگا :
    ازل سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
    قران پاک میں کرتا ہے وہ سخن مجھ سے

    ” وہ ” کا اشارہ اللہ کی طرف ہے۔
    اگر یہ شعر پسند آجاے تو رکھ لیجیے ؛
    گر قبول افتد زہے عزو شرف ۔

    اگر یہ شعر پسند نہ آے تو اپنا وہی پرانا شعر اس طرح کہیے کہ وہ نعتیہ نہیں ہے بلکہ اس میں شاعرانہ تعلی کا رنگ ہے۔
    آپ کی مرضی ۔
    ۔
    اللہ حافظ:
    منظور قاضی از جرمنی

  28. آداب جناب
    ظفر جعفری صاحب نے جس شعر کو نعت کا شعر گردانا ہے میری دانست میں وہ شعر غزل کا ہے نہ کہ نعت کا اول تو اس میں تعلی ہے دوم یہ کہ اگر اسے غزل کا بھی مان لیا جائے تو شعر میں شعریت مفقود ہے سوم یہ کہ جو کلام مکمل پیش کیا گیا اس میں کئی ایک جگہ تحریر کی غلطی ہے مثلاً ایک جگہ قافیہ غائب ہے ۔۔ٰٰٰٰ ٰٰٰ کہ میں سخن سے ہوں مشہور اور مجھ سےٰٰٰ ٰٰٰ // گو کہ اس کی نشاندہی بھی کردی گئی ، بہت شکریہ، والسلام

    م۔م۔مغل
    میرا بلاگ ناطقہ
    http://www.naatiqa.blogspot.com

  29. م ۔ م مغل صاحب کے تبصرے کا جواب تو ظفر جعفری صا حب ہی دےسکتے ہیں ۔
    میں صرف یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ سخن کا لفظ صرف اور صرف ظفر جعفری صاحب کی کمپوزنگ کی وجہ سے چھوٹ گیا تھا ۔ جس کو درست کردیا گیا ہے ۔
    ویسے مطلع کو نعتیہ شعر بنانے کے لیے میری تجویز بھی ظفر جعفری صاحب کی خدمت میں پیش ہے۔
    اب دہکھیے کہ ظفر جعفری صاحب کیا کہتے ہیں۔

  30. ٰٰٰ کہ میں سخن سے ہوں مشہور اور سخن مجھ سےٰٰٰ ٰٰٰ یہ مصرع سودا کا ہے۔

    آپ سب کے تبصرے کے بعد میں کہونگا کہ آپ لوگوں نے جس بات کو تعلی کہا ہے وہی میری نیت تھی۔ پہلا مصرع شروع میں یوں تھا

    لہو سے سینچ رہا ہوں میں شاعری کا چمن
    ہے کائنات خدا سے مگر سخن مجھ سے

    اسکو کچھ احباب نے کفر کہا۔ اسلئے میں نے ایک استاد کے کہنے پر اسے نعتیہ بھی بنا دیا۔ آپکے تبصرے کہ یہ تعلی ہے میرے اعتماد کو تقویت دینے کیلئے کافی ہیں۔ شاعر کیلئے بہتر ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے شعر کی تشریح نہ کرے اور یہ کام قارئین، مبصرین اور نقاد اوپر چھوڑدے۔

  31. اب یہ ظفر جعفر ی صاحب پر منحصر ہے کہ وہ اس شعر کو اپنی تعلی کے ساتھ یوں لکھیں
    ازل سے سینچ رہا ہوں میں شاعری کا چمن
    ہے کائینات خدا سے مگر سخن مجھ سے
    ۔۔۔
    یا اس کو نعتیہ شعر یوں بنا دیں :
    ازل سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
    قرانِ پاک میں کرتا ہے وہ سخن مجھ سے
    ۔۔
    بہر حال وہ قادر ا؛لکلام ہیں جو چاہے کہیں۔

  32. قاضی صاحب

    زندگی کا محور، بندگی کا محور، عورت کا محور، تخلیق کا محور۔ دنیا کا محور، کائنات کا محور، یہ صحیح زبان ہوگی-

    اہلِ زبان کو اس میں کوئ زحمت نہیں ہونی چاہئے۔

  33. ظفر جعفری صاحب کے اوپر کے تبصرے کا جواب میرے ایک دوسرے بلاگ میں دے دیا ہوں ۔
    اس لیے وہ تبصرہ یہا ں پر دہرانا ضروری نہیں۔

  34. چونکہ اس بلاگ میں کوئی اور تخلیقی بات نہیں لکھی جاتی اس لیے میں اپنے اس بلاگ کو ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں ۔
    ویسے مجھے یقین ہے کہ ظفر جعفری صاحب کبھی کبھی اس میں اپنے تبصرے لکھتے رہینگے ۔ مگر ان سے یہی استدعا ہے کہ وہ اس بلاگ کو اپنے کلام ہی کی حد تک محدود رکھیں ۔

  35. میرا ذریعہ معاش تیل کی تلاش ہے

    غزل

    میں زر زیرِ سمندر دیکھتا ہوں
    زمیں کا میں مقدر دیکھتا ہوں

    وطن کو جب میں مُڑ کر دیکھتا ہوں
    گِرا شیشہ پہ پتھر دیکھتا ہوں

    رواں قاضی کے فتوہ پر ہزاروں
    میں خود کش حملہ آور دیکھتا ہوں

    میں کس منہ سے کروں غیروں سے شکوے
    میں اپنوں ہی میں ہٹلر دیکھتا ہوں

    لبوں پر جنکے ہیں اُلفت کے دعوے
    بغل میں اُنکے خنجر دیکھتا ہوں

    مری بینائ کا کیا پوچھتے ہو
    میں قطرہ میں سمندر دیکھتا ہوں

    فلک کیا آئیگا میرے مقابل
    کہاں میں اتنا جُھک کر دیکھتا ہوں

    ظفر جب یاد آتی ہے مری ماں
    دعاؤں کے میں دفتر دیکھتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *