تجھے نظر ہی نہ آئے قریب ایسے تھے

150×150.jpg” alt=”akmal” width=”150″ height=”150″ />
qqq

سید قمر زیدی نے کراچی میل کی اور اپنے تمام احباب کی ساتھ ان کی اس غزل کو شئیر کرنا چاہتا ہوں اور آج کے حسب حال کہ مطابق غزل ہے اس پر تبصر چاہتا ہوں

12 thoughts on “تجھے نظر ہی نہ آئے قریب ایسے تھے”

  1. السلام علیکم
    جناب اکمل سید صاحب ، جناب سید قمر زیدی صاحب کی یہ جو خوبصورت غزل آپ نے ہم سب سے شئیر کی ہے ، اُس کے لئے آپ دونوں حضرات کا شکریہ ، غزل کی تکنیک پر تو فورم کے اساتذہ یقینا اپنے تبصرے رقم کریں گے فل حال میری طرف سے ڈھیروں داد قبول کیجئے ، پوری ہی غزل خوبصورت ہے مگر یہ شعر مجھے حاصل غزل لگا ہے ۔
    خوشی خوشی سے لٹا دی الم سمٹ لئے
    کرے گی ناز سخاوت غریب ایسے تھے
    ایک بار پھر بہت بہت شکریہ ۔
    آصف احمد بھٹی

  2. قمر زیدی پختہ اور کہنہ مشق شعرا میں سے ہیں اور یہ پختگی انہیں مرثیہ گوئی سے ہی ملی ہے کہ مرثیہ کہنا اپنی طرح کا ایک امتحان ہے۔ اسی سے ملتی جلتی میری ایک غزل 1996 کی ہے۔ 5 شعر سنیئے پوری غزل پھر سہی۔

    اسے خبر ہی نہیں تھی کہ جا چکا تھا میں
    بچھڑ کے اُس سے اُسی کے قریب ایسا تھا

    وہ اسکو کہتا رہا میرے ذہن کی الجھن
    مرض سمجھ ہی نہ پایا طبیب ایسا تھا

    فقط اسی کا نہیں ہے قصور اسمیں سبھی
    مزاج میرا بھی یوں تو عجیب ایسا تھا

    زباں پہ نام بھی لایا نہیں ہے اُسکا کبھی
    ہمارے دور کا دیکھو رقیب ایسا تھا

    وہ میرا ہو کے بھی صفدر نہ ہو سکا میرا
    نصیب مل نہ سکا کم نصیب ایسا تھا

  3. تجربہ تجربہ ہی ہوتا ہے واہ کیا خوب ہے جناب صفد بھائی

  4. اکمل سید صاحب اگر قمر زیدی صاحب ہی کو اپنی غزل یونی کوڈ اردو فانٹ میں عطا کرنے پر آمادہ کرتے تو شائد وہ اپنی غزل کے ان مصرعوں کی کمپوزنگ ٹھیک ہی کرتے :

    خوشی خوشی سے لٹا دی الم سمٹ لئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بیان کر دیا آنکھوں میں حالِ دل اپنی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گلا کسی سے نہیں ہے نصیب ایسے تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ماشااللہ ، جزاک اللہ : بڑی اچھی غزل ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قمر زیدی صاحب کا مزید کلام پڑھنے کی خواہش ہے ۔

    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  5. تیرے جوار میں کچھ کم نصیب ایسے تھے
    تجھے نظر ہی نہ آئے قریب ایسے تھے
    واہ .. واہ .. واہ .. داد لیجئے .. اکمل بھائی بہت بہت شکریہ اتنی خوبصورت غزل ہم سب تک پہنچاے کے لئے ..

  6. قاضی صاحب سلامت رہیں
    میں نے اس پر ایک کالم لکھا تھا اور اس پر آپ نے بھی تبصرہ کیا تھا مگر یہ بات مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ شاعر حضرات شعر تو اردو میں کہتے ہیں اور لکھتے رومن میں ہیں غلطیوں پر نادم ہوں کہ مجھ جیسے کہنہ مشق ٹائیب کرنے والے سے سرزد ہوئی ہیں کوشیں تو پوری کرتا ہوں کہ بغیر غلطیوں کہ ٹائیپ ہو جائے مگر پھر بھی ایسا ہو جات ہے کیوں کہ غلطیوں کا پتلا ہوں آپ نے توجہ دلوائی شکر گزار ہوں باقی رہی قمر زیدی صاحب کے کلام کی تو وہ آپ میرے فیس بک پر قمر زیدی کی البم میں پڑھ سکتھے ہیں ۔ میری فیس بک اکمل سید کے نام سے بدنام ہے

  7. اس غزل کی صحیح کمپوزنگ کا شکریہ ،
    صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ صحیح لفظ “ گِلہ “ ہے ، ا
    “ گلہ“ کو “گلا “ لکھنا غلط ہے۔

    میرے خیال میں عالمی اخبار صحیح معنوں میں اردو کی خدمت کررہا ہے ۔

    وقت آگیا ہے کہ ہم سب اپنی تحریر کمپوز کرتے وقت کمپوزنگ کی غلطیاں نہ کریں ۔ اور اگر کوئی کمپوزنگ کی غلطی ہوجائے تو نظر ثانی کرکے ان کی تصحیح بھی کردیا کریں ۔

    میں اپنی کمپوزنگ میں بھی غلطیاں کرجاتا ہوں جن کا مجھے سخت احساس بھی ہے اور افسوس بھی ۔ میں اسی لیے اپنے تبصرے کے شایع ہوجانے کے بعد اپنی کمپوزنگ کی غلطیوں کی تصحیح کی بھی کوشش کرتا ہوں اور معافی بھی مانگ لیا کرتا ہوں ۔

    سب سے معذرت کے ساتھ :
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  8. بھئ و اہ!! کیا خو بصو ر تی سے بہت سا دہ الفاظ کی ادا یئگی کے ساتھ شا عری کی ہے دل خو ش ہو گیا سا تھ ہی یہ بھی معلو م ھو ا کہ صا حب غز ل مر ثیہ گو بھی ہیں ،،، بس سمجھ میں بات آئ کہ جس نے اپنے علم کی شمع در ا ہلبیت پر رو شن کر دی وہ اس در کے صد قے میں صا حب مرا د ہو گیا

    سیّد ہ زائرہ عا بدی
    ا یڈ منتن کنیڈ ا

  9. سیّدہ بہن ! ساری شاعریاں اپنی جگہ مگر آپ کا جملہ اپنی جگہ کہ
    “جس نے اپنے علم کی شمع در ا ہلبیت پر رو شن کر دی وہ اس در کے صد قے میں صا حب مرا د ہو گیا ”
    ہمارے کانوں میں تو یہ ہی جملہ رس گھول گیا

    سیّد قمر زیدی، جنہیں آغا ہمدانی صاحب جیسے استاد، کہنہ مشق شاعر کہیں، ان کی شاعری پر بھلا مجھ جیسا کیا تبصرہ کرے گا

  10. جناب اکمل سید صاحب اسلام علکیم ۔ سید قمر زیدی کی عمدہ غزل ھم سب تک پہچانے کا بہت شکریہ ۔

    تیرے جوار میں کچھہ کم نصیب ایسے تھے

    تجھے نظر ھی نیہں نہ آے قریب ایسے تھے

    بہت خوبصورت اشعار ھیں سید قمر زیدی کے مزید کلام کا انتظار رھے گا۔

    اسی کے ساتھہ محترم المقام جناب صفدر علی ھمدانی صاحب کی 1996 میں کہی مرصع غزل کے چند اشعار بھی جگمگا رھے ھیں

    وہ اسکو کہتا رہا میرے ذہن کی الجھن
    مرض سمجھ ہی نہ پایا طبیب ایسا تھا

    فقط اسی کا نہیں ہے قصور اسمیں سبھی
    مزاج میرا بھی یوں تو عجیب ایسا تھا

    بہت اعلی اللہ کرے زور سخن اور زیادہ

  11. اسلام و علیکم

    بہت اچھی غزل ہے اور مُجھ جیسی بندی اس سے زیادہ اس پر زبان نہیں کھول سکتی البتہ سر ہمدانی کی بھی غزل کیا کہنے واہ ۔

    شکریہ آپ تمام احباب کا

    خدا حافظ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *