کاش میں یہاں لکھتے ہوئے میں بہترین قسم کی پنجابی گالیاں لکھ سکتا ، جو میں خود سمیت ساری پاکستانی قوم کو دینا چاہتا ہوں، اتنے بے حس اتنے بے تعلق ، کون ھیں ھم ، کیا پہچان ھے ہماری ؟ ایک لالچی اور نکمی قوم ، جو خود اپنے آپ کو کلہاڑی مار کھ کہتی ہے ، کھ سارا قصور امریکا کا ھے اور رخم کو چٹوانے کے لئے امریکی کتوں یعنی سیاست دانوں کو موقع دیتی ہے اور سیاست دان زخم پر نمک مرچ چھڑک کر اس میں پٹرول ڈال کھ آگ لگا دیتے ہیں ، اور عوام بلبلاتی ھے ، مگر مشکل کشا کو ووٹ ضرور دیتی ہے ، ان کے جلسے میں زور شور سے نعرے لگاتی ہے ، ان کی شہادت پر آنسو بہاتی ھے ۔ ۔ ۔ ۔
بجلی نہیں ہے کوئی بات نھیں ، جب تک نھیں آتی ھم نے رولا ڈالنا ھے اور اسکے آتے ھی ایسے بن جانا ھے جیسے بجلی کبھی گئی ھی نہیں، کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہو گئیں ھیں تو کیا ہوا؟ بازار میں رش اتنا ہے کھ ایسا لگتا ہے کھ مفت میں سب بٹ رہا ہے ، گیس نہیں کوئی بات نہیں ، ہسپتال میں دوائئں نہیں کوئی بات نہیں ، اچھا ہے لوگ مریں گے تو آبادی کم ہو گی
آبادی کم کرنے کے لئے دھشت گردوں کو ٹھیکھ دیا گیا ہے ، مگر وہ بھی بے چارے کیا کریں، کہاں بم پھوڑیں کہاں نھ پھوڑیں سمجھ نہیں آتا ، ٹارگٹ کلنگ بھی اچھا طریقے ہے مگر ، وہ بھی اب پرانا ھو چکا ، فرقھ واریت میں تو ھم پہلے ہی خود کفیل ہیں ، کافروں کو مار مار کھ ہم نے ریکارڈ قائم کئے ہیں ، مگر کافر بھی کیسے ، جو کلمھ گو ہوتے ہیں ، اصلی کافر تو ہمارے مائی باپ ہیں ، کوئی انہیں چھو کر تو دیکھے ، ہم اٹھا کر انہیں کی جیلوں میں ڈلوا دیں گے
جو لوگ امیر ہیں ، انہیں کبھی بھی غریب نہیں ہونا، کیونکہ وہ اللہ کی رحمت سے نہیں اپنی محنت سے دولت مند ھیں ، اگر کسی کو موقع نہیں ملا تو اسکی قسمت اور غریب کو تو ویسے بھی مر جانا چاہیے ، بلکے مار دینا چاہیے ، انکے گھروں کو بلڈوز کر کے وہاں فارم بنانے چاہیے اور انکی لاشیں بھی وھیں دبانی چاہیں تا کھ اچھی کھاد بن سکے ، ویسے بھی خون سے سینچنا پڑتا ہے باغوں کو
جو کوئی نوکری کر رہے ھیں انکی اپنی قابلیت ہے ، جو نہیں کر سکتے انکو اللھ کا عزاب ہے ، وہ چاہے ہزار سال کا تجربھ رکھتے ہوں، ڈگریوں کی لائن ہو ، مگر کوئی سفارش نھ ہو تو اسے زندہ رہنے کا ہی حق نہیں کہ وہ کوئی نوکری کرے ، حق تو تاجر کا ہے ، کہ وہ اپنے نفع کو قائیم رکھے چایے اسکے لئے اجناس کی قیمتوں کو سونے کے بھاؤ تک کیوں نہ لانا ہو، سونے پر یاد آیا ، کھ اب جو لڑکی جہیز میں سونا نہیں لاتی وہ منحوس ہے ، چنڈال ہے ، عورت ہمارے معاشرے میں کیا ہے ؟ ، ایک ایسا کردار جو خود ہی خریدار ہے اور خود ہی دوکاندار ، ماں باپ لڑکیوں کو بوجھ جانتے ہیں مگر یہ بوجھ سونے کی ڈولی میں اتارنا چاہتے ہیں ، اور مرد ہیں کہ انہیں زندگی میں دکھ سکھ کا ساتھی نہیں چاہیے ، ایک جادو کی چھڑی چاہیے جو ان کی آرام دہ زندگی کو مزید آرام دہ بنا دے ، جو لڑکیاں بیٹھی ہیں انکی اپنی غلطی ہے اور جو مرد ہیں وہ تو دس افراد کے کنبے کے واحد کفیل ہیں ، اب ایک اور کو لا کر اس کی کفالت کو آگ لگانی ہے کیا
طالب علم کو علم نہیں چاہیے ، چھوکری چاہیے یا چھوکرا چاہیے ، موبائیل چاہیے ، ایک بائیک چاہیے ، جس پے ون ویلنگ کر کہ زندگی کے مزے لوٹیں ، دن رات باتیں کریں ، تاکھ عمل سے زندگی جنت و جہنم والا فارمولا غلط ثابت ہو جائے ، سب غلط ھے میاں ، استاد غلط ، ماں باپ غلط، بہن بھائی غلط، دوست غلط ، حکمران غلط، عوام غلط ، ارے کون غلط نہیں ہے ، ہم سب غلط ہیں ، ہم وہ ہیں کہ ہمیں کہا جائے کہ تمہاری “پوپو“ سے درخت نکلا ہے ، تو ہم کہیں گے ، اچھا ہے چھاؤں ملے گی پھل ملے گا ۔ ۔ ۔۔ عزت سے مجھے کیا ، مجھے دن بھر ذلیل کرو مگر چند سکے مجھے دے دو ، میں ایک روٹی کے بدلے اپنا جسم کیا ، اپنی دھرتی ماں کو بیچ سکتا ہوں
میں نے بات شروع کی تھی گالیوں سے ، گالی کوئی کب دیتا ہے ، جب وہ بے بس ہو جاتا ہے ، اور میرے خیال میں اب میں اور میری قوم بے بس ہو چکی ہے ، مجھے انتظار ہے اس وقت کا جب ، ہم ایک دوسرے کو نوچ نوچ کر کھائیں گے ، اور سوچیں گے ، چلو آج کے دن تو پیٹ کا دوزخ بھرا ۔ ۔ ۔ ۔۔ ویسے میرے بھائی کا گوشت ہے بہت لذیز ، ہو سکتا ہے وہ اگر مجھے کھاتا تو ایسے ہی سوچتا ، چلو چھوڑو یار ، اپنی جان بچاؤ ، کھ تمہارا گوشت بھی تو مزے کا ہے ، کل بھوک کے مارے میں نے اپنا ہی بازو بھنبھوڑ دیا تھا ۔ ۔ ۔۔

اظہر الحق۔ یہ وہ آٗینہ ہے جو ملک کے ظالم جابر بلکہ غاصب حکمرانوں کو دیکھنا ہے لیکن وہ اس میں اپنی کریہہ صورت نہیں دیکھنا چاہتے۔ سچ تو یہی ہے کہ ہم سب اپنے اپنے بھائی کا گوشت کھا رہے ہیں۔ ہم سے مرآد میں اور آپ نہیں بلکہ مجموعی طور پر پاکستانی قوم،معاشرہ اور مسلم امہ ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اس بلاگ کو اسی طرح کالم میں بھی لگا دیا جائے حالانکہ اس سے فرق تو کوئی نہیں پڑے گا کہ جہاں بھی لگے۔ وجہ یہ ہے کہ ہم لکھنے والوں کا المیہ یہ ہے کہ لکھتے بھی ہم ہیں،پڑھتے بھی ہم ہیں اور روتے بھی ہم ہیں اور وہ غاصب حاکم جن کو یہ پڑھنا ہے وہ پڑھنے لکھنے سے بھی عاری ہیں اور انکے حواری انہیں سب اچھا ہے کی نوید سناتے رہتے ہیں۔
میں خوش ہوں کہ اظہر آپ نے کوئی گالی نہیں لکھی لیکن جو کچھ بھی لکھا ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان حرامی حاکموں کے لیئے یہ سب بھی قصیدہ ہے۔
اظہر بس کیا کہوں اور کیا نہ کہوں .. آپ نے خون دل میں ڈبو کر فگار انگلیوں سے کالم لکھا ہے .. مجھے رلا گیا آپ کا سچ .. جی چاہتا ہے ایک ایک لفظ دوبارہ لکھوں اور تائید کروں .. اتنے بے حس اتنے بے تعلق ، کون ھیں ھم ، کیا پہچان ھے ہماری ؟ ایک لالچی اور نکمی قوم … بس بھائی مجھے اب کچھ سنبھلنے دو پھر آگے کچھ لکھتی ہوں .. اوہ میرے خدا .. یہ کیسا سچ ہے جس کا سامنا نہیں ہو پا رہا … کل بھوک کے مارے میں نے اپنا ہی بازو بھنبھوڑ دیا تھا ۔ ۔ ۔۔ ہائے ویر یہ کیا لکھ گئے .. میرا تو کلیجہ ہی منہ کو آگیا ..
السلام علیکم
اظہر بھائی ، تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں ، ہم بحیثیت قوم ( برصغیر کے رہنے والے ) ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ہیں ، اشرافیہ ہمیشہ سے ہی اتنی ہی ظالم رہی ہے اور عام عوام ہمیشہ سے ہی ایسے بے حس و بے بس رہے ہیں ، تاریخ کے ہر ہر دور میں ہمیں یونہی نوچا کھروچا گیا ہے ، ہم اِس کے عادی ہے ، یہ ہماری فطرت ثانیہ کا حصہ بن چکا ہے ، اسلام سے پہلے بھی ہماری یہی حالت تھی اور اسلام لانے کے بعد ، ہدایت و روشنی ملنے کے بعد بھی ہم ایسے ہی رہے ، کہا جاتا ہے کہ ’’ مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جا سکتا ‘‘ ارے ہم تو بار بار ڈسے جا چکے ہیں ، مگر ہر بار خود ہی اپنا آپ ڈسنے کے لیے پیش کر دیتے ہیں ، ہم ایسے اذیت پسند ہیں کہ خود ہم اپنے قاتلوں کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر لاتے رہے ہیں ، خود اپنے ہاتھ پاؤں باندھ کر اُن کے سامنے لیٹ جاتے ہیں اور پھر جب وہ چھری پھیر دیتا ہے تو بسمل بنے تڑپتے رہتے ہیں ، آپ تو بھائیوں کی بات کرتے ہیں ، ہم تو اپنے بچوں کو نوچ کر کھانے والوں میں سے ہیں ، مگر ہمارے پیٹ کبھی نہیں بھرے ، ہماری حرص ہر لحضہ بڑھتی ہی جا رہی ہے ، اب تو ڈر لگنے لگا ہے کہ اللہ کہیں ہمارے اِن جرائم پر ’’ از خود نوٹس ‘‘ نہ لے لے ۔
آصف احمد بھٹی
کوئ کہ نہیں سکتا
کونسا شرارہ کب
بے بیقرار ہوجائے
شعلہ بار ہوجائے
انقلاب آجائے
سردار جعفری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب بختِ چمن ہے ظفر کہ جس کو بھی
بنایا باغباں اُس نے اُس نے چمن کو لوٹ لیا
میں عزم سفر کے ساتھ گھر سے نکل ہی رہا ہوں ورنہ بہت کچھ لکھتا۔ سب احباب دعا، سلام اورپیار۔
السلام علیکم
یہ سب باتیں انتہائی جانی پہچانی سی ہیں ، اس لئے نہیں کہ ہم یہ روز سنتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ہم یہی کچھ دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔میں آج صبح سے یہ سوچ رہا ہوں کہ ہم لوگ کیوں چپ رہتے ہیں اور کیوں بولتے ہیں، یعنی ہم لوگ وہاں کیوں بولتے ہیں جہاں اسکا فائدہ نہیں ہوتا، دکانوں پہ، دفتروں میں، راہ چلتے ہوئے۔ ایک دوسرے کے گریباں کیوں پکڑتے ہیں، اور اصل مجرموں کے لئے چپ کیوں رہتے ہیں۔ اب یہ احساس ہوتا ہے کہ شائد ہم سب ہی مجرم ہیں، ہم سب ہی بیک وقت ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی۔ ہم ہر اس جگہ ظلم کرتے ہیں جہاں ہمیں نقصان کا اندیشہ نہ ہو، اور ہر اس جگہ ہم پہ ظلم کیا جاتا ہے جہاں ہم بے بس ہوں ۔ ہم نے اس ملک کو ایک ایسا اکھاڑہ بنا دیا ہے کہ جس میں جس کا جو جی چاہے ظلم ڈھائے، اور یہ سلسلہ ظالم یا مظلوم کی موت ہی پہ رک سکتا ہے۔
بس خدا سے یہ دعا ہے کہ ہمیں اس معاشرے میں ظلم کرنے اور سہنے سے محفوظ رکھے۔
حد ہوتی ہے
بے شرمی ‘ بے حیائی
اور
ڈھٹائی کی بھی۔
ڈوب مرنے کا مقام ہے
ہم سب کے لئے
فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
پاکستانی عوام نے بھی عجیب قسمت پائی ہے۔63برسوں سے مسلسل قربانیاں دے رہی ہے۔یہ وہی قوم ہے جس نے اپنے پیٹ کاٹ کاٹ کر ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔ ایٹم بم اور میزائلوں کے لئے وسائل فراہم کئے۔ جنگوں کے دوران اپنے گھر کا اسباب اور زیورات تک فوج کے حوالے کر دئیے۔ آٹھ اکتوبر کا تباہ کن زلزلہ آیا تو پوری قوم ٹرکوں پر امدادی سامان لاد کر مظفرآباد اور باغ کی جانب چل پڑی۔
آئی ڈی پیز کا مسئلہ کھڑا ہوا تو اہل مردان و صوابی نے اپنے بھائیوں کے لئے گھروں کے دروازے کھول دئیے۔ ملک کی معیشت دبائو میں آئی تو خود پر طرح طرح کے ٹیکسوں کو قبول کیا۔ لیکن اب جبکہ اس قوم پر مشکلات کا پہاڑ آن گرا ہے۔ تو اس ملک کو اشرافیہ ان کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے انکاری ہے۔ ہر ادارے کے سربراہ نے اپنے ادارے کے لئے بجٹ میں اضافہ مانگا۔ کسی ادارے کے سربراہ نے یہ نہیں کہا کہ ان کے بجٹ سے اتنے ارب روپے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے رکھ لئے جائیں۔ سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافہ مل گیا لیکن اس ملک کا مزدور’ محنت کش’ ریڑی بان’ ٹھیلے والا’ پرائیویٹ اداروں میں ملازمت کرنے والا ملازم اب بھی مسائل کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور حکومت کے پاس اسے دینے کے لئے کچھ بھی نہیں۔
ان میں سے ہر بالغ شہری کو ووٹ کا حق حاصل ہے۔ ان کا ووٹ بھی اتنا ہی قیمتی ہے جتنا ایک سرکاری افسر یا بیورو کریٹ کا۔ ریاست پاکستان اسے بھی اتنے ہی حقوق دیتی ہے جتنے ایک اشرافیہ کے فرد کو حاصل ہیں لیکن یہ حقوق محض کاغذوں تک محدود ہیں۔ بجٹ میں ان عام لوگوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا کیونکہ یہ بے زبان مخلوق ہے۔ پورے پاکستان میں ان تباہ حال لوگوں کا کیس لڑنے کو کوئی بھی تیار نہیں کیونکہ جو لوگ ان کا مقدمہ لڑ سکتے ہیں وہ سب بھی اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
حکومت ایسے لوگوں کے لئے ریلیف کی بات کرتی ہے’ حالانکہ لفظ ریلیف مصیبت زدہ لوگوں کے لئے مخصوص ہے۔ ریلیف پیکجز ان لوگوں کے لئے ہوتے ہیں جن پر خدانخواستہ کوئی آفت آجائے کسی وجہ سے انہیں اپنے گھر بار چھوڑنے پڑیں اور عارضی بستیوں میں پناہ لینا پڑے۔ ریلیف پیکجز کا سلسلہ شوکت عزیز حکومت نے شروع کیا تھا کیونکہ شوکت عزیز کا کوئی سیاسی یا عوامی بیک گرائونڈ نہ تھا۔ ان کے باس پرویز مشرف کا بھی کوئی حلقہ انتخاب نہ تھا اس لئے انہیں بھی عوام کی مشکلات سے کوئی سروکار نہ تھا۔ الٹا وہ مذاق اڑانے والے انداز میں کہا کرتے تھے کہ عوام تو بس یونہی روتے پیٹتے رہتے ہیں۔ اتنے مسائل نہیں جتنا شور مچایا جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ جس کے گھر دانے ہوں’ جسے عزت سے روٹی مل رہی ہو’ جس کے بال بچے اچھی تعلیم حاصل کر رہے ہوں۔ جسے طبی سہولیات میسر ہوں وہ خوامخواہ کیوں شور مچائے گا۔
معاملہ کچھ یوں ہے کہ حکمران پچھلے ہوں یا موجودہ ان کا تعلق بالائی طبقے سے ہوتا ہے اور یہ عوام پر اول تو نظر ڈالتے ہی نہیں اور اگر ڈال بھی لیں تو بہت فاصلے سے انہیں مسائل کی اصل تصویر نظر نہیں آتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی نظر میں عوام کی کوئی وقعت اور اہمیت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے عوام کی سب سے بڑی کمزوری کو پکڑ لیا ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ اگلے الیکشن میں عوام کو نئے خوابوں اور سرابوں میں الجھا کر پھر سے ووٹ بٹور لیں گے۔ خواب چونکہ مفت ملتے ہیں اس لئے ان کے خریداروں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اور پھر ذات برادری کا کھیل’ برادری کے کھڑپینچ کو ساتھ ملا کر تو پوری برادری کے ووٹ مل جاتے ہیں۔
ایک ایسا سماج جس کی اکثریت کسی کو ووٹ دینے کا فیصلہ خود نہ کرتی ہو بلکہ برادری کے بڑے کے کہنے پر ووٹ ڈالتی ہو’ ایک ایسا سماج جس نے ذہنوں میں شخصیات کے بت بنائے ہوئے ہوں اور انہی کے گرد گھومتا ہو اسے گمراہ کرکے فائدہ اٹھا لینا کون سا مشکل کام ہے۔
اس صورتحال میں قوم کے لئے دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ خدا اسے اچھے برے کی پہچان دے دے ورنہ جو بڑے سیاسی گرو ان کی کمزوریوں سے واقف ہیں وہ مزید کئی برسوں تک طرح طرح کے بہروپ بھر کر ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
اس ملک کے ساتھ بھی کیسے کیسے المیے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کی زمام اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو اٹھتے بیٹھتے غریبوں کو درپیش مشکلات کی بات کرتے ہیں لیکن انہیں یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ آٹے دال کا بھائو کیا ہے اور کم آمدنی والا طبقہ کس طرح زندگی کی خچر گاڑی کو گھسیٹ رہا ہے۔
زیادہ تر وزراء عوامی ووٹوں سے منتخب ہوکر پارلیمنٹ تک پہنچے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو الیکشن سے پہلے اپنے اپنے حلقوں میں موجود ہوتے تھے۔ اپنے حلقے کے لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔ لوگوں کو درپیش مسائل سے آگاہ ہوتے تھے۔ انہیں آٹے دال کا بھائو معلوم ہوتا تھا پھر جب الیکشن کی باد بہاری چلی تو ان لوگوں نے اپنے اپنے حلقے کے عوام کے خون کو گرمانا شروع کیا ۔ ان سے وعدے وعید کیے کہ جب وہ منتخب ہوکر پارلیمنٹ میں پہنچیںگے تو اپنے حلقے کے عوام کی تقدیر بدل دیں گے۔ نوجوانوں کو نوکریاں دلائیںگے۔ انصاف کی فراہمی میں اپنے حلقے کے لوگوں کی مدد کریں گے اور انہیں معاشی طور پر بہتر بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔ لوگوں نے ان کے وعدوں پر یقین کیا۔ انہیں بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا اور پھر اس انتظار میں بیٹھ گئے کہ ان کا نمائندہ اب اپنے وعدے پورے کرے گا۔ حلقے کے نمائندے نے ووٹ بٹورے ‘ اسمبلی کا رکن بنا اور پھر حلقے سے غائب ہوگیا۔ اس کی صبحیں اور شامیں اسلام آباد میں گزرنے لگیں اور اسے منتخب کرانے والے اس کا راستہ ہی دیکھتے رہ گئے۔ یہ لوگ سیاست کو عبادت کہتے ہیں لیکن جس قسم کی سیاست یہ لوگ کرتے ہیں اس طرح کی سیاست سے خدا کی پناہ۔ یہ لوگوں کی محرومیوں اور ان کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ اپے حلقوں سے تعلق رکھنے والے درماندہ لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان سے بدترین بے وفائی کرنے کے باوجود انہیں یقین ہوتا ہے کہ اگلے الیکشن میں کوئی نیا بہروپ بھرکے اور وعدوں کی کوئی نئی دکان سجاکر بھولے بھالے اور سیدھے ساد ے لوگوں سے ایک بارپھر ووٹ بٹور لیں گے۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو ان لوگوں کا مزاج بگاڑنے میں عوام نے ہی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ہر بار انہی لوگوں کے ہاتھ مضبوط کیے جنہوں نے انہیں کئی بار دھوکہ دیا۔ ہر بار گلیوں ‘ نالیوں اورچھوٹی موٹی نوکریوں کے چکر میں پھنس کر خود کو ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسوایا۔ دھوکہ دہی سے کام لینے والے سیاستدانوں کو کبھی گھیر کر ان سے نہیں پوچھا کہ تم نے جو وعدے کیے تھے وہ کیا ہوئے؟ ایسی اسمبلی میں کیوں بیٹھے ہو جسے غریبوں ‘ ناداروں اور لاچاروں کے مسائل اور تکالیف سے کوئی واسطہ نہیں۔ یا تو ہمارے حق میں آواز بلند کرو اور ڈٹ جائو یا ہمیں ہمارا مینڈیٹ واپس کرو اور استعفیٰ دے کر گھر آجائو۔
درحقیقت پاکستان میں اس طرح کے محاسبے کا کلچر ہی موجود نہیں کہ فرض کیا عوام نے ایک غلط امیدوار کو کامیاب کرا دیا۔ اس امیدوار نے منتخب ہوکر اپنے حلقے کے لوگوں کے ارمانوں کا خون کیا ‘ ان کے ساتھ بدترین دھوکہ دہی کی اور حلقے کے عوام نے مشتعل ہوکر اس کا محاسبہ شروع کر دیا۔ اس کے خلاف ریلیاں ہوئیں ‘ جلوس نکالے یا نعرے لگے۔
پاکستانی عوام کی اس حوالے سے ذہنی ساختکو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ اپنے حق کے لئے آواز کیوں بلند نہیں کرتے؟ ا نسان تو انسان حشرات الارض میں بھی خدا نے یہ صفت رکھی ہے کہ انہیں خطرہ محسوس ہو تو کاٹ لیتے ہیں۔ چیونٹی جیسی حقیر مخلوق اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے اس وقت تک جدوجہد کرتی رہتی ہے جب تک اس ہدف کو حاصل نہیں کرلیتی۔ وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ چوٹ پڑتی ہے تو پتھر بھی صدا دیتے ہیں۔ خدا کی ساری مخلوقات اپنے حق کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ دنیا کے ہر خطے کے ہر ملک کا باسی خود پر ہونے والی زیادتی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے۔ حکومتوں کا ناطقہ بند کرکے رکھ دیتا ہے۔ زیادتیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آتا ہے لیکن خدا جانے یہ پاکستانی عوام کس مٹی کے بنے ہیں کہ جتنی مرضی زیادتیاں کرتے جائو ‘ یہ سہتے جائیں گے۔ گدھے جیسی سخت مخلوق کی حالت یہ ہے کہ اس پر اس کی برداشت سے زیادہ وزن ڈال دو تو چلنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اسی جگہ زمین پر بیٹھ جاتاہے جتنی مرضی چابکیں رسید کرو نہیں اٹھتا لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ مہنگائی کی صورت پاکستانی عوام پر ان کی برداشت سے کئی گنا زیادہ بوجھ ڈالا گیا ہے لیکن وہ اس بوجھ کو اٹھائے پھرتے ہیں۔ بار بار گرتے ہیں پھر اٹھ جاتے ہیں پوری دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جس کے لوگ سب سے کم مسکراتے ہیں۔ سختیوں کا عکس ان کے چہروں سے جھلکتا ہے لیکن اپنے حقوق کی خاطر سڑکوں پر نہیں آتے۔ آخر کیوں اور کب تک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟
زین سے میرا اتفاق ہے۔ مگر کیا کریں کہ آوے کا آوا ہی الٹا ہے۔ کوئی شے اپنے مقام پر نہیں۔ اسی کو ظلم کہتے ہیں۔ اس طرح ہم سب اپنے اپنے مقام پر ظالم ہیں۔ اور ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
یہ دراصل اللہ کی لعنت ہی تو ہے جو سب کچھ ہونے کے باوجود یہ ملک ذلت و خواری کا پیکر نظر آتا ہے۔ ہم ایک آسیب زدہ دیار میں زندہ ہیں۔
شہر آسیب میں آنکھیں ہی نہیں کافی ہیں
الٹا لٹکو گے تو پھر سیدھا دکھائی دے گا۔۔۔۔
اسلام علیکم ساتھیو
محمد اظہر الحق بھائی یہ ایک ایسا سانحہ ہے جسے ہم سب ہی برداشت کرتے چلے آرہے ہیں ۔اور مجھے لگتا ہے کہ ہم سب ہی کہیں نہ کہیں اس ظلم ممیں شامل بھی ہیں اور اس کا شکار بھی ہیں ۔
مغربی مملک نے ہمیں عیاشیوں سے روشناس کرا کے ہماری رہی سہی شر م و حیا بھی چھین لی ہے ۔کہ ہم اپنا اچھا برا سمجھے بغیر ان تمام باتوں کو اپنا رہے ہیں جو ہماری تباہی کا باعث ہیں ۔
میں نے اس دفعہ پاکستان میں سب سے زیادہ پریشان جوان بچوں کی ماؤں کو دیکھا جو موبائل فون کے استعمال سے دکھی تھیں کہ انہیں یہ ہی نہیں پتہ کہ رات رات بھر بچے کس سے باتیں کر رہے ہیں کیا پروگرام بنا رہے ہیں ۔اور کس جال میں پھنسنے جارہے ہیں ۔
ہم بہت خوش ہیں کہ بچے بچے کے پاس موبائل ہے ۔یہ زہر کس طرح جوانوں کو ختم کر رہا ہے اس کا کسی کو احساس نہیں ہے ۔یہاں لوگ بل دینے کے ڈر سے کم سے کم موبائل کو استعمال کرتے ہیں اور وہاں شاید فقیر کے پاس بھی موبائل ہو ۔
یہ تو ایک بات ہے ،ہم اکثر ان باتوں سے چشم پوشی کرتے ہیں جو ہماری تہزیب اور وقار کا جنازہ نکال رہی ہیں ،صرف یہ سوچ کر کہ ہماری کون سنے گا یہ سچ بھی ہے مگر کم از کم لکھ کر یا کہہ کر ہم اپنا فرض ادا کرتے ہیں کہ شاید کسی کان پر جوں رینگ جائے مگر مجھے لگتا ہے کہ ہمارے لوگوں کے پاس تو اب کان بھی نہیں رہے ۔
مگر میں سوچتی ہوں کہ ہم اتنا سب دیکھتے اور سنتے ہوئے بھی ان ہی لوگوں کی گود میں جا بیٹھتے ہیں اور جب کبھ ہمیں چننے کا موقعہ ملتا ہے ہم پہلے سے بھی خراب لوگوں کو چن چن کر اپنے اوپر مسلظ کر لیتے ہیں ۔اور پھر روتے رہتے ہیں ۔قصور وار کون ہے ؟
اے کاش کہ ہمیں کوئی خضر نصیب ہو جو بدل دے سب کی سوچ کو بھلائی کی طرف اچھائی کی طرف ۔اور ہم بجائے میثاق بنانے کے راہیں بنائیں ۔قانون بنائیں اور اس پر عمل کریں ۔آج کل تو پیسہ ہی سب کچھ ہے ۔اور جن کے پاس ہے وہ اور زیادہ کی ہوس میں لوٹ رہا ہے اور جس کے پاس نہیں ہے وہ اس کو حاصل کرنے کے لئے ہر بے ایمانی کو اختیار کر رہا ہے ۔جو کھا گئے ان سے کوئی نکلوا نہیں رہا اور جو کھا رہے ہیں ان کو کوئی روک نہیں پا رہا ۔واہ کیا مزاق ہے ؟
اللہ ہم سب پر رحم فرمائے آمین
عالم آرا وینکور
اگر اظہر الحق صاحب اپنے بلاگ کے اس تمہیدی جملے پر ہی اکتفا کرتے تو اس بلاگ کا مقصد پورا ہوجاتا کہ :
“کاش میں یہاں لکھتے ہوئے میں بہترین قسم کی پنجابی گالیاں لکھ سکتا ، جو میں خود سمیت ساری پاکستانی قوم کو دینا چاہتا ہوں، اتنے بے حس اتنے بے تعلق ، کون ھیں ھم ، کیا پہچان ھے ہماری ؟ ایک لالچی اور نکمی قوم ، جو خود اپنے آپ کو کلہاڑی مار کھ کہتی ہے ، کھ سارا قصور امریکا کا ھے اور رخم کو چٹوانے کے لئے امریکی کتوں یعنی سیاست دانوں کو موقع دیتی ہے اور سیاست دان زخم پر نمک مرچ چھڑک کر اس میں پٹرول ڈال کھ آگ لگا دیتے ہیں ، اور عوام بلبلاتی ھے ، مگر مشکل کشا کو ووٹ ضرور دیتی ہے ، ان کے جلسے میں زور شور سے نعرے لگاتی ہے ، ان کی شہادت پر آنسو بہاتی ھے ۔ ۔ ۔ ۔“
یہ بلا گ صرف پاکستا ن کے رہنماوں اور حاکموں کے بدعنوانیوں کی عکاسی کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کی نااہلی اور کاہلی اور بے عملی کی عکاسی کے لیے بھی ہے۔ کہ قوم اپنا ووٹ “ امریکی کتوں یعنی سیاست دانوں “ کودے کر انکو اپنا حاکم بھی بناتی ہے اور پھر انکی رہزنی کا شکوہ بھی کرتی ہے ۔
افسوس کہ جمہوریت میں اگر غلط قسم کے رہنما کسی نہ کسی طرح سے قوم کی حمایت سے برسرِ اقتدار اجائیں تو ان رہنماوں کی بد کرداری ، نااہلی اور بد عنوانی کو بھگتنا پڑتا ہے ۔
شائد جاوید اختر کا شعر ہے کہ :
اب کیا سوچیں کیا ہونا ہے ، جو ہوگا اچھا ہوگا
پہلے سوچا ہوتا پاگل ! اب رونے سے کیا ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاگ کے آخری حصہ میں اظہر الحق صاحب کی ان باتوں کا اطلاق نہ صرف آج کل کے نوجوانوں بلکہ پوری قوم پر ہوتا ہے کہ :
“سب غلط ھے میاں ، استاد غلط ، ماں باپ غلط، بہن بھائی غلط، دوست غلط ، حکمران غلط، عوام غلط ، ارے کون غلط نہیں ہے ، ہم سب غلط ہیں ، ہم وہ ہیں کہ ہمیں کہا جائے کہ تمہاری “پوپو“ سے درخت نکلا ہے ، تو ہم کہیں گے ، اچھا ہے چھاؤں ملے گی پھل ملے گا ۔ ۔ ۔۔ عزت سے مجھے کیا ، مجھے دن بھر ذلیل کرو مگر چند سکے مجھے دے دو ، میں ایک روٹی کے بدلے اپنا جسم کیا ، اپنی دھرتی ماں کو بیچ سکتا ہوں “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے خیال میں بلاگ نگار صاحب غصہ کی حالت میں پوری قوم کو جھنجھوڑ رہے ہیں اور غالب کے اس شعر پر عمل کرنا چاہتے ہیں کہ :
نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالب
ترے بے مہر کہنےسے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب جناب اظہر الحق صاحب جانتے ہی ہیں کہ پاکستانی قوم “ ایک روٹی کے بدلے اپنا جسم کیا ، اپنی دھرتی ماں کو بیچ “ سکتی ہے تو پھر غالب کا یہ شعر پڑھ کر یہ سمجھ لیں کہ پاکستانی قوم ان گالیوں کی عادی ہوچکی ہے : کہ :
کتنے شیریں ہیں تیرے لب ، کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا
۔۔۔۔۔۔
اظہر الحق صاحب نے صحیح کہا ہے کہ :
“ ہم وہ ہیں کہ ہمیں کہا جائے کہ تمہاری “پوپو“ سے درخت نکلا ہے ، تو ہم کہیں گے ، اچھا ہے چھاؤں ملے گی پھل ملے گا “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی آسان اردو میں اتنی اچھی نصیحت سے پاکستانی قوم اپنے خواب سے جاگ جائے تو اس کا سہرا بلا گ نویس صاحب کے اس بلاگ کے سر ہوگا ۔
فقط:
ایک مبصر
منظور قاضی
جرمنی سے
میر ے بچّے یہ جو تمھا رے دل کے ز خم چیخ ا ٹھے ہیں تو سمجھ لو کہ یہ چیخ آ سما ن تک چلی گئ ہے ، میری تم سے گز ا رش ھے کہ اپنا کام کیے جا ؤ کہ ر وز قیا مت اللہ تعا لیٰ یہ نہ کہے کہ تم جو کر سکتے تھے وہ نہین کیا میر ے بیٹے میر ی زاتی را ئے یہ ہے کہ ہم نے کتا بِ ہد ا ئت یعنی قرا ن مجید کو بھلا دیا اس کے احکا مات کو بھلا دیا ا ور اِ س کے نتیجے میں اللہ نے ہم کو بھلا دیا کیو نکہ وہ بے نیا ز ھے ور نہ یہ مسلما ن ھی تو تھے جو نگر نگر اپنا پرچم لہر ا تے تھے اور ان کو دنیا ا ج بھی احترا م سے یا د کر تی ہے ،،،آ ج تمھا ری تحریر نے مجھ کو یس طر ح جھنجھو ڑ ا ہے کہ ز ہن کے پر دے پر کئ تصو یرین ابھر آ ئ ہین اپنی قو م کی بربادی کی یہ کہا نیان مین ا سی عا لمی اخبا ر کے زریعہ قا رئین تک پہنچا نے کا ارادہ کیا ہے تم بھی اور ا خبار کے قا رئین بھی دعا کرین کہ تمھاری طر ح مین بھی جہا د با لقلم کا صحیح معنو ن مین حق ادا کر سکون اللہ تم کو اس جہا د با لقلم کی جزا ئے خیر دے آمین
زائرہ بجو ۔۔ جگ جگھ جئے آپ جیسے پیار کرنے والے اور ہمت دلانے والے اور ساتھ ساتھ چلنے والے ۔۔ اللہ آپ کے سایہ شفقت ہم پر تاحیات رہے ۔۔آمین
“اب تو ڈر لگنے لگا ہے کہ اللہ کہیں ہمارے اِن جرائم پر ’’ از خود نوٹس ‘‘ نہ لے لے ۔ “
آصف ایسی سچائیاں مت لکھا کرو میرے بھائی کہ دل کانپ جائے ۔۔ اللہ ہم سب پر اپنا رحم فرمائے ۔۔ آمین
ظفر بھائی خیر سے جایئے خیر سے آیئے ۔۔ اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو ۔۔
احمد بھائی اس کا جواب ہے اجتماعی بے حسی ۔۔۔ اجتماعی خود غرضی ۔۔ مصبیت جب تک خود پر نہ آئے وہ مصبیت نہیں ۔۔ ہم بحثیت مسلمان اپنی پہچان کھو چکے ہیں ۔۔ آیئے غیروں کی سازش کو تندہی سے انجام دینے پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں اور مل کر اپنی اس عظیم کامیابی کا جشن مناتے ہیں ۔۔ کیونکہ جس قوم کے لئے سیلاب جیسا سانحہ کوئی حثیت نہ رکھتا ہو ۔۔ جس قوم کے لئے ٹارگٹ کلنگ سے مرنے والوں کی تعدا کو ئی معنی نہ رکھتی ہو ۔۔ جس قوم کے لئے ان کے بے گناہ شہری بہن بھائی ڈرون حملوں کا نشانہ روزانہ بنتے ہوں ۔۔ جہاں بھوک افلاس سے مہذب انسان اپنا ہی بازو بھنبھوڑ لیں ۔۔ جس قوم کے ہنر مند نظر بند ہوں اور بدمعاش آوارہ کرپٹ ڈرگس اور انسانوں کا دھندا کرنے والے حکمران ہوں اس قوم کا فاتحہ پڑھنے میں دیر کیسی ۔۔۔ ایسی قوم کے مجھ سمیت ہر فرد کو سزائے موت کا حکم سنایا جائے ۔۔۔ خدا راہ مقدمہ اب چپ رہنے والی قوم پر چلایا جائے ۔۔۔
میں آپ سب احباب کا شکر گذار ہوں ، جنہوں نے میرے الفاظ کی پذیرائی کی ، میں اس معاشرے کا وہ فرد ہوں جو افراد کی ستم ظریفی کے علاوہ قدرت کے امتحان کا مسلسل شکار ہے ، میرے سامنے کے لوگ دھڑلے سے وہ سب کرتے ہیں جو میں کروں تو شاید وہ مجھ سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیں ، پانچ وقت کے نمازی کو اللہ سے کوئی لنک نہیں ، اور ایک “مراثی اور بھانڈ“ خود کو انسانیت کا ہمدرد بتا رہا ہے ۔ ۔
میرا مسلھ یہ ھے کہ میں ایک زندہ لاش جیسا ہوں ، بالکل جیسے پاکستان ، جسے گدھ نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں ، مگر وہ بابا فرید کی طرح کسی باؤلی میں لٹکا کہ رہا ہے
کاگا سب تن کھائیو ، سو چُن چُن کھائیو ماس
دو نیناں مت کھائیو انہیں _______ کی آس
اب خالی جگہ ہم سب اپنی اپنی ضرورت کے مطابق فل کر لیں ۔ ۔ ۔ اور گاتے رہیں
یھ دنیا ہے دولت والوں کی
انسان یہاں انسان نہیں
دشوار سہی جینا پیارے
مرنا بھی کوئی آسان نہیں
میں پھر بہکنے لگا ، کیا کروں یہ شراب رنج و الم ہوتی ہی ایسی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔ جو انگلیوں کو قلم اور خون کو سیاہی بنا کہ زمیں کے سینے پر مرثیے لکھواتی ہے
آخر میں ایک بار آپ سب کا شکریہ ، اتنا ضرور کہوں گا ، کھ امراء کی دنیا بھی اچھی اور آخرت بھی ، کیونکھ وہ اگر ایک لاکھ کماتے ہیں تو اس میں سے ایک ہزار بلکھ ایک سو بھی خیرات کرتے ہیں ، یعنی اللہ کو بھی رشوت دیتے ہیں ، تو غریب تو اللہ کو رشوت نہیں دے سکتا ، لہذا دنیا میں بھی رسواء ، اور آخرت میں بھی رسواء، اور امیر کی انگلیاں گھی میں سر کڑاہی میں
ابھی یہ لکھ رہا تھا تو حج کے گھپلوں پر چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کا پتہ چلا ، تو مجھے اب پکا یقین ہو گیا ہے ، کہ اللہ بھی ہمارے حکمرانوں کے ساتھ ہے ، اور یہ سب ڈھکوسلے ہیں کہ اللہ کی لاٹھی حرکت میں آئے گی ، میں ہوں نہ ہوں ، مگر آپ یاد رکھیے گا ، کہ کم سے کم اس صدی میں ان حکمرانوں پر کوئی عزاب نہیں آئے گا ۔ ۔ ۔ کیونکھ انہوں نے دنیا کو ہی رشوت نہیں دی ، دنیا بنانے والے کو بھی ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے حق میں کیا ہے ۔ ۔ کر لو جو کرنا ہے ۔ ۔ ۔۔
السلام علیکم
جناب محترم اظہر الحق صاحب ، میں نے اپنے پچھلے تبصرے میں آپ کی توجہ اِس بات کی طرف دلائی تھی کہ ہم لوگ ( برصغیر کے رہنے والے ) ہمیشہ سے ہی ایسے ہیں ، یہ ہماری فطرت ثانیہ ہے ، علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ کا مشہور ’’ شکوہ ‘‘ تو آپ نے پڑھا ہوگا ۔
جرات آموز میری، تاب ِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو
اے خدا ، شکوہ اربابِ وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
آصف احمد بھٹی
ڈوب مرنے کا مقام ہے ہماری فطرت ثانیہ ہے اللہ ہم سب پر اپنا رحم فرمائے
جناب اظہر الحق صاحب ،
اگر گریبان میں جھانکیں تو اس درد ناک نوحے کا ایک ایک لفظ کسی گالی سے کم نہیں اور بھائی صاحب ہم سب اپنے اپنے بھائی کا گوشت کھا ہی نہیں رہے بلکہ اسے بڑی بے رحمی سے دوسروں ، ہمسایہ ممالک ، میں بانٹ بھی رہے ہیں اور اسے ، قیمتی زرِ مبادلہ ، کے عوض ، امریکہ ، برطانیہ ، یورپ ، گوآنٹاناموبے وغیرہ کو، بیچ بھی رہے ہیں ۔
یہ کیسا کڑوا سچ بول دیا آپ نے کہ ، ” کل بھوک کے مارے میں نے اپنا ہی بازو بھنبھوڑ دیا تھا “ !
بھوک سے عاجز لوگ اپنے بچے پہلے ہی ذبح کر رہے ہیں ، اپنے جسم کے قیمتی اعضاء ، گردے ، آنکھیں وغیرہ حتاکہ اپنی عزتیں ، بیچ بھی رہے ہیں اور کون جانے کل کو یہی بھوک کے ستائے لوگ اپنی اعضاء ایک ایک کرکے کھانا بھی شروع کردیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اے اللہ بچانا اس برے وقت سے جب میرے ملک پہ ایسی منحوس گھڑی بھی کبھی آئے، آمین ۔
حبیب جالب مرحوم کے ایک ، پنجابی قطعے ، پہ ختم کرتا ہوں
چُپ کر مُنڈیا نہ مَنگ روٹیاں
کھائیں گا زمانے دے ہتھوں سوٹیاں
چُپ کر ، دَڑھ وَٹ ، کَڈھ دیہاڑے چار
صدیان تُوں بھُکے لوکی کھاندے آئے مار
عزیز بھائ اظہر الحق سلامت رھیں ۔ اسی دردناک تحریر پڑھ ھر محب الوطن دل خون کے آنسو روتا ھے۔ کبھی کبھی میں سوچتی ھوں کہ ھم واقعی بہت بے غیرت ھوگۓ ھیں اتنی آفات اتنی تباھی، اتنی دھشت گردی اتنی موتیں تو حالت جنگ میں نیہں ھوتیں جنتے لوگ ھمارے مللک میں حالت امن میں مررھے ھیں ۔۔ پھر میں سوچتی ھوں کہ ھم حالت جنگ میں ھی ھیں ۔ کھبی ھم سے ڈرنے والا افغانستان بھی اب ھم کو انکیھں دکھا رھا ھے۔
ھم قربانی کے وہ جانور ھیں جن کو صرف ذبح کرنے کے لیے زندہ رھنے کی مہلت دی جارھی ھے۔ ھر روزقتل گاہ ھمارے خون سے رنگی جارھی ھے
اور جو قتل نیہں ھوۓ ان کو زندانوں میں جھونک دیا جاتا ھے
ھرروز سیاسی حالات خراب سے خراب تر ھورھے ھیں
کسی جگہ پر امان نیہں ھے، ھر جگہ خون کی ندیاں بہہ رھی ھیں
نہ مسجد نہ کوئ درگاہ۔ نہ مکتب نہ شارع۔
جنگ آج سرحدوں سے نکل کر ھمارے پرسکون شہروں میں کھیلی جارھی ھے۔
جس کا ایندھن ھزاروں بے گناہ لوگ بن رھے ھیں
مہنگائ بھوک مایوسی ناامیدی ، امن و امان کی خراب صورتحال
وہ لوگ جن پر پہلے ھی زندگی تنگ ھے ۔ ؎؎
مہنگائ کی چکی میں پسے کیڑوں مکوڑوں سے گۓ گذرے بے عمل بے حس 18 کروڑ عوام
جو اتنے ظلم کے باوجود ظالم کے خلاف آواز نیہں آٹھا رھے ھیں
آپ ٹھیک کہہ رھے ھیں ۔۔۔۔۔۔۔
مزے سے اپنے بھائ کا گوشت کھانے والی قوم۔
اخلاقی طور پر ھمارا زوال شروع ھوچکا ھے
ھر جگہ تعفن ھی تعفن۔ بقول شاعر مشرق ایسے میں غلامی میں بدل جاتا ھے قوموں کا ضمیر
کبھی ھم اسلام کے دشمن، پاکستان کے دشمن ۔ مللک وقوم کے دشمنوں کے سامنے محتد تھے اب تو ھم خود اپنے دشمن تن گۓ ھیں
کہاں گۓ وہ لوگ جو اپنی مٹی اپنی روایات اپنی تہذیب اپنے اسلاف کے کارناموں پرفخر کرتے اور انکے نقش قدم پرچلتے تھے
۔ اللہ توکل جن کا زاد راہ تھا
پاکستان کو
لوٹنے والے ساری دنیا میں کرپشن کے معاملے میں بدنام ، بدعنوان کرپٹ حکمران جو غیر مللکی مہرے بھی ھیں ۔ انکو کیا غم کہ اس مملکت خدا داد میں کون بھوکا ھے کون زلزلے سے مرا کون سیلاب کا شکار ھوا ، کس گھر کا چراغ بم دھماکے سے مرا،
بھائ آپ کی تحریر نے آنکھوں کو خونبار کردیا
یھ دنیا ہے دولت والوں کی
انسان یہاں انسان نہیں
دشوار سہی جینا پیارے
مرنا بھی کوئی آسان نہیں
میں پھر بہکنے لگا ، کیا کروں یہ شراب رنج و الم ہوتی ہی ایسی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔ جو انگلیوں کو قلم اور خون کو سیاہی بنا کہ زمیں کے سینے پر مرثیے لکھواتی ہے
ھماری اقتصادی ۔علمی ۔ اخلاقی سیاسی ترقی میں حائل نا اھل چور موروثی سیاست دانوں کا بدمعاش صفت ٹولہ
ایک جاۓ گا تو اس کی جگہ اسی کے گھر سے کنبے سے قبیلے سے دوسرا آجاۓ گا۔۔ جانے یہ سلسلہ کب ختم ھوگا۔۔ مگر دل کو یہ اطمینان ھےکہ ھر تاریک شب کی کوکھہ سے سحر جنم لیتی ھے، بھائ مایوس نہ ھو۔ جب ظلم وستم حد سے بڑھ جاتا ھے تو پھر اللہ کی رسی حرکت میں آتی ھے
ابھی حوار جاری ھے
اسلام علیکم ساتھیو
میرا ایمان ہے کہ مسلمان کبھی مایوس نہیں ہوتا کہ اسے اپنے رب کی رحمت پر پورا پورا بھروسہ ہوتا ہے ۔اس کا ثبوت اس بلاگ پر آنے والے ہم آواز لوگ ہیں جو مجھے یہ ہمت دے رہے ہیں کہ برائی کے خلاف بولنے والے اور اس کو کھول کر بیان کرنے والے موجود ہیں اللہ ان سب کو سلامت رکھے آمین ۔
مجھے یہ بھی بھروسہ ہے کہ بہت سے لوگ جو اس بلاگ کو صرف پڑھ رہے ہونگے وہ بھی ہمارے ساتھ ہیں ،اور یہ ہی بات میری ہمت اور امید کو بڑھا دیتی ہے کہ اگر برائی موجود ہے اور اس پر بولنے والے لکھنے والے پڑھنے والے موجود ہیں تو وہ انشاٰ اللہ ختم بھی ضرور ہوگی ۔کہ ہم میں کوئی بھی ہمت ہارنے والا نہیں ہے ۔کہ ہم سب بھروسہ رکھتے ہیں اللہ کی رحمت پر اور وہ ہر رات کے بعد اجالا لا کر ہماری آنکھیں کھولتا ہے ۔بس ضرورت ہے حق کو حق کہنے کی اور فسق کو فسق کہنے کی اور جب تک ان پر توجہ دلانے والے لوگ موجود رہینگے ہم ضرور ان تمام تکلیفوں اور ازیت سے نکل جائینگے ۔بس ضرورت ہے ہم سب کے ایکے کی کہ جب بھی کوئی ایسی برائی سامنے آ ئے اس کے خلاف ہم ڈٹ جائیں ۔جو جس محاز پر لڑ سکتا ہے لڑے ۔صرف ہمت بڑھانے کی بات ہے ہمت دکھانے کی بات ہے ۔ہم نے لیڈر بنانے کی طرف توجہ ہی نہیں دی ہم جوانوں کو آگے ہی نہیں لا رہے ۔
ضروری ہے کہ ہم اپنے جوا نوں کی تربیت کریں انہیں اس ڈگر پر لے اآئیں کہ وہ اس نحوست سے ہماری قوم کو نجات دلائیں اور ان تمام پرانے گر گوں سے جان چھڑائیں ۔
ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم کھلی آنکھوں مکھی نگلتے ہیں ۔ جب تک ہم یہ ڈگر نہیں چھوڑینگے کیسے کامیابی ہوگی برائی کے خلاف ۔
ہم مسائل تو لاتے ہیں لیکن حل نہیں لاتے اب ضروری ہے کہ ہم حل بھی سوچیں ۔کہ یہ میرے خیال میں بہت ضروری ہے ،
اگر کوئی بھی بات کوئی بھی جملہ بارِ خاطر ہو تو معزرت ۔
اللہ ہمیں مسائل کے صحیح حل نصیب فرمائے ۔اور ہمیں اچھے اور ایماندار لیڈر عطا کرے ۔اور میرے جوانوں میں وہ طاقت پیدا کرے جو اس بلاگ کے لکھنے والے میں ہے ۔اور اس کی آواز میں آواز ملانے والوں میں ہے ۔
عالم آرا
وینکور
آرزو اکبر آبادی کا شعر یاد آرہا ہے کہ :
حد سے نہ گذر سیلاب نہ بن ، چکر میں نہ پھنس گرداب نہ بن
بن ہلکی موج مگر ایسی ، جس موج پہ دریا ناز کرے
فقط:
ایک مہمان مبصر
منظور قاضی
جرمنی سے