عام طور پر پاکستانی فلمی گانوں کے بارے میں تاثر ھے کھ صرف پرانے گانے ھی اچھے تھے ، مگر نوے کی دہائی میں کچھ گیت بہت ہی اچھے بنے ، جو آج کے حالات پر بھی ایسے لگتے ھیں کھ جیسے انہیں حالات کے لئیے لکھے گئے ھیں ، شاید اسکی وجہ انکے شاعر تھے ، جو نہ صرف فلمی بلکہ غیر فلمی شاعری میں بھی اپنا ایک مقام رکھتے تھے ، ایسے ہی گیتوں میں سے کچھ آپ کی توجہ کے لئے ، پڑھیے اور اپنے حالات پر سر دھنیے
———————-
فلم انسانیت کے دشمن ، منشیات کے موضوع پر بنی ایک بہت اچھی فلم تھی ، یاد رہے یہ وہ زمانہ ہے جب افغان جنگ کی وجہ سے ہم لاکھوں مہاجرین کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے ، اور یہ مہمان ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہے تھے ، اس فلم کا ٹائیٹل سانگ ، آج بھی نیا نیا لگتا ہے ، اسے ایم ارشد کی موسیقی میں غلام عباس نے گایا تھا ۔۔ ۔
انسانیت کے دشمن ،
بدلیں ہزار چہرے
خوشیوں کے یھ لٹیرے
قاتل ہیں پھر بھی انکے
اجلے ہیں کتنے دامن
انسانیت کے دشمن ، دشمن
یہ کتنے سنگدل ہیں ، ڈرتے نہیں کسی سے
دن رات کھیلتے ہیں ، انسانی زندگی سے
اقبال کے چمن میں ، قائد کے اس وطن میں
برباد کر رہے ہیں ، لاکھوں گھروں کے آنگن
انسانیت کے دشمن
قانون کب تھا اندھا ، اندھا کیا گیا ہے
انصاف کا ترازو اب ڈولنے لگا ہے
یھ جھوٹ کو سراھیں ، سچ کو ملیں سزائیں
دولت کے ہاتھ میں ہے ، دنیا کے دل کی دہڑکن
انسانیت کے دشمن
کہیں عصمتوں کے سودے ، سر عام کر رہے ہیں (کیا آپ کو عافیہ صدیقی یاد آتی ہے ؟)
نئی نسل کی رگوں میں کہیں زہر بھر رہے ھیں
قانون ساتھ انکے ، لمبے ہیں ہاتھ انکے
بنتے ھیں رہنما یھ ، ہیں اصل میں یھ رہزن ( کتنا سچ لکھا ھے )
انسانیت کے دشمن
اس کی کچھ وڈیو ملی ہے ، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ فلم کیسی تھی ، اور آج کل کی کتنی ہی انڈین فلموں سے بڑھکر تھی
—————————————–
اسی کے اواخر اور نوے کی دھائی میں پاکستانی فلموں میں ڈبل ورژن کا تجربہ کیا گیا ، یعنی ایک ہی فلم اردو اور پنجابی میں ریلیز ہوتی تھی ، ایسی ہی فلموں میں ایک کامیاب فلم تھی حسینہ چار سو بیس ، یہ فلم معاشرے میں پھیلتے ہوئے دھرے معیار پر تھی ، اور اس زمانے کی سیاست بھی اسکا موضوع تھی ، ایک ڈئلاگ ذھن میں آتا ہے ، اسمبلیاں ٹوٹ گئیں ، ارے کوئی نئی بات کرو ، کل پھر ٹوٹیں گیں ، اور متاثرین انڈیا پر بھی تنقید تھی ، جو راجکمار کو پسند کرتیں ہیں حواتین ، جبکہ گھر کے راجھ کو کوئی نہیں پوچھتا ، اس فلم کا بھی ٹائٹل سانگ بہت زبردست تھا ، اس فلم کا میوزک وجاہت عطرے اور ایم اشرف کا تھا ،اور گیت ریاض الرحمن ساغر نے لکھے تھے
بن ٹھگ بازی اس دنیا میں بنا ھے کون رئیس
دیوتا بن کھ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس
انسانوں کا خون بہا کر رقص کریں فرعون
لمبے ہاتھ ستمگاروں کے مجبوروں کا کون
راتوں کے پردے میں کھیلیں کیا کیا کھیل خبیث
دیوتا بن کھ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس
سارے شہروں پر چھائی ھے اک دھشت بن رین
کس سے پوچھیں اس دھرتی کا لوٹا کس نے چین
حال وطن کا دیکھ کھ میرے دل میں اٹھے اک ٹیس
دیوتا بن کھ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس
اس گانے کی وڈیو باوجود تلاش کے نہیں مل سکی
——————————————————-
حبیب جالب کی فلمی شاعری بہت تھوڑی ھے مگر ہے کمال کی ، بابرا شریف اور ندیم کی فلاپ فلم لو ان لندن (پہلے اسکا نام کاغذ کے پھول تجویز کیا گیا تھا) ١٩٨٧ کی ایس سلیمان کی یہ فلم بیرون ملک پاکستانی لڑکیوں کی پاکستانی لڑکوں سے بن دیکھے کی شادی اور مغرب کی زندگی پر ایک بہت زبردست تنقید تھی ، اس فلم کا گانا اللہ مہربان تو زمانہ مہربان ہے مجھے بہت پسند ہے ، مگر میں اس کا وہ گیت پیش کر رہا ہوں جسکی شاعری سدا بہار ہے ، اور ایسا لگتا ہے ، کہ جیسے آج کی ہی بات ہو ، حبیب جالب نے اسے لندن کے پس منظر میں لکھا مگر آج یہ پاکستان کے ہر شہر پر پورا اترتا لگتا ہے ، آصف مہدی کی خوبصورت آواز اور ایم اشرف کی موسیقی
یا رب یہ کیسا شہر ہے ، دل کو یقیں آتا نہیں
انسان سے انسان کا کوئی یہاں ناطہ نہیں
بکتی ہیں کتنی ہی عزتیں جب شام ہوتی ہے یہاں
عورت ہر اک بازار میں نیلام ہوتی ہے یہاں
دیکھا ہے آنکھوں نے مگر، ہم سے کہا جاتا نہیں
یا رب یہ کیسا شہر ہے دل کو یقیں آتا ہے
ویران چہرے دیکھ لو تہذیب کے لوٹے ہوئے
آیا نہ کوئی پوچھنے رشتے ہیں سب ٹوٹے ہوئے
بیٹا یہاں ماں باپ کو صورت بھی دکھلاتا نہیں
یا رب یہ کیسا شہر ہے دل کو یقیں آتا نہیں
————————————————————–
اور آخر میں ایک بہت پیارا سا ارمان بھرا گیت ، کاش ہم اس بچے جیسا ہی سوچ سکیں
فلم کامیابی کا یہ گیت ، ہمیں پاکستان کی قدر و قیمت کا احساس کروا دے تو کیا ہی بات ہے
چلو چلیں پاپا ھم اپنے پاکستان میں
اور یہ سارے گیت کیونکہ میرے دیس کے ہیں اسلئے مجھے پسند ہیں
اور اسی فلم کا دوسرا گیت ، بھی میرے دل کی آواز ہے ،
ہے اپنے وطن سے پیار ہمیں ،
ہم گیت اسی کے گاتے ہیں ،
ہم اسی کے نام سے
دنیا میں جانے پہچانے جاتے ہیں
اسکے شروع کا ڈائلاگ اگر اثر کر جائے تو کیا بات ھے

اسلام علیکم بھائی اظہر الحق خوش رہئے ۔
بہت ہی انوکھا سا بلاگ ہے ۔اور حقیقت سے اتنا قریب کہ کسی ایک شعر سے اختلاف ناممکن ۔
اور اسی فلم کا دوسرا گیت ، بھی میرے دل کی آواز ہے ،
ہے اپنے وطن سے پیار ہمیں ،
ہم گیت اسی کے گاتے ہیں ،
ہم اسی کے نام سے
دنیا میں جانے پہچانے جاتے ہیں
یہ آپ کی طرح ہم سب کے دل کی آواز ہے ۔اور یہ ڈائیلاگ بھی ضرور اثر کرے گا ۔مگر بھائی صرف ہم جیسے دیوانوں پر جو خود کو اپنے ملک اپنے وطن کے بغیر کچھ نہیں سمجھتے ۔
ہزارون دعائوں کے ساتھ آپ کی سوچ سے متفق
عالم آرا
اظہر بھیّا ،،آ پ ہمیشہ ما ضی میں د ھکیلنے کی فکر کرتے ہیں اور پھر مجھے ما ضی سے ا پنے آ پ کو پکڑ دھکڑ
کرواپس لانا پڑتا ھے ،، وہ زمانہ اب لوٹ کے آ ئے گا نہیں ،،،
اس زمانے میں ہر بات مقصد رکھتی تھی آ ج کے زمانے میں جب بات کرنے کے لئے کو ئ مقصد نہیں ہے تو بے سرو پا
کہانیا ں ہیں ،، دھما چوکڑ ی ھے اور بے غیرتی و بے حیا ئ کے سہارے تفریحی فلمی زرائع رہ گئے ہیں مقصد یت نہیں رہی
تو کیا و طن اور کیا وطن کی اہمیت اور کیا وطن کی باتیں اور
یادیں سب کچھ معدوم سا ہوا جارہا ھے ،،نئ نسل تو دلچسپی بھی نہیں لیتی ھے ،، تز کرے پر ہی کو ئ خا ص اثر نہیں ہو تا
بہر حا ل اچھّا لگا کچھ دیر کے لیئے سہی پھر دل انہی گلیو ں اور چو بارو نکے چکّر لگا آ یا
السلام علیکم
محترم احباب محفل ، ماضی یقینا شاندار تھا بلکہ بہت شاندار تھا ، ہر چیز بہترین تھی ، لکھنے والے ادیب ، اور اُس لکھے ہوئے ادب کو سمجھ کر پڑھنے والے قاری ، بہترین فنکار ، موسیقار اور شاعر ، اور سب سے بڑھ کر معاشرے میں برداشت کا مادہ بہت تھا جو کہ اب تقریبا ناپید ہو چکا ہے ، اب ہمارے سامنے پورا مستقبل پڑا ہے ، شکایت کیوں کریں ؟ ہم اپنے مستقبل کو اپنے ماجی کی طرح بہتر کر سکتے ہیں ۔ یا کم از کم کوشش تو کر ہی سکتے ہیں ۔ کیوں کیا خیال ہے ؟
آصف احمد بھٹی
بلاگ ہر ایک کی رہ نمائ کے لئے ہے 786 ،، ھو الشّافی ،،،،،جو ڑو ں کے درد کے مریض ، ہڈ یّو ن کے درد کے مریض ،،کمر در د کے مریض ،،رو زانہ 2 عدد انجیر کا استعما ل کریں
جیسے بھی ممکن ھو بد ن کو زیتو ن کے اور سرسو ن کے خا لص تیل سے مالش کریں یا کسی سے مدد لے کر یہ خد مت لیں
میتھی دانہ درد دور کرنے کی لا جواب دوا ھے دن میں ایک بار کسی کھا نے پر لے لیا جا ئے سبزیو ن کے ھمراہ اس کا استعمال
کھانو ں کو لزیز بنا تا ھے
اپنے معا لج کی دوا ئین بند نہیں کی جائیں
نسیم بیٹی یہ بلا گ میں غلطی سے ادھر تحریر کر گئ ہو ں ، پلیز ہو سکے تو ا س کی اپنی جگھ شفٹ کر دو
السلام علیکم
محترمین محفل ، میری اِس بات کا تعلق گرچہ اِس بلاگ سے نہیں ہے مگر مجھے یہاں شدت سے محترم جناب منظور قاضی صاحب کی کمی محسوس ہو رہی ہے ، وہ یقینا ہم سب سے بہتر انداز میں اِس بلاگ پر لکھ سکتے ہیں ، مگر کچھ دنوں سے وہ کسی بلاگ پر بھی نظر نہیں آرہے ، اور یہ بات قدرے باعث تشویش ہے ، کیا کسی دوست کو اُن کی خیریت کا علم ہے کہیں اُن کی طبیعت تو ناساز نہیں ہو گئی ، برائے مہربانی اگر کسی کو کچھ علم ہو تو ہو باقی سب کو بھی اطلاع دے ، اللہ اُنہیں اپنے حفظ امان میں رکھے ۔
آصف احمد بھٹی
اسلام علیکم ساتھیو
بالکل آصف احمدبھٹی بھائی منظور قاضی بھائی کی کمی میں بھی بہت محسوس کر رہی ہوں کیونکہ ان کی تحریریں اور تبصرے پڑھ کر بہت اچھا لگتا ہے ،اللہ انہیں صحت اور خوشیاں عطا کرے ۔
ایک بات کی وضاحت کرنا چاہتی ہوں میں جب بھی دعا لکھتی ہوں آمین ضرور کہتی ہوں ۔ صرف طوالت کی وجہ سے ہر دعا کے بعد نہیں لکھتی ۔
میرے بھائیو اور بہنوں آپ میں سے تو کوئی ایک بھی بلاگ پر نہیں آتا تو دل پریشان ہو جاتا ہے ۔ اور دل سے دعا نکلتی ہے کہ سب خیر ہو ۔
ماضی واقعئی اتنا اچھا تھا یا شاید اس وقت لوگوں کے کردار اور ان کی صلاحیتوں نے اسے اتنا خوبصورت بنا یا ہوا تھا ۔لوگ ریاء اور ظاہری شان و شوکت سے دور تھے ۔پیسہ ہی سب کچھ نہیں تھا ۔
اسی لئے لوگوں میں قناعت بہت تھی جو اب مفقود ہے ۔ لوگوں کو بلا وجہ کی شان دکھانے کی پریشانی نہیں تھی ،وہ جو کچھ ان کے پاس تھا اس میں مست تھے ،اسی لئے ان کی تحریریں ، ان کی سوچ
اور ان کی کہی ہوئی باتیں اثر رکھتی تھیں ،
وہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو گلے سے لگا کر جیتے تھے ناشکرے نہیں تھے ۔
اب تو جس سے بات کریں وہ اور ،اور ،اور ،اور کی طلب میں بائولا ہو اجاتا ہے ۔ تو کہاں سے پڑھے گا کہاں سے لکھے گا ۔
مجھے اپنے ماضی میں بے حد حسن نظر آتا ہے ،میں اپنے حال کو بھی اسی ماضی کی بنیاد پر حسین رکھتی ہوں ۔
کہ یہ ہمارے ہاتھ میں ھے کہ ہم اپنی کاوشوں سے ان خوشیوں کو پھر اپنی ذندگی میں لے آئیں ۔گھر کی حد تک ہی صحیح ۔
یہ میری سوچ ہے اور میں اپنی سوچ کے اظہار میں کبھی کنجوسی نہیں کرتی ۔۔
اللہ ہم سب کو خوشیاں عطا کرے آمین
عالم آرا
جب سے محترمہ زائرہ عابدی صاحبہ کے بلاگ میں جناب اظہر الحق صاحب کی صحت کی خرابی اور نہ صرف انکی بلکہ انکی زوجہ محترمہ کی صحت کی خرابی کی خبریں پڑھا ہوں دل اتنا اداس ہوگیا ہے کہ مجھ سے نہ کچھ لکھا جاتا ہے اور نہ پڑھا جاتا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ان دونوں کو اور ان تمام احباب کو جو اس وقت بیمار ہیں انہیں جلد از جلد صحت عطا کرے : آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کئی سال سے پاکستان سے باہر ہوں ( امریکہ میں قیام تھا مگر اب جرمنی میں اپنی زندگی کے آخری دن گذاررہا ہوں ) اس لیے پاکستان کی فلموں کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں اور نہ میرے پاس گانوں کا خزانہ ہے کہ انکو سن سکوں ۔
میں صبیحہ اور سنتوش کمار اور نورجہاں اور شوکت تھانوی اور امتیاز علی تاج وغیرہ کے ڈراموں اور فلموں سے واقف ہوں۔ میرا پسندیدہ موسیقار مہدی حسن اب بیمار ہے ، اللہ اسے صحت عطا کرے : امین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اظہر الحق صاحب کو اللہ صحت عطا کرے اور انکی بیوی کو جلد صحت عطا کرے ، انہوں نے یہ بلاگ لکھکر اور اس میں پاکستانی گانوں کو شامل کرکےمیری عید کردی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں بذاتِ خود کافی اچھے اچھے فنکار ، صدا کار، گلو کار اور ادا کار موجود تھے اور اب بھی ہیں مگر خدا برا کرے ان ملاوں کا جنھوں نے فن موسیقی کو اور فن اداکاری کو خاک میں ملادیا ۔ اب تو پاکستان کے گلو کاروں کے کارناموں کو دیکھنے کے لیے ممبئی کی یوٹیوب کے پروگراموں کو دیکھنا پڑتا ہے ۔ وہا ں پر راحت فتح علی خاں اور پاکستان کے نوجوان گلوکار اپنی آواز کا جادو جگا رہے ہیں۔
مجھے موسیقی اور شاعری سے کافی لگاو ہے اس لیے ایسے بلاگ جن میں صاف ستھری اور اعلی قسم کی موسیقی اور شاعری موجود ہوتی ہے انکو میں بار بار پڑھتا ہوں اور محظوظ ہوتا رہتا ہوں ۔
میں اظہر الحق صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے یہ بلاگ شرو ع کیا ۔ اس میں نہ صرف صاف ستھری موسیقی موجود ہے بلکہ اس میں پاکستان سے وفاداری اور محبت کے پیغامات بھی موجود ہیں ۔ جزاک اللہ ، سبحان اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آصف احمد بھٹی صاحب اور عالم آرا صاحبہ کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نےاپنی نیک دعاوں میں مجھے شامل کیا۔ میں ان سب سے دور ضرور ہوں لیکن وہ سب میرے دل کے قریب ہی رہتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زائرہ عابدی صاحبہ اور عالم آرا صاحبہ اب عالمی اخبار پر رحمتوں کے بادلوں کی طرح چھائی ہوئی ہیں اور اپنے رحمت کی بارش سے عالم اخبار کے گلشن کی آبیاری کررہی ہیں۔ اللہ انکا سایہ سب عالمی اخبار کے پڑھنے والوں پر قائم و دائم رکھے۔
فی الوقت میں صرف اتنا ہی لکھ سکونگا۔
اظہر الحق صاحب اور انکی اہلیہ کو دلی دعاوں کے ساتھ
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
نوٹ : ابھی ابھی مجھے جناب صفدر ہمدانی صاحب نے اپنی ای میل میں کہا ہےکہ عالمی اخبار میں لکھتے رہیے ، اس لیےاب امید ہوگئی ہے کہ میرے اس تبصرے کو نظر ثانی حذف نہیں کرے گی ۔
اسلام علیکم منظور قاضی بھائی اللہ آپ کو صحت اور خوشیوں کے ساتھ ذندگی عطا کرے آمین
محترم بھائی آپ کی کمی محسوس ہوتی ہے ۔اتنا لمبا وقفہ نہ دیا کریں ۔آپ کی تحریر پڑھ کر مجھے بہت اچھا لگتا ہے ۔اللہ کرے زورِ تحریر اور زیادہ ۔
بھائی آپ نے ایک زرے کو کہاں آفتاب سے ملا دیا کہاں میں اور کہاں ذائرہ بجو ۔میرے محترم بھائی میرا علم اور تحریر تو بالکل کسی قابل نہیں ،صرف اللہ رب العزت جو سوچ دے دیتا ہے اُسے میں لکھ دیتی ہوں ۔اس میں میرا کہیں کوئی کمال نہیں ۔کمال تو آپ لوگوں کا ہے جو میری تحریر کو پڑھ کر اسے کسی قابل بنا دیتے ہیں ۔
میں بہت خوش قسمت ہوں کہ یہاں وینکور میں مجھے بہت ہی محترم اور قابلِ تعظیم بھائی ملے شمس جیلانی بھائی ،محمد رفیق بھائی جنہوں نے میری ہمت افزائی کی ۔اور سب سے زیادہ مجھے خوشی یہ ہے کہمجھے ایک ایسے اخبار سے روشناس کرایا جس نے مجھے بہت آزادی دی کہ میں اپنی سوچ کو لکھ سکوں اور دوسروں کی سوچ کو سمجھ سکوں ۔
یہاں مجھے آپ جیسے بہت سے محترم بھائی ملے خاص کر محترم صفدر ھمدانی اور بہت پیاری بہن نگہت جنہوں مجھے اس بلاگ پر لکھنے کی راہ دکھائی شوق تو مجھے بہت تھا لیکن کوئی واسطہ نہیں مل رہا تھا ۔
کچھ بلاگز میں لکھا مگر وہاں میرا دل نہ لگا ۔
یہاں ایسا لگتا ہے کہ میں اپنے بہن بھائیوں کے درمیان ہوں ۔اللہ آپ سب کو خوش و خرم اور ہمیشہ ہنستا بستا رکھے ،
اللہ سب بیماروں کو صحت اور زندگی عطا کرے ۔آمین ثمہ آمین
عالم آرا
عالم آرا صاحبہ کو وعلیکم السلام کہتے ہوئے یہ عرض کرنا ہے کہ یہ ہم سب کی خوش قسمتی ہےکہ وہ ہم سب کو اپنی نیک دعاوں سے نوازتی ہیں ۔ میں عمر میں ان سے کئی سال بڑا ہوں مگر وہ مجھے میری مرحوم ماں کی یاد دلایا کرتی ہیں جس نے ہمیشہ سب کو اپنی نیک دعاوں سے نوازا۔
عالم آرا صاحبہ کے بچے اور بچیاں بے حد خوش نصیب ہیں کہ انہیں ایسی ماں ملی ۔
عالم آرا صاحبہ کے تبصرے اور انکے بلاگ انتہائی معنی خیز ہوا کرتے ہیں ۔ پاکستان سے دور رہکر وہ پاکستان سے بالکل باخبر رہتی ہیں اور اپنے تبصروں میں پاکستان کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ دیا کرتی ہیں ۔ انکا دل بھی پاکستان کی بدحالی اور رہنماوں کے بد عنوانی پر روتا ہے ۔ وہ بھی پاکستان کو اپنی نیک دعاوں میں شامل رکھتی ہیں ۔ انہی جیسی ہستیوں کی نیک دعاوں سے پاکستان اب تک زندہ ہے ورنہ وہ کب ہی کا ختم ہوچکا ہوتا ۔
۔۔۔۔۔۔
عالم آرا صاحبہ نے اپنے تبصرے میں دو نام لیے :شمس جیلانی صاحب اور محمد رفیق صاحب :
ہم سب عالمی اخبا ر کے پڑھنے والے جناب شمس جیلانی صاحب کی عالیشان شخصیت سے اور انکے کالموں اور انکے مضامین سے واقف ہیں مگر میری نظر سے محمد رفیق صاحب کی کوئی تحریر عالمی اخبار میں نظر نہیں آئی حالانکہ عالم آرا صاحبہ کے تبصرے سے یہ معلوم ہوا کہ وہ ( محمد رفیق صاحب) بھی شمس جیلانی صاحب کے ساتھ ساتھ ،عالم آرا صاحبہ کو عالمی اخبار میں لانے کے محرک تھے ۔
اگر محمد رفیق صاحب بھی اس اخبار میں اپنے تبصرے شامل کیا کریں تو نوازش ہوگی ۔
۔۔۔۔۔۔
میں اس بلاگ میں جناب جاوید اقبال کیانی صاحب کی تحریر دیکھنے کے لیے بے چین ہوں ۔ جاوید اقبال کیانی صاحب کی تحریروں کی
یہ خاص خصوصیت ہے کہ ان میں الفاظ کا چناو اتنا اچھا ہوتاہے کہ دل خوشی سے جھوم اٹھتا ہے ۔ انکی بذلہ سنجی اور خوش مزاجی اور ساتھ ہی ساتھ بے باکی اور راست گوئی قابل تقلید بھی ہے اور قابلِ تعریف بھی ۔ جاوید اقبال کیانی صاحب کو بھی پاکستان کی پرانی فلموں اور خاص طور پر پاکستان کے فلمی گانوں سے واقفیت ضرور ہوگی ۔ وہ بھی اس بلاگ کے گلشن کی آبیاری اپنی یادوں کی بارات سے کرسکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
میں آصف احمد بھٹی صاحب سے التجا کرتا ہوں کہ وہ عالمی اخبار میں ضرور اپنے تبصرے شامل کرتےرہیں اس لیے کہ ان کے تبصروں سے اور انکے بلاگوں سے ہم سب بہت کچھ سیکھا کرتے ہیں۔ میں اکثر انکی چند ایک باتوں سے الجھن میں ضرور مبتلا ہوجاتا ہوں مگر میں یہ جانتا ہوں کہ انکی نیت ہمیشہ نیک ہی ہوا کرتی ہے۔ انکی خوبی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ادب کے دائرے میں رہکر ہر ایک کو مخاطب کیا کرتے ہیں ۔
میں آصف احمد بھٹی صاحب کو یہی مشورہ دونگا کہ وہ ضرور بضرور اپنے تبصروں سے اوراپنے بلاگوں سے عالمی اخبار کو نوازتے رہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ اگر انکی کوئی بات عالمی اخبار کو پسند نہ آئے تو نظر ثانی اسے شایع کرنے سے پہلے حذف کردے گی ۔
آخر میں میں بلاگ نویس جناب اظہر الحق صاحب کی جلد از جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس بلاگ میں مزید کوئی موسیقی اور شاعری شامل کردیں ۔ مہربانی ہوگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زائری عابدی صاحبہ سے استدعا ہے کہ وہ اگر سر کےدرد مائگرین کا تیر بہ ہدف علاج بتادیں تو میری بیوی انکو ہزاروں دعائیں دے گی ۔ ( یہ بتا تا چلوں کہ زبانِ زوجہ من جرمن و من جرمن نمی دانم کا معاملہ ہے ۔ ) اگر زائرہ عابدی صاحبہ اس بلاگ میں نہیں تو اپنے “ روحانی علاج والے بلاگ “ میں ہی اس کا علاج لکھدیں تو مہربانی ہوگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب الحاج ظفر جعفری صاحب تو اب مشرق وسطےٰ کے دورے پر ہونگے ۔ ہم سب کی نیک دعائیں انکے اور انکی اہلیہ کے ساتھ ہیں ۔ وہ بھی ضرور اپنی دعاوں میں ہمیں شامل کررہے ہونگے ۔ انکا سفر نامہ پڑھنے کی تمنا ہے ۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
ا سّلام علیکم ،،بھیّا منظو ر قاضی ، اللہ تبارک و تعا لیٰ ا پنی جناب سے آ پ کے دل کو خوشی راحت اور سکو ن عطا کرے
،،او ر صر ف میری تحریرو ں سے ہی نہیں میرے ہر ہر عمل سے اس کی مخلو ق! راحت ، خو شی ،اور فیض اٹھائے آ مین
بھیّا نا صح بن کر نہیں،انسانیت کے رشتے سے لکھ رھی ہو ں کہ جب بھی دل اداس ھو سورہ الم نشرح پڑھ لیجے دل کی خو
شی آسمان سے اترے گی انشاللہ ،،اور ایک چھو ٹا سا عمل یہ ھے کہ دن کاکوئ بھی ایک حصّہ اپنی سہولت کے مطابق دیکھ
لیجئے کہ کب آ پ کو تنہا ئ میسّر ا سکتی ،،بس پھر بغیر کسی وقفے کے و ضو کر کے بیٹھ جائے آلتی پالتی کی نشست میں
اور تصّور کیجئے کہ آ پ اللہ تعا لیٰ کے سامنے بیٹھے ہیں ،،اور پھر اس فرد کے لیئے دعاء کیجئے جس کے لیئے دل بیچین اور
اداس ھے ،،،، ا س کے ساتھ ہی دل کو اس ہستی کی جانب سے من جانب اللہ ایک راحت ملے گی کہ اب میرا مطلوب اچھّا ہو
جائے گا،دل کی خو شی کی دعا بھی جلد تحریر کروں گی انشاللہ ،،مجھے امّید ھے کہ اب آ پ اداس نہیں ہو ں گے بلکہ میرے لیئے
بھی دعا ئیں کریں گے کہ میں اگلے برس اپنے پیارے وطن پاکستا ن کی مٹّی کو بوسہ دینے اور اپنے پیا رو ں سے ملنے جا
سکوں ،2011 میں جانے کے لیئے اللہ میا ں نے منع کر د یاھے
سب کی خو شیو ں کی طا لب
زائرہ بجّو
کینیڈا ایڈ منٹن
بھیّا منظور قاضی ،،شفا ء خا نے کے بلاگ پر تشریف لے آیئے ،،مہربانی ہو گی
اسلام علیکم محترم منظور قاضی بھائی اللہ آپ کو ذندگی اور صھت دے ۔
محترم بھائی آپ نے مجھے جس شفقت سے نوازا اس کے لئے جزاک اللہ خیر
ًمحترم بھائی میری آنکھیں نم ہیں ۔کہ اللہ کی دی ہوئی صلاحیت کو میں استعمال کر سکی ۔یہ میرے والد اور والدہ مرحومہ کی عادت تھی ۔پھر یہ بات ہم سب بہن بھائیوں نے اختیار کی ۔مجھ میں کچھ زیادہ ہے ۔اور آپ شاید یقین کریں کہ جب میں اپنے بزرگوں سے بات کرتے ہوئے انہیں دعا دے دیتی ہوں ۔تو گڑ بڑا جاتی ہوں ۔کیونکہ میرا ایمان ہے کہ دعا کی ضرورت ہم سب کو ہے چاہے ہماری عمر کچھ بھی ہو ۔یقیناََ بھائی میرے بیٹے اور میرے تمام ساتھی بہت خوش قسمت ہیں کہ انہیں دعائیں ملتی ہیں ۔اور میں ان سب سے زیادہ خوش قسمت ہوں کہ مجھے آپ جیسے محترم بھائی ملے ،اور بہت محبت کرنے والے بیٹے ۔
جو میری صلاحیتوں کو بڑھانے کا موجب بنتے ہیں ۔
محترم بھائی ،محمد رفیق بھائی یہاں مریکل اخبار کے اردو صفحوں کے ایڈیٹر ہیں ،اور میرا سب سے پہلا آرٹیکل انہوں نے ہی چھاپا اور پھر مستقل میری ہمت افزائی کرتے رہے ۔میری پہلی کتاب کے پبلشر بھی یہاں وینکور میں وہ ہی ہیں جو کینیڈا اردو ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام چھپی اور اب میری دوسری کتاب کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔بے حد پرخلوص اور محبت کرنے والی ہستی ہے ۔
میری خوش قسمتی ہے کہ اللہ رب العزت نے مجھے آپ سب جیسے محترم بھائی اور ساتھی عطا کئے ۔۔ ورنہ میں کسی بھی قابل نہیں ۔
لکھنے کی صلاحیت بھی اس مالک کل کی دی ہوئی ہے ۔وہ نہ چاہے تو میں قلم بھی نہیں پکڑ سکتی ۔
بھائی بلاگ پر ضرور آتے رہا کیجیئے آپ کے آنے سے رونق ہو جاتی ہے ۔آپ کی تحریر بہت جامع اور خوبصورت ہوتی ہے ۔
اللہ ہم سب کو بھلائی کی طرف راغب رکھے اور ایک دوسرے کے احترام اور محبت کی طرف راغب رکھے ۔کہ دنیا چند دن کا کھیل ہے ۔وہاں کے لئے کچھ جمع ہوجائے تو خوش قسمتی ۔
اللہ ہماری چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بڑا بنا کر قبول فرمائے ۔ آمین
عالم ارا
میں محترمہ زائرہ عابدی صاحبہ کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میری بیوی کی مشکل ( مائگرین : درد شقیقہ ) کا علاج اور اسکےساتھ ساتھ دعا بھی تجویز کی۔ جزاک اللہ
۔۔۔۔۔۔۔
عالم آرا صاحبہ کی پر خلوص تحریر کا بے حد شکریہ ۔
۔۔۔۔۔
اللہ ان دونوں ہستیوں کو ہمیشہ صحت اور تندرستی کے ساتھ سلامت رکھے اور انکے علم سے ہم سب کو فیض اٹھانے کی توفیق اور سعادت عطا کرتا رہے ۔ آمین
۔۔۔۔۔۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
اسلام علیکم محترمہ بجو اللہ آپ کو ذندگی دے ۔
بجو جزاک اللہ خیر آپ کی بتائی ہوئی ہر بات دل میں اتر جاتی ہے ۔
اللہ پڑھنے والوں کو شفاء کامل عطا کرے ۔اور ہم سب کی زبان اور کردار میں وہ جزب عطا کرے جو ہمیں ان دعاؤں سے فیض اُٹھانے میں معاون ہو ۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔
اللہ سب بیماروں کو صحت عطا کرے اور ہمیں کلامِ پاک کو صحیح پڑھنے اور سمجھنے کی سعادت بخشے آمین
عالم آرا
وینکور
اظہر الحق صاحب کو خدا صحت سے رکھے اور انکی اہلیہ کی بیماری کو بھی دور کردے : آمین
اظہر الحق صاحب کئی دن سے اپنے اس بلاگ میں شامل نہیں ہوئے ۔ انکی جاندار اور شاندار تحاریر پڑھنے کا انتظار ہے ۔
فقط :
دعاگو اور خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے