Proud being a PAKISTANI

9/11: Pakistan responsible
7/7 : Pakistan responsible
Mumbai blast˙·٠•●●•٠·˙*¨`*:•.Pakistan responsible
Rise of taliban˙·٠•●●•٠·˙*¨`*:• Pakistan responsible
N.Korea’s nuclear bomb˙·٠•●●•٠·˙*¨`*:•Pakistan responsible
Iran’s nuclear prepration˙·٠•●●•٠·˙*¨`*:•. Pakistan responsible

Conclusion =

Pakistan is the most RESPONSIBLE country in the world

So Be Proud! being a PAKISTANI ¸.•*´¨`*•.¸¸.•*´¨`*•.¸¸ 🙂

10 thoughts on “Proud being a PAKISTANI”

  1. اسلام علیکم !
    جیسا کہ بلاگ کی نام سے ظاھر ھو رہا ھے، پاکستان کتنا RESPONSIBLE ملک ھے نا ساری دنیا کے لئے !! آپ سب کا کیا خیال ھے اس بارے میں ؟؟
    کچھ سوال ہیں آپ سب اس میں شامل ھو کہ آپنی اپنی رائے دیں!

    سوال نمبر 1 – کیا آپ کو پاکستانی ھونے پے فخر ھے؟ اگر ہاں، اس کی وجہ؟ اگر نہیں، اس کی وجہ ؟

    سوال نمبر 2 – پاکستان کی کون سی ایسی شخصیات ہیں جن کو آپ پاکستان کا فخر مانتے ہیں (inspired) پاکستان کا عالمی اعزاز اور ایسی جن کو آپ سمجھتے ہیں جنہوں نے آپ کو مایوس کیا disappointed) ؟

    اب کوئی یہ نا سمجھے کہ میں آپ کا interview کر رہی ھوں 🙂 ، بس ایسے ھی سوال پوچھ لیا تا کہ سب کی رائے جانی جائے اور میری اور سب کی معلومات میں اضافہ ھو۔
    شکریہ

  2. بہت خطرناک سوالات آپ نے کس آسانی سے لکھ دیئے ثناء شاہ ۔سب سے پہلے تو میرا آپ پر سلام ہو )

  3. اچھا لگا آجکا topic پڑھ کے۔اوز ھما زی بہچا ن سے بڑ ھ کر شایدہی کو ئ فخراور ھو۔۔۔۔۔ ثو جب پاکستان ہی سب کچھ ھے،تو اُ س کے با سیو ں سے کیسے پیا ر نہیں ھوگاٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  4. ماشااللہ ثنا جی۔ اچھا سلسلہ ہے۔لیجئے جواب حاضر ہے۔
    بے شک اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔ یہ اعزاز ہے ہمارا۔ آزادی کی قدر کسی غلام سے پوچھیں۔فخر کی ایک وجہ نہیں بلکہ بہت سی وجوہات ہیں اور سب سے بڑی وجہ یہ کہ اس پاکستان نے ہمیں شناخت دی ہے اور اسی شناخت نے ہمیں سر بلند کر کے جینا سکھایا ورنہ آج ہم کسی بنیئے کی دوکان پر ملازم یا زیادہ سے زیادہ کلرک ہوتے۔
    قائد اعظم علیہ الرحمہ سے لیکر ہر اس شخس تک جس نے پاکستان کی نیک نامی اور ترقی کے لیئے کچھ کیا اس پر فخر ہے۔
    اور جہاں تک مایوسی کی بات ہے تو اس ملک کے سیاست دانوں نے مایوس کیا،فوج نے مایوس کیا،بیورو کریٹس نے مایوس کیا اور سب سے زیادہ موجودہ صدر آصف زرداری نے مایوس کیا۔

  5. ثناء آپ کے سوالات کے جوابات تو خیر کافی تفصیلی ہو جائیں گے مگر ہاں آپ نے جو تمحید باندھی اور ہر چیز میں• Pakistan responsible
    کی مثال بھی دی ہے تو اس پر ایک چھوٹی سی مثال میں بھی یہاں دے دیتی ہوں ۔کیونکہ کسی اور کو کیا کہیں پاکستان کا پڑوسی ملک جس طرح پاکستان کے پیچھے ہاتھ پاوں دھو دھو کے پڑا ہوا ھے اسکی مثال بلکل ایسی ہے
    تازہ ترین خبر
    بھارتی صوبہ اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاوں میں پولنگ اسٹیشن کے پاس دو عدد کتتوں کی شدید لڑائی ہوئی جس کے نتیجہ میں دونوں کتتے شدید زخمی ہو گئیے اور ان میں سے ایک کتا زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا کتا زخمی حالت میں فرار ہوگیا۔۔
    کچھ ہی دیر میں وہاں وائیلڈ لائیف کے محکمے کے اہلکار پہنچ گئے اور اس واقع کی تحقیقات شروع کر دیں
    بھارتی میڈیا کے مطابق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ شک ظاہر کیا جا رہا ہے کے اس کتتے کی ہلاکت کے پیچھے ضرور پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
    فرار کتتے کی تلاش جاری ہے اور موقع پر جو شواہد ملے ہیں ان میں کتتے کے پیر سے گری ہوئی کچھ الگ قسم کی مٹی ہے جو کے پاکستان کی ہو سکتی ہے اور ایسے مزید کچھ اور شواہد بھی ہیں جو کے ظاہر نہیں کئیے گئے لہزا اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کے فرار کتا پاکستانی تربیتیافتہ تھا ۔
    بھارت میں روزانہ سیکڑوں‌افراد غریبی اور مفلسی کی حالت میں دم توڑ دیتے ہیں مگر اسطرح کتتے کی حلاکت کو وائیلڈ لایئف والوں نے ضرورت سے ذیادہ سجنیدگی سے لیتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کے بھارت میں الیکشن کا دور چل رہا ہے اور پاکستان نے اب اسطرح کے کتتے پولنگ اسٹیشنز کے پاس آنے والے وٹرز کو ہراساں کرنے کے لئیے بھیجے ہیں کے بھارتی الیکشن متاثر ہوں ۔۔
    اس وقع کی اطلاع ملتے ہی بھارتی انتہا پنسد لیڈر بال ٹھاکرے نے پاکستان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے میڈیا کو یہ بیان دیا ہے کے اگر پاکستان اسطرح کے کتتے بھارت بھیج کر الیکشن کے عمل کو ثبوتاز کرنا چاہتا ہے تو ہم بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں ۔ہم ایسے کتتوں کے بدلے بھارت کے بہت ہی خطرناک کمینے پاکستان بھیجیں گے اور پاکستان کا امن اور حالات تباہ کر دیں گے
    بھارتی موجودہ حکومت نے سرکاری بیان میں کہا ہے کے اگر اس طرح بھارتی الیکشن متاثر ہوئے تو اس کا RESPONSIBLE صرف اور صرف Pakistan ہی ہوگا۔
    منجانب
    ماریہ علی

  6. @ سارا عاصم جی شکریہ topic پسند کرنے کا۔ بے شک صحیح کہا آپ نے کہ ھماری پہچان ھی پاکستان سے ہے۔ھماری شان پاکستان۔ سب سے پہلے پاکستان 🙂

    @ھمدانی صاحب شکریہ کہ آپ نے سب سے پہلے جواب دیا اور بہت خوب دیا ،میں تو سوچ رہی تھی کہ اس پے پورا ایک مضمون لکھا جا سکتا ھے پر ماشااللہ آپ نے اتنے جامع اور مختصر اور پر معنی جواب دیے واہ واہ !!

    @ماریہ علی جی شکریہ اور آپ کا سلام قبول کیا ، خطرناک چیزیں میرا مشغلہ کہہ لیں اور یہ تو صرف سوال ہیں صرف جو آپ کو خطرناک لگے 🙂
    اور جو آپ نے مثال دی پڑوسی ملک کی ، کیا بات ھے کہ ایک جانور کا مرنا بھی پاکستان کے سر !! اسی لیے میں نے بلاگ کے آخر میں لکھا تھا نا کہ Pakistan is the most RESPONSIBLE country in the world

  7. ثناء آپکے سوالات حقیقت میں ایسے ہیں کے انسان کے اندر کا دکھ جو کے اپنے وطن عزیز کے لئیے چھپا ہوا ہے وہ نکل کر سامنے آ جاتا ہے اسی لئیے یہ سوالات خطرناک میں نے اس لئیے کہے کے اس طرح کے سوالات پر اکثر بہس و مباحثہ شروع ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ یہ معاملا ہے پاکستان کا تو اس میں اپنے ھی لوگ پاکستان کو برا بھی کہیں گے اور اچھا بھی ۔ اور جب برا کہیں گے تو بات بڑھ ہی جائے گی اور اس بلاگ کا انجام بھی کہیں وصی شاہ والےبلاگ جیسا نا ہو جائے۔۔
    ورنہ نا تو آپ بھوت ہو کے میں ڈر گئی نہ ہی میں کھلی آنکھوں سے ڈراونے خواب دیکھتی ہوں ۔بلکہ میں بس اتنا کہنا چاہ رہی تھی کے پاکستان کے عنوان پر ایسے سوالات بلکل ایسا ہے کے پاکستانی عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔
    معزرت کے ساتھ ثناء جب تک آپ کا عنوان اور مثالیں تھیں‌وہ بہت شاندار تھیں
    مگر جب آپ نے اپنے بلاگ میں‌پاکستان سے متعلق سوالات لکھے وہ بات کچھ تبدیل ہو گئی
    ضروری نہیں ثناء کے یہاں ہر انسان ھمدانی صاحب یا سارا عاصم جیسا ہی تبصرہ کرے ۔۔
    پاکستان کی اندرونی صورتحال سے ہم سب بخوبی واقف ہیں اسی لیئے جو بھی پاکستانی اپنی رائے دے گا اسکا بخوبی اندزہ آپ کو اپنے سوالات لکھتے وقت ہی تھا اسی لیئے آپ نے Options لکھے۔۔ اور جب بات اپنے ملک پر ہو اور Options بھی کھلے ہوں تو انسان کے دل سے ہر طرح کی بات نکلتی ہے
    آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ وصی شاہ کے بلاگ سے ہی ہو جانا چائے کے ایک شاعر کی شاعری کے اپر کتنی انگلیاں‌اٹھ گئیں تو آپ نے تو بہت ھی حساس معضوع وہ بھی کھلے Options کے ساتھ دے دیا ہے
    بہت معزرت ثناء میں دل سے بہت معزرت کرتی ہوں اور بلکل صاف صاف لکھتی ہوں یہاں کے میں آپ کے ان سوالات کے خلاف ہوں ۔ آپ کو ایسے سوالات یہاں نہیں لکھنے چاہیں جن پر آگے جا کر بات بڑھ جانے کا خطرہ ہو
    آپ کی بہن
    ماریہ علی

  8. ماریہ علی جی آپ نے صحیح کہا سب کی رائے اپنی اپنی ھوتی ھے ، اور آپ معزرت نا کریں کہ یہ محض سوالات ہیں اور دوسرا بلاگ کا مقصد بھی تو سھکنا اور سکھانا ھے تو جب تک بحث مباحثہ نہیں ھو گا ، نیی چیزیں کیسے سامنے آہیں گی اور چلیں اگر آپ ان سوالوں کے خلاف ہیں تو پھر کچھ خلاف ہی لکھ دیں 🙂 تعریفیں تو سب کرتے ہیں، تنقید کرنے والا کوئی کوئی ھوتا ھے ! سو آپ لکھیں اور عالمی بلاگ کی یہی بات منفرد ھے کہ اس پے آزادی رائے ھے ! جس کی وجہ سے مجھے بےحدپسند ھے ۔
    اور رہی بات آگے جا کر بات بڑھ جانے کا خطرہ تو، اگر ھم اس ڈر کی وجہ سے آگے نا چلیں تو پھر تو کوئی بھی کام نہیں چل سکتا نا ! اور نا ھی کوئی کچھ سیکھ سکتا ھے ، اب وہ وصی شاہ والے بلاگ پے اگر بات اتنی آگے بڑھی تو سب نے بہت کچھ سیکھا بھی ! سو چلتی کا نام گاڑی !! 🙂

  9. جی ہاں اگر پاکستان ایک باونڈری کا نام ہے تو ہمیں اس پر فخر ہے، کہ ہم پاکستانی ہیں، لیکن ملک ہے جوہمارا ملک سرحدوں کے اندر ٹوٹ‌رہا ہے، سرحدیں موجود رہیں گی، لیکن اندر کوئی پاکستان ہے نہ پاکستانی، سوائے اس غریب مزدور کے جو پاکستان سے باہر نکلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور جو اندر رہ رہا ہے وہ با اختیار ہے یا با اقتدار. جن لوگون نے پاکستان بنایا تھا انکو ایک قوم بنانے کا ٹائم نہیں دیا گیا، اور انتہائی خاموشی سے قتل کر دیا گیا. اور اب جو لوگ موجود ہیں ان میں سے کس کو پسند کریں اور کیا انکو پاکستان سے کوئی ربط ہے بھی کہ نہیں. ہاں البتہ اگر کوئی یہ ثابت کر دیتا ہے کہ وہ پاکستان کا ہمدرد ہے اور صرف نعرے کی بجائے عملی طور پر پاکستان کے لیئے کچھ کرنا چاہتا ہے تو ہماری کھال کی جوتیاں بھی بنا لے تو ہم حاضر ہیں. لیکن کیا ان سب لیڈروں بلکہ حادثاتی گیدڑوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جس کو کہا جا سکتا ہو کہ یہ وفاق کے لیئے کام کرنا چاہتا ہے یا پاکستان کے لیئے کامکرنا چاہتا ہے. ایسا کچھ اب تک نظر نہیں آیا ہے. وہ چند ایک لوگ جنہو نے اس نظرئے پر کام کیا اور پاکستان کو مضبوط کرنا چاہا، انکا جو حال کیا گیا ہے ہم سب کے سامنے ہے. اور اب جو ہو گا یہ بھی سب کے سامنے اآ ہی جانا ہے.

  10. سلام“ علیکم، ذرا دیر سے
    پاکستان نہ تو 9/11 کا ذمہ دار ہے نہ ہی ممبائی دھماکے کا، نہ تو طالبان کی پرورش کا ذمہ دار ہے اور نہ ہی شمالی کوریا کے کسی بم وغیرہ کا، پاکستان کسی بھی مسئلے معاملے یا بدنامی کا قطعاً ذمہ دار نہیں۔ اگر کوئی کسی عمل کا ذمہ دار ہے تو کوئی ایک شخص یا اشخاص کا کوئی گروہ، مثلاً کوئی ایک سیاست دان یا ایک سیاسی جماعت یا کوئی ملکی یا غیر ملکی حکومتی ٹولہ وغیرہ۔ پاکستان نہ تو “بطور خطہء ارض“ اور نہ ہی “بطور ملت یا قوم کے“ کسی بھی ایسے قبیح فعل کا ذمہ دار ہوسکتا ہے جو غیر ملکی حکومتیں پہلے اپنے ذرائع ابلاغ اور پھر ہماری کٹھ پتلی حکومت کی میڈیا کے ذریعے ساری دنیا اور ہماری عوام کو بھی باور کروانا چاہ رہی ہیں۔ کیا ساری کی ساری پاکستانی قوم کا، بشمول میرے اور آپ سب کے، دماغ چل گیا ہے کہ ایسی الٹی سیدھی، ننگِ انسانیت حرکتیں کرتے جا رہے ہیں اور باز ہی نہیں آرہے، باوجود اس کے کہ افغانستان اور عراق وغیرہ کا حشر بھی دیکھ چکے ہیں ؟؟؟ خود کو بدنام کرنے والا کوئی پاگل ہی ہو سکتا ہے، کسی ملک کے سارے لوگ بیک وقت پاگل نہیں ہو سکتے، یا شاید کسی نے کوئی زہر ملا دیا پانی میں جس کو پی کر پوری قوم یک لخت پاگل ہو گئی ( گیارہ ستمبر کے فوراً بعد)۔
    رہا سوال اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرنے کا تو کہوں گا کہ فخر کرنے کا حق صرف اور صرف اپنی کوشش سے حاصل کی ہوئی کسی چیز پر ہونا چاہیے، کسی خداداد صلاحیت پر فخر کیوں جبکہ اس کے حصول میں اپنا کچھ خرچ نہ ہوا، صرف کسبی امتیازات ہی باعثِ فخر ہونے چاہیے۔ میں پاکستان میں پیدا ہوا، اس میں میرا کوئی کمال نہیں، ہاں میں نے اگر مثلاً کوئی علم حاصل کیا تو اس پر مجھے فخر کرنے کا حق ہو سکتا ہے کہ یہ میری ذاتی کوششوں ہی کا نتیجہ ہے۔ اس کے علاوہ کچھ باتیں اجتماعی جدوجہد کے باعث بھی اور کچھ منفرادات بھی قابلِ فخر مانے جاسکتے ہیں۔
    اس لیے میں قابلِ صد احترام جناب ہمدانی صاحب کی رائے سے اتفاق نہیں کر سکتا (بشرط کہ اِسے گستاخی نہ سمجھا جائے) کہ ہمیں اپنے پاکستامی ہونے پر اس لیے فخر ہے کیوں کہ پاکستان نے ہمیں شناخت دی۔ یہ خصوصیت تو ہر ملک میں ہے کہ وہ اپنے باسیوں کو شناخت دیتا ہے، آج بھارت میں آباد مسلمانوں کی تعداد پاکستانیوں سے زیادہ ہے، جن میں سے بہت نے معاشرے میں اپنی محنت سے اپنا مقام حاصل کرلیا ہے اور زندگی کے تقریباً ہر شعبہ میں خود کو منوا چکے ہیں ، مانا کہ ہندو سے زیادہ متعصب شاید کوئی قوم نہیں لیکن ہمارے ملک کے کچھ گروہ شاید دنیا بھر میں تعصب کے معاملے میں سونے کے تمغے کے حقدار ہوں، جو دوسروں کی مساجد تک میں بم دھماکے کرنے سے باز نہیں آتے، دوسرے مسلک کا خواہ چھوٹا بچہ بھی ہو وہ اسے بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتے، میں نادم ہوں کہ ہم میں ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو دراصل کالی بھیڑ کا لبادہ اوڑھے بھیڑیے ہیں۔
    باقی باتوں پر میں ہمدانی صاحب سے متفق ہوں قائدِ اعظم سے لے کر بھٹو شہید تک جیسی شخصیات (منفرادات) پر مجھے بھی فخر ہے اور دفتر شاہی نظام اور اس کے پیدا کیے بد عمل حکمرانوں پر میں بھی شرمندہ ہوں۔
    محترمہ بہن ماریہ علی صاحبہ ! عرض ہے کہ جب اپنے ملک کے بارے میں اپنے ہی لوگ اچھا اور برا لکھیں گے تو پڑھنے والوں کو بھی ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے حقائق کی اور حقائق سے الگ باتوں کی نشاندہی کردینی چاہیے (بشرط کہ ان کی رائے لکھنے والے سے الگ ہو) اس طرح گفتگو یقیناً کوئی غلط موڑ نہیں کاٹے گی، ہم اگر ذرا کشادہ دلی اور وسعتِ نظر سے کام لیں تو کسی بدمزگی کا کوئی اندیشہ نہ رہے۔
    محترمہ بہن سیدہ ثناء شاہ صاحبہ ! کی باتں بہت اعلٰی ہیں “ سب کی رائے اپنی اپنی ھوتی ھے ، یہ محض سوالات ہیں اور دوسرے بلاگ کا مقصد تو ہوتا ہی سیھکنا اور سکھانا ھے، تو جب تک بحث مباحثہ نہیں ھو گا ، نئی چیزیں کیسے سامنے آئیں گی اور چلیں اگر آپ ان سوالوں کے خلاف ہیں تو پھر کچھ خلاف ہی لکھ دیں 🙂 (بہن کا سب سے خوب صورت جملہ) تعریفیں تو سب کرتے ہیں، تنقید کرنے والا کوئی کوئی ھوتا ھے ! سو آپ لکھیں اور عالمی بلاگ کی یہی بات منفرد ھے کہ اس میں آزادئ رائے ھے ! جس کی وجہ سے مجھے بےحدپسند ھے “
    عمران چوہدری صاحب نے بھی عمدہ بات کہی وہ لیڈروں بلکہ حادثاتی گیدڑوں والی بالکل بات اسی طرح ہے، مےید ایک نکتہ کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا کہ ہم کو شخصیات سے ہٹ کر بات کرنی چاہیے، شخصیات کی بات افکار کی حد تک انفرادی خصوصیات کی حد تک تو درست ہے لیکن کسی پورے ملک کی معیشیت، سیاست، نظم و نسق وغیرہ کی جب بات ہو گی تو اس کے پسِ پردہ ایک پورا نظام ہوگا جو ذمہ دار ہوگا ہر اچھے اور بُرے کا، زرداری اکیلا ملک پر حکمرانی نہیں کررہا بلکہ ایک پورا ٹولہ اس کے پیچھے بیٹھا ہے، اس بات کی دلیل کے طور پر عرض ہے کہ امریکہ دنیا کا وہ ملک ہے جہاں موٹے لاگوں کی شرح سب سے زیادہ ہے، دوسری بات کہ گنجہ پن مردوں کی بیماری ہے اور پچاس نہیں تو تیس چالیس فی صد مرد حضرات اس کا شکار ہیں، لیکن امریکہ، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور متمدن قوم کہتے ہیں، کے تمام صدور میں سے کوئی ایک بھی نہ تو موٹا ہے اور نہ ہی گنجا، سب کے سب سمارٹ اور دوکان کی کھڑکی میں رکھے نمائشی گُڈوں کی طرح، اس لیے کہ یہ سب دراصل ہیں ہی نمائش کے لیے، ان کا کام صرف غر ملکی وفود کے ساتھ ہاتھ ملانا اور تقریریں وغیرہ کرنا ہی ہوتا ہے، حکومت اور ملکی نظام چلانے والے اور ہیں۔
    وطنِ عزیز پاکستان میں شخصیات نہیں بدلنی بلکہ نظام بدلنے کی ضرورت ہے۔ طوالت پر معذرت خواہ ہوں۔
    محتاجِ دُعا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *