یہ تبصرہ میں کسی اور بلاگ میں آج پیش کیا تو میرے معزز کرم فرما سید مصباح حسین صاحب (ترجمان عالمی اخبار ) نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ میں اس موضوع پر ایک نیا بلاگ شروع کروں ۔ اسلیے
اپنی کم علمی کا احساس رکھتے ہوے تمام دانشورو ں اور سخنوروں کو اس موضوع کو آگے بڑھا نے کی دعوت دیتا ہوں:
موضوع ہے : کیا ثلاثیاں ، قطعات میں تبدیل کی جاسکتی ہیں ؟
جہاں تک میرا خیال ہے حمایت علی شاعر نے ثلاثی کی صنف کی آب یا ری کی اور اس کو اردو شاعری میں بہت ہی اچھے انداز میں پیش کیا ۔ اسکی ثلاثیاں اس کی کتاب ” مٹی کا قرض ” میں( جو 1974 میں چھپی تھیں) میں موجود ہیں۔ میر ا جہاں تک خیال ہے کہ یہ ثلاثیاں قطعات میں تبدیل کی جاسکتی ہیں۔
حمایت علی شاعر کی ایک ثلا ثی ہے اسکو قطعہ کی شکل میں بدلنے کے لیے میں نے یہ کوشش کی ہے :
ثلاثی ( صرف تین مصرعوں پر مبنی ایک مختصر سی نظم ) :
عنوان: شرط
شب کو سورج کہاں نکلتا ہے
اس جہاںمیں تو اپنا سایہ بھی
روشنی ہوتو ساتھ چلتا ہے
۔۔۔
قطعہ : عنوان : شرط
درد سے دل کہاں بہلتا ہے
شب کو سورج کہاں نکلتا ہے
اس جہاں میں تو اپنا سایہ بھی
روشنی ہوتو ساتھ چلتا ہے
۔۔۔۔۔
اسی طرح حمایت علی شاعر کی ایک اور ثلاثی :
عنوان : کشش ثقل
آزاد کب ہو ا کوئی قید مقام سے
جالندھری ہے کوئی تو کوئی ہے لکھنوی
ترک وطن کے بعد بھی نسبت ہے نام سے
اس کو قظعہ میں یوں تبدیل کیا جاسکتا ہے :
عنوان:
ہر ایک کو ہے کام فقظ اپنے کام سے
آزاد کب ہوا کوئی قید مقام سے
جالندھری ہے کوئی تو کوئی ہے لکھنوی
ترک وطن کے بعد بھی نسبت ہے نام سے
۔۔۔۔۔
شاید اس تبصرے کو پڑھنے والوں میں سے کوئ ، اس سےبہتر طریقے سے مندرجہ بالا ثلاثیوں کو قطعات میں تبدیل کرسکے۔
اب میں اس ہی شاعر کی تین ثلاثیا ں لکھتا ہوں اور سخنوروں کو دعوت کلام دیتے ہوے عرض کرتا ہوں کہ وہ انکو قطعات میں تبدیل کریں۔
عنوان : تضاد
اہل اسلام میں نہیں طبقات
اور فرما رہے ہیں مولانا
اہل ثروت پہ فرض ہے خیرات
۔۔۔۔۔۔
عنوان : مساوات
زندگی میں تو نہیں ۔ ہاں مگر ایک وقت نماز
اپنے ایماں کی سر عام نمائش کرنے
” ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز ”
۔۔۔
عنوان : ابن الوقت
سورج تھا سر بلند تو محو نیاز تھے
سورج ڈھلا تو دل کی سیا ہی تھی دیدنی
کوتاہ قامتوں کے بھی سائے درا ز تھے
۔۔۔۔۔۔
اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو اس شاعر کی اور بھی ثلاثیا ں سب کی طبع آزمائی کے لیے پیش کرونگا ۔۔
بہرحال: تمام سخنوروں کو دعوت کللام کے ساتھ
علم کا طالب :
منظور قاضی از جرمنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدمصباح حسین نے کہا ہے:
April 17, 2009 بوقت 11:24 am
قاضی صاحب آپ نے نہایت خوبصورت انداز سے ثلاثی کو رباعی میں تبدیل کیا ہے۔ کیا ہی خوب ہو کہ اگر آپ اس پر الگ بلاگ لگادیں تو شاید اور سخنور بھی اس پر کچھ لکھ دیں۔ یوں اس کام کی انفرادیت بھی قائم رہے گی۔ ہم تو پڑھ کر مزہ لینے والوں میں سے ہیں۔
نا چیز

ظفر بھائی۔ایسا نہیں چلے گا۔ آپ جیسے صاحب علم دوست سے ایسی توقع قطعی طور پر نہیں۔ دیکھیں میں علم میں اور عمر میں آپ سے چھوٹا ہوں لیکن اس بات پر ہمیشہ زور دیتا ہوں کہ اختلاف کے ساتھ ہی زندہ رہنا دراصل زندگی ہے ورنہ میری اور آپ جیسے لوگ تو زندگی کی یک رنگی سے مر جاتے ہیں۔ میں آپکو ذاتی طور پر بلاگ میں سے نہیں جانے دوں گا، کسی دوست کے ساتھ گفتگو میں مسلسل اختلاف رہنا یا کسی کا آپ سے منتفق نہ ہونا یہ تو حیات کی نشانی ہے۔ آپ جیسے قلم کار اور صاحب فکر سے یہ امید نہیں کہ وہ اپنی فکر کی ترسیل سے ہم جیسوں کو بھی محروم کر دے گا۔ از راہ کرم آپ بالکل کہیں نہیں جائیں گے اور پوری قوت کے ساتھ اپنی فکر اور نکتہ نظر کو تحریر کرتے رہیں گے۔ بس ہمیں کوئی عذر اور دلیل نہیں سننی آپ سے۔
ہم ہی سلجھائیں گے ترے گیسو
ہم کو سینئے بلا کی فرصت ہے
اب میں سید مصباح حسین صاحب اور جناب صفدر ھمدانی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوے ، اس بلا گ کے اصل موضوع پر واپس جاتا ہوں اور حمایت علی شاعر کی دو اور ثلاثی ( ثلاثیوں) کو چار مصرعوں میں تبدیل کرتا ہوں (صرف پہلا مصرعہ میرا ہے اور باقی کے تین مصرعے حمایت علی شاعر کے ہیں ) :
عنوان: رو یت ہلال
اپنی خبر ملی نہ کسی کی خبر ملی
” خود آگہی نہ جدت فکر و نظر ملی
وہ قوم آج بھی ہے پرستار چاند کی
جس قوم کو روایت ” شق القمر ” ملی ”
۔۔۔۔۔
عنوان : ذوق تعمیر
سن تو لیتے ہیں موذن کی اذاں
” ہم میں وہ شوق عبادت اب کہاں
ہر محلے میں بنا تے ہیں ، مگر
اے خدا ئے لا مکا ں ، تیرا مکاں ”
۔۔۔۔
ممکن ہے کہ کوئی دانشور مندرجہ بالا ثلاثی پر میرے مصرعہ سے بھی بہتر مصرعہ لگا دے
۔۔۔۔
مقصد صرف اور صرف مصرعہ لکھنے کی مشق سے ہے ۔ اور کچھ بھی نہیں۔ اگر یہ مشق امن وا مان کے ساتھ جاری رہے تو حمایت علی شاعر کی کچھ اور ثلاثی لکھکر دعوت کلام دونگا۔
ایک بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ حمایت علی شاعر نے اپنی کتاب میں ان ثلاثی کو یہ کہکر پیش کیا کہ ” یہ طرز خاص ہے ایجاد میری ” ۔ اس دعوی کی صدا قت یا اسکی تردید پر بحث کرنا اس بلا گ کے مقصد سے باہر ہے۔
فقط :
علم کا طالب : منظور قاضی از جرمنی
ہمدانی صاحب شکریہ
ارے ایسا کیسے جعفری بھائی ، آپ کہاں جا رھے ھیں ۔آپ یہی ھیں کہ آپ جیسے احباب ھی سے بلاگ میں علمی رونق ھے ۔ بس اب یہ کسی نے نہیں کہنا کہ ھم یہاں سے جا رھے ھیں۔
نگہت بہن آپکا بھی شکریہ
جہاں تک قاضی صاحب کا سوال ہے تو وہ ریٹائرڈ انسان ہیں ۔ انکے لئے وقت گذارنے کا ذریعہ ہے اور میں اس بات کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں اُنہیں serious نہیں لیتا اور ہلکے پھلکے مزاح میں جواب دیکر آگے بڑھ جاتا ہوں۔ کبھی کبھی اُنکی ٹانگ بھی کھینچتا ہوں۔وہ اگر مستند اساتذہ کی تصحیح پر تصحیح کرتے ہیں تو میں تو انکے مشورہ کو مفید کہکر آگے بڑھ جاتا ہوں۔ میرے بچے اگست میں میری شادی کی چالیسویں سالگرہ کی تیاری کر رہے ہیں۔ میری عمر 65 سال ہے۔ بحث نہ کبھی کسی نے جیتی ہے نہ کوئ جیت سکتا ہے۔ البتہ
دل کے بہلانے کو غالب یہ ٰٰٰٰ ٰٰ شغل ٰٰٰ ٰٰٰ اچھا ہے۔
میرا ردِ عمل اس پر تھا کہ اگر اخبار کا عملہ بھی صف آرائ کرے گا جہالت کے فتوے دیگا اور ایک کو دوسرے کے خلاف شہ تو وہاں لکھنے کا کیا فائدہ ۔ میں تو اس بات کو درگذر کرچکا تھا۔ لیکن اگر یہ ہوتا ہی رہا تو اس چکر میں پڑنے کا نہ تو مجھے شوق ہے نہ مجھ میں توانائ ہے ۔
راحتیں اور بھی ہیں عشق کی راحت کے سوا
” ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا چاہے کتنا ہو صاحب فہم ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی ، جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا “
حمایت علی شاعر کی ایک اور ثلا ثی پر ایک مصرع :
عنوان: بے کسی
دل کا افسانہ نگاہون سے بیاں ہوتا ہے
” کون دنیا میں رفیق غم جاں ہوتا ہے
دل میں جاگ اٹھتا ہے جب بھی کوئی سویا ہوا درد
قطرہ ء اشک بھی پلکوں پہ گراں ہوتا ہے ”
شاید کوئی سخنور اس ثلاثی پرمیرے مصرعہ سے بہتر مصرعہ لگا کر اس کو چار مصرعوں کا قطعہ بنا دے ۔
” ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا چاہے کتنا ہو صاحب فہم ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی ، جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا “
یہ شعر میرا نہیں ہے ۔ پتہ نہیں قاضی صاحب نے کیوں اسے میرے نام سے منسوب کردیا۔
مٰیں نے تو ظفر کا ایک شعر لکھا تھا ۔کسی کے نام سے منسوب نہیں کیا تھا ( پھر سے میرا سابقہ تبصرہ پڑھیے )
صحیح شعر یوں ہے :
ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا ، ہو وہ کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی ، جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
۔۔۔۔
ظفر کے چند اور اشعار :
روز معمورہ ء دنیا میں خرابی ہے ظفر
ایسے بستی سے تو ویرانا بنایا ہوتا
۔۔۔۔
ہم اس کی بات کے قائل ہیں اے ظفر جس نے
بھلا کہا جسے منہ سے اسے برا نہ کہا
۔۔
کیا بات یاد آگئی اس کو کہ اے ظفر
وہ یک بیک جو سن کے میرا نام ہنس پڑا
۔۔۔۔
ظفر میںکیا کہوں عا لم طبیعت کی روانی کا
کہ ہے امڈا ہوا دریا آہا ہا ہا ، آہا ہا ہا
۔۔۔۔
وہ لوگ اس زمانے میں ہیں اے ظفر کہاں
دیکھے ہوئے ہیں آپ نے انساں عجب عجب
۔۔۔
میں نہیں ہوں نغمہ جانفزا ، مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا
میں بڑے بروگ کی ہوں صدا ، میں بڑے دکھی کی پکار ہوں
نہ کسی کے آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آسکے ، میں وہ ایک مشت غبار ہوں
۔۔۔ اور یہ بھی :
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
۔۔۔۔
واہ واہ ظفر کے کیا کہنے :
کاش کہ ایسا استاد شاعر حمایت علی شاعر کی اوپر کے تبصروں میںلکھی ہوئی ثلاثی پر ایسے مصرعہ لگا تا جائے جو میرے مصرعہ سے بھی بہتر ہو۔
۔۔۔۔۔
بلا گ کے اصل موضوع کا محور ہے ثلا ثی ۔ اس کو ذہن میںرکھنا ضروری ہے ۔
حمایت علی شاعر کی اس ثلا ثی پر مصرعے دو طریقوں سے لگاکر انکو قطعات میںتبدیل کیا جاسکتا ہے:
عنوان: جدلیات
مخلوق بھی حیات کا خلاق بھی ہوں میں
میرے تضاد سے ہے عبارت مرا وجود
گر زہر ہوں تو زہر کا تریاق بھی ہوں میں
۔۔۔۔۔۔۔
ایک مصرعہ تو اس طرح بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پہلا مصرعہ دوسرے مصرعہ کا ہم قافیہ بن جائے : مثال کے طور پر:
عنوان: جد لیات
میں رزق بھی ہوں رزق کا رزاق بھی ہوں میں
” مخلوق بھی حیات کا خلا ق بھی ہوں میں
میرے تضاد سے ہے عبارت مرا وجود
گر زہر ہوں تو زہر کا تریاق بھی ہوں میں ”
اب ایک مصرعہ یوں بھی لکھا جاسکتا ہے جس کا قافیہ حمایت علی شاعر کی ثلاثی کے دوسرے قافیہ سے ہم آہنگ ہو:
عنوا ن : جدلیات
پابند قید و بند نہ پا بند ہست و بود
” مخلوق بھی حیات کا خلا ق بھی ہوں میں
میرے تضاد سے ہے عبارت مرا وجود
گر زہر ہوں تو زہر کا تریاق بھی ہوں میں ”
۔۔۔
اسی طرح سے اوپر کے تمام تبصروں میں حمایت علی شاعر کی ثلاثی ( ثلاثیوں ) پر ایسے مصرعہ لگا ے جاسکتے ہیں جو اصل ثلاثی کے دوسرے مصرع کے ہم قافیہ ہوں ۔ اگر کوئی ا س قسم کے مص ع لگانے کی مشق کرے تو بسم اللہ ، مصرعے لکا کر ثلاثی کو قطعات میں تبدیل کردیجئے ۔
صلاے عام ہے ۔۔۔۔۔
پچھلے تبصرےمیں میں نے حمایت علی شاعر کی ان ثلاثی ( ثلاثیوں) پر جو مصرعہ لگا ئے تھے وہ ان ثلاثیوں کے پہلے مصرعوں کے ہم قافیہ تھے ۔ اب میں انہی ثلاثیوں پر جو مصرعے لگا رہا ہوں وہ ان ثلاثیوں کے دوسرے مصرعہ کے قافیوں کے ہم قافیہ ہیں:
عنوان : کشش ثقل
سب پر عیاں ہے خوب یہ احوال واقعی
” آواز کب ہوا کوئی قید مقام سے
جالندھری ہے کوئی تو کوئی ہے لکھنوی
تر کِ وطن کے بعد بھی نسبت ہے نام سے ”
۔۔۔۔۔۔
عنوان : مساوات
ساری دنیا میںفقط اپنی ستائش کے لیے
“” زندگی بھر تو نہیں، ہاں مگر ایک وقت نماز
اپنے ایماں کی سر عام نمائش کے لیے
” ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز ” ”
۔۔۔۔۔۔۔۔
عنوان : تضاد
میرا مقصد ہے سب کو بتلا نا
” اہل اسلام میں نہیں طبقات
اور فرمارہے ہیں مولانا
اہل ثروت پہ فرض ہے خیرات ”
۔۔۔۔۔
میں کوشش کرونگا کہ ہر ثلاثی کے لیے دو مصرعے لکھوں : پہلی مثال میں میراپہلا مصرعہ حمایت علی شاعر کے ثلاثی کے پہلے مصرعہ کا ہم قافیہ ہوگا اور دوسرے مثال میں : میرا پہلا مصرعہ ، حمایت علی شاعر کے ثلاثی کے دوسرے شعر کا ہم قافیہ ہوگا۔
پڑھنے والے سخنور اگر چاہیں تو اسی طرح کی مشق کرسکتے ہیں۔ اور اپنے اپنے مصرعے لگا کر ان تمام ثلاثیوں کو قطعات میں تبدیل کرسکتے ہیں۔
اوپر کے تبصرےمیں ” آزاد کب ہو کوئ قید مقام سے ” پڑھیے : شکریہ
آزاد کب ہوا کوئی قید مقام سے
آپ سب سے معزرت کے ساتھ ۔اس بلاگ کے عنوان سے بلکل ہٹ کر بلاگ لکھ رہی ہوں
قاضی صاحب کا کوئی بھی بلاگ گزشتہ دو روز سے عالمی اخبار میں شائع نہیں ہو رہا ۔ کیا یہاں کی انتظامیہ کو ان کی غیر موجودگی کی وجہ معلوم ہے ؟
اللہ ڈاکٹر سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کو اور انکے سہاگ کو سلامت رکھے ۔ آمین
انکی اور علی کاظمی صاحب کی دلی محبت میرے لیے ایک نعمت ہے ۔ اللہ ان دونوں کو اپنی نعمتوں سے نواز تا رہے اور انکا پاکستان کا سفر مبارک کرے آمین ۔
میری دلی خواہش ہے کہ ماریہ علی صاحبہ عالمی اخبار سے منسلک رہیں اور اپنے بے لاگ تبصروں سے عالمی اخبار میں جان ڈالتی رہیں ۔
خیر اندیش :
منظور قاضی از جرمنی
افسوس کہ چند وجوہات نے اس بلاگ کے تسلسل کو برقرار نہیں رکھا ۔
اب میں پھر سے یہ جسارت کررہا ہوں کہ حمایت علی شاعر کی بقیہ ثلاثی کو آہستہ اہستہ چار مصرعوں میں تبدیل کر تا رہوں۔
میرا خیال ہے کہ ثلاثی کی صنف اردو داں حلقوں میں اس لیے مقبول نہیں ہوئی کہ اس میں شاعر نے صرف تین مصرعوں میں نہایت ہی کمال کے ساتھ پورا مضمون ادا کردیا ۔ اس کی وجہ سے اسکو ایک بھرتی کا مصرعہ شامل کرکے قطعہ یا رباعی میں منتقل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ یہی ثلاثی کا کمال ہے مگر دوسرے اردو شعرا نے اس صنف کی پذیرائی نہیں کی ؛
حمایت علی شاعر کی کتاب ” مٹی کا قرض” ( جو1974 میں شایع ہوئی ) میں جو ثلاثی ( جن کی جمع میرے خیال میں ثلاثیا ں ہے ) ہیں انکی پہلی ثلاثی یہ ہے:
عنوان : الہام
کوئی تازہ شعر، اے رب جلیل
ذہن کے غارِ حرا میں کب سے ہے
فکر ۔۔ محوِ انتظارِ جبریل
۔۔۔۔
اس میں شاعر نے اپنا خیال پور ی طرح پیش کردیا ہے۔
مگر اس میں ایک چوتھا مصرعہ یوں بھی لگا یا جاسکتا ہے کہ نیا مصرعہ اس ثلاثی کے پہلے مصرعہ کا ہم قافیہ ہو:
عنوان: الہام
میری تجھ سے فقط ہے اتنی اپیل
” کوئی تازہ شعر ، اے رب جلیل
ذہن کے غار حرا میں کب سے ہے
فکر ۔۔محو انتظار جبریل ”
۔۔۔۔۔
ایک اور مصرعہ جو اس ثلاثی کے دوسرے مصرعہ کا ہم قافیہ ہے وہ یوں بھی ہوسکتا ہے:
عنوان : الہام
التجا میری اپنے رب سے ہے
” کوئی تازہ شعر ، اے رب جلیل
ذہن کے غار حرا میں کب سے ہے
فکر ۔۔ محو انتظار جبریل ”
۔۔
بہر حال :اگر کوئی سخنور میرے مصرعوں سے بہتر کوئی مصرعے تجویز کر ے تو یہ بلاگ حاضر ہے۔ مقصد صرف اور صرف تک بندی کی مشق ہے ۔
اس مشق کا مقصد ، ثلاثی کے فن اور حمایت علی شاعر کی شاعری کی تنقیص ہر گز نہیں۔
یہ خیال رہے کہ نئے مصرعے عنوان اور دوسرے مصرعوں کی مضمون کے ہم آہنگ ہوں ۔
۔۔
فقط :
اچھی شاعری کا شیدائی
منظور قاضی از جرمنی
آج میں حمایت علی شاعر کی ایک اور ثلاثی کو چار مصرعوں میں تبدیل کرتا ہوں
اس میں میرا ایک مصرعہ اس ثلاثی کے پہلے مصرعہ کا ہم ردیف ہے :
ثلاثی یوں ہے:
عنوان : شاعرری
ہر موج بحر میں کئی طوفاں ہیں مشتعل
پھر بھی رواں ہوں ساحل بے نام کی طرف
لفظوں کی کشتیوں میں سجائے متاع دل
۔۔۔۔
اس پر میرا یہ مصرعہ پیش ہے:
عنوان : شاعری
الفاظ میں خیال کو کرتا ہوں منتقل
” ہر موج بحر میں کئی طوفاں ہیں مشتعل
پھر بھی رواں ہوں ساحل بے نام کی طرف
لفظوں کی کشتیوں میں سجائے متاع دل ”
۔۔۔۔۔۔
اب یہ مصرعہ اس ثلاثی کے دوسرے مصرعہ کا ہم ردیف ہے:
عنوان : شاعری
مقصد تلا ش گہر ہے ، مقصد نہیںصدف
” ہر موج بحر میں کئی طوفاں ہیں مشتعل
پھر بھی رواں ہوں ساحل بے نام کی طرف
لفظوں کی کشتیوں میں سجائے متا ع دل ”
۔۔۔۔
یہ میری اپنی کاوش ہے ۔
بہر حال :
آیندہ بھی حمایت علی شاعر کی کچھ اور ثلاثیوں پر تک بندی کرکے انکو چار مصرعوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرونگا
۔۔
فقط:
علم کا طالب
منظور قاضی از جرمنی
منظور بھائی اللہ خیر کرے ۔۔کہی حمایت علی شاعر آپ کی تلاش میں جرمنی تک نہ آجائیں کہ او ھو میرے ستاد تو یہاں بیٹھے ھوئے ھیں ۔۔ منظور بھائی مجھے آپ کی بہت فکر رھتی ھے ۔۔ بس آپ اپنا خیال رکھا کریں ۔۔ زیادہ کام نہ کیا کریں ۔۔
نگہت نسیم بہن کی توجہ اور عنا یت کا شکریہ ۔
حمایت علی شاعر یا کسی اور شاعر کو تو خبر ہی نہیں کہ میں اس بلاگ میں کیا لکھ رہا ہون ۔ اگر کوئی غلط بات لکھدوں تو شاید سب کی توجہ کا مرکز بن جاونگا مگر اب تک تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں نے کوئی غلطی نہیں کی ورنہ چاروں طرف سے اعتراضات کی بوچھار ہوجاتی ۔
ذہنی کام میں جتنا کروں وہ میرے لیے کم ہے ۔ اس میں میرا دل لگتا ہے اور ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ علم بھی حاصل ہوتا رہتا ہے۔
آپ کی عنایت کا دلی شکریہ ۔
آپ ماہر نفسیات ہیں اس لیے آپ کی باتوں میں مسیحائی کی تاثیر ہوتی ہے ۔
بہت بہت شکریہ :
دعا گو :
منظور قاضی از جرمنی
حمایت علی شاعر کی ایک اور ثلاثی کو میں چار مصرعوں کے قطعات میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہوں:
ثلاثی ؛ عنوان : تعلق
کچھ بھی نہیں ہے فرق سفید و سیاہ میں
پھوٹی ہے جب بھی کوئی کرِ ن، رات ہو کہ دن
سائے نکل پڑے ہیں اجالے کی چاہ میں
۔۔۔۔۔۔
میرا پہلا مصرع اس ہی ثلاثی پر :
عنوان : تعلق
یہ راز ہوگیا عیاں میری نگاہ میں
” کچھ بھی نہیں ہے فرق سفید و سیاہ میں
پھوٹی ہے جب بھی کوئی کرن ، رات ہو کہ دن
سائے نکل پڑے ہیں اجالے کی چاہ میں ”
۔۔۔۔۔
اب میرا یہ مصرعہ اس ثلاثی کے دوسرےمصرعہ کا ہم ردیف ہے :
عنوان: تعلق
گھڑیاں میں زندگانی کے گنتا ہوں رات دن
” کچھ بھی نہیں ہے فرق سفید و سیاہ میں
پھوٹی ہے جب بھی کوئی کرن رات ہو کہ دن
سائے نکل پڑے ہیں اجالے کی چاہ میں”
۔۔۔۔۔۔
میرا ارادہ ہے کہ حمایت علی شاعر کی بقیہ ثلاثی کو بھی قطعات میں تبدیل کرتا رہوں ۔
بشرطیکہ یہ بلا گ بھی کسی وجہ سے قبل از وقت ختم نہ ہوجائے ۔
فقط :
حمایت علی شاعر کی صنف ثلاثی کا دلدادہ
منظور قاضی از جرمنی
نوٹ : کسی صاحب نے اپنے اوپر کے تبصرے میں یہ فرمایا تھا کہ قطعات کی طرح رباعیوں کے بھی عنوانات ہو تے ہیں ( اس کےلیے انہوں نے حالی کی رباعیات پیش کی تھیں۔ مگر کلیات اقبال میں ” بال جبریل ” کے حصہ میں اقبال کی 39 رباعیاں بغیر عنوانات کے موجود ہیں ۔ ایسا کیوں ہوا اب اقبال ہی بتا سکتا ہے۔